Baaghi TV

Category: سیاست

  • عمران خان اور کامیابی کی جدو جہد تحریر: فضل عباس

    عمران خان اور کامیابی کی جدو جہد تحریر: فضل عباس

    عمران خان وہ انسان ہیں جن کی ساری زندگی بطور ہیرو گزری 19 سال کی عمر میں آپ نے کرکٹ کے میدان میں قدم رکھا ہاں آغاز اچھا نہیں ہوا لیکن عمران خان نے تو جدوجہد کرنا سیکھا تھا تو یہاں سے عمران خان کی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے عمران خان ٹیم سے باہر ہونے پر ہمت نہیں ہارتا بلکہ اپنے کھیل میں موجود خامیوں کو دور کرنے میں لگ جاتا ہے اور اس میں کامیاب ہو جاتا ہے اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ جب عمران خان واپس ٹیم میں آتا ہے تو ایک قابل رشک کھلاڑی بن چکا ہوتا ہے باؤلنگ ہو یا بیٹنگ یا چاہے فیلڈنگ کی بات ہو ہر میدان میں عمران خان کا ڈنکا بجتا ہے اب والا عمران خان پرانے والے عمران خان سے بہتر ہوتا ہے عمران خان اپنے اندر ایک عظیم کھلاڑی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے

    عمران خان اپنے آپ کو ایک عظیم کھلاڑی منوا لیتا ہے اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جو عمران خان کی پہچان ہے جی یہ وقت عمران خان کی کپتانی کا ہے آج بھی عمران خان کو شاندار کپتانی کی وجہ سے کپتان کہا جاتا ہے دنیا عمران خان کو بہترین کپتان مانتی ہے عمران خان نے اپنے دور کپتانی میں شاندار قیادت کا مظاہرہ کیا ہے عمران خان نے اس وقت کی ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم جو بہترین تھی اسے ہرا کر دکھایا انگلینڈ میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم کو ہرا کر دکھایا آسٹریلیا میں آسٹریلیا کو شکست دے کر بتایا کہ ہم جیتنا جانتے ہیں اور سب سے بڑی بات بھارت کو بھارت میں دھول چٹا کر بتایا کہ ہم اپنی تاریخ خود لکھتے ہیں

    عمران خان 1987ء کے ورلڈ کپ میں پاکستان کو سیمی فائنل تک پہنچا دیتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ہم آسٹریلیا سے سیمی فائنل ہار جاتے ہیں عمران خان کرکٹ کے میدان سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتا ہے لیکن اس وقت کے صدر کے کہنے پر عمران خان واپس کرکٹ کے میدان میں آتا ہے اب کی بار عمران خان کی آنکھوں میں شوکت خانم ہسپتال بنانے کا خواب بھی بس چکا تھا عمران خان کو پتہ تھا اگر ورلڈکپ جیتے تو شوکت خانم ہسپتال بنانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آۓ گی لہذا اب ایک تیر سے دو شکار کرنے تھے لیکن ورلڈ کپ سے تھوڑا پہلے ہی پاکستان کے اہم کھلاڑی وقار یونس اور سعید انور زخمی ہو کر ٹیم سے باہر ہو جاتے ہیں
    یہ بات بھی عمران خان کا یقین نہیں توڑ سکی عمران خان نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں لاتے ہیں سیلیکشن کمیٹی سے لڑ کر انضمام الحق کو ٹیم میں لاتے ہیں یہاں سے ورلڈکپ کی جدو جہد کا آغاز ہوتا ہے آغاز کچھ اچھا نہیں ہوا شروعات میں شکست ہوئی لیکن عمران خان پاکستان ٹیم کو بتاتے رہے یہ ورلڈ کپ ہمارا ہے ہمیں کوئی نہیں ہرا سکتا ٹیم کے لیے یہ نعرہ امید کی کرن ثابت ہوتا ہے اور ہر کھلاڑی جیت حاصل کرنے میں لگ جاتا ہے پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ جاتا ہے یہاں عمران خان کا انتخاب انضمام الحق ثابت کرتا ہے کہ عمران خان کا انتخاب بالکل صحیح ہوتا ہے کیوں کہ اس میں سفارش کا عمل دخل نہیں ہوتا انضمام الحق اپنی شاندار کارکردگی سے پاکستان کو فائنل میں پہنچا دیتا ہے فائنل میں پاکستان کا مقابلہ انگلینڈ سے ہوتا ہے عمران خان کارنرڈ ٹائیگر شرٹ پہنے ٹاس کے لیے میدان میں اترتا ہے اور ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کرتا ہے پہلے کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد حیران کن طور پر عمران خان خود میدان میں اترتا ہے اور شاندار ففٹی اسکور کرتا ہے عمران خان کی شاندار بنیاد کا باقی ٹیم فائدہ اٹھاتے ہوئے شاندار اختتام کرتی ہے
    باؤلنگ کا وقت آتا ہے تو وسیم اکرم ہیرو قرار پاتا ہے ایک ساتھ دو آؤٹ کر کے میچ پورے طریقے سے پاکستان کے ہاتھ میں کر دیتا ہے آخر پر عمران خان وکٹ لے کر پاکستان کو فاتح بناتا ہے یوں پاکستان عمران خان کی قیادت میں پہلا کرکٹ ورلڈ کپ جیتتا ہے

    اس کے ساتھ ہی شوکت خانم ہسپتال بنانے کی جدو جہد کا آغاز ہوتا ہے اور عمران خان دنیا بھر کے بڑے ناموں کو کمپیئن میں لاتا ہے اس سلسلے میں سب سے بڑا نام نصرت فتح علی خان صاحب ہیں جو شوکت خانم ہسپتال کے لیے ہمیشہ خان صاحب کے ساتھ رہے عمران خان لوگوں کے ساتھ مل کر شوکت خانم ہسپتال بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں عمران خان نے نا صرف شوکت خانم ہسپتال بنایا بلکہ اسے دنیا کا بہترین ہسپتال بنا کر دکھایا اور لاکھوں ماؤں کی دعا حاصل کی
    ابھی کے لیے اتنا کافی ہے سیاست کے میدان میں عمران خان کی کامیابیاں بیان کرنے کے لیے الگ سے تحریر کی ضرورت ہے انشاء اللہ بہت جلد عمران خان کی سیاست پر بھی تحریر لکھوں گا

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 09) تحریر:محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 8 تحریروں میں بتایا کہ ملک میں اصل گڑبڑ کون کر رہا ہے حقیقت میں اصل گڑبڑ ہم ہی کر رہے ہیں اور ہم حکمرانوں کو کوستے ہیں لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ اللہ پاک اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو اپنی قسمت آپ نہیں بدلتے اسی لئے آج وضاحت کریں گے کہ کیسے ٹوکری میں ناجائز سفارش اور رشوت ، بجلی میں ہیرہ پھیری ، باریش چہرے بے نمازی پیشانیاں ، خواتین کی کسے ہوۓ کپڑے ننگے لباس استعمال ذ ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو 

    ٹوکری میں ناجائز سفارش: 

    آج کل کے دور میں سفارشات پہ ہی کام ہوتا ہے لوگ قابلیت کو ترجیع نہیں دیتے کہیں کوئی کام کی تلاش کرنی ہو یا تعلیم ادارے میں تعلیم حاصل کرنی ہے ہر جگہ سفارشات کی جاتی ہیں لیکن سفارشات کے ساتھ ساتھ رشوت بھی عروج پہ ہوتی چلی جا رہی ہے 

    رشوت کے بغیر کوئی کام سرانجام نہیں ہو پاتا لوگ بھول گے ہیں کہ حلال روزی کماکر بچوں کو کھلانے سے ان کی تربیت میں بھی بہتری آۓ گی اور جس بچے کی تربیت ہی حرام کی کمائی سے کی گئی ہو وہ بڑا ہوکر کیا کرے گا پھر ہمارے زہن میں اتا ہے بچے بڑوں کا ادب نہیں کرتے چھوٹوں کے ساتھ احترام سے پیش نہیں آتے جس وقت والدین کو اولاد کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت بچے والدین سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں اصل وجہ وہ رشوت سے لیا ہوا حرام کا نوالہ ہے جس سے بچے کی تربیت ایسے ہوئی جس کی وجہ سے بچے کے خون میں ملاوٹ ہوئی لیکن اولاد شائد بھول جاتی ہے جو آج حال والدین کا ہے وہی حال کل ان کا بھی ہو گا جو سوال وہ اج اپنے والدین سے کر رہے ہیں کل کو وہی سوال ان کے بچے بھی ان سے کریں گے اسی لئے کوشش کریں کہ اپنے اپنے بچوں کو قابلیت کی بنا پر سکول کالج میں داخلہ کروائیں رشوت کو ترجیع نہ دیں عزت کی حلال کی روزی کمائیں اللہ پاک اسی میں اتنی برکت ڈالے گا کہ آپ کے کھانے سے کم نہیں ہوگی 

    ایک واقع میری آنکھوں سے بھی گزرا کسی عزیز نے گھریلو بجلی کا میٹر لگوانا تھا بہت دفعہ گزارش کی لائن مین کو کہ سب ڈیمانڈ نوٹس جمع کروا دیا ہے اب بہت وقت ہوگیا ہے آپ کی مہربانی میرا میٹر لگا دیں لیکن مجال ہے ان لائن مین پر جوں سے توں گزری ہو 

