Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • شاہینوں کا شہر سرگودھا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    شاہینوں کا شہر سرگودھا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    1904 میں ایک انگریز عورت کے ہاتھوں نو آبادیاتی نظام کے تحت آباد کیا جانے والا پاکستان کا پہلا شہر سرگودھا ہے اسکے بعد اسلام آباد اور فیصل آباد بنائے گئے۔
    شہر کے درمیان میں ایک مارکیٹ ہے جسے گول چوک مارکیٹ کہا جاتا ہے اسکے اندر ایک خوبصورت مسجد بھی ہے۔ کہتے ہیں اسی جگہ ایک تالاب ہوا کرتا تھا جسکے کنارے ایک گھر تھا ۔ ہندو جو اس تالاب کا مالک تھا اسکا نام “گودھا” تھا اور تالاب کو فارسی میں “سر” کہتے ہیں تو اسی مناسبت سے اس کا نام سرگودھا رکھا گیا۔
    اپنے محلے وقوع کے اعتبار سے سرگودھا خاص اہمیت کا حامل شہر ہے۔ 5800 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان میں واقع سرگودھا کو ڈویژن کا درجہ حاصل ہے اور موجودہ ڈویژن میں 6 تحصیلیں بھلوال، بھیرہ، کوٹمومن، سرگودھا، سلانوالی، شاہ پور شامل ہیں۔ کل آبادی تقریبا 270000 دو لاکھ ستر ہزار ہے۔
    تعلیمی میدان میں سرگودھا کا لٹریسی ریٹ تقریبا 80% ہے جبکہ پورے ملک میں 30%۔ تعلیمی اداروں میں سرفہرست سرگودھا یونیورسٹی ،اس کے علاوہ ائیربیس کالج، میڈیکلُ کالج، لاء کالج، ووکیشنکل کالج، کامرس کالج اور بہت سارے پرائیویٹ تعلیمی ادارے جیسے پنجاب گروپ آف کالجز، دارارقم گروپ، بیکن ہاوس، سٹی سکول سسٹم خدمات انجام دے رہے ہیں۔
    صحت کی سہولتوں کے لیے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور اسکے علاوہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز، پرائیویٹ ہسپتال ، ٹی بی سنٹر ، ٹراما سنٹربھی موجود ہیں۔ شوکت خانم ، آغا خان ہسپتال کے کولیکشن سنٹر بھی کام کررہے ہیں۔
    کیونکہ یہ ایک پلانڈ شہر ہے تو اس شہر میں ہر قسم کے کاروبار کے الگ الگ بازار ہیں جیسے سونے کی مارکیٹ، کپڑے کی مارکیٹ۔ تمام بازاروں کے درمیان میں ایک چوک آتا ہے جو ان بازاروں کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ اگر آپ شہر کے کسی بھی کونے سے داخل ہوں تو آپ پورے شہر کو باآسانی گھوم سکتے ہیں۔

    دفاعی لحاظ سے اس شہر کی بہت اہمیت ہے کیونکہ یہاں پر پاکستان ائرفورس کا ہوائی اڈہ ہے۔ اسی مناسبت سے اس شہر کو شاہینوں کا شہر بھی کہا جاتاہے۔ اس شہر کی فضائیں ہر وقت ائرفورس کے جنگی طیاروں کی آواز سے گونجتی رہتی ہیں۔ 1965 کی جنگ میں ائر فورس نے بہت اہم کردار ادا کیا اور بہترین کارکردگی پر سرگودھا شہر کو ہلال استقلال سے نوازا گیا۔ لاہور اور سیالکوٹ کے علاوہ یہ اعزاز صرف سرگودھا شہر کوہے۔ اسی جنگ میں دشمن کو ناکوں چنے چبوانے والے اور ایک منٹ سے کم وقت میں انڈیا کے 5 جہازوں کو مار کر ورلڈ ریکارڈ بنانے والے ایم ایم عالم کا تعلق بھی سرگودھا سے تھا۔ اسکے علاوہ سرفراز رفیقی کا تعلق بھی سرگودھا سے تھا۔ پاکستان کے کم عمر ترین نشان حیدر کا اعزاز پانے والے راشد منہاس اسی دھرتی کے سپوت ہیں۔
    سرگودھا اپنی بہت ساری باتوں سے مشہور ہے جس میں سرفہرست یہاں کا کینو مالٹا ہے جو پورے پاکستان بلکہ بیرونی ممالک میں بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔سرگودھا شہر بجری کی سپلائی سے بھی مشہور ہے بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا کرش سپلائر ہے۔ اس شہر نے پاکستان کی بہت ساری مشہور شخصیات کو بھی جنم دیا ہے جن میں جنرل حمید گل، احمد خان المعورف ملنگی، فٹح خان بلوچ،مفتی محمد شفیع، خواجہ ضیاءالدین سیالوی،خواجہ قمرالدین سیالوی، ملک فیروز خان نون، ملک خضر حیات ٹوانہ، پیر امیر محمد بھیروی. مولانا محمد حسین نیلوی . پیر کرم شاہ صاحب ازھری. سید حامد علی شاہ . مولانا ثناءاللہ امرتسری: علامہ عطاءاللہ بندیالوی. مولانا عبدالشکور ترمذی. سید سبطین نقوی اور مولانا نقشبند شامل ہیں۔
    اسکے علاوہ کھیل میں محمد حفیظ، اعزاز چیمہ اور نوید لطیف کرکٹ میں سرگودھا کی نمائندگی کر چکے۔ اس شہر کے نامور شعراء میں احمد ندیم قاسمی, وصی شاہ، ڈاکٹر وزیر آغا. ریاض احمد شاد . شاکر کنڈان. محمد حیات بھٹی. غلام محمد درد. قاسم شاہ. افضل عاجز. اور ھارون الرشید تبسم .سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ڈاکٹر عطاء الرحمان. ڈاکٹر شاہد اقبال. ڈاکٹر عامر علی شامل ہیں۔

