Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • ریڈ لائن — انجنئیر ظفراقبال وٹو

    ریڈ لائن — انجنئیر ظفراقبال وٹو

    ہم گھبیر ندی کے کنارے بیٹھے تھے اور اس پر مجوزہ ڈیم کی جھیل کے علاقے کو دیکھنا چاہتے تھے۔ ارشد فیاض صاحب چیف جیولوجسٹ نے سگریٹ کا کش لیا اور ایک گہرا سانس اندر لے کر بولے ۔۔۔۔دھیان سے جانا ۔ کئی سال پہلے ہم ایک ڈیم سائٹ کے دورے پر مجوزہ جھیل کے علاقے میں سروے کے لئے پہنچے تو گاوں والوں نے ہم پر کتے چھوڑ دئے تھے ۔ایک دوست بھاگ کر درخت پر چڑھ گیا اور دوسرے نے پانی میں چھلانگ لگا دی ۔ تیسرا جو گاڑی کے پاس تھا اس نے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کی اور بھگالے گیا۔وہ لوگ اپنی زمینوں کے مجوزہ جھیل میں ڈوبنے کا سن کر شدید برہم تھے۔۔

    پھر انہوں نےمونچھوں کو تاؤ دینے کے بعد بتایا کہ کچھ دن بعد اسی ڈیم پر جیسے ہی ہم سروے کے لئے ڈیم سے نیچے والے علاقے میں پہنچے جہاں مجوزہ ڈیم کا نہری نظام بننا تھا تو لوگوں نے ہماری خوب آؤ بھگت کی۔ چائے پانی کیا اور ہمیں کہا کہ آپ نے کھانا کھائے بغیر نہیں جانا اور وہ بھی دیسی مرغ کا سالن۔

    ہر ڈیم انجنئیر کی زندگی ایسے واقعات سے بھری ہوتی ہے۔ڈیم پراجیکٹ میں ڈیم وہ ریڈ لائن ہوتا ہے جس کے اوپر جھیل کا علاقہ ہمیشہ قربانی دیتا ہے اور ڈیم سے نیچے نہریں نکلنے والا علاقہ نفع لیتا ہے۔اسے آپ لائن آف کنٹرول بی کہہ سکتے ہیں جسے عبور کرنے پر آپ کو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

    کل سہ پہر ہم تین دوست کوتل کنڈ کے علاقے میں جب دو ڈھائی سوفٹ بلند تین چار چوٹیاں چڑھ کر ٹاپ پر پہنچے تو ہمیشہ کی طرح اپنے سامنے مجوزہ ڈیم، جھیل کا علاقہ اور اسپل وے کی لوکیشن کے لئے جائزہ لینے لگے۔ ٹاپ پر تین سو ساٹھ ڈگری کا نظارہ مل جاتا ہے۔

    ہم پسینے سے شرابور ہو چکے تھے اور پھلائی کے ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر ڈسکشن کرنے لگے۔ پتھروں کی ساخت پر باتیں ہونے لگیں۔ جھیل کی اسٹوریج کے اندازے لگانے لگے اور لوگوں کو پہنچنے والے ممکنہ فائدے پر باتیں ہونے لگیں جب کہ نیچے دریا میں ہماری گاڑیاں اور ٹیم کے دوسرے دوست نقطوں کی مانند نظر آرہے تھے۔ کچھ دوست دریا کے چلتے پانی میں گھس کر اس کی پیمائش اور دوسرے ٹیسٹ کر رہے تھے جب کہ چند اور بائیں طرف کی پہاڑیوں پر نکل گئے تھے جہاں اونچائی پر ہمارے سروئیر نے انسٹرمنٹ لگایا ہوا تھا-

    ہمیں چوٹی پر چڑھے آدھا گھنٹا ہی ہوا تھا کہ ہاتھ میں کلہاڑی لئے سلیم وہاں نمودار ہوگیا تھا ۔ وہ ایک مقامی چرواہا تھا جو آس پاس کہیں پھر رہا رھا تھااور شاید اس نے ہماری باتیں سن لی تھیں ( پہاڑوں میں دور تک آواز جاتی ہے)۔ وہ اپنی چراگاہوں کے ڈوبنے پر خوش نہیں تھا اور اس کا سوال پوچھنے کا انداز ایسا تھا کہ اگر ہم نے ذرہ برابربھی اس کے علاقے میں چھیڑ خانی کی تو وہ اسی کلہاڑی سے ہمارے ٹکڑے کرکے چوٹی سے نیچے پھینک دے گا۔

    اس گرم گرم بات چیت میں میں نے اس کی نفسیات سے کھیلنے کے لئے اس سے پوچھا کہ اگر ہم مجوزہ ڈیم کو دریا پر اس کی جگہ سے ہزار دو ہزار فٹ اوپر بنائیں تو کیسا رہے گا۔ عین توقع کے مطابق اس نے جواب دیا کہ اگر ڈیم اوپر بن جائے تو پھر اس علاقے کو بہت فائدہ ہوگا ۔پاکستان سپر پاور بن جائے گا۔۔۔ یعنی کہ میری چراگاہوں میں قدم نہ رکھو دوسروں کو رگڑ دو۔

    میں کہا کہ ہاتھ ملاو اور اب ہمیں اس چوٹی سے نیچے اترنے کا آسان راستہ بتاو تاکہ ہم نیچے اتر کر ندی میں کہیں اوپر جاکر ڈیم کی جگہ دیکھیں اور تمھاری چراگاہوں سے نکل جائیں۔اس نے نہ صرف ہمیں آسان راستہ بتایا بلکہ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ دیسی مرغی کے سالن سے ہماری تواضح بھی کرے۔

  • لاوہ بھائی کے دیس میں اپنے گُرو سے ملاقات — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    لاوہ بھائی کے دیس میں اپنے گُرو سے ملاقات — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انجنئیرنگ یونیورسٹی کے تھرڈ ائیر میں جب لیاقت ہال میں کمرہ ملا ہوا تو پتہ چلا کہ کوریڈور میں میرے سامنے والے کمرے میں لاوہ بھائی رہائش پذیر ہیں۔ وہ بہت مہمان نواز اور ہر دلعزیز شخصیت تھے اور اسلامی جمعیت طلبا کے سرگرم رکن۔ ان کے کمرے میں ساتھی طالب علموں کی ٹریفک سارا دن رات چلتی اور ساتھ ہی کینٹین سے چائے کی سپلائی جاری رہتی۔

    چند دنوں بعد جب تھوڑا تعارف ہوا تو ہم نے لاوہ بھائی سے ڈرتے ڈرتے ان کے سلگتے ہوئے نام کی وجہ تسمیہ پوچھی تو وہ زور دار قہقہہ لگا کر بولے کہ یہ میرے پنڈ کا نام ہے۔ یو ای ٹی میں ایڈمشن ہوا تو میں نے اپنے ہاسٹل کے کمرے کے دروازے پر عبدالرشید فرام لاوہ لکھ دیا۔ وہ دن اور آج کا دن ، اصل نام کی بجائے ہم مسٹر لاوہ اور پھر لاوہ بھائی مشہور ہو گئے۔ اصل نام کسی کو یاد بھی نہیں(مجھے بھی یاد نہیں)۔لاوہ اس زمانے میں جدید دنیا سے کٹے ایک ایسے گاوں کا بام تھا جس میں کوئی ڈائریکٹ ٹرانسپورٹ نہیں جاتی تھی۔

    لاوہ بھائی کی یاد اتنے عرصے بعد اب اس طرح آئی کہ جب ہم لاوہ ڈیم کی سائٹ دیکھنے 13 ستمبر 2022 کو واقعی واقعی لاوہ جا پہنچے جو کہ ترقی کرتے اب ضلع چکوال کی ایک تحصیل بن چکا ہے۔ یہ قصبہ مغرب میں میانوالی کے بارڈ پر“ ترپی ندی” کے کنارے واقع ہے جس پر گوروں نے موجودہ پاکستان کے علاقے کا شائد سب سے پرانا نمل ڈیم 1913 میں بنایا تھا جو کہ اب مٹی سے بھر چکا ہے۔ اس ڈیم سے میانوالی کے علاقے موسی خیل کی زمینیں سیراب ہوتی تھیں ۔تاہم لاوہ سے سے 20 کلومیٹر نیچے ہونے کی وجہ سے یہ قصبہ اس پانی سے فائدہ اٹھانے سے محروم تھا جو اس کے بغل سے ہوکر نمل جھیل کو جاکر بھرتا تھا۔

    لاوہ اب ایک لاکھ آبادی والا قصبہ بن چکا ہے جس کے لئے پینے کے پانی کا مسئلہ کافی دیر سے آرہا ہے کیونکہ زیرزمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے اور ترپی ندی بھی سارا سال نہیں چلتی جس سے قصبے کو پمپ کرکے پانی پہنچاتے ہیں۔ندی لاوہ قصبے سے کوئی کم ازکم پچاس فٹ نیچے بہتی ہے اور پی ایچ ای کا پمپ اسٹیشن اس کے کنارے ہے۔

    13 ستمبر کو ہم لمحکمہ آب پاشی کے آفیسر جاوید اقبال صاحب کے ہمراہ دندہ شاہ بلاول کے راستے اوہ پہنچے جہاں یہ میانوالی تلہ گنگ روڈ سے ہٹ کر جنوب میں 9کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔لاوہ بازار میں مسکراتے چہرے کے ساتھ جناب ظفر علی صاحب نے ہمارا استقبال کیا جو کہ مقامی تعلیمی ادارے کے پرنسپل رو چکے تھے اور کچھ فاصلے پر ہم جناب دوست محمد صاحب کو بھی لے کر آگے بڑھے۔ دوست محمد صاحب حال ہی میں محکمہ مال سے ریٹائر ہوئے ہیں اور لاوہ کی زمینداری سسٹم کو بہت سمجھتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ گھمبیر ڈیم کی چک بندی کراچکے ہیں۔

    لاوہ کی واٹر سپلائی ٹینکی سے آگے ہم ترپی ندی میں اتر گئے اور گاڑیاں ندی کے کیچڑ بھرے پتھریلے راستے پر آگے بڑھنے لگیں۔ ایک جگہ راستہ نہ ہونے پر دائیں کنارے کے جنگل میں گھس گئے جس کی گھنی جھاڑیاں اور مٹی اڑاتا راستہ مستنصر حسین تارڑ کے ناول بہاؤ کے “رکھوں” کی یاد تازہ کرنے لگا۔

    چند کلومیٹر آگے چلنے کے بعد ہم اس جگہ پہنچ گئے جہاں لاوہ ڈیم بنائے جانے کا امکان ہے۔ ٹیم سائٹ ہر نکل کر اپنے اپنے کام میں جت گئی ۔ پہاڑوں کی جیالوجی چیک ہونے لگی، کچھ انجنئیر دریائی پانی کی پیمائش میں لگ گئے، کسی نے تعمیراتی میٹئیرئل کی تلاش شروع کردی اور کچھ سوشیالوجسٹ ساتھ کی آبادیوں کے سروے پر نکل گئے۔

    میری آنکھیں اپنے گُرو کی تلاش میں چاروں طرف گھومنے لگیں جو مجھے ہر ایسی دوردراز سائٹ پر بہت کچھ سکھا جاتا ہے ۔ تھوڑیسی تلاش کے بعد وہ استاد مجھے بائیں طرف کی پہاڑی پر اپنی بکریوں اور بھیڑوں کے ساتھ نظر آگیا ۔ یہ چرواہے کسی بھی سائٹ پر ہمارے سب سے پہلے استاد ہوتے ہیں جوکہ علاقے میں لمبے عرصے سے اپنے جانوروں کے ساتھ گھومنے کی وجہ سے سے اس کے چپے چپے سے واقف ہوتے ہیں۔ یہ بیک وقت ہائیڈورولجسٹ، جیالوجسٹ، سوشیالوجسٹ اور تاریخ دان ہوتے ہیں۔

    میں بائیں طرف کی پہاڑی چڑھ کرر لال خان تک پہنچا اور اس کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگا۔ اس نے بتایا کہ اس کے پاس 20 بکریاں ، 15 بھیڑیں اور 3 عدد گائیں ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ بچہ تھا تو اس وقت بھی اس سائٹ کا سروے ہوا تھا۔ یہاں بورنگ بھی ہوئی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ ان مقامات کی نشاندہی کرسکتا ہے تو اس نے کہا کیوں نہیں۔ وہ سارا دن تو انہی ٹیموں کے ساتھ ساتھ ہوتا تھا۔

    لال خان نے مجھے اس علاقے کے لوگوں اور ان کے رسم و رواج ، کیچمنٹ میں موجود درختوں اور جڑی بوٹیوں کے بارے میں بتایا۔ اس نے مجھے وہاں کی وائلڈ لائف بارے بتایا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دریا میں کب کب کتنا کتنا پانی آیا۔ اس دوران اس کے ساتھ ہی پاس کے ڈیرے سے اس کا چچا دوست محمد بھی پہنچ چکا تھا ۔ اس عمر رسیدہ شخص سے ہم نے اس کی یاد میں یہاں آنے والے بڑے بڑے پانیوں کے متعلق پوچھا اور جب تک ہماری ٹیمیں کسم مکمل کرتیں ہم ظفر علی ، دوست محمد اور لال خان کے ہمراہ سائٹ کے کونے کھدرے چھانتے رہے۔ بحث چلتی رہی۔ظفر علی صاحب ایک بہت مستعد شخصیت کے مالک تھے جب کہ ان کے مقابلے میں دوست محمد صاحب ایک سنجیدہ شخص۔

    دوست محمد نے ہمیں بتایا کہ اس علاقے کی آبادی اعوان قبائل سے تعلق رکھتی ہے اور زیادہ تر لوگ ایک ہی دادے کی اولاد ہیں۔ لاوہ شہر وقت کے ساتھ ساتھ دریا کے کبھی ایک کنارے اور کبھی دوسرے کنارے بار بار آباد ہوتا رہا جس کی تاریخ میں کوئی خاص وجہ نہیں ملتی۔ نیزہ بازی یہاں کا مقبول کھیل ہے اور گھوڑے پالنا ایک شوق۔

    شام ڈھلے جب کام ختم ہوا تو ترپی ندی میں واپسی کا سفر شروع ہوا۔ ہمیں بتائے بغیر ہمارے دوستوں نے لاوہ میں ملک اسلم کے ڈیرے پر چائے کے نام پر ہائی ٹی کا بندوبست کیا ہوا تھا۔اس مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم رات گئے واپس کلر کہار میں اپنے کیمپ آفس پہنچے جہاں سے زمینی سروے ٹیم کو اگلے دن لاوہ ڈیم کے سروے پر روانہ کرنا تھا۔

  • پاک افغان کرکٹ میچ — نعمان سلطان

    پاک افغان کرکٹ میچ — نعمان سلطان

    پرسوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والا میچ ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے جیت لیااس میچ میں افغانستان نے ایک ہارے ہوئے میچ کو جس جذبے کے ساتھ کھیلا اور اسے آخر تک لے کر گئے وہ انتہائی قابلِ تعریف ہے۔

    جبکہ پاکستان نے ایک ون سائیڈڈ میچ کو جس طرح اپنے لئے مشکل بنایا کہ ایک وقت میں پاکستانی شائقین کرکٹ ذہنی طور پر ہارنے کے لئے تیار ہو گئے وہ پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور بیٹنگ کوچ کے لئے خاص طور پر لمحہ فکریہ ہے۔

    ویسے حیرانگی کی بات ہے ہمارے پاکستانی کھلاڑی جب غیر ملکی ٹیموں کی کوچنگ کرتے ہیں تو ان کی پرفارمنس میں واضح فرق نظر آتا ہے جیسے ماضی میں ثقلین مشتاق اور مشتاق احمد اس کی مثال ہیں اور ابھی عمر گل افغانستان کے باؤلنگ کوچ ہیں، اور ان کی کوچنگ کے نتائج اس میچ میں واضح نظر آئے۔

    پرسوں کے میچ میں افغان کھلاڑی کی ساتھ آصف کےساتھ تلخ کلامی اور دھکا دینا بلاشبہ کوئی اچھا واقعہ نہیں ہے لیکن پریشر میچوں میں اس طرح کے واقعات ہو جاتے ہیں اور میچ کے بعد کھلاڑی یا ٹیم کے سینئر ان واقعات کو رفع دفع بھی کرا دیتے ہیں۔

