Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • وکٹوریہ بریج     تحریر : حسن ریاض آہیر

    وکٹوریہ بریج تحریر : حسن ریاض آہیر

    میری آج کی تحریر کا عنوان ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال اور ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان کے درمیان دریائے جہلم پر موجود وکٹوریہ بریج ہے۔ یہ پل آج سے تقریباً 90 سال پہلے برٹش راج میں انگریزوں نے تعمیر کیا۔ یہ پل ٹرین کی آمد و رفت کے لیے بنایا گیا تھا جو ملکوال سے پنڈ دادنخان، کھیوڑہ اور غریبوال کیطرف چلتی تھی۔
    پنڈ دادنخان اور ملکوال کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ پل تھا اور افسوس کہ آج 90 سال بعد اس جدید دور میں بھی یہ ہی ایک ذریعہ ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ دو ضلعوں کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ ہے ان علاقوں کی عوام کے لیے تو غلط نا ہو گا۔ ضلع جہلم اور ضلع منڈی بہاؤالدین کے علاؤہ ڈویژن سرگودھا کے ضلع بھلوال، بھیرہ کی عوام بھی اسی پل پر انحصار کرتی ہے۔
    ہر سال عوام کے ساتھ متعدد حادثات اس لوہے کے بنے پل سے پیدل یا موٹر سائیکل گزارنے کے دوران پل سے گرنے کیوجہ پیش آتے ہیں یہاں سے اگر کوئی گرے تو نیچے موجود دریا اسے نگل جاتا ہے۔ عورتیں، بچے، بزرگ اور جوان متعدد جانیں یہاں گنوا چکے۔
    ہر الیکشن کے قریب حکمران ان علاقوں کی عوام سے وعدہ کر کے ووٹ لیتے ہیں کہ یہ پل ہم بنائے گے 5 دہائیوں سے عوام یہاں پل بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    پہلے یہاں پل کی تعمیر کا مطالبہ ایوب خان کے دور حکومت میں سامنے آیا، جنرل ضیاالحق نے 1996 میں اس منصوبے کو مکمل کرنے کا وعدہ کیا، جنرل پرویز مشرف نے سنگ بنیاد رکھا اور اس کے لئے ایک ارب روپے کی منظوری دی تھی، پھر چوہدری پرویز الٰہی نے اکتوبر 2007 میں ملکوال میں سنگ بنیاد رکھا اور 2018 میں شہباز شریف نے بھی سنگ بنیاد رکھا اور عوام سے ووٹ مانگے۔
    اس پل کی تاخیر میں ایک بڑی وجہ سیاسی مفادات ہیں کچھ سیاسی اثرورسوخ والے پل چک نظام کے قریب اور کچھ دامن حضر کے قریب چاہتے ہیں۔

    حکومت وقت اور خاص طور پر ندیم افضل چن صاحب اور فواد چوہدری صاحب سے درخواست ہے کہ برائے مہربانی اس مسلے پر توجہ مرکوز کریں اور پی ٹی آئی کے دور میں یہاں پل بنائے۔

  • حاسد، حسد اور شر      تحریر: احسان الحق

    حاسد، حسد اور شر تحریر: احسان الحق

    حسد تقدیر اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم کے منافی سوچ ہے. حسد کے دو معنی ہیں. کسی انسان کی خوبصورتی، شکل و عقل، رزق وغیرہ جیسی نعمتوں اور کامیابیوں پر کڑھنا، جلنا اور غصہ کرنا. دوسرا معنی ہے کہ کسی انسان کی کامیابیوں اور نعمتوں کے زوال اور چھن جانے یا زائل ہونے کی خواہش کرنا. حسد دل کی بیماری ہے. حسد دل کے عوارض کا سبب بنتا ہے اور جب کسی کا دل تعصب، کینہ اور حسد کا شکار ہو جائے تو پھر دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو جاتے ہیں.
    اللہ تعالیٰ نے سورۃ فلق میں جن شرور سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے ان میں حاسد کے حسد کا ذکر بھی ہے. اللہ تعالیٰ نے سورۃ فلق میں بڑے اور خطرناک شرور کا ذکر کیا ہے. اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ تمام مخلوق کے شر سے جو کسی شر یا نقصان کا سبب بن سکتی ہیں، اندھیرے کے شر سے، جادو کے شر سے اور حاسد کے حسد یا حسد کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے. یقیناً حاسد کا حسد یا حسد کا شر بہت مہلک بیماری ہے.

    حسد کا مطلب نعمتوں پر اعتراض اور اختلاف کرنا ہے. حاسد کسی بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں پر اعتراض یا اختلاف نہیں کر رہا ہوتا دراصل وہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم اور عطاء پر اعتراض کر رہا ہوتا ہے. اللہ تعالیٰ نے تقسیم کے فیصلے زمین و آسمان کی پیدائش سے 50 ہزار سال پہلے کئے. ایک مومن بندہ دنیا اور آخرت کی بہتری کے لئے رشک کر سکتا ہے. حسد اور رشک میں فرق ہے. حسد کا مطلب کہ فلاں کے پاس فلاں چیز کیوں ہے یا نہ ہو. رشک کا مطلب کہ اس کے پاس جو چیز ہے وہ میرے پاس بھی ہو. ایک مسلمان دوسرے انسان کی نعمتوں، کامیابیوں اور رزق کی فراوانی دیکھ کر رشک کر سکتا ہے، رشک کرنے میں کوئی حرج نہیں اور دینوی اور اخروی معاملات میں رشک کرنا بھی چاہئے.

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بہترین کلیہ بتایا ہے کہ شرعی معاملات میں اپنے اوپر والے بندے کو دیکھو جو آپ سے علم، عمل اور تقوے میں بہتر ہو تاکہ تمہارے اندر عمل اور پرہیزگاری کا پہلے سے زیادہ شوق پیدا ہو. دنیاوی معاملات میں اپنے سے نیچے اور زیادہ غریب آدمی کو دیکھو تاکہ تمہارے اندر مال اور دنیا کی حرص پیدا نہ ہو اور نہ ہی تم احساس کمتری کا شکار ہو. جب انسان دنیا داری میں اپنے سے نیچے والے بندے کو دیکھے گا تو حسد پیدا نہیں ہوگا اور جب عبادت اور عمل میں اپنے سے اوپر والے بندے کو دیکھے گا تو اس میں عمل اور نیکی کا حرص پیدا ہوگا.

    امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے ملنے کے لئے ایک ساتھی صحابی کے ساتھ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے. آپ امیرالمؤمنین کسی سرکاری کام میں مصروف تھے اور دربان کو کہا کہ وہ میرا انتظار کریں. اسی اثناء میں حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ بھی ملاقات کی غرض سے تشریف لے آئے. امیرالمؤمنین کو پتہ چلا تو آپ کام چھوڑ کر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ کو ملنے چلے آئے. بعد میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے اپنے ساتھی صحابی سے گلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امیرالمؤمنین نے عدل نہیں کیا، ہمیں انتظار کروایا اور بلال کو اسی وقت ملنے چلے آئے. ساتھی صحابی رسولۖ نے ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے فرمایا کہ حسد مت کرو، ہم نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا اور بلال نے جس وقت اسلام قبول کیا اس وقت اسلام قبول کرنا بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا اور بلال نے بہت صعوبتیں برداشت کیں. اللہ تعالیٰ نے بلال کو دنیا اور آخرت میں ہم سے بہتر مقام عطا کیا ہے لہذا جلنا اور حسد کرنا درست نہیں. جب آخرت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کو بڑی عزت و تکریم سے نوازیں گے تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی تقسیم اور نوازش پر اعتراض کرے گا؟

    اس دنیا میں رونما ہونے والے پہلے فتنے کی بنیاد بھی حسد اور غرور پر ہے. ابلیس کا خیال تھا کہ روئے زمین پر ایسی کوئی جگہ خالی نہیں جہاں میں نے سجدہ نہ کیا ہو، اب مجھے حکم دیا جا رہا ہے کہ مٹی کی پیداوار کو سجدہ کروں جو مجھ سے کمتر ہے. ابلیس مقام آدم کو دیکھ کر حسد میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ سے بغاوت کر گیا اور قیامت تک ملعون قرار پایا. شیطان نے اسی حسد کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے بھی نکلوایا.
    اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ تعلیم دی ہے کہ حاسد کے شر سے بچنے کے لئے پناہ طلب کرو. آخرت کے دن وہی لوگ جنت میں داخل ہونگے جو قلب سلیم لے کر آئیں گے. جن کے دل عوارض سے پاک ہوں گے مطلب ان کے دل کسی قسم کے حسد، تعصب اور بغض کی خباثت سے پاک ہوں گے.

    @mian_ihsaan

  • مانسہرہ کی تاریخ     تحریر:یاسرشہزادتنولی

    مانسہرہ کی تاریخ تحریر:یاسرشہزادتنولی

    پاکستان کا سب سے خوبصورت شہر مانسہرہ ہے.

    مانسہرہ شہر خیبر پختونخواہ کے صوبے میں واقع ہے. یہ پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے. یہ ایبٹ آباد شہر کے قریب ہے. یہ کارکرم ہائی وے پر سیاحوں کے لئے ایک اہم سٹاپ ہے جس میں چین کی طرف جاتا ہے. یہ شمالی علاقوں اور مقامات جیسے کاغان وادی، ناران، شوگراں، جھیل سیف الملوک اور بابوسر اوپر کے لئے ایک اہم ٹرانزٹ نقطہ بھی ہے. اس شہر میں سب سے بڑی تعداد میں تاریخی مقامات موجود ہیں. سرن اور دریاۓ کہنار ضلع کے معروف دریا ہیں. سرن پنجول کے اور پکھلی کے مغربی کنارے کے ذریعے بہتی ہے. دو نہریں سرن دریا، شریریاری میں داراللہ اور کم سرن واال میں سرانڈر کے اوپر سے اوپر لے جایا گیا ہے.

    مانسہرہ ضلع میں تین خوبصورت جھیل ہیں. یہ کاغان وادی میں پہاڑی کی حد کے برف پہاڑوں کی چوٹیوں سے گھیرۓ ہوۓ ہیں. ان جھیلوں کے نام لولیسر، آنسوجھیل اور جھیل سیف الملوک ہیں. بابرس کی چوٹی کے قریب سابق دو جھوٹے ہیں جبکہ ناران کے قریب ایک مؤرخ ایک بہت اچھا ہے، جب اس کا پورا چاند ہے اور آپ ضلع کے سب سے شاندار علاقے میں ہیں. مانسہرہ، شوگراں-ناران اور ناران میں جب آپ جھیل سیف الاسلام پر واقع ہوں گے. یہ ایک شاندار منظر ہے، چاند کی روشنی جھیل پر گر جاتی ہے اور ارد گرد کے پہاڑوں پر خوبصورت کرن کی عکاسی کرتا ہے۔
    مانسہرہ میں سب سے بڑی تاریخ ہے.
    اس کے جغرافیائی حدود گزشتہ مہینے میں مختلف راجس، مہاراجہ اور کنگز کے دور میں مسلسل تبدیل ہوگئے ہیں. شمالی فتح حاصل کرنے کے بعد الیگزینڈر نے عظیم. انڈیا اس کے بڑے حصے پر اپنا حکمران قائم کیا.
    مختلف مورخین کا خیال ہے کہ سال 327 بی سی میں الیگزینڈر نے اس علاقے کو ابسراس کو پونچ ریاست کے راجا کے حوالے کردیا. موری خاندان کے دوران مینہرا ٹیکسیلا کا حصہ رہے. دوسری صدی میں ایک صوفیانہ ہندو بادشاہ راجہ رسوالو، سیالکوٹ کے راجا سالبھن کے بیٹے، اس علاقے کو اپنے راستے میں لے آئے مقامی لوگ اس کے ہیرو اور آج بھی والدین کے طور پر غور کرتے ہیں، اپنے بچے کو موسم سرما کی راتوں میں راجہ رسوالو اور ان کی بیوی رانی کونکلان کی کہانیاں بیان کرتے ہیں. یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ترکی شاہی اور ہندسی شاہی خاندانوں نے ایک بار پھر پاکھلی پر حکمرانی کی.
    ایک بار پھر 11 ویں صدی میں ہندو شاہی خاندان کے خاتمے کے بعد کشمیریوں نے اس علاقے پر کلشن (1063 سے 1089 ع) کی قیادت میں قبضہ کر لیا. 12 ویں صدی کے آخری سہ ماہی میں اسسٹنٹ خان، محمد غوری کا ایک جنرل، اس علاقے پر قبضہ کر لیا لیکن جلد ہی محمد غوری کی موت کے بعد کشمیر ایک بار پھر اسے قبضہ کر لیا. 1472 ء میں ڈاکٹر شہزادہ شاہد الدین کابل سے آئے اور یہاں اس کا اقتدار قائم کیا. انہوں نے ریاستی طور پر پاکی سارکر کی بنیاد رکھی اور گاؤں گلبغ کو اپنی دارالحکومت کا انتخاب کیا. 18 ویں صدی کے پہلے سہ ماہی میں، ترکوں کے لئے بدقسمتی ہوئی کیونکہ ان کی حکمرانی ان کی وحدت کے قیام اور پختونوں اور ان کے اتحادی قوتوں کی بڑھتی جارہی ہے. سب سے زیادہ اہم حملہ 1703 ء میں سید جلال بابا کے حکم میں سوات کا تھا، انہوں نے ترکوں کو نکال دیا اور اس علاقے پر قبضہ کر لیا. 1849 میں. ڈی. اس علاقے میں برتانیہ کے براہ راست کنٹرول کے تحت آیا. 1901 ء میں جب NWFP صوبے قائم کیا گیا تو، ہزارہ پنجاب سے الگ ہوگئے اور سرحد سرحد کا حصہ بنا.
    مانسہرہ کی مشہور سوغات میں کھوہ چپلی کباب اور پکوان مشہور ہیں۔
    آج مانسہرہ خوبصورت خوبصورتی کی ایک جگہ ہے. موسم سرما میں زیادہ موسم سرما میں سرد ہے اور موسم گرما میں خوشی سے گرم ہے. کاغان وادی جیسے شمالی حصے موسم گرما میں سرد ہے اور موسم سرما میں انتہائی سردی ہے اور اس کی بھاری برف گرنے کا امکان ہے. ضلع دو مختلف موسم ہے؛ موسم گرما کا موسم جو اپریل سے ستمبر تک ہوتا ہے اور موسم سرما کا موسم ہے جو اکتوبر سے مارچ تک ہے. جون کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ اور کم از کم درجہ حرارت کا اندازہ تقریبا 35 ° C اور 21 ° C ہے.
    آگ لگادو آگ۔۔۔۔
    تحریر:(یاسرشہزادتنولی)