    پھر کسی نے مشورہ دیا آپ کس صدی میں رہتے ہیں جلدی کام کروانے کےلئے تھوڑی بہت رشوت لگائیں دیکھیں اپکا کام دنوں نیں ہوجاۓ گا بندا حالات سے مجبور ہوکر رشوت کو ترجیع دیکر لائن مین کو رشوت دے دیتا ہے اور وہی میٹر جو کافی عرصے سے نہیں لگ رہا وہ دنوں کی بجاۓ گھنٹوں میں لگ جاتا ہے وقت اور حالات انسان کو بدل دیتے ہیں اس لئے چاہیے کہ ہم سب رشوت اور ناجائز سفارش کو ترجیح نہ دیں

    بجلی میں ہیرہ پھیری: 

    بجلی کی ہیرہ پھیری ایسا معمہ ہے جس کا بس چلاتا ہے وہ ہاتھ خالی نہیں جانے دیتا چور چوری سے جاتاہے کبھی ہیرہ پھیری سے نہیں جاتا 

    ہمارے ملک میں بجلی چوری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کو کبھی بھی حل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جب تک لوگوں کے ضمیر مردہ رہیں گے تب تک چوری عروج پر رہے گی ۔ ہمارے ہاں تو کسی جلسے جلوس کا اگر انعقاد کیا جاتا ہے تو چوری کی بجلی استعمال کرتے ہیں اسی طرح اگر کوئی کرکٹ ٹورنامنٹ ہو تو بھی بجلی چوری کی استعمال کی جاتی ہے 

    ان سارے معملات پر ہر انسان کی نظر ہوتی ہے چاہے وہ ملازمین ہو یا عام انسان لیکن کوئی کچھ نہیں کہتا اس کی وجہ یہی ہے سب اپنے مفادات دیکھتے ہیں رشوت دےکر ملازمین کے منہ بند کر دیئے جاتے ہیں تاکہ عملہ اس پر کاروائی نا کرے اور بجلی کی ہیرہ پھیری عروج پر ہوتی ہے اس لئے ہم سب کو چاہیے کہ ہم لوگ حلال کمائیں حلال کھلائیں اپنے ضمیر کو جگائیں وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں جو اپنی قسمت نہیں بدلتیں اس لئے اپنے آپ کو بدلیں لوگ خود ہی بدل جائیں گے اگر ہر انسان ایسا سوچ لے تو کبھی بھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آۓ گا 

    باریش چہرے بے نمازی پیشانیاں:

    اسلام ہمیں راہِ ہدایت سیکھاتا ہے نماز دن

    ین کا ستون ہے بعض لوگ اپنے آپ کو ایسے سانچے میں ڈالتے ہیں کہ جس سے ان کو لوگ دیکھ کر کہیں کہ بہت ہی معتبر شخص ہے لیکن اللہ پاک اس انسان کو سخت ناپسند فرماتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت رکھ کر اس کی سنت پر عمل نہ کرے حدیث میں آتا ہے کہ حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں

    جہنم میں خوفناک وادی ہے ویل نامی جس سے جہنم خود بھی پناہ مانگتا ہے یہ اس شخص کا ٹھکانہ ہو گی جو نماز کو وقت گزار کر پڑھتا ہے

    اللہ کریم اس کی عمر سے برکت ختم کر دے گا، اس کے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹا دے گا۔

    ذلیل ہو کر مرے گا ۔

    بھوکا مرے گا۔

    مرتے وقت اسے اتنی پیاس لگے گی کہ اگر سارے دریاؤں کا پانی بھی پلا دیا جائے تو اس کی پیاس نہ بجھے گی

    خواتین کی کسے ہوۓ کپڑے ننگے لباس: 

    بڑھتے ہوۓ حالات کو دیکھتے ہوئے ہمارے معاشرے میں خواتین کے لباس پہ بہت تنقید ہوتی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے پاکستان واحد ایسا ملک ہے جو کلمہ کے نام پر بنا ہے جیسے جیسے لوگ پڑھے لکھے ہوتے جارہے ہیں آزاد خیال کے مالک ہوتے جارہے ہیں کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرتا جب تک وہ قوم اپنے اپ کو نہیں بدلتی اسلئے ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن حدیث کے مطابق زندگی گزاریں جیسا کہ ارشاد ہے جب بھی نظر خیر محرم عورت پر پڑھے تو نظر کو فوراً نیچے کرنا چاہیے اور خواتین کو چاہیے لباس کا ایسا استعمال کرنا چاہیے جو عزت مجروع کرنے کا باعث نہ بنے کھلے بال ، جینز اج کل فیشن بن گیا ہے اس کی روک تھام ہر والدین کا فرض بنتا ہے وہ اپنے بچوں کو ترغیب دیں کہ عورت کی عزت حجاب میں ہے 

    لیگنگ یعنی عورتوں کے جسم سے چپکا شلوار حرام ہے لوگ اس بات کو نہیں مانتے اور بڑا دکھ ہوتا ہے جہ سب دیکھ کر ۔ مہربانی آپ سے درخواست ہے جدید لباس کی روک تھام کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں 

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کیسے شادیوں میں شراب نوشی اور مجرے اور فیرننگ ، مرد عورت کا اختلاق ، ٹی وی پر فحش فلمیں ننگے ناچ ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں یا 

    حکومت اصل گناہگار کون ہے ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

     

    @JingoAlpha

  • صحافت اور سیاست   تحریر: ثمرہ اشفاق

    صحافت اور سیاست  تحریر: ثمرہ اشفاق

    صحافت اور سیاست بنیادی طور پر دو الگ الگ اور ایک دوسرے سے یکسر مختلف شعبے ہیں۔

    سیاست کا مقصد اقتدار میں آ کر خدمت خلق ہے اور عوام کے پیسے کے جائز استعمال سے عوام ہی کا معیار زندگی بہتر بنانا ہے۔

    جبکہ صحافت کا مقصد باوثوق ذرائع سے حقائق عوام تک پہنچانا،اور چھان بین کر کہ سچ کو جھوٹ سے الگ کرنا ہے۔بیشر جرائم اور عوامی دولت میں خرد برد پر اداروں کو جھنجھوڑنا بھی صحافی کے فرائض میں شامل ہے۔

    لیکن سیاست اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔صحافت کے بغیر سیاست ممکن نہیں اور سیاست کے بغیر صحافت،

    سیاستدان صحافیوں کے کڑے سے کڑے سوالات کے جوابدہ ہوتے ہیں اور اپنا یا اپنی سیاسی پارٹی کا موقف میڈیا کے ذریعے بآسانی عوام تک پہنچاتے ہیں۔

    لیکن بدقسمتی سے آج کل پاکستان میں سیاست اور صحافت کو الگ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

    صحافت کا لبادہ اوڑھے چند صحافی حکومتی جب کہ چند اپوزیشن کے ترجمان بنے دکھائی دیتے ہیں۔جن کا مقصد صرف اور صرف چند سیاسی پارٹیوں کی ترجمانی کرنا اور حقائق توڑمروڑ کر پیش کرنا ہے۔کسی بھی سیاسی شخص کی کوئی بھی ذاتی یا سیاسی زندگی کے حوالے سے آنے والی خبر کا سب سے پہلے دفاع کیا جاتا ہے۔

    گزشتہ دنوں نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر کی متنازع ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سب سے پہلے چند صحافیوں نے ان کا دفاع کرتے ہوئے اس کے غلط ہونے کی خبر دی۔گو کہ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انہیں بھرپور تنقید کا سامنا کرنا پڑا مگر صحافی سیاستدانوں کی چمچہ گیری سے باز نہیں آتے۔

    ایسے ہی کئی صحافی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صحافت کو خیر آباد کہہ کر سیاست میں قدم رکھ لیتے ہیں۔اور انہیں مختلف سیاسی عہدوں سے نوازا جاتا ہے۔

    پاکستان میں اس کا آغاز پچاس کی دہائی میں ایک انگریزی اخبار کے ایڈیٹر الطاف حسین نے کابینہ میں شامل ہو کر کیا۔ بھٹو مرحوم کے دور میں انگریزوں اخبار سے وابستہ ایک اور صحافی نسیم احمد وفاقی سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئے اور اور اس منصب پر فرائض سر انجام دیتے رہے اسی دور میں مرحوم کوثر نیازی وزیر حج اور اطلاعات رہے جب کہ حنیف رامے بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔

    آج کل اس سلسلے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے،صحافیوں کی سیاسی جماعتوں سے وابستگیاں بڑھتی جا رہی ہیں،جس کے لئے وہ اپنے پیشے سے بھی بے ایمانی کرتے ہوئے جھوٹ اور سچ میں تفریق نہیں کرتے،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب اقتدار کے مزے سیاستدان لوٹتا ہے تو ان نام نہاد صحافیوں کو بھی اس میں حصہ دیا جاتا ہے۔

    سرکاری دوروں میں من پسند صحافیوں کو ساتھ لے جانا ہو یا چیئرمین پیمراو پی سی بی کے عہدوں سے نوازنا ہو، عوام کے پیسے کی تباہی میں ان نام نہاد صحافیوں نے بھی ہاتھ دھوئے ہیں جس کا قرض وہ آج تک اپنے قلم یا اپنی زبان سے ان کے ترجمان بن کر ادا کرتے ہیں۔