    لیکن حیرانگی کی بات افغان کرکٹ شائقین کی طرف سے ہارنے کے بعد اختیار کرنے والا رویہ تھا ویسے عرب تارکینِ وطن کی طرف سے امن و امان خراب کرنے کی کوششوں سے انتہائی سختی سے نبٹتے ہیں اور جن لوگوں نے کل اسٹیڈیم میں بدمعاشی کی وہ ان کو قانون کے شکنجے میں لائیں گے ۔

    کرکٹ کے میدان میں پاکستان بمقابلہ بھارت اور انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا ایسے مقابلے ہیں جن میں اپنی ٹیم کی فتح شائقین کرکٹ کے لئے ہر چیز سے زیادہ اہمیت رکھتی ہےلیکن ان جذبات کی وجہ ماضی کے واقعات ہی۔

    اس کے علاوہ دیگر ٹیموں کے مابین مقابلے شائقین کرکٹ کے لئے کھیل سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتے لیکن افغانستان کی کرکٹ ٹیم کا جو رویہ دوران میچ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہوتا ہے وہ دیگر ٹیموں کے ساتھ نہیں ہوتا جو کہ ایک معنی خیز بات ہے

    ہم افغانستان کو برادر اسلامی ملک کہتے ہیں اور افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کی بےبہا قربانیاں ہیں افغان مہاجرین کا بوجھ پاکستان نے اٹھایا ہوا ہے اس کے علاوہ افغانستان کی کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ اسٹیٹس دلوانے میں بھی پاکستان کا اہم کردار ہے۔

    ایسے عالم میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھیل کے مقابلے کو کھیل سے زیادہ جنگ بنانا کیا یہ افغان ٹیم اور شائقین کے اندرونی جذبات ہیں یا اس کے پیچھے آئی سی سی کی پالیسی ہے ۔

    کہ دونوں ٹیموں کے باہمی کرکٹ مقابلوں کو انتہائی جذباتی بنا کر زیادہ سے زیادہ کرکٹ شائقین کی توجہ حاصل کر کے آئی سی سی کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے۔

    یاد رہے کہ عرب ممالک میں پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی اور افغانستان کے تارکین وطن کی اکثریت رہائش پذیر ہے اور پاکستان اپنے ملکی حالات کی وجہ سے ہوم سیریز مجبوراً یو اے ای میں کراتا ہےاس سوال کا جواب آنے والے وقت میں ہی معلوم ہو گا.

  • ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی!!! — ریاض علی خٹک

    ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی!!! — ریاض علی خٹک

    سینما پر فلم دیکھنے کا دور تمام ہوا. ہمارے بچپن میں البتہ اسکا عروج تھا. پہلے شو کی ٹکٹ , کھڑکی پر شور, اور عوام کا رش دھکم پیل جیب کتروں کا خوف ایک عجیب منظر ہوتا. ایسا لگتا کہ اگر یہ شو مس ہوگیا تو اسی فلم کا اگلا شو پھر شائد یہ فلم نہیں رہے گی.

    اس شور اور دھکم پیل سے نکل کر لیکن اگر آپ ہال میں پہنچ جاتے تو وہاں پھر یہی شور مچاتی عوام نیم اندھیرے میں بلکل خاموش پردے کی طرف دیکھ رہی ہوتی. درمیان میں کبھی ہیرو کیلئے داد تو کبھی ولن کیلئے ناراضگی کی آوازیں البتہ ضرور اٹھ جاتی.

    ہم لوگ سینما ہال کے باہر کا وہی ہجوم ہیں. ہم میں سے کوئی صبر نہیں کرنا چاہتا. ہمیں لگتا ہے ہم نے پہلا شو مس کر دیا تو ہماری زندگی کی فلم اور کہانی شائد باسی ہو جائے گی.

    ہم اعتماد کھو چکے ہیں. خود پر بھی اور دوسروں پر بھی. پیچھے رے جانے کا ڈر ہمیں مجبور کرتا ہے دھکے دو بلیک میں ٹکٹ خرید لو سفارش کر لو منت سماجت جیسے بھی ممکن پہلے شو میں جگہ بنا لو.

    پہلا شو مس ہو جانے کے خوف نے ہمیں بے صبری بد اعتمادی دی ہے. ہم سے قطار نہیں بنائی جاتی. ہم سے انتظار نہیں ہوتا. سینما کا دور اب ختم ہوا. یہ نیٹ فلیکس ایمزون پرائم کا دور ہے.

    لیکن ہمارے خوف وہی پرانے ہیں. ہم سے آج بھی قطار نہیں بنائی جاتی. ہم سے آج بھی نہ صبر ہوتا ہے نہ اعتماد ہمارا مضبوط ہے. ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ شو مس کر دیا تو کہانی بدل جائے گی.

    ہم لیکن بھول جاتے ہیں ہم خود ہی اپنی کہانی کے قلمکار ہیں. ہم اپنا کردار لکھتے ہیں چاہے وہ ہیرو کا ہو یا ولن کا. خوف ہمارا کردار بدل دیتا ہے اور ہم بے بسی سے دیکھ رہے ہوتے ہیں.

    ہم سمجھتے ہیں چونکہ ہمیں ٹکٹ نہیں ملا تو ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی.

  • ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے” کی سوچ نے پاکستان کے موجودہ کھلاڑیوں میں لڑنے کا جذبہ پیدا کیا ہے۔۔۔بھارتیوں کی اصل پریشانی یہ ہے کہ وہ پاکستان ٹیم کدھر ہے جو بڑے ناموں کے باوجود گھبراہٹ سے آدھا میچ پہلے ہی ہاری ہوتی تھی۔۔۔۔

    اگر آپ صرف 2012 سے 2020 تک پاک بھارت بڑے مقابلوں کی بات کریں تو 98 فیصد میچز میں آدھا مقابلہ وہیں ہارا محسوس ہوتا تھا جب پاکستانی کپتان ٹاس کے لیے آتے تھے۔۔ہم ہار نہ جائیں کا خوف نظر آتا تھا۔۔۔۔

    ٹیم منیجمنٹ اور کپتان کو ٹیم میں لڑنے کا جذبہ لانے کا کریڈٹ جاتا ہے۔۔۔ میچ کے نتیجے سے زیادہ یہ اہم ہوتا ہے کہ ٹیم لڑے۔۔۔ ثقلین مشتاق, بابر, ٹیم کے سنیئر کھلاڑی رضوان,شاداب میچ سے پہلے اور میچ کے دوران پریشر اچھا ہینڈل کرتے ہیں اور ٹیم کا مورال بھی اٹھائے رکھتے ہیں۔۔۔

    ایشیا کپ کے پاک بھارت دونوں میچز میں اگر کپتانوں کی بات کریں تو روہت شرما کے مقابلے میں برابر اعظم نے جونیئر ہونے کے باوجود پریشر کو زیادہ بہتر ہینڈل کیا۔۔۔دوسرے میچ میں جب بھارتی بلے بازوں نے چڑھائی کی بابر پریشان نظر آئے لیکن خوف زدہ یا حواس باختہ نہیں ہوئے۔۔۔۔مس فیلڈنگ پر بھی مجموعی طور پر برداشت دیکھائی۔۔

    مشکل آنے پر پریشانی فطرتی ہے۔۔لیکن اس پریشانی کا سامنا کرنا اور نکلنا دلیری ہے۔۔۔بابر نے مڈل اوورز میں بالرز سے بخوبی کام لیا اور بالرز نے بھی کپتان کی بھرپور لاج رکھ کر بھارتی مڈل آرڈر کو چلتا کیا۔۔۔

    جب ٹیم ہارتی ہے تو تنقید کا مرکز زیادہ تر کپتان رہتا ہے اس لیے جیت پر کپتان کو درست فیصلوں کا کریڈٹ بھی کھل کر دینا چاہیے۔۔۔۔

    نواز کا بیٹنگ آرڈر پروموٹ کرنے پر بابر کی بہت تعریف ہوئی ہے۔۔۔بھارت کے خلاف گروپ میچ ہارنے کے باوجود پاکستانی سپوٹرز نے بابر اور ٹیم کو بیک کیا اور کھلاڑیوں نے بھی اس محبت کا جواب میچ جیت کر دیا۔۔اب جب بابراعظم ٹی ٹوئینٹی فارمیٹ میں وقتی خراب فارم سے دوچار ہیں پاکستانی سپوٹرز ان کے لیے دعاگو ہیں۔۔۔۔ہماری ڈیمانڈ اپنی ٹیم سے یہ ہی ہے کہ لڑو مقابلہ کرو نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔۔۔

  • پاک بھارت کرکٹ ٹاکرہ اور سوشل میڈیا — ضیغم قدیر

    پاک بھارت کرکٹ ٹاکرہ اور سوشل میڈیا — ضیغم قدیر

    سوشل میڈیا کمال کی جگہ ہے یہاں منٹوں میں کوئی ہیرو بن جاتا ہے تو منٹوں میں ولن، ایسے میں جذباتی تبصرے کافی مزے کے ملتے ہیں۔

    ایک بھائی صاحب کہتے ہیں رضوان اگر کھڑا رہتا تو پاکستان میچ ہار جاتا، مگر میں کہتا ہوں اگر رضوان بیٹھ جاتا تو بھی پاکستان ہار جاتا کیونکہ اسکے اکہتر رن صدقے میں نہیں گئے ٹیم کے سکور کارڈ میں گئے ہیں۔

    ایک بھائی بولے سب ٹھیک ہے مگر انگریزی اچھی نہیں تھی، اس پر دل سے صدا آئی کہ پانٹ کے IELTS کے 8 بینڈ اگر کرکٹ میں کام آنا ہوتے تو وہ شاداب کی اردو میں گرامر کی غلطیاں نکال کر چھکا بن جاتے۔ کھلاڑی یہاں اے بی سی سنانے نہیں آئے کھیلنے آئے ہیں انگلش سننی ہے تو فاکس نیوز لگا لیں۔

    ایک اور بھائی نے پچھلے میچ میں مشورہ دیا تھا کہ حارث رؤف جیسا بیکار کھلاڑی ٹیم میں رکھنا فضول ہے۔ اب آج ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر حارث رؤف کو حسن علی کی طرح شادیوں والا ورتاوا(ویٹر) رکھ لیتے تو انڈیا کے رنز کس پھپھی کے پتر نے روکنا تھے؟ تہاڈی؟

    اور تو اور فخر سے کیچ ڈراپ ہوا وہ پچھلی مس فیلڈنگ کی وجہ سے انڈرپریشر ہونے پہ ہوا، بیٹنگ میں خرابی کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے کہ بار بار کیمرہ ہائی لائٹ بہت انڈر پریشر کرتی ہے۔ مگر وہ کہہ رہے ہیں کہ فخر کو ٹیم سے نکالنا چاہیے اچھا انکی مان لیں کیونکہ ان کے پاس بارش میں کینچوے پکڑنے کا عالمی ریکارڈ ہے سو مان لیں بھائی کی۔

    اور تو اور کچھ کہہ رہے ہیں کہ جیت تو گئے ہیں مگر کیا فائدہ آخری اوور میں آخری گیند تک میچ لیکر گئے تھے، اب مجھے معلوم نہیں کہ بھائی محلے میں گلی ڈنڈے میں کتنی سنچریاں بناتے تھے مگر سوری ٹو سے پائین اگے انڈیا دی ٹیم سی تہاڈی خالہ دا ٹنڈا منڈا نئیں سی۔

    نسیم شاہ پر تبصرہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ ابھی بچہ ہے اس لئے ٹیم میں نہیں رکھنا چاہیے، چلیں جی باقیوں کی مان رہے تو آپ کی بھی مان لیتے ہیں جب اس کے پوتے کی شادی ہو گی تب اس کو کھیلا لیں گے آپ فکر نا کریں۔ رہی بات نئے ٹیلنٹ کی تو اس کا کیا۔ آپکا مشورہ ہے کہ نئے کھلاڑی میچور ہونے چاہیں تو پھر آئندہ سے کھلاڑیوں کی کرکٹ کی بجائے بچوں کی تعداد دیکھ کر ٹیم بنا لیں گے۔

    اوپر سے یہ وسیم اکرم بھی ٹیم کی کپتی ساس ہے۔ بندہ اس سے پوچھے پائی تم کمنٹری مخالف ٹیم کی طرف سے کیوں کر رہے ہو؟ ساتھ والا کمنٹیٹر کہتا ہے کہ واؤ واٹ آ شاٹ بائی نواز، اب وسیم پائی اس پہ کہتے ہیں کہ اگر لیگ پہ کھیل لیتا تو چھکا تین میٹر لمبا ہو سکتا تھا۔ مجھے تو وسیم پائی بھی مخالفوں کا بندہ لگتا ہے اسکی کمنٹری سن کر بہت غصہ آتا ہے۔ بھائی کبھی ساس نا بننے کی بھی کوشش کر لیا کرو۔

    ٹیم تو جیت گئی مگر آج جو جلن دیکھنے کو ملی اسکا الگ مزہ آ رہا ہے۔ مزید جلن تب ہو گی جب اگلے میچ کا سکواڈ بھی سیم ہی ہوگا۔ ہم تو محض انٹرٹینمنٹ ہی لے سکتے ہیں ہمارے کہنے سے ٹیمز نہیں بدل سکتیں لیکن ہم سب کے فیورٹس الگ الگ ہو سکتے ہیں جیسے اوپر والوں کے ہیں جن پر مذاق کیا ہے۔

  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    جغرافیہ:

    چنیوٹ سرگودھا اور فیصل آباد کے درمیان میں واقع ہے۔ لاہور جھنگ روڈ بھی چنیوٹ میں سے گزرتی ہے۔ یہ لاہور سے 158 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ شہر کا کل رقبہ 10 مربع کلومیٹر ہے اور یہ سطح سمندر سے 179 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ چنیوٹ کا ہمسایہ شہر چناب نگر ہے جو دریائے چناب کے دوسری جانب واقع ہے۔ چنیوٹ شہر میں مساجد کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہر دوسری سے تیسری گلی میں مساجد ہیں، یہاں حفاظ قرآن کریم کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

    چنیوٹ کے مشہور مقامات:

    یوں تو چنیوٹ میں کئی مذہبی، ثقافتی، اورتاریخی مقامات ہیں لیکن بادشاہی مسجد چنیوٹ، عمر حیات کا محل، دریائے چناب کا پل ہے۔

    بادشاہی مسجد چنیوٹ:

    بادشاہی مسجد چنیوٹ جو بادشاہی مسجد لاہور کی طرز پر بنائی گئی ہے چنیوٹ کی خوبصورت اور قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے. اسے پانچویں مغل بادشاه شاہ جہاں کے وزیر سعدالله خان نے سترہویں صدی عیسوی میں تعمیر کروایا مسجد مکمل طورپر پتھر کی بنی ہوئی ہے۔ اس کے تمام دروازے لکڑی کے بنے ہوئے ہیں اور آج تک اس کے دروازے بغیر ٹوٹ پھوٹ کے اپنی جگہ قائم ہیں۔ بادشاہی مسجد لاہور کا فرش سفید سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ مسجد کے صحن کا فرش سنگ مرمر سے بنا تھا۔ اسے 2013ء میں سنگ مرمر سے اینٹوں کے فرش میں تبدیل کر دیا گیا۔ تاہم مسجد کا اندرونی فرش ابھی تک سنگ مرمر کاہی ہے۔ مسجد کے سامنے موجود شاہی باغ مسجد کے حسن میں اضافہ کر دیتا ہے۔

    عمر حیات محل:

    آپ کبھی جب شہر چنیوٹ آئیں تو کسی سے وہاں کے ’’تاج محل‘‘ کے بارے میں ضرور پوچھنا، یہ عمارت اپنے طرزِ تعمیر میں منفرد
    اور آرائش کے اعتبار سے نہایت خوب صورت تھی۔ کلکتہ کے ایک کام یاب تاجر شیخ عمر حیات نے ہجرت کے بعد اسے اپنے بیٹے کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ اس کا نام گلزار حیات تھا۔ اسی لئے یہ عمارت گلزار منزل بھی کہلاتی ہے۔ کہتے ہیں 1935 میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ چودہ مرلے پر محیط یہ محل تہ خانوں سمیت پانچ منزلوں پر مشتمل تھا۔

    محل کی انفرادیت اور خاص بات اس میں لکڑی کا کام تھا۔ یہ سارا کام اس زمانے کے مشہور کاری گر استاد الٰہی بخش پرجھا اور رحیم بخش پرجھا نے انجام دیا تھا۔ لکڑی اور کندہ کاری کے کام کے حوالے سے ان کا چرچا انگلستان تک ہوتا تھا۔

    مرکزی گلی سے محل کے احاطے میں داخل ہوں گے تو آپ کی نظر سامنے کی انتہائی خوب صورت دیواروں پر پڑے گی۔ داخلی دروازے کے ساتھ نصب دو میں سے ایک تختی پر استاد الٰہی بخش پرجھا سمیت ساتھی مستریوں اور کاری گروں کے نام درج ہیں جب کہ دوسری تختی پر ان حضرات کے نام کندہ ہیں جنہوں نے مرمت کے ذریعے اسے تباہی سے بچایا۔ خم دار لکڑی سے بنے دروازوں، کھڑکیوں اور جھروکوں کی دل کشی منفرد ہے۔

    دوسری طرف بالکونی، چھتیوں، ٹیرس اور سیڑھیوں پر لکڑی کے کام نے اسے وہ خوب صورتی بخشی ہے جو شاید ہی کسی اور فنِ تعمیر کو نصیب ہوئی ہو۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ شیخ عمر حیات محل کی 1937 میں تعمیر مکمل ہونے سے دو سال قبل ہی انتقال کر گئے تھے، لیکن تعمیر مکمل ہونے کے بعد تو گویا یہ محل مقبرہ ہی بن گیا۔

    شیخ عمر حیات تو دنیا میں نہیں رہے تھے، مگر ان کا خاندان یہاں آبسا تھا۔ گل زار کی والدہ فاطمہ بی بی نے اپنے بیٹے کی شادی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کی، مگر شادی کی اگلی ہی صبح بیٹا دنیا سے کوچ کر گیا۔ یہ ایک پُراسرار واقعہ تھا۔ ماں نے اپنے بیٹے کو محل کے صحن میں دفن کروایا اور خود بھی دنیا سے رخصت ہو گئی۔

    وصیت کے مطابق انھیں بھی بیٹے کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ یوں یہ محل اپنے ہی مکینوں کا مقبرہ بن گیا۔ اس کے بعد ان کے ورثا نے محل کو منحوس تصور کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا لیکن گل زار اپنی ماں کے ساتھ آج بھی اسی محل میں آسودۂ خاک ہے۔
    عمر حیات کے ورثا کے محل چھوڑنے کے بعد اگلے چند سال تک اس خاندان کے نوکر یہاں کے مکین رہے۔ بعد ازاں اس عمارت کو یتیم خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہاں کے ایک ہال کو لائبریری میں بھی تبدیل کیا گیا مگر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے عمارت زبوں حالی کا شکار ہوگئی۔

    چنیوٹ کا پل:

    چنیوٹ کا پل (یا چناب نگر کا پل) کنکریٹ (concrete) سے بنا ایک پل ہے۔ جو چنیوٹ میں دریائے چناب پر واقع ہے۔ یہ 520 میٹر لمبا ہے جبکہ 17۔8 میٹر چوڑا ہے۔ یہ ختم نبوت چوک سے 4.6 کلو میٹر اور چنیوٹ ریلوے سٹیشن سے 3.3 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    چنیوٹ کا مندر:

    چنیوٹ کے محلہ لاہوری گیٹ میں واقع گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول محکمہ اوقاف کی ملکیت ایک پرانے مندر میں قائم ہے۔یہ مندر قیام پاکستان سے قبل 1930ء کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا جسے کرتاری لال یا کلاں مندر کہا جاتا ہے جبکہ یہاں سے گزرنے والی سڑک کو بھی مندر روڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مندر کی عمارت تین منزلوں پر مشتمل ہے جس میں سب سے نیچے والی منزل میں سکول جبکہ بیرونی طرف 11 دکانیں اور ایک گودام موجود ہے جبکہ دوسری منزل کو خستہ حالی کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔

    اس عمارت کی چھت پر خستہ حال مندر کے کلس اور چوبرجیوں کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ 1947ء میں جب ہندوستان اور پاکستان کے نام سے دو نئے ملک وجود میں آئے تو یہ مندر تعمیر کے آخری مراحل میں تھا تاہم ہندو آبادی کی بڑی تعداد ہجرت کر کے بھارت چلی گئی جس پر اسے محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے دیا گیا۔قیام پاکستان کے بعد کبھی کبھار چنیوٹ کے قدیم ہندو باشندے اس کی زیارت کرنے کے لیے یہاں آ جاتے تھے لیکن دسمبر 1992ء میں جب بھارت میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو اس کے بعد ہندو زائرین کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا۔

    اس موقع پر یہاں بھی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے مندر کو مسمار کرنے کی کوشش کی جو انتظامیہ کی مداخلت کے باعث کامیاب نہ ہو سکی۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے اس عمارت میں سکول اور پھر خواتین کو ہنرمند بنانے والا ادارہ کام کرتا رہا جبکہ 1997ء میں میونسپل کارپوریشن نے اس جگہ باقاعدہ طور پر پرائمری سکول قائم کر دیا۔

  • چترال ۔ دو سال بعد تین روزہ شندور پولو ٹورنامنٹ ، ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک

    چترال ۔ دو سال بعد تین روزہ شندور پولو ٹورنامنٹ ، ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک

    چترال – پولو کو کھیلوں کا بادشاہ یا بادشاہوں کا کھیل کہا جاتا ہے اور یہ شاہی کھیل صرف شاہی سواری یعنی گھوڑے پر ہی کھیلا جاسکتا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دو سال بعد تین روزہ شندور پولو ٹورنمنٹ منعقد کرایا گیا جس میں پولو کے شوقین لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اور شندور کے سرد ترین موسم سے بھی لطف اندوز ہوئے، جہاں رات کے وقت درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے گرتا ہے۔ دیکھتے ہیں چترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی خصوصی رپورٹ

  • تین ملکی گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین کا آغاز ہوگیا

    تین ملکی گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین کا آغاز ہوگیا

    ڈیرہ غازی خان۔ گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین میں پاکستان سے ایران، ترکی اور آذربائجان تک بائیک رائیڈ ہوگی۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔پا کستان کے انٹرنیشنل بائیکر مکرم خان ترین دنیا کے دیگر ممالک میں پاکستان کی طرف سے شجرکاری اور امن کا پیغام لے کر بائیک رائیڈ کا آغازکیا ،مکرم ترین پاکستان کے میدانِ سیاحت میں ایک فعال اور سرکردہ شخصیت کا نام ہے موٹر بائیک ٹورازم کو بام عروج تک پہنچایا۔ مکرم ترین پاکستان کے معروف موٹر بائیک کلب "کراس روٹ موٹر سائیکل ٹریولرز کلب آف پاکستان” کے بانی و چیئرمین ہیں۔شجرکاری کے سلسلہ میں بھی مکرم ترین نے لوکل، صوبائی اور ملکی سطح پر متعدد موٹر بائیک رائیڈز کیں اور اب گرین ڈرائیو کے عنوان سے بین الاقوامی شجرکاری مہم پر روانہ ہو رہے ہیں جس کیلئے لاہور سے بائیک رائیڈ کا آغازکر چکے ہیں ، اور ہمسایہ مسلم ممالک ایران، ترکی اور آذربائجان کے سیاحتی دورہ کے ساتھ ساتھ شجرکاری اور ایکوٹورازم کے پیغام کو فروغ دیں گے۔مکرم ترین کی جنوبی پنجاب آمد پر وسیب ایکسپلورر کی جانب سے ڈاکٹر سید مزمل حسین نے ملتان تا فورٹ منرو بائیک رائیڈ کا اعلان کیا جس میں ملتان، میاں چنوں، جامپور، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان سے سیاحوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جنوبی پنجاب کے بائیکر ٹورسٹس مکرم ترین کے ہمراہ ڈیرہ غازی خان پہنچے جہاں مقامی سیاح برادری بشمول پروفیسر شعیب رضا، ہمایوں ظفر جسکانی، حاجی عبداللہ ، محمد اسلم بھائی،سعید خان، اسد کھوسہ، عمر خان لغاری، طاہر شاہ، و دیگر نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے، جس کے بعد انہیں ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان کے مرکزی سنٹر پر لے جایا گیا، جہاں عالمگیرخان ، ذیشان خالد اور کاشف ممتاز بخاری نے ان کا استقبال کیا، ریسکیو کی تربیت بارے آگاہی دی، انہیں کنٹرول روم کا دورہ کرایا گیا انہوں نے ریسکیو کے لان میں بسلسلہ شجر کاری سایہ دار پودا لگایا۔ اس کے بعد ڈیرہ غازی خان کے مایہ ناز تاریخ دان عمران بھٹی مرحوم کے گھر تشریف لے گئے،جہاں ان کے بھائیوں سے ملاقات کی، عمران بھٹی کی سیاحت کے حوالے سے خدمات کو سراہا اور ایصال ثواب کے لیے فاتحہ پڑھی، اس کے بعد مکرم خان نے عمران بھٹی مرحوم کی خدمات انکے بڑے بھائی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا۔ مکرم ترین کو سخی سرور میں الطاف شیخ اور دیگر سیاحوںنے خوش آمدید کہا بعدازاں ملتان ، ڈیرہ غازی خان ، رحیم یار خان و دیگر علاقوں کے سیاح حضرات کے ساتھ فورٹ منرو گئے جہاں انہیں جبیب اللہ بلوچ،اسدا للہ ،محمد طارق اور دیگر نے ویلکم کیا یہ ٹور ڈھائی ماہ کے عرصے پر محیط ہوگا جس میں وہ تین ممالک میں بائیک رائیڈ کریں گے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم ہونے جا رہا ہے کہ کسی پاکستانی بائیکر نے شجر کاری اور امن کے پیغام کو لے کر دنیا کے دیگر ممالک میں بائیک رائیڈ کی ہو۔

  • ہنزہ ۔قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل مقامی لوگوں نے احتجاجاََ بندکردی، سیاح پھنس گئے

    ہنزہ ۔قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل مقامی لوگوں نے احتجاجاََ بندکردی، سیاح پھنس گئے

    ہنزہ ۔قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل مقامی لوگوں نے احتجاجاََ بندکردی، سیاح پھنس گئے ،دوروزسے ٹریفک بند،گاڑیوں کی لمبی لائنیں ۔
    باغی ٹی وی ۔ہنزہ قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل کو مقامی لوگوں نے اپنے مطالبات اور مسائل کے حل کیلئے گذشتہ دو روزسے احتجاجی کیمپ لگاکربند کیا ہواہے،جس سے وہاں گئے ہوئے سیاح پھنس گئے ہیں اورانہیں کافی مشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے ،دو روز سے ٹریفک بند ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔


    روزگذرنے کے باوجود گلگت بلتستان اورہنزہ انتظامیہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا،پھنسے ہوئے سیاحوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ ان احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات کرکے فوری طورپرٹریفک بحال کرائی جائے۔