  • سیاحت اور معیشت .‏تحریر: لاریب اطہر

    سیاحت اور معیشت .‏تحریر: لاریب اطہر

    اللہ پاک نے دنیا کو خوبصورت بنایا ہے لیکن اس میں کچھ مخصوص علاقے اپنی خوبصورتی میں خاص مقام رکھتے ہیں
    کچھ تو پورے پورے ملک ہی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا میں شہرت حاصل کر چکے ہیں
    جن میں پاکستان بھی ایک خوبصورت ملک ہے
    پاکستان میں بھی کچھ شہر، علاقے تو اتنے خوبصورت ہیں کہ ان کو دیکھنے کے لیے پوری دنیا سے لوگ پاکستان کا سفر کرتے ہیں اور کئی کئی دنوں تک وہ پاکستان کے ان خوبصورت علاقوں میں رہتے ہیں
    دنیا کے اکثر ممالک کی معیشت کا دارومدار ہی سیاحت پر ہے جن میں سوئٹزرلینڈ دنیا میں سیاحت کے لیے مشہور ہے پوری دنیا سے لوگ سوئٹزرلینڈ جاتے ہیں وہاں رہتے ہیں سیر تفریح کرتے ہیں جس سے ان کی معیشت کو بھی سپورٹ ملتی ہے
    جو دوسرے ممالک سے سفر کرتے ہیں وہ ویزا، ٹکٹ، ہوٹل، ٹریولنگ سب کے لیے سیاحت کے لیے جانے والے ملک سے استعمال کرتے ہیں جس سے ان کو فائدہ ہوتا ہے
    اسی طرح جب پوری دنیا سے لوگ پاکستان کا سفر کرتے ہیں تو وہ بھی پاکستان آنے کے لیے ویزا، ٹکٹ، ٹریولنگ وغیرہ یہاں سے ہی استعمال کرتے ہیں
    جس سے پاکستان کو فائدہ ہوتا ہے
    گزشتہ ادوار میں پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا جس سے پاکستان کی سیاحت بری طرح متاثر ہوئی
    بیرونی دنیا سے تو دور پاکستانی کے شہری بھی سفر کرنے اور سیاحتی مقامات کو دیکھنے کے لئے جانے سے ڈرنے لگے
    پھر اللہ پاک کی مدد سے پاکستان کی عوام اور اداروں کی مدد سے پاکستان نے دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا اور واپس اپنے ٹریک پے آنا شروع ہوا جس سے بیرونی دنیا سے بھی لوگ اب پاکستان کا سفر کرنا شروع ہو چکے ہیں جس سے پاکستان کی معیشت اور پاکستان کی خوبصورتی دونو کو دنیا میں مقام مل رہا ہے
    اس وقت پاکستان کی موجودہ حکومت بھی کوشش کر رہی ہے پاکستان کے سیاحتی مقامات کو مزید خوبصورت اور پر امن بنایا جائے تاکہ سیاحت میں مزید اضافہ ہو
    پاکستان کے گلگت بلتستان ہو یا گلیات کے اونچے چمکتے پہاڑ
    سوات ہو یا لاہور کے سیاحتی مقامات اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہیں
    میری حکومت وقت اور اداروں سے بھی اپیل ہے کہ ان مقامات کو مزید بہتر کرنے اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں تیز کی جائیں تاکہ پاکستان بھی باقی دنیا کی طرح سیاحت سے زیادہ سے زیادہ پیسہ کما کر معیشت اور عوام کے لیے بہتر اقدامات کر سکے
    اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 2018-19ء میں پاکستان میں بیرونی سیاحوں کی تعداد 19لاکھ سے زاید رہی اور انہوںنے پاکستان میں 31کروڑ 70لاکھ امریکی ڈالرز خرچ کیے۔ورلڈ ٹورازم اینڈ ٹریول کونسل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سیاحت کو فروغ دے کر دس سال کی قلیل مدت میں 39.8ارب ڈالرز کما سکتا ہے 
    دنیا کے کئی ممالک میں قدرتی خوبصورتی تو نہیں لیکن وہاں کے حکمرانوں نے محنت اور لگن سے ملک کو خوبصورت بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا اور آج وہ اربوں ڈالرز صرف سیاحت سے کما رہے ہیں
    جبکہ پاکستان میں تو قدرتی خوبصورتی ہے
    بلند و بالا پہاڑ
    ریگستان
    دریا
    سمندر
    ہر وہ چیز جو سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے وہ پاکستان میں قدرتی طور پر موجود ہے بس اداروں کی مزید توجی کی منتظر ہے