    چند غیر جانبدار اور پائے کے صحافیوں کو اب آگے آنا ہو گا اور اپنے اس پیشے کو بد نامی سے بچانا ہو گا،صحافت کا لبادہ اوڑھے ان کالی بھیڑوں کو پہچانیں اور انہیں بے نقاب کریں تا کہ آئندہ ہر صحافی غیر جانبدار ہو کر حقائق عوام کے سامنے رکھے۔سیاسی جماعتوں کاموقف لیا جائے لیکن صرف ایک سیاسی جماعت کا دفاع اور دوسری پر تنقید ایک صحافی کی صحافت کو متنازع بنا دیتی ہے۔اب گنے چنے چند ایک ناموں کے علاوہ ہر صحافی متنازع بن چکا ہے۔نامور صحافیوں کو اس کا ادراک ہونا چاہیے اور اس پیشے کو سیاست میں آنے کی آسان سیڑھی بننے سے روکنا چاہئے۔

    @sam_rahmughal

  • پاکستان کیخلاف امریکی سازشیں ایک بار پھر عروج پر، تحریر:عفیفہ راؤ

    پاکستان کیخلاف امریکی سازشیں ایک بار پھر عروج پر، تحریر:عفیفہ راؤ

    کیسے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔آنے والے دنوں میں کونسی اہم شخصیت پاکستان کا دورہ کرنے آ رہی ہیں؟کیا پاکستان اب امریکی دباو برداشت کرے گا یا ہمیں کوئی نئی حکمت عملی اپنانے کی کوشش کرنی ہو گی؟

    اس خطے میں جب بھی کوئی تناو کی صورت حال ہوتی ہے یا شدت پسندی سر اٹھاتی ہے تو اس کا ملبہ ہمیشہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے اس لئے اس حوالے سے امریکا اور پاکستان کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ امریکی حکام پہلے بھی پاکستان پر کئی بار دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے رہے ہیں لیکن ہمارے وزيراعظم عمران خان اس تاثر کی سختی سے نفی کرتے ہوئے ہمیشہ ہی یہ کہتے ہیں کہ مغربی ممالک کو پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان خود شدت پسندی سے بری طرح سے متاثر ہوا ہے اور افغانستان میں اپنی ناکامیوں کے لیے پاکستان کو قربانی کا بکرا نہیں بنانا چاہیے۔اپنے حالیہ ترک ٹی وی کو دئیے جانے والے انٹرویو میں بھی عمران خان نے بار بار یہی بات دہرائی تھی کہ سرد جنگ میں پاکستان امریکہ کے ساتھ تھا افغان جنگ میں ہمیں 150 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اپنی غلطی سے نظریں ہٹانے کیلئے ہمیں قربانی کا بکرا بنانا تکلیف دہ ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ صدرجوبائیڈن اس وقت بہت زیادہ دباﺅ میں ہیں امریکہ طالبان کی حکومت آنے کے بعد پریشانی کا شکار ہے اور امریکی قربانی کے بکرے کی تلاش میں لگے ہیں۔
    ایک اور اہم بات جو وزیر اعظم عمران خان پچھلے کافی عرصے سے دہرا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ میں جنگ سے مسئلے کے حل کا مخالف ہوں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ اس وقت طالبان کے ساتھ مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں ہمارے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق تو اس وقت افغان سر زمین پر مذاکرات ہو رہے ہیں اس کے بعد جو طالبان ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہوجائیں گے تو انہیں معافی مل سکتی ہے۔ بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ لیکن امریکہ کی ہم سے جو توقعات ہیں وہ اس کے بالکل الٹ ہیں وہ یہ چاہتا ہے کہ ہم انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کریں۔ یہاں تک کہ پاکستان کوDo moreکے لئے مجبور کرنے امریکی محکمہ خارجہ کی ڈپٹی سیکرٹریWendy Shermanپاکستان کے دورے پر بھی تشریف لا رہی ہیں وہ سات اور آٹھ اکتوبر کو اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گی۔ جو بائیڈن کے صدر بننے اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے کسی امریکی عہدیدار کا یہ اسلام آباد کا پہلا دورہ ہو گا۔

    Wendy Shermanاپنے اس طویل دورے کے لیے امریکا سے نکل چکی ہیں اور اس سلسلے میں ابھی وہ سوئٹزر لینڈ میں ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہندوستان اور ازبکستان کا دورہ بھی کرنا ہے۔جبکہ پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی صحافیوں سے بات چیت کے دوران وہ ہمیں سنا چکی ہیں کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ ایک مضبوط شراکت داری کا خواہاں ہے اور ہم تمام عسکریت پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف بلا امتیاز تسلسل کے ساتھ کارروائی کی توقع کرتے ہیں۔ویسے تو انہوں نے پاکستان کے موقف کا بھی اعتراف کیا کہ دہشت گردی سے پاکستان کا بھی کافی نقصان ہوا ہے۔ ہمارے دونوں ممالک دہشت گردی کی لعنت سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ہم تمام علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرات کے خاتمے کے لیے تعاون کی کوششوں کے منتظر ہیں۔مطلب ہماری تعریف کے ساتھ ساتھ ہمیں آنکھیں بھی دکھائی جا رہی ہیں اور کچھ دن پہلے امریکی سینیٹ میں جو بل پیش ہوا تھا وہ بھی آپ کو یاد ہو گا کہ پاکستان کے خلاف پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں تو اس وقت امریکہ ہر لحاظ سے ہم پر پریشر ڈالنا چاہتا ہے۔اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس کے پیچھے ایجنڈا کیا ہے؟ دراصل امریکہ افغانستان سے نکل تو گیا ہے لیکن جانے سے پہلے اس نے سوچا تھا کہ افغان فوج جس کو ہم ٹریننگ دیتے رہے ہیں اورافغان حکومت جس کو ہم اتنے سالوں تک پالتے رہے ہیں تو یہاں سے جانے کے بعد بھی ہم اس فوج اور حکومت کے زریعے افغانستان میں اپنا تسلط برقرار رکھیں گے یہاں سے ان فوجیوں کے زریعے انھیں ہر طرح کی جاسوسی ہوتی رہے گی۔ لیکن امریکہ کے نکلتے ہی معاملہ الٹ گیا وہ فوج بھی ڈھیر ہو گئی۔ حکومتی عہدیداران بھی فرار ہو گئے اور تمام جاسوسوں کے اڈے بھی بند ہو گئے حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ صرف امریکہ ہی نہیں امریکہ کے چمچے انڈیا کو بھی دم دبا کر بھاگنا پڑا۔ تو امریکہ کا انڈیا والا بھی راستہ بند ہو گیا۔حالانکہ انڈیا دوبارہ سے اپنی اوچھی حرکتوں پر اتر آیا ہے وہ انڈیا جانے والے افغانوں کو ٹریننگ دے کر اپنے جاسوس کے طور پر دوبارہ افغانستان بھیجنا چاہتا ہے۔ لیکن میں بتا دوں کہ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ ایک وقت تک امریکہ یہ سوچتا رہا کہ شاید یہ کوئی فیک اکاونٹ ہے یا پھر صرف نام استعمال کرکے یا کسی دوسرے ملک میں بیٹھ کراس اکاونٹ کو چلایا جا رہا ہے۔ لیکن وہ کبھی ذبیح اللہ مجاہد کو ٹریس نہیں کر سکے۔ امریکہ جو کہ سپر پاور تھا وہ بیس سال میں اگر طالبان کو کنٹرول نہیں کر سکا تو انڈیا کس کھیت کی مولی ہے۔ اس لئے اب انڈیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ طالبان کے خلاف اس طرح کی سازشیں کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ ان کے پاس اپنا ایک انٹیلیجنس کا نیٹ روک ہے۔

    اب کیونکہ انڈیا بھی افغانستان سے باہر ہو گیا تو امریکہ کو پاکستان نظرآگیا۔۔ پاکستان کے تعلقات بھی طالبان کے ساتھ بہتر ہیں۔ پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا اس لئے اب امریکہ سوچ رہا ہے کہ کیوں نہ اب اپنے مفادات کے لئے پاکستان کو استعمال کیا جائے۔اور سب سے بڑا مفاد جو امریکہ اس وقت حاصل کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ طالبان کی حکومت میں دیگر دھڑوں کو بھی حکومت کا حصہ بنایا جائے۔یہی وجہ ہے کہ اب تک امریکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کر رہا اور اس کا سیدھا سا مقصد یہ ہے کہ طالبان کی حکومت زیادہ طاقتور نہ ہو سکے ظاہری بات ہے جب کئی گروپس مل کر مخلوط حکومت بنائیں گے تو طالبان اپنے نظریات کو اس طرح سے لاگو نہیں کر سکیں گے جو وہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ اپنی اندرونی لڑائیوں میں الجھے رہیں گے جس کے بعد امریکہ کہہ سکے گا کہ دیکھا ہم نے بیس سال تک جو جنگ کی وہ بالکل ٹھیک تھی کیونکہ طالبان امن پسند لوگ نہیں ہیں۔اور امریکہ کی اس تشویش کے پیچھے بھی اصل میں بھارت ہے۔ کیونکہ اسے ڈر ہے کہ طالبان کے افغانستان میں آنے سے کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو بھی طاقت ملے گی۔ اس لئے وہ امریکہ کے زریعے دباو ڈلوا رہا ہے کہ پاکستان کو تمام انتہا پسند گروہوں کے خاتمے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہمیں دوبارہ سے ایک جنگ میں جھونک دیا جائے اور ہمارے خلاف ہر جگہ پراپیگنڈہ کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ تمام دباو پاکستان کے چین سے بڑھتے اور مضبوط ہوتے تعلقات کی سزا بھی ہے کیونکہ پاکستان اور چین کی دوستی نہ تو امریکہ کو برداشت ہے اور نہ ہی انڈیا کو۔مغربی ممالک کو ویسے ہی آجکل یہ فکر لاحق ہے کہ کہیں افغانستان پھر سے شدت پسندوں کا ٹھکانہ نہ بن جائے۔ حالانکہ طالبان کی قیادت نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔اس لئے ہمیں اپنے تجربات سے سیکھنا چاہیے کہ کیسے افغان سوویت جنگ میں سوویت یونین کی شکست کا یقین ہونے کے ساتھ ہی امریکہ نے اپنے قریب ترین اتحادی پاکستان پر تجارتی پابندیاں عائد کر دی تھیں اور اسے بالکل تنہا چھوڑ دیا تھا۔ جب نائن الیون کے بعد امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی اس وقت بھی پاکستان امریکی پابندیوں کی زد میں تھا۔ افغانستان کے حوالے سے امریکا پاکستان کے کردار پر نہ صرف تنقید کرتا رہا ہے بلکہ امریکی حکام ہم پر یہ الزام بھی لگاتے رہے ہیں کہ پاکستان کی طاقتور انٹیلیجنس سروس افغان طالبان کی درپردہ مدد کرتی رہی ہے۔ حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ امن کے لئے ہی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے اس خطے میں جاری کھیل کا خمیازہ ہمیشہ پاکستان کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔مگر اب وقت آگیا ہے کہ یہ معاملہ سنجیدگی کے ساتھ زیر غور لایا جائے کہ امریکہ کی جانب سے ہر بار پاکستان سے قربانیاں لے کر اسی کو کیوں پابندیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ ہم کب تک اس طرح امریکہ کی مدد کرنے کے باوجود مشکلات کے میں پھنستے رہیں گے۔باقی جو باتیں کی جاتی ہیں کہ امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کا احترام ہو، خواتین کو کام اور لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت دی جائے۔ یہ سب باتیں صرف اس لئے کی جا رہی ہیں تاکہ انسانی حقوق کے نام پر دوسرے ممالک کو بھی ساتھ ملایا جا سکے اور ان کو طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے روکا جا سکے۔

    حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اس مرتبہ پھر اس خطے کواسی جہنم میں دھکیلنا چاہتا ہے جس میں اس نے 90 کی دہائی میں دھکیلا تھا۔ باقی اب پاکستان پر ہے کہ وہ ڈومور کے اس امریکی دباو کو کتنا برداشت کرتا ہے جو پاکستان مخالف بل کی صورت میں امریکی سینیٹرز کے ذریعے ہم پر ڈالنے کی کوشش کی گئی اور اب وہی دباو Wendy Shermanبھی پاکستان پر ڈالنے آ رہی ہیں۔ ہمارے ملک کے جو اندرونی معاملات ہیں اور پاکستان معاشی طور پر جتنا کمزور ہو چکا ہے تو ہمیں جو بھی فیصلہ کرنا ہو گا وہ بہت محتاط ہو کر کرنا ہوگا۔

  • الیکٹرانک میڈیا کا دوہرا معیار تحریر:بابر شہزاد

    الیکٹرانک میڈیا کا دوہرا معیار تحریر:بابر شہزاد

    میڈیا کسی بھی ملک کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے کیونکہ معاشرے کے نکھار اور بگاڑ میں میڈیا کا کلیدی کردار ہوتا ہے کہ جب تک یہ لوگ بلا کسی حیل و حجت کے معاشرے کی برائیوں کی نشان دہی کرتے رہتے ہیں تب تک اس اہم ستون کی اہمیت برقرار رہتی ہے لیکن جیسے ہی یہ تفرقہ شروع کر دیں اور چاپلوسی پر اتر آئیں تو اپنی ساکھ اور اہمیت کھو دیتے ہیں۔

    میں اپنی اس بات کو کچھ سادہ مثالوں سے ثابت کروں گا کہ کیسے کچھ نام نہاد صحافیوں نے صحافت کا لبادہ اوڑھ کر دوسروں کے ایجنڈے پر کام کیا۔ ن لیگی دور حکومت میں عائشہ گلالئی جو کہ تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں پر ایم این اے بن کر اسمبلی میں براجمان تھیں تو نہ جانے کس کی ایماء پر اس نے اس وقت من گھڑت کہانی میڈیا کے سامنے پیش کر دی کہ کیسے عمران خان اور اس کے موبائل پر پیغام بھیجتے ہیں اور اس کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بس اس کی پریس کانفرنس کرنے کی دیر تھی کہ میڈیا کی بھیڑیں بغیر کسی ثبوت کے عمران خان پر چڑھ دوڑے اور روزانہ رات کے ٹاک شوز میں عدالتیں لگتیں اور روزانہ عمران خان کو سزا دینے کے متلاشی نظر آتے۔ اور تو اور ایک بڑے تگڑے صحافی نے یہ تک کہہ دیا کہ اس نے گلالئی کے موبائل میں عمران خان کے پیغامات دیکھے ہیں جس کو دیکھنے کے بعد وہ س نتیجے پر پہنچا ہے کہ گلالئی کے الزامات میں صداقت ہے۔ ہر طرف ایک طوفان بدتمیزی برپا تھا اور روزانہ کی بنیاد پر اس کی پگڑی اچھالی جاتی لیکن نہ تو کوئی ثبوت عدالتوں میں پیش کیا گیا اور نہ ہی کوئی سزا ہوئی اور سب ڈرامہ وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو گیا لیکن ان نام نہاد صحافیوں نہ کبھی شرم آئی کہ اپنے کیے ہوئی پروگرامز پر معافی ہی مانگ لیتے اور نہ ہی گلالئی اس کے بعد منظر عام پر آئیں کہ اس خاتون نے پیسوں کی خاطر اپنی عزت تک داؤ پر لگا دی۔ یہ کوئی پہلا واقع نہیں تھا کہ مخالفین نے عمران خان کو نیچا دکھانے کے لیے ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے کیونکہ اس سے پہلے یہودی ایجنٹ کا نعرہ بھی لگایا گیا اور ریحام خان کی قسط بھی سب کو یاد ہے کہ کیسے مطلقہ ہونے کے بعد اس نے عمران خان کی کردار کشی کی اور اب تک کر رہی ہے لیکن کمال کا حوصلہ اور ہمت ہے عمران خان میں کہ کبھی مخالفین کو ان کی طرح جواب نہیں دیا۔ عائشہ گلالئی اور ریحام خان نہیں انتہائی غلیظ الزامات لگائے اور روزنہ کی بنیاد پر لگاتیں تھیں لیکن خان صاحب نے کبھی ان کو جواب دینا بھی مناسب نہ سمجھا بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی ان کی زبان میں جواب دینے سے منع کیا۔

    اب آ جاتے ہیں اور تازہ واقع کے اوپر کہ کچھ دن قبل سابقہ ن لیگی گورنر اور پاکستان مسلم لیگ ن کا اہم رہنما زبیر عمر کی نازیبا ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں گورنر صاحب کی خواتین کے ساتھ رنگرلیوں کو ہر کسی نے دیکھا کہ کیسے اپنی بیٹیوں کی عمر کی لڑکیوں کے ساتھ ان کو نوکری اور پتہ نہیں کیا کیا جھانسا دے کر اپنے بستر کو گرم کرتے رہے۔ بہت ہی چونکا دینے والی ویڈیوز تھیں اور میڈیا کے لیے بہت بڑی خبر بھی تھی لیکن چونکہ یہ عمران خان نہیں تھا لہذا نہ تو کوئی ٹاک شو ہوا اور نہ اس بار کوئی بھی صحافی ان غریب لڑکیوں کی آواز بنا جو اس درندے نما انسان کی حوس کا نشانہ بنیں۔

    اگر خدانخواستہ یہ ویڈیوز عمران خان یا کسی تحریک انصاف کے رہنما کی ہوتیں تو اب تک ان نام نہاد صحافیوں نے لڑکیوں کی مشک کو پہچانتے ہوئے کئی پروگرام کر لیے ہونے تھے لیکن چونکہ یہ ن لیگی رہنما کی ویڈیوز ہیں تو نہ تو کوئی لڑکی کے گھر تک پہنچا اور نہ ہی کسی صحافی نے زبیر عمر سے سوال پوچھنے یا اس کے خلاف پروگرام کرنے کی جسارت کی بلکہ کچھ خاتون صحافیوں سمیت بعض صحافیوں نے تو باقاعدہ اس کا ساتھ دیا کہ سوشل میڈیا صارفین بہت تنقید کر رہے تھے تو کچھ صحافی حضرات باقاعدہ طور پر زبیر عمر کے ترجمان کے طور پر اس کا دفاع کر رہے تھے جو کہ انتہائی حیران کن بات ہے۔

    تو قارئین آپ نے دیکھا کہ ہمارے میڈیا اور خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا میں کیسے منافقت کی جاتی ہے اور صرف وہی خبریں مرچ مصالحے ڈال کر سنائی جاتی ہیں جن کے بدلے میں بہت سے مالی فوائد میسر ہوں۔ صحافت ایک مشکل پیشہ ہے ان لوگوں کے لیے جو محنت کرتے ہیں اور معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کرتے ہیں لیکن آج کل کے صحافیوں نے اس پیشے کو بدنام کر کے رکھ دیا ہے کیونکہ وہ صحافی صرف اور صرف پیسے کو اپنے خدا سمجھ بیٹھے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک انہیں اپنے پیشے کے ساتھ انصاف کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔ 