    بجلی کے بلوں کو آگ لگادو جلدی جلدی میں بھی آگ لگارہا ہوں یہ دیکھو۔کوئی ٹیکس نہ دے بلکل نہ دے۔ ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم متحد ہیں۔آج سے 2 سال پہلے ایک شخص کی طرف سے عوام سے محبت کااظہار کچھ اسطرح سے کیا گیا تھا کہ بجلی اگر سستی نہ ہوئی تو پاکستانی قوم اپنے بل نہیں بھرے گی، اور نہ ہی ٹیکس ادا کرےگی۔ لوگ حق حلال کا پیسہ کمارہے ہیں۔کیوں یہ سب برداشت کریں؟ بل جلوادیے گئے اور آج وہی لوگ عواپ کو تلقین کررہے ہیں کہ اگر آپ لوگ ٹیکس ادا کرینگے تو اپنے ملک کےلیے، اور فائدہ سوچیں تو اپنے ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں گے۔ تب ملک کی ترقی کہاں تھی جب صرف ایک دشمنی اور بغض کی وجہ سے اس عظیم ملک کو نقصان پہنچانے کی باتیں کی جارہی تھیں جس وطن کو اتنی تکلیفوں اتنی مصیبتوں اور جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیااور جہاں ہمارے بزرگوں کی قربانیاں، افواج پاکستان کا خون اس وطن کی مٹی میں شامل ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک نعرہ کسی بھی ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔اگر وہ نعرہ مثبت ہو تو ترقی کی راہیں کھل جاتی ہیں اور اگر وہ نعرہ منفی ہو تو تنزلی اور پستی مقدر بنتی ہے۔ اگر عوام میں شعور بیدار ہوگا تو انقلاب آئے گا اور اس دور میں یہ انقلاب آنا بہت ضروری ہے۔ قوم کی تقدیر عوام کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور باشعور قوم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ مگر اس ملک میں عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے اتنا دبا دیا ہے کہ وہ گیس ، بجلی اور پانی کے بلوں میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ حکمران کوئی بھی ہو جب تک عوام باشعور نہیں ہوگی اور یہ فرسودہ زنگ لگا ہوا نظام نہیں بدلےگا تب تک کچھ صحیح نہیں ہوسکتا۔لہٰذا تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والوں کو چاہیے کہ یوـ ٹرن لینے کے بجائے عوام کے مسائل کو حل کریں نہ کہ انکے لئے مزید پریشانی کا سبب بنیں۔
    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • ‏ہمارا بلوچستان . تحریر :  سید غازی علی زیدی

    ‏ہمارا بلوچستان . تحریر : سید غازی علی زیدی

    جیو سٹریٹیجک مقام، پاکستان کا دوام، وسطی ایشیا کا در، دشمنوں کیلئے ڈر، معدنی وسائل سے مالامال، یہی خصائص جان کا وبال، پاکستان کی جان ہمارا بلوچستان

    سکندر اعظم سے نادرشاہ تک اورمنگولوں سے انگریزوں تک، بلوچستان کی تاریخ قدیم بھی ہے اورجنگجویانہ بھی ممتازتاریخ دان ہرزفیلڈ کے مطابق لفظ بلوچ کے معنی "بلند چیخ” کے ہیں۔ جبکہ کچھ تاریخی کتب میں بلوچ کے معنی "اعلیٰ طاقتور” بیان کئے گئے ہیں۔ تہذیب وثقافت ہو یاطرز بودوباش، لباس ہو یا اقدار، بلوچوں کی روایات سب سے منفرد اور مختلف ہیں۔

    رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، سب سے زیادہ پسماندگی کا شکار ہے۔ بلوچستان، اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے، ہمیشہ سے اپنے اور پرائے کی آنکھوں میں یکساں کھٹکتا، دنیا کے حساس ترین خطوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خطہ ارض وسط ایشیا کا دروازہ بھی ہے اور گرم پانیوں تک رسائی کا ذریعہ بھی۔ طویل ساحل اور بیش بہا قدرتی وسائل کی بنیادپر ایشیا سے لیکر یورپ تک ہرعالمی طاقت نے اس پر تسلط کے خواب دیکھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کبھی گریٹر بلوچستان تو کبھی آزاد بلوچستان کے نام پر عالمی طاقتیں اس کو اپنے زیر نگیں لانا چاہتی ہیں۔

    گوادر پورٹ ہو یا چائنا پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ؛ بلوچستان، جہاں ایک طرف غیر ملکی سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کی توجہ کا مرکز بن چکا وہیں پر امن و امان اور روشن مستقبل کو سبوتاژ کرنے کیلئےدہشتگرد اورعلیحدگی پسند قوتوں کی جارحیت کا بھی مسلسل نشانہ بنا رہاہے۔

    لیکن اب موجودہ حالات میں بلوچستان تاریخ کے اہم ترین موڑ پرکھڑا ہے۔ دشمنوں اپنے ناپاک عزائم سمیت پورے طور پرآشکارہوچکےہیں۔ کبھی کلبھوشن یادیو کی صورت میں ازلی دشمن کا مہرہ اپنی چالوں سے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی ناکام کوششیں کرتا تو کبھی بظاہر دوست بنے آستین کے سانپ فرقہ ورانہ فسادات کی آڑ میں امن و سکون کی دھجیاں بکھیر دیتے۔ لیکن شاید وہ اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ بلوچ سر کٹ تو سکتا مگر جھک نہیں سکتا۔

    فی الوقت بلوچستان دو مختلف ادوار سے ایک ساتھ گزر رہا ایک طرف جا بہ جا بکھرے، چشم انسانی سے پوشیدہ، جلوے بکھیرتے قدرتی نظارے: اسرار میں ڈوبی جھیلیں، رنگ رنگ کے پہاڑ، بیش قیمت پتھروجواہرات، رسیلے تازہ پھل، دل موہ لیتی آبشاریں، گنگناتے چشمے، جھھومتے جھرنے ہیں، جبکہ دوسری طرف پسماندگی، غربت، جہالت، بےروزگاری،احساس محرومی، ناکافی ترقیاتی سرمایہ کاری، قبیلوں و قومیتوں میں بٹے، نسلوں سے نوابوں اور سرداروں کی غلامی کرتے بلوچ عوام، اور اندرونی و بیرونی ریشہ دوانیوں کا شکار معصوم جوان۔ وسائل اور مسائل کے درمیان حائل گہری خلیج نے برسوں سے اس خطے کو شرپسندوں کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔
    بلاشبہ ماضی میں یہ صوبہ غیر مربوط منصوبہ بندی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بدحالی اور پسماندگی کا شکار رہا ہے۔ ماضی کی حکومتوں کے بلوچستان کیطرف معاندانہ رویے بھی بلوچ جوانوں میں بغاوت کی ایک بہت بڑی وجہ بنے ہیں حکومت اور عوام کا ٹکراؤ ہمیشہ غیر ضروری پیچیدگیوں کو جنم دیتا۔ نظریاتی سوچ کا چورن بیچتے قوم پرست سردار، غیر ملکی قوتوں کی پشت پناہی سے، چند نوجوانوں کو ورغلا کر اپنی ہی ریاست کیخلاف علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہیں۔

    اس حقیقت کو فراموش کئے کہ غدار کی نہ تو کوئی عزت ہوتی نا وقار۔ بھٹکے ہوئے بلوچ نوجوان نواب، میر، سردار کے گرد گھومتی سیاست کی بھول بھلیوں میں بھٹک کر رہ گئے ہیں۔ تاریخی دوراہے پر کھڑا پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ترقی کی دہلیز پر ہے۔ خوشحال بلوچستان کا صدیوں پرانا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کو ہے۔ لیکن یہ تعمیر و ترقی دشمنان وطن کو کیسے ہضم ہوسکتی؟ مشرقی بارڈر سے لیکر مغربی بارڈر تک، دشمن حسد و جلن کی آگ میں جل رہے اور ان کی پوری کوشش کہ اس آگ کی لپٹیں خاکم بدہن بلوچستان کو جلا کر راکھ کر دیں۔ لیکن انشاء اللہ العزیز وہ اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے کیونکہ دشمن کے راستے کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار وہ غیور بلوچ سردار و جوان ہیں جن کا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے جو مر تو سکتے مگر مادر وطن سے غداری کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ رہی بات باقی صوبوں کے عوام کی تو وہ بخوبی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ بلوچستان کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے۔ غیرت مند بلوچ نہ تو کبھی پاکستان کا دشمن ہو سکتا نہ کبھی دشمن کا آلہ کار بن سکتا۔

    بقول اقبال
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
    پاکستان زندہ باد

    @once_says

  • جنگلات ہمارا مستقبل . تحریر : محسن ریاض

    جنگلات ہمارا مستقبل . تحریر : محسن ریاض

    جنگلات اس وقت ہماری اہم ترین ضرورت بن چکا ہے کیونکہ موسم میں اتنی تیزی سے اور ڈرامائی انداز میں تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں کہ اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا اس کی ایک مثال بے موسمی اور اوسط سے زیادہ بارشوں کا ہونا ہے اس کی ایک تازہ مثال اس وقت چین میں موجود ہے جہاں گزشتہ دنوں اتنی شدید بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا کہ اس نے سیلاب کو صورتحال اختیار کر لی جس کی وجہ سے مالی نقصان کا تخمینہ لگانا تو اس وقت بہت مشکل ہے لیکن 33 کے قریب انسانی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے اس کے علاوہ اور بہت سارے جزائر جن کے ساحل پانی میں اضافے کی وجہ سے ڈوب رہے ہیں -درختوں کے کٹاؤ کے حوالے سے کوئی واضح قانون بھی نہیں جس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں درختوں کو لکڑی کے حصول کی غرض سے یا پھر ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کے چکر میں کاٹ دیا جاتا ہے جس کا نقصان پورے ملک کو بھگتنا پڑتا ہے گزشتہ دنوں ملتان میں ڈی ایچ ائے سوسائٹی کے نئے فیز کے لیے لاکھوں آم کے درختوں کا قتل عام کیا گیا اور آم کا درخت کئی عشروں کے بعد جا کر پروان چڑھتا ہے مگر کاٹنے میں چند گھنٹوں کا وقت درکار ہوتا ہے اسکے علاوہ ایسی زمینوں پر بھی سوسائٹیاں بنائی جا رہی ہیں جہاں پر کاشتکاری کی جاتی ہے مگر کسانوں کو مناسب دام نے ملنے پر دلبرداشتہ ہو کر مافیا کو زمینیں بیچنے پر مجبور ہیں -اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی ہونی چاہیے کہ ایسی زمین جہاں پر باغات ہیں یا پھر زراعت کے لیے استعمال ہو رہی ہے وہاں پر کسی صورت بھی سوسائٹی یا کنسٹرکشن کی اجازت نہیں ہونی چاہیے-

    اس کے علاوہ اس وقت ٹیکنالوجی اور ریسرچ میں بہت ترقی ہو چکی ہے میواکی کے ذریعے بہت کم وقت میں گھنے جنگل اگائے جا سکتے ہیں اس طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے آپ پہلے ایسے ردخت لگاتے ہیں جو انتہائی تیز رفتاری سے بڑھتے ہیں اس کے بعد دیگر اقسام کے درخت لگائے جاتے ہیں اس طرح چند سالوں میں گھنا جنگل تیار ہو جاتا ہے اس طریقے پر عمل کرتے ہوئے لاہور اور کراچی میں چند چھوٹے چھوٹے جنگل لگائے جا چکے ہیں موجودہ حکومت اس بارے میں کافی حد تک سنجیدہ ہے اس حوالے سے شجر کاری مہم کا آغاز بھی کیا گیا ہے زیتون کے جنگلات لگائے جا رہے ہیں اور پہلے سے موجود درختوں کو پیوند کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ زرمبالہ بھی کمایا جا سکے -اور اہم وجہ جس کی وجہ سے جنگلات میں کمی واقع ہو رہی ہے وہ ہے فاریسٹ آفیسرز کی عدم توجہ اور ملی بھگت جس کی وجہ سی جنگلات سے قیمتی لکڑی چوری کی جاتی ہے-اس حوالے سے حکومت کو چاہئیے کہ ریکارڈ ترتیب دیا جائے جس کی بنا پر چیکنگ کی جائے تاکہ اس کی روک تھام کی جا سکے-درختوں کے موسم پر ہونے والے اثرات کے حوالے سے آنکھوں دیکھا حال آپ کو بتاتا چلوں کہ جس وقت آپ شہر لاہور میں پھرتے پھراتے جامعہ پنجاب میں داخل ہوتے ہیں تو درجہ حرارت ہیں کافی حد تک کمی دیکھنےکو ملتی ہے یہ صرف اس وجہ سے کہ وہاں درختوں کی بہتات ہے اس وقت بحثیت قوم یہ ہماری زمہ داری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور دوسروں کو بھی اس طرف مائل کرئیں تاکہ ہم آنے والی نسلوں کو زندگی گزارنے کے لیے ایک بہتر ماحول فراہم کر سکیں-اس کے علاوہ گلیشئرز کے پگھلنے میں بھی گزشتہ کئی سالوں میں تیزی دیکنھے میں آئی ہے جس کی بنیادی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے سیلاب کے خطرات موجود رہتے ہیں اس لیے ہم سب کو اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیےاور گلشن کو سنوارنے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئیے۔

    mohsenwrites@

  • ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات . تحریر : عمران اے راجہ

    ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات . تحریر : عمران اے راجہ

    پارٹ ۱:
    پاکستان کے لیے سنہ 1992 دو لحاظ سے بہت یادگار ہے۔ ایک تو ہم نے کرکٹ ورلڈ کپ جیتا دوسرا ساؤتھ افریقہ دریافت کیا۔
    وجۂ دریافت بھی جونٹی رھوڈز کا انضمام الحق کو کیا گیا رن آؤٹ تھا ورنہ شاید ہم مزید کچھ عرصہ اس ملک سے بےخبر رہتے۔
    کم ہی لوگ جانتے ہوں گے نیلسن منڈیلا کو اقتدار کی منتقلی اور apartheid کے خاتمے سے پہلے ساؤتھ افریقہ بھی اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے پاسپورٹ پر بین لسٹ میں موجود تھا۔ وجہ تھی گوروں کا کالوں کے ساتھ نسلی امتیاز۔ جو خیر آج کے دور میں بالکل ایک دوسرے کے الٹ ہو چکا ہے۔

    ساؤتھ افریقہ میں ویسے تو بہت سے مقامات ٹورازم میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں مگر نمایاں مقام “Table Mountain” اور “Kruger National Park” کو حاصل ہے۔ ٹیبل ماؤنٹین کو تو دنیا کا آٹھواں عجوبہ تسلیم کروانے کی مہم بھی چلی تھی جو فی الوقت پائپ لائن میں ہے۔ “کروگر نیشنل پارک” کو ساؤتھ افریقہ میں وہی مقام حاصل ہے جو پاکستان میں “لاہور” کو۔ افریقہ آئے اور آپ نے کروگر پارک نہیں دیکھا تو سمجھیں کچھ نہیں دیکھا۔ “Big Five” کے لیے مشہور اس پارک میں آپ ناصرف قدرتی جنگل سے محظوظ ہو سکتے ہیں بلکہ سیزن میں “شیر” کی جھلک بھی دکھ سکتی ہے۔ کروگر کے سفر کو تبھی کامیاب تصور کیا جاتا ہے جب آپ Big Five میں سے کم سے کم تین دیکھ لیں اور ان میں شیر بھی شامل ہو تو پیسہ وصول۔
    کروگر کا رقبہ اتنا وسیع ہے کہ تین ممالک کے بارڈر کو چھُوتا ہے اور تمام تر سہولیات کے باوجود دو تین دن میں بھی پورا دیکھنا ناممکن ہے۔

    اس پارک کو جہاں بڑھتی ہوئی انسانی آبادی سے خطرات لاحق ہیں وہیں جانوروں کا غیرقانونی شکار کھیلنے والے “پوچرز” بھی ہاتھی اور گینڈا کی نسل کو تیزی سے ختم کر رہے ہیں۔ موزمبیق کی طرف بارڈر بہت دشوارگزار ہونے کی وجہ سے مکمل نگرانی مشکل ہے اور یہیں سے فائدہ اٹھا کر شکاری اپنا داؤ کھیلتے ہیں۔ اس کے باوجود SanParks جن کے لیے میں فوٹوگرافی بھی کرتا ہوں ڈرون اور ہیلی کاپٹرز کے علاوہ اب ڈاگ یونٹ بھی میدان میں لایا ہے۔ صرف 2012 میں 300 کے قریب پوچرز کو پکڑا گیا اور لگ بھگ تیس سے چالیس مختلف مقابلوں میں مارے گئے۔ یاد رہے ان مقابلوں میں حفاظتی اہلکار جنہیں “رینجرز” کہا جاتا ہے اکثر جنگلی جانوروں یا پھر پوچرز کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ حال ہی میں پوچرز کے ایک ہیلی کاپٹر پر فائرنگ سے نوجوان رینجر اہلکار ہلاک ہو گیا۔ اور ایسے بہت سے واقعات ہیں جن میں شکاری بھی جنگلی جانوروں کا شکار ہوئے اور موزمبیق سے آنے والا اٹھارہ شکاریوں کا دستہ شیروں کے ایک جھنڈ کے راستے میں آ گیا جن میں سے بمشکل تین بچ کر واپس جا پائے۔

    کروگر پارک میں کیمپنگ کے لیے محفوظ مقامات بھی بنائے گئے ہیں اور مختلف جگہوں پر نائٹ سفاری کے علاوہ ریسٹ ہاؤسز بھی ہیں مگر ان کے لیے آپ کو ایڈوانس بکنگ کروانی پڑتی ہے۔ کچھ مقامات تو اتنے مہنگے ہیں کہ شاید دونوں گردے بیچ کر بھی کچھ بقایا دینا رھ جائیگا۔
    (جاری ہے)