    گو کہ پاکستان کی حکومت اس وقت بہت اچھا کام کر رہی ہے لیکن اس میں مزید بہتری کی گنجائش ابھی بھی موجود ہے

  • ‎سیاحت اور پاکستان .تحریر۔ مزمل مسعود دیو

    ‎سیاحت اور پاکستان .تحریر۔ مزمل مسعود دیو

    ‎سیاحت اور پاکستان .تحریر۔ مزمل مسعود دیو

    ‎پاکستان کو جہاں خطے کے اعتبار سے اہم مقام حاصل ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ سیاحتی مقامات کی بھی فراوانی ہے. کئی ممالک میں سیاحت کو معیشت کے استحکام میں ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے
    ‎پاکستان میں سیاحت کی استعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2018 میں برطانیہ کی مہم جوئی کے حوالے سے معروف سوسائٹی "بیک پیکر” نے پوری دنیا میں مہم جوئی کے حوالے سے پاکستان کا شمار اول نمبر پر کیا اس کے علاوہ "فوربز” نے 2019 میں ایک شائع کردہ آرٹیکل میں پاکستان کا شمار دنیا
    ‎کی حسین ترین جگہوں میں کیا
    پاکستان اپنے اونچے اونچے برف پوش پہاڑوں سے بہت مشہور ہے کیونکہ دنیا کی 7 ہزار میٹر سے اونچی 10 چوٹیاں پاکستان میں ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں سے پاکستان نے دنیا کے مختلف ملکوں سے آئس اسکیٹنگ کے کھلاڑیوں کو دعوت دی جنہوں نے پاکستان کے برف پوش پہاڑوں کو دنیا کے بہترین برفانی کھیلوں کے پہاڑ کہا۔ فروری 2019 میں پاکستان ائیرفورس نے 13 ملکوں کے 40 کھلاڑیوں کی چیمپئن شپ کروائی۔ اختتام پر تمام کھلاڑیوں نے پاکستانی حکومت کے اقدامات کو سراہا اور دوبارہ یہاں آنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

    ‎پاکستان کی حالیہ حکومت نے سیاحت کے فروغ کیلئے کوششیں کیں ہیں جن کے نتائج متاثر کن ہیں. شمالی علاقہ جات کے انفراسٹکچر کو بہتر بنایا جارہا ہے اور بہت سی نئی جگہیں سیاحتی مراکز کے طور پر متعارف کروائی جارہی ہیں۔
    ‎ سیاحتی ویزوں کے حصول میں آسانی کیلئے متعدد اقدامات کیے گئےجس میں 50 ملکوں بشمول امریکہ سے آنے والوں سیاحوں کو پاکستان پہنچنے پر ویزہ کے اجراء کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا، دوسرے175 ممالک کیلئے ویزہ کی درخواستوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے جمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے سیاحوں کی مشکلات میں کافی کمی آئی ہے
    ‎اس کے علاوہ سیاحت کیلئے کی جانے والی دیگر کوششوں میں کرتارپور راہداری کی فعالیت اور اس سے ملحقہ کمپلیکس کی تعمیر اور حال ہی میں جہلم میں افتتاح کئے جانے والے "البیرونی ریڈیس” جیسے مقامات قابل ذکر ہیں
    ‎حالیہ کرونا وبا کے باعث عالمی سطح پر سیاحت کے شعبہ میں کمی دیکھی گئی ہے جس میں سیاحوں کو مختلف ممالک کی طرف سے سفری پابندیوں جیسی مشکلات کا سامنا ہے
    ‎امید ہے کہ آنے والے دنوں میں کرونا وبا کے خلاف کامیابیوں میں اضافہ ہو گا اور غیر ملکی سیاح ترجیحا پاکستان کا رخ کریں گے ۔سیاحت کے شعبے سے بہت سے لوگ روزگار سے وابستہ ہوں گے، جس سے ملکی زرمبادلہ میں سیاحت ایک اہم کردار کرے گی اور آنے والے کل میں پاکستان دنیا بھر میں سیاحتی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہوگا۔ ان شاءاللہ
    پاکستان زندہ باد
    ‏@warrior1pak

  • 3سال سے بند فورٹ منرو ریزراٹ جلد سیاحوں کیلئے کھول دیا جائے گا      سیکرٹری ٹورازم

    3سال سے بند فورٹ منرو ریزراٹ جلد سیاحوں کیلئے کھول دیا جائے گا سیکرٹری ٹورازم

    سیکرٹری ٹورازم کا کہنا ہے کہ 3سال سے بند فورٹ منرو ریزراٹ جلد سیاحوں کیلئے کھول دیا جائے گا-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق سیکرٹری ٹورازم کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر بحالی کا کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے

    سیکرٹری ٹورازم کیپٹن مشتاق احمد کا فورٹ منرو کا اچانک دورہ، ریزارٹ پر تعمیراتی کام کا جائزہ لیاغفلت پر ٹورازم آفیسرمعطل، ریجنل جنرل منیجر ملتان و دیگر کیخلاف انکوائری کا حکم دے دیا-

    سیکرٹری ٹورازم نے کہا کہ فورٹ منرو پر سیاحوں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیئے، ریزارٹ کی گزرگاہوں اور ٹریکس کی بھی مرمت کی جائے-