    Twitter handle: @babarshahzad32

  • پارلیمانی نظام یا صدارتی نظام تحریر :محمد احمد

    پارلیمانی نظام یا صدارتی نظام تحریر :محمد احمد

    برصغیر پاک و ھند پر صلیبی سامراج کے قبضے کے تحت Colonialism کا بہت اثر رہا عام رعایا اور خواص کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ تھا جو کہ قیام پاکستان اور ھندوستان کے بعد بھی جاری رہا اور آج بھی اسکے اثرات دونوں ممالک پر بدرجہ اتم موجود ہیں۔
    برطانیہ کا رائج شدہ پارلیمانی جمہوری نظام ھند و پاک میں بھی اپنایا گیا جو کہ اپنی اچھی یا بری حالت میں چل رہا ہے ۔عوام کو اپنے شہروں میں مختلف جماعتوں کے ٹکٹ ہولڈر کو ووٹ دینا ہوتا ہے جسکی بنیاد پر وہ پارلیمنٹ میں جاکر اپنی پارٹی کے شخص کو ووٹ کرکے لیڈر آف ہاوس منتخب کرتے ہیں اور وہی ملک کا وزیر اعظم بنتا ہے۔
    یہ نظام پوری طرح ڈلیور نہیں کرپا رہا ۔
    کیوں ؟ اسکی چند اہم وجوہات ہیں
    1۔ ایک پارٹی کا سربراہ نیک ایماندار ہے لیکن اس شخص نے اپنا ٹکٹ کسی ایسے شخص کو دیا ہے جو چور ہے رسہ گیر اپنے علاقے میں مشہور ہے اور لوگوں پر اسکا خوف ہے تو وہ electable کہلاتا ہے اور وہ جیت جاتا ہے ۔ ایسے میں وہ شخص پارلیمنٹ میں پہنچ گیا اس نے اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ کرنا ہے عوام کو کچھ نہیں ملنا ۔
    2۔ کوئی ایسا پارٹی لیڈر جو کرپٹ ہے چور ہے لیکن اسکا ٹکٹ ہولڈ نیک اور ایماندار ہے ۔ اب کیا اس ٹکٹ ہولڈر کو ووٹ دیا جائے جسکی وجہ سے کرپٹ شخص حکمران بن سکتا ہے ؟ ظاہر ہے یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔
    3۔ اس نظام میں electable کافی اہمیت رکھتے ہیں جو الیکشن سے پہلے چلنے والی ہوا کا رخ دیکھ کر اسکے ساتھ جانے کا فیصلہ کرتے ہیں اور جیتنے کے بعد ہمیشہ اقتدار میں رہ کر اپنا لوٹ مار تھانہ کلچر کرپشن رشوت کا بازار گرم رکھتے ہیں اور حکومتوں کو بلیک میل کرتے ہیں ۔ انکو ہم electable مافیا کہہ سکتے ہیں۔
    4۔ پاکستان جیسے ملک میں وڈیرہ شاہی اور اثر رسوخ والے امیر اور جدی پشتی سیاسی لوگوں کو زیادہ پذیرائی دی جاتی ہے۔ کوئی ایسا شخص جو کہ پڑھا لکھا ہو اور سماج میں کچھ بہتری لانے کے لیے عملی سیاست میں حصہ لینا چاہتا ہو تو اسکے لیے اول تو کسی پارٹی کے اندر جگہ بنانا بہت مشکل ہے اور اگر سفید پوش شخص ہے تو اور بھی زیادہ مشکل ہوجاتا ہے کہ وہ سیاست کو وقت دے یا اپنے روزگار یا کاروبار کو ۔ ایسا شخص آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے تو جیتنا ناممکن ہے کیونکہ الیکشن جیتنے کے لیے ذاتی ووٹ کے ساتھ ساتھ پارٹی ووٹ بھی چاہیے ہوتا ہے۔
    5۔ کسی ایسے شخص کو جوکہ صاف ستھری شخصیت والا کم پیسے والا ہو اسکو ٹکٹ مل جائے اور اسکے مقابلے میں کوئی بدمعاش غنڈہ کو ٹکٹ مل جائے تو لوگ ووٹ کسی شریف آدمی کی بجائے بدمعاش غنڈے کو دینا پسند کرتے ہیں کیونکہ اسکا علاقے میں خوف ہوتا ہے اور وہ تھانے میں پرچہ ، زمین پر قبضہ اور دیگر دھمکیوں کی وجہ سے لوگوں پر اثر رکھتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے ڈیروں پر کریمنل اور کرپٹ حضرات کا اکثر ڈیرہ رہتا ہے جو کہ اس سیاست دان کے لیے ہر اچھا برا کام بھی کرتے ہیں اور علاقے کا SHO بھی اس سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ ایسی پریکٹس اکثر دیہاتی اور پسماندہ علاقوں میں بہت زیادہ کی جاتی ہے جوکہ پاکستان کا بیشتر حصہ ہے۔
    6۔ الیکشن سے پہلے ووٹ خریدے جاتے ہیں فی شناختی کارڈ 1000 روپے کا ووٹ کا ٹرینڈ تو کافی علاقوں سے رپورٹ ہوا ہے ۔ الیکشن سے پہلے 10 سے 15 ہزار لوگ ایسے غریب لوگ جو کہ ووٹ بیچنا چاہتے ہیں ضرور مل جاتے ہیں جو کہ 1000 روپے نقد لیکر حلف دیتے ہیں کہ ہم ووٹ ڈالیں گے ۔ اب اس پری پول دھاندلی کا کوئی سدباب نہیں ہے۔
    7 ۔ ملک کے اکثر بالخصوص دیہاتی اور پسماندہ علاقوں میں ہر محلے قصبے یونین کونسل پر ایک ایسا شخص موجود ہوتا ہے جو اس علاقے کا سو کالڈ بڑا ہوتا ہے وہ اس علاقے کی ہر خوشی غمی میں شریک رہتا ہے اور انکے تمام انتظامی و دیگر حکومتی مسائل میں انکا ساتھ دیتا رہتا ہے گلی محلے کے چھوٹے موٹے کاموں میں لوگوں کی ھیلپ کرتا رہتا ہے( مقامی MNA یا MPA کی مدد اور تعاون سے ) تو الیکشن دنوں میں وہ اپنے علاقے میں ٹکٹ ہولڈر سے پیسے لیکر جلسے بھی منعقد کرواتا ہے اور الیکشن دنوں میں ووٹ کے نام پر پیسہ اور مراعات بھی لیتا رہتا ہے۔ وہ شخص اس علاقے کی قسمت کافیصلہ کرتا ہے اور اکثر لوگ اسکے کہنے پر بھی ووٹ ڈالتے ہیں۔
    8۔ ہمارے سامنے بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں کہ الیکشن دنوں میں امیر "ترین” لوگ کیسے کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں یونین کونسل لیول پر اثر رکھنے والوں کو جو زیادہ بڑے ہوتے ہیں انکو 1300 CC گاڑیاں ، ان سے کم اثر رکھنے والوں کو 800 cc گاڑیاں اور جانفشانی سے کام کرنے والے لوگوں کو موٹرسائیکل تک گفٹ کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ زور لگا کر الیکشن لڑیں اور ووٹر کو جیسے تیسے منائیں اور الیکشن کے دن لوگوں کو نکال کر پولنگ بوتھ لیکر جائیں اور جب شام کو رزلٹ آئے تو اپنے ٹکٹ ہولڈر کو اپنے علاقے یا محلے یا پولنگ بوتھ کا رزلٹ دے سکیں اور اقتدار میں آنے کے بعد مزید قریب آکر مزید مزے کرسکیں ۔
    9۔ بےشمار علاقے بالخصوص اندرون سندھ میں ایسے ہیں جنکا تعلیمی معیار اتنا ہے یا انکو آگہی اتنی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک کے صدر کا نام تک نہیں جانتے ہوتے اور الیکشن کے دن پر انکو گاڑیوں میں بھر بھر کر لے جایا جاتا ہے اور کہا جاتا کہ بس اس نشان پر ٹھپہ لگانا ہے اور وہ بغیر کسی چوں چراں کے ٹھپہ لگا کر آتے ہیں ۔ اور ساری زندگی نعرے لگاتے گزر جاتی ہے کہ فلاں زندہ ہے اور فلاں جیوے۔ سالہا سال سے یہ پریکٹس جاری ہے اور انکی ابتر حالت کبھی بھی نہیں بدلی نہ پینے کا صاف پانی میسر ہے نہ علاج کی سہولیات اور نہ ہی بچوں کو سکول مہیا ہیں۔
    10۔ ہمارے پارلیمانی نظام سے فائدہ اٹھانے والے حکمرانوں نے ایک بات بہت پہلے سے سمجھ لی تھی کہ پاکستان کو خواندگی اور آگہی کی طرف نہیں لیکر جانا ۔ عوام کی جہالت اور کم علمی ہی انکو لیڈر بنانے میں سب کلیدی کردار ادا کرے گی ۔ جو شناختی کارڈ کے عوض ووٹ بیچ سکیں ، جو فقط بریانی کی پلیٹ پر ووٹ ڈال سکیں، جو کرپٹ حکمرانوں کے بارے میں یہ رائے رکھیں کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو یے ، جو خوف اور دہشت کی وجہ سے ووٹ دے سکیں ، جو علاقے پر اثر رسوخ رکھنے کی وجہ سے ووٹ دے سکیں ایسے لوگ یقینا” پڑھے لکھے تعلیم یافتہ نہیں ہوسکتے ۔ اسلیے جان بوجھ کر لوگوں کو ان پڑھ رکھا جاتا رہا تاکہ انکے اقتدار کو طول مل سکے۔