    @ImranARaja1

  • گلگت بلتستان کی جنت نظیر وادیاں  تحریر : محمد جاوید

    گلگت بلتستان کی جنت نظیر وادیاں تحریر : محمد جاوید

    :
    گلگت بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع ایک ایسی جگہ ہے، جو قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ اس علاقے کو سیاحوں کی جنت بھی کہا جاتا ہے۔ اس مقام کی خاص بات یہاں کے دلکش و دلفریب مناظر عمر بھر کے لئے سیاحوں کے ذہنوں میں انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔
    پاکستان کے شمال میں واقع کوہ قراقرم،ہندوکش اورہمالیہ دیگر پہاڑی سلسلوں کے دلکش قدرتی حصار میں موجود خوب صورت اوردلکش وادیوں پرمشتمل علاقہ گلگت بلتستان کہلاتاہےجسے پہلے شمالی علاقہ جات کے نام سے جاناجاتاتھا ۔ گلگت بلتستان بنیادی طور پر دو بڑے  حصوں پر مشتمل ہے۔ایک حصہ” بلتستان “کہلاتا ہے جبکہ دوسرا” گلگت” کے نام سے جانا جاتا ہے۔
    گلگت بلتستان میں دنیا کی تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، کوہ ہمالیہ اور کوہ ہندوکش بھی یہاں آن ملتے ہیں۔دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے ٹو اور قاتل پہاڑ کے نام سے جانے جانے والا نانگا پربت بھی گلگت بلتستان میں موجود ہیں۔ گلگت بلتستان کے کل 14 اضلاع ہیں۔ سیاحتی مقامات کی اگر ہم بات کریں تو یہاں درجنوں ایسی جگہیں موجود ہیں جو اپنی خوبصورتی کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ سالانہ لاکھوں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح ان مقامات کی سیر و سیاحت کیلئے آتے ہیں۔ یہاں کے مشہور سیاحتی مقامات میں فیری میڈوس، دیوسائی، راما، خنجراب، بابوسر ٹاپ، عطا آباد جھیل، شنگریلا، خلتی جھیل، پھنڈر شندور، ہنزہ بلتت اور التت فورٹ، سکردو میں شگر فورٹ اور گانچھے فورٹ، خپلو میں ہزار سال قدیم مسجد چقچن اور نلتر وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام سیاحتی مقامات ایک سے بڑھ کرایک ہیں۔ موسم گرما کے شروع ہوتے ہی پاکستان کے مختلف شہروں سے اور دنیا کے مختلف ممالک سے سیاح ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔
    اگر آپ ایک پلان کے تحت اپنا پروگرام مرتب کرتے ہیں تو کم بجٹ اور کم وقت میں پورا گلگت بلتستان کو دیکھ سکتے ہیں
    اسلام آباد سے بائی ایئر سکردو جانے کی صورت میں آپ کو یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ سکردو میں تفصیلی وزٹ کے بعد، آپ دیوسائی روٹ سے گلگت ڈویژن کے بھی تمام خوبصورت مقامات پر جا سکتے ہیں۔
    سکردو میں لینڈ کرنے کے بعد 4 سے 5 دن سکردو(شگر، کھرمنک،گانچھے) کے تمام حسین ٹورسٹ سپوٹ دیکھنے کے بعد دیوسائی(Roof of the world) روٹ سے استور چلا جائے۔استور میں یکدم ہونے کے بعد آپ گلگت ڈویژن کے کسی بھی خوبصورت مقامات کا رخ کرسکتے ،جیسے ہنزہ ،نلتر، نگر وغیرہ۔اور اس کے بعد آپ گلگت  بلتستان کی جنت نظیر وادی غذر کو اپنا منزل بنائیں
    گلگت بلتستان کاضلع غذر صوبے کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ خوبصورت آبشاریں فلک بوس پہاڑ اور یہاں کی جھیلیں سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتی ہیں اور غذر یہاں پر پانے جانے والے مختلف اقسام کے پھلوں کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے یہاں پر پائی جانے والی درجنوں اقسام کی چیری اس علاقے کی پہچان ہے۔ جبکہ باغبان حضرات کے باغات میں مختلف نسل کے خوبانی کے درخت ہیں اور یہ خوبانی ذائقے کے لحاظ سے ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ اس علاقے کو دیکھنے کے لئے سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح یہاں کی خوبصورت وادیوں میں خیمہ زن ہوتے ہیں اگر آپ گلگت بلتستان آگئیے اور غذر کی خوبصورت ترین وادی پھنڈر زمین میں جنت کا ایک ٹکڑا ہے اور اگر اسکو نہیں دیکھا تو آپ نے کچھ نہیں دیکھا زیر نظر تصویر بھی وادی پھنڈر کی ہے یہاں آنے والے سیاح اس خوبصورت وادی میں کئی کئی روز قیام کرتے ہیں۔ پھنڈر سے ہوتے ہوۓ آپ براستہ شندور چترال اور پھر پشاور سے ہوتے اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں

    @I_MJawed

  • قلعہ دراوڑ اور محکمہ سیاحت کی عدم دلچسپی . تحریر : جام محمد ماجد

    قلعہ دراوڑ اور محکمہ سیاحت کی عدم دلچسپی . تحریر : جام محمد ماجد

    قلعہ دراوڑ بہاول پور سے 48 کلو میٹر دور پاکستان کے قدیم اور بڑے قلعوں میں سے ایک ہے۔ اس قلعہ کی بدقسمتی کہیں کے جب بھی آثار قدیمہ اور لوک ورثہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو موھنجودوڑواور ھڑپہ کی تعمیرات کے علاوہ لوگوں کے ذہن میں قلع روہتاس کی بات ہوتی لیکن بھولے بسرے ہی کسی کو قلعہ دراوڑ کی یاد آتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کے محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ والوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے سابقہ ریاست بہاول پور کا عظیم الشان قلعہ جو کے سرائیکی علاقوں کی پہچان ہے رفتہ رفتہ بد حالی کا شکار ہو کے لوگوں کی یادوں سے محو ہوتا جا رہا ہے۔

    جب کہ قلعہ دراوڑ ایک بہت ہی اہمیت کا حامل سیاحتی مقام ہے جسے حکومت پنجاب اور اس کے متعلقہ محکموں کی دلچسپی سے بہت ہی اعلی سیاحتی مقام بنا کے بہاول پور جنوبی پنجاب اور پاکستان کی خوبصورتی کو دنیا میں دیکھا کے قیمتی زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔
    بہاول پور کے نوابوں اور ان کے خاندان کی قبریں اس قلعہ میں واقع ہیں اور ایک عرصے تک بہاول پور کا نواب خاندان اس قلعہ میں رہائش پذیر رہا۔

    قلعہ دراوڑ جس لاپرواہی اور عدم دلچسپی کا شکار ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کے اس قلعہ میں سیاحوں کے لئے نہ تو کوئی پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی قلعہ کی خبر گیری رکھنے والا ہے نہ ہی کوئی محافظ۔
    نواب مبارک خان اور نواب صادق کے دور تک قلعہ کی صفائی اور دیکھ بھال ہوتی رہی لیکن ان کے بعد آنے والوں نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور یہ عالیشان اور عظیم قلعہ لاپرواہی کا شکار ہو کر اپنی اہمیت کھو دیا۔
    اگر ماضی کے اس شاندار اور تاریخی قلعہ کے تحفظ اور مرمت کے لئے اقدامات نہ اٹھائے گئے جلد ہی یہ عظیم قلعہ کھنڈر میں تبدیل ہو جائے گا۔

    اب جب کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور پنجاب حکومت بہت سے تاریخی مقامات کی بحالی میں دلچسپی لے رہی ہے تو جنوبی پنجاب اور سرائیکی وسیب کے لوگ حکومت پاکستان اور پنجاب حکومت سے یہ امید کرتے ہیں کے اس عظیم اور تاریخی قلعہ دراوڑ کی بحالی اور خوبصورتی کے لئے ہر ممکن ضروری اقدامات اٹھائیں تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو ریاست بہاول پور کی پاکستان کے لئے خدمات اور قلعہ دراوڑ کی تاریخ کا علم ہو۔

    پاکستان ہمیشہ پائندہ باد.
    کالم نگار سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں.

