Baaghi TV

Category: تعلیم

  • بے روزگاری اور ہمارے نوجوانوں کی کیرئیر کونسلنگ تحیریر: وسیم سید 


    twitter : @S_Paswal

    ‏ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی بحران اور کم شرح نمو کا شکار ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق بے روزگاری کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ اور مہنگائی آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہے ماہرین معاشیات کے مطابق بے روزگاری کی موجودہ لہر خطرناک رجحان کی علامت ہے۔ بہت سے ماہرین معاشیات اس بارے میں اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں کل افرادی قوت میں سے بے روزگار افراد کی تعداد میں تیزی سے بڑہ رہی ہے۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ ملک میں اس وقت تقریبا 67 67 ملین افرادی قوت ہے۔ ان میں سے اگر 18.5 ملین لوگ بے روزگار ہو جاتے ہیں تو یہ تعداد 25 فیصد کے قریب ہو جاتی ہے اور بے روزگاروں کی اتنی بڑی تعداد کا اندازہ ملکی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں لگایا گیا تھا۔ 

    ‏کیریئر کی بے چینی ، مستقبل کے عدم تحفظ کے جذبات ہمارے نوجوانوں کے ساتھ ایک عام مسئلہ ہے۔ میرے خیال میں ہم سب کو ک اس پر کھل کر بات کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے نوجوان طلباء کو ڈگریاں مکمل کرنے کے بعد کچھ نہ کرنے پر دباؤ ، طعنہ یا طعنہ نہیں دینا چاہیے۔ یہ ان سب کو ذہنی طور پر پریشان کر تاہےل پاکستان میں جاب مارکیٹ سے نبرد آزما ہیں۔ لڑکیاں سماجی ایڈجسٹمنٹ اور ڈگریوں کے بعد شادی کر رہی ہیں۔ میں اس مرحلے سے گزرنے والے بہت سارے لوگوں سے ملتی  ہوں۔ زیادہ تر اس کا اظہار نہیں کرتے اور جب کچھ اظہار کرتے ہیں تو میں انہیں مندرجہ ذیل تجویز کرتا ہوں:

    ‏دوسروں کے ساتھ اپنے کیریئر کا موازنہ ڈپریشن لاتا ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ نوکری یا شادی کے لیے دیر کر رہے ہیں لیکن نہیں۔ ابھی آپ کا وقت نہیں آیا۔ موازنہ کرنا بند کریں۔ کوئی پہلے کیوں کما رہا ہے یہ آپ کے حالات اور حالات سے متعلق نہیں ہے۔ ذرا دیکھیں کہ کیا آپ محنت کا حصہ گنوا رہے ہیں اور اس کا محاسبہ کریں 

    ‏سماجی دباؤ ایک حقیقت ہے لیکن مایوس ہونے کے بجائے اس سے نمٹنا سیکھیں۔ ان لوگوں سے پرہیز کریں جو فطرت میں حوصلہ شکنی کر رہے ہیں اور ان لوگوں کے ساتھ رہنے کی کوشش کریں جو تخلیقی ہیں ، آپ کی شخصیت کی تعریف کریں اور آپ کو لگتا ہے کہ وہ آپ کی فلاح و بہبود کے لیے حقیقی فکر رکھتے ہیں۔ 

    ‏کمفرٹ زون سے باہر نکلیں اور اپنے آپ کو مصروف رکھیں۔ یہ نہ صرف آپ کو کامیابی کے قریب لائے گا بلکہ آپ کو اس پریشانی سے بھی نجات دلائے گا کہ آپ اس وقت  کیریئر کی بربادی کے احساس کی وجہ سے گزر رہے ہیں۔ میں عام طور پر صلاح دیتی ہوں کہ مہارت کی طرف راغب ہوں ہنر کی ترقی انتہائی اہم ہے کیونکہ ہمارا ڈگری نصاب بدقسمتی سے اس کا احاطہ نہیں کرتا ہے۔ اپنے ٹولز سے متعلقہ ٹولز پر تجربہ حاصل کریں۔ اس کے لیے آن لائن مفت کورسز میں داخلہ لیں۔ 

    ‏پھر اہداف مقرر کریں اور ہر مقصد کو حصوں میں تقسیم کریں تاکہ اس کے لیے شیڈول کو حاصل کیا جاسکے۔ یہ مقصد کچھ بھی ہو سکتا ہے ، انٹرن شپ حاصل کرنا ، کل وقتی نوکری آنا یا مشاورت جو آپ کی دلچسپی کا ہو۔

    ‏ان لوگوں تک پہنچیں جو آپ کے موضوع سے متعلق ہیں اور اپنے مقاصد کے حصول میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔ ایک اچھا پیشہ ور سماجی حلقہ بنائیں۔ لوگوں کو بار بار کال کرنے سے پریشان نہ کریں اور کسی کے پاس آتے وقت ہمیشہ نرم لہجہ رکھین اور احترام کریں۔

    ‏میرے خیال میں سب سے اہم حصہ ذاتی فلاح ہے۔ اپنی ذاتی اور خاندانی ضروریات کے لیے ایک مخصوص وقت مقرر کریں۔ باہر چہل قدمی کریں ، باہر جائیں ، کوئی گیم کھیلیں۔ خاندان اور دوستوں کے ساتھ گھومیں جبکہ کام کے اجزاء پر بھی توجہ دیں جو آپ کو اپنے مقصد کی طرف کرنے کی ضرورت ہے۔ہر ایک کے ساتھ نرمی اور حوصلہ افزائی کریں۔ اپنی مہارتوں کو فراخدلی سے پیش کریں۔ اپنے کاموں کا ایک پورٹ فولیو بنانے کی کوشش کریں یہاں تک کہ اگر آپ اپنے موضوع سے متعلقہ کام مفت میں دے رہے ہیں۔ اپنی سیکھنے اور مہارت کی پیشہ ورانہ پیشکش تیار کریں۔ اپنے آپ کو ان کمیونٹیز میں نمایاں کریں جو آپ سے متعلق ہیں۔ ایک بار جب آپ یہ کام اور ذاتی معمول طے کرلیں گے ، آپ دیکھیں گے کہ آپ کا پیشہ ورانہ سماجی حلقہ بڑھتا جائے گا اور آپ ایک پورٹ فولیو بنانا شروع کردیں گے۔ کیریئر میں تاخیر یا ڈپریشن اور پریشانی میں مبتلا ہونے کے لیے آپ کو کم وقت ملے گا۔ ہمیشہ ایسے لوگ رہیں گے جو آپ کر رہے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے آپ کیا کریں۔ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ صرف ان لوگوں کی توقعات کا خیال رکھیں جو ان کے لیے اہم ہیں اور ان توقعات پر پورا اترنا ، یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ جذباتی اور نفسیاتی طور پر مضبوط رہیں اور اپنے آرام کے زون سے باہر مصروف معمولات کے لیے پرعزم رہیں۔ کمفرٹ زون ہمیشہ کمفرٹ زون سے باہر رہنے کے بعد آتا ہے۔ اور ایک آخری بات یاد رکھنا: عمر صرف ایک نمبر ہے۔ آپ کیریئر شروع کرنے میں کبھی دیر نہیں کرتے۔

  • دوہرا تعلیمی نظام اور حکومتی ذمہ داریاں از قلم جام محمد ماجد

    دوہرا تعلیمی نظام اور حکومتی ذمہ داریاں از قلم جام محمد ماجد

    دوہرا تعلیمی نظام یہ ایک ایسا لفظ ہے جو ہر عام و خواص سے لے کر حکومتی اور تعلیمی حلقوں میں ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے آخر کیوں آج تک اس سوال کا حقیقی اور معیاری حل تلاش کیوں نہیں کیا جا سکا کیوں کے سوال تو بہت ہیں اور ہر کوئی کرتا ہے لیکن اس کا جواب اور حل کوئی نہیں بتاتا دراصل قومی تعلیمی نظام کی پستی اور گراوٹ کا زمہ دار دوہرا تعلیمی نظام ہے اور تعلیمی نظام میں خرابی اور دوہرا پن کی وجہ ملک میں طبقاتی تقسیم ہے اور اس تقسیم کی بنیادی وجہ ملک پے عشروں سے مسلط لوگ تھے جن کی وجہ سے مڈل کلاس میں احساس محرومی پایا جاتا ہے کیوں کے ہر جگہ کی طرح تعلیمی اداروں میں اور اس نظام میں برسوں سے ایسے طاقتور لوگ ہیں…
    پتا نہیں وہ کونسے ارباب اختیار تھے جن کی وجہ سے دوہرا تعلیمی نظام رائج ہوا تھا دوہرے معیار تعلیم کی وجہ سے طلبہ کی صلاحیتیں متاثر ہوئی ہیں اور حال یہ ہے کے اسی طبقاتی سوچ کی وجہ سے ہماری قوم میں ڈگری یافتہ افراد کی بھیڑ تو ہے لیکن اس بھیڑ میں تعلیم یافتہ لوگ مشکل سے ملتے ہیں
    اس نظام تعلیم اور طبقاتی فرق کی وجہ سے میرے خیال میں چار طرح کی درجہ بندی ہے جن میں مدرسوں کے بچے سرکاری سکولوں کے طلبہ نام نہاد مہنگے پرائیویٹ سکول اور آخر میں آتے ہیں انتہائی مہنگی فیسوو والے انگریزی میڈیم سکول جن میں امرا کے بچے پڑھتے ہیں اس سوچ اور فرق کی وجہ سے ہم آج تک انگریزوں کے ذہنی غلام ہیں کیوں کے ہم ذہنی غلام لوگوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کے یہاں سے سے زیادہ عزت اسے ملے گی جو انگریزی بول سکتا ہو چاہے اس کو کوئی بنیادی معلومات نہ بھی ہوں لیکن ہماری قوم کی اسی سوچ کی وجہ سے ہی ہمارا حال یہ ہے کے ہمارے تعلیمی ادارے ڈگری یافتہ لوگ تو تیار کر رہے ہیں لیکن ڈاکٹر سائنسدان اور انجینیر نہیں تیار کر رہے اس کی وجہ یہ ہے کے طلبہ اپنی صلاحیت اور قابلیتوں کو پہچان ہی نہیں رہے جس سے ان کو مستقبل میں کسی بھی شعبے کا انتخاب کرتے ہوے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے فلاحی ریاستوں کی سب سے اہم ذمہ دار یوں میں تعلیم سب سے اہم ذمہ داری ہوتی ہے کیوں کے قوموں کے عروج اور زوال کا تعلیم اور اس قوم کے پڑھے لکھے لوگوں سے وابستہ ہے ایسے میں یہ ایک خوش آئند بات ہے کے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اس معاملے کو حل کرنے کے لئے اپنے منشور میں جو یکساں نظام تعلیم کا جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کر دیا ہے اور یہ عمران خان حکومت کا ملک پر بڑا احسان اور کامیابی ہے کے انہوں نے ملک میں یکساں نظام تعلیم کو رائج کر دیا جس سے امیر اور غریب کا طبقاتی فرق اور جو احساس محرومی پائی جاتی تھی کے امیر اور غریب کے بچوں کا الگ الگ نصاب اور نظام تھا وہ ختم ہو گیا بلاشبہ تحریک انصاف کی حکومت مبارک باد کی مستحق ہے.
    اللّه پاک سے دعا ہے اس امید کے ساتھ ہماری قوم کے بچے تعلیمی میدان میں اپنے اسلاف کے کارناموں کی طرح کامیابی حاصل کریں اور ملک و قوم کے لئے خدمات سر انجام دیں
    پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ.
    اللّه ہمارا حامی و ناصر ہو پاکستان زندہ باد
    کالم نگار سیاسی و سماجی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں
    ٹویٹر ہینڈل
    @Majidjampti

  • نجی تعلیمی ادارے مافیا نہیں مسیحا ہیں  تحریر: آصف علی یعقوبی

    نجی تعلیمی ادارے مافیا نہیں مسیحا ہیں تحریر: آصف علی یعقوبی

     