    11۔ ہر 3 سال بعد جب سینیٹ کا الیکشن آتا ہے تو یہی MNA اور MPA اپنی بولی لگواتے ہیں، اپنے ضمیروں کا سودا کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں جو زیادہ پیسے خرچ کرتا ہے اور زیادہ اچھی بولی لگاتا ہے ۔

    پاکستان کو صدارتی نظام زیادہ سوٹ کرتا ہے جس میں عوام کو اپنے شہر کے کرپٹ یا ایماندار شخص کو ووٹ دیکر اپنے ملک کی قسمت کا فیصلہ انکے ہاتھ میں نہیں دینا ہوتا جو پارلیمنٹ میں جاکر اپنا ووٹ بیچ کر نجانے کس کو ہم پر مسلط کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے عوام براہ راست لیڈر کا انتخاب کرتی ہے جو کہ اصل جمہوریت ہے اور بقول مرحوم مولانا ڈاکٹر اسرار احمد صدارتی نظام اسلامی شرعی نظام سے قریب تر اور پارلیمانی نظام سے بہتر ہے ایسا شخص جسکو عوام نے ڈائریکٹ ووٹ دیکر منتخب کیا وہی شخص عوام کی اصل نمائندگی کا حقدار ہے اور وہی اس مملکت خداداد اور عوام کے لیے بہتر کام کرسکتا ہے۔ مفلوج و ناکارہ پارلیمانی نظام کے تحت بہتری کی گنجائش بہت کم ہے اس نظام کو کرپٹ ایلیٹ جو کہ پیسے کی بدولت اقتدار کے ایوانوں کا حصہ بنتی ہے اپنے کاروبار اپنے خاندان کے لیے کام کرتی ہے ۔ کتنے ہی سیاستدان ایسے آئے جو اقتدار میں آنے سے پہلے تو کم امیر تھے اقتدار میں آنے کے بعد سپر امیر ہوگئے کاروبار جائداد گاڑیاں اتنی زیادہ بنا لیں بیرون ملک جائیداد بنا لی بچے ملک سے باہر رہنے اور پڑھنے لگے۔ بڑے بڑے شوگر و انڈسٹری مافیا ، رئیل سٹیٹ مافیا ،قبضہ گروپ مافیا پیسے کی وجہ سے الیکشن جیت کر پارلیمان میں آئے اور اپنے کرپشن کا دفاع بھی کیا اور مزید فائدہ اور مراعات بھی حاصل کیں۔

    پاکستان میں پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام ہونا چاہئے ۔
    @EyeMKhokhar

  • مہنگائی قابو کرنے کا آسان طریقہ تحریر زوہیب خٹک

    مہنگائی قابو کرنے کا آسان طریقہ تحریر زوہیب خٹک

    عمران خان صاحب اپنی مشکلات میں اضافہ مت کریں اور سیدھا سیدھا امریکہ کے سامنے لیٹ جائیں، اسرائیل کو تسلیم کریں، بھارت کی شان میں قصیدے پڑھنا شروع کر دیں۔ آئی ایم ایف کے پاس جائیں 10 ارب ڈالر قرضہ لیں 5 ارب سے عیاشی کریں اور ہمیں 5 ارب کی سبسڈی دیں۔ ملک جائے بھاڑ میں قرضہ چڑھتا ہے تو چڑھنے دیں کونسا آپ نے وہ قرض ادا کرنا ہے

    آپ کے بہادر فیصلے چند گھنٹے اس قوم کو یاد رہتے ہیں بس۔ ہم غیرت سے جینا تو چاہتے ہیں لیکن اسکی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں۔خدا کے لئے ہمیں غیرت سے جینے کا درس دینا چھوڑ دیں۔ غیرت کی ہمیشہ ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ہم ادا کرنے کو تیار نہیں.

    خان صاحب ہم روشن خیال نہیں راشن خیال ہیں۔ ہم دماغ سے نہیں پیٹ سے سوچنے والی عوام ہیں ۔ آپکی جرات کیسے ہوئ ہمیں خوداری کا سبق پڑھانے کی ہم ہرگز اس کی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں۔۔
    ہم سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جانتے ضرور ہیں لیکن ہم سے اس پر عمل نہ ہوگا کیونکہ ہمیں بس دو وقت کی روٹی چائیے اس لیے مہربانی کریں ہمیں آزمائش میں نا ڈالیں۔ ہم نہ تو غیرت سے جینا چاہتے ہیں ، نہ ہمیں کسی اور چیز کی پرواہ ہے۔ ہاں ہم سے بس نعرے لگوا لیں اسرائیل نامنظور، غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے۔ لیکن غیرت سے جینا ہمیں نہیں قبول۔

    ہم بدنصیب لوگوں کو حقائق سمجھ نہیں آ رہے۔ ہمیں نواز اور زرداری جیسے فرعون ہی سوٹ کرتے ہیں۔ جو بیرونی قرضوں میں سے چند سکوں کی سبسڈی عوام کو دے کر باقی اپنے اکاؤنٹس بھرنے کے لیے واپس لے جاتے ہیں اور یہ عوام کہتی ہے کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے۔ جو عوام خود لٹنے برباد ہونے ملک گروی رکھوانے غلامی برداشت کرنے کو تیار ہے انہیں آپ غیرت کے سبق پڑھا رہے ہیں۔؟؟

    دنیا کی فاتح قوموں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں وہ ریاستِ مدینہ ہو یا سلطنت عثمانیہ مٹھی بھر مسلمان جن کے پاس کھانے کو روٹی نہیں پہننے کو اچھا لباس نہیں رہنے کو پکا مکان نہیں وہ غیرت کے اوپر کھڑے ہوتے ہیں تو اللہ انہیں چند سالوں میں آدھی دنیا کی حکمرانی عطا کر دیتا ہے ان عرب کو بدوؤں کے ہاتھوں سلطنتِ روم اور فارس ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ زیادہ دور کیوں جاتے ہیں یہ آپ کے پڑوس میں چند ہزار طالبان نے غیرت کے اوپر پوری دنیا سے ٹکر لے لی بیس سال بھوک و افلاس برداشت کی ایک ایک گھر سے دس دس جنازے اٹھائے ہزاروں کو تو کفن دفن تک نصیب نہیں ہوا لیکن وہ ڈٹے رہے لڑتے رہے او بِلآخر فتح یاب ہوئے۔

    اس عوام کو سلطان صلاح الدین ایوبی سلطان محمد فاتح خالد بن ولید جیسے عظیم فاتح تو چاہئیے ہیں لیکن خود انہوں نے رتی برابر غیرت ایمانی نہیں دکھانی۔ جان لیں کہ عظیم مقاصد کے لیے عظیم قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں مشکلات تکلیفیں رکاوٹیں آتی ہیں ان حالات سے لڑ کر ہی قومیں عظیم بنتی ہیں دنیا کی تاریخ میں کسی قوم نے بھی بغیر تکلیفوں کے عروج نہیں پایا۔ ابھی تو حالات اور خراب کیے جائیں گے جو آپ نے امریکہ بہادر کو آنکھیں دکھائی ہیں وہ آپ پر اقتصادی پابندیاں لگائے گا ہر محاذ پر آپ کو ضرب لگانے کی کوشش کرے گا عوام نے تب آپ کے ساتھ کھڑے ہونا تو دور خود آپ کو گریبان سے پکڑ کر اقتدار سے نکال دینا ہے اور بخوشی غلامی کا توق گلے میں ڈال کر کہیں گے ہمارے اجداد بھی غلام تھے ہم بھی غلام رہیں گے بے شک علامہ اقبال کہتے رہے ہوں ۔ "اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی”۔ لیکن ہمیں روٹی چاہئیے پھر چاہے غلامی کی ہی کیوں نا ہو۔ کیونکہ غیرت سے پیٹ نہیں بھرتا نا ہم غیرت سے جینے کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے تحریر احمد

    مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے تحریر احمد

    اگر آپ کا آج سکھی ہے تو یقینا آپ کا آنے والا کل دکھی ہوگا 

    اگر آپ کا آج دکھی ہے تو یقینا آپ کا آنے والا کل سکھی ہوگا

    اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے

    میں حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ سخت سے سخت ترین فیصلے کل کی بجائے آج ہی لے کہیں ایسا نہ ہو کہ آج کا ریلیف کل کو وبال جان بن جائے لہذا میری تو رائے یہی ہے کہ قوم کو سلو پوائزننگ دینے کی بجائے مہنگائی کا چھٹکا ایک ہی دم دے دیا جائے

    میرے پاکستانیو اب حقائق کو غور سے پڑھنا

    مہنگائی کیوں ہو رہی ہے؟؟

    پاکستان تقریبا 80 فیصد اشیاء درآمد کرتا ہے یعنی جو اشیاء ہم باہر کے ملکوں سے خریدتے ہیں تو جب وہ مہنگی ہوتی ہیں تو ہمیں ڈبل قیمت میں ملنے لگتی ہیں مثال کے طور پر اگر ڈالر 150 کا ہو تو ہمیں جو چیز چاہیے مثال کے طور پر اگر ہمیں ایک پینسل چاہیے جس کی قیمت 1 ڈالر ہے 

    جب وہ پاکستان آئے گی تو اس کی قیمت 150 روپے ہوگی اور جب ڈالر 150 سے 170 تک جائے گا تو پینسل کی قیمت بھی 150 سے 170 روپے تک چلی جائے گی