    @Majidjampti

  • ہماری ڈرامہ انڈسٹری کا دن بہ دن گرتا معیار.تحریر: امان الرحمٰن

    کہتے ہیں کہ کسی بھی قوم کواگر زوال پزیر کرنا ہوسب سے پہلے اُس کی تہذیب اُس کا کلچر اُس قوم سے چھین لو پھر وہ قوم کبھی بھی ترقی نہیں کر پائے گی، مگر ہمارا معاملہ ذرا کچھ اور ہی ہے یہاں ہم صرف ایک قوم نہیں ہم ایک اسلامی نظریہ پر وجود میں آنے والے اسلامی ریاست میں رہنے والے مسلمان ہیں اور ہمارا رہن سہن اور کلچر اسلامی اصولوں پر قائم ہے ۔۔۔۔ میرا مطلب تھا ،معزرت میں نے یہاں تھا کا لفظ استعمال کر لیا کیونکہ مجھے لگتا ہے کے ہم اپنے اصل سے ہٹ گئے ہیں کیوں کے ہم ناچاہتے ہُوئے بھی اپنی اصل روایات اور اپنی تہذیب خُود ہی چھوڑتے چلے جا رہے ہیں وہ بھی غیر ارادی طور پر ، اِس جدید دور میں جنگیں اب جنگ کے میدان میں نہیں لڑی جاتیں ۔۔۔ اب آپ حیران ہوں گے کہ اِس تحریر کا عنوان تو ڈرامہ انڈسٹری تھا ، خیر یہ بات ہم کسی صُورت اور کبھی بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں گے کے ہم یہ کیسی جنگ میں ہیں ہر دوسرے تیسرے دن بات گُھوم پھر کر یہی کی جاتی ہے کے ہم حالتِ جنگ میں ہیں کیوں کے ہم ذہنی طور پر مفلوج ہو گئے ہیں ہمیں عام زندگی میں طرح طرح کہ معاملات میں اُلجھایا گیا ہے دُشمن تب ہی جان گیا تھا جب یہ دنیا کا واحد ملک جو نظریئے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اُس وقت اِس زندہ قوم نے کیسی کیسی قُربانیاں دیں تھیں اور یہ قوم کیا کر سکتی ہے تو لہٰذا مان لیں کے 1948 کی جنگ جب اِس ملک کو بنے ابھی ایک سال بھی نہ ہوا تھا تو کیسے ایک ایسی ریاست کوتسلیم کرلیا جاتا جو اسلامی نظریئے کے ساتھ بنی اور تب اِس قوم کو تقسیم کرنے کا عمل شُروع ہو گیا تھا پھر ٹی وی عام کیا گیا ساتھ ساتھ اِس قوم کو دنیا کی تفریحات کی دوڑ میں لگا دیا، پھر ڈرامہ آگیا جب یہی پاکستانی قوم بمشکل عشاء کی نماز پڑھا کرتی تھی کہ نیند کا غلبا ہوتا تھاوہ 6بجے اور پھر 7 بجے والا ڈرامہ 8 بجے دیکھے بنا سوتی نہیں تھی اُس کے بعد خبر نامہ بھی دیکھنا ضروری تھا اور دنیا ،کی پاکستانی حالات سے بھی بے خبر نہیں رہا جاتا تھا ہم سے پھر ہماری نیند ہم سے آہستہ آہستہ رُوٹھتی چلی گئی ۔۔۔۔ ارے ہاں پھر ہفتے میں ایک اُردو فیچر فلم دیکھنے کو بھی ہمیں ٹی وی پر ہی سہُولت دی گئی اور ہم بہت خُوش ہوے کے ارے واہ ۔۔۔۔کمال ہو گیا اب تو سینما بھی جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وہ قوم جو جب گھر کے مرد جب ٹی وی پر کچھ دیکھتے تو عورتیں ساتھ نہیں بیٹھا کرتی تھیں یا پروگرام کی مناسبت سے شریک ہوا کرتی تھیں پھر پروگرام کا طریقہ بدلنے لگا ہنسی مزاق سے بات چھیڑ چھاڑ تک پہنچی پھر ایک آدھا گانا ساتھ دل میں دھک دھک کرنے لگا پھر شیطان نے بھی دل میں آنے جانے کی وجہ بنا لی اور پھریہ جھجک بھی رفع دفع ہو گئی اور بے حیائی کا یہ چھُپا وار پہلے مزے دینے لگا اور بعد میں جان کا عذاب بن گیا اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں ۔۔۔!!’

    نوٹ: اب آجائیں ہم پر تہذیبی یلغار کی شُروعات کیسے ہوئیں اور ہمیں معلوم ہونے کے باوجود ہم وہی کرتے بھی رہے جو ہمیں نہیں کرنا تھا کیوں کے یہ زہر تھا اور دُشمن یہ زہر ہمارے حلق میں آہستہ آہستہ اُتارتا جا رہا تھا ۔۔۔
    اچھا جی۔۔۔ پھر یہ کھیل تو چل ہی رہا ہوتا ہے ساتھ ساتھ سیاسی محاذگرم ہوتا ہے اور ریڈیو اور ٹی وی پر اِنہی سیاسی قومی لسانی خبروں کا تڑکا بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے دُوسری طرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کی نیوزکاسٹر سر پر دوپٹہ لئے خبریں دیا کرتی تھی اُس کا دوپٹہ سرکنا شُروع ہُوا ساتھ اِس ریاست جس کی قومی زبان "اُردو” تھی یہاں انگلش چینل بھی آگیا چلیں اچھی بات ہے عالمی دنیا میں ہم اپنا پیغام اچھی طرح پہنچائیں گے۔۔۔ جی چلیں ٹھیک ہے ۔پھر پرائیویٹ چینلز آئے اور مُقابلہ شُروع ہو گیا کے ہماری نیوز کاسٹر زیادہ ماڈرن ہے اُس نے دوپٹہ سر کے ماتھے تک آتا دوپٹہ سر کی بیک سائڈ پر پِن سے اٹکانا شُروع کیا تو دُوسرے پرائیویٹ چینل نے دوپٹہ سر سے اُتار کر گلے کا پٹہ بنادیا ۔۔۔ میرا مطلب گردن میں دوپٹہ ڈال لیا ۔۔۔ٹھیک ہو گیا اب آجائیں ایڈوانس ڈرامہ کی طرف جو کیبل نیٹ ورک کہ ذریئے سے دھڑا دھڑ ٹی وی چینلز کے لائسنس حاصل کرتے گئے اور انٹرٹینمنٹ کا نعرہ لگاتے کُود پڑے اِس قوم کو ماڈرن قوم بنانے کے لئے اور قوم بیچاری کیا کرتی اُسے نہ اسکولوں میں اپنی بنیاد بتائی گئی نہ ہی کلچر بتایا نہ ٹھیک سے دین سکھایا وہ حربے بھی ساتھ ساتھ چل رہے تھے مگر وہ ہمارے مختلف اِداروں کے ذمہ تھے اور اُن اُن اِداروں کے ساتھ بھی تو یہی الیکٹرونک میڈیا جُوڑا تھا ناں۔۔۔۔ سمجھیں بات کو کہ جس جس اِدارے کا افسر اپنی ڈیوٹی کر کے جب گھر آتا اور دن بھر کی تھکن مٹانے اپنی دن بھر کی توں توں میں میں کو ریلیکس کرنے کے لئے تفریح اُسے بھی تو چاہئے تھی ناں۔۔۔ وہ بیچارہ بھی تو یہ زہر پیتا ناں تو کیا کرتا کم بخت عادت جو پڑ گئی تھی ۔۔۔۔ وہی بچپن میں عشاء کے وقت سوتا تھا پھر جاگنے لگا اپنا آرام چھوڑا تھا تو طبیعت تو اِس افسر کی بھی بدلنا تھی ناں۔۔۔ زہر جو اندر باہر سے اثر کر رہا تھا ۔۔۔