    انہوں نے کہا کہ نوتعمیرشدہ ریزراٹ میں استقبالیہ، لابی اور بالکونی کا اضافہ کیا گیا بالکونی سے فورٹ منرو کے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوا جا سکے گا-

    کیپٹن مشتاق احمد سیکرٹری نے دربار سخی سرور پر جاری ترقیاتی منصوبے کا بھی جائزہ لیا اور کہا کہ مذہبی سیاحت کے فروغ کیلئے سکیم بروقت مکمل کی جائے-

  • شہر لاہور سے الفت یونہی تو نہیں ، تحریر:ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    شہر لاہور سے الفت یونہی تو نہیں ، تحریر:ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    شہر لاہور سے الفت یونہی تو نہیں ،
    اِس پہ ہر شہر جو لُوٹا بیٹھا ہوں

    پنجاب کی سرزمین برصغیر کی تاریخ کا جھومرہے، اور اس جھومر کی پیشانی ہے "شہرِ لاہورہے” پاکستان میں لاہور شہر ایک تاریخی،تجارتی ، صوبائی سیاسی، ثقافتی، تعلیمی اور صنعتی سرگرمیوں کا مرکز ہے، زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔

    لاہور صرف ایک شہر نہیں ہے لاہور ایک کیف ہے، جو طاری ہو جائے تو ہو جائے۔ مغربی جانب بہنے والے دریائے راوی نے اس کے حسن کو دوبالا کر دیا ہے۔اس شہر کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے اور ساتھ ہی میں لاہور اپنے باغات اور قدرتی حسن کے باعث اسے عروس البلاد کہا جاتا رہا ہے

    لاکھوں ہیں شہر لیکن کب اور تیرے جیسا
    ڈھونڈے نہ ملا ہم کو لاہور تیرے جیسا

    شہرِ لاہور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے اور ساتھ ہی میں لاہور دنیا کا پندرہواں بڑا شہر ہے، لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ اس میں 460 تاریخی عمارتیں ہیں ،اس تاریخی شہر کے بارہ دروازے ہیں ، ایک چھوٹا دروازہ بھی ہے جیسے موری دروازہ کہا جاتا ہے

    شہر لاہور دنیا کے ان گنے چنے خوش نصیب شہروں میں سے ہے جو اپنی تاسیس کے بعد مسلسل آباد چلے آرہے ہیں اس شہر لاہور میں ایک محلہ مولیاں ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ یہاں
    کبھی مہاتما بدھ آکر ٹھہرے تھے۔شہرِلاہور کا قدیم نام "لوپور” ہے اور لاہور دو الفاظوں کا مرکب ہے "لوہ "یا "لاہ "جس کا مطلب "لَو” اور "آور” جس کا مطلب "قلعہ” ہے، اسی طرح صدیاں گزرتی گئیں اور پھر "لوہ آور” لفظ بالکل اسی طرح لاہور میں بدل گیا

    روایت کے مطابق راجہ رام کے بیٹے راجہ لوہ نے شہر لاہور کی بنیاد رکھی اور یہاں ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا۔ پھر اس کے بعد دسویں صدی عیسوی تک یہ شہر ہندو راجائوں کے زیرنگیں رہا۔ گیارہویں صدی میں یہ علاقہ اسلام کی روشنی سے منور ہوا جب سلطان محمود غزنوی نے پنجاب فتح کرکے ایاز کو لاہور کا گورنر مقرر کیا۔

    لاہور کو بیس سال تک مغل دارالحکومت رہنے کا بھی شرف حاصل ہوا ، لیکن اگر یہ مغلیہ سلطنت کا دارالحکومت نہ بھی بنتا تو اس کی اہمیت و فضیلت میں کوئی کمی نہ ہوتی ۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نور جہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا”لاہور رابجان برابر خریدہ ایمجاں دارایم و جنت دیگر خریدہ ایم”

    سترھویں صدی میں لاہور کی شہرت یورپ تک جا پہنچی تھی اور اس کے ڈنکے سات سمندر پار بھی بجنے لگے تھے

    حسن کی بزم میں اگر ذکر لاہور کا نہ آئے
    توہینِ حُسن ہو جاۓ توہینِ بزم ہو جاۓ

    لاہور شہر کی فضاکا اپنا ایک طلسم ایک جادوہے اور علامہ اقبال، پطرس بخاری، فیض احمد فیض ، اشفاق احمد، احمد ندیم قاسمی اور انتظار حسین جیسے دانشور بھی اس کے طلسم سے محفوظ نہ رہ سکے۔

    طلسمِ ہوش رُبا جیسا شہر ہے لاہور
    جو اِس دیار میں جائے لاپتہ ھو جائے

    لاہور پاکستان کا پہلا شہر ہے جس کو یونیسکو کیجانب سے "شہر ادب”کا خطاب ملا ہے
    شہر لاہور کو ایک دن شہر ادب کا خطاب ملنا ہی تھا۔ آج نہیں تو کل پاکستان نے یہ دن دیکھنا ہی تھا کہ، شہرِلاہورصدیوں سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے،شہر لاہور دنیا بھر میں امن کی شناخت ہے، محبت کی پہچان ہے۔ یعنی ادب، عشق ادب، آداب ادب اور اب "شہر ادب ”