    عالمی بحران

    کورونا نے اس وقت دنیا میں جو معاشی تباہی پھیلا رکھی ہے اگر آپ دنیا کے حالات و واقعات کو میری طرح جان جائیں تو آپ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے یہ محسوس کریں گے کہ ہم پاکستان میں الحمداللہ سب سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں

    اب سنیں 

    کورونا کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 0 بیرل پر ڈالر ہو چکی تھی اور آج 80 بیرل پر ڈالر تک پہنچ چکی ہے

    تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 85 فیصد بڑھ چکی ہے گیس کی قیمت تقریبا 180 فیصد بڑھی اور 1 سال میں کوئلے کی قیمت 200 فیصد سے زائد بڑھی جبکہ 1 مہینے کے دوران تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 20 فیصد بڑھی ہے کوئلے اور گیس کی قیمت تقریبا 30 فیصد بڑھی ہے

    اس بدترین مہنگائی سے امریکہ یورپ چائنا جیسی معیشتیں ہل کر رہ گئی ہیں پاکستان تو کسی گنتی میں بھی نہیں آتا

    امریکہ میں گیس کی قیمت 180 فیصد تک بڑھ چکی ہے یورپ کا برا حال ہے پچھلے دنوں لندن میں پیٹرول کے لیے لمبی قطاریں لگی ہوئی تھی اٹلی اور سپین بجلی کے نرخ بڑھا رہے ہیں جبکہ چائنا نے تو باقاعدہ لوڈشیڈنگ کا اعلان کردیا ہے اور اپنے کارخانوں سے یہ کہہ دیا ہے کہ وہ بجلی کی پیداوار یا تو کم کر لیں یا پھر بند کر دیں کیونکہ چائنہ میں بجلی کوئلے سے بن رہی ہے اور اس وقت سپلائی اور ڈیمانڈ کا شدید بحران آ رہا ہے

    اس وقت سب کا برا حال ہے

    امریکہ نے دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی OPEC سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ آپ اپنی پیداوار بڑھائیں یورپ نے رشیا سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ آپ اپنی گیس کی سپلائی بڑھائیں اور چائنا آسٹریلیا اور انڈونیشیا سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ کوئلے کی ترسیلات بڑھائیں 

    یعنی 1 سال میں عالمی مارکیٹ میں 80 فیصد پٹرول مہنگا ہوا ہے جبکہ حکومت پاکستان نے پیٹرول کی قیمت 1 سال میں صرف 20 فیصد سے کم قیمت بڑھائی اور آج بھی پیٹرول کی قیمت الحمدللہ اس خطے میں سب سے کم ہے

    اب یہ فیصلہ حکومت پاکستان کو کرنا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں پٹرول بجلی گیس کی قیمت بڑھا کر پاکستان کے مستقبل کو روشن اور خود مختار بنانا چاہتی ہے یا پھر عارضی ریلیف فراہم کر کے ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کے در پر بھیک مانگنے جاتی ہے

    میری تو یہی رائے ہے کہ حکومت بجلی گیس اور پٹرول کی قیمت میں مزید 3 فیصد اضافہ کردے اور جتنی جلدی ہو پاکستانی معیشت کو آئی ایم ایف کی بیساکھیوں سے آزاد کروا لے

    جبکہ کمزور اور بے بس صارفین پر اس کا بوجھ ہرگز نہیں ڈالنا چاہیے

     باقی ہر صاحب استطاعت سے کم سے کم اتنی قیمت وصول کرے جتنی قیمت پر ہم باہر سے لے رہے ہیں 

    میرے پاکستانیو گھبرانا ہرگز نہیں آج دکھ ہو گا تو انشاءاللہ کل سکھ ہی سکھ ہوگا چین ہی چین ہو گا.

    @iamAhmadokz 

  • سرمایہ کاری تحریر:محمد جاوید حقانی

    سرمایہ کاری تحریر:محمد جاوید حقانی

    محترم قارئين کرام

     رزق حلال یا زریعہ معاش  ایک ایسی اہم ضرورت ہے جو انسان کی زندگی کا بہترین حصہ یعنی جوانی اس ضرورت کی فکر کھا جاتی ہے۔

    غریب کا بچہ نو عمری میں ہی مزدوری کیلئے نکل پڑتا ہے

    اور امیر کا بچہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزی کی تلاش میں نکل پڑتا ہے

    اکثر ایسا ہی دیکھنے کو ملتا ہے

    لیکن یہ فرض نہیں کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتا

    بلکہ بہت سارے ایسے لوگوں کو میں جانتا ہوں جو انتہائی غربت میں پڑھے لکھے ہیں

    اسی طرح بہت سارے ایسے لوگوں کو بھی میں جانتا ہوں جو ابھی پوری طرح بالغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اینٹوں کے بھٹوں پہ اینٹیں، مستری کے ساتھ مزدوری یا پھر ہنر مند بننے کیلئے کسی ویلڈر یا میکنک کی دکان کا رخ کرتے ہیں۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ کامیاب بننے کیلئے دولت مند یا تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں 

    بلکہ کامیابی کیلئے ایسے دماغ کی ضرورت ہوتی ہے جو ایجاد یا ڈائیرکشن یا پھر پالیسی بنانے کا ماہر ہو

    آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگ بہت تھوڑی عمر میں بہت کچھ حاصل کرلیتے ہیں اور بعض لوگ بڑھاپے تک بھی یہ سب کچھ حاصل نہیں کرسکتے جو کچھ لوگ اٹھارہ بیس سال کی عمر میں حاصل کرچکے ہوتے ہیں.

    اسے ہم قسمت کا کھیل تو ضرور کہہ سکتے ہیں

    لیکن قسمت ہمیشہ بنانی پڑتی ہے 

    کامیاب بننے ترقی کرنے اور دولت کمانے کے مختلف طریقے ہیں

    لیکن سب سے بہترین طریقہ جو میں سمجھتا ہوں  وہ

    "سرمایہ کاری” ہے 

    ارسطو کے بقول:

    "دولت کھاد کی طرح ہے جب تک اسے پھیلایا نہ جائے فائدہ حاصل نہیں ہوتا”

    آج کے جدید دور میں سرمایہ کاری کے اتنے پلیٹفارم ہیں کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے 

    اور اتنے فراڈ ہیں کہ بندہ دنگ رہ جاتا ہے

    لیکن تھوڑی سی بھی سرمایہ کاری اگر کسی بہترین جگہ ہوجائے تو چند سالوں میں مالی پریشانیاں ہمیشہ کیلئے ختم ہوسکتی ہیں.

    بہت سارے لوگ آنلائن کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں 

    یہ کمپنیاں شروع میں اچھا منافع ضرور دیتی ہیں اور بہت سارے لوگ گھیرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں لیکن چند ہی ماہ کے بعد عین غین ہوجاتی ہیں.

    اب انسان چونکہ لالچ میں آجاتا ہے 

    تو وہ کسی ایسی کمپنی میں اپنی رقم سرمایہ کاری کیلئے لگاتا ہے جو بہت سارا منافع دے رہی ہوتی ہے

    تو وہ اسے واپس نکالنے کی بجائے جب زیادہ منافع دیکھتا ہے تو منافع بھی اسی میں سرمایہ کاری پہ لگا دیتا ہے

    پھر بائینری انکم کے لالچ میں کچھ اپنے مزید ساتھیوں کی سرمایہ کاری بھی شروع کرتا ہے

    اور اتنے میں کمپنی عین غین کرجاتی ہے

    پھر سر میں بازو رکھ کے پریشان بیٹھ جاتا ہے

    اور کبھی بھی دوبارہ سرمایہ کاری کیلئے آمادہ نہیں ہوتا

    یہ ایک قسم کے ناکام لوگ ہی ٹھرتے ہیں

    دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو انہی طرز کی کمپنيوں میں گھستے ہیں اپنی تھوڑی بہت سرمایہ کاری کرتے ہیں اور کام کو مزید سمجھتے ہیں اپنی سرمایہ کاری واپس لیتے ہیں اور منافع شدہ رقم کو سرمایہ بنا کے سرمایہ کاری کرتے ہیں

    یہ ایک ٹیکنیکی ذہن رکھنے والے لوگوں کا کام ہوتا ہے جو اپنا نقصان یا تو ہونے ہی نہیں دیتے یا پھر ہو بھی جائے تو بہت ہی قلیل نقصان ہوتا ہے اور بہت جلد ایسے لوگ کامیابی کا سفر طے کرلیتے ہیں

    تیسری قسم کی سرمایہ کاری کا تعلق آنلائن کسی شعبے سے نہیں بلکہ براہ راست اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے

    اس میں بھی کامیابی اور ناکامی دونوں ہوتی ہیں لیکن جو ڈٹ جاتے ہیں وہ کامیاب ہوجاتے ہیں اور جو نقصان کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں وہ ناکام ٹھرتے ہیں.

    آنلائن سرمایہ کاری کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے اپنی رقم کسی دوسرے کے ہاتھ میں دینی ہوتی ہے

    جب کہ براہ راست اپنے ہاتھ سے سرمایہ لگانا الگ ہوتا ہے

    جیسے کوئی دکان کھول لی جائے اور اس سے کاروبار شروع کردیا جائے

    اب کاروبار جہاں بھی شروع کیا جاتا ہے وہ وقت اور علاقے کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے تو ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

    اس پر ناکامی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر علاقے میں ضرورت کپڑوں کی دکان کی ہو اور بندہ کریانہ جو کہ پانچ ساتھ دکانیں پہلے ہی موجود ہوں کھول لے تو ظاہر ہے کامیاب ہونے میں وقت لگے گا.

    اس موضوع پر بہت سی گفتگو کی جاسکتی ہے

    مگر صرف اتنی گزارش ہے کہ اگر آپ بیس ہزار روپے بھی مہانہ کما رہے ہیں تو اس میں دو ہزار ہی سہی لیکن بچت کرکے سرمایہ کاری اپنے کاروبار کیلئے ضرور کریں

    اس سے آپ بھی اور آپکی نسلیں بھی نوکری سے ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرجائیں گی.

    @JavaidHaqqani

  • طاقت کی سیاست تحریر: ملک سراج احمد

    طاقت کی سیاست تحریر: ملک سراج احمد

    خلافت عباسیہ کے دارالحکومت بغداد نے دنیا بھر میں ایک خاص شہرت حاصل کی ۔علم و حکمت اور فن تعمیر کے اعتبار سے بغداد کا کوئی ثانی نہیں تھا۔منگول جنرل مونکو خان نے بغداد پر چڑھائی کا ارادہ کیا اور اس سلسلے میں ایک بہت بڑی فوج تشکیل دی ۔اس فوج کی کمان ہلاکو خان نے کی اور اس فوج میں چینی کمانڈرز سمیت مسیحی افواج کا بڑا دستہ شامل تھا ۔نومبر 1257 میں منگول فوج نے بغداد کی طرف کوچ کیا اوربغداد پہنچ کر ہلاکو نے خلیفہ معتصم سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا جس کو خلیفہ نے حقارت سے ٹھکرا دیا۔منگول فوج کے چینی دستے نے 29 جنوری 1258 کو بغداد کا محاصرہ کرلیا۔محاصرہ سخت ہوا اور جب امان کی صورت نظر نا آئی تو ایک دن بغداد کی فصیل کا دروازہ کھلا اور کچھ لوگ باہر آئے اور ہلاکو سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

    یہ بغداد کے عمائدین کا وفد تھا ان کو ہلاکو کے خیمے کی طرف لےجایا گیا ۔ہلاکو نے وفد کو ملاقات کے لیئے خیمے کے اندر بلا لیا۔گفتگو شروع ہوئی اور عمائدین کافی دیر گفتگو کرتے رہے ۔ہلاکو نے ترجمان سے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں تو ترجمان نے کہا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بغداد کی چابیاں دینے کو تیار ہیں مگر ہمیں کچھ باتوں پر آپ کی اخلاقی ضمانت چاہیے تو ہلاکو نے پوچھا کہ وہ کیا ہےتو انہوں نے کہا کہ فوج بغداد میں لوٹ مار نہیں کرئے گی اور قتل عام بھی نہیں کرئے گی ۔منگول فوج طے شدہ اصول وضوابط اور اخلاقیات کے ساتھ شہر میں داخل ہوگی ۔اس پر ہلاکو خان نے تاریخی جواب دیا کہ طاقت کے اپنے اصول وضوابط اور اخلاقیات ہوتی ہیں۔اور اس کے بعد دنیا نے دیکھا کہ طاقت نے بغداد کا جو حشر کیا ۔کئی روز تک دجلہ کا پانی عالموں اور فلسفیوں کے خون سے رنگین رہا۔

    منگولوں کا عہد اپنےاختتام کو پہنچا تو طاقت کا پلڑا ترکوں کا بھاری ہوگیا اور اس کے بعد دنیا سلطنت عثمانیہ کی بے پناہ طاقت کے سامنے سرنگوں رہی ۔بے خوفی اور جوانمردی سے لڑتے ہوئے ترکوں کے سامنے کوئی نا ٹھہر سکا اور یوں چرواہے دنیا کے ایک بہت بڑے خطے کے رہنما بن گئے ۔مگر جب یہ طاقت دوسروں کے ہاتھ میں پہنچی تو سلطنت عثمانیہ کے اتنے ٹکڑے ہوئے کہ اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی تھی ۔اب یہ طاقت برٹش ایمپائر کے پاس تھی ۔تاج برطانیہ کا عظیم اقتدار ایک ایسے خطہ ارضی پر قائم ہوا جو اتنا وسیع وعریض تھا کہ کہتے ہیں کہ وہاں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔مگر دوسری جنگ عظم اس عظیم ایمپائر کو لے ڈوبی اور برٹش ایمپائر کے اتنے حصے ہوئے کہ لوگ سلطنت عثمانیہ کے زوال کو بھول گئے ۔

    منگولوں سے لے کر تاج برطانیہ کے عہد تک سات صدیوں میں بارہا جغرافیے تبدیل ہوئے اور اس تبدیلی کا محرک طاقت تھی یہ طاقت تھی جس نے اتنے بڑے بڑے ایمپائر بنائے اور یہی طاقت ہی تھی جس نے ان ایمپائر کو دھول چٹا دی ۔دجلہ کے خوں رنگ پانی سے لے کر روسی فوج کے آخری فوجی کے دریائے آمو کو پار کرنے تک کا بنیادی محرک طاقت ہی تھی۔یہی وجہ ہے کہ جب وزیر خارجہ بھٹو نے ہندوستانی جارحیت پر اپنی طالبعلم بیٹی بے نظیر بھٹو سے تجزیہ کرنے کو کہا تو بے نظیر بھٹو کے مطابق بھارت یو این او چارٹر کی خلاف ورزی کرکے دنیا میں اکیلا ہورہا ہے اور پاکستان کو اس کیس میں اخلاقی برتری حاصل ہے اس پر ذوالفقار علی بھٹو نے تاریخی جواب دیا کہ مجھے خوشی ہےکہ تم سیاست کی طاقت کو سمجھ گئی ہو مگر تمہیں طاقت کی سیاست کو سمجھنے میں مزید کچھ وقت لگےگا۔

    یہ طاقت ہی ہے کہ جمہوریت اور انسانیت کا راگ الاپتی دنیا کو مقبوضہ کشمیر کے انسانوں کی حالت نظر نہیں آتی نا ہی فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والےمظالم نظر آتےہیں۔کیمیائی ہتھیاروں کے نام پر امریکہ بہادر عراق پر چڑھ دوڑا اور لاکھوں عراقی مار دئیے اور دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے دو دہائیوں تک افغانستان میں خون کی ہولی کھیلتا رہا تو اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اب طاقت اس کے پاس ہے۔طے ہوگیا کہ طاقت کے اپنے اصول و ضوابط، عزائم ، مقاصد اور اخلاقیات ہوتی ہے ۔من پسند نتائج کےحصول کےلیےطاقت کا استعمال جائز تصور ہوتا ہے ۔

    انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ہو یا علاقائی اسٹیبلشمنٹ ہو ایک ہی اصول پرکام کرتی ہیں۔زیادہ سے زیادہ طاقت اور اختیار کا حصول اور دشمن کو زیادہ سے زیادہ کمزور کرنا اب ان دو مقاصد کے لیے لاکھوں لوگوں کی قربانی بھی دینی پڑ جائےتو دریغ نہیں کرتے۔مذہب ، قومیت ، اور لسانیت کے نام پر تقسیم معاشرے ، معاشی طورپر بدحال ان طاقت وروں کی آسان شکار گاہیں ہیں۔ حقیقت میں ہم جیسے لوگ تو ان طاقتور ہاتھوں کی انگلیوں سے بندھے ہوئے دھاگوں کےساتھ لٹکی ہوئی وہ پتلیاں ہیں جو اس وقت تک حرکت میں رہتی ہیں جب تک یہ ہاتھ حرکت کرتے ہیں۔اس وقت یہ ہاتھ حرکت میں ہیں تو ہم بھی ناچ رہے ہیں مگر ستم یہ کہ ہمیں لگتا ہے کہ ہماری ہر حرکت ہماری منشا اور ہمارے ارادے سے ہورہی ہے۔جبکہ ایسا نہیں ہے بالکل نہیں ہے

    طاقتوروں کا کھیل جاری ہے۔اوکس کے بعد کھیل دلچسپ ہوتا جارہا ہے۔زمینی اور سمندری ناکہ بندی شروع ہوگئی ہے۔انڈو پیسفک پر طاقتوروں کی نظریں جم گئی ہیں ۔ابھرتی ہوئی طاقت چین پہلے سے موجود سپر پاور کو چیلنج کررہی ہے۔زیادہ طاقت کے حصول کی خاطر نئے بلاک اور اتحاد بننا شروع ہوگئے ہیں۔دنیا بھر میں اور خاص طورپر چین کے اطراف میں طاقتوروں کی سیاست جلد نقطہ عروج کو پہنچ جائے گی۔خدانخواستہ مگر لگ یہی رہا ہےکہ ہاتھیوں کی لڑائی ہمارے کھیتوں میں ہوگی اگر ایسا ہوا تو ہمارا مستقبل کیا ہوگا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔امید ہے اس پر غور وفکر ہوگا مگر فی الوقت سوال یہ ہے کہ طاقت کے اس کھیل میں ہمارا کردار کیا ہوگا اور دوسرا سوال یہ کہ ہمارے کردار کا تعین ہم خود کریں گے یا پھر یہ طاقتور کریں گے ۔آخری سوال یہ کہ اگر ہم اپنےکردار کا تعین خود کریں گے تو ہمارا مستقبل کیا ہوگا اور ہمارے کردار کا تعین یہ طاقتیں کریں گی تو بھی ہمارا مستقبل کیا ہوگا؟

    https://www.facebook.com/maliksiraj.ahmed.7