    اچھا تو کہاں تھے ہم۔۔۔ جی ہم تھے پرائیویٹ چینلز کے لائسنس ، تو جی اب ساتھ آگیا نیا مقابلہ اور مقابلہ اپنوں کے ساتھ ساتھ پڑوسیوں سے بھی کیا جانے لگا اور پھر جب مقابلہ ہو ساتھ پیسہ ہو ساتھ ایکسٹرا فنڈنگ ہو تو کس سرمایہ دار کی "رال” نہ ٹپکتی بھئی۔۔۔ پھر تو جو ہُوا اللہ کی پناہ کے ڈرامہ ایسا کے اِس قوم کو نہ اپنے مذہب کا ہوش رہا نہ تہذیب کا اور نہ ہی کلچر کا ہر کوئی کسی نہ کسی ڈرامے کا کردار خُود کو سمجھنے لگا کیوں کہ وہ بھی اپنی زندگی میں ایسا ہوتا دیکھتا تھا کیونکہ ہر کسی کو "اُسی” ہلکے زہر نے اپنے پورے کنٹرول میں لینا جاری رکھا ہُوا تھا اور ہر کوئی اپنی تلاش میں ڈرامے دیکھ رہا تھا پھر ڈرامہ فلم کو پیچھے چھوڑ گیا اور وہی ہمارا پڑوسی جس سے ہم مقابلہ کرنے چلے تھے وہ ہم سے شرمانے لگا اور وہ ڈرامہ چھوڑ کر اپنی فلم کی طرف ہی چل دیا مگر ہم کہاں رکنے والے تھے ہم نے این جی اوز اور دنیا کے ایسے اُن اداروں کا سہارا لیا جو سپورٹر تھے اور جو وہی "زہر” یہاں سپلائی کرنے والے تھے وہ ایک بار پھر سے سپلائیر اور ہمدرد ایک ساتھ بن گئے اور ہم اپنا نظریہ کھو بیٹھے ۔۔۔۔ مگر ابھی بھی کچھ لوگ ہیں کچھ اِدارے ہیں کچھ افسران ہیں جو اپنے اُن لوگوں کو نہیں بھولتے جو اِس ریاست کی بنیادوں میں اپنا لہو ڈال کر مضبوط بنا گئے ہیں کے لاکھ دشمنوں کی کوشش کے اِس ملک کی بنیادیں کوئی نہیں ہلا سکتا کیوں کے یہ ملک "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ” کے نعرے سے وجود میں آیا ہے اِس ملک پاکستان کو ہم نے اُنہی شہداء کی نسلوں نے سنبھالنا ہے مگر کیسے کیا ہم اپنی شناخت بھول کر گنوا کر کبھی منزل کو حاصل کر پائیں گے۔۔؟ ہرگزنہیں، دیکھیں چائینہ کو جو ہمارے بعد آزاد ہُوا اُس قوم نے اپنی روایات اپنی زبان اپنا کلچر نہیں چھوڑا اور آج وہ دنیا کا سُپر پاور بن گیا ہے صرف علان کرنا باقی ہے اور وجہ ہے اُس کی اپنی اصل بنیاد چینی قوم اپنی اوقات نہیں بُھولی اور ترقی کی منزلیں عبورکرتی چلی جا رہی ہے۔
    دیکھیں جاپان کو جو ایک خوفناک جنگ کے بعد دو ایٹم بم کھانے کے بعد بھی ایک قوم بن کر اپنے پیروں پر کھڑا ہے ، کیوں۔۔؟ کیونکہ جاپانی بچے ایک بار دیکھے گئے کارٹون دوبارہ لگ جائیں تو اُس چینل پر کیس کر دیتے ہیں اور ہمارے یہاں 8 بجے والا ڈرامہ رات 2 بجے نشرِمقرر لگتا ہے پھر وہی ڈرامہ اگلے دن دوپہر کو لگتا ہے ارے کتنا فضول وقت ہے ہماری اِس قوم کے پاس ۔۔۔؟ کچھ اندازہ بھی ہے ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔؟
    آخر میں ایک بات کہانا چاہتا ہوں اگر آج پاکستانی قوم اپنانظریہ زندہ کردیں جو 1947 میں تھا جس کی بناء پر یہ ریاست اِس زمین پر وجود میں آئی یقین کیجئے اللہ ہماری رہنمائی فرمائے گا ہمارے ہر معاملے کا حل نکل آئے گا اِن شاء اللہ۔
    پاکستان زندہ باد
    @A2Khiza

  • اسلامی جمہوریہ پاکستان . تحریر: فہیم حسین

    اسلامی جمہوریہ پاکستان . تحریر: فہیم حسین

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں مختلف عقیدے کے لوگ نہایت احترام اور محبت کے ساتھ رہتے ہیں
    وطن عزیز پاکستان سے محبت ہمیں وراثت میں ملی ہے وطن سے محبت ہر ایک پاکستانی پر فرض ہے اس مٹی پر ہر پاکستانی مر مٹنے کو تیار رہتا ہے اور اس فرض کو پورا کرنے کے لیے ہمارے فوجی جوان سب سے آگے ہیں جو کہ اپنی جان کی پروا کئے بغیر دن رات ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں ہمیں اپنے فوجی جوانوں کی قدر کرنی چاہیے پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو سر سبز و شاداب ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے اونچے اونچے پہاڑ اور خوبصورت چشمہ جات پر بنا ہے موسم کے لحاظ سے اگر بات کی جائے تو پاکستان کو اللہ نے چار موسموں سے نوازا ہے.

    موسم گرما، موسم سرما،موسم بہار اور موسم خزاں.
    گرمی کی بات اگر کی جائے تو کئی شہریوں میں ایسا موقع بھی آیا ہے کہ جہاں درجہ حرارت 53 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے مگر پاکستان ایسا ملک ہے جہاں کبھی پورے ملک میں یکساں درجہ حرارت نھی رہا ملک کا جنوبی حصہ جو خشک اور ریگستانی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں درجہ حرارت زیادہ رہتا ہے جبکہ دوسری جانب شمالی علاقہ جات میں درجہ حرارت کم ہوتی ہے شمالی علاقہ جات میں بارشیں اور کئی مقامات پر برف باری بھی ہوتی ہے پاکستان میں کئی وادیاں ایسی ہیں جہاں دنیا بھر سے سیاح پاکستان کے خوبصورتی کا لطف اٹھانے آتے ہیں ان میں وادی نیلم کی اگر بات کی جائے تو میرے زہن میں اس وادی کے خوبصورتی بیان کرنے کے لیے الفاظ کم ہیں وادی نیلم کا شمار ان خوبصورت ترین وادیوں میں ہوتا ہے جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس وادی کے خوبصورتی سے لطف اٹھانے آتے ہیں اس وادی میں سرسبز پہاڑ اور ٹھنڈے پانی کے خوبصورت چشمہ جات پائے جاتے ہیں.

    @faheempti0118