    شہر لاہور عاشقوں کا شہر ہے، بھلے وہ عاشق مجازی ہوں یا حقیقی اور عشق ایسی نامراد شے ہے کہ اس کا نفرت سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہوتا۔ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہو سکتا ہے۔ عشق میں صرف عشق ہی جائز رہ جاتا ہے شہر لاہور کی بھی یہی تاثیر ہے، جو آنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، عاشق بنا دیتی ہے۔

    اس شہر کی ہواؤں میں اِک اپناںٔیت سی ہے
    اس کی گلیوں،کوچوں میں اِک عجب چاہت سی ہے

    گزرے لمحوں کی حسین یادوں کا یہاں ٹھکانہ ہے
    جو اِک بار لاہور آ جائے پھر اُس نے واپس کہاں جانا ہے

    تاریخ گواہ ہے صدیوں سے لاہور بہت سی حکومتوں کا دارالخلافہ رہا اور جو شہر دارالحکومت رہا ہو، وہاں ملازمت کی غرض سے لوگ نہیں آتے بلکہ وہ ثقافتیں آتی ہیں بلکہ بلائی جاتیں ہیں۔نوکری تو ایک بہانہ ہوتا ہے، فطرت اس شہر پہ مہربان ہوتی ہے اور اس شہر کو رنگوں سے بھر دیتی ہے۔

    شہرِ لاہور تیری رونقیں دائم آباد
    تیری گلیوں کی ہَوا کھینچ کے لائی مجھ کو

    شہر لاہور کے خوبصورت باغات کا حُسن آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے تو کبھی اسکی پُرتعیش عمارات دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ لاہور میں کھانے پینے کی اشیا میں ذائقے کا دُنیا بھر میں کوئی نعم البدل نہیں ہے شہر لاہور کی رونقیں دیکھ کر دل باغ باغ ہوتا ہے لاہور شہر میں بسنے والے باشندے زندہ دِل،کھلے ذہن ہر قسم کے تعصبات سے پاک دوسروں کو آگے کرنے،درد مشترک قدر مشترک تہذیبی، ثقافتی، معاشرتی، اخلاقی اقدار کے دلدارہ ہیں۔

    خدمت خلق اور ہمارا کردار تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    ان فضاؤں سے ہے مجھے نسبت خاص
    شہر لاہور پہ سب شہر لٹا بیٹھا

    لاہور بقا کی ایک مثال ہے۔ لاہور کا حال اس کے ماضی کا ایک سلسلہ ہے۔ اس کے مستقبل نے ابھی شکل اختیار کرنی ہے۔ لاہور ہمیشہ لاہور رہے گا، اسے کچھ اور بننے کی خواہش نہیں ہے

    کہ اِس سے منسلک ہونا بھی اک سعادت ہے
    لاہور شہر نہیں ہے، لاہور عادت ہے

    ‏ہماری پہچان اخلاق حسنہ . تحریر، ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

  • گرمی اور پیاس کی شدت مگر ہمارے منفی رویے .تحریر:عمار احمد عباسی

    گرمی اور پیاس کی شدت مگر ہمارے منفی رویے .تحریر:عمار احمد عباسی

    پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں تقریباً پاکستان کے ہر صوبہ اس وقت گرمی کی شدید لپیٹ میں ہے اور انسان تو انسان جانور بھی اس گرمی سے بچنے کے لیے اللہ تعالٰی سے رحمت کی بارش کے طلب گار ہیں۔
    ایک تو گرمی کی شدت اور اوپر سے شدید لوڈ شیڈنگ امراء حضرات تو اپنا گز بسر لوڈ شیڈنگ میں بھی کر لیتے ہیں مگر بے چارے غربت کے مارے گرمی کے ساتھ ساتھ لوڈ شیڈنگ سے بھی مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔
    بطور انسان اس گرمی کے موسم میں ہمیں اپنے رویے ٹھنڈے رکھنے ہونگے یعنی تحمل سے کام لینا ہوگا اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنی ہوگی جیسا کہ ڈلیوری بوائز وغیرہ جو اس گرمی کی شدت میں بھی حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنی حلال روزی کمانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔شدید گرمی میں فوڈ پانڈا والے بھائی جب آپکا آرڈر لیکر آئیں تو انہیں ایک گلاس پانی اور تھوڑی سی ٹِپ ضروری دیں۔ اس سے آپکو تو فرق نہیں پڑے گا مگر ان کا دل ضرور خوش ہوگا اور آپ کی ٹپ سے وہ کوئی امیر بھی نہیں ہوگا مگر ہاں اس کی حوصلہ افزائی ضرور ہوگی۔فوڈ پانڈا وغیرہ کے ڈیلیوری بوائز موسم کی تمام شدتیں برداشت کر کے رزق حلال کماتے ہیں مگر ریسٹورانٹس کا ان سے رویہ درست نہیں ہوتا ۔۔ کچھ دن پہلے کی ہی بات ہے جب ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں لکھا تھا کہ رائڈرز یہاں سے پانی نہیں پی سکتے۔ اب ان دنوں گرمی کا حال دیکھیں اور یہ ریسٹورنٹ ان رائڈرز کو پانی پلانے کا روادار بھی نہیں اور کولر پر لکھ کر لگا رکھا ہے کہ رائڈرز اس سے پانی نہیں پی سکتے ۔۔۔ ان رائڈرز کے زریعہ اپنا کھانا بیچ کر کمانے والوں کے اس انسانیت سوز رویے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

    فوڈ پانڈا والا رائڈر , عید کے تینوں دن بغیر تھکے، بغیر رکے، بغیر نیند پوری کیے کس کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا ہے؟
    یہ غیرت مند مرد عورت کو پاٶں کی جوتی نہیں سمجھتا ، نہ کپڑے دھونے والی مشین اور نہ ہی چائے گرم کرنے والی آیا….. یہ اسے اپنی زندگی کا حصہ سمجھتا ہے، کبھی ماں کے طور پر، کبھی بہن، کبھی بیوی اور کبھی بیٹی کے طور پر…. پھر بھی کسی کو ان رشتوں سے آزادی چاہیے تو لے لے آزادی۔۔۔
    انسان تو انسان اب جانور بھی گرمی کی شدت کی وجہ سے پیاسا پھر رہے ہیں جو کہ کچھ دن پہلے ایک پیاسا چیتا پیاس کی شدت برداشت نہیں کر سکا اور آبادی میں آ گیا کوٹلی آزادکشمیر میں گرمی کی شدت سے نڈھال چیتا آبادی میں گھس آیا۔بھوک پیاس سے نڈھال چیتے نے آبادی کا رخ کرلیا،چیتے کے آبادی میں گھسنے کی اطلاع آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا، شہریوں نے چیتے کو پکڑ کر پانی اور جوس پلایا، تصاویر بنائیں، شہریوں نے بعد میں چیتے کو محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کردیا۔

    اس لیے اللہ نے اگر انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے تو اس درجے کا پاس رکھیں اور مخلوق خدا کو بھی یاد رکھیں اور اپنی چھتوں پر پانی ضرور رکھیں تاکہ بطورِ انسان آپ کو اپنے اشرف المخلوقات ہونے پر فخر ہوسکے۔

  • پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سن 1843 سے سن 1849 تک سلطنتِ پنجاب کے حکمران مہاراجہ دلیپ سنگھ کے گھر 29 ستمبر سن 1869 کو لندن میں بیٹی پیدا ہوئی۔

    نومولود بیٹی کا نام بامبا صوفیہ جنداں دلیپ سنگھ رکھا گیا بامبا ان کی والدہ، صوفیہ نانی اور جند دادی کا نام تھا پنجاب کے سب سے معروف مہاراجہ رنجیت سنگھ شہزادی بمبا کے دادا تھے شہزادی بمبا نے لندن میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جس کے بعد امریکی شہر شکاگو کے ایک میڈیکل کالج چلی گئیں۔

    بیسویں صدی کے آغاز میں شہزادی بامبا نے اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین ہندوستان کے دورے کرنا شروع کر دئیے وہ ہمیشہ لاہور یا شملہ میں رہتی تھیں شہزادی بمبا کو لاہور اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے انگلستان کو چھوڑ کر تنہا ہی لاہور کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔

    انہوں نے ماڈل ٹاؤن کے اے بلاک میں مکان نمبر 104 خرید کر اس میں رہائش اختیار کر لی شہزادی بامبا نے اس گھر کا نام ’گلزار‘ رکھا اور اس میں اپنے ہاتھ سے کئی اقسام کے گلاب کے پودے لگا کر ان کی دیکھ بھال شروع کر دی۔

    سن 1915 میں شہزادی بامبا نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر ڈیوڈ سدھر لینڈ کے ساتھ شادی کر لی اور ان کا نام شہزادی بامبا سدھرلینڈ ہو گیا۔

    شہزادی بامبا کی دادی کا انتقال سن 1863 میں ہو گیا تھا لیکن شہزادی بمبا نے سن 1924 میں ان کی باقیات لاہور منگوا کر اپنے دادا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی میں دفن کروائیں۔

    سن 1939 میں ڈاکٹر ڈیوڈ سدرلینڈ کے انتقال کے بعد شہزادی بامبا لاہور میں اکیلی رہ گئیں لیکن انہوں نے لاہور سے بے پناہ محبت کے باعث ماڈل ٹاؤن میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ان کا خیال تھا کہ وہ اس طرح اپنے مرحوم باپ دلیپ سنگھ کی روح کو کسی طور پر سکون پہنچا سکے گی۔

    اس دوران شہزادی بامبا کا شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے ساتھ بھی ملنا جلنا رہا علامہ اقبال، شہزادی بامبا کی انتہائی عزت کرتے تھے۔ شہزادی بامبا کا 88 سال کی عمر میں اسی گھر میں انتقال ہوا وہ عمارت سن 1944 میں سات ہزار روپے میں خریدی گئی تھی آج بھی یہ عمارت ان کے خاص ملازم پیر بخش کی اولاد کے زیراستعمال ہے۔

    تقسیم کے ایک برس قبل 13جولائی 1946ء کو بامبا نے رنجیت سنگھ کی اولاد کا ایک حقیقی وارث ہونے کے ناطے اپنے ایک وکیل رگھبیر سنگھ ایڈووکیٹ فیڈرل کورٹ آف انڈیا کی وساطت سے اپنی پنجاب کی سلطنت کا مطالبہ کر تے ہوئے ایک خط یو این او کو بھجوایا لیکن اس خط کا کوئی بھی خاطر خواہ جواب نہ دیا گیا۔

    تقسیم کے وقت شہزادی بامبا انگلینڈ، ہندوستان اور دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں رہنے کا حق رکھتی تھیں لیکن انہوں نے اپنے دادا کی سلطنت پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو ہر چیز پر ترجیح دی وہ لاہور میں رہ کر دلیپ سنگھ کی جائیداد اور دیگر معاملات کو دیکھتی رہیں وہ لاہور میں اکثر اپنی گاڑی پر مال روڈ اور دوسرے علاقوں میں چلی جاتیں اور عہد رفتہ کی عمارات کو دیکھتی رہتی تھیں۔

    شہزادی بامبا نے ایک مرتبہ ایک سرکاری افسر سے گلہ کیا کہ میں اس بادشاہ کی پوتی ہوں جس کی ملکیت میں تمام پنجاب تھا اور مجھے بس میں الگ سے کوئی نشست بھی نہیں دی جاتی بامبا کے آخری ایام انتہائی تکلیف دہ تھے وہ اپنی وفات سے دو برس قبل ہی کانوں سے بہری ہو چکی تھیں، آنکھوں سے خاص دکھائی بھی نہیں دیتا تھا اور فالج کے حملے کے باعث وہ اپنے دستخط بھی نہ کر سکتی تھیں۔

    ان تمام حالات کی خبر شہزادی کے قریبی رشتہ داروں میں سے پریتم سنگھ کو مکمل طور پر تھی 10 مارچ سن 1957 کو بامبا انتقال کر گئیں اور پاکستان میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے ان کی عیسائی رسومات کی ادائیگی کرنے کے بعد شیر پاؤ پُل کے قریب جیل روڈ کےگورا قبرستان میں دفنایا گیا۔

    ان کی وصیت کے مطابق ان کی قبر کے کتبے پر فارسی کے دو اشعار لکھے گئے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

    حاکم اور محکوم میں تفریق باقی نہیں رہتی
    جس لمحے تقدیر کا لکھا آن ملتا ہے
    اگر کوئی قبر کو کھود کر دیکھے
    تو امیر اور غریب کو الگ الگ نہیں کر سکتا

    علاوہ ازیں شہزادی بامبا کی قبر کے کتبے پر درج ذیل تحریر رقم ہے۔

    Here lies in eternal peace The Princess Bamba Sutherland Eldest Daughter of Maharajah Daleep Singh and Grand Daughter of Maharajah ranjit Singh of Lahore.Born on 29th September 1869 in London-Died on 10th March 1957 at Lahore.

    شہزادی بامبا کو آرٹ سے گہرا لگاؤ تھا اور جب ان کا انتقال ہوا ان کے پاس بیش قیمت پینٹگز کا پورا خزانہ موجود تھا جوان کی وصیت کے مطابق ان کے خاص ملازم پیر کریم بخش سپرا کے سپرد کیا گیا اس خزانے میں واٹر کلر، ہاتھی کے دانتوں پر پینٹنگز، مجسمے اورآرٹ کے دیگر شاہکار نمونے شامل تھے۔

    جبکہ لندن میں بچی ہوئی دلیپ سنگھ کی وسیع و عریض جائیداد کا کوئی بھی وارث نہ بچا اور نہ ہی کسی نے اس کا مطالبہ کیا اور یوں وہ تمام جائیداد تاج برطانیہ کو منتقل ہو گئی۔

    لیکن لندن میں موجود سکھ خاندان کے نوادرات وصیت کے مطابق پیر کریم بخش نے حکومت پاکستان کے تعاون سے لاہور منگوانے کی درخواست دائر کی متعلقہ بنک نے انتہائی ایمانداری سے وہ خاندانی نوادرات ایک ہفتے میں لاہور بھجوا دیئے۔

    ان نوادرات کوشہزادی بامبا کی رہائش گاہ میں محفوظ کر کے ’اورئینٹل میوزیم‘ کھولا گیا 1962ء میں حکومتِ پاکستان نے شہزادی بامبا کے آرٹ کے اس خزانے کو قومی اثاثہ قرار دے کر خرید لیا اور اسے لاہور کے شاہی قلعے میں محفوظ کر لیا۔

    سن 2018 میں اس کولیکشن کو عام شہریوں کے لیے کھول دیا گیا اسے دیکھ کر پنجاب میں سکھوں کی حکمرانی کی شان و شوکت کا اندازہ ہوتا ہے۔

  • جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    اگر آپ بھی چاند پر جانے کے خواہشمند ہیں تو اب آپ کی یہ خواہش پوری ہو سکتی ہے جی ہاں جاپان سے تعلق رکھنے والے ارب پتی یوزاکامیزاوا چاند پر جانے والی ایلن مسک اسپیس فلائٹ کے لیے کسی گروپ کی تلاش میں ہیں جو انہیں جوائن کرسکے۔

    باغی ٹی وی :کچھ دن قبل یوزاکا کی جانب سے ٹوئٹ کے ذریعے چاند پر جانے کے خواہشمند افراد کو خوشخبری سنائی گئی اور فری ٹکٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔

    یوزاکا نے اپنی ویڈیو میں کہا تھا کہ میں آپ کو چاند پر جانے والے مشن میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں، دنیا بھر میں سے 8 افراد اس مشن کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔


    یوزاکا کی ویڈیو کے مطابق ڈیئر مون نامی مشن کا آغاز 2023 میں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہر پس منظر کے لوگ اس میں شامل ہوں۔

    یوزاکا کی جانب سے اپنی پوسٹ میں درخواست جمع کروانے والوں کے لیے لنک بھی شیئر کیا گیا ہے، انہوں نے درخواست گزاروں کو یقین دلایا کہ انہوں نے تمام سیٹیں خرید لی ہیں لہٰذا یہ نجی سواری ہوگی۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق درخواست دینے والے کو دو معیاروں پر پورا اترنا ہوگا درخواست دہندگان کو کسی بھی قسم کی سرگرمی، دوسرے لوگوں کی مدد،معاشرے کی بہتری اور ان جیسی خواہشات رکھنے والے افراد کی مدد کے لیے تعاون کرنا ہوگا۔

  • خلاء میں بنایا جانے والا  دنیا کا پہلا ہوٹل

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

    زمین کے ذیلی مدار میں بنایا جانے والا پہلا اسپیس ہوٹل 2025 میں مکمل ہوگا جسے 2027 میں آپریشنل کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی :غیرملکی خبررساں ادارے ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق زمین کے ذیلی مدار میں بنائے جانے والے دنیا کے اس پہلے اسپیس ہوٹل میں ریسٹورنٹ، سنیما ہالز اور خصوصی قیام گاہیں (لیونگ پاڈز) بنائے جائیں گے جبکہ اس ہوٹل میں 400 افراد کی گنجائش ہوگی۔

    ووگیار اسٹیشن فوٹو بشکریہ ڈیلی میل
    یہ ہوٹل خلائی تعمیرات کے حوالے سے مشہور کمپنی آربیٹل اسمبلی کارپوریشن کی جانب سے تعمیر کیا جارہا ہے جسے 2027 میں آپریشنل کیا جائے گا۔

    ووگیار اسٹیشن فوٹو بشکریہ ڈیلی میل
    رپورٹس کے مطابق اسپیس ہوٹل میں وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی جو کہ سمندر میں چلنے والی کروز شپ میں فراہم کی جاتی ہیں۔

    ووگیار اسٹیشن فوٹو بشکریہ ڈیلی میل
    یہ ہوٹل ایک گھومنے والے رنگ کی طرح بنایا جائے گا جس میں خصوصی طور پر تیار کردہ قیام گاہیں (پوڈز) جوڑی جائیں گی۔

    ووگیار اسٹیشن فوٹو بشکریہ ڈیلی میل
    رپورٹس کے مطابق ہوٹل بنانے والے ڈویلپرز کی جانب سے خصوصی طور پر تیار کردہ قیام گاہیں ناسا اور یورپی اسپیس ایجنسی کو ریسرچ کیلئے بھی بیچی جاسکتی ہیں۔

    ووگیار اسٹیشن فوٹو بشکریہ ڈیلی میل
    رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہوٹل کا ڈیزائن متعدد دائروں پر مبنی ہوگا جس میں متعدد موڈیولز ہوں گے۔ ان میں سے زیادہ تر موڈیولز دائرے کے بیرونی حصے میں تعمیر ہوں گے جن میں ریسٹورینٹس وغیرہ ہوں گے جبکہ 24 ماڈیولز کمپنی کے زیر استعمال ہوں گے جن میں عملے کے ارکان کی رہائش، ہوٹل کیلئے پانی، بجلی اور ہوا وغیرہ کا بندوبست کیا جائے گا۔

    ووگیار اسٹیشن فوٹو بشکریہ ڈیلی میل
    اس کے علاوہ دیگر یونٹس حکومتوں اور نجی کمپنیز کو فروخت یا لیز پر بھی دیا جاسکے گا۔

    ووگیار اسٹیشن فوٹو بشکریہ ڈیلی میل

  • پاکستان انٹرنیشنل سنو بورڈنگ کپ کا مالم جبہ میں آغاز، ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت

    پاکستان انٹرنیشنل سنو بورڈنگ کپ کا مالم جبہ میں آغاز، ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت

    ترجمان محکمہ سیاحت کے مطابق سوات، محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا کے زیر انتظام فیسٹیول میں ملکی و غیرملکی کھلاڑیوں نے شرکت کی ہے.

    ان کا کہنا ہے کہ سوات، مالم جبہ کی حسین وادی میں سنو بورڈنگ میں ملکی و غیر ملکی کھلاڑی مد مقابل ہوئے ہیں ، سوات، یورپ سمیت افغانستان اور پاکستان کے نامور مرد خواتین کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی ہے.

    ترجمان کے مطابق سوات، سنو بورڈنگ مقابلوں میں 4 خواتین سمیت 44 کھلاڑی مد مقابل ہوئے ہیں،سوات، گلگت سے مایاناز ماہ گل کبیر بھی ایونٹ میں شامل ہوئی ہیں. ترجمان محکمہ سیاحت کا کہنا ہے کہ سوات، یخ بستہ موسم میں یوگا سیشن کا منفرد مظاہرہ ہوا ہے،سوات، فوڈ اینڈ میوزیک فیسٹیول بھی ایونٹ کا حصہ رہے ہیں.