Baaghi TV

Category: تعلیم

  • لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت کے امکانات کو کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ تحریر روشن دین

    @Rohshan_Din

    جب ہم لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے  ذہن میں سب سے پہلے کیا آتا ہے؟ ایک اچھا موقع ہو سکتا ہے کہ ہم  کسی خاص لڑکی کو یاد کریں جو بچپن میں ہمارے ساتھ کھیلتی ہوگی  جو پرائمری سکول نہیں جا سکی۔ یا شاید ہم کسی خاص دباو اور مداخلت کی بدولت   پرائمری سکول میں پڑھنے والی مسکراتی اور پڑھی لکھی لڑکیوں کی ان عظیم تصاویر میں سے ایک کو دیکھیں گے۔

     دونوں تصاویر درست ہیں ، لیکن وہ کہانی کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہیں۔

    کچھ عرصہ پہلے تک ، بہت سی لڑکیوں نے پرائمری سکول بھی مکمل نہیں کیا تھا۔  ترقیاتی پروگرام کے وجہ سے   بنیادی تعلیم میں اچانک مساوات کی طرف ڈرامائی پیش رفت ہوئی ہے۔ اگرچہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ، لڑکیوں کی تعلیم ، مہارت اور ملازمت کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے آج کے چیلنجز بدل گئے ہیں۔

     

    پرائمری سکول سے پہلے اور بعد میں کیا ہوتا ہے اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لڑکیوں اور نوجوان خواتین کے لیے اپنی ضرورت کی مہارت حاصل کرنے کے لیے ، ہمیں کچھ اصول و ضوابط طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ہر قدم پر ، ہمارے پاس ایک اچھا خیال ہے کہ کون سی مداخلت لڑکیوں کو اپنی صلاحیتوں کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    سب سے پہلے ،  ابتدائی بچپن کی ترقی (ECD) کے ذریعے ایک مضبوط بنیاد دیں۔ ابتدائی زندگی میں پیدا ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا مشکل ہے ، لیکن مؤثر ECD پروگرام اس طرح کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں اور اس طرح زیادہ ادائیگی حاصل کرسکتے ہیں۔ ای سی ڈی پروگرام تکنیکی ، علمی ، اور طرز عمل کی مہارتیں بناتے ہیں جو بعد کی زندگی میں اعلی پیداوری کے لیے سازگار ہوتی ہے۔اصولی اور  کامیاب مداخلت دیگر شعبوں میں ، غذائیت ، محرک اور بنیادی علمی مہارت پر زور دیتی ہے۔

    ایک نئی تحقیق سے پتہ چلاہے کہ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں تعلیم  پہ توجہ سے ایک خاطر خاہ تبدیلی آئی ہے۔   ، ایک ECD مداخلت کے 20 سال بعد ، فائدہ اٹھانے والوں کی اوسط کمائی  لڑکے اور لڑکیوں  کو پابند رکھنے والے علاقوں  کی نسبت 42 فیصد زیادہ ہیں۔ اگرچہ اس طرح کے بڑے فوائد حاصل نہیں کیے جاسکتے ہیں اگر تمام بچے اس طرح کی مداخلتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہوں ، جو کہ حتمی مقصد ہے ، اس کے باوجود یہ واضح ہے کہ ابتدائی نفسیاتی محرک مستقبل کی کمائی کو کافی حد تک بہتر بنا سکتا ہے۔

     اور اس کے بعد   بنیادی تعلیم پر مرکوز ہے۔جو  خلاء باقی ہے ، اس بات کا یقین کرنے کے لیے۔آئندہ کاغذ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 24 فیصد سےکم آمدنی والے ممالک میں ، 20 فیصد غریب ترین گھرانوں میں صرف 34 فیصد لڑکیاں پرائمری سکول مکمل کرتی ہیں ، جبکہ امیر ترین 20 فیصد گھرانوں میں 72 فیصد لڑکیاں . آمدنی سے متعلق یہ خلا لڑکیوں کے سکول جانے کے مواقع کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے مداخلت کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے ، 

     

    یمن میں ، ایسا ہی ایک نیا پروگرام جو پسماندہ طبقات میں 4-9 گریڈ میں لڑکیوں کو فوکس کر کے بناتا ہے وہ کافی کامیاب پروگرام رہا۔  داخلہ اور حاضری بڑھانے کے علاوہ ، ہمیں یہ بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ سکول جانے والی تمام لڑکیاں سیکھ سکیں – سیکھنے کے مضبوط معیارات ، اچھے اساتذہ ، مناسب وسائل ، اور ایک مناسب ریگولیٹری ماحول جو کہ احتساب پر زور دیتا ہے۔

     لیکن سیکھنا کس کے لیے؟ اپنی خاطر تعلیم یقینی طور پر ایک اندرونی قدر رکھتی ہے ، لیکن تعلیم اور تربیت جو کام کی جگہ پر مفید ثابت ہوتی ہے وہ بھی ضروری ہے۔ لڑکیوں کو بڑھنے میں مدد دینے کا اگلہ مرحلہ یہ ہے کہ انہیں ملازمت سے متعلقہ مہارتیں فراہم کی جائیں جن کا آجر درحقیقت مطالبہ کرتے ہیں ، یا وہ اپنا کاروبار شروع کرنے میں استعمال کر سکتے ہیں۔اور وہ معاشرے کے کارامد رہے

     

    بہت سے ممالک نے بنیادی تعلیم میں خواتین برابری حاصل کی ہے (یا تیزی سے ترقی کر رہے ہیں)۔ اس کے برعکس ، زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں لیبر فورس کی شرکت نوجوان خواتین کے لیے مردوں کے مقابلے میں کافی کم رہتی ہے۔ پاکستان  ، نائیجیریا اور جنوبی افریقہ میں ، 15-24 سال کی تمام لڑکیوں میں سے تین چوتھائی سے زیادہ تنخواہ دار کام میں مصروف نہیں ہیں اور کام کی تلاش میں نہیں ہیں۔ اور انٹرنیشنل انکم ڈسٹری بیوشن ڈیٹا بیس کے مطابق ، عالمی سطح پر تقریبا 40 40 فیصد نوجوان خواتین یا تو بے روزگار ہیں یا ‘بیکار’ ہیں (نہ تعلیم میں ، نہ کام میں)۔ اس کے علاوہ لاکھوں نوجوان خواتین ہیں جو بغیر تنخواہ یا غیر پیداواری کام میں مصروف ہیں۔

     اگلے مرحلہ ایک ایسے ماحول کی تخلیق سے متعلق ہے جو علم اور تخلیقی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کے لیے اختراعات سے متعلق مہارت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ لوگوں کو آئیڈیاز سے جوڑنے میں مدد ملے ، نیز رسک مینجمنٹ ٹولز جو جدت کو آسان بناتے ہیں۔ ایک بار پھر ، لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں  کو نقصان ہوتا ہے ، کم مواقع ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ، بہت سے ممالک میں انٹرپرینیورشپ کی شرح کم ہوتی ہے۔اور اکثر اجکل تو خواتین کو وہ تعلیم ہی نہیں دی جاتی جس میں وہ معاشرے  کی تربیت کے لئے  ایک اچھا کردار ادا کر سکے۔ 

     آخر میں  یہ ضروری ہے کہ معاشرے لچکدار ، موثر اور محفوظ لیبر مارکیٹ کو فروغ دیں۔ آمدنی کے تحفظ کے نظام کو مستحکم کرتے ہوئے سخت نوکری کے تحفظ کے ضوابط سے بچنے کے علاوہ ، کارکنوں اور فرموں کے لیے ثالثی کی خدمات مہیا کرنا مہارت کو حقیقی روزگار اور پیداوری میں تبدیل کرنے کے لیے اہم ہے۔خواتین ورکر کو پرامن اور اچھا ماحول  دیا جاے جہاں وہ سکون سے کام کر سکے ایک اچھی تنخوا اور ان کا مقرر کردہ وقت پہ سختی سے پابند کیا جاے کہ ان سے زیادہ کام تو نہی لے رہا کوئی۔ 

    لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں سوچتے وقت ، پرائمری سکولوں کی تصویر بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن لڑکیوں کی زندگی میں کامیابی کے لیے یہ کافی نہیں ہے: ہمیں پرائمری اسکول سے پہلے اور بعد میں کیا ہوتا ہے اس پر یکساں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 21 ویں صدی کی نوکری کے بازار میں داخل ہونے والی لڑکیاں اور نوجوان خواتین کو ایسی مہارتوں اور علم کی ضرورت ہوگی جو صرف ان کی زندگی بھر میں تیار کی جاسکیں۔ انہیں راستے میں ہر قدم پر ہماری مدد کی ضرورت ہے۔

     

    یہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے لیے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے ، کیونکہ لڑکیاں اکثر زیادہ تنگ ہوتی ہیں اور انہیں مواقع تک محدود رسائی حاصل ہوتی ہے ، جس کے نتیجے میں توقعات کم ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس پر قابو پایا جا سکتا ہے ، کم از کم جزوی طور پر ، یہ بتاتے ہوئے کہ مارکیٹیں کس طرح کام کرتی ہیں۔ 

    ہمارے ملک میں خواتین کے کام نہ کرنے کے وجہ میں سے سب سے اہم وجہ یہ ہےکہ وہ  آفس میں اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتی  ہیں ۔اکثر خواتین شادی کے بعد نوکری کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔ہماری تحقیق سے ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ بہت سارے  خاوند خواتین کو اس  لئے بھی کام کرنے سے روکتے ہیں کے کہیں  وہ کسی کے ساتھ افئر نہ چلاے۔ دوسرے طرف خواتین کو سستہ لیبر سمجھا جاتا ۔ان کی اجرت بہت کم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے بھی وہ کام کرنا پسند نہیں کرتی ہیں۔ 

    ملک میں خواتین کو تعلیم کے ساتھ ایک پرامن ماحول کی ضرورت ہے جہاں ان کے گھر والے ان پہ یقین رکھے افسز میں ان کے زندگی مکمل طور پہ محفوظ ہو۔ان کے دفتر کے اوقات کار کو کم سے کم رکھا جاے ان کے لئے تنخواہوں میں خصوصی پیکجزدیئے جائے تاکہ وہ معاشرے کے ترقی میں اپنا کردار (رول) ادا کر سکے

  • علم و تعلیم تحریر:رضوان۔

    علم و تعلیم تحریر:رضوان۔

    جان نثار اختر صاحب کے مصرے تعلیم کو وسعت دینے ہیں فرماتے ہیں 
    یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں 

    اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
    تعلیم حاصل کرنے کی اہمیت بہت واضح ہے مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے  ہر انسان چاہے وہ آمیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تعمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور قتدار کا خیال رکھ سکے۔تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گےا ہے Education تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گےا ہے آج کے اس پر آشوب اور تےز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کرلے۔حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے ایٹمی ترقی کا دور ہے سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگرSchool  اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم ،ٹیکنیکل تعلیم،انجینئرنگ ،وکالت Advocate  ،ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اسکے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی  Friendship کےلئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی ،عبادت ،محبت خلوص،ایثار،خدمت خلق،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح او رنیک Society معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے تعلیم کی اولین مقصد ہمیشہ انسان کی ذہنی ،جسمانی او روحانی نشونما کرنا ہے تعلیم حصول کےلئے قابل اساتذہ بھے بے حد ضروری ہیں جوبچوں کو   higher educationاعلٰی تعلیم کے حصوص میں مدد فراہم کرتے ہیں استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہوجائے بلکہ استاد وہ ہے جو طلب و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کوتا ہے اور انہیں شعور و ادراک ،علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے اپنے شاگرہ کو مالا مال کرتا ہے جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے methed سے پورا کیا ،ان کی شاگرد آخری سائنس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں اس تناظر میں اگر آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ پیشہ تدریس کو آلودہ کردیا گےا ہے محکمہ تعلیمات اور اسکول انتظامیہ اور معاشرہ بھی ان چار کتابوں پر قائع ہوگےا کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھاآج نمبرات اور مارک شیٹ پر ہے آج کی تعلیم صرف اسلیئے حاصل کی جاتی ہے تاکہ اچھی نوکری مل سکے یہ بات کتنی حد تک سچ ہے اسکا اندازہ آج کل کی تعلیمی ماحول سے لگایا جاسکتا ہے جیسے بچوں کا صرف امتحان میں پاس ہونے کی حد تک اسباق کا رٹنہ ہے بدقسمتی اس بات کی بھی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوئے ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کےلئے ہمارے تعلیمی نظم کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کررکھا ہے جس نے رسوائی کے علاقہ شاید ہی کچھ عنایت کیاہومگر پھر بھی جس طرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اسطرح مسلمان بھی کبھی جدید تعلیم سے دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ ترکے بانی مسلمان ہی ہیں اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنالیئے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے آج پاکستان میں تعلیم ادارے دہشت گردی کے نشانہ پر ہے دشمن طاقتیں تعلیم کی طرف سے بدگمان کرکے ملک کو کمزور کرنے کے درپہ ہیں ایسے عناصر بھی ملک میں موجود ہے جو اپنی سرداری ،چوہداہٹ،جاگیرداری کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کی وجہ سے اپنے اثر و رسوخ والے علاقوں میں بچوں کی تعلیم میں روکاوٹ بنے ہوئے ہیں جسکی وجہ سے اکثر بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں اوران کا مستقبل سیاہ رہ جاتا ہے اوراسی وجہ سے ہمارے نوجوان طبقہ تعلیم کی ریس میں پچھے رہ جاتی ہے مغرب کی ترقی کا راز صرف تعلیم کو اہمیت دنیا اور تعلیم حاصل کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہے اورایسی تعلیم کے بل پر انہوں نے فتح کیا ہے مغرب کی کامیابی اور مشرقی کے زوال کی وجہ بھی تعلیم کا نہ ہونا ہے دنیا کے وہ ملک جن کی معیشت تباہ ہوچکی ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں پربھروسہ کرتے ہیں ان کا دفاع بجٹ تو اربوں روپے کا ہپے مگر تعلیم بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے ،اگر کوئی بھی ملک چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے تو ان کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے وہ صرف علم کی بدولت کی ہے علم کی اہمیت سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں۔ جیسا کہ روس اور چین چاہتے ہیں کہ ان کے عوام تعلم حاصل کرکے ایک خودمختار اور جمہوریت کا پرستار بن سکیں ، اسلام میں تعلم حاصل کرنے والا اللّہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی بسر کر ے اور فکر آخرت اور دنیا کے فانی ہونے کا یقین پیدا کرے  
    Twitter  @RizwanANA97

  • استاد کی عظمت ,وہ واقع ہی استاد تھے تحریر:  فیصل رفیع

    استاد کی عظمت ,وہ واقع ہی استاد تھے تحریر: فیصل رفیع

    ‘معمارقوم’

    ایک وقت تھا جب لوگ بنا غرض لالچ کے دوسروں کو کچھ دینا چاہتے تھے .استاد ہونا بڑے اعزاز کی بات تھی. استاد اپنے تمام طلباء کو بنا مطلب کے سب کچھ دینا چاہتے تھے اور سب کو برابری کی سطح پر رکھتے تھے. طالب علم اپنے استاد کی بڑی قدر کیا کرتے تھے جب استاد کوئی کام کہتا تو وہ فورا کرتے چاہے اس کے گھر کا ہو یا کوئی باہر کا کام. استاد اور شاگرد کے درمیان محبت و احترام کا رشتہ تھا. استاد دلی طور پر دعائیں دیا کرتا تھا اپنے شاگردوں کو. اپنے شاگردوں کی خطاؤں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے معاف کر کے انہیں اصل حقیقت سے آشنا کیا کرتا تھا. ایسے اساتذہ صرف وہی لوگ تھے جو صرف اور صرف دنیا کو نیک اور خوبصورت بنانے اور اچھائی کا پیغام دینا چاہتے تھے. ان کا طرز عمل ایسا ہوتا تھا کہ ان کی قدر کرنے کو جی چاہتا تھا. ایک بات ان میں تھی ایسا لگتا تھا وہ صرف اور صرف دنیا کو اچھا سبق سکھانے اور خوبصورت درس دینے کے لیے آئے ہیں. یعنی ان کے ہر عمل سے لگتا تھا کہ وہ واقع ہی استاد ہیں وہ جس منصب پر فائز ہیں واقع ہی وہ اس کے حقدار ہیں. 

    مگر جیسے جیسے ہم مہذب(Civilized) ہوتے گئے ویسے ویسے Passion —《Profession نا رہا. اصول پسندی اور اچھائی غائب ہوگئی .حادثاتی طور پر وہ لوگ اس نیک پیشے میں آئے جن کا مقصد کوئی اور تھا. وہ بننا کچھ چاہتے تھے اور بن کچھ گئے . ہوا یوں پھر, نہ وہ جگہ جاکر اپنی ذمہ داری پوری کر سکے جس سے وہ جانا چاہتے تھے اور نہ ہی یہاں پر اپنا کردار بہتر انداز میں ادا کر پائے. آئیے ذرا سوچیں ایک آدمی جو ڈاکٹر بننا چاہتا تھا یا انجینئر بننا چاہتا تھا جس نے کبھی پڑھایا ہو ہی نہ اس کو پڑھانے کا موقع مل جائے سرکاری سطح پر تو اس کا اثر کس پر پڑے گا. کیا وہ اپنا کردار بہتر طریقے سے ادا کر پائے گا اس جگہ پر جس جگہ کو وہ جانتا ہی نہیں اس نے کیا کرنا ہے وہ اپنی اصل ذمہ داریوں سے آشنا ہی نہیں ہو پائے گا .کیوں نہ کے جس نے پولیس افسر بننا تھا اسے پڑھانے کا کام دے دیا جائے تو کیا وہ اس ذمہ داری کو سمجھ سکے گا جو ایک باقاعدہ پیشہ ور استاد سمجھتا ہے.

    ” مشہور شاعر انور مسعود اپنے ایک استاد سید وزیر الحسن عابدی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں ایسے استاد صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں. وہ ایسے پروفیسر تھے کہ کسی سٹوڈنٹ کو کلاس میں آنے نہیں دیتے تھے جس کے پاس کوئی سوال نہیں ہوتا تھا. وہ کہتے تھے علم سوال سے پیدا ہوتا ہے.” 

    ہم دیکھتے ہیں یونیورسٹیوں میں کالجوں میں سکولوں میں طالبعلموں کے جائز احساسات کو دبایا جاتا ہے. ان سے جائز سوال پوچھنے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے. دیکھنے میں آیا ہے پروفیسر کلاس میں کہہ رہا تھا کہ سمجھ آئے یا نہ آئے چپ کر کے بیٹھنا ہے کوئی سوال نہیں پوچھنا. بعض دفعہ تو جائز سوال پوچھنے پر اساتذہ برہم ہو جاتے ہیں. اس طرح کے اور بھی بہت سے کام دیکھنے میں آئے جو مختلف سطحوں پر ہوتے ہیں.

    کیا ایسی شخصیت کے مالک استاد واقع ہی پڑھانا چاہتے ہیں یا جان چھڑانا چاہتے ہیں. کیا وہ واقع ہی آنے والی نسلوں کو کچھ دے کر جانا چاہتے ہیں. میں یہ بھی ذکر یہاں پر کرنا چاہوں گا کہ ایک یونیورسٹی کے استاد کے ہاتھ میں سب کچھ ہوتا ہے وہ چاہے تو طالبعلم کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے اس لیے طالبعلم خوف میں رہتا ہے کہ استاد ناراض نہ ہوجائے اور وہ جائز سوال پوچھنے سے بھی کتراتے ہیں ایک اور مسئلہ یہاں پر ہے سیشنل مارکس کا جس کے پیچھے طالبعلم نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں ایک ان پر سمسٹر سسٹم کا بوجھ ہوتا ہے. ہم مانتے ہیں ہمارا تعلیمی نظام درست سمت میں نہیں ہے مگر کیا اس بات سے انجان بن جائیں گے اور اساتذہ انہیں جیسا طرز عمل اختیار رکھیں گے.

    طالب علم تو نہ سمجھ اور نادان ہوتے ہیں ان کے پاس استاد جتنا علم نہیں ہوتا وہ تو اپنے استادوں سے سیکھتے ہیں اور استادوں کو ایسا ہونا چاہیے کہ ان کے ہر عمل سے سیکھا جائے.

    کچھ ماہر اساتذہ کے انٹرویوز لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ ہوا وہ استاد جو پڑھاتے وقت سوال پوچھنے پر برہم ہوجاتے ہیں یا ان کے رویے میں تلخی ہوتی ہے وہ مجبوراً وہ کام کر رہے ہوتے ہیں اور وہ تجربہ کار نہیں ہوتے. وہ اس جگہ بالکل نئے ہوتے ہیں . انہیں سمجھ نہیں آرہی ہوتی کہ وہ کیا کریں یہاں میں اپنے استاد کا جملہ بولنا چاہوں گا کچھ لوگ تھانے دار بننا چاہتے تھے. مگر جب وہ نہ بن پائے تو انہیں پڑھانے پر لگا دیا جاتا ہے اور پھر وہ اپنی تھانے داری دوسروں کے مستقبل سے خوب جم کر کرتے ہیں

    تو خدارا یہ نوجوان نسل یہ طالبعلم ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں. اگر آپ ان کے سوالوں کی گردنیں دبائیں گے تو یاد رکھیں آنے والی نسلیں جاہل پیدا ہوگیں. ایک پودا جس کو کھلی فضا میں بڑھنا ہے چمن کی زینت بننا ہے ہم کیوں زبردستی اسے ڈھکن دے کر بند کرنا چاہتے ہیں. اللہ تعالی نے ہر ایک کو آزاد پیدا کیا ہے اور ہمیں آزاد ہی رہنے دینا چاہیے .

    [{کالم; }]

    Twitter @FaisalRafiSays 

    FaisalRafiSays@gmail.com

  • ہمارا تعليمی نظام تحریر : ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    ہمارا تعليمی نظام تحریر : ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    ہمارا تعليمی نظام

    تعلیم کی حیثیت کیسی بھی ملک و معاشرے کے لیے ایک مینارہ نور کی سی ہے جو قوم کی رہنمائی کرتی اور اسے اس کے نصب العین کے حصول کی جانب گامزن رکھتی ہے ۔ تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے

    تعیلمی نظام کو کسی بھی ملک کی ترقیاتی ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ تعلیم حاصل کرنا ہر انسان کا حق ہے اور یہ حق  کوئی کیسی انسان سے چھین نہیں سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں

      تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے  اس بات میں کوٸی شک نہیں کہ جن قوموں نے تعیلم کی طرف توجہ دی انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کی معراج پالی امریکہ چین جاپان برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک نے اسی لاٸحہ عمل کو اپنا کر اپنے نصب العین کو پایا جو قومیں تعلیم کو ثانوی حیثیت دیتی ہیں وہ کبھی اپنے مقصد کو نہیں پاسکتیں کیونکہ جب پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی جاٸے تو دیوار ثریا آسمان تک پہنچ کر بھی ٹیڑھی ہی رہتے ہے

    خشتِ اول چوں نہد معمار کج
    تا ثریا می رود دیوار کج

    آج تعلیم کی صورت ِحال یہ ہے کہ سب کو تعلیم دستیاب نہیں ہے۔اور پاکستان میں معیارِتعلیم بھی بہت کم ہے۔تعلیم ایسی ہونی چاہیے جو معاشرے کے سبھی طبقات  چاہے وہ امیر ہو یا غریب کے لئے یکساں دستیاب ہو۔ قیام پاکستان کے ابتدائی چند سالوں سے لے کرآج تک کی حالت کا موازنہ کیا جاٸے تو فرق صاف ظاہر ہے ۔ہمارے ملک میں تعلیم کی کشتی گزشتہ پانچ دہاٸیوں سے اب تک منزل سے بےگانہ تلاطم خیز موجوں کے ستم سہہ رہی ہے

    افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ملک نظام تعلیم کا رخ پھیلاٶ کی طرف زیادہ ہے لیکن معیار پر توجہ نہ  ہونے کے باعث یہ پستی کی جانب گامزن ہے نتيجاً آج ہمارا نظام تعلیم نہ صرف ہمارے مقاصد کا درست طور پر ترجمان نہیں رہا بلکہ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ ملکی ترقی کی ضمانت دینے سے بھی قاصر دکھاٸی دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے فروغ کے باوجود آج بھی ہم اپنی حالت میں کوٸی  خاطر خواہ تبدیلی نہیں لاسکے

    اگرچہ تحریک انصاف حکومت نے اپنے طور سے تعليم کو اولی ترجيحات میں قرار دیا اور اصلاح تعیلم کے لیے مفید پالیسیاں مرتب کیں جس کے نتيجہ میں تمام تعیلمی ادارے کے نصاب کو یکساں کردیا گیا اور امید ہے کہ تعلیمی نظام میں بہتری آٸے گی اور تعلیم کے فروغ کے حوالے سے البتہ یہ کوشش کامیاب رہی گی  اور اگر ۔ نظامِ تعلیم پر مزید توجہ دی جاٸیں تو اس مسلہ کا حل نکل سکتا ہے کیونکہ جس ملک میں تعلیم نہ ہو وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا ۔

    اگر ہمارا نظام تعلیم  بھی دنیا کے ترقی یافتہ اور جدید ترین نظام کے متوازی کھڑا ہوجاتا ہے تو ملک پاکستان تعلیمی میدان میں کامیابی کا معرکہ سر کر لیا گا۔

    آخر اتنا کہنا چاہوں گا کہ

    تجھے کتابوں نے کیا کور ذوق اتنا
    صبا سے بھی نہ ملا تجھے بوٸے  گل کا سراغ

    تحریر : ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی
    @HamxaSiddiqi

  • اردو کی ڈگر پر منزل کہاں، ایک سوال ؟ تحریر: رانا محمد جنید

    اردو کی ڈگر پر منزل کہاں، ایک سوال ؟ تحریر: رانا محمد جنید

    ‏اردو کی ڈگر پر منزل کہاں، ایک سوال ؟

     اردو ہماری تہذیبی شناخت ہے۔ اس میں شاید ہی اختلاف ہو۔ اور مزید اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ سرکاری زبان کے ساتھ ساتھ مادری زبان بھی ہے، اختلافات تو یہ ہیں کہ یہ صرف ماضی میں ہی ضروری تھی یا مستقبل میں بھی اس کے کچھ تقاضے ہیں ؟نئی صدی میں ہونی والی ترقی نے سب کچھ بدل ڈالا ہے انسانی زندگی، رہن سہن اور وسائل سب ہی میں بڑا تغیر برپا ہے اس کے ساتھ ہی اردو کا وہ ادب بھی کمزور ہوتا جا رہا جو آج سے ساٹھ ستر سال پہلے تھا نسلِ نو اردو زبان سے بہت دور ہوتی جا رہی ہے اور اردو روایات کو سمجھنے سے قاصر ہے یہ نسل نا تو غالب و میر کو سمجھتی ہے اور نا ہی فیض اور اقبال کے استعاروں کو. اقبال و غالب کے بنا بھی بھلا اردو کی کوئی تہذیب یا روایت ہے کسی بھی قوم کی روایات اس وقت تک ہی زندہ رہتی ہیں جب تک وہ انہیں اپنی روز مرہ زندگی میں بروۓ کار لاتا رہتا ہے جس دن سے وہ بے نیاز ہوتا ہے تو وہ نا پائید ہو جاتی ہیں قومیں کیسے تباہ ہوتی ہیں بڑے بڑے دانشوروں نے اس پہ بہت کچھ لکھا اور سب کا خلاصہ یہی نکلا جو قومیں اپنی روایات سے منہ موڑ لیتی ہیں وہ ختم ہو جاتی ہیں سکندرِ اعظم ہو یا چنگیز خان جنہوں نے آدھی دنیا فتح کی مگر ان کے ماننے والے جلد ہی ختم ہو گئے کیوں.؟ کیونکہ ان کے پاس اپنی روایات تھیں اور نا ہی کوئی تہزیب. آج کے دور میں زندگی گزارنے کا اہم ذریعہ علم ہے. علم کے بنا زندگی کچھ بھی نہیں ہے. اور علم اسی زبان سے کی حاصل کیا جا سکتا ہے جو وقت کی ضرورت ہو اور اسی زبان سے حاصل کر دہ علم زندگی کو سہل کرتا ہے، اس وقت اردو زبان علم کی زبان بننےسے قاصر ہے یہ کام اس وقت انگریزی نے لے لیا ہے اور اب زندگی اسی کے ساتھ ہی چل پڑی ہے کوئی بھی زبان دو وجہ سے ترقی پاتی ہے ایک تو یہ کے تخلیق کردہ علم اس زبان میں ہو یا وہ زبان دنیا بھر کے علم کو اپنے اندر سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو، اور یہ صلاحیت اب انگریزی زبان میں ہی موجود ہے. جب دنیا بھر میں عربوں کی حکومت تھی اور انہی کا راج چلتا تھا تو عربی زبان اپنے عروج پر تھی، پھر دور آیا سلطنتِ عثمانیہ کا جس کی بدولت فارسی زبان کو عروج ملا اور اس وقت دنیا بھر انگریزوں کا راج ہے چاہے وہ بلاواسطہ ہو یا بالواسطہ اور اسی ہی کی بدولت اب انگریزی زبان کو باقی سب زبانوں پہ سبقت مل چکی ہے آج اکیسویں صدی ہے اور ہر ایک کی تہزیب کی بھاگ دوڑ سائنس کی نت نئی ایجادات پر ہے اور اردو اس قابل نہیں کے جس کے ذریعے علم حاصل کر کے سائنس کے پیچھے بھاگتی دنیا کے ساتھ چلا جائے اب یہ مقام صرف انگریزی زبان کو ہی حاصل ہے اردو زبان اب ایک محدود زبان بن چکی ہے، انیسویں صدی کو اردو زبان کے عروج کا زمانہ بھی بولا جا سکتا ہے جس میں اقبال، غالب، مودودی اور شبلی نعمانی جیسے شاعر و مفکر پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی شاعری اور تفسیر و تاریخ کے ذریعے اردو زبان کو عالم اسلام تک پہنچا کے اردو زبان کا لوہا منوا دیا تھا اور پھر اس کے بعد ہم آزاد ہو گئے جس وجہ سے اپنی روایات اور تہذیب کا دام بھی ہاتھ سے چھوڑنے لگے اقبال و غالب کے بعد ان کی روحانی مسندیں خالی ہو گئی اور کوئی اس قابل نا رہا کے ان کے پیغام کو آگے پہنچائے اگر کوئی آیا بھی تو ہم نے اسے قبول نا کیا، اسی طرح سے پھر اردو زبان کو فروغ کم ہوتا چلا گیا اور اردو علوم زوال پزیر ہونے لگا پھر افسوس کا مقام یہ ہوا کے انگریزوں کے چلے جانے کی بعد بھی ہمارا نظام تعلیم نا بدل سکا ہم آزاد ہو کے بھی غلام ہی رہے، اگر کیسی نے کوئی سائنسی علم حاصل کرنا ہے یا کوئی بڑی نوکری کرنی ہے تو اسے انگریزی ہی سیکھنی پڑے گی اس بنا پر ہماری نوجوان نسل کے پاس اور کوئی رستہ نہیں تھا سوائے اپنی تہذیب سے دور ہونے کے، اب اگر کوئی نوجوان اردو زبان بولتے وقت انگریزی استعمال کرتا ہے تو وہ بہت پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے اور وہی نوجوان اگر انگریزی کے دوران اردو کے الفاظ کے چناؤ کر لے تو اس کی تذلیل کی جاتی ہے اور یہی وجہ احساس کمتری کی وجہ بنتی ہے امرا اپنے بچوں کو بڑے سکولوں میں انگریزی پڑھنے کے لیے بھیج دیتے ہیں جو کے پھر بعد میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ جو چھوٹے اسکول میں پڑتا ہے اسے اردوتو ڈھنگ سے نہیں سیکھائی جاتی انگریزی کے دروازے تو پہلے سے ہی اس کے لیے بند کر دئیے جاتے ہیں، یہ رویہ ایک بہت بڑا بحران پیدا کر سکتا ہے حکومت وقت اور بڑے حلقوں کو لازمی اس پہ سوچنا چاہیے اور ایک عالمی مسئلے کی طرح اس کا حل تلاش کرنا چاہیے

    ‎@Durre_ki_jan

  • وزارت تعلیم کا دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبا سے متعلق بڑا فیصلہ

    وزارت تعلیم کا دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبا سے متعلق بڑا فیصلہ

    وزارت تعلیم نے پاکستان بھر میں دسویں اور بارہویں جماعت کے تمام طلبا کو پاس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی سربراہی میں وزائے تعلیم کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ رواں سال دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحان دینے والے تمام طلبا کو پاس کیا جائے گاکیونکہ کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے باعث فوری طور پر امتحانات لینا ممکن نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جو طلبا امتحانات میں فیل ہوئے ہوں گے ان کو ​33 فیصد رعایتی نمبر دے کر پاس کیا جائے گا۔رواں سال میٹرک کے طلبا کے چار مضامین جبکہ بارہویں جماعت کے طلبا کے تین مضامین کے امتحانات لیے گئے تھے اہم اعلان سندھ حکومت کے فیصلہ کو دیکھتے ہوئے کیا گیا۔

    کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن نے ثابت کیاکہ وزیر اعظم عمران خان ہی واحد قومی لیڈر ہیں…

    ذرائع کے مطابق میٹرک اورانٹرمیڈیٹ کےامتحانات سال میں 2 بار ہوں گے، امتحانات کو سپلیمنٹری امتحانات کا نام نہیں دیا جائے گا، آئندہ سال میٹرک امتحانات مئی، جون میں ہوں گے، آئندہ سال نیا سیشن اگست سے شروع ہو گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 67 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 26 ہزار 787 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 12 لاکھ 7 ہزار 508 ہوگئی۔

    ملک میں کورونا سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 67 اموات

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 988 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 4 لاکھ 14 ہزار 390، سندھ میں 4 لاکھ 45 ہزار 369، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 68 ہزار 748، بلوچستان میں 32 ہزار 591، گلگت بلتستان میں 10 ہزار 168، اسلام آباد میں ایک لاکھ 2 ہزار 863 جبکہ آزاد کشمیر میں 33 ہزار 379 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    ملک بھر میں اب تک ایک کروڑ 85 لاکھ 21 ہزار 728 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 53 ہزار 158 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 10 لاکھ 90 ہزار 176 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 5 ہزار 66 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    بے روزگاروں کے لیے خوشخبری: 46 ہزار اساتذہ کی بھرتی شروع

  • تعلیمی اداروں میں جانبداری کا بڑھتا رجحان تحریر حیاء انبساط

    تعلیمی اداروں میں جانبداری کا بڑھتا رجحان تحریر حیاء انبساط

    آجکل تعلیمی اداروں میں چھوٹے بچوں کو پڑھانے کیلئےاساتذہ کا انتخاب کرتے ہوئے قابلیت سے زیادہ خوبصورتی کو ترجیح دی جا رہی ہے نئی نئی تعلیم سے فارغ ہوئی لڑکیوں کو بناء کسی تدریسی تجربے یا کسی تدریسی تربیت کے کم تنخواہوں پر اسکولوں میں بطور استاد رکھ لیا جاتا ہے جن کی تعلیمی قابلیت میٹرک ، انٹر اور بہت زیادہ ہو تو گریجویشن ہوتی ہے لیکن کوئی پروفیشنل سرٹیفیکٹ یا ڈگری نہیں ہوتی۔
    انہیں اسکول مالکان پیسہ بچانے کیلئے ہائر کرتے ہیں اور ایک ،دو گھنٹوں کی ورک شاپ کروا کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت پڑھانے کے لیئے اچھی طرح ٹیچر کی تربیت کر دی ہے جبکہ ہوتا سب کچھ اسکے برعکس ہی ہے ۔

    ان لڑکیوں کے پڑھانے کے طریقوں میں تو جو غلطیاں ہوں سو ہوں مگر جو ایک چیز سب سے زیادہ محسوس کی جارہی ہے وہ ہے پسندیدگی یا جانبداری ۔ ان ٹیچرز کو تمام بچوں میں جو بچہ یا بچی زیادہ پیارے لگتے ہیں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے چاہے وہ گود میں بیٹھا کے کلر کروانا ہو یا اپنے ہاتھ سے لنچ بریک میں کھانا کھلانا ہو ۔ اب اگر یہی رویہ باقی تمام بچوں کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا تو قابلِ تعریف امر ہوتا مگر المیہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے

    یہ کم تعلیم یافتہ اور غیر تربیتی عملہ دراصل معصوم ذہنوں میں تعصب ، جلن اور حسد جیسے جذبات( جن کے نام سے بھی یہ معصوم ذہن ناواقف ہیں ) بھر رہا ہے جب ایک ٹیچر جو کے تمام بچوں کو یکساں تعلیم اور شفقت دینے پرمعمور کی گئی ہے بچوں کے درمیان امتیازی سلوک روا رکھے گی تو دوسرے کمسن ذہنوں پہ کتنا منفی اثر پڑے گا باقی بچے اس مخصوص بچے سے گھلنے ملنے سے کترائیں گے ایک طرح سے اس بچے کا کلاس میں سوشل بائیکاٹ ہو جائے گا جس معاملے میں اس بچے کا قصور بھی نہیں ہوگا اسکی سزا باقی بچوں کی طرف سے اسکو دی جائے گی

    دوسرے بچے اپنا احساس محرومی مٹانے کیلئے اسکو احساس کمتری میں مبتلا کر دیں گے اور یہ سب کوئی بھی بچہ جانتے بوجھتے نہیں کرتا لیکن یہ ان سے ہوتا چلا جاتا ہے اور وجہ ہوتی ہیں کم تعلیم یافتہ ، کم تنخواہوں پہ نوکریاں کرتی غیر تربیت یافتہ اساتذہ

    یہ مسئلہ صرف چھوٹی کلاسز تک محدود نہیں رہتا بلکہ جیسے جیسے بچوں کی کلاس بڑھتی جاتی ہے بچوں میں مختلف طرح کے رویے جنم لیتے ہیں کچھ بچے اسی امتیازی سلوک کے بناء پہ خود کو دوسروں سے برتر تصور کرنے لگتے ہیں ، کچھ اساتذہ کی خوشامد کرکے آگے بڑھنے کو ذریعہ بنا لیتے ہیں

    ایک چیز اور جو تعلیمی اداروں میں دیکھی جارہی ہے وہ والدہ یا کسی قریبی رشتہ دار کا اسی ادارے میں ٹیچر ہونا ہے جہاں انکے گھر کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہوں پھر وہاں جانبداری کا عمل دخل زیادہ نظر آتا ہے اساتذہ آپس میں دوستاں کر لیتی ہیں اور پھر اس دوستی کا شکار لائق اور قابل بچے ہوتے ہیں

    ان طور طریقوں سے ہم اچھے ذہنوں کا زیاں کردیتے ہیں وہ بچے جو روشن مستقبل کے ضامن تھے انکی آئندہ کی زندگی اندھیروں کی نظر ہو جاتی ہے وہ پڑھائی اور اسکول سے بھاگنے لگتے ہیں لعن طعن کی وجہ سے انکا دل تعلیمی اداروں سے اچاٹ ہوجاتا ہے اور اگر غلط لوگوں کے ہاتھ چڑھ جائیں تو پوری طرح برباد ہوجاتے ہیں

    اس کے علاوہ کم عمر اور غیرپیشہ ورانہ ٹیچرز کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آگے داخلے کیلئے سال کے بیچ میں اسکول چھوڑ کے چلی جاتی ہیں جن کی وجہ سے معصوم بچے جو ان اساتذہ کے عادی ہوجاتے ہیں ذہنی طور پہ پریشان ہوجاتے ہیں اور انکی تعلیمی کارکردگی پہ یہ تبدیلی بری طرح اثرانداز ہوتی ہے۔

    چھوٹے علاقوں میں یا نچلی سطح پہ کھولے گئے اسکول صرف اپنی طلبہ کی گنتی بڑھانے کی خاطر بگڑے ہوئے ، فیلیئرز اور بڑی عمر کے بچوں کو بھی کبھی سفازش ، کبھی اثر رسوخ اور کبھی لالچ کی بناء پہ باآسانی داخلہ دے دیتے ہیں جنکی وجہ سے کم عمر طلبہ کے ذہنوں پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ وقت سے پہلے ان معلومات کی جانب متوجہ ہوجاتے ہیں جس سے انکے کمسن ذہن سخت اثرانداز ہوتے ہیں انکا دھیان پڑھائی سے ہٹ کر دوسری سرگرمیوں کی جانب مبذول ہوجاتا ہے

    یہ کم تعلیم یافتہ عملہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں بے تحاشہ کوتاہیاں کرتا نظر آتا ہے ان کا خود کا مشاہدہ کم ہوتا ہے تو بچوں کے ذہنوں میں ابھرتے سوالات کا تسلی بخش جواب دینے کے بجائے یہ ٹیچرز ان کو کبھی ڈانٹ کر کبھی غلط جواب دیکر گمراہ کر دیتے ہیں ۔ ان ٹیچرز کو امتحانی پرچہ (کوئسچن پیپر) بھی سیٹ کرنا نہیں آتا اکثر ہی غلط مارکنگ کرتی دیکھائی دیتی ہیں مثلاً دو لائن کے سوال کے نمبر ۴، ۶ نمبر ہونگے اور بڑے سوال یا مضمون کے کم نمبر سیٹ کیئے ہوتے ہیں

    پڑھے لکھے والدین سے یہ اساتذہ ایسے خوف کھاتے ہیں جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو ان سے اگر میٹنگ رکھی جائے تو عموماً آپ کو والدین اساتذہ کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے دیکھائی دیتے ہیں اور یہ اساتذہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے بچے کو ہی نالائق ، نااہل،نکما ثابت کرنے کے درپہ نظر آتے ہیں

    ان سب سے ہٹ کر ایک اور مسئلہ جو آجکل درپیش ہے وہ ہے پرائیوٹ ٹیوشن کا۔ پہلے اگر کوئی بچہ پڑھائی میں کمزور ہوتا تھا تو اس کے لیئے ٹیوشن کی سہولت سے استفادہ حاصل کیا جاتا تھا لیکن آج کل ٹیوشن کے معانی ہی تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں اساتذہ اپنے ہی اسکول کے ہی بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں اور امتحان سے پہلے ہی امتحانی سوالات بچوں کو رٹّا دیئے جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہی بچے اعلٰی نمبر حاصل کرکے اگلی جماعت میں چلے جاتے ہیں اور جن طالبعلموں نے محنت کرکے تمام سلیبس سے تیاری کی ہوتی ہے انکے نمبر کم آجاتے ہیں ۔

    یہ جانبداری اور اجارہ داری کا سلسلہ دراصل ایک پوری نسل کی ذہنی تباہی کا موجب بنتا جا رہا ہے لیکن اس پر کسی کی توجہ نہیں ہے انکی جانبداری اور اس ٹیوشن گردی کے نظام کے خاتمے پہ بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
    ہم ملک میں یکساں نظام تعلیم کی بات تو بہت زور و شور سے کرتے ہیں کہ ملک کے تمام طبقوں میں تعلیمی نصاب اور نظام یکساں ہونا چاہئیے لیکن اسکے ساتھ ساتھ اساتذہ کی بھرتیوں ، انکی اہلیت ، قابلیت اور تربیت کی بھی پوری جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہی انہیں بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سونپنی چاہئے ۔ اساتذہ ہی قوم کے معمار ہیں اگر وہی بہترین نہیں ہونگے تو وہ ایک شاندار قوم کی تیاری میں کیسے معاون کردار ادا کر سکتے ہیں ؟ سوچیئے گا ضرور!
    Twitter handle : @HaayaSays

  • کورونا وائرس صرف تعلیمی اداروں میں ہی اثر انگیز ہے…. تحریر :مدثرہ مبین

    کورونا وائرس صرف تعلیمی اداروں میں ہی اثر انگیز ہے…. تحریر :مدثرہ مبین

    پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس کا تعلیمی اداروں کی چھٹیوں میں 15 ستمبر تک توسیع کا اعلان ایک دفعہ پھر عوام میں اس سوال کے سر اٹھانے کا باعث بن گیا ہے کہ کیا کورونا وائرس صرف تعلیمی اداروں میں ہی اثر انگیز ہے؟ گزشتہ دو سال سے تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا اعلان ہوتے ہی یہی سوال زیرِ بحث آتا ہے.
    دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا وبائی مرض کورونا نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو آسیب کی طرح چمٹ چکا ہے. پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہوئے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کا باعث بنا ہے. لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں. کئی ممالک کی معیشت، زراعت اور تعلیم خاصے نقصان سے دوچار ہوئی ہے. دنیا میں کم و بیش ہی کوئی ملک ہوگا جو کورونا وائرس کی لپیٹ میں نہیں آیا. کئی جان کے محافظ ڈاکٹر بھی کورونا وائرس کا شکار ہو کر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں.
    اس سب کے باوجود آج بھی پاکستان کی ایک تہائی آبادی کورونا کو ایک فریب ہی تصور کر رہی ہے. زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ بھی اپنی نااہلی چھپانے کے لئے ایک حکومتی سازش ہے.
    اب کی بار بھی تعلیمی اداروں میں چھٹیوں میں توسیع کا اعلان منظر عام پر آتے ہی عوام غصے کا اظہار کرتے ہوۓ یہ سوال کرتی نظر آ رہی ہے کہ صرف تعلیمی ادارے ہی کیوں بند کیے جا رہے ہیں، بازار اور مارکیٹیں کیوں نہیں؟
    بچوں اور بوڑھوں میں قوت مدافعت نوجوانوں کی بانسبت خاصی کم ہوتی ہےاسی لیے بچےاور بوڑھے جلد جراثیم کی لپیٹ میں آجاتے ہیں. اور ایسے خطرناک جراثیم ان پر زیادہ گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں.
    پوری دنیا میں اس وقت آنلائن تعلیم کو ترجیح دی جا رہی ہے. اور یہاں ہر گھر میں موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہونے کے باوجود نہ صرف ہماری عوام جان بوجھ کر تعلیم کے معاملے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے بلکہ الزام ہمیشہ کی طرح دوسروں کے کندھوں پر ڈالنے کی بھرپور کوشش بھی کر رہی ہے.
    حکومت کی گزشتہ بازاروں پر پابندی کے باوجود عوام مسلسل حکومتی فیصلے کی خلاف ورزی کرتی رہے اور بند دکانوں کے اندر گاہکوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی. ایسے میں بازاروں پر پابندی ہونا نہ ہونا برابر ہی تھا.
    اگر مارکیٹیں بند بھی کر دی جاۓ تو کیا عوام کے پاس اتنا سرمایا موجود ہے کہ کچھ دن بھی گزارا ہوسکے. ہمارے ملک کی تقریباً 24 فیصد آبادی نچلے طبقے سے تعلق رکھتی ہے جنہیں عام حالات میں بھی دو وقت کا کھانا تک میسر نہیں.
    یا تو یہ وجوہات لوگوں کے ذہن کے پردے پر ابھرتی نہیں یا وہ انہیں جاننا اور سمجھنا نہیں چاہتے. بلکہ اس فیصلے کو بھی حکومت کے گزشتہ فیصلوں کی طرح تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں.
    ہم میں سے کتنے لوگ کورونا کے اس وبائی مرض میں حکومت کے پیش پیش ہیں؟ کتنے لوگ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوۓ ویکسینیشن کروا چکے ہیں؟ اب تک صرف 9.8 فیصد لوگوں نے ہی ویکسین لگوائی ہے. کچھ کا موقف ہے کہ ویکسینیشن کروانے سے جلد موت واقع ہو جائے گی. ایسے لوگوں کا کیا خدا پہ ایمان نہیں کہ زندگی موت تو صرف اسی کے ہاتھ میں ہے.
    حکومتی فیصلوں پر تنقید کرنے کی بجائے انکے موقف کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ویکسینیشن کرواۓ تا کہ معمول زندگی پھر سے بحال ہو سکے.

  • ڈپریشن اور اسلام تحریر: سیدہ بنت زینب

    ڈپریشن اور اسلام تحریر: سیدہ بنت زینب

    ڈپریشن ایک ایسا احساس ہے جب انسان خود کو دو اونچی دیواروں کے درمیان اندھیرے میں پھنسے ہوئے محسوس کرتا ہے، جس کے آگے کوئی راستہ نہیں ہے اور کوئی راستہ پیچھے نہیں ہے. ماضی کی ہر بری یاد کو ایسا محسوس کرتا ہے جیسے یہ اسی لمحے ہوا ہے، جبکہ مستقبل کو ایسا محسوس کرتا ہے جیسے اس میں موجودہ مصیبت کے تسلسل کے سوا کچھ نہیں ہوگا. ڈپریشن منفی خیالات سوچنے سے نہیں ہوتا. بلکہ یہ ڈپریشن ہی ہے جو منفی خیالات کا سبب بنتا ہے. افسردہ شخص ایک خوشگوار واقعہ کے بارے میں صرف تب سوچ سکتا ہے تاکہ اس کے دوران ہونے والی منفی باتوں کو یاد کر سکے. ڈپریشن کی منفیت ان کے تمام خیالات کو ایک سیاہ بادل کی طرح ڈھانپ دیتی ہے.

    جب ہم افسردہ ہوتے ہیں تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ جیسے ہم اس بڑی، وسیع دنیا میں اپنے آپ پر مصیبتیں چھوڑ کر چلے جا رہے ہیں، بغیر کسی مقصد یا حکمت کے زندگی گزار رہے ہیں. دن بہ دن گزرتا ہے، ہم تکلیف اٹھاتے ہیں، اور ہم کسی چیز کے لیے بہتر نہیں ہیں….!

    ڈپریشن سے نمٹنے کی طرف پہلا قدم صرف یہ ماننا اور سمجھنا ہے کہ خدا ہمارے تمام مسائل کو حل کر سکتا ہے اور ہماری ڈپریشن کو فوری طور پر دور کر سکتا ہے، لیکن وہ ایسا نہ کرنے کا انتخاب کر رہا ہے. آپ نے اسے ترک نہیں کیا ہے، وہ آپ کے ساتھ ایسا ہونے دے رہا ہے اور ہر سیکنڈ میں آپ کو تکلیف میں مبتلا دیکھ رہا ہے، وہ آپ کے دل میں چھپی بات تک کو جانتا ہے. یہ کبھی کبھی بہت عجیب بھی لگتا ہے، کہ ایک مہربان خدا اس کی اجازت کیوں دے گا؟ کچھ لوگ اس کی وجہ سے مایوس ہو جاتے ہیں، ہمت ہار جاتے ہیں.

    یاد رکھیں آپ کا ڈپریشن بے مقصد نہیں ہے. آپ کی افسردگی آپ اور خدا کے درمیان معاملہ ہے. وہ مکمل طور پر اس کا اختیار رکھتے ہیں کہ جب وہ چاہیں اسے روک دیں.

    جب آپ کو تکلیف ہوتی ہے ، اگر آپ خدا سے پیٹھ پھیرتے ہیں اور اس کی مدد نہیں کرنے کا الزام لگاتے ہیں تو آپ اس کے امتحان میں ناکام ہو رہے ہیں. وہ جو رویہ آپ کو دکھانا چاہتا ہے وہ تسلیم اور قبولیت میں سے ایک ہے، وہ رویہ جو قرآن کے نبی سب دکھاتے ہیں خدا کی طرف دکھاتے ہیں. آپ کا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ، "خدا ، میں جانتا ہوں کہ آپ اس دنیا کی ہر چیز کے مالک ہیں، دنیا کا پتا پتا آپ کے حکم کا پابند ہے، اور میں جانتا ہوں کہ آپ مجھے تکلیف میں دیکھ رہے ہیں. جو گناہ مجھے یہاں لائے ہیں انہیں معاف کر دیں، میری جو غلطیاں ہیں وہ معاف کریں، میری رہنمائی کریں اور میرے علم میں اضافہ کریں. مجھے سیکھنے میں مدد کریں کہ مجھے کیا سیکھنا ہے. مجھے ہر دکھ غم تکلیف سے نجات دیں. بے شک آپ کسی جاندار پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے مگر مجھے معاف کریں اور میرا شمار اپنے چند خاص بندوں میں کریں جنہیں سکون اور ہدایت نصیب ہوئی ہے.”

    مایوسی کفر ہے، بس یاد رکھیے کہ اللّٰہ ہیں نا ہمارے ساتھ. وہ سب کچھ وقت آنے پر خود ہی ٹھیک کر دیں گے انشاء اللہ…..!

  • جعلی اور غیررجسٹرڈ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا قیام: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم  ہائیرایجوکیشن کمیشن پر شدید برہم

    جعلی اور غیررجسٹرڈ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا قیام: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم ہائیرایجوکیشن کمیشن پر شدید برہم

    اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم کا جعلی اور غیررجسٹرڈ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی موجودگی پر ہائیرایجوکیشن کمیشن پر شدید برہمی کااظہارکیا ہے-
    صرف اشتہارویب سائٹ پر لگانے سے ایچ ای سی کی ذمہ داری پوری نہیں ہوتی جعلی دکانوں کوفورا بند کریں،چیرمین کمیٹی
    ایچ ای سی بغیر چیرمین کے چل رہی ہے اوربیرو ن ملک جانے والے طالب علموں کاان کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے ،حکام کا انکشاف
    بیرون ملک جانے والے طلبہ کامکمل ریکارڈ رکھاجائے کہ طالب علم کس ملک اور س چیز کی تعلیم کے لیے جارہاہے ،کمیٹی
    ٹیکنالوجسٹ کی ایکوینس(برابری)کے سرٹیفکیٹ کوفورا بحال کیاجائے اور سروس سٹکچربنایاجائے ،کمیٹی کی ہدایت
    سندھ میں یکساں نصاب تعلیم نافذنہ کرنے پر سینیٹر جام مہتاب کو سند ھ حکومت کے اعتراضات سے کمیٹی کوآگاہ کرنے کی ہدایت
    سندھ میں یکساں نصاب تعلیم اچھا اقدام ہے سندھ کے اعتراضات دور کریں گے
    یکساں نصاب کےماڈل کتابوں کا سیٹ کمیٹی نے طلب کرلیا

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم نے ملک میں جعلی اور غیررجسٹرڈ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی موجودگی پر ہائیرایجوکیشن کمیشن پر شدید برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ صرف اشتہارویب سائٹ پر لگانے سے ایچ ای سی کی ذمہ داری پوری نہیں ہوتی جعلی دکانوں کوفورا بند کریں ان سے طلبہ کے پیسے اور تعلیم دونوں کانقصان ہورہا ہے –

    ایچ ای سی حکام نے کمیٹی میں انکشاف کیاکہ ایچ ای سی بغیر چیرمین کے چل رہی ہے اوربیرو ن ملک جانے والے طالب علموں کاان کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے جس پر کمیٹی نے ہدایت کی کہ بیرون ملک جانے والے طلبہ کامکمل ریکارڈ رکھاجائے کہ طالب علم کس ملک اور س چیز کی تعلیم کے لیے جارہاہے ،کمیٹی نے ایچ ای سی کو ہدایت کی کہ ٹیکنالوجسٹ کی ایکوینس(برابری)کے سرٹیفکیٹ کوفورا بحال کیاجائے اور جب تک ٹیکنالوجسٹ کا سروس سٹکچر نہیں بنتاہے اس وقت تک اس کو منسوخ نہ کیاجائے ،جس اجلاس میں ایکوینس سرٹیفکیٹ کو منسوخ کیاگیاتھااس فیصلہ کی فائل کمیٹی میں پیش کی جائے ،یکساں نصاب کےماڈل کتابوں کا سیٹ کمیٹی نے طلب کرلیا،سندھ میں یکساں نصاب تعلیم نافذنہ کرنے پر سینیٹر جام مہتاب کو سند ھ حکومت کے اعتراضات سے کمیٹی کوآگاہ کرنے کی ہدایت کردی گئی سندھ میں یکساں نصاب تعلیم اچھا اقدام ہے سندھ کے اعتراضات دور کریں گے ۔

    منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تعلیم کا اجلاس عرفان الحق صدیقی کی سربرہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلا س میں سینیٹر مہرتاج روغانی ،اعجاز چوہدری ،فلک ناز چترالی ،جام مہتاب ، انجینئررخسانہ زبیری،سکندر میندرو،شاہین خالدبٹ،مشتاق احمد،مولوی فیض محمد نے شرکت کی ۔جبکہ پارلیمانی سیکرٹری تعلیم وجہیہ قمرم،سیکرٹری تعلیم ،ایچ ای سی حکام ویگر نے شرکت کی ۔

    ڈائریکٹرایچ ای سی ڈاکٹر شاہستہ سہیل نے کمیٹی کوبتایاکہ کہاکہ ایچ ای سی ادارے جو قانون کے مطابق کام نہیں کرتے ہیں اس کو بلیک لسٹ کردیتے ہیں ان کا ڈیٹا ویب سائٹ پر لگادیتے ہیں ۔ ملک سے باہر جانے والے طلبہ کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے ۔ طلبہ کس ملک اور کس ادارے میں تعلیم لینے جارہاہے ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ جو طالب علم بیرون ملک جارہاہے ان کا ریکارڈ بنایا جائے ۔ملک میں جواعلیٰ تعلیمی ادارے غیر رجسٹرڈ ہیں ان کو بند کیوں نہیں کرتے ہیں اس طرح کی جعلی دکانیں کیون بند نہیں کرتے جس کی وجہ سے طلبہ کا نقصان ہورہاہے ۔

    ایچ ای سی حکام نے بتایاکہ تعلیمی اداروں کی کوالٹی کو دیکھنے کے لیے ایچ ای سی پینل بناتاہے اور دورہ کرتے ہیں ۔ ہر سال میں 30سے 35دورے ہوتے ہیں جو ریکوائرمنٹ پورے کرتے ہیں ان کو اجازت دیتے ہیںجو معیارپر پورا نہیں اترتے ان اداروں کو بند بھی کرتے ہیں ۔

    چیرمین کمیٹی نے کہاکہ اس طرح تو پاکستان میں ایک بھی غیر رجسٹرڈ ادارہ نہیں ہونا چاہیے یا دو نمبر ادارہ نہیں ہے ۔پاکستان میںدو نمبر ادارے کھلے کیوں ہوئے ہیں ۔

    سیکرٹریوفاقی تعلیم نے کہاکہ اس حوالے سے سب کمیٹی بنا دیں یونیورسٹی اور کالج دو نمبر بنے ہوئے ہیں ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ جعلی ادارے طالب علموں کو لوٹ رہے ہیں ایچ ای سی کو ایکٹیو رول ادا کرنا چاہیے ۔بچے 5سال پڑھیں گے بعد میں پتہ چلا گیاکہ وہ تو رجسٹرڈ ہی نہیں ہے اس کے بعد وہ احتجاج کریں گے ۔رکن کمیٹی سینیٹر خالد شاہین بٹ نے کہاکہ بیرون ممالک سے پاکستان آنے والے طالب علموں کو میڈیکل کالج میں ہراساں کیا جاتا ہے ۔ وہ بچے بیرون ملک سے آتے ہیں بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کے ساتھ رویہ انتہائی خراب ہوتا ہے ۔

    سینیٹرمشتاق احمد نے کہاکہ بیرون ملک جانے والے بچے ہمارا اثاثہ ہیں ان کا ریکارڈ رکھا جائے کہ بچے کہاں اور کیا بیرون ملک پڑھنے جارہے ہیں اور سالانہ کتنے لوگ جارہے ہیں۔چیرمین کمیٹی نے کہا کہ مزدوروں کا ریکارڈ ہوتا ہے کہ کس ملک جارہے ہیں مگر طالب علموں کانہیں ہے ۔

    مشتاق احمد نے کہاکہ چین میں پڑھنے والے طلبہ ایک سال سے پاکستان میں موجود ہیں ان کو واپس بھیجنے کے لیے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں اس کے بارے میں بھی کمیٹی کوبتایاجائے-

     ٹیکنالوجسٹ کے حوالے سے کمیٹی کے ایجنڈے پر سینیٹر مشاق احمد نے کمیٹی کوبتایاکہ پاکستان میں 3لاکھ 50ہزار ٹیکنالوجسٹ ہیں اور سالانہ 10ہزار بچے اس میں شامل ہورہے ہیں۔سب کمیٹی نے اس مسئلے کو حل کرنے کی ہدایت کی تھی کہ3ماہ میں مسئلہ کیاجائے مگر ایچ ای سی نےنے تین ماہ دس دن بعد اجلاس بلایا ہے ۔ڈھائی سال پہلے بھی سفارشات کی تھیں مگر اس کے باوجود عمل نہیں ہوا۔

    جو ایچ ای سی نے کمیٹی بنائی اس میں ایک بھی ٹیکنالوجسٹ موجود نہیں ہیں ۔انجینئر کبھی ان کا مسئلہ حل نہیں کریں گے کمیٹیوں سے کچھ نہیں ہوا ہے ۔ان کا ایکولینس سرٹیفکیٹ ایچ ای سی نے منسوخ کیا اس کو بحال کیاجائے ۔

    مہرتاج روغانی نے کہاکہ ٹیکنالوجسٹ کے ساتھ بہت ظلم ہواہے ۔ایچ ای سی کے حکام امتیاز گیلانی نے کمیٹی کوبتایاکہ ٹیکنالوجسٹ واحد لوگ ہیں جو 16سال کی تعلیم کے باوجود 17گریڈ میں بھرتی نہیں ہوسکتے یہ ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ایک ہزار ٹیکنالوجسٹ کے لیے بیرون ملک سکالر شپ کا اشتہار دیا مگر صرف 23بچے آئے ۔پی ایم ٹاسک فورس بنائی جائے تاکہ اس کو حل کیا جائے۔

    مشتاق احمد نے کہاکہ بھارت نے یہ مسئلہ بہت پہلے حل کردیا تھا ۔بی ٹیک کا ایکویلنس کو فورا بحال کیا جائے ۔این ٹی سی ایکٹ 2015سے پائپ لائن میں ہے اس کا کیا بنا؟ سینیٹراعجاز چوہدری نے کہاکہ انجینئر ٹیکنالوجسٹ کے معاملے کو حل نہیں کررہے ہیں ۔یہ انسانی ایشو ہے ۔ موجودہ انجینئرنگ کے ادارے اس مسئلے کو حل نہیں کریں گے ۔

    چیرمین کمیٹی نے کہاکہ ایشو حل نہیں ہورہا ٹاسک فورس بنائی جارہی ہےایچ ای سی کو ایکولینس کو بحال کرنے میں کیا مسئلہ ہے ۔کمیٹی نےایکولینس واپس لینے کے فیصلے کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ کس نے کیوں یہ فیصلہ کیاہم یہ جانا چاہتے ہیں کہ بغیرکسی وجہ کہ کیوں اس کوختم کیاگیا۔ کمیٹی نے متفقہ طورفیصلہ کیاکہ انجینئرنگ ٹیکنالوجسٹ کو ایکولینس سرٹیفکیٹ کو دوبارہ بحال کیا جائے ۔اس فیصلے کے حوالے سے صرف سینیٹر اعجاز چوہدری نے حق و خلاف میں ووٹ نہیں دیا۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ جب تک ٹیکنالوجسٹ کے لیے سروس سٹکچر نہیں بنتااس وقت تک اس کوکو بحال رکھاجائے ۔کمیٹی اس بات پر اتفاق کرتا ہے کہ عارضی ریلیف کے لیے ایکولینس بنایا جائے جب تک سروس سٹرکچر نہیں بنتا ہے۔ا

    یجنڈے میں شامل یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے ڈاکٹر مریم چغتائی ڈائریکٹر قومی نصاب کونسل پاکستان نے کمیٹی کوبتایاکہ پاکستان میں ایچوکیشن نظام 6طبقے پیدا کررہے ہیں ۔قومی نصاب کے 4حصے ہیں، یکساں نصاب، امتحانات، اس میں شامل ہیں ۔ہمارا نصاب 15سال پرانہ ہے 5ویں تک یکساں نصاب مکمل کرلیا ہے ۔سائنس اور ریاضی پر زیادہ فوکس کیا گیا، 2002میں نصاب 62لوگوں نے بنایا تھا وہ سب لاہور سے تھے 2010کا نصاب زیادہ تر پنجاب کے لوگوں نے بنایا تھا 2020میں نصاب چاروں صوبوں سے نمائندگی تھی 5اقلیتوں کے لیے الگ نصاب بنایا گیا ہے ۔ مدارس کو سکول بنانے جارہے ہیں مدارس5سال میں اس نصاب کو لاگو کریں گے ۔رٹے کے نظام کو ختم کررہے ہیں ۔ٹیکنالوجی کے استعمال سے اساتذہ کو اچھی ٹریننگ دیں گے ۔ 12ویں تک نصاب بنے گا اگلے مرحلے میں امتحانات ہوں گے ۔18ویں ترمیم کے بعد فیڈرل کا رول صرف رابطہ کاری کا ہے ۔پنجاب اور کے پی کے میں اس پر عمل صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بعد ہوا ہے ۔اس نصاب پر عمل کرنے میں صوبہ کا اپنا رول ہے ۔سندھ یکساں نصاب کی تیاری میںساتھ تھا مگر اس پر عمل کے دوران وہ پیچھے ہٹ گئے ہیں سندھ میں بھی یکساں نصاب تعلیم پر عمل ہونا چاہیے –

    چیرمین کمیٹی نے کہاکہ اصولی طور پر یہ اچھا اقدام ہے ۔نصاب سے قوم کو تیار کیا جاتا ہے ۔کیا تمام صوبے اس پر عمل درآمد پر راضی ہیں جس پرحکام نے بتایا کہ سندھ کے علاوہ سب اس پر متفق ہیں۔4سو لوگوں نے یکساں نصاب پر کام کیا ہے ۔یکساں امتحان کے حوالے سے کمیٹی کوبتایاگیاکہ امتحانات پر ابھی نہیں آئے اس حوالے سے پالیسی نہیں بنائی کہ یکسان امتحان کا منصوبہ نہیں ہے ۔

    چیرمین کمیٹی نے کہاکہ قومی کی تعمیر میں دس فیصد نصاب کا کام ہوتا ہے آپ باقی چیزوں پر توجہ نہیں دے رہے صرف نصاب پر فوکس ہے ۔یکسان نصاب میں سیاسی جماعتوں سے رائے نہیں لی گئیں ہے ۔سکولوں میں سہولیات دی جائے ۔تربیت یافتہ اساتذہ نہیں ہیں اور یکساں نصاب دے دیاہے ٹیچنگ ایک سکل ہے ۔ ماڈل کتابوں کا سیٹ کمیٹی کو بھیجا جائے 15سیٹ کمیٹی کو فراہم کردیں ۔حکام نے بتایا کہ ہم نے کتاب نہیں گائیڈ لائن کو یکساں کیاہے ۔ اساتذہ کی تربیت ضروری ہے ۔یکساں نصاب سے یکساں معیار نہیں بن سکتا ہے ۔روشنی سکول میں اساتذہ بھرتی کرنے میں ایم این اے ایم پی اے اور سینیٹر کا کوٹہ تھا اور دس فیصد وزیر اعظم کا کوٹہ تھا ۔

    مشتاق احمد نے کہاکہ یکسان نصاب تعلیم اگر ہوجائے تو یہ اچھی بات ہے ۔جو چیز پاکستان کے مفاد میں ہوگی اس کی حمایت کریں گے ۔حکومت کا یہ اقدام قابل تحسین ہے ۔مدارس کے اندر دنیا تعلیم بھی دی جاتی ہے ۔چارٹر آف ایجوکیشن سیاسی جماعتوں میں ہونا چاہیے کسی کی بھی حکومت آئے وہی نصاب پڑھایا جائے ۔سیاسی جماعتوں کو بھی ان بورڈ لیا جائے ۔کیمرج پاکستان سے تعلیم پر کتنا کمارہاہے ۔طبقاتی تقسیم ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔رخسانہ زبیری نے کہاکہ ہمیں ملک میں تعلیمی ایمرجسنی لگانی چاہیے ۔

    اعجاز چوہدری نے کہاکہ یکسان نصاب ایک خواب تھا یہ آغاز ہے ہر مکتبہ فکر کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔ جام مہتاب نے کہاکہ سندھ صوبہ کو کیوں یکساں نصاب پر اعتراض ہے ۔سکولوں میں سہولیات دی جائیں ۔حکام نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کو ان بورڈ لینا چاہیے ۔سندھ کا کردار اہم تھا۔

    حکام نے بتایاکہ سندھ کو کچھ چیزوں پر اعترض تھا جن میں قرآن ناظرہ تعلیمی اداروں میں نہیں پڑھائیں گے ہماری اسمبلی نے یہ بل پاس نہیں کیا۔سندھ میں نہیں پڑھ سکتے ملالہ کو قومی ہیرو پڑھانا چاہتے ہیں ۔نصاب سندھی میں پڑھانا چاہتے ہیں ۔یکساں نصاب میںآدھے نصاب کو اردو اور آدھا انگریزی میں پڑھائیں گے تو سندھ میں 50فیصد نصاب سندھی میں پڑھائی جاسکتا تھا۔50فیصد انگش میں اور 50فیصد اردو میں ہوگا-

    حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ اس وقت چیرمین ایچ ای سی کوئی بھی نہیں ہے تین ماہ کے لیے قائمقام چیرمین لگایا گیا تھا مگر وہ تین ماہ پورے ہوگئے ہیں ۔ عدالت میں سٹے ہے جس کی وجہ سے کوئی نیا چیرمین نہیں لگاسکتے ۔

    کمیٹی نے یکساں نصاب تعلیم سندھ میں نافذ نہ کرنے پر پیپلزپارٹی کے سینیٹر جام مہتاب کو سندھ حکومت سے رابطے اور ان کے اعتراضات سے کمیٹی کوآگاہ کرنے کی ہدایت کردی کