Baaghi TV

Category: تعلیم

  • کورونا وائرس صرف تعلیمی اداروں میں ہی اثر انگیز ہے…. تحریر :مدثرہ مبین

    کورونا وائرس صرف تعلیمی اداروں میں ہی اثر انگیز ہے…. تحریر :مدثرہ مبین

    پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس کا تعلیمی اداروں کی چھٹیوں میں 15 ستمبر تک توسیع کا اعلان ایک دفعہ پھر عوام میں اس سوال کے سر اٹھانے کا باعث بن گیا ہے کہ کیا کورونا وائرس صرف تعلیمی اداروں میں ہی اثر انگیز ہے؟ گزشتہ دو سال سے تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا اعلان ہوتے ہی یہی سوال زیرِ بحث آتا ہے.
    دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا وبائی مرض کورونا نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو آسیب کی طرح چمٹ چکا ہے. پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہوئے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کا باعث بنا ہے. لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں. کئی ممالک کی معیشت، زراعت اور تعلیم خاصے نقصان سے دوچار ہوئی ہے. دنیا میں کم و بیش ہی کوئی ملک ہوگا جو کورونا وائرس کی لپیٹ میں نہیں آیا. کئی جان کے محافظ ڈاکٹر بھی کورونا وائرس کا شکار ہو کر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں.
    اس سب کے باوجود آج بھی پاکستان کی ایک تہائی آبادی کورونا کو ایک فریب ہی تصور کر رہی ہے. زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ بھی اپنی نااہلی چھپانے کے لئے ایک حکومتی سازش ہے.
    اب کی بار بھی تعلیمی اداروں میں چھٹیوں میں توسیع کا اعلان منظر عام پر آتے ہی عوام غصے کا اظہار کرتے ہوۓ یہ سوال کرتی نظر آ رہی ہے کہ صرف تعلیمی ادارے ہی کیوں بند کیے جا رہے ہیں، بازار اور مارکیٹیں کیوں نہیں؟
    بچوں اور بوڑھوں میں قوت مدافعت نوجوانوں کی بانسبت خاصی کم ہوتی ہےاسی لیے بچےاور بوڑھے جلد جراثیم کی لپیٹ میں آجاتے ہیں. اور ایسے خطرناک جراثیم ان پر زیادہ گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں.
    پوری دنیا میں اس وقت آنلائن تعلیم کو ترجیح دی جا رہی ہے. اور یہاں ہر گھر میں موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہونے کے باوجود نہ صرف ہماری عوام جان بوجھ کر تعلیم کے معاملے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے بلکہ الزام ہمیشہ کی طرح دوسروں کے کندھوں پر ڈالنے کی بھرپور کوشش بھی کر رہی ہے.
    حکومت کی گزشتہ بازاروں پر پابندی کے باوجود عوام مسلسل حکومتی فیصلے کی خلاف ورزی کرتی رہے اور بند دکانوں کے اندر گاہکوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی. ایسے میں بازاروں پر پابندی ہونا نہ ہونا برابر ہی تھا.
    اگر مارکیٹیں بند بھی کر دی جاۓ تو کیا عوام کے پاس اتنا سرمایا موجود ہے کہ کچھ دن بھی گزارا ہوسکے. ہمارے ملک کی تقریباً 24 فیصد آبادی نچلے طبقے سے تعلق رکھتی ہے جنہیں عام حالات میں بھی دو وقت کا کھانا تک میسر نہیں.
    یا تو یہ وجوہات لوگوں کے ذہن کے پردے پر ابھرتی نہیں یا وہ انہیں جاننا اور سمجھنا نہیں چاہتے. بلکہ اس فیصلے کو بھی حکومت کے گزشتہ فیصلوں کی طرح تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں.
    ہم میں سے کتنے لوگ کورونا کے اس وبائی مرض میں حکومت کے پیش پیش ہیں؟ کتنے لوگ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوۓ ویکسینیشن کروا چکے ہیں؟ اب تک صرف 9.8 فیصد لوگوں نے ہی ویکسین لگوائی ہے. کچھ کا موقف ہے کہ ویکسینیشن کروانے سے جلد موت واقع ہو جائے گی. ایسے لوگوں کا کیا خدا پہ ایمان نہیں کہ زندگی موت تو صرف اسی کے ہاتھ میں ہے.
    حکومتی فیصلوں پر تنقید کرنے کی بجائے انکے موقف کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ویکسینیشن کرواۓ تا کہ معمول زندگی پھر سے بحال ہو سکے.

  • ڈپریشن اور اسلام تحریر: سیدہ بنت زینب

    ڈپریشن اور اسلام تحریر: سیدہ بنت زینب

    ڈپریشن ایک ایسا احساس ہے جب انسان خود کو دو اونچی دیواروں کے درمیان اندھیرے میں پھنسے ہوئے محسوس کرتا ہے، جس کے آگے کوئی راستہ نہیں ہے اور کوئی راستہ پیچھے نہیں ہے. ماضی کی ہر بری یاد کو ایسا محسوس کرتا ہے جیسے یہ اسی لمحے ہوا ہے، جبکہ مستقبل کو ایسا محسوس کرتا ہے جیسے اس میں موجودہ مصیبت کے تسلسل کے سوا کچھ نہیں ہوگا. ڈپریشن منفی خیالات سوچنے سے نہیں ہوتا. بلکہ یہ ڈپریشن ہی ہے جو منفی خیالات کا سبب بنتا ہے. افسردہ شخص ایک خوشگوار واقعہ کے بارے میں صرف تب سوچ سکتا ہے تاکہ اس کے دوران ہونے والی منفی باتوں کو یاد کر سکے. ڈپریشن کی منفیت ان کے تمام خیالات کو ایک سیاہ بادل کی طرح ڈھانپ دیتی ہے.

    جب ہم افسردہ ہوتے ہیں تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ جیسے ہم اس بڑی، وسیع دنیا میں اپنے آپ پر مصیبتیں چھوڑ کر چلے جا رہے ہیں، بغیر کسی مقصد یا حکمت کے زندگی گزار رہے ہیں. دن بہ دن گزرتا ہے، ہم تکلیف اٹھاتے ہیں، اور ہم کسی چیز کے لیے بہتر نہیں ہیں….!

    ڈپریشن سے نمٹنے کی طرف پہلا قدم صرف یہ ماننا اور سمجھنا ہے کہ خدا ہمارے تمام مسائل کو حل کر سکتا ہے اور ہماری ڈپریشن کو فوری طور پر دور کر سکتا ہے، لیکن وہ ایسا نہ کرنے کا انتخاب کر رہا ہے. آپ نے اسے ترک نہیں کیا ہے، وہ آپ کے ساتھ ایسا ہونے دے رہا ہے اور ہر سیکنڈ میں آپ کو تکلیف میں مبتلا دیکھ رہا ہے، وہ آپ کے دل میں چھپی بات تک کو جانتا ہے. یہ کبھی کبھی بہت عجیب بھی لگتا ہے، کہ ایک مہربان خدا اس کی اجازت کیوں دے گا؟ کچھ لوگ اس کی وجہ سے مایوس ہو جاتے ہیں، ہمت ہار جاتے ہیں.

    یاد رکھیں آپ کا ڈپریشن بے مقصد نہیں ہے. آپ کی افسردگی آپ اور خدا کے درمیان معاملہ ہے. وہ مکمل طور پر اس کا اختیار رکھتے ہیں کہ جب وہ چاہیں اسے روک دیں.

    جب آپ کو تکلیف ہوتی ہے ، اگر آپ خدا سے پیٹھ پھیرتے ہیں اور اس کی مدد نہیں کرنے کا الزام لگاتے ہیں تو آپ اس کے امتحان میں ناکام ہو رہے ہیں. وہ جو رویہ آپ کو دکھانا چاہتا ہے وہ تسلیم اور قبولیت میں سے ایک ہے، وہ رویہ جو قرآن کے نبی سب دکھاتے ہیں خدا کی طرف دکھاتے ہیں. آپ کا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ، "خدا ، میں جانتا ہوں کہ آپ اس دنیا کی ہر چیز کے مالک ہیں، دنیا کا پتا پتا آپ کے حکم کا پابند ہے، اور میں جانتا ہوں کہ آپ مجھے تکلیف میں دیکھ رہے ہیں. جو گناہ مجھے یہاں لائے ہیں انہیں معاف کر دیں، میری جو غلطیاں ہیں وہ معاف کریں، میری رہنمائی کریں اور میرے علم میں اضافہ کریں. مجھے سیکھنے میں مدد کریں کہ مجھے کیا سیکھنا ہے. مجھے ہر دکھ غم تکلیف سے نجات دیں. بے شک آپ کسی جاندار پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے مگر مجھے معاف کریں اور میرا شمار اپنے چند خاص بندوں میں کریں جنہیں سکون اور ہدایت نصیب ہوئی ہے.”

    مایوسی کفر ہے، بس یاد رکھیے کہ اللّٰہ ہیں نا ہمارے ساتھ. وہ سب کچھ وقت آنے پر خود ہی ٹھیک کر دیں گے انشاء اللہ…..!

  • جعلی اور غیررجسٹرڈ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا قیام: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم  ہائیرایجوکیشن کمیشن پر شدید برہم

    جعلی اور غیررجسٹرڈ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا قیام: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم ہائیرایجوکیشن کمیشن پر شدید برہم

    اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم کا جعلی اور غیررجسٹرڈ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی موجودگی پر ہائیرایجوکیشن کمیشن پر شدید برہمی کااظہارکیا ہے-
    صرف اشتہارویب سائٹ پر لگانے سے ایچ ای سی کی ذمہ داری پوری نہیں ہوتی جعلی دکانوں کوفورا بند کریں،چیرمین کمیٹی
    ایچ ای سی بغیر چیرمین کے چل رہی ہے اوربیرو ن ملک جانے والے طالب علموں کاان کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے ،حکام کا انکشاف
    بیرون ملک جانے والے طلبہ کامکمل ریکارڈ رکھاجائے کہ طالب علم کس ملک اور س چیز کی تعلیم کے لیے جارہاہے ،کمیٹی
    ٹیکنالوجسٹ کی ایکوینس(برابری)کے سرٹیفکیٹ کوفورا بحال کیاجائے اور سروس سٹکچربنایاجائے ،کمیٹی کی ہدایت
    سندھ میں یکساں نصاب تعلیم نافذنہ کرنے پر سینیٹر جام مہتاب کو سند ھ حکومت کے اعتراضات سے کمیٹی کوآگاہ کرنے کی ہدایت
    سندھ میں یکساں نصاب تعلیم اچھا اقدام ہے سندھ کے اعتراضات دور کریں گے
    یکساں نصاب کےماڈل کتابوں کا سیٹ کمیٹی نے طلب کرلیا

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم نے ملک میں جعلی اور غیررجسٹرڈ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی موجودگی پر ہائیرایجوکیشن کمیشن پر شدید برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ صرف اشتہارویب سائٹ پر لگانے سے ایچ ای سی کی ذمہ داری پوری نہیں ہوتی جعلی دکانوں کوفورا بند کریں ان سے طلبہ کے پیسے اور تعلیم دونوں کانقصان ہورہا ہے –

    ایچ ای سی حکام نے کمیٹی میں انکشاف کیاکہ ایچ ای سی بغیر چیرمین کے چل رہی ہے اوربیرو ن ملک جانے والے طالب علموں کاان کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے جس پر کمیٹی نے ہدایت کی کہ بیرون ملک جانے والے طلبہ کامکمل ریکارڈ رکھاجائے کہ طالب علم کس ملک اور س چیز کی تعلیم کے لیے جارہاہے ،کمیٹی نے ایچ ای سی کو ہدایت کی کہ ٹیکنالوجسٹ کی ایکوینس(برابری)کے سرٹیفکیٹ کوفورا بحال کیاجائے اور جب تک ٹیکنالوجسٹ کا سروس سٹکچر نہیں بنتاہے اس وقت تک اس کو منسوخ نہ کیاجائے ،جس اجلاس میں ایکوینس سرٹیفکیٹ کو منسوخ کیاگیاتھااس فیصلہ کی فائل کمیٹی میں پیش کی جائے ،یکساں نصاب کےماڈل کتابوں کا سیٹ کمیٹی نے طلب کرلیا،سندھ میں یکساں نصاب تعلیم نافذنہ کرنے پر سینیٹر جام مہتاب کو سند ھ حکومت کے اعتراضات سے کمیٹی کوآگاہ کرنے کی ہدایت کردی گئی سندھ میں یکساں نصاب تعلیم اچھا اقدام ہے سندھ کے اعتراضات دور کریں گے ۔

    منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم کا اجلاس عرفان الحق صدیقی کی سربرہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلا س میں سینیٹر مہرتاج روغانی ،اعجاز چوہدری ،فلک ناز چترالی ،جام مہتاب ، انجینئررخسانہ زبیری،سکندر میندرو،شاہین خالدبٹ،مشتاق احمد،مولوی فیض محمد نے شرکت کی ۔جبکہ پارلیمانی سیکرٹری تعلیم وجہیہ قمرم،سیکرٹری تعلیم ،ایچ ای سی حکام ویگر نے شرکت کی ۔

    ڈائریکٹرایچ ای سی ڈاکٹر شاہستہ سہیل نے کمیٹی کوبتایاکہ کہاکہ ایچ ای سی ادارے جو قانون کے مطابق کام نہیں کرتے ہیں اس کو بلیک لسٹ کردیتے ہیں ان کا ڈیٹا ویب سائٹ پر لگادیتے ہیں ۔ ملک سے باہر جانے والے طلبہ کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے ۔ طلبہ کس ملک اور کس ادارے میں تعلیم لینے جارہاہے ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ جو طالب علم بیرون ملک جارہاہے ان کا ریکارڈ بنایا جائے ۔ملک میں جواعلیٰ تعلیمی ادارے غیر رجسٹرڈ ہیں ان کو بند کیوں نہیں کرتے ہیں اس طرح کی جعلی دکانیں کیون بند نہیں کرتے جس کی وجہ سے طلبہ کا نقصان ہورہاہے ۔

    ایچ ای سی حکام نے بتایاکہ تعلیمی اداروں کی کوالٹی کو دیکھنے کے لیے ایچ ای سی پینل بناتاہے اور دورہ کرتے ہیں ۔ ہر سال میں 30سے 35دورے ہوتے ہیں جو ریکوائرمنٹ پورے کرتے ہیں ان کو اجازت دیتے ہیںجو معیارپر پورا نہیں اترتے ان اداروں کو بند بھی کرتے ہیں ۔

    چیرمین کمیٹی نے کہاکہ اس طرح تو پاکستان میں ایک بھی غیر رجسٹرڈ ادارہ نہیں ہونا چاہیے یا دو نمبر ادارہ نہیں ہے ۔پاکستان میںدو نمبر ادارے کھلے کیوں ہوئے ہیں ۔

    سیکرٹریوفاقی تعلیم نے کہاکہ اس حوالے سے سب کمیٹی بنا دیں یونیورسٹی اور کالج دو نمبر بنے ہوئے ہیں ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ جعلی ادارے طالب علموں کو لوٹ رہے ہیں ایچ ای سی کو ایکٹیو رول ادا کرنا چاہیے ۔بچے 5سال پڑھیں گے بعد میں پتہ چلا گیاکہ وہ تو رجسٹرڈ ہی نہیں ہے اس کے بعد وہ احتجاج کریں گے ۔رکن کمیٹی سینیٹر خالد شاہین بٹ نے کہاکہ بیرون ممالک سے پاکستان آنے والے طالب علموں کو میڈیکل کالج میں ہراساں کیا جاتا ہے ۔ وہ بچے بیرون ملک سے آتے ہیں بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کے ساتھ رویہ انتہائی خراب ہوتا ہے ۔

    سینیٹرمشتاق احمد نے کہاکہ بیرون ملک جانے والے بچے ہمارا اثاثہ ہیں ان کا ریکارڈ رکھا جائے کہ بچے کہاں اور کیا بیرون ملک پڑھنے جارہے ہیں اور سالانہ کتنے لوگ جارہے ہیں۔چیرمین کمیٹی نے کہا کہ مزدوروں کا ریکارڈ ہوتا ہے کہ کس ملک جارہے ہیں مگر طالب علموں کانہیں ہے ۔

    مشتاق احمد نے کہاکہ چین میں پڑھنے والے طلبہ ایک سال سے پاکستان میں موجود ہیں ان کو واپس بھیجنے کے لیے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں اس کے بارے میں بھی کمیٹی کوبتایاجائے-

     ٹیکنالوجسٹ کے حوالے سے کمیٹی کے ایجنڈے پر سینیٹر مشاق احمد نے کمیٹی کوبتایاکہ پاکستان میں 3لاکھ 50ہزار ٹیکنالوجسٹ ہیں اور سالانہ 10ہزار بچے اس میں شامل ہورہے ہیں۔سب کمیٹی نے اس مسئلے کو حل کرنے کی ہدایت کی تھی کہ3ماہ میں مسئلہ کیاجائے مگر ایچ ای سی نےنے تین ماہ دس دن بعد اجلاس بلایا ہے ۔ڈھائی سال پہلے بھی سفارشات کی تھیں مگر اس کے باوجود عمل نہیں ہوا۔

    جو ایچ ای سی نے کمیٹی بنائی اس میں ایک بھی ٹیکنالوجسٹ موجود نہیں ہیں ۔انجینئر کبھی ان کا مسئلہ حل نہیں کریں گے کمیٹیوں سے کچھ نہیں ہوا ہے ۔ان کا ایکولینس سرٹیفکیٹ ایچ ای سی نے منسوخ کیا اس کو بحال کیاجائے ۔

    مہرتاج روغانی نے کہاکہ ٹیکنالوجسٹ کے ساتھ بہت ظلم ہواہے ۔ایچ ای سی کے حکام امتیاز گیلانی نے کمیٹی کوبتایاکہ ٹیکنالوجسٹ واحد لوگ ہیں جو 16سال کی تعلیم کے باوجود 17گریڈ میں بھرتی نہیں ہوسکتے یہ ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ایک ہزار ٹیکنالوجسٹ کے لیے بیرون ملک سکالر شپ کا اشتہار دیا مگر صرف 23بچے آئے ۔پی ایم ٹاسک فورس بنائی جائے تاکہ اس کو حل کیا جائے۔

    مشتاق احمد نے کہاکہ بھارت نے یہ مسئلہ بہت پہلے حل کردیا تھا ۔بی ٹیک کا ایکویلنس کو فورا بحال کیا جائے ۔این ٹی سی ایکٹ 2015سے پائپ لائن میں ہے اس کا کیا بنا؟ سینیٹراعجاز چوہدری نے کہاکہ انجینئر ٹیکنالوجسٹ کے معاملے کو حل نہیں کررہے ہیں ۔یہ انسانی ایشو ہے ۔ موجودہ انجینئرنگ کے ادارے اس مسئلے کو حل نہیں کریں گے ۔

    چیرمین کمیٹی نے کہاکہ ایشو حل نہیں ہورہا ٹاسک فورس بنائی جارہی ہےایچ ای سی کو ایکولینس کو بحال کرنے میں کیا مسئلہ ہے ۔کمیٹی نےایکولینس واپس لینے کے فیصلے کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ کس نے کیوں یہ فیصلہ کیاہم یہ جانا چاہتے ہیں کہ بغیرکسی وجہ کہ کیوں اس کوختم کیاگیا۔ کمیٹی نے متفقہ طورفیصلہ کیاکہ انجینئرنگ ٹیکنالوجسٹ کو ایکولینس سرٹیفکیٹ کو دوبارہ بحال کیا جائے ۔اس فیصلے کے حوالے سے صرف سینیٹر اعجاز چوہدری نے حق و خلاف میں ووٹ نہیں دیا۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ جب تک ٹیکنالوجسٹ کے لیے سروس سٹکچر نہیں بنتااس وقت تک اس کوکو بحال رکھاجائے ۔کمیٹی اس بات پر اتفاق کرتا ہے کہ عارضی ریلیف کے لیے ایکولینس بنایا جائے جب تک سروس سٹرکچر نہیں بنتا ہے۔ا

    یجنڈے میں شامل یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے ڈاکٹر مریم چغتائی ڈائریکٹر قومی نصاب کونسل پاکستان نے کمیٹی کوبتایاکہ پاکستان میں ایچوکیشن نظام 6طبقے پیدا کررہے ہیں ۔قومی نصاب کے 4حصے ہیں، یکساں نصاب، امتحانات، اس میں شامل ہیں ۔ہمارا نصاب 15سال پرانہ ہے 5ویں تک یکساں نصاب مکمل کرلیا ہے ۔سائنس اور ریاضی پر زیادہ فوکس کیا گیا، 2002میں نصاب 62لوگوں نے بنایا تھا وہ سب لاہور سے تھے 2010کا نصاب زیادہ تر پنجاب کے لوگوں نے بنایا تھا 2020میں نصاب چاروں صوبوں سے نمائندگی تھی 5اقلیتوں کے لیے الگ نصاب بنایا گیا ہے ۔ مدارس کو سکول بنانے جارہے ہیں مدارس5سال میں اس نصاب کو لاگو کریں گے ۔رٹے کے نظام کو ختم کررہے ہیں ۔ٹیکنالوجی کے استعمال سے اساتذہ کو اچھی ٹریننگ دیں گے ۔ 12ویں تک نصاب بنے گا اگلے مرحلے میں امتحانات ہوں گے ۔18ویں ترمیم کے بعد فیڈرل کا رول صرف رابطہ کاری کا ہے ۔پنجاب اور کے پی کے میں اس پر عمل صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بعد ہوا ہے ۔اس نصاب پر عمل کرنے میں صوبہ کا اپنا رول ہے ۔سندھ یکساں نصاب کی تیاری میںساتھ تھا مگر اس پر عمل کے دوران وہ پیچھے ہٹ گئے ہیں سندھ میں بھی یکساں نصاب تعلیم پر عمل ہونا چاہیے –

    چیرمین کمیٹی نے کہاکہ اصولی طور پر یہ اچھا اقدام ہے ۔نصاب سے قوم کو تیار کیا جاتا ہے ۔کیا تمام صوبے اس پر عمل درآمد پر راضی ہیں جس پرحکام نے بتایا کہ سندھ کے علاوہ سب اس پر متفق ہیں۔4سو لوگوں نے یکساں نصاب پر کام کیا ہے ۔یکساں امتحان کے حوالے سے کمیٹی کوبتایاگیاکہ امتحانات پر ابھی نہیں آئے اس حوالے سے پالیسی نہیں بنائی کہ یکسان امتحان کا منصوبہ نہیں ہے ۔

    چیرمین کمیٹی نے کہاکہ قومی کی تعمیر میں دس فیصد نصاب کا کام ہوتا ہے آپ باقی چیزوں پر توجہ نہیں دے رہے صرف نصاب پر فوکس ہے ۔یکسان نصاب میں سیاسی جماعتوں سے رائے نہیں لی گئیں ہے ۔سکولوں میں سہولیات دی جائے ۔تربیت یافتہ اساتذہ نہیں ہیں اور یکساں نصاب دے دیاہے ٹیچنگ ایک سکل ہے ۔ ماڈل کتابوں کا سیٹ کمیٹی کو بھیجا جائے 15سیٹ کمیٹی کو فراہم کردیں ۔حکام نے بتایا کہ ہم نے کتاب نہیں گائیڈ لائن کو یکساں کیاہے ۔ اساتذہ کی تربیت ضروری ہے ۔یکساں نصاب سے یکساں معیار نہیں بن سکتا ہے ۔روشنی سکول میں اساتذہ بھرتی کرنے میں ایم این اے ایم پی اے اور سینیٹر کا کوٹہ تھا اور دس فیصد وزیر اعظم کا کوٹہ تھا ۔

    مشتاق احمد نے کہاکہ یکسان نصاب تعلیم اگر ہوجائے تو یہ اچھی بات ہے ۔جو چیز پاکستان کے مفاد میں ہوگی اس کی حمایت کریں گے ۔حکومت کا یہ اقدام قابل تحسین ہے ۔مدارس کے اندر دنیا تعلیم بھی دی جاتی ہے ۔چارٹر آف ایجوکیشن سیاسی جماعتوں میں ہونا چاہیے کسی کی بھی حکومت آئے وہی نصاب پڑھایا جائے ۔سیاسی جماعتوں کو بھی ان بورڈ لیا جائے ۔کیمرج پاکستان سے تعلیم پر کتنا کمارہاہے ۔طبقاتی تقسیم ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔رخسانہ زبیری نے کہاکہ ہمیں ملک میں تعلیمی ایمرجسنی لگانی چاہیے ۔

    اعجاز چوہدری نے کہاکہ یکسان نصاب ایک خواب تھا یہ آغاز ہے ہر مکتبہ فکر کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔ جام مہتاب نے کہاکہ سندھ صوبہ کو کیوں یکساں نصاب پر اعتراض ہے ۔سکولوں میں سہولیات دی جائیں ۔حکام نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کو ان بورڈ لینا چاہیے ۔سندھ کا کردار اہم تھا۔

    حکام نے بتایاکہ سندھ کو کچھ چیزوں پر اعترض تھا جن میں قرآن ناظرہ تعلیمی اداروں میں نہیں پڑھائیں گے ہماری اسمبلی نے یہ بل پاس نہیں کیا۔سندھ میں نہیں پڑھ سکتے ملالہ کو قومی ہیرو پڑھانا چاہتے ہیں ۔نصاب سندھی میں پڑھانا چاہتے ہیں ۔یکساں نصاب میںآدھے نصاب کو اردو اور آدھا انگریزی میں پڑھائیں گے تو سندھ میں 50فیصد نصاب سندھی میں پڑھائی جاسکتا تھا۔50فیصد انگش میں اور 50فیصد اردو میں ہوگا-

    حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ اس وقت چیرمین ایچ ای سی کوئی بھی نہیں ہے تین ماہ کے لیے قائمقام چیرمین لگایا گیا تھا مگر وہ تین ماہ پورے ہوگئے ہیں ۔ عدالت میں سٹے ہے جس کی وجہ سے کوئی نیا چیرمین نہیں لگاسکتے ۔

    کمیٹی نے یکساں نصاب تعلیم سندھ میں نافذ نہ کرنے پر پیپلزپارٹی کے سینیٹر جام مہتاب کو سندھ حکومت سے رابطے اور ان کے اعتراضات سے کمیٹی کوآگاہ کرنے کی ہدایت کردی کمیٹی نے کہاکہ اگلے ضروری ہواتو یکساں نصاب تعلیم پر سندھ حکومت کے نمائندوں کوکمیٹی میں مدعوکرکے ان کے اعتراضات سننے گے یکساں نصاب تعلیم اچھا قدم ہے پورے ملک میں رائج ہوناچاہیے ۔

  • خواتین اساتذہ کے مسائل تحریر: آصف گوہر

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
    جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل کو ( یمن ) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانیاں پیدا کرنا، تنگی میں نہ ڈالنا، انہیں خوشخبری سنانا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں اتفاق سے کام کرنا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سر زمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے بتع کہا جاتا ہے اور جَو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے مزر‏.‏ کہا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے
    صحیح بخاری 6124
    مہذب معاشروں میں قوانین اور پالیسیاں عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لئے بنائی جاتیں ہیں اور جن قوانیں میں لچک نہیں ہوتی وہ ٹوٹ جایا کرتے ہیں ۔
    چند روز قبل ماریہ احسان الہی کی ٹویٹ نظر سے گزری نفس مضمون کچھ یوں تھا ۔
    "‏‎میں ایک ایسی ٹیچر کو جانتی ہوں جن کا مس کیریج ہوگیا اپنی جاب کی وجہ سے وہ روزانہ 46 km ایک طرف کا سفر کرتی تھی اسکول کے لیے نتیجتاً انہیں طلاق کا سامنا کرنا پڑا”
    پڑھ کر دل پسیج کر رہ گیا کہ ملازمت ہنستا بستا گھر کے ٹوٹنے کا سبب بنا۔
    ہمارے ہاں ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل بہت زیادہ ہیں ۔جنسی درندوں کی بہتات میں خواتین کا ملازمت کے لئے نکلنا جان جوکھم میں ڈالنےسے کم نہیں ۔
    سرکاری ملازمت والی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ ملازمت کی جگہ کا گھر سے دور ہونا ہے جس کے لئے انہیں روز نوکری پر پہچنے کے لئے کئ کئ میل کا غیر محفوظ سفر کرنا پڑتا ہے۔اکثر خواتین کی شادی دوسرے شہروں میں طے ہونے کے بعد مشکلات اور بڑھ جاتی ہیں پبلک ٹرانسپورٹ پر یا پھر وین لگوا کر ڈیوٹی پر پہچنا پرتا ہے جس سفر کی تھکان کے ساتھ کرائے کی مد میں بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اور ٹرانسفرز کا عمل اتنا پچیدہ اور مشکل ہے کہ بہت ساری خواتین تنگ آکر ملازمت چھوڑ دیتی ہیں جس سے انکو مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ خانگی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔
    پچھلے ماہ روالپنڈی میں ایسی ہی خواتین اساتذہ جنہوں نے سکول گھروں سے کافی دور ہونے کی وجہ سے وین لگوا رکھی تھی ڈیوٹی سے واپسی پر حادثہ کا شکار ہوئیں جن میں سے چار موقع پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں
    اور ایک کا چار سال کا بیٹا بھی جاں بحق ہوگیا۔اور باقی شدید زخمی ہو کر ہسپتال پہنچیں
    موجودہ پنجاب حکومت کے وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں اساتذہ کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے کئ انقلابی اصلاحات متعارف کروائی ہیں ۔ جس میں اساتذہ کے تبادلوں کے نظام کو مکمل ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے اساتذہ گھر بیٹھے اپنی ٹرانسفر کے لئے اپلائی کر سکتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود خواتین اساتذہ کو خواہش کی جگہ ٹرانسفرز کے راہ میں کئ طرح کی رکاوٹیں حائل ہیں سیٹیں خالی نہیں یا وہ اپنے موجودہ سکول میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے اپلائی ہی نہیں کر سکتیں ۔
    میں نے خود پنجاب کے دوردراز شہروں سے ٹرانسفر کے لئے آئی خواتین اساتذہ کو لاہور سیکرٹریٹ میں پریشان حال دیکھا جن کے پاس تعلقات اور تگڑی سفارش ہوتی ہے انکی ایکسٹریم ہارڈشپ کے تحت ٹرانسفر کردی جاتی ہے۔
    وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور ڈاکٹر مراد راس سے التماس ہے کہ
    خواتین اساتذہ کے لئے ٹرانسفرز کے عمل کو مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے اور خواتین اساتذہ کو گھروں کے قریب تعینات کیا جائے ۔اور جواتین اساتذہ کو ویڈ لاک کی بنا پر دوران سروس ایک بار بلارکاوٹ تبادلے کی سہولت فراہم کی جائے۔ اور یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں ہے ہر ڈسٹرکٹس میں اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں خالی پڑی ہیں جن کاچیف ایگزیکٹو آفیسرز کو بخوبی علم ہے ۔
    روزگار کے لئے سو سو کلومیٹر روز کا سفر اذیت ناک ہوتا ہے خانگی زندگی کو برباد کر دیتا ہے۔ اپنے بچے مطلوبہ توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں ۔
    آسانیاں پیدا کریں اور گھروں کو ٹوٹنے سے بچائیں ۔
    @Educarepak

  • تعلیمی سلسلہ اور کورونا کا وار   تحریر:- محمد عبداللہ گِل 

    تعلیمی سلسلہ اور کورونا کا وار  تحریر:- محمد عبداللہ گِل 

    کورونا وائرس کے آنے کے بعد دنیا بھر میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ لوگوں کو نقصان ہوا۔تجارتی مراکز بھی بند رہے،فیکٹریاں،ملز،سرکاری دفاتر الغرض ہر شے کو منجمند کر دیا گیا۔لیکن اگر کسی تاجر کا نقصان ہوا تو وہ وقتی تھا بعد میں وہ منافع کما لے گا،اگر کسی نجی کمپنی یا ادارے میں کام کرنے والے پر کورونا کی وجہ سے مشکل وقت آیا تو وہ بھی گزر گیا اب تو اس پر خوشحالی آ جائے گی اس کا وقت گزر گیا لیکن ان سب سے ماورا ایک ایسا شعبہ ھے جس کو تعلیمی میدان کہا جاتا ھے اس سے وابستہ طلباء کا جو نقصان ہوا اس کی بھرپائی ممکن ہی نہیں ھے۔ملک پاکستان میں جب ہی کورونا کے تناسب میں اضافہ ہوا تو تعلیمی اداروں کو سب سے پہلے بند کیا گیا یقینا میں حسن ظن کو گردانتے ہوئے یہ ہی مان لیتا ہوں طلباء کہ صحت کی وجہ سے اقدام کو اٹھایا گیا۔

    قارئین کرام! آپ دنیا بھر کے کسی بھی ملک کی پالیسی بنانے کا انداز دیکھے گے وہ پاکستان سے مخلتف ہو گا۔جس ملک میں بھی پالیسی کو بنایا جاتا ھے تو اس سے متعلقہ افراد کو اعتماد میں لیا جاتا ھے۔مغربی ممالک میں وہ سروے کرواتے ہیں اور عوامی رائے کو۔مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی کو بناتے ہیں کیونکہ جو پارلیمنٹ کا ممبر ہے وہ عوامی ووٹ بنک کی وجہ سے اسمبلی میں پہنچا ھے  اس کے لیے لازم ھے کہ وہ عوامی رائے کا خیال رکھے۔

    لیکن ملک پاکستان میں طلباء کے حوالے سے جب بھی پالیسی کو بنایا گیا کسی بھی طالب علم سے اس کی رائے نہیں لی گئی کہ طلباء کیا چاہتے ہیں۔جب حالات غیر یقینی ہو تو حکومت کا کام ہوتا ھے کہ وہ عوام کو اعتماد میں لے۔لیکن افسوس صد افسوس لاکھوں روپے لینے والے بیوروکریٹ،تعلیمی دانشور،وزرائے تعلیم عوامی پیسہ سمندر کے پانی کی طرح بہا کر میٹنگز کر کے اب تک ایک ایسی پالیسی نہیں بنا سکے جس سے طلباء راضی ہو۔جب انٹر اور میٹرک کے طلباء کے امتحانات کا معاملہ تھا اس طرح صورتحال غیر یقینی بنا دی گئی کہ طلباء کو اس پر  بھی شک تھا کہ کل پرچہ ہو گا یا نہیں۔پھر جب طلباء احتجاج کے لیے نکلے تو ان کے قائدین کی گرفتاری کی گئی۔اور کہا گیا کہ ہم نے وقت دیا ھے سلیبس بھی شارٹ ہے۔تمام طلباء نے امتحان دیا اب اگر ملک کا لٹریسی ریٹ کم ہوتا ھے تو اس کی ذمہ داری وزرائے تعلیم کو لینی چاہیے کیونکہ پاکستان میں آدھے سے زیادہ آبادی کے پاس تو انٹرنیٹ کنیکشن ہی نہیں ھے اور ملک کے کسی بھی حصے میں سگنل مکمل نہیں ہوتے۔اور آن لائن کلاسز کا تو سب کو ہی پتہ ھے کہ کیا تماشہ بنایا گیا تعلیم کا۔میرا ایک دوست مجھے یہ واقعہ بتا رہا تھا کہ اس کے والد کو زوم ایپ چلانا ہی نہیں آتا تھا۔وہ وقت طلباء نے جیسے تیسے نکال لیا لیکن اب جب میڈیکل کے طلباء انٹری ٹیسٹ جس کو ایم ڈی کیٹ بھی کہا جاتا ھے اس کی تیاری کے لیے آئے تو PMC کے سلیبس میں وہ سارے ٹاپک شامل ہیں جو کہ وزارت تعلیم نے مختصر سلیبس میں سے نکالے تھے۔ظاہری سی بات ھے اساتذہ نے اس کی تیاری بھی نہیں کروائی ہو گی اب وزارت تعلیم کی نااہلی یہ ہے کہ ٹیسٹ اسی تاریخ سے ہی ہورہے ہیں لیکن اکیڈمیز کو بند کر دیا گیا ھے اب جن طلباء نے جو ایک ٹاپک پڑھا ہی نہیں اب بھی وہ نہیں پڑھ رہے تو اس کا PMC ٹیسٹ کس بنیاد پر لے رہی ھے۔یہ سراسر طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہیں والدین نے تو اکیڈمیز کی ہزاروں میں فیسیں بھی بھر دی ھے جب طلباء فیل ہو گے تو اس کا ذمہ دار بھی وزیر تعلیم ہو گا۔اب تک جو رزلٹ آیا ھے انٹری ٹیسٹ کا اس کے مطابق آدھے سے زیادہ بچے فیل ہوئے اس کی وجہ ایک ہی ھے کہ آن لائن کلاسز میں رٹہ تو لگ سکتا ہے لیکن استاد بچے کو Conceptual

    سٹڈی نہیں کروا سکتا جبکہ انٹری ٹیسٹ میں تو رٹہ سسٹم کامیاب ہی نہیں  ہوتا جس کی وجہ سے وہ فیل ہو گے ہیں اور اس کہ ذمہ دار حکومت وقت ھے چنانچہ سب سے پہلے خ

    وزیراعظم پاکستان کو وزرائے تعلیم کو ہدایت کرنی چاہیے کہ طلباء کو اعتماد میں لے پھر ان کے حوالے سے پالیسی بنائے تاکہ طلباء کو اس کا فائدہ پہنچے 

    واسلام 

    @ABGILL_1

  • علم ایک طاقت ہے تحریر: عاصمہ قریشی

    علم ایک طاقت ہے تحریر: عاصمہ قریشی

     اس جملے کے مختلف ورژن ثقافتوں کیساتھ زمانے بھر میں موجود ہے۔ 10 ویں صدی میں فقرہ کی تاریخ کے پہلے ورژن، جیسے نہج البلاگہ میں:

     "علم طاقت ہے اور یہ اطاعت کا حکم دے سکتا ہے،”

     یا پھر فارسی شاعر فردوسی کے الفاظ:

     "قابل وہ ہے جو عقلمند ہے۔”

     بائبل کتاب میں ایک عبرانی جملہ ہے جس کا تقریبا ایک ہی ترجمہ کیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر لاطینی میں سب سے پہلے:

     "ور ساپاانس اٹ فورٹاس ایسٹ اٹ ور دوکٹوس روبسٹوس اٹ والادو،”

     اور پھر انگریزی بادشاہ جیمز بائبل مثال کے طور پر:

     "ایک عقلمند آدمی مضبوط ہے، علم آدمی کی طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔”

     علم طاقت کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو اس علم کا استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگی پر تعلیم اور مکمل کنٹرول ہے. تعلیم یافتہ افراد زندگی میں چیزوں کو آسانی سے سنبھال سکتے ہیں۔ علم سب سے مضبوط ذریعہ ہے جو لوگوں کو طاقت فراہم کرتا ہے اور علم کو زمین پر کسی اور طاقت سے شکست نہیں دی جاسکتی ہے۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ، علم ایک ایسے شخص کو طاقت دیتا ہے جو اپنے حقوق کی جنگ لڑتا ہے اور دنیا کا مقابلہ کرتا ہے۔ علم نے انسان اور جانور میں فرق پیدا کیا ہے۔ انسانوں کا جسمانی طاقت میں جانوروں سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا لیکن، انسان صرف علم کی طاقت کی وجہ سے زمین پر سب سے طاقتور مخلوق رہا ہے۔ انسان جسمانی طاقت میں جانوروں سے کمزور ہے. انسان علم سے قوت حاصل کرتا ہے اور جسمانی قوت پر انحصار نہیں کرتا۔ انسان زمین پر بہت تیز اور سمجھ دار مخلوق ہے کیونکہ وہ اپنے علم، تحقیق اور تجربات سے دنیا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    علم انسان کو یہ جاننے کی طاقت دیتا ہے کہ فطرت کی قوتوں کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے اور فوائد حاصل کرنے کے لئے ان کا استعمال کرنا ہے۔ علم حاصل کرنا ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے۔ علم کے ذریعے ہم صحیح اور غلط، اچھا یا برا کے درمیان فرق کرنے کے قابل ہیں۔ علم ہماری مستقبل کی منصوبہ بندی میں ہماری مدد کرتا ہے اور ہمیں صحیح راستے پر گامزن کرتا ہے۔ اس سے ہمیں اپنی کمزوریوں، غلطیوں پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنے اور ان پر جلد از جلد قابو پانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ علم انسان کو زندگی میں ذہنی اور اخلاقی ترقی دے کر زیادہ طاقتور بناتا ہے۔ معاشرے اور ملک میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لئے علم ایک نہایت اہم ذریعہ ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ علم ہی کامیابی اور خوشی کا ستون ہے۔ اس لیے ہمیں علم حاصل کرنا چاہیے اور ایمانداری سے کام کرنا چاہیے اور اپنے معاشرے کو برائی سے بچانا چاہیے مختصر یہ کہ علم لوگوں کو لڑائی جھگڑوں اور دیگر معاشرتی برائیوں سے دور رکھ کر معاشرے میں امن قائم رکھتا ہے۔

    سیاہ طرز میموری مٹانے والا چھڑی قسم کی صورتحال میں ایک مرد کی کمی، میں ایسی صورتحال کا تصور نہیں کرسکتا جہاں کوئی آپ سے آپ کا علم لے سکے۔

     یہاں تک کہ اگر باقی سب کچھ آپ سے، اپنے مال، آپ کی سماجی حیثیت، یا آپ کی صحت کی طرح لیا گیا تھا -آپ اب بھی آپ کو آپ کو یاد کرنے کا انتظام کر سکتے ہیں کہ سیکھا ہے تمام معلومات پڑے گا۔

    دراصل، اگر آپ نے اس طرح کے بدترین صورت حال کو برداشت کیا تو آپ شاید اس سے زیادہ علم کے ساتھ ختم ہوجائیں گے۔ حکمت بھی، یقینی طور پر۔ جو مجھے میرے اگلے نکتے پر لاتا ہے:

     یہ بہترین چاندی کی پرت ہے

     اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کی زندگی میں مکمل طور پر پاگل گڑبڑ چیزیں کم ہوجاتی ہیں، آپ تجربے کے لئے سمجھدار ہوں گے۔

     اگر اس مخصوص لمحے میں چیزیں خوفناک ہیں تو، آپ کم از کم اس حقیقت میں راحت حاصل کرسکتے ہیں کہ آپ کو یہ تسلی انعام کے طور پر ہوگی۔ کبھی کبھی یہ بھی اس سے زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے کے لئے بھی جاتا ہے -صرف ایک خلاصہ زندگی میں شرکت کی ٹرافی کے بجائے کچھ حد تک مفید ہے.

    آپ کو یہ معلوم کرنا ختم ہوسکتا ہے کہ آپ نے جو کچھ سیکھا وہ اس سے کہیں زیادہ قیمتی تھا جس کے بارے میں آپ نے سوچا کہ آپ کھو گئے ہیں، یا فیصلہ کریں کہ آپ جو بھی تکلیف سے گزرے وہ اس کے قابل تھا جس کے بارے میں آپ کو اپنے بارے میں یا زندگی کے بارے میں معلوم ہوا۔

     یہ ہمیں آزاد کرتا ہے

     علم ہمیں دنیا میں زندہ رہنے اور پنپنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ یہ آزادی ہے، اور آپ کے اندر آزادی کے بغیر حقیقی طاقت نہیں ہے.

    مزید علم ہمیں بہتر طور پر فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے، نیز اس منطقی اور اخلاقی بنیادوں کا فیصلہ کرنا ہے جس پر ہم اپنے فیصلے کر رہے ہیں۔

     علم اور حکمت ہمیں بہتر انتخاب کرنے میں مدد کرتی ہے. جب ہم بہتر انتخاب کرتے ہیں تو ہم خود کا زیادہ احترام کرتے ہیں، اور جب ہم خود کا زیادہ احترام کرتے ہیں تو، ہم بہتر انتخاب جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ سائیکل طاقتور ہے۔

     جب یہ واضح ہوجائے کہ ہم اپنی عزت کرتے ہیں تو دوسرے بھی ہماری زیادہ عزت کرنے آتے ہیں جو بے حد طاقتور بھی ہے۔

     اس بات سے انکار نہیں ہے کہ علم طاقت ہے -لیکن یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے

     بڑی طاقت کے ساتھ بڑی ذمہ داری آتی ہے.

     کبھی بھی سیکھنے سے باز نہ آئیں، اور اپنی طاقتوں کو اچھے کام کے لئے استعمال کرنا یاد رکھیں۔

    Twitter ID: ‎@AQsmt2

  • ہمارے معاشرے میں تعلیم کی اہمیت   تحریر زاہد کبدانی

    ہمارے معاشرے میں تعلیم کی اہمیت تحریر زاہد کبدانی

    یہ کہنا کہ تعلیم اہم ہے ایک چھوٹی سی بات ہے۔ تعلیم کسی کی زندگی کو بہتر بنانے کا ہتھیار ہے۔ یہ شاید کسی کی زندگی بدلنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ بچے کی تعلیم گھر سے شروع ہوتی ہے۔ یہ زندگی بھر کا عمل ہے جو موت کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ تعلیم یقینی طور پر کسی فرد کی زندگی کے معیار کا تعین کرتی ہے۔ تعلیم کسی کے علم ، مہارت کو بہتر بناتی ہے اور شخصیت اور رویہ کو ترقی دیتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ تعلیم لوگوں کے روزگار کے مواقع کو متاثر کرتی ہے۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کو شاید اچھی ملازمت ملنے کا امکان ہے۔ تعلیم کی اہمیت پر اس مضمون میں ، ہم آپ کو زندگی اور معاشرے میں تعلیم کی اہمیت کے بارے میں بتائیں گے۔

    سب سے پہلے ، تعلیم پڑھنے لکھنے کی صلاحیت سکھاتی ہے۔ پڑھنا اور لکھنا تعلیم کا پہلا قدم ہے۔ زیادہ تر معلومات لکھ کر کی جاتی ہیں۔ لہذا ، لکھنے کی مہارت کی کمی کا مطلب ہے کہ بہت سی معلومات سے محروم رہنا۔ اس کے نتیجے میں تعلیم لوگوں کو خواندہ بناتی ہے۔

    سب سے بڑھ کر ، روزگار کے لیے تعلیم انتہائی ضروری ہے۔ یہ یقینی طور پر مہذب زندگی گزارنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ یہ ایک اعلی تنخواہ والی ملازمت کی مہارت کی وجہ سے ہے جو تعلیم فراہم کرتی ہے۔ جب تعلیم کی بات آتی ہے تو غیر تعلیم یافتہ لوگ بہت بڑے نقصان میں ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت سے غریب لوگ تعلیم کی مدد سے اپنی زندگی کو بہتر بناتے ہیں۔

    بہتر مواصلات تعلیم میں ایک اور کردار ہے۔ تعلیم انسان کی تقریر کو بہتر اور بہتر بناتی ہے۔ مزید برآں ، افراد تعلیم کے ساتھ رابطے کے دوسرے ذرائع کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

    تعلیم ایک فرد کو ٹیکنالوجی کا بہتر صارف بناتی ہے۔ تعلیم یقینی طور پر ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے ضروری تکنیکی مہارت فراہم کرتی ہے۔ لہذا ، تعلیم کے بغیر ، جدید مشینوں کو سنبھالنا شاید مشکل ہوگا۔

    لوگ تعلیم کی مدد سے زیادہ بالغ ہو جاتے ہیں۔ نفاست تعلیم یافتہ لوگوں کی زندگی میں داخل ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر ، تعلیم افراد کو نظم و ضبط کی قدر سکھاتی ہے۔ پڑھے لکھے لوگ بھی وقت کی قدر کو زیادہ سمجھتے ہیں۔ پڑھے لکھے لوگوں کے لیے وقت پیسے کے برابر ہے۔

    آخر میں ، تعلیم افراد کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے خیالات کا موثر انداز میں اظہار کر سکیں۔ تعلیم یافتہ افراد اپنی رائے کو واضح انداز میں بیان کر سکتے ہیں۔ لہذا ، پڑھے لکھے لوگ لوگوں کو اپنے نقطہ نظر پر قائل کرنے کا امکان رکھتے ہیں۔

    معاشرے میں تعلیم 

    سب سے پہلے ، تعلیم معاشرے میں علم پھیلانے میں مدد دیتی ہے۔ یہ شاید تعلیم کا سب سے قابل ذکر پہلو ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرے میں علم کی تیزی سے تبلیغ ہوتی ہے۔ مزید برآں ، تعلیم کے ذریعہ نسل سے دوسری نسل میں علم کی منتقلی ہوتی ہے۔

    تعلیم ٹیکنالوجی کی ترقی اور اختراع میں مدد دیتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ تعلیم جتنی زیادہ ہو گی اتنا ہی ٹیکنالوجی پھیلے گی۔ جنگی سازوسامان ، ادویات ، کمپیوٹرز میں اہم پیش رفت تعلیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    نتیجہ

    تعلیم اندھیرے میں روشنی کی کرن ہے۔ یہ یقینی طور پر اچھی زندگی کی امید ہے۔ تعلیم اس سیارے پر ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس حق سے انکار کرنا برائی ہے۔ ان پڑھ نوجوان انسانیت کے لیے بدترین چیز ہے۔ سب سے بڑھ کر ، تمام ممالک کی حکومتوں کو تعلیم کو پھیلانا یقینی بنانا چاہیے۔

    @Z_Kubdani

  • پرائیویٹ اسکولز کا تعلیمی نظام (ایک کاروبار)  تحریر فرقان اسلم

    پرائیویٹ اسکولز کا تعلیمی نظام (ایک کاروبار)  تحریر فرقان اسلم

    "علم ایک لازوال دولت ہے”

    ہمارے مذہب اسلام میں تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ اس لیے کوئی بھی ذی شعور انسان تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ اسی بِنا پر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ معیاری تعلیم حاصل کرے۔ اب مسلہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کو کس تعلیمی ادارے میں داخل کروایا جائے۔ دو طرح کے تعلیمی ادارے ہوتے ہیں سرکاری تعلیمی ادارے اور پرائیویٹ (نجی) تعلیمی ادارے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی سرپرستی حکومت کرتی ہیں لیکن پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا کوئی خاص سرپرست نہیں ہوتا ملی بھگت سے کام چلتا ہے۔ چند پرائیویٹ ادارے اچھے بھی ہوتے ہیں۔ 

    ہمارے معاشرے میں اکثر والدین سرکاری اسکولز سے متنفر نظر آتے ہیں بعض کا ماننا ہے کہ سرکاری اداروں میں سہولیات کا فقدان ہے اور معیار کی کمی ہے۔ اسی اثنا میں وہ پرائیویٹ مافیا کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابلِ غور ہے کہ چند پرائیویٹ اسکولز تعلیمی معیار پر پورا اترتے ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن نام نہاد پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار ہے جن کا معیارِ تعلیم انتہائی ناقص ہے بلکہ وہ تعلیم کے نام پر کاروبار کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پرائیویٹ اسکولز ہیں جبکہ بہت سے ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔ یہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ اور ہماری عوام بھی انجانے میں ان کے دھندے کا شکار ہورہی ہے۔

    اگر دیکھا جائے تو بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے مگر میں دو اہم مسائل پر بات کرنا چاہوں گا۔

    من مانی فیسیوں کا مطالبہ: 

    پرائیویٹ اسکولز طلبہ اور انکے والدین کو مختلف حیلے بہانوں سے لوٹتے ہیں لیکن سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہر ماہ کے شروع میں والدین کو فیسوں کے نام پہ ہزاروں روپے اسکولز میں جمع کروانے ہوتے ہیں تا کہ انکے بچے تعلیم کی روشنی سے بہرہ مند ہو سکیں۔ چاہے کوئی امیر ہے یا غریب ہے لیکن فیس ہر صورت جمع کروانی ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں ہر سال اضافہ ہونا بھی کوئی نئی بات نہیں۔ پیپر فنڈ اور پیپر کی شیٹوں کے پیسے الگ سے لیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک پیپر کی فوٹوکاپی پر دو یا تین روپے خرچ آتا ہے لیکن پیپر فنڈ ہزاروں میں لیتے ہیں۔

    سٹیشنری کا سامان : 

    اگر آپکا بچہ کسی مہنگے سکول میں زیرِ تعلیم ہے تو صرف ماہانہ فیس کے ساتھ ساتھ اسکول کے پرنٹڈ مونوگرام والی کاپیاں، کتابیں اور دیگر سٹیشنری کا سامان خریدنا بھی آپکی ذمہ داری ہے۔ جس کاپی کی قیمت باہر 30 روپے ہو یہاں پر یہ دوگنا قیمت پر ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کتابیں، یونیفارم اور دیگر سامان بھی انتہائی مہنگے داموں بیچتے ہیں اگر اس کو کاروبار کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ اگر پرائیویٹ اسکولز کا بس چلے تو یہ اس بات کو بھی لازم کردیں کہ آپ کا بچہ جس آٹے کی روٹی کھاتا ہے وہ بھی ہمارے اسکول سے لیا جائے تاکہ اس کی نشوونما بہترین ہوسکے۔

    مکتب نہیں دوکان ہے، بیوپار ہے

    مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے

    ان مسائل کا سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے خلاف ایک موثر ایکشن لیا جائے تاکہ ان کی من مانی بند ہوسکے۔ پرائیویٹ اسکولز انتظامیہ ملی بھگت کرکے اپنا دھندہ چلا رہی ہے جس کا شکار بے چارے سادہ لوح عوام بن رہے ہیں۔ دوسرے ممالک میں پرائیویٹ اسکولوں کا نظام ہم سے کئی گنا بہتر ہے۔ وہاں ہر چیز کا چیک اینڈ بیلنس ہے۔ اگر کوئی اسکول زیادہ فیس وصول کرے یا ان کا معیار اچھا نہ ہو تو فوراً بند کردیا جاتا ہے بلکہ بھاری جرمانہ بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن وطنِ عزیز میں نظام اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسی وجہ سے آج ہم تعلیمی میدان میں بہت سے ممالک سے پیچھے ہیں۔ لٰہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائیویٹ اسکول مافیا کو بے نقاب کیا جائے اور تعلیم کی آڑ میں کاروبار کرنے والوں اور قوم کے معماروں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

    یہاں پر ایک بات ذکر کرتا چلوں کہ چند نجی اسکول ایسے بھی ہیں جن کا معیار تعلیم بہت اچھا ہے مگر ایسے ادارے بہت کم ہیں۔ زیادہ تر لوگ ان کی فیس ادا نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے ان کا ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اور تمام طلباء کے لیے یکساں تعلیم کی فراہمی ناممکن ہوجاتی ہے۔

    والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور بلاوجہ سرکاری تعلیمی اداروں پر تنقید نہ کریں کیونکہ وہ بھی عوام کی بھلائی اور آسانی کے لیے تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ہماری زیادہ تر آبادی مڈل کلاس ہے اس لیے وہ پرائیویٹ اسکولز کی فیس ادا نہیں کرسکتے اس لیے وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولز میں داخل کروا دیتے ہیں۔ اللّٰہ پاک وطنِ عزیز کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں ہم سب کی مدد فرمائے۔۔۔آمین

    @RanaFurqan313

  • انگلش ۔دوست یا دشمن تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    ہم پی آئ اے کی فلائیٹ پر چھ لوگ محو سفر تھے،

    یہ فلائیٹ اسلام آباد سے ابو ظہبی جا رہی تھی،

    ہم 6لوگوں کاتعلق ایک ہی شہر سے تھا۔

    اتفاق سے ہم ایک ہی کمپنی کے ورک ویزوں پر وہاں جا رہے تھے۔

    مزید اتفاق یہ کہ ہم سب کا جاب بھی ایک ہی تھا۔

    ہم سب قدرے گھبراۓ ہوۓ بھی تھے کہ نہ جانے وہاں پہنچ کر ہم کلک کر پائیں گے یا نہیں؟

    ہمارے اس گروپ میں ہم سب کی فنی تعلیم تو برابر تھی۔

    مگر تجربے کے لحاظ سے میں اُن سب سےپیچھے تھا۔

    میرا کام کا تجربہ اُن سب سے کم تھا۔

    اس لحاظ سے میری گھبراہٹ کا ان سے زیادہ ہونا فطری تھا۔

    یہ چیز مجھے مسلسل پریشان کیے جا رہی تھی۔

    پورے سفر میں طرح طرح کے خیالات آتے رہے،

    کیونکہ ایک تو ویزہ بہت مہنگا خریدا تھا تو دوسرا فیملی کی بہت زیادہ توقعات بھی ہم سب سے وابستہ تھیں۔

    شام کے وقت ہم جونہی ابوظہبی 

    ائیر پورٹ پر لینڈ ہوۓ تو دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہو گئیں کہ اب نجانے کیا ہو؟

    نہ جانے کن حالات سے گزرنا پڑے؟

    ائیر پورٹ سے لینے ہمارا ایک مشترکہ دوست آیا ہوا تھا۔

    اُسکی لش پش کرتی نئی گاڑی،

    ہاتھ میں گولڈ لیف کا سگریٹ اور آنکھوں میں رے بین کا چشمہ دیکھ کر ہم سب کے دلوں میں بھی حسرت جاگی کہ نہ جانے کتنے کٹھن مرحلوں کے بعد ہم بھی اسی طرح کی شان وشوکت کے حامل ہوں گے؟

    مگر ابھی کہاں؟

    ابھی تو عشق کے کئی امتحاں باقی تھے۔

    دوست کی رہاشگاہ پررات جیسے تیسے کروٹیں بدلتے گزری۔

    اگلی صبح اُٹھ کر بے دلی سے ناشتہ زہر مار کیا،

    کیونکہ مستقبل کو لیکر زہنی طور پر 

    بے یقینی کی سے کیفیت تھی۔

    جس کے باعث کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا!

    اگلی صبح کپنی کے ہیڈ آفس گئے تو انہوں نے میڈیکل وغیرہ کے لئے ایک دن بعد آنے کو کہا،

    یوں کرتے کراتے چند دنوں بعد ہمیں ایک ورک سائیٹ پر جانے کا پروانہ تھما دیا گیا۔

    کمپنی ڈرائیور کے ہمراہ ہم سب دوست متحدہ عرب امارات کے شہر العین جا پہنچے،

    جہاں پہ ہمارا پراجیکٹ تھا۔

    مجھے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک شاکر نامی شخص کے کمرے میں رکھا گیا۔

    شاکر بھائ انتہائ ملنسار اور تعاون کرنے والے شخص تھے۔

    اُن کے ساتھ ٹائم کافی اچھا گزرا۔

    اگلی صبح ہمیں بس کے زریعے پراجیکٹ کے سائیٹ آفس پہنچایا گیا،جہاں ہماری ملاقات ہمارے فلسطینی پراجیکٹ مینیجر انجینئر فتحی سے کروائ گئی۔

    انجینئر فتحی پہلی ہی ملاقات میں کافی سخت آدمی لگا۔

    اُس نے ملاقات کے شروع ہی میں بتا دیا کہ ہمارا اس پراجیکٹ پر رہنا کنسلٹنٹ کمپنی کے ریذیڈینٹ انجینئر مصر سے تعلق رکھنے والے امریکن  پاسپورٹ ہولڈراللہ دین میکاوی کے انٹرویو پر انحصار کرے گا!

    یہ سُنتے ہی تقریبا” ہم سب ہی کے اوسان خطا ہو گئے کہ پتہ نہیں اس انٹرویو میں کیا پوچھا جاۓ گا؟

    پتہ نہیں کتنے مشکل سوالات ہوں گے؟

    یہ سب باتیں ہمیں اگلی صبح تک مضطرب رکھنے کے لئے کافی تھیں۔

    رات رہائشی کیمپ میں واپسی پر شاکر بھائ سے اس انٹرویو کی بابت استفسار کیا،

    مگر انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ آئیڈیا نہیں کہ انٹرویو کیسا ہو گا؟

    کیونکہ بقول شاکر بھائ کے۔

    یہ انٹرویوز کا سلسلہ ابھی ہی شروع ہوا ہے۔

    پہلے تو بغیر انٹرویو کے ہی ڈیوٹی پر لگا دیا جاتا تھا۔

    یہ سُن کر اپنی قسمت پر اور زیادہ افسوس ہونے لگا کہ

    یااللہ ہم سے کونسی غلطی ہوئ ہے کہ جب ہم نے آنا تھا تو انٹرویو پروگرام بھی شروع ہونا تھا۔

    کاش ہم بھی اسی وقت آجاتے جب بغیر انٹرویوزکے نیا پار چڑھ جاتی تھی۔

    مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا،

    سواۓ انٹرویو والی پُل صراط سے گزرنے کے۔

    انٹرویو سے پہلی والی اس رات ہم سب دوستوں نے ڈائریاں کھول کر کچھ نوٹس اور تھیوری و فارمولوں وغیرہ کا مطالعہ کیا مگر شومئی قسمت کہ انٹرویو کے پریشر کے باعث کچھ نیا زہن میں جانے کے بجاۓ پرانا بھی نکلتا محسوس ہوا۔

    خیر کُفر ٹوٹا خدا خدا کر کے،

    بالاخر انٹرویو کی فیصلہ کُن گھڑی آن پہنچی۔

    انٹرویو کے لئے ہم سب کو باری باری اسی کنسلٹنٹ ریذیڈینٹ انجینئر اللہ دین میکاوی کے کمرے میں بھیجا گیا۔

    میری باری پر جونہی میں کمرہ میں داخل ہوا تو سلام دعا کے فورا” بعد میکاوی سر نے مجھے کہا کہ 

    :لگتا ہے مسٹر بخاری کہ آپ کی نیند پوری نہیں ہوئ؟

    یہ سُن کر میرے تو جیسے ہاتھوں کے طوطے ہی اُڑ گئے،

    مجھے لگا کہ یہ بندہ بڑا تیز ہے،

    اس نے میری ہڑبڑاہٹ ہی سے اندازہ لگا لیا ہے کہ مجھ میں تجربے کی کمی ہے۔

    خیر جوں توں کر کے یہ ایک گھنٹہ طویل انٹرویو اختتام پزیر ہوا۔

    انٹرویو کے دوران میکاوی سر نے مجھے دس منٹ کا چاۓ پینے کے لئے وقفہ دیا تو میں نے سُکھ کا سانس لیا۔

    ان غنیمت دس منٹوں میں چاۓ کا تو حلق سے اترنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا،

    تاہم اس وقت کو میں نے اپنی سانسیں بحال کرنے اور چہرے پر تھوڑا بہت اعتماد بحال کرنے کے لیے صرف کیا۔

    دس منٹ کے وقفے کے بعد جب میں دوبارہ انٹرویو کے لئے کمرے میں گیا تو میری کیفیت کچھ اچھی تھی،کیونکہ انٹرویو کے پہلے مرحلے میں مجھے کچھ ان جانا سا حوصلہ ملا تھا۔

    میرے بعد ہم سب چھ کے چھ دوستوں کے انٹرویو مکمل کراۓ گئے۔

    انٹرویو کے خاتمے کے بعد میکاوی سر نے ہم سب کو کہا کہ اب تم چلے جاؤ اور اپنی اپنی نیند پوری کرو۔

    میں کل تک انٹرویو کے رزلٹس سے آپ کے پراجیکٹ مینیجر کو آگاہ کر دوں گا۔

    ہم سب شکریہ ادا کر کے ایکبار پھر کمپنی کیمپ میں واپس آگئے۔

    اگلی رات ہم سب کے لئے پچھلی راتوں سے بھی بھاری تھی،

    کیونکہ اگلے دن ہماری قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔

    اگلی صبح ہم سب کے کیرئر کے لئے بہت ہی اہم تھی۔

    بس یوں سمجھیے کہ یہ رات بھی کانٹوں پر ہی گزری،

    نیند تو جیسے کوسوں دور تھی۔

    کروٹیں بدلتے بدلتے رات گزری اور صبح پھر ہم سائیٹ آفس جا پہنچے۔

    کچھ دیر انتظار کے بعد ہمیں ہمارے پی ایم نے اپنے دفتر بُلایا اور انٹرویوز کے رزلٹ کے بارے میں بتاتے ہوۓ ہوۓ جو انکشاف کیا،

    وہ سواۓ میرے ،

    باقی سب کے لئے بہت ہی شاکنگ تھا۔

    میکاوی سر نے صرف مجھے کامیاب قرار دیا تھا،

    کیونکہ بقول اُن کے،

    میں ان کے سوالوں کے زبانی اور تحریری جواب دینے میں کافی حد تک کامیاب رہا تھا۔

    اگرچہ ان میں پچاس فیصد جواب تو غلط تھے مگر میں ان کے سوالوں کے جواب میں بے تکان بولتا رہا اور جب انہوں نے لکھنے کا کہا تو میں لکھنے میں بھی کامیاب رہا۔

    بتاتا چلوں کہ ہمارے یہ انٹرویوز انگلش زبان میں تھے۔

    اور میری اکیڈمک کوالیفیکیشن دوسرے دوستوں سے زیادہ ہونے کی وجہ سے انگلش میں جواب دیتے وقت کچھ زیادہ پریشانی نہیں ہوئ۔

    جبکہ باقی دوستوں کا ہاتھ انگلش میں بہت تنگ تھا،

    جیسا کہ ہم میں سے اکثر پاکستانیوں کے ساتھ یہ مشکل رہتی ہے۔

    وہ  سب میکاوی سر کے زیادہ تر سوالات اس وجہ سے سمجھ ہی نہیں پاۓ کیونکہ یہ سوالات انگریزی زبان میں پوچھے گئے تھے۔

    میرا فیلڈ کا تجربہ اُن سب سے کم تھا،

    ٹیکنیکی طور پروہ سب مجھ سے اچھے پروفیشنل تھے۔

    مگر کمزور انگلش کی وجہ سے مار کھا گئے۔

    انٹرویو کی ناکامی سے میرے اُن دوستوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،

    کیونکہ پہلے تین مہینے ہم سب کا پروبیشن پیریڈ چل رہا تھا،

    جس میں کمپنی کے پاس ورکرز کو اپنی توقعات پر پورا نہ اترنے کے باعث تادیبی کاروائ کااختیار ہوتاہے۔

    میرے ان دوستوں کے پیکیج بھی تبدیل کئے گئے،

    انکی تنخواہوں میں چالیس فیصد تک کمی کر کے دوسری سائیٹ پر ٹرانسفر کر دیا گیا۔وہاں بھی انکی مشکلات کم نہ ہوسکیں اور وہ لمبا عرصہ جدوجہد میں رہے۔

    میں انگلش پر قدرے عبور اور اپنی خوش قسمتی سے اکیلا آدمی تھا،

    جو اسی پراجیکٹ پر سروائیو کر گیا،

    جس کے لئے ہمیں پاکستان سے لایا گیا تھا۔

    میں تقریبا” پراجیکٹ کے اختتام تک وہیں رہا اور الحمدللہ پراجیکٹ کی  کامیاب تکمیل میں بھرپور حصہ ڈالا۔

    اس زاتی تجربے اور مشاہدے کو آپ کے گوش گزارنے پر مجھے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے اس بیان نےمجبور کیا،جس میں انہوں نے چند روزانگلش زبان کے بارے میں کچھ ناپسندیدگی کا تاثر دیا۔

    مجھے وزیر اعظم کے اس بیان سے جزوی طور پر اختلاف ہے،

    ہم انگلش سے دور نہیں رہ سکتے،

    ایسا کرنے سے ہم دنیا سے دور ہو جائیں گے،

    انگلش بیرون ملک خصوصا” گلف میں نوکریوں کے لئے اہم ترین ٹُول ہے۔

    اس پر عبور حاصل کرنا بہت اہم اور ضروری ہے،

    ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم جو کہنا چاہ رہے ہوں،

    ہم ان کی بات اس تناظر میں سمجھ نہ پاۓ ہوں۔

    تاہم ہو سکتاہے کہ عمران خان کا مدعا یہ ہو کہ انگلش نہ آنے کی وجہ سے اپنے آپ کو احساس کمتری کا شکار نہ ہونے دیں۔

    یہ بات وزن رکھتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنی سوچ کو اتنا ہی اہم سمجھیں،

    جتنا گورے اپنی بات کو سمجھتے ہیں۔

    مگر انگلش ایک انٹرنیشنل زبان ہے،

    اسے سیکھنا ہمارے بچوں کے لئے بہت ضروری ہے۔

    بیرون ملک کام کرنے کے لئے یہ زبان انکی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔

    اسلئے انگلش کی بطور زبان ،

    قدروقیمت سے انکار ممکن ہی نہیں۔

    کیا پتہ آپکی فیلڈ میں ٹیکنیکل تجربے کی کمی کو انگلش زبان دور کر کے اسی طرح قسمت کا دروازہ کھول دے۔

    جس طرح مجھ پر اللہ پاک نے اپنا کرم کیا#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • ابتدائی تعلیم میں مختلف زبانیں سیکھنے کی اہمیت۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    ابتدائی تعلیم میں مختلف زبانیں سیکھنے کی اہمیت۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    کسی بھی تعلیمی نظام میں پہلے بارہ سال اصل میں معاشرہ تعلیم دیتا ہے۔ اس میں ایک قوم اپنا علم، اپنی میراث منتقل کرتی ہے اور وہ ضروری صلاحیت پیدا کرتی ہے تاکہ بچہ جب شعور کی عمر کو پہنچے تو وہ اپنے فیصلے خود کر سکے اور اپنے میدان کے انتخاب میں بھی آسانی محسوس کرے۔ 

    یہ جو بارہ سال کی تعلیم ہوتی ہے اس میں ایک بہت بڑا ٖ فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ بچوں کو زبانیں کون سی پڑھانی ہیں، کیونکہ زبان علم کا دروازہ ہے۔ اس میں بڑے سادہ اصول ہیں، یعنی آپ کو اپنی تعلیم کی ابتدا اپنی زبان سے کرنی چاہیے۔ اپنی زبان کا مطلب ہے وہ جو آپ کی ماں بولتی ہے، وہ جو آپ کے گھر میں بولی جاتی ہے۔ گھر کی اور تعلیم کی زبان کو ابتدا میں بالکل مشترک ہونا چاہیے۔ اس پر دنیا بھر میں اہلِ علم کا اتفاق ہے۔

    ایک بچے کو پہلے ہی مرحلے میں زبانوں کے تصادم میں نہیں ڈال سکتے۔ بچہ اپنی زبان اپنے ماں باپ سے سیکھتا ہے۔ جب وہ ایک زبان سیکھ لیتا ہے تو اُس سے آپ تعلیم کی ابتدا کر لیں۔ اس کے بعد مختلف زبانیں اس کو سکھانی چاہئیں۔ اس میں بھی ایک تدریج رکھی جاتی ہے، یعنی یہ نہیں ہے کہ آپ پہلی جماعت ہی سے بچے کو کسی ایک زبان میں صحت کے ساتھ بولنے یا لکھنے کی تربیت دینے سے پہلے اس کے اندر ایک خلجان پیدا کر دیں ۔ایک تدریج کے ساتھ زبانوں سے تعارف کروایا جاتا ہے۔

    یہ اس اصول پر ہوتا ہے کہ رابطے کی زبان سیکھنی پڑتی ہے۔ رابطے کی زبان بعض اوقات کوئی قومی زبان بن جاتی ہے۔مثال کے طور پر ہمارے ہاں لوگ پشتو بھی بولتے ہیں، سندھ، بلوچی، سرائیکی اور پنجابی بھی بولتے ہیں لیکن ان کے ہاں رابطے کی زبان کی حیثیت اردو کو حاصل ہو چکی ہے۔ اس لیے ہم اردو کو قومی زبان بھی کہتے ہیں۔ رابطےکی زبان سیکھنا بہت ضروری ہے۔

    اس کے بعد آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا اب ایک ویلج بن چکی ہے، دنیا میں مختلف جگہوں پر علوم پیدا ہو رہے ہیں۔ آپ ایک ہی جگہ پر نہیں رہتے بلکہ آپ کو آگے بھی بڑھنا ہوتا ہے، تعلیم کے لیے بھی دوسری جگہوں پر ہجرت کرنی ہوتی ہے تو آپ عالمی سطح پر انتخاب کرتے ہیں کہ رابطے کی زبان کیا ہو سکتی ہے۔

    ہمارے ہاں ایک خاص پسِ منظر کی وجہ سے انگریزی زبان عالمی رابطے کی زبان بن چکی ہے۔ دنیا میں اور بھی بہت سے زبانیں بولی جاتی ہیں، برحال کوئی ایک زبان آپ بین الاقوامی رابطے کی حیثیت سے سیکھتے اور سکھاتے ہیں۔

    آپ کا مذہب اسلام ،ہندومت یا کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کے مذہب کی زبان جس میں آپ کی مذہبی کتاب ہے، مذہبی علم ہے تو وہ بھی کوئی زبان ہو سکتی ہے۔ ہمارے ہاں وہ مذہبی زبان عربی ہے، تو اس وجہ سے عربی زبان سیکھنا بھی ضروری ہے۔ 

    اس میں ایک چیز یہ ہوتی ہے کہ ایک زبان آپ اس مقصد کے لیے سکھاتے ہیں کہ بچہ اس کو بولے گا بھی، اس کو سمجھے گا بھی، پڑھے گا بھی اور لکھے گا بھی۔۔۔۔ جب کہ کچھ زبانیں آپ اس مقصد سے سکھاتے ہیں کہ علوم تک رسائی ہو جائے۔ میرے نزدیک عربی زبان کو اس مقصد کے لیے سکھانا ضروری نہیں ہے کہ لوگ اس کو لکھیں اور بولیں، بلکہ صرف اس کو سمجھ سکیں یہی کافی ہے۔ تاکہ اللہ کی کتاب جس کو وہ ماننے والے ہیں اس کو براہِ راست پڑھ سکیں اور اس کو خود سے سمجھنے کے قابل ہو جائیں۔

    بچوں پر کوئی دباؤ نہ بڑھے اس لیے عربی زبان کا نصاب ہی اس طرح بنانا چاہیے کہ وہ پہلے مرحلے میں بچے کو وہ ضروری چیزیں سکھانے کا باعث بن جائے جو ایک مسلمان بچے کی ہمہ وقت ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی اس نے نماز پڑھنی ہے، کوئی دعا کرنی ہے یا اپنے پیغمبر کی کچھ بتائی ہوئی چیزوں کو دہرانا ہے۔ یہ بہت معمولی چیزیں ہیں اور بچے بہت آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اس کے لیے ریڈر کی حیثیت باتدریج قرآن بن جائے، یہاں تک کہ وہ بارہویں سال تک پہنچتے پہنچتے قرآن مجید پورا کا پورا سمجھ کر پڑھ لے جس طرح ایک انگریزی زبان کا ریڈر پڑھتا ہے۔ یعنی ایک کتاب کی حیثیت سے قرآن سے وابستہ ہوجائے۔

    اور یہ جو باقی چیزیں اسلامیات وغیرہ نصاب میں شامل کر کے بچوں پر بوجھ ڈالا ہوا ہے وہ ختم کر دینی چاہئیں۔ ان سب کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف چیزوں کو علمی طور پر جاننا، تاریخ سے واقف ہونا یا مسلمانوں کی تاریخ سے واقف ہونا یہ سب کچھ بعد میں آدمی کر لے گا۔ تاریخ بھی اگر پڑھانی ہے تو اس کو تاریخ کے طور پر پڑھائیے، اُس کو مذہبی چیز بنا کر نہ پڑھائیے۔

    twitter.com/iamAsadLal

    @iamAsadLal