Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • مری میں سیاحوں کو درپیش مسائل تحریر: سعادت حسین عباسی 

    مری میں سیاحوں کو درپیش مسائل تحریر: سعادت حسین عباسی 

    سیاحت کسی بھی ملک یاشہرکا ایک بہترین سرمایہ ہوتا ہے جس سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کا روزگار چلتا ہے اور سیاحت کو بہترین سرمایہ کاری کے طور پر مانا جاتا ہے آج میں مری کی سیاحت کے حوالے سے ذکر کروں گا۔ چند روز قبل فیملی کے ہمراہ میرا مری جانے کا اتفاق ہوا، بہت سی چیزیں میری توجہ کا مرکز بنی جن میں مری کی خوبصورتی اور وہاں کا فضائی ماحول ہے لیکن ان سب سے ہٹ کر کچھ ایسی بھی چیزیں تھی جو ہر سیاح کو اپنی طرف متوجہ کرواتی ہیں آج میں ان مسائل کو اس امید سے اپنے کالم میں ذکر کروں کہ تاکہ مری انتظامیہ وپولیس کی توجہ اس طرف مبذول ہو اور ان مسائل کو دور کیا جائے تاکہ مری کی سیاحت محفوظ اور پرامن ہو۔ صبح نو بجے کے قریب میں جھیکا گلی کے بازار میں پہنچا اور وہاں ناشتے کے لیے رکا گاڑی میں ہی ناشتے کا آرڈر کیا اور ناشتہ منگوایا اسی اثناء گاڑی کی دونوں اطراف کو بھکاری بچوں اور چند خواتین نے گھیر لیا اور زور زور سے گاڑی کے شیشے پر ہاتھ مارنے لگے، آخر تنگ آکر میں گاڑی سے اترا تو وہاں پاس میں موجود ٹریفک پولیس کے اہلکار سے ان کے بارے میں شکایت کی تو ان صاحب نے کہا کہ ہم اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتے ان کو یہاں سے ہٹانا ہمارا کام نہیں، وہاں پر موجود مقامی لوگوں سے بات کی تو پتہ چلا کہ متعلقہ تھانہ کے اہلکار ان سے پیسے لیتے ہیں اور ان کو کھلی اجازت دی ہوئی ہے یہاں پر طرح کی من مانی کرنے کی، یہ سینکڑوں کی تعداد میں افغانی خواتین اور بچے ہیں جو کئی مہینوں سے یہاں پر موجود ہیں اور ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کو یہاں سے ہٹایا جاتا ہے یہ سب جھیکاگلی مری مال روڈ اور اردگرد کے سیاحت کے پوائنٹس پر پھیلے ہوئے ہیں، واپس آکر گاڑی نکالی اور آگے بڑھا تو پیچھے سے کسی بچے نے ایک لکڑی اٹھا کر شیشے پر دے ماری، ان بھکاریوں کی آئے روز کی بدمعاشی اور من مانی کی وجہ سے بہت سارے سیاح اب مری کی طرف رخ نہیں کرتے اور اگر بدستور ایسا ہی رہا تو مری سے سیاحت ختم ہوتی جائے گی اس لیے مقامی انتظامیہ وپولیس کو ان کا سد باب کرنا چاہیے اور مری کے امن کو بحال رکھنا ہوگا۔ دوسرا بڑا ایشو ٹریفک کا ہے جب جھیکا گلی سے مال روڈ کی طرف جاتے ہیں تو کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں دو، تین کلو میٹر کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے، پارکنگ مافیا نے روڈ کی سائیڈ پر پارکنگ بنائی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام رہتی ہے اور اس کے علاوہ سب سے اہم ایشو جس کا یہاں ذکر کرنا نہایت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ مال روڈ پر بہت سارے اوباش نوجوان گھوم رہے ہوتے ہیں جو خواتین اور فیملیز کو ہراساں کرتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر بہت سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جن میں اوباش لوگوں کی طرف سے خواتین وفیملیز کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ اس لیے میری اسسٹنٹ کمشنر مری اور پولیس سے یہ التجا ہے کہ خدارا مری ایک پرامن سیاحتی مرکز ہے اس کے امن کو بحال رکھیں اور سیاحوں کو درپیش مسائل کو جلد سے جلد دور کریں اور مری کی قدیمی سیاحت کے باب کو برقرار رکھیں تاکہ سیاح فیملیز اور خواتین خود کو اس خوبصورت ہل اسٹیشن پر محفوظ سمجھیں اور اپنی چھٹیاں سکون کے ساتھ یہاں گزاریں اور مری کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوسکیں۔ 

    ٹویٹر:

    https://twitter.com/IamSaadatAbbasi?s=09

  • قدرتی و تعمیراتی فن کا حسین امتزاج- پاکستان  تحریر: سید غازی علی زیدی

    قدرتی و تعمیراتی فن کا حسین امتزاج- پاکستان تحریر: سید غازی علی زیدی

    سرزمین پاکستان کو خالق کائنات نے بے انتہا خوبصورت نظاروں سے مزین کیا ہے۔ کہیں دیوسائی کا ٹھنڈا صحرا تو کہیں تھر کا ریگستان، کہیں کشمیر جنت نظیر تو کہیں حسن چترال کا اسیر، الحمدللہ دل کھول کر حسن عطا کیا گیا ہے اس ارض پاک کو۔
    چوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخن
    تو زمیں پر اور پنہائے فلک تیرا وطن
    قدرتی صناعی سے بھرپور سبزہ زار چمن ہوں یا انسانی کاریگری کا شاہکار عظیم الشان تعمیراتی عمارتیں، پاکستان بلاشبہ دونوں میں بے مثال ہے۔ میلوں پھیلے صحرا، پراسرار وادیاں، خواب ناک جھیلیں، بل کھاتی ندیاں، فلک بوس پہاڑ، گھنے جنگلات، قدیم ترین چٹانیں، برف پوش چوٹیاں، نایاب چرند پرند، قیمتی جواہرات، رسیلے پھل، گنگناتی آبشاریں اور خطرناک ترین چشمے، تعمیراتی حسن کے نمونے، تاریخی کھنڈرات، نادر کاریگری کے شاہ پارے، مساجد و درگاہیں، ثقافت و اقدار کے امین فن تعمیر کے نادر نمونے، غرض پاکستان رنگ و نور اور حسن و جمال کا بہترین امتزاج ہے۔ تہذیب و ثقافت اپنی تمام تر رنگینیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔
    پاکستان قدیم ترین تہذیبوں کا گہوارہ – مہر گڑھ سے موہن جوداڑو تک، گندھارا سے ہڑپہ تک، مختلف ادوار تاریخی ورثہ کی صورت میں محفوظ ہیں۔ پاکستان کا تاریخی ورثہ ہماری صدیوں پرانی تہذیب کی نمائندگی کرتاہے۔
    ہر خطہ ارض اپنی مخصوص و منفرد روایات، تہذیب وثقافت کا حامل ہوتا ہے اور یہی طرزِ معاشرت نہ صرف قوموں کی تاریخ مرتب کرتی بلکہ معاشرتی رہن سہن کی بھی عکاسی کرتی۔ تہذیب و ثقافت کا تحفظ کئے بغیر کوئی ملک دنیا میں اپنی شناخت قائم نہیں رکھ سکتا۔ پاکستان کی خوش قسمتی کہ ہمارا ملک قدیم ترین تہذیبوں کا وارث ہے۔ یہاں کے طرز ثقافت میں مختلف رنگوں اور تہذیبوں کی واضح چھاپ ہے۔ مکلی کا قبرستان ہو یا جہلم کا قلعہ، بدھا کے نایاب مجسمے ہوں یا مغلوں کے نارد زیورات، شاہی قلعہ لاہور ہو یا نور محل بہاولپور، لارنس گارڈن ہو یا شالیمار باغ، ہر تہذیب، ہر دور کے حسین اثار اپنی الگ چھب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔
    وہی قومیں تاریخ میں زندہ و جاوید رہتی ہیں جو اپنے تاریخی ورثے کی نہ صرف حفاظت کرتی ہیں بلکہ آئندہ نسلوں کیلئے اسے محفوظ بھی بناتی ہیں۔ تاریخ میں نہ صرف عجیب کشش ہوتی بلکہ بے شمار اسباق بھی پوشیدہ ہوتے۔ ایک علم کا گہرا سمندر ہوتا جسے تلاش کرنا ہوتا گہرائیوں کو ناپنا ہوتا تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی میں ان اسرار و رموز سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اپنی تہذیب و ثقافت کو فراموش کرنے والے نہ گھر کے رہتے ہیں نہ گھاٹ کے۔ ماضی کی روایات ، اقدار میں سبق بھی ہوتا اور عبرت بھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے ماضی سے دستبردار ہو جاتی ہیں ان کا مستقبل بھی ختم ہو جاتا۔ اس لئے ماضی کی اقدار کی حفاظت اور نسل نو کا ان سے تعارف مستقبل کو محفوظ و تابناک بنانے کیلئے از حد ضروری ہے۔ نہ صرف ہمارا قومی فریضہ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے جس سے ہم صرف نظر نہیں کر سکتے۔
    ہر روز نئے لوگ ، نئی رت ، نئے ساحل
    یہ زندگی نایافت جزیروں کا سفر ہے
    @once_says

  • سیاحت کے فروغ میں ڈیجیٹل میڈیا کاکردار تحریر: محمد عابد خان

    ہمارا وطن پاکستان انتہائی دلکش اورخوبصورت سیاحتی مقامات سے بھرا ہوا ہے۔سیاحت کا فروغ ، نئے سیاحتی مقامات کی تلاش اور آثار قدیمہ کو محفوظ بنانا،سیاحوں کا تحفظ ، سیاحتی علاقوں کوسہولیات کی فراہمی اور متعلقہ امور کوفروغ دینا ہے۔سیاحت کا شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتاہے، پاکستان میں سیاحتی شعبے میں ترقی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے.وطن عزیزپاکستان جغرافیائی اعتبار سے بھی دنیاکا ایک منفرد اور خوبصورت ترین ملک ہے۔یہاں وسیع و عریض سمندر ہیں ، لق و دق صحرا ہیں۔ بالخصوص ملک کے حسین ترین خطےخیبر پختو نخوا کے قبا ئلی اضلاع   کو وطن عزیز پاکستان کے ماتھے کا جھومر کہاجائے تو بے جانہ ہو گا۔ جہاں خوبصورت پہاڑ  اور سر سبز و شاداب وادیاں ہیں۔سیاحت کے فروغ کے لئے کسی ملک کےتاریخی وثقافتی ورثوں اور سیاحتی مقامات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے،سیاحت کے فروغ کے لئے جہاں تاریخی و ثقافتی مقامات اور سیاحوں کے لئے سہولتوں کی فراہمی درکارہوتی ہے وہاں امن و امان کا قیام بھی بنیادی ضرورتوں میں سے ہے۔ بد قسمتی سے

    پاکستان میں ایک عرصہ تک امن و امان کے مسئلے کی وجہ سے سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر رہا۔لیکن پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا  اور ​سوشل میڈیا​کےزریعے عالمی سطح پر پاکستان  کو ایک پرامن ملک پیش کیا گیا جس کے  بعد سیاحوں نے پاکستان کی طرف رخ کرنا شروع کردیا۔ان ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم میں ایک نام کانسپٹ ٹی وی کا بھی ہے جو بیک وقت تین زبانوں ،پشتو،اردو اور انگریزی زبان میں ادب، ثقافت،سیاحت،امن اورکھیل بارے مختلف آرٹیکل اور خبریں اپنےنیوز ویب سائٹ پر پبلش کرکے سوشل میڈیااکاونٹس سے جاری کرکے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج گراف بڑھا دیا جس کی وجہ سے  پاکستان  کا پرامن اور پر سکون ماحول دنیا میں مثالی اور عالمی سیاحوں کے لئے کشش کا باعث  بن گیا ۔ ان کے علاوہ باغی ٹی وی کا کردار لائق تحسین ہے جس نے بھی اپنی خبروں اور مضامین کے زریعے پاکستان، خاص طور پر خیبر پختو نخوا اور قبائلی علاقوں میں  امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، یہی وجہ ہے کہ عید کے دوران خیبر پختونخوا میں لاکھوں سیاحوں کی آمد کااندازہ لگایا گیا ہے ۔

    عید کی تعطیلات ختم ہو نے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے عید الاضحیٰ کے موقع پر صوبہ کے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی آمد کی رپورٹ جاری کردی تھی  جس کے مطابق 27 لاکھ ستر ہزار سیاحوں نے سیاحتی علاقوں کا دورہ کیا ، کثیر تعداد میں سیاحوں کی آمد سے 66 ارب سے زائد کا کاروبار ہوا جبکہ مقامی معیشت کو 27 ارب سے زائد کا فائدہ ہوا، سرکاری دستاویز کے مطابق عید کے دوران دس لاکھ 50 سے زائد سیاحوں نے سوات کا رخ کیا، گلیات دس لاکھ اور کمراٹ میں ایک لاکھ 20 ہزار سیاحوں نے سیر کی، وادی کاغان میں سات لاکھ سے زائد جبکہ چترال 50 ہزار سیاحوں کی آمد ہوئی ،عید کی چھیٹوں میں سات لاکھ 20 ہزار گاڑیاں سیاحتی علاقوں میں داخل ہوئیں، سیا حوں نے تین دن تک سیاحتی مقامات پر عید کی تعطیلات گزاریں، آیام عید کے دوران مقامی لوگوں کے روزگار و آمدن میں اضافہ ہوا، تازہ ترین رپورٹ  کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں سیاح اب بھی صوبے کے سیاحتی مقامات میں سیر و تفریح کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا محمود خان نے صوبہ خیبر پختونخوا کے  سیاحوں کی آمد بارے رپورٹ وزیر اعظم عمران  خان سے ایک  ملاقات میں پیش کی تھی جس کو وزیر اعظم عمران خان نے بے حد سراہا اور صوبائی حکومت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین کی۔ سیاحت دنیا بھرمیں اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اسےدنیا کے مختلف ممالک میں انڈسٹری کا درجہ دیا گیا ہے ۔تہذیبی و ثقافتی اقدار اور تاریخی آثار کو ملک و قوم کے روشن مستقبل کے لئے بروئے کار لانا دانشمندقوموں کا وطیرہ ہوتا ہے ۔ ہماری ثقافتی سرگرمیاں پائیدار قومی تعمیر و ترقی کی ضامن ہونی چاہئیں۔

  • قلعہ روہتاس کا تاریخی پس منظر تحریر:فاروا منیر

    قلعہ روہتاس کا تاریخی پس منظر تحریر:فاروا منیر

    قلعہ روہتاس شمال مشرقی پاکستان میں جدید شہر جہلم کے قریب واقع ایک اسٹریٹجک چوکی ہے۔  اسے افغان بادشاہ شیر شاہ سوری نے معزول مغل شہنشاہ ہمایوں کو اپنی سابقہ ​​بادشاہت میں واپس آنے سے روکنے کے ارادے سے نام نہاد "پرانے راستے” کے ساتھ بنایا جو شمال سے پنجاب کے میدانوں کی طرف جاتا ہے ۔
    ہمایوں کو پہلے شیر شاہ سوری نے چوسا میں شکست دی تھی اور وہ ایران فرار ہو گیا تھا ، لیکن اسے خدشہ تھا کہ اگر ہمایوں پنجاب واپس آنے میں کامیاب ہو گیا تو ہمایوں کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے ۔  شیر شاہ سوری کی دوسری تشویش گکھڑ قبائل کو سزا دینا اور شکست دینا تھا جو وادی کا کنٹرول رکھتے تھے اور مغلوں کے روایتی حلیف تھے۔

    قلعہ کا نام شاہ آباد ضلع کے روٹاس گڑھ کے گڑھ سے لیا گیا ہے جسے شیر شاہ سوری نے 1539 میں ایک ہندو شہزادے سے قبضہ میں لیا تھا۔ قلعے پر کام اس کے وزیر محصولات توڑ مال کھتری کی نگرانی میں 1541 میں شروع ہوا۔  تاہم ، گکروں کی مقامی آبادی دیہاڑی دار کے طور پر  کام کرنے کو تیار نہیں تھی، اور پھر تعمیر تیزی سے رک گئی۔  ٹوڈر مال کھتری نے شیر شاہ سوری کو ان مشکلات کے بارے میں لکھا اور بادشاہ نے جواب دیا کہ ان کی حکومت تعمیر کے اخراجات کے لیے کوئی بھی اخراجات برداشت کرے گی۔  اس حوصلہ افزائی کے ساتھ ، ٹوڈر مال کھتری اجرت بڑھانے میں کامیاب ہو گیا جس نے کئی گکروں کو رینک توڑنے اور تعمیراتی کوششوں میں شامل ہونے پر اکسایا۔  اگرچہ تعمیر کے دوران روزانہ کی تنخواہ کئی بار کم کی گئی تھی ، لیکن پھر بھی شیر شاہ سوری کے قلعے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کافی تھا۔

    قلعے کی ترتیب تقریباتکون سی ہے اور چار کلومیٹر کی دیواروں ، 68 گڑھوں اور تقریبا a ایک درجن بڑے دروازوں پر مشتمل ہے۔  قلعے کے شمال مغربی کونے کو باقی قلعے سے 530 میٹر لمبی دیوار سے تقسیم کیا گیا ہے جو ایک علیحدہ قلعہ کا علاقہ قائم کرتا ہے جو کہ بہت زیادہ قلعہ بند تھا۔  اس میں شاہی مسجد اور حویلی مان سنگھ (قلعہ کے اندر سب سے اونچی جگہ پر تعمیر) سمیت کئی بقیہ تعمیراتی آثار بھی شامل ہیں۔  یہ سٹیپ ویلز (باؤلی) سے بھی لیس ہے حالانکہ یہ قلعے کے زیادہ سے زیادہ علاقے میں جنوب مشرق میں بھی پائے جاتے ہیں۔

    قلعے کی دیواریں موٹائی میں مختلف  ہیں اور شمالی فریم پر موری گیٹ کے قریب زیادہ سے زیادہ 12.5 میٹر کی گہرائی تک پہنچتی ہیں جبکہ ان کی اونچائی 10 سے 18.3 میٹر تک  ہے۔  بنیادی تعمیراتی مواد سینڈ اسٹون کورس ملبے کی چنائی تھی جس میں چونے کے ساتھ دانے دار اینٹوں کے پاؤڈر ملا ہوا تھا۔  دروازے بہت مضبوط ایشلر چنائی سے بنائے گئے ہیں۔  بہت سی جگہوں پر دیواروں میں والٹڈ چیمبرز ہوتے ہیں جو اسٹوریج اور دیگر سامان کے لیے استعمال کیے جاتے تھے جن کی ضرورت تقریبا 30،000 فوجیوں کو تھی جو وہاں تعینات کیے جا سکتے تھے۔

    شیر شاہ سوری قلعہ مکمل طور پر مکمل ہونے سے پہلے ہی مر گیا اور جب ہمایوں پنجاب پر حکومت کرنے کے لیے واپس آئے تو قلعے کا بنیادی مقصد بے کار ہو گیا۔ ایک بڑی ستم ظریفی ، یہ قلعہ پھر گکروں کا دارالحکومت بن گیا-جن لوگوں کو شیر شاہ سوری نے زیر کرنا تھا۔ اگرچہ قلعہ اس وقت سے مغلوں کے کنٹرول میں تھا اس کے بعد یہ شہنشاہوں میں زیادہ مقبول نہیں تھا کیونکہ اس میں باغات اور دیگر عظیم الشان فن تعمیر کا فقدان تھا جس کے وہ عادی ہو چکے تھے۔ یہ اب ایک فوجی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ گکر مستحکم مغل اتحادی رہے۔ قلعے کی ریمائیلائزیشن صرف مغلوں کے ختم ہوتے سالوں میں شروع ہوئی جب سکھ شہنشاہ راجیت سنگھ نے پنجاب کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ایک حوصلہ افزا جنرل گورمک سنگھ لمبا نے 1825 میں گکھڑ کے سردار نور خان سے قلعہ پر قبضہ کر لیا ، اور یہ بعد میں سردار موہر سنگھ کے حوالے کر دیا گیا اور بعد میں دوسروں کو لیز پر دے دیا گیا۔ قلعہ کا آخری فوجی استعمال اس وقت ہوا جب راجہ فضل دین خان نے شیر سنگھ کو بغاوت میں شامل کیا ، حالانکہ قلعے پر کوئی کارروائی نظر نہیں آئی۔

  • 27ستمبر یوم سیاحت تحریر چوہدری عطا محمد

    27ستمبر یوم سیاحت تحریر چوہدری عطا محمد

    سیاحت کے شعبے کو دنیا بھر کے ممالک میں ایک صنعت کی حیثیت حاصل ہے، سیاحت کا یہ شعبہ معیشت میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے اورملک کی مجموعی آمدنی میں اضافہ کرنے کا بہترین زریعہ بھی ہے
    اگر ہم بات کریں ارض پاک پاکستان کی تو دنیا بھر کی طرح ارض پاک پاکستان میں بھی آج کی دن یعنی 27ستمبر کو عالمی یوم سیاحت کے نام سے بھرپور طریقہ سے منایا جاتا ہے اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ٹورزم آرگنائیشن کے ماتحت تقریباً 1980 میں پہلا بار عالمی سطع پر سیاحت کا دن منایا گیا۔ اس دن کے اگر مقاصد کی بات کی جاۓ تو دنیا بھر میں سیاحت کے فروغ کے لئے یہ دن منایا جاتا ہے جس سے اقوام عالم میں تمام ممالک کے درمیان بھائی چارے یعنی دوستی کی فضا پیدا کرانا باہمی روابط رکھنا ہے

    دنیا بھر میں سیاح بہت سے ممالک کا دورہ کر کے اس ملک کی تہزیب و تمدن اور ثقافت کا بخوبھی جائزہ لیتے اور سمجھتے جس سے سیاحوں کو اس ملک کے لوگوں کے بارے ان کے رئین سہن کھانے پینے کے بارے میں معلومات ملتی اس دن کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہہ لوگوں میں اس بات کا زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کیا جاۓ کہہ سیاحت اقوام عالم کے تمام ملکوں کے درمیان بہت سی اہمیت رکھتی ہے
    اگر ہم ارض پاک پاکستان کی سیاحت کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ارض پاک پاکستان کا شمار بھی اقوام عالم کے خوبصورت ملکوں میں شمار ہوتا ہے یہاں تاحد نگاہ قدرتی خوبصورتی آنکھوں کو ٹھنڈک اور راحت دینے کے لئے پھیلی ہوئی ہے

    دنیا بھر کے سیاحوں کو پاکستان کے قدرتی حسین مقامات اپنی طرف راغب کرتے ہیں ارض پاک میں خوبصورت پر پیچ خم کھاتی خوبصورت وادیاں پہاڑ اور بہتے ہوۓ دریا خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ پھر پاکستان کا ثقافتی ورثہ بھی اپنا ایک مقام رکھتا ہے
    اگر میں پاکستان میں چند خوبصورت جہگوں کے نام لوں تو مری کالام ما لم جبہ آزاد کشمیر بالاکوٹ سوات گلگت کاغان ناران اور بہت سے ایسے شہر جگہیں ہیں جو دیکھنے والے سیاحوں پر سحر طاری کر دیتے ہیں
    گزشتہ ادوار میں حکمرانوں کی عدم دلچسبی اور توجہ نہ دینے کیوجہ سے یہ شعبہ کافی سست رہا۔
    لیکن پاکستان میں تحریک انصاف کی پہلے گورنمنٹ ہی جس نے سیاحت پر بھر پور توجہ دی سابقہ کے پی کے کیں دور حکومت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین جناب عمران خان کی خصوصی دلچسبی کیوجہ سے کے پی کے میں کافی زیادہ اس شعبہ میں ترقی دیکھنے میں آئی اب چونکہ مرکز میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور وزیز اعظم جناب عمران خان صاحب پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے خصوصی توجہ بھی دے رہے ہیں جس کیوجہ سے ہر آنے والا سال پہلے سال سے زیادہ اس شعبہ سے آمدن اکٹھی کر رہا ہے
    پاکستانی قوم کی دنیا سے پیار کرنے والی اپنے مہمانوں کو عزت دینی والی ہے پاکستان پرامن اور خوبصورت ترین ملک ہے

    @ChAttaMuhNatt

  • شمالی علاقہ جات: جنت نظیر تحریر عمران افضل راجہ

    شمالی علاقہ جات: جنت نظیر تحریر عمران افضل راجہ

    پاکستان کا صوبہ خیبر پختونخواہ بڑی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل ہے۔
    خیبر پختونخوا پاکستان کے شمال مغربی حصے میں واقعہے۔ اس کی وسیع سرحد
    افغانستان سے منسلک ہے۔ خیبر پختونخوا اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے جانا جاتا
    ہے۔ سیاحوں کی دلچسپیاور مہم جوئی کے لیے بہت سی جگہیں ہیں۔ شمال میں کچھ
    خوبصورت اور جنت نظیر وادیاں اور پہاڑ ہیں جن میں کاغان اورسوات،کالام، مالم
    جبہ شامل ہیں۔ یہاں پر بہت سے دریا بھی بہتے ہیں جن میں کابل، سوات، چترال، ژوب
     شامل ہیں۔ ان دریاؤںاور جھیلوں کی وجہ سے یہ صوبہ زیادہ تر سرسبز و شاداب
    وادیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ سال کے زیادہ تر وقت یہ وادیاں اور پہاڑ برفسے ڈھکے
    ہوتے ہیں۔ گرمیوں میں یہاں موسم ٹھنڈا اور خوشگوار ہوتا ہے اس لیے پاکستان سمیت
     دنیا بھر سے سیاحوں کی بڑیتعداد شمالی علاقوں کا رخ کرتی ہے۔

    ناران

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں کاغان وادی ایک مقبول سیاحتی
     مقام ہے۔ یہ مانسہرہ شہر سے 119 کلومیٹر (74 میل) 2،409 میٹر (7،904 فٹ) کی
    بلندی پر واقع ہے ۔یہ بابوسر ٹاپ سے تقریبا kilometres 65 کلومیٹر (40 میل) دور
     ہے۔  کاغاناپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر
    سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

    وادی کاغان

    ایک الپائن وادی ہے جو خیبر پختونخوا ، پاکستان کے ضلع مانسہرہ میں واقع ہے۔
     2005 کے تباہ کن کشمیر زلزلے سے پیدا ہونے والیلینڈ سلائیڈنگ نے وادی میں جانے
     والے کئی راستوں کو تباہ کردیا ، حالانکہ اس کے بعد سڑکیں بڑی حد تک دوبارہ
    تعمیر کی گئی ہیں۔کاغان ایک انتہائی مقبول سیاحتی مقام ہے۔

    ناران کاغان میں ہر سال خوشگوار موسم کی وجہ سے ہزاروں سیاح وادی کی سیر کو آتے
     ہیں۔ یہ بابوسر پاس سے گرمیوں میں گلگتہنزہ کا گیٹ وے بھی ہے۔

    جھیل سیف الملوک

    جھیل سیف الملوک ایک پہاڑی جھیل ہے جو وادی کاغان کے شمالی سرے پر واقع ہے ، یہ
     سیف الملوک نیشنل پارک میںناران قصبے کے قریب سطح سمندر سے 3،224 میٹر (10،
    578 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ اور پاکستان کی بلند ترین جھیلوں میں سےایک ہے۔
    ماہرین کا خیال ہے کہ وادی کاغان تقریبا 300،000 سال قبل گلیشیر سے ڈھکی ہوئی
    تھی۔ اور یہ جھیل بھی گلیشیر کےپگھلنے سے وجود میں آئی۔ دی گارڈین کے مطابق
    جھیل سیف الملوک پاکستان کے پر کشش مقامات میں سے 5 ویں نمبر پر ہے۔گلیشیر کے
    درمیان سبزی مائل شفاف جھیل کسی خواب کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اس کے اسی ملکوتی
    حسن کی بدولت اس کےبارے میں مختلف کہانیاں مشہور ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چاند
     کی چودھویں رات کو یہاں پریاں اترتی ہیں۔

    شوگران

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کو بے شمار خوبصورت مقامات سے نوازا گیا ہے اور
    وادی شوگران ان میں سے ایک ہے۔ شوگرانوادی کاغان کا ایک پہاڑی مقام ہے جو سطح
    سمندر سے 2،362 میٹر کی بلندی پر ہے۔ شوگران کے لوگ بہت شائستہ اور دوستانہہیں۔
     ہر سال سیاحوں ایک بڑی تعداد یہاں کا رخ کرتی ہے۔  سری پائے میں ، پائی جھیل
    کے نام سے ایک جھیل ہے جہاںسیاح گھڑ سواری سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ
    کہ سری پائے ایک زرخیز سرسبز گھاس کا میدان ہے۔ وادی شوگران میںمالکنڈی جنگل
    اور منی چڑیا گھر شوگران اہمیت کے حامل ہیں۔ مالکنڈی جنگل ایک گھنا اور گہرا
    جنگل ہے۔ مالکنڈی جنگل کی سیرکرتے وقت ، آپ کو چیتوں اور کالے ریچھوں کا سامنا
    کرنا پڑ سکتا ہے ، اس لیے اپنی حفاظت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ وادیشوگران میں
    منی چڑیا گھر بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ ایک چھوٹا چڑیا گھر ہے جس میں
    معروف سہولیات اور پرندوں کیخاص قسم ہے۔

    آنسو جھیل

    آنسو جھیل پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی وادی کاغان میں
    واقع ہے۔ یہ سطح سمندر سے 4،245 میٹر (13،927 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے اور اسے
    ہمالیہ رینج کی بلند ترین جھیلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ جھیل وادی کاغان
     کا سب سےاونچا پہاڑ ملیکا پربت کے قریب واقع ہے۔ جھیل کا نام اس کی آنسو کی
    شکل کی وجہ سے  ہے۔ اس کو  1993 میں پاک فضائیہ کےپائلٹوں نے دریافت کیا تھا جو
     اس علاقے میں نسبتا کم بلندی پر پرواز کر رہے تھے۔ مشکل اور دشوار گزار سفر کے
     باوجود اس کیخوبصورتی سیاحوں خاص طور پر مہم جوئی کے شوقین افراد کو یہاں
    کھینچ کر لے آتی ہے۔

    مالم جبہ

    مالم جبہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں سیدو شریف سے تقریبا
     40 کلومیٹر دور ہندوکش پہاڑی سلسلے میں ایک ہلاسٹیشن اور سکی ریزورٹ ہے۔ یہ
    اسلام آباد سے 314 کلومیٹر اور سیدو شریف ہوائی اڈے سے 51 کلومیٹر کے فاصلے پر
    واقع ہے ۔ یہپاکستان کا واحد سکی ریزورٹ ہے۔  یہ صرف ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ
     اس کے آس پاس  2 بدھسٹ سٹوپا اور 6 خانقاہیں بھیہیں۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ
    یہاں دو ہزار سال پہلے بھی آبادی تھی۔

    اگرچہ مالم جبہ زیادہ تر اسکیئنگ کے لیے مشہور ہے۔ لیکن اس کے علاوہ ایک
    خوبصورت اور پر فضا پہاڑی مقام ہونے کی وجہ سےبھی یہاں ہر سال سیاحوں کا رش
    رہتا ہے۔

    نتھیاگلی

    نتھیا گلی ایک خوبصورت اور پر فضا پہاڑی ریزورٹ ہے جو پاکستان کے صوبہ خیبر
    پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں واقع ہے۔ یہگلیات رینج کے مرکز میں واقع ہے ،
    جہاں کئی پہاڑی سٹیشن واقع ہیں۔ نتھیا گلی اپنی قدرتی خوبصورتی ، پیدل سفر کے
    ٹریک اورخوشگوار موسم کے لیے جانا جاتا ہے، جو کہ بلندی پر ہونے کی وجہ سے باقی
     گلیات رینج کے مقابلے میں بہت ٹھنڈا ہے۔ یہ مری اورایبٹ آباد دونوں سے تقریبا
     32 کلومیٹر (20 میل) دور ہے۔ جنگلی حیات اور فطرت سے محبت کرنے والے سیاحوں
    اور ہائیکنگکرنے والوں کے لیے یہ بے پناہ کشش لیے ہوئے ہے۔

    چونکہ نتھیا گلی 8،200 فٹ پر واقع ہے ، اس لیے میراں جانی ہائیکنگ  کے لیے
    بہترین تصور کیا جاتا ہے۔ یہ 6-7 گھنٹے کا سفر ہے۔اگر پیدل سفر طویل لگتا ہے تو
     سفر کے لیے گھوڑے بھی کرائے پر دستیاب ہیں۔

    ایک انتہائی تجویز کردہ جگہ ، گرین اسپاٹ پاکستان ایئر فورس بیس کالاباغ پر
    واقع ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز ، آرام دہ علاقہ ہے۔قریب ہی ایک چھوٹا سا کیفے ہے
    جو کافی ، چائے ، سافٹ ڈرنکس اور سنیکس پیش کرتا ہے۔

    گورنر ہاؤس نتھیا گلی کے مرکزی بازار سے سڑک کے اوپر واقع ہے۔ بہت پہلے برطانوی
     راج کے دوران تعمیر کیا گیا۔یہ سرسبز وشاداب لان سے گھرا ہوا ہے۔

    فن تعمیر کا ایک اور حیرت انگیز شاہکار نتھیا گلی کا چرچ ہے۔  برطانوی حکمرانوں
     کے دور میں تعمیر کیا گیا ، لکڑی سے بنا ہوا چرچ نتھیاگلی میں ایک اہم کشش ہے۔
     اس کے چاروں طرف سرسبز گھاس ہے جو اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے۔

    مشک پوری

    شمالی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں نتھیا گلی پہاڑیوں
    میں ایک 2،800 میٹر اونچا (9،200 فٹ) پہاڑ ہے۔ یہاسلام آباد سے 90 کلومیٹر (56
    میل) شمال میں ، ایوبیہ نیشنل پارک کے نتھیا گلی علاقے میں ڈنگا گلی کے بالکل
    اوپر ہے۔ یہ میرانجانیکے بعد گلیات ریجن کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جو 2،992
    میٹر (9،816 فٹ) پر واقع ہے۔

    چوٹی پر پانی کا تالاب ہے جو آسمان اور درختوں کا شاندار نظارہ پیش کرتا ہے۔
    وادی کشمیر کا ایک خوبصورت نظارہ مشک پوری سےبھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لہذا ،
    بنیادی طور پر ، نہ صرف یہ دلکش مقام آپ کو اپنی اندرونی خوبصورتی دکھاتا ہے
    بلکہ آس پاس کےمقامات کی جھلک بھی پیش کرتا ہے-

    ایوبیہ نیشنل پارک

    مری پہاڑیوں میں ایک چھوٹا قومی پارک ہے۔ ایوبیہ نیشنل پارک تقریبا 3128 ہیکٹر
    ایکڑ رقبے پر محیط ، یہ جگہ خاص طور پر کے پیکے میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں ان
    پرندوں اور جانوروں کا وجود ہے جو ناپید ہونے کے خطرے کا شکار ہیں۔ کالا ریچھ
    اور چیتےعام نظر میں آتے ہیں۔ کوکلاس فیزینٹ اور کالیج فیزینٹ ، یہاں پائے جاتے
     ہیں جو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ 45 منٹ کا یہ سفر دریائے جہلم اور پائنس
     سے ڈھکی پہاڑیوں کی دلکش خوبصورتی سے بھرپور ہے۔ یہ پارک پاکستان میں نم
    ہمالیہ کےمعتدل جنگلات کی بہترین باقیات میں سے ایک ہے اور سات بڑے دیہات اور
    تین چھوٹے شہروں (نتھیاگلی ، ایوبیا اور خانس پور) سے گھرا ہوا ہے۔ ایوبیہ
    نیشنل پارک ایک بڑا تفریحی علاقہ ہے جس میں بڑی تعداد میں مقامی سیاح آتے ہیں
    جن میں زیادہ تر اسلامآباد اور ایبٹ آباد سے آتے ہیں۔ ہر سال تقریبا 100،000
    سیاح یہاں آتے ہیں۔

    وادی سوات

    وادی سوات ایک بلند و بالا سیاحتی مقام ہے جو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے
     شمال مغربی پہاڑوں میں واقع ہے۔ یہ جگہ آثارقدیمہ ، سیر و تفریح اور ہائیکنگ
    کے لیے مثالی ہے۔ اگرچہ سوات کی وادی اپنی شاندار قدرتی خوبصورتی کے لیے شہرت
    رکھتی ہے ،پھر بھی اس کے 5،337 کلومیٹر (2،061 مربع میل) کے رقبے میں سیاحوں کے
     لئے بہت سے پرکشش مقامات ہیں۔ سوات کوپاکستان کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے ،
    دریائے سوات کے ارد گرد ایک قدرتی جغرافیائی علاقہ ہے۔ وادی گندھارا کی قدیم
    بادشاہت کےتحت ابتدائی ہندو مت اور بدھ مت کا ایک بڑا مرکز تھا۔ وادی میں 10
    ویں صدی تک بدھ مت کا وجود تھا، جس کے بعد یہ علاقہزیادہ تر مسلم ہوگیا۔

    سیدو شریف سوات کا دارالحکومت ہے۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ، سیدو شریف میں
    مرکزی سرکاری دفاتر ، پیشہ ور تعلیمیادارے ، صحت کی سہولیات وغیرہ موجود ہیں ۔
    سیدو شریف وادی سوات میں 25 قبل مسیح اور پہلی صدی کے اختتام کےدرمیان بدھ مت
    کا ثبوت ہے۔ سیدو شریف میں سیاحوں کی ایک اور اہم توجہ سوات میوزیم ہے جو بدھ
    دور کی ہزاروں اشیاءکے ساتھ ساتھ بدھ سے پہلے کے تاریخی نمونے بھی دکھاتا ہے۔

    مینگورہ بازار سوات کا مرکزی کاروباری مرکز ہے۔ مینگورہ شہر میں ہزاروں دکانیں
    ہیں جو تمام دن کھلی رہتی ہیں۔ مینگورہ میں مختلفقسم کے ہوٹل ، ریستوران ، ٹیک
    اوے ، کیفے اور مغربی فوڈ آؤٹ لیٹس ہیں جو مقامی اور فاسٹ فوڈ دونوں پیش کرتے
    ہیں۔

    سوات ہندوکش پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع اپنے شاندار پہاڑوں کے لیے بھی مشہور
     ہے جہاں آپ پیدل سفر ، ٹریکنگ اورہائیکنگ کر سکتے ہیں۔ سطح سمندر سے 4500 سے
     6000 میٹر تک کئی پہاڑی چوٹیاں ہیں۔ دریائے سوات پر مشتمل سوات کا علاقہسرسبز
    وادیوں ، برف سے ڈھکے گلیشیئرز ، جنگلات ، گھاس کا میدان اور میدانی علاقوں سے
    ڈھکا ہوا ہے۔سوات کی جھیلیں اپنےساتھ ایک بھرپور تاریخ رکھتی ہیں۔ وادی سوات
    میں بے شمار تالاب اور میٹھے پانی کی بہت بڑی جھیلیں ہیں۔ اس وادی میں تقریبا
    35 مشہور جھیلیں ہیں ، ان میں سے ہر ایک اپنے دلکش اور چمکتے ہوئے مناظر سے
    منفرد ہے۔ یہ جھیلیں پودوں اور جنگلی حیات کیمتعدد اقسام کا گھر ہیں۔

    وادی کالاش

    شمالی پاکستان کے ضلع چترال کی وادیاں ہیں۔ یہ وادیاں ہندوکش پہاڑی سلسلے سے
    گھری ہوئی ہیں۔ وادی کے باشندے ایک منفردثقافت ، زبان رکھتے ہیں اور قدیم ہندو
    مت کی ایک شکل پر عمل پیرا ہیں۔ کالاش وادیاں پاکستانی اور بین الاقوامی سیاحوں
     کے لیےکشش کا باعث ہیں۔ کالاش لوگوں کی ثقافت منفرد ہے اور شمال مغربی پاکستان
     میں اپنے اردگرد موجود بہت سے عصری اسلامینسلی گروہوں سے مختلف طریقوں سے
    مختلف ہے۔ وہ مشرک ہیں اور فطرت ان کی روز مرہ کی زندگی میں انتہائی اہم اور
    روحانیکردار ادا کرتی ہے۔ ان کی مذہبی روایات اور تہوار ان کے مذہب کی نمائندگی
     کرتے ہیں۔ کالاش دو الگ الگ ثقافتی علاقوں پرمشتمل ہے ، رمبور اور بمبوریت کی
    وادیاں ایک بنتی ہیں اور دوسری وادی بیریر؛ وادی بیریر ان دونوں میں زیادہ
    روایتی ہے۔ کالاشافسانہ اور لوک داستانوں کا موازنہ قدیم یونان سے کیا گیا ہے ،
      لیکن وہ برصغیر پاک و ہند کے دیگر حصوں میں ہندو روایات کےبہت قریب ہیں۔
    کالاش نے ماہرین بشریات اور سیاحوں کو اپنی منفرد ثقافت کی وجہ سے اس علاقے کے
    باقی لوگوں کے مقابلےمیں متوجہ کیا ہے۔ اپنی شاندار ثقافت ، زبان ، تہواروں اور
     آرٹ کی عالمی مقبولیت کے معیار کے ساتھ سیاحوں کے لیے بھرپورکشش رکھتا ہے۔اگر
    آپ معاصر آرٹ اور کلچر کے شوقین ہیں تو کے پی کے میں کالاش ویلی کا رخ کریں۔

    ٹھنڈیانی

    ٹھنڈیانی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گلیات علاقے میں ایک پہاڑی سٹیشن
    ہے۔ ٹھنڈیانی ضلع ایبٹ آباد کے شمال مشرقمیں واقع ہے اور ہمالیہ کے دامن میں
    ایبٹ آباد سے 37.5 کلومیٹر (23.3 میل) کے فاصلے پر ہے۔ دریائے کنہار سے آگے
    مشرق میںبرف سے ڈھکا ہوا پیر پنجال پہاڑی سلسلہ کشمیر ہے۔ کوہستان اور کاغان کے
     پہاڑ شمال اور شمال مشرق میں دکھائی دیتے ہیں۔شمال مغرب میں سوات اور چترال کے
     برفانی سلسلے ہیں۔ ٹھنڈیانی کے لفظی معنی ” بہت سرد ” کے ہیں۔ اس سے آپ یہاں
    کیآب و ہوا کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ٹھنڈیانی موسم گرما کے مہینوں میں بہترین
    موسم اور سرسبز و شاداب ، اور سردیوں میں برف سےڈھکی پہاڑیوں کی خصوصیت رکھتا
    ہے۔ خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان سے بہت سے سیاح یہاں آتے ہیں ، خاص طور پر
    گرمیوںکے موسم میں۔ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے ، پرکشش مناظر اور جنگلوں اور
    دیگر قریبی مقامات تک ہائیکنگ کی خصوصیت کی وجہسے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

    پاکستان قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہے۔ یوں تو پاکستان کے دوسرے صوبوں اور
    اضلاع میں بھی خوبصورت وادیاں ہیں۔ لیکنخیبر پختونخواہ میں پائی جانے والی یہ
    سرسبز، دلکش اور پرسکون وادیاں پاکستانی سیاحت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ
    وادیاں ہر ساللاکھوں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ کر لاتی ہیں۔ اگرچہ بہت سی
    وادیوں کو جانے والے راستے کافی اچھی حالت میں ہیں لیکن ابھیبھی زیادہ تر
    علاقوں تک پہنچنے کے لئے انتہائی دشوار گزار سفر طے کرنا پڑتا ہے۔  لیکن سیاحت
    اور مہم جوئی میں دلچسپی رکھنے اورپرفضا، پرسکون جگہ پر چھٹیاں گزارنے کے
    خواہشمند افراد کے راستے میں یہ مشکلات رکاوٹ نہیں بنتی۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • مصر کی تاریخ تحریر اصغر علی

    مصر کی تاریخ تحریر اصغر علی

    آج سے چار ہزار سال پہلے Egyptian لوگ جنہیں مصری بھی کہا جاتا ہے مصر پر راج کرتے تھے اور اپنے زمانے میں انہوں نے ایسی دریافتیں کی تھی جو آج ہم صرف سوچ ہی سکتے ہیں جیسا کہ پیرامڈ یا اہرام مصر کا آسمان کی طرف تین ستاروں کے بالکل نیچے ہونا اور اہرام مصر کے اندر کا درجہ حرارت 20 ڈگری ہی رہنا جس کا مطلب ہے کہ نہ یہاں سردی زیادہ پڑتی ہے اور نہ ہی گرمی ہمیشہ ایک جیسا ٹمپریچر رہتا ہے اور سب سے حیرت انگیز چیز جو یہاں انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے وہ ہے ایلین کیونکہ ایلین کے بارے میں آج ہم جو تصورات پیش کرتے ہیں وہ وہاں مصر میں آج سے چار ہزار سال پہلے  پیرامڈ یا اہرام مصر کے  پر ایلین  کے بارے میں ایسی ایسی پینٹنگز موجود ہیں جو آج کے سائنسدانوں کو وہاں کھوج کرنے پہ مجبور کر دیتی ہیں اور اہرام مصر کو دیکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا کہ یہ انسانوں نے بنائے ہوں گے بلکہ یہاں پر اور بھی مخلوق موجود تھی جس پر آج کے دور میں یقین کرنا ناممکن ہے سائنسدان اہرام مصر پر لمبے عرصے سے کام کر رہے ہیں مگر آج تک کوئی بھی یہ نہیں جان پایا کہ یہ تین پیرامڈ کس طرح بنائے گئے اور یہاں پر کس طرح کی کنکریٹ کا استعمال ہوا ہو گا کیونکہ صرف ایک پیرامڈ کے اندر 13 لاکھ پتھر استعمال ہوئے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ استعمال ہونے والے ہر ایک پتھر کا وزن 27 سو کلو سے لے کر 70 ہزار کلو تک ہے اس لیے ایک پتھر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت دینا بہت مشکل ہے اور اگر آج کی بات کریں تو آج کے دور کی جدید ترین کرین بیس ہزار کلو سے زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتی تو آج سے چار ہزار سال پہلے اتنا وزن اٹھانا کس طرح ممکن ہوا ایک مقام سے دوسرے مقام پر کس طرح ان پتھروں کو پہنچایا گیا اس کا ایک ہی جواب ہے جس پر آج کل کے دور پہ یقین کرنا مشکل ہے اور وہ ہے ایلین کیونکہ ان پیرامیڈ کے بارے میں ایک مشہور تھیوری ہے جس کو Orion Constellation کی تھیوری کہہ سکتے ہیں کیونکہ اگر آپ رات کے وقت ان پیرامڈ کو دیکھیں تو ان کے بالکل اوپر تین ستارے پرفیکٹ ڈائریکشن میں نظر آئیں گے یہی تین ستارے Orion Constellation میں واقع ہے اور ان تین ستاروں کی پوزیشن ان پیرامڈ سے واضح ہوتی ہے اس لیے کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بہت سال پہلے خلائی مخلوق یا ایلین  انہی تین ستاروں سے زمین پر آئے تھے اور اپنے ساتھ بہت ایڈوانس ٹیکنالوجی لے کر آئے تھے اور انہوں نے ہی ان کو تعمیر کروایا تھا اب یہ تو کوئی نہیں جانتا کہ اہرام مصر کو خلائی مخلوق نے بنایا یا انسانوں نے  لیکن ایک بات تو طے ہے اور وہ یہ کہ ان تین پیرامڈ سکا ان تین ستاروں سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے اس کا ذکر ایک اور سائنسدان نے بھی اپنی کتاب میں کیا ہے اس نے جب پیرامڈ کے پتھر کے  پر تجربات کیے  تو پتہ لگا کہ جو پتھر پیرامڈ میں لگا ہوا ہے اس ساخت کا پتھر پوری دنیا میں کہیں نہیں ہے اہرام مصر ہر زاویے سے مختلف رازوں سے بھرے پڑے  ہیں یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ پیرامیڈ انسانوں نے بنائے تو اس وقت انسانوں کے پاس اتنی ٹیکنالوجی کہاں سے آئی اور دوسری بات ان کے اوپر ایلینز اور اڑن طشتری کی پینٹنگ موجود ہونا جو اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ یہ پیرامڈ انسانوں نے نہیں بنائے ہیں اور اگر انسانوں نے بنائے ہیں تو یہ پیرامڈ کس لیے بنائے  گئے پہلے لوگ یہ مانتے تھے کہ ان پیرامیڈ کے اندر س وقت کے بادشاہوں اور ملکہ کی حنوط شدہ لاشیں موجود ہیں ہے مگر جب پیرامڈ کے اندر ایک روبوٹ کو بھیجا گیا تو سب کچھ  واضح ہو گیا کہ پیرامڈ کے اندر کسی قسم کی کوئی حنوط شدہ لاش موجود نہیں تھی اہرام مصر آج بھی سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے اور سائنسدان اس کے اوپر تجربات کر رہے ہیں دیکھتے ہیں اور کتنا وقت اور لگتا ہے اہرام مصر کی حقیقت جاننے میں

  • مطالعہ میرا دوست | تحریر:عدنان یوسفزئی 

    مطالعہ میرا دوست | تحریر:عدنان یوسفزئی 

    مطالعہ ایک کامیاب انسان اور بطور خاص کامیاب لکھاری کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ایک جاندار کو زندہ رہنے کے لئے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ آکسیجن کی عدم موجودگی میں وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔

        دراصل مطالعہ ایک نشہ ہے اور جو کوئی اس نشے کا عادی بن جاتا ہے پھر وہ مطالعہ کے بغیر نہیں رہ سکتا،یہ کوئی مبالغہ آمیز بات نہیں بلکہ ہماری اکابر واسلاف کی زندگیوں میں ہمیں اس کا واضح عکس ملتا ہے۔کہ وہ بعض اوقات مطالعے میں اس قدر منہمک ہوجاتے کہ پھران کو یہ بھی یاد نہ رہتا کہ کھانا کھایا ہے یا نہیں وہ مکمل مستعرق ہوجاتے۔اسی مطالعے کی استعراق میں امام مسلم رح نے ایک مرتبہ اتنے زیادہ کھجور کھائی کہ ان کی معدے نے اس کی گرمائش برداشت نہ کی، چنانچہ اسی سے وفات پائی۔

              لیکن بدقسمتی سے امت مسلمہ میں مطالعے اور کتب بینی کا یہ ذوق تیزی کیساتھ زوال پذیر ہیجس کی وجہ سے ہم اپنے عظمت رفتہ سے دور ہوتے جارہے ہیں بقول شاعر مشرق رح 

    گنوادی ہم نے جواسلاف سے میراث پائی تھی

    ثریا نے زمین پر اسمان سے ہم کو دے مارا

         کتب بینی کی عادت وشوق نے ہمیں علوم وفنون سے بہت دور کردیا۔مغرب نے کتب بینی کو فروغ دیتے ہوئے انتظارگاہوں تک میں لائبریریاں قائم کیں اس لیے وہاں روز بروز نت نئے تجربات مختلف میدانوں سے آرہے ہیں۔

    مطالعہ کرنا سب سے بڑھ کر کتاب ایک بہترین ساتھی ہے۔ ایک اچھے لکھاری بننے کے لیے کتابوں کا مطالعہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ کتاب کے مطالعے کا شوق اور محبت جس کسی کو لگ جائے تو وہ تنہائی کو اپنے لئے ایک نعمت سمجھتا ہے۔

    کتاب بہت عجیب قسم کا دوست ہے. یہ انسان کو بھی ہنساتا ہے اور کبھی رلاتا ہے۔

    یہ کتاب ہی ہے جس کا مطالعہ اگر ایک طرف ہمیں اپنی روشن ماضی کی یاد دلاتا ہے، تو دوسری طرف مسلمانوں کے زوال کی داستان سناتا ہے۔ یہ کتاب ہی تو ہے جو ایک طرف  ہمیں غیروں کے مظالم کی گواہی دیتا ہے اور دوسری طرف یہ کتاب ہی ہے جو کہ اپنائیت کے ناطے امت مسلمہ سے شکوہ کنا نظر آتی ہے۔ 

    کتاب ہمیں نیک وبد کی تمیز سکھاتی ہے۔ ہم ایک اچھی کتاب کو ایک بہترین استاد کی زیر نگرانی پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے احکامات معلوم کرسکتے ہے۔اسی طرح ہم سرور کائنات خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ و سلم کے مبارک سنت سے باخبر ہو سکتے ہے۔

    دنیا میں کتاب سے دوستی کرنا ہے تو اس کی دوستی آپ کے دل کو ایسے روشنی عطا کردیتے ہے۔ جس سے زندگی بھر آپ اس روشنی سے لطف اندوز ہونگے۔ اس کی جتنا بھی مطالعہ آپ کریں۔ اتنا ہی آپ کی کتاب سے دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوجائیگی۔

                       انسان جب کتاب سے تعلق رکھتا ہے اور اسے اپنا دوست بناتا ہے تو کتاب کی دوستی انسان کو اپنی صحیح منزل دکھا کر راہ راست پر لاتا ہے۔ خواہ وہ دنیاوی ہو یا اخروی دونوں میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔

    مغربی دنیا میں آج کل بڑا ہو یا چھوٹا کتاب سے تعلق اور اس میں مطالعے کی رحجان پایا جاتا ہے۔ اس نے کتابوں سے دوستی کرکے اس سے اپنے لیے دنیاوی راستے کھول دیے ہیں۔ وہ پستیوں کی راہیں پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گئے ہیں، صرف اور صرف وہ مطالعے کے گہرے سمندر میں ڈوب گئے ہیں۔

               بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کتابوں سے دوستی کرنے اور مطالعے کے شوقین افراد کی تعداد بہت کم پائی جاتی ہے۔ اگر ہم نے کتابوں کی سے دوستی قائم کرلی۔ پھر ہم کتاب کی مطالعہ کئے بغیر اپنے آپ کو نامکمل سمجھے گے۔ یہ ہمیں اپنا منزل بتاتے ہیں کہ کیسے آپ اس پستیوں کی تاریک ظلمتوں سے نکل کر اپنی بلند وبالا منزلوں کی طرف جانا ہے۔

                کتاب کی ہر ایک لفظ ہم کو نئے نئے سوچ دیکر علم کے خزانے ہمارے لئے کھول دیتا ہے۔ کتاب ہی ہمیں مشرق سے لیکر مغرب تک، شمال سے لیکر جنوب تک سارے حالات بیان کر کے ہمیں اندھیروں سے نکال کر، اچھائی اور برائی کی تمیز سکھاتا ہے. قلم وکتاب سے رشتہ قائم کرنا ہی ہمیں ہمارے اقدار و عظمت کے مینارے دکھاتا ہے۔ کتاب کے بغیر ہماری زندگی میں لطف نہیں ہوگی۔

    اگر مطالعے کے لیے  اچھی اور معیاری کتاب کا انتخاب نہیں کیا گیا تو یہی کتاب بعض اوقات آستین کا سانپ بھی بن سکتا ہے۔مثلاً مستشرقین کی کتابیں پڑھ کر ایک انسان دین اسلام کا بن سکتا ہے۔اس لئے ہمیں چاہیے کہ کتب کے انتخاب میں بہت ہی احتیاط سے کام لیا جائے۔

         مختصراً یہ کہ مطالعہ ہی ایک ادنیٰ انسان کو معراج تک لے جاتا ہے، کیونکہ مطالعہ کرنے والا شخص قوموں کی تاریخ وثقافت،رسوم ورواج اور تہذیب  کامیابی وکامرانی سے باخبر ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ مستقبل میں اسی انداز سے دیکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کتاب اچھے برے میں تمیز کراتے ہیں، اور مطالعہ کرنے والا بندہ تنہائیوں سینہیں گھبراتا بلکہ تنہائی کو یکسوئی سمجھ کر مطالعہ کرتا رہتا ہے۔

    Twitter | @AdnaniYousafza

  • سفر کاغان |تحریر اعجازالحق عثمانی

    سفر کاغان |تحریر اعجازالحق عثمانی

    کے۔پی۔کے ” کے ہزارہ ڈویژن میں واقع وادی کاغان اپنے حسین و دلکش مناظر،پرلطف آب وہوا،ہرے بھرے فلک بوس پہاڑوں اور اپنی جھیلوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔161کلومیٹر طویل وادی کاغان کا آغاز بالاکوٹ سے ہوتا ہے۔شہداء کی سرزمین بالاکوٹ مانسہرہ سے 30کلومیٹر اور سطح سمندر سے 3250 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔وادی کاغان کا دروازہ کہلایا جانے والا یہ شہر تعلیمی،ثقافتی اور ایک تجارتی مرکز بھی ہے۔اس شہر کی سیاحتی اہمیت کچھ زیادہ نہیں ۔سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل کا مدفن ہونے کی وجہ سے اسے تاریخی حیثیت حاصل ہے۔اور وادی کا اختتام سطح سمندر سے 13690فٹ بلند درہ بابوسر پر ھوتا ہے۔اس حسین وادی کے بارے میں کوثر نیازی لکھتے ہیں:
    باٹا کنڈی کی بھلدران کی، شگران کی یاد
    دل شاعر میں ہے خوابوں کے پرستان کی یاد
    یہ پگھلتی ہوئی چاندی سا چمکتا پانی!
    دل سے جائے گی نہ اب وادی کاغان کی یاد
    مصحف روئے دل آرا کی تلاوت جیسے
    کتنی رنگین ودل افراز ہے ناران کی یاد
    اس خواہش میں چلا آیا ہوں بابوسر پر
    اس کی چوٹی سے مجھے آئے گی فاران کی یاد
    کاش اس مست خنک چھاوں میں تم بھی ہوتے
    دل میں ابتک ہے اک حسرت وارمان کی یاد
    عشق جس رنگ میں ہو زندہ وپائندہ ہے
    دل ہر سنگ میں ہے سیف کے رومان کی یاد
    جبر کرکے مجھے لے آئے یہاں کوثر
    دل سی جائے گی نہ احباب کے احسان کی یاد

    یہ کوئی ستمبر کی آخری رات ہوگی۔جب ہم 9بجے کے قریب وادی کاغان کےلیے روانہ ہوئے۔گاڑی میں بیٹھتے ہی ہلاگلا شروع ہوگیا۔کبھی نعرے بازی سننے کو ملتی تو کبھی گانے۔۔۔۔۔
    مانسہرہ پہنچتے ہی سرد اور خنک ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔ایک ہوٹل سے چائے پی اور پھر سفر شروع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاغان کا پہاڑی راستہ جتنا ہم نے خوفناک سنا تھا ۔اس سے کہیں زیادہ نکلا۔اس سمے ہمیں وہ وقت یاد آیا جب ہم ماں کے شیر ہوتے تھے مگر دن کے وقت بھی گاوں کے پہاڑوں سے بکریوں کو واپس لانے کےلیے جانے سے ڈرتے تھے۔ان پہاڑوں پر ہمیں “ماں”یاد آتی تھی۔اور ان پہاڑوں پر “خدا”یاد آیا۔
    تقریبا صبح سات بجے کے قریب ہم وادی کاغان میں داخل ہوچکے تھے۔ایک دوست ہمیں “silent”بھائی کہتا ھے۔مگر جتنی خاموش وادی کاغان ہے اتنے ہم بھی نہیں۔
    بقول مستنصر حسین تارڑ:
    “وادی کاغان کے لوگ کچی کوٹھروں سے بھیڑ بکریوں کو بےدخل کر کے اور ان میں سیاحوں کو داخل کر کے ایک شب میں ہزاروں روپے کماتے ہیں۔اس کے باوجود بہت سے لوگ رہائش نہ ملنے پر بالاکوٹ میں جاکر سر چھپاتے ہیں۔”
    مگر اب کاغان میں ہوٹلوں اور خچروں کی تعداد مساوی ہونے والی ہے۔دو گھنٹے آرام کے بعد ہم جھیل سیف الملوک کی طرف روانہ ہوئے۔”جھیل سیف الملوک “کے بارے میں ہمارا خیال تھا کہ یہ جھیل بھی “کلرکہار جھیل” کی طرح مختلف چیزوں مثلا بسکٹ، ٹافیوں اور چپس کے خالی رپیروں سے سجی ہوگی۔مگر افسوس!جھیل پر پہنچ کر ہمارا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ہماری پہلی نظر جن چیزوں پر پڑی وہ بدوضع کھوکھے،خیمے نما عارضی کمرےاور اپنی قمیض سے ناک صاف کرتا بچہ تھا۔اور دوسری نظر میں ہم نے ایک دل کش اور حیرت انگیز چیز سفید لباس میں دیکھی۔آپ کے خیال میں کوئی پری ہوگی مگر پری نہیں تھی۔ایک پہاڑ تھا۔جس نے برف کا سفید لباس اوڑھ رکھا تھا۔ہاں!ہمیں جھیل سیف الملوک پر “پریاں “بھی دیکھائی دی مگر وہ نورانی پریاں نہ تھیں۔
    چند گھنٹوں کے آرام کے بعد ہم ناران کا بازار دیکھنے دوڑ پڑے۔رات کے دس بجے بھی سڑک کی دونوں جانب انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہجوم تھا۔حلوائی کی دکان پر رنگ برنگی مٹھائیاں تھالوں میں سجی ہوئی تھیں۔حلوائی کی دکان کے بالکل سامنے تیکھے نقوش والا لڑکا “کافی”بیچ رہا تھا۔ رات کو بھی دن کا سماں تھا۔نوجوان جوڑے”من تو شدی ،تو من شدی” کی مجسم صورت بنے آ اور جا رہے تھے۔کچھ تو ایسے بھی تھےجو کبھی نوجوان جوڑوں کو دیکھتے تو کبھی ادھر ادھر کی دکانوں کو۔ہم بھی انھی میں شمار تھے۔یعنی۔۔۔۔۔۔۔ٹائم دیکھا تو 12بج چکے تھے۔مگر اس ماحول سے نکلنے کو جی ہی نہیں چارہا تھا۔سوچا جاکر سونے کا کیا فائدہ ناجانے پھر کب ملے گا یہ سماں۔حالی نے بھی شاید میرے لیے کہا تھا۔
    “کھیتوں کو دے لو پانی اب بہہ رہی ہے گنگا”
    تھوڑا آگے سیخوں پر کباب بنائے جا رہے تھے۔ایک ہوٹل میں رش اتنا تھا کہ جیسا مفت کھانا مل رہا ہو۔سو ہم بھی گھس گئے۔جب بل آیا تو مفت کھانے والوں کو یوں لگا کہ جیسے پڑوسیوں کا بل بھی ہم بھر رہے ہیں۔کچھ دیر بعد اچانک بازار کی رونق آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگی اور ہم بھی لوٹ آئے۔
    اگلے روز ناشتے کے بعد ہم”بابو سر ٹاپ”کی دید کو نکل پڑے۔ شاہراہ کو چوڑا کرنے کےلیے جگہ جگہ بل ڈوزر پہاڑوں سے ماتھا لگائے دیکھائی دیے۔ کھڑکی سے گردن باہر نکالی تو تیکھے نقوش والی لڑکی تیز تیز قدموں سے چلتی دیکھائی دی۔تھوڑا آگے میری ہی عمر کا ایک جوان بھیڑ بکریاں چراتے دیکھائی دیا۔راستے میں جھیل”لولوسر”کی دید بھی نصیب ہوئی۔جسے وادی کی شہہ رگ یعنی “دریائے کنہار” کا ماخذ بھی کہا جاتا ہے۔وادی کا حرف آخر کہلایا جانے والا درہ بابو سر ناران سے 81کلومیٹر اور سطح سمندر سے 13690فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ایک دفعہ گاوں میں ابا جان نے بتایا”بیٹا اونچی جگہ پر سگنلز اچھے آتے ہیں”مگر بابو سر کی( 13680فٹ )کی اونچائی پر ایسا نہیں تھا۔”سورج کے قریب تھے،پھر بھی سردی زیادہ”۔چائے پینے کےلیے لکڑی کے پرانے تختوں سے بنے اک اعلی ہوٹل میں گئے۔چھوٹے سے کپ میں پانچ گھونٹ چائے۔اور قیمت پچاس روپے ادا کرنا پڑی۔یعنی فی گھونٹ 10روپے۔بابوسر کی ٹاپ پر پہنچتے ہی ہمیں “اعزارائیل”کا خیال آیا اور ہم نیچے کی طرف بھاگے۔ناران واپس پہنچ کر ہم نے آرام کی خاطر اپنے کمرے میں جانے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔دوستوں کے اصرار پر ہمیں ناران کی گلیوں کی خاک چھاننے کےلیے جانا پڑا۔سوکھے پتوں کی مانند لوگ اپنے کام کاج میں مصروف تھے۔ زیادہ تر گھروں کے چار دیواریاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔چند گھروں میں تو مغرب سے پہلے بھی روٹی کھاتے افراد دیکھائی دیے۔انھیں دیکھ کر مجھے اپنا آبائی گاوں یاد آیا۔ وہاں ہم بھی کبھی مغرب سے پہلے تو کبھی نماز کے فورا بعد کھانا کھا لیتے تھے۔وہاں کے لوگ بھی ناران کی اس گلی کے لوگوں کی طرح سادہ ہیں۔ تھکاوٹ کے احساس کو قدرے زائل کرنے کےلیے ہم نے چائے پی۔ہوٹل واپس آکر کھانا کھایا۔اور پھر بازار چل دیے۔
    اگلے دن “لالہ زار”کی طرف روانگی ہوئی۔لالہ زار تو واقعی لالہ زار ہے۔ جو مزہ پیدل جانے میں ہے،وہ بھلا چیپ میں جانے والوں کو کہاں نصیب ہوتا ھے۔(خود )گرتے اور (پتھروں کو) گراتے ہوئے بڑی مشکل سے پہنچے۔ہمارا خیال تھا کہ لالہ زار پر پھول ہمارا استقبال کریں گے۔مگر ہمارا استقبال صنوبر کے درختوں اور آلو کے کھیتوں نے کیا۔لیکن تھوڑا آگے چل کے پھولوں نے بھی مسکراتے ہوئے ہمیں استقبالیہ نظروں سے دیکھا۔لوگ گھڑ سواری یا خچر سواری بڑے شوق سے کر رہے تھے۔ پرندوں کی چہچاہٹ۔۔۔صنوبر کے درخت۔۔۔لالہ وگل۔۔۔لالہ زار کی رونق ہیں۔
    کنہار کی ٹراوٹ مچھلی اپنے خوش ذائقے کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔لیکن اب یہ خوش ذائقہ مخلوق کم ہوتی جارہی ہے۔سنا ہے کہ دریائے کنہار کا پانی انکھوں کے امراض کےلیے انتہائی مفید ہے۔کہا جاتا ہے کہ سفر کے دوران ملکہ نور جہاں کی آنکھیں دکھ رہی تھیں ملکہ نے اس پانی سے آنکھیں دھوئی تو آرام مل گیا۔ ملکہ نے دریا کو “نین سکھ”کا نام دیا۔ہمیں بھی دریائے کنہار کی دید تو نصیب ہوئی مگر افسوس وقت کی کمی کی وجہ سے ہم کنہار کی الجھی موجوں سے گفتگو نہ کرسکے۔
    وادی میں تین دن رات مسلسل گھوڑے دوڑانے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ “آلو”یہاں کی اہم پیداوار اور “ہندکو”یہاں کی مقامی زبان ہے۔جو حضرات “حج کعبہ”کر چکے ہیں اور “فطرت یا قدرت کا حج”کرنا چاہتے ہیں تو وہ وادی کاغان جا کر یہ سعادت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

    @EjazulhaqUsmani

  • منگھو پیر کی کہانی  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    منگھو پیر کی کہانی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کراچی پاکستان کا صنعتی اور کاروباری شہر ہے اس شہر کو پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کا شرف بھی حاصل ہے صوبہ سندھ کو دارلخلافہ اور پاکستان کا معاشی حب بھی ہے۔۔یوں تو یہ شہر دور جدید سے ہم آہنگ بلند بالا عمارتوں بڑے بڑے شاپنگ سینٹروں اور یونیورسٹیوں اور کالجوں کا شہر ہے لیکن آج بھی اس شہر کے مضافات میں صدیوں پرانے آثار جا بجا نظر آتے ہیں۔ان میں سے ہی ایک "منگھو پیر کا مزار” ہے۔ جو شہر کے شمالی جانب سہراب گوٹھ سے تقریبا آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پہاڑی مقام ہے جو کراچی اور بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کی پہاڑی سلسلے کیرتھر رینج کی شاخ پر واقع ہے۔
    جب اس پہاڑی کے اوپر پہنچتے ہیں تو آپ کو ایک درگاہ ملے گی جو حضرت خواجہ حسن سلطان عرف” منگھو پیر” کی ہے اور یہ علاقہ ان کے ہی نام سے موسوم ہے۔
    المعروف منگھو پیر دراصل افریقی النسل تھے جو عراق میں رہائش اختیار کئے ہوئے تھے اورتیرہویں صدی میں جب منگول عراق پر حملہ آور ہوئے تو منگھو پیر عراق چھوڑ کر براستہ جنوبی پنجاب اور سندھ اس مقام تک پہنچے جہاں اب ان کا مزار واقع ہے۔ یہاں عبادت کے لئے کھجور کے بیسیوں درختوں کے سائے والی ایک پہاڑی مقام منتخب کیا اور وہیں سکونت اختیار کر لی ۔آپ پاک پتن شریف کے بابا فرید گنج شکر کے پیروکاروں میں سے تھے۔اس علاقے کے اطراف مایی گیروں کی بستی تھی جن میں افریقی نسل کے سیاہ فام آباد تھے یہ دراصل ان افریقی غلاموں کی اولادیں ہیں جنہیں 10 ویں اور 17 ویں صدی کے دوران عرب، فارسی، ترک اور یورپی حملہ آور یہاں لائے تھے جنہیں "شیدی”یا "مکرانی” کہا جاتا ہے یہ بلوچی زبان بولتے ہیں۔ یہ قوم اب زیادہ تر کراچی کے علاقے لیاری اور بلوچستان کے علا قے مکران میں آباد ہیں ،پھر آہستہ آہستہ وہاں کے مقامی لوگوں نے منگھو پیر کی پیروی شروع کر دی اور وہ شیدیوں کے روحانی پیشوا بن گئے۔ جب منگھو پیر کا انتقال ہوا تو ان کے مریدین نے اسی مقام پر ان کا مزار بنا دیا جس جگہ وہ عبادت کیا کرتے تھے۔
    منگھو پیر کے مزار کے ساتھ ہی ایک تالاب بھی موجود تھا جس میں سینکڑوں مگر مچھ ہر وقت موجود رہتے ہیں اس کے علاوہ گندھک کے پانی کا گرم اور ٹھنڈا چشمہ بھی موجود ہے۔آج بھی زائرین کی بڑی تعداد اس سے فیضیاب ہو رہی ہے۔
    کراچی شہر میں صدیوں سال قدیم اس مزار سے منسوب کئ دیومالائ داستانیں منسوب ہیں۔عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ کوئ بھی جلدی امراض کامریض پہلے چشمہ کے گرم پانی سے پھر ٹھنڈے پانی سے غسل کر لے گا تو بابا جی کی دعا سے وہ مریض فوری شفایاب ہو جاتا ہے اور تالاب میں موجود مگر مچھ کو جو گوشت کھلاتا ہے تو اس کی مرادیں پوری ہو جاتی ہیں کہتے ہیں یہ مگرمچھ کئ ہزار سال سے یہاں موجود ہیں اور کوئ عقیدت مند تو یہاں تک کہتے ہے کہ یہ مگر مچھ دراصل بابا جی کی جوں تھیں جو ان کی کرامات سے مگر مچھ بن گئیں اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ وہاں کے مگر مچھ مٹھائ بھی کھالیتے ہیں۔بحر حال کچھ بھی ہو لیکن یہ بات درست ہے کہ زائرین کی ایک بڑی تعداد اس مزار پر آتی ہے اور چشمہ میں ڈبکی بھی لگاتی ہے اور مگر مچھ کو گوشت بھی کھلاتی ہے۔۔منگھو پیر کا عرس ہر سال زالحج میں منعقد ہوتا ہے۔علاوہ ازیں ہر سال ساون کے مہینے میں شیدی قبیلہ یہاں اپنا میلہ بھی بھی سجاتے ہیں چار روزہ اس میلے کا آغاز سب سے بڑے مگر مچھ جس کو "مور” کہا جاتا ہے،کوماتھے پر سندورکا ٹیکہ لگا کر تیار کیا جاتا ہے اس پر پھولوں کی چادر پہنائ جاتی ہے پھر بکرا زبحہ کر کے اس کا خون اس بڑے مگر مچھ کے جسم پر مل دیا جاتا ہے پھر شیدیوں کے زیلی قبیلہ کا سردار اسے اس بکرے کی کھوپڑی کھلاتا ہے اور اگر اس مگر مچھ نے وہ کھوپڑی کھا لی تو فورا ایک ڈرم س ڈھول بجنا شروع ہو جاتا ہے اس ڈھول کو "مگرمان”کہتے ہیں یہ مگرمان شیدیوں کا روحانی ساز ہے جس کی تھاپ پرمرد سور خواتین محو رقص ہو جاتے ہیں دوران رقص ان پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اس رقص کے ساتھ ہی ایک مخصوص زبان میں شیدی عورتیں کورس کے انداز میں ورد کرنا شروع کر دیتی ہیں اور باقی کچھ مرد ایک مخصوص دھمال شروع کر دیتے ہیں ان پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور لوگ ان سے مستقبل کے متعلق سوال کرنے لگتے ہیں۔ اور اسی دوران بکرے کا باقی ماندہ گوشت بھی اس مگر مچھ اور دیگر کو کھلادیا جاتا ہے۔دراصل ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اگر مگرمچھ ان کا گوشت کھا لے تو وہ سال بہت اچھا گزرے گا اور اسی لئے اس کے گوشت کھانے پر بہت خوشی منائ جاتی ہے جبکہ اسکے برعکس اگر مگر مچھ گوشت نہ کھائے تو پھر مجمع میں اداسی چھا جاتی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آنے والا سال ان کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔۔اسی طرح دوسرا دن شیدیوں کے دوسرے قبیلے کا ہوتا ہے وہ بھی اسی انداز میں ایسا ہی کرتے ہیں جیسے پہلے بتایا گیا۔شیدیوں کے چار بڑے گروپ پاکستان میں آباد ہیں اور ہر روز ایک نئے گروپ کے سربراہ کو یہ موقع دیا جاتا ہے یوں یہ میلہ ہنستے مسکراتے ناچتے گاتے اختتام پزیر ہو جاتا ہے۔
    صدیوں سے جاری یہ رسم۔اور یہاں کی طلسماتی دنیا یقیننا دلچسپی سے خالی نہیں اگر اوقاف،آثار قدیمہ اور ٹورزم کے محکمے اس جگہ کو اور یہاں پر پائ جانے والی صدیوں پرانی روایات اور ثقافت کو جدید انداز میں اجاگر کریں اور اس مقام پر ملکی اور غیر ملکی ٹورسٹ کو سہولیات بہم پہنچائیں توقوی امید کی جاسکتی ہے کہ کثیر تعداد میں یہاں ٹورسٹ آنا شروع ہو جائیں اس طرح ملک کو زر مبادلہ بھی حاصل ہو اور مقامی لوگوں کو روزگار بھی۔

    ‎@Azizsiddiqui100