     نجی تعلیمی اداروں کے بارے میں اکثر کم پڑھے لکھے لوگوں کی جانب سے مافیا جیسے خطرناک الفاظ استعمال کرنا یا تو لاعلمی ہے یا منافقت۔ منافقانہ رویوں کو تو کسی تحریر یا کالم سے نہیں بدلا جاسکتا لیکن لاعلمی کو علم و تحقیق کے بعد ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں معاشرے کے ایسے چیزوں کے بارے میں حقائق پیش کرسکوں جس سے اکثریت کو لاعلم رکھا جاتا ہے اور میرا یہی قدم اصل میں علم کا لبادہ اوڑھے منافقین کے خلاف قلمی جہاد ہے۔ اس کالم میں میں تحقیق اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق یہ سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے مافیا نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کے ایسے ادارے ہیں جنہوں نے عوامی مقبولیت کی وجہ سے پاکستان میں "پبلک سکولز” کا درجہ حاصل کیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے لفظ مافیا کی تعریف کروں گا تاکہ سمجھنے والے حضرات منافقین کی تعلیم دشمنی کو سمجھ سکیں۔  مافیا خطرناک ترین جرائم کے مرتکب لوگوں کے ایک منظم گروہ کو کہا جاتا ہے۔ جیسے معاشرے میں تعلیمی لبادہ پہنے ایسے لوگ جو ملک کے بہترین تعلیمی نظام چلانے والے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کیخلاف پروپیگنڈے کرکے ان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اصل میں یہی مافیا ہیں۔ کیونکہ تعلیم جرم نہیں بلکہ تعلیم کیخلاف اکھٹے ہونا جرم عظیم ہے۔ نجی تعلیمی ادارے تو ملکی معیشت کو بہتر بنانے، بے روزگاری کو کم کرنے، معیاری تعلیم دینے، مستحق غریب اور خصوصاً یتیم بچوں کو مفت تعلیم دینے اور اس طرح کے دوسرے کار خیر میں حصہ ڈالنے کے حوالے سے سب سے بڑے مسیحا کے روپ میں موجود ہیں۔ محکمہ تعلیم خیبر پختونخواہ اور پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق اس وقت صوبے میں 8782 پرائیویٹ سکولز ہیں جن کی کل آمدن 2 ارب 90 کروڑ 43 لاکھ روپے ہیں۔ ان سکولوں کا کل خرچہ 2 ارب 41 کروڑ 71 لاکھ روپے ہیں۔ یعنی اگر ان تعلیمی اداروں کا اوسط معلوم کیا جائے تو ایک  سکول کا سالانہ آمدن تقریبا” 55 ہزار روپے بنتا ہے۔ تعلیم دشمن مافیا ان نجی سکولز کیخلاف یہ پروپیگنڈے کرتے ہیں کہ وہ فیس بہت لیتے ہیں تو ان کو حکومت سے جاری ہونے والے یہ اعداد و شمار بھی جاننے چاہیئے کہ ان 8782 رجسٹرڈ تعلیمی اداروں میں 6 ہزار 9 سو 35 ادارے ایسے ہیں جن کی فیسز 500 سے 2000 تک ہیں۔ 10 ہزار فیس لینے والے سکولز 104، 15 ہزار فیس لینے والے 23 جبکہ 40ہزار تک فیس لینے والے سکولز کی تعداد 5 ہیں۔ ان محدود وسائل میں اگر تعلیمی کارکردگی کی بات کی جائے تو نجی تعلیمی ادارے پرائمری سطح پر 40 فیصد جبکہ ہائی سطح پر 60 فیصد بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرکے سرکار کی مدد کرتی ہے۔ فلاحی طور پر بھی یہ ادارے ہزاروں مستحق یتیم اور غریب بچوں کو مفت تعلیم اور کتب فراہم کرتی ہیں۔ جبکہ گشتہ 4 سال سے ایسے 90 ہزار بچوں کو بھی راضی کرکے مفت تعلیم دے رہے ہیں جنہوں نے مکمل طور پر سکول چھوڑا تھا۔ نجی تعلیمی ادارے بیروزگاری کے اس طوفان میں بھی صرف خیبر پختونخواہ میں 1 لاکھ سے زیادہ افراد کو باعزت روزگار دیکر ریاست کو معاونت  فراہم کر رہے ہیں۔ ان چند تحقیقی سطوروں سے واضح ہوگیا کہ نجی تعلیمی ادارے وطن عزیز میں ایک روشن اور تعلیم یافتہ پاکستان کی ضمانت اور وطن عزیز کے غریب عوام کے لئے مسیحا ہیں۔ ان اداروں کی خدمات کا اعتراف کرکے حکومت کو ایک قانون پاس کرنا ہوگا کہ تعلیم کے ان محسنوں کے لئے مافیا جیسے خطرناک الفاظ اور مخالف پروپیگنڈوں پر سخت پابندی عائد کریں اور عوام بھی ان تعلیمی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور سپورٹ کا مظاہرہ کریں کیونکہ اگر 56 ہزار اوسطاً کمانے والے مافیا ہوگئے تو پھر معاشرے میں کروڑوں روپے کمانے والے کاروباری حضرات، لاکھوں روپے کمانے والے ڈاکٹرز اور ایک کیس کے ہزاروں،  لاکھوں روپے لینے والے وکلا تو مافیا کے باپ کہلانے کے قابل ہیں

  • پنجاب بورڈز نتائج میں تاخیر کیوں؟ تحریر محمد ناصر بٹ

    پنجاب بورڈز نتائج میں تاخیر کیوں؟ تحریر محمد ناصر بٹ

    کورونا آیا تو سب بہا لے گیا، جہاں ایک طرف معاشی چیلنجز کھڑے ہوئے تو دوسری جانب تعلیمی اداروں میں حکومت، ٹیچرز اور سٹوڈنٹس کو بھی آمنے سامنے کھڑے ہونے پر مجبور ہونا پڑا، حکومت کبھی اداروں کو بند کبھی امتحانات کو آن لائن کرکے ایسے تیسے گزارا تو کرتی گئی لیکن جب بغیر پڑھائے امتحانات کا وقت آیا تو بلا لیا گیا بچوں کو سینٹرز میں اور امید کی گئی کہ سب بچے آئیں گے بھی، ایسا ہوا تو ضرور لیکن ایک بڑی تعداد حکومتی پالیسی سے نالاں امتحانی مراکز کا رخ نہ کر سکی، ان تمام ناراض بچوں کے لیے حکومت نے احساس ہونے پر بین الالصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ ان کو نہ صرف دوبارہ بیٹھنے کا موقع ملے گا بلکہ سیپلمنٹری کا ٹیگ بھی ان کے رزلٹ کارڈز کی زینیت کو مدھم نہیں کرے گا، پنجاب حکومت سمیت ملک بھر کے 30 تعلیمی بورڈز کو احکامات پہنچا دئیے گئے لیکن وہ کہتے ہیں نہ دیر کردی مہربان آگے آتے، زبانی کلامی احکامات تو ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا نے فی الفور متعلقہ اداروں تک پہنچا دئیے لیکن سرکاری کام میں احکامات بھی سرکاری اور تحریری ہی مانے جاتے ہیں تو سلسلہ چل پڑا ایک ڈیپارٹمنٹ سے دوسرے اور اس کے بعد تیسرے کا، یعنی قانونی پیچیدگیوں کے سمندر سے تیر کر آخر کار بین الالصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کے فیصلوں کا ڈرافٹ پنجاب حکومت کے ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ تک 29 تاریخ کو پہنچ ہی گیا، اب مسئلہ پیش آیا کہ پنجاب کے نو بورڈز تو 30 ستمبر یعنی اگلے ہی دن رزلٹ اعلان کرنے کی تاریخ دے بیٹھے تھے لیکن قانونی مسئلہ یہ بھی نظر آیا کہ سب بچوں کو پاس کرنے، سیپلیمنٹری ٹیگ ہٹانے سمیت وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے دیگر فیصلوں کو پالیسی کا حصہ نہ بنایا گیا تو کل نہ صرف بورڈز بلکہ سٹوڈنٹس کے لیے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں تو کڑوا گھونٹ بھر ہی لیا گیا اور ایک پریس ریلیز کے ذریعے بچوں کو رزلٹ بوجہ کابینہ اجلاس میں پروموشن پالیسی نہ منظور ہونے کے ملتوی کر دیا گیا، اب ایسا ہونا ہی تھا کہ سوشل میڈیا پر فیک نیوز منڈی میں دکانداروں کی تو جیسی سیل لگ گئی، ہر دوسرا رزلٹ کینسل ہونے کی مختلف وجوہات بتانے دکان سجا کر بیٹھ گیا، کسی نے پروموشن پالیسی خطرے میں قرار دی تو کسی نے سرے سے رزلٹ ہی غائب کر دیا، خیر تازہ اور حقائق پر مبنی خبر کی تلاش میں کامیابی سمیٹنے والوں نے یہ بتایا کہ انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کا رزلٹ آئندہ ایک ہفتے کے دوران آسکتا ہے جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ نئی پالیسی تو دوبارہ ری ڈیزائن کی جا چکی لیکن چیف سیکریٹری پنجاب کے اسلام آباد میں موجود ہونے کی وجہ سے اس کی منظوری نہ ہوسکی جس کی وجہ سے پالیسی ڈرافٹ وزیراعلی پنجاب کی ٹیبل تک بھی نہ پہنچ سکا اور نہ ہی وزارت قانون کی راہداریوں پر چڑھ سکا، اب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب یہ کہتا ہے کہ ہفتے کے آخری ایام ہونے کی وجہ سے منظوریوں کا سلسلہ سوموار سے ہی شروع ہوگا جس میں بہرحال دو سے تین روز لگ سکتے ہیں تاہم میٹرک کا رزلٹ 16 اکتوبر کو ہی آئے گا

    Twitter:
    @Mnasirbuttt

  • تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے،؟!  تحریر: تیمور خان

    تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے،؟! تحریر: تیمور خان

     

    جب میں اپنے معاشرے کے لوگوں کو دیکھتا ہوں تو میرے ذہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں جن میں سب سے اہم سوال تعلیم کے متعلق ہے۔  شاید تعلیم کندھوں پر بڑھتے بوجھ کا نام ہے ، شاید تعلیم ان پرانی کتابوں کا نام ہے ، شاید تعلیم ایک ایسی دوڑ ہے جس میں ہر انسان دوسرے انسان کو پیچھے چھوڑنا چاہتا ہے ، شاید تعلیم کی اہمیت صرف ایک کاغذ پر مبنی ہے  جس کو ہم ڈگری کہتے ہیں اور وہ اس تک محدود ہے۔  آخر ایسی تعلیم کا کیا فائدہ ہے جس کا وہ مطلب نہیں جانتے کہ میں نے کیا پڑا کیا لکھا؟

     ہماری نظر میں صرف وہی لوگ ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں جو اچھی انگریزی بولتے ہوں، اچھے کپڑے پہنتے ہوں، وہی لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ سمجھے جاتے ہیں ، ہمارا ذہن ان باتوں کو کیوں مانتا ہے؟  ہمیں تعلیم حاصل بھی کرتے ہیں اور ہمیں سکھایا بھی جاتا ہے لیکن ہمیں تعلیم کا صحیح مطلب اور مقصد نہیں سکھایا جاتا۔  اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ ہمارے خیال میں تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے تو ہم کہیں گے کہ ہمیں ڈاکٹر ، انجینئر ، وکیل پائلٹ ہو ٹیچر بننا ہے اور پیسہ کمانا ہے ، لیکن تعلیم کی اہمیت اور مقصد ان چند الفاظ کے گرد گھومتا ہے؟   تعلیم صرف پیسہ کمانے کے لیے نہیں ہے ، تعلیم صرف ڈگری یا نوکریاں حاصل کرنے کے لئے ہرگز نہیں ہے ہماری سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی نے درست کہا ہے کہ جب تعلیم کا بنیادی مقصد نوکری حاصل کرنا ہوتا ہے تو معاشرے میں صرف نوکر ہی پیدا ہوتے ہیں نہ کہ لیڈر اور یہی آج کل میں اپنے معاشرے میں دیکھ رہا ہوں۔

     افسوس کی بات ہے کہ جن کے پاس ڈگریاں ہیں ، ہم ان کو پڑھا لکھا سمجھتے ہیں اور جن کے پاس ڈگریاں نہیں ہیں ، ہم انہیں جاہل سمجھتے ہیں ، لیکن میرا خیال ہے کہ ہر وہ شخص جو صحیح اور غلط اور اچھے یا برے میں فرق پڑھے کیونکہ میں نے دیکھا ہے  پڑھے لکھے میں جاہل لوگوں کو  اور جاہلوں میں پڑھے لکھے کو بھی،  اگر ہم تعلیم کے معنی کو غور سے سمجھنے کی کوشش کریں تو علم انسان کی تیسری آنکھ کی طرح لگتا ہے۔

     دو آنکھوں سے ہم دنیا کے خوبصورت مناظر دیکھتے ہیں مگر علم کی آنکھ سے ہم عقل اور سمجھ کے مشکل مراحل سے گزرتے ہیں۔  جاہل اور پڑھے لکھے میں کوئی فرق نہیں۔  میری نظر میں جاہل وہ ہیں جو اپنے علم کے باوجود ناانصافی کرتے ہیں ، اپنی صلاحیتوں کا غلط استعمال کرتے ہیں۔  میری نظر میں وہ لوگ بھی جو صرف جہالت اور بے ہوشی کی فہرست میں ہیں ان کی فہرست میں جو پڑھاتے ہیں لیکن عملی طور پر وہ کچھ نہیں کرتے۔  

     عمل کے بغیر علم برائی ہے اور علم کے بغیر عمل گمراہی ہے ، یعنی علم اور عمل دونوں ضروری ہیں ، کوئی بھی کافی نہیں ہے۔  اگر علم آنکھ ہے تو عمل اس کا وژن ہے ، اگر علم زندگی ہے تو عمل شعور ہے ، اگر علم تعلیم ہے تو عمل تربیت ہے ، اگر علم پھول ہے تو عمل خوشبو ہے۔  علم شعور ہے۔  علم بنیادی طور پر قابلیت ، قابلیت اور ذہن کی کشادگی کا نام ہے ، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم نے خود ان چیزوں کو جاننے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کسی نے ہمیں یہ باتیں بتانے کی زحمت کی۔  اور آج ہم اس فرق کو بھول گئے ہیں اور ہماری برتری صرف ڈگریاں اور نوکریاں ہیں اور ہم انسانیت سے اس قدر دور چلے گئے ہیں کہ واپسی کی کوئی علامت نہیں ہے۔

    اس جدید دور میں ، تعلیم کا مقصد اس بات کو پوری طرح پہنچانے کے لیے کافی نہیں ہے کہ صرف سیکھنا ہماری زندگی میں کیا نکات لاتا  ہے۔  تعلیم ایک سے زیادہ مقاصد کو پورا کرتی ہے – ایک ایسے سپیکٹرم کے ذریعے جو ہماری زندگی کے معاشی ، سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔  یہ اب محض خیالات اور علم کو آنے والی نسلوں تک منتقل نہیں کر رہا ہے اور نہ ہی یہ صرف مالی مستحکم کیریئر کی تیاری کے لیے ہے۔  یہ ان خیالات کو بھی لے رہا ہے اور انہیں ہماری زندگیوں اور ہمارے آس پاس کی دنیا میں لاگو کر رہا ہے۔  اس کے نتیجے میں ، تعلیم کی کثیر جہتی نوعیت اپنے شاگردوں میں ہمہ گیر ثقافتی تنوع کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے ، ہمارے مطالعے میں تنقیدی سوچ کی وکالت کرنے ، اور ایسے مواقع لے کر ہماری زندگیوں کو تقویت دینے کی کوشش کرتی ہے جو ہماری زندگیوں میں اضافہ کرتے ہیں۔  دنیاوی تجربات  تعلیم کے ان پہلوؤں کو پورا کرتے ہوئے ، یہ ضروری قدم ہمیں علم اور حکمت مہیا کرتے ہیں جو معاشرے اور جوانی میں ہماری شروعات کو تیار کرتے ہیں, تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے، کہ ہمیں تعلیم کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم کو سمجھنا بھی چاہئے، تاکہ ہمارا آنے والا کل روشن ہو، اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    @iTaimurOfficial

  • پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام تحریر: محمد عمران خان

    پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام تحریر: محمد عمران خان

    دنیا میں کسی بھی معاشرے میں خواندگی کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ خواندہ لوگ معاشرے کی ترقی و خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں۔ پڑھے لکھے افراد ہی معاشرے میں بہترین انتظامات اور مسائل کا حل پیش کرسکتے ہیں۔ نا خواندہ معاشرہ کسی جنگل یا حیوانوں کے مسکن کی پرح ہوتا ہے جہاں نہ کوئی قانون ہوتا ہے نہ ہی اس کی عملداری، بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا سسٹم ہوتا ہے۔

    دنیا کے دیگر ممالک کی طرح وطن عزیز پاکستان میں بھی تعلیم کی ترقی کے بلند و بالا نعرے لگائے جاتے ہیں۔ طلباء و طالبات کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے راگ الاپے جاتے ہیں۔ سکالرشپس اور وظائف کے اجراء کے لیے کروڑوں کے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔ مگر آخر میں جب تفتیش ہوتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وفاقی سطح سے یونین کونسل سطح تک کے آفیسران کی ملی بھگت سے وہ فنڈز ان کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوچکے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں تعلیمی نظام انتہائی دگرگوں حالت سے دوچار ہے۔ صاحب استطاعت طبقہ سرکاری نظام تعلیم کی بجائے پرائیویٹ نظام تعلیم کی طرف جانا زیادہ پسند کرتا ہے۔ مگر جو غرباء یا اوسط طبقہ کے لوگ ہیں وہ اپنے بچوں کو پڑھانے کی بجائے پچپن سے کام کاج پر لگا دیتے ہیں تاکہ وہ ان کا سہارا بن سکیں۔ معصوم بچے جب لاشعوری کی حالت میں کسی کام پر جاتے ہیں تو ان کا معاشی استحصال شروع ہوجاتا ہے۔ انتہائی کم اجرت پر گھنٹوں کام لیا جاتاہے۔ ایسے حالات یا تو لاقانونیت کی بنیاد بنتے ہیں یا جرائم کی۔ 

    پاکستان میں پرائیویٹ سکولز مافیاز بھی سرکاری نظام تعلیم کو نقصان پہنچانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ وہ غیر معیاری تعلیم دے کر بچوں کے مستقبل کو روشن کرنے کی بجائے تاریک کردیتے ہیں۔ زیادہ فیسوں کے حصول کے لیے بچوں کو بغیر کچھ پڑھائے اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا جاتا ہے تاکہ والدین کی خوشنودی حاصل کی جاسکے۔ مزید پرائیویٹ سیکٹر کی سرکاری عہدیداروں کے ساتھ ملی بھگت سے سرکاری سکولوں کو یا تو سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں یا پھر سرے سے سکول کو عملہ ہی فراہم نہیں کیا جاتا۔ 

    اگر دوسری جانب سرکاری سطح پر دیکھا جائے تو نظام تعلیم کی بہتری کی طرف کوئی عملی قدم اٹھتا ہوا نظر نہیں آتا۔ پاکستان کو 73 سالوں میں یکساں نظام تعلیم نہیں مل سکا۔ اسی طرح یکساں نصاب بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ دیہی علاقوں میں سکولز بند پڑے ہیں یا عملہ ہی موجود نہیں ہے۔ 

    ہائیر ایجوکیشن کی طرف دیکھا جائے تو وہاں بھی حالات ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔ کالجز اور یونیورسٹیز میں مؤثر طریقہ تعلیم نہ ہونے سے اکثر طلباء بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں اور غلط دھندوں میں پڑنے سے اپنی زندگیاں برباد کر ںیٹھتے ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کے بعد طلباء کو واضح رہنمائی کا بھی کوئی سسٹم موجود نہیں کہ کس طالب علم کے لیے کونسی فیلڈ بہتر ہے۔ اس طرح ٹیلنٹ بھی سامنے نہیں آسکتا۔ طلباء کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ انہوں تعلیم مکمل کرنے کے بعد کیا کرنا ہے۔ مؤثر رہنمائی نہ ہونے سے طلباء تعلیم مکمل کرنے کے بعد معاشی نظام پر بوجھ بنتے ہیں۔ نوکریوں کی تلاش میں پھرتے طلباء غربت سے تنگ آکر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے بھی کسی قسم کی سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی کہ طلباء اور تعلیمی نظام کے اندر کن اصلاحات کی ضرورت ہے۔

    لہٰذا ہمارا تعلیم نظام دنیا کے پسماندہ ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس سے بڑی تذلیل اور فکر کی بات کیا ہوگی کہ پاکستان کی کوئی بھی یونیورسٹی دنیا کی ٹاپ 500 یونیورسٹیز میں شامل نہیں ہے۔ اعلیٰ اور مؤثر ذرائع نہ ہونے کے سبب پاکستانی طلباء عالمی سطح پر اپنی خدمات پیش کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستانی حکومت کو تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ تاکہ پاکستانی طلباء بھی دنیا کے شانہ بشانہ کھڑے ہو سکیں۔

    تحریر: محمد عمران خان

    Twitter Handle: @ImranBloch786

  • پاکستانی صحافیوں کا پاکستان میں پھنسے طلباء سے سفری پابندیاں ہٹانے کی اپیل۔ تحریر: یاسر اقبال خان

    پاکستانی صحافیوں کا پاکستان میں پھنسے طلباء سے سفری پابندیاں ہٹانے کی اپیل۔ تحریر: یاسر اقبال خان

    ‏اچھی تعلیم اور اچھی نوکری ہر نوجوان کا خواب ہوتا ہے اور اپنا ملک چھوڑ کر ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کے حصول کیلئے جانا ہر نوجوان کا خواب ہوتا ہے لیکن کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال ہر انسان کیلئے معاشی اور سماجی خطرہ بن گیا ہے۔ اس کورونا وبائی بیماری نے پوری دنیا کو مکمل طور پر اپنے شکنجے میں لے لیا ہے۔ وہ نوجوان نسل جنہوں نے اپنی خوابوں کی تكمیل کیلئے ترقی یافتہ ممالک تعلیم کیلئے جانا تھا وہ اپنے ہی ملک میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ 

    ایسا ہی کچھ حال پاکستانی طلباء کا ہے جو دو سالوں سے چین کا ویزا حاصل کرنے کے انتظار میں ہیں۔ دسمبر 2019ء میں چین نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ابتدائی طور پر کیے جانے والے اقدامات میں تعلیمی اداروں کو بند کردیا تھا اور طلبا کو ویزا دینے پر پابندی عائد کی تھی۔ یہ پاکستانی طلباء چین کے یونیورسٹیز میں BS, MS اور PhD کی ڈگریاں پڑھ رہے ہیں اور کورونا وبا کی وجہ سے چین کا ویزا نہ ملنے پر ان طلباء کا معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ معمولات زندگی اور تعلیمی کیریئر متاثر ہو رہا ہے۔ یہ طلباء covid-19 کے وبائی بیماری میں پاکستانی حکومت سے ہر دن مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان پر سفری پابندیاں ختم کرنے کیلئے کچھ مدد فراہم کیا جائے۔ 

    ان طلباء کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے پاکستانی میڈیا کے صحافی بھی میدان میں آگئے ہیں اور حکومت وقت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم ان نوجوان طالب علموں کیلئے چینی حکومت سے بات کی جائے اور ان کے سفری مسائل حل کئے جائے تاکہ جلد از جلد یہ طلباء چین جا کر اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔

    پاکستان کے صحافی انور لودھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر طلباء کے حق میں لکھتے ہیں کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی چینی حکام سے پاکستانی طلباء کی حالت زار کے بارے میں بات کرے جو کورونا وبا کے دوران پاکستان آئے تھے۔ اب چینی حکومت انہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے چین واپس جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔  اس معاملے کو جلد از جلد حل کیا جائے۔

    پاکستان کے جانے پہچانے صحافی حامد میر نے بھی طلباء کی مدد کرنے کیلئے آواز بلند کیا سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر لکھتے ہیں کہ چین کی حکومت ہمارے بچوں کی بات پر توجہ دے۔ 

    نجی ٹی وی کے صحافی سلیم صافی بھی پاکستانی حکومت پر طلباء کے سفری مسائل ختم کرنے کا کہہ رہے۔

    انیلہ خالد نامی صحافی بھی حکومت وقت سے پاکستانی طلباء کے سفری مسائل حل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

    نجی ٹی وی کے صحافی معید پیرزادہ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک آرٹیکل شیر کیا اور لکھتے ہیں کہ اسلام آباد کے پاس بیجنگ کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے کچھ مہارت ہونی چاہیے تاکہ طلباء چین واپس جا سکیں۔

    طلباء کے پریشانیوں کو دیکھتے ہوے اینکر شعیب جٹ چین کے صدرشی جن پنگ سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پاک چین سے اچھے تعلقات ہیں اور طلباء آپ کی مدد کو دیکھ رہے ہیں۔ 

    نجی ٹی وی سے تعلق رکھنے والی صحافی شازیہ زیشن اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو میسج میں پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کا معاملہ حکومت پاکستان کے سامنے اٹھا رہی ہے۔

    پاکستانی میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک اور صحافی عبدالقادر نے پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کی مدد کرنے کیلئے دفتر خارجہ سمیت حکومتی حکام پر زور دیا کہ یہ مسئلہ حل کرا یا جائے۔ 

    اس کے ساتھ باغی ٹی وی نے بہت بار پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کیلئے آواز اٹھایا ہے اور ہر ذمہ دار ذرائع پر زور دیا ہے کہ طلباء کو ویزا جاری کرایا جائے اور انہیں چین واپس بھیجا جائے. 

    Twitter: @RealYasir__khan

  • یکساں تعلیمی نصاب اور روشن پاکستان تحریر؛حنا

    یکساں تعلیمی نصاب اور روشن پاکستان تحریر؛حنا

    آپ جانتے ہوں گے ۔کچھ دن پہلے پورے پاکستان میں یکساں تعلیمی نصاب کا قانون بنا دیا گیا ہے ۔۔اور پرائمری لیول تک پورے ملک میں یکساں نصاب پڑھایا جاے گا ۔اس پر ایک مخصوص گروہ کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے ۔ہمارا مسئلہ يہ ہے کہ ہم ہر چيز کو مخصوص عينک لگا کر ديکهتے ہيں اور اپنے مطلب کے معنی اخذ کرتے ہيں۔يہی وجہ ہے کہ ہميں صرف قابلِ اعتراض چيزيں ہی نظر آتی ہيں جو بعض اوقات قابلِ اعتراض ہوتی بهی نہيں ہيں۔۔‏جیسے دین بیزار feminists،liberals پاگلوں کی طرح نئے یکساں تعلیمی نصاب کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ تڑپ رہے ہیں۔ لڑکی کو نماز پڑھتی کیوں لکھا، عورتوں کو دوپٹے میں کیوں دکھایا، لڑکے فٹبال کھیلتے کیوں لکھا لڑکی کیوں نہیں، لڑکی گھر کی صفائی کرتی کیوں دکھائی، عورتوں کو ٹیچر اور نرس ہی کیوں دکھایا۔ لڑکی زمین پر بیٹھی لڑکا کرسی پر کیوں ۔لڑکا زمین پر بیٹھا تو لڑکی کرسی پر کیوں ۔ان کے اعتراضات یا تنقید سے لگتا ہے کیا کہ کہیں سے بھی یہ پڑھے لکھے شعور والے لوگ ہے انھوں نے دنیا گھوم لی جہازوں میں سفر کر لیے ۔ہر ملک جا کر گوروں ساتھ سیلفیاں بھی بنوا لی لیکن ان کی سوچ سے آج بھی جھونپڑی میں رہنے والے اس محنت کش مزدور کی سوچ اچھی ہے جو ٹوٹی سائیکل پر بھی پرچم لگاتا ہے اور وطن سے محبت کا اظہار کرتا ہے. یہ کیسے لوگ ہے جو دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ پر گھومتے ہیں اور پھر گوروں کے سامنے اپنے ملک کو بدنام کرنے واسطے کچھ بھی بولتے رہتے ہیں ۔
    ہم ایک پاکستانی ہے ایک قوم ہے مانتے ہیں نہ تو ہم ایک نصاب کیوں نہیں بنا سکتے ہیںایک نصاب کیوں نہیں پڑھ سکتے ۔ ۔۔‏یکساں تعلیمی نصاب کی تجدید صرف کپتان نے اکیلے نے نہیں کی ۔ ۔اعلی تعلیم یافتہ افراد اور اسکالرز نے کی ہے. موجودہ معاشرے کے تمام اہم پہلو اور اخلاقیات کو بہتر کرنے کے حوالے سے مضامین شامل کئے گئے ہیں. تمام بڑے پبلشرز، سرکاری تعلیمی بورڈ اور پرائیوٹ اسکولوں منیجمنٹ ٹاسک فورس بھی اس میں شامل تھی.تنقید کرنے والے اس سے لاعلم ہیں۔۔۔تنقید کرنے والے کیا نہیں چاہتے کہ اس ملک کا غریب بھی پڑھ لکھ سکے ۔۔کیا نہیں چاہتے کہ جو کتابیں ان کے بچے پڑھ رہے ہیں ۔وہی کتابیں غریب کا بچہ بھی پڑھ سلے اپنا اچھا مستقبل بنا سکے ۔۔۔اگر ایسا نہیں تو تنقید اور حکومت کے اس فیصلے کو برا بھلا کیوں بول رہے ہیں
    یکساں نصاب کے اس فیصلے کو ہر باشعور پاکستانی کیطرف سے قابل تحسین قرار دیا گیا۔
    لیکن بیکن ھاؤس کے پرنسپل مائیکل تھامس نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔اس انکار کی وجہ شاید آپ جانتے ہی ہوں دو تین سال باقاعدہ سوشل میڈیا پر بیکن ہاوس کے خلاف کمپین چلائ گئ تھی ۔اس کمپین میں پڑھائے جانے والی نصابی کتب کے سکرین شاٹس شئیر ہوئے جن میں پاکستان کے ایسے نقشے تھے جہاں مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے علاوہ گلگت بلتستان کو بھی انڈیا کا حصہ دکھایا گیا تھا اور ان کتابوں میں ان کو ” انڈین سٹیٹس” لکھا ہوا تھا ۔
    بیکن ھاؤس پاکستان کا سب سے مہنگا سکول ہے۔
    ایک اندازے کے مطابق بیکن ھاؤس ماہانہ 5 تا 6 ارب اور سالانہ 60 تا 70 ارب روپیہ پاکستانیوں سے نچوڑتا ہے۔۔مطلب اتنا پیسہ کماتا ہے پاکستان سے ۔وہ بھی کس لیے؟ پاکستانی بچوں کے دماغوں میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کے واسطے ۔
    اس کے علاوہ لبرل ازم کا علمبرادار ” بیکن ھاؤس ہر سال پاکستانی سوسائٹی میں اپنے تربیت یافتہ کم از کم 4 لاکھ طلبہ گھسیڑ رہا ہے۔ یہ طلبہ پاکستان کے اعلی ترین طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سرکاری اداروں کے بڑے بڑے بیوروکریٹ، صحافی، سیاستدان، بزنس مین اور وڈیرے شامل ہیں۔
    مشہور زمانہ گرفتار شدہ ملعون آیاز نظامی کے الفاظ شائد آپ کو یاد ہوں جس کا کہنا تھا
    ہم نے تمھارے کالجز اور یونیوسٹیز میں اپنے سلیپرز سیلز ( پروفیسرز اور لیکچررز ) گھسا دئیے ہیں۔ جو تمھاری نئی نسل کے ان تمام نظریات کو تباہ و برباد کر دینگے جن پر تم لوگوں کا وجود کھڑا ہے۔ انہیں پاکستان کی نسبت پاکستان کے دشمن زیادہ سچے لگیں گے۔ وہ جرات اظہار اور روشن خیالی کے زعم میں تمھاری پوری تاریخ رد کردینگے۔ انہیں انڈیا فاتح اور تم مفتوح لگو گے۔ انہیں تمھارے دشمن ہیرو اور خود تم ولن نظر آؤگے۔ انہیں نظریہ پاکستان خرافات لگے گا۔ اسلامی نظام ایک دقیانوی نعرہ لگے گا اور وہ تمھارے بزرگوں کو احمق جانیں گے۔ وہ تمھارے رسول پر بھی بدگمان ہوجائینگے حتی کہ تمھارے خدا پر بھی شک کرنے لگیں گے
    صرف بیکن ہاوس ہی نہیں بہت سے ایسے پرائیویٹ اسکولز کالجز ہوں گے جن کا اکثر نصاب سرکاری سکولوں میں پڑھائ جانے والی کتابوں سے بہت حد تک مختلف ہوتا ہے
    پرائیویٹ سکول میں پڑھنے والے اکثریت بچوں کی اسلام بارے الف ب نہیں جانتی ہوتی ان کو یہ تک نہیں پتہ ہوتا کہ آل رسول کون ہے ان کے نام کیا ہے اصحابیات کون تھے ۔۔
    ایسی بہت ساری چیزیں جو اہم ہے جاننا ہمارے دین کا حصہ ہے وہ پرائیویٹ سکولوں میں نہیں پڑھائ جاتی ۔۔۔ان سکولوں کا مقصد صرف انگلش پہ فوکس ہوتا ہے پھر انگلش میں چاہے یہ پاکستان کے خلاف پڑھاتے رہیں ۔یا دین اسلام کے ۔۔لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سکول پوری ریاست کی مخالفت کررہا ہے ۔ایک ملک کی مخالفت کررہا ہے ۔۔میرا رائے ہے ۔۔فقط تعلیم.میں نہیں تمام ڈیپارٹمنٹ یکساں ہونے چاہیے تاکہ غریب اور امیر کا امتیاز مٹ جائے۔۔۔اور کسی کے دماغ میں بھرا امیر بھرتر والا خناس بھی مٹ جاے ۔۔۔یکساں تعلیمی نصاب سے نوجوانوں کا مستقبل روشن ہوگا ۔۔میرٹ بھی عام ہوگا ۔۔یہ فرق بھی مٹ جاے گا کہ جی میں تو فلاں کالج سکول سے مہنگی فیسوں پر پڑھا ۔پڑھی ہوں ۔تو میری اہمیت سرکاری سکول میں پڑھنے والے بچے سے زیادہ ہو ۔۔۔یکساں تعلیمی نصاب حکومت پاکستان کا بہترین فیصلہ ہے ۔خدارا حکومت کے بغض میں غریب سے حسد تو نہ کریں ۔۔۔حکومت کے اس فیصلے کو سراہیں تاکہ جلد از جلد تمام سکول کالجز میں یکساں تعلیمی نصاب کا سلسلہ جاری ہو سکے ۔۔سڑک میں پڑھا پتھر ثابت نہ ہوں۔۔۔بلکہ دوسروں کے لیے امید کی کرن بنیں
    ۔

  • تعلیم نظام  تحریر:افشین

    تعلیم نظام تحریر:افشین

    دور حاضر میں جدید ٹیکنالوجی  کے استعمال کے باعث  تعلیمی نظام میں بہت تبدیلی آئی ہے جیسا کہ اب نیٹ ورک تقریباً ہر جگہ میسر ہے۔ جدید آلات مثال کے طور پہ کمپیوٹر اور موبائل ، لیپ ٹاپ کی بدولت تعلیمی نظام میں جہاں آسانی آئی ہے وہاں کچھ منفی آثرات بھی منعقد ہوئے ہیں۔ نیٹ ورک کی سہولت سے ہم ہر طرح کی معلومات گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں ۔ پہلے پہل کتابیں پڑھی جاتی کچھ معلوماتی کتابیں بہت مشکل سے دستیاب ہوتی تھیں ۔اب جیسا کہ ہر طرف کرونا کی وباء عام  ہے اس سے بچاو کے باعث  بچے اور بڑے گھر بیٹھے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ یہ ایک طرح کی سہولت ہے پر جس طرح کی تعلیم سکول اور کالج جا کے حاصل کی جاسکتی ہے ویسی گھر بیٹھے ہر شاگرد حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ بچوں کی مختلف ذہنیت ہوتی ہے ۔ کچھ دماغی طور پہ تیز اور کچھ کمزور ہوتے ہیں ۔ اساتذہ کرام کی بات کی جائے تو پہلے اساتذہ کرام بچوں پہ انتہائی محنت کرتے اب کچھ اساتذہ کرام نے بس اس کو پیسے کمانے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے انکو بس اپنی تنخواہ سے غرض ہوتی ہے بچے پڑھے نہ پڑھے ۔ سرکاری سکولوں کی تنخواہیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہاں اتنی پڑھائی نہیں کروائی جاتی کچھ ایسے اساتذہ بھی موجود ہیں جو حاضری لگا کے گھر واپس آجاتے ہیں اور بچوں کی پڑھائی پہ کوئی توجہ نہیں دی جاتی سال کے اختتام پہ خود ہی پیپر کروا کے پاس کر دیا جاتا ہے ۔ 

    پرائیوٹ سکولوں کے بچوں کی  فیس زیادہ اور اساتذہ کی کم ہے وہاں پڑھائی تو اچھی کروائی جاتی ہے مگر والدین کو صیحح لوٹنے کا کام بھی کیا جاتا ہے ۔اگر چھٹیاں دی جائیں مہینہ یا دو مہینہ اسکی فیس بھی بطور اڈوانس لی جاتی ہے ۔جیسا کہ کرونا کی وجہ سے سکول بند رہے مگر بہت سے سکولوں میں فیس لیتے رہے کم از کم فیس کم کردی جاتی کیونکہ اگر بچے گھر بیٹھے آن لائن کلاسز لگا رہے ہیں تو انٹرنیٹ کا خرچہ بھی تو اٹھا رہے ہیں ۔ تعلیم حاصل کرنا آسان بنایا جائے نہ کہ دشوار ۔گھر بیٹھے اساتذہ کو کمانا آسان لگ رہا ہوگا مگر کچھ سفید پوش لوگوں کا بھی خیال کیا جائے ۔ اتنے خرچے کیسے برداشت کریں ۔ 

    گاوں میں ہر جگہ سکول بن چکے ہیں تعلیم دی جارہی ہے پر بچوں کی کاپیاں خالی ہوتی ہے یا پھر سوال اور  اسکا جواب اور لکھا ہوتا ہے ۔ کچھ اساتذہ مشق کی دہرائی کروا دیتے ہیں اور کہتے ہیں مشق گھر سے خود کر آنا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے آپ لوگوں کے پاس بچوں کو کیوں بھیجا جاتا ہے کیونکہ آپ پڑھائیں سب کام لکھوائیں ۔اگر ماں باپ بچوں کو ٹیوشن بھی بھیجتے ہیں تو بھی آپ اپنا کام پورا کروائیں ٹیوشن والوں کا کام جو سمجھ نہ آیا ہو وہ کروانا اور ٹیسٹ یاد کروانا ہے ۔یہ ایک عزت دار پیشہ ہے محنت سے کمائے رزق کو حلال کریں مفت خوری اچھی بات نہیں ۔بہت سے اساتذہ وہ سوالات چھوڑ دیتے ہیں جو انکو بھی نہ آتے ہو۔ بچوں کو کہہ دیا جاتا ہے خود کرلو نہیں آتا تو چھوڑ دو. پہلے کی تعلیم اور اب کی تعلیم میں بہت فرق ہے مگر پہلے اساتذہ اور اب کے کچھ اساتذہ میں بھی بہت فرق ہے ۔گاوں میں تعلیمی نظام پہ توجہ دی جائے ۔سرکاری سکولوں میں بس اساتذہ کی تنخواہیں ہی زیادہ نہ کی جائیں بلکہ یہ بھی دیکھا جائے وہ کروا کیا رہے ۔ یہ تلخ حقیقت ہے پر سچ یہی ہے ۔ پرائیوٹ سکولوں پہ دھیان دیں۔  ماں باپ کو کم لوٹا جائے ۔ سرکاری سکولوں میں پچاس ساٹھ ہزار تنخواہیں ہیں اور بچوں کو لکھنا بھی نہیں آتا ارود بھی اتنی کمزور ہوتی ہے انگلش پڑھنا تو دور کی بات ہے ۔ سمجھ نہیں آتی تنخواہیں اتنی زیادہ کیوں ہیں انکی ؟؟ اتنی تنخواہیں مزدور کی نہیں ہوتی جو سارا دن دھوپ میں کام کرتا ہے ۔ بیشک اساتذہ کرام پڑھانے میں دماغ  لگاتے ہیں پر کچھ یہ کام بھی نہیں کرتے مفت میں بس کھانے پینے کا کاروبار بنا ہوا ہے. جنکی تعلیم بھی کم ہوتی ہے وہ بھی اساتذہ بنے ہوئے ہیں کیا استاد بننا اتنا آسان ہوگیا ہے کہ ہر کوئی استاد بن رہا ہے ۔ استاد بننا آسان نہیں ہے بہت محنت کی جاتی ہے تب روزی حلال ہوتی ہے پر افسوس معاشرہ سچائی کم سنتا ہے سچائی کی مخالفت زیادہ کرتا ہے ۔

    #افشین 

    @Hu__rt7

  • 1100 میں سے 1100 نمبر، طالبہ نے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا ریکارڈ بھی توڑ دیا

    1100 میں سے 1100 نمبر، طالبہ نے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا ریکارڈ بھی توڑ دیا

    خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی تحصیل اکوڑہ خٹک سے تعلق رکھنی والی طالبہ قندیل نے میٹرک کے رزلٹ میں علامہ اقبال کا ریکارڈ توڑ دیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اکوڑہ خٹک سے تعلق رکھنی والی طالبہ قندیل نے میٹرک کے رزلٹ میں ملکی تاریخ کا انوکھا ریکارڈ قائم کر دیا آج ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ مردان نے میٹرک کے رزلٹ کا اعلان کیا جس میں سائنس گروپ کی طالبہ قندیل نے 1100 میں 1100 نمبرز حاصل کئے ہیں۔

    حیران کن طور پر میٹرک کے رزلٹ میں دوسری پوزیشن تین طلبہ نے حاصل کی ہے تینوں نے 1098 نمبرز حاصل کئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مردان میں بارھویں جماعت کی طالبہ قندیل نے 1100 میں سے 1100 نمبر حاصل کرکے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رح کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے-


    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین طلبا کو مبارک باد پیش کر رہے ہیں اور ساتھ میں ان کے نمبرز کو لے کر دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں۔


    جرنلسٹ فردوس نے اپنی ٹوئٹ میں پوزیشن حاصل کرنے والوں کے نمبرز شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیوٹن، آئن سٹائن سے بھی تیز ہیں۔
    https://twitter.com/AbuRaihanPak/status/1440286569160605697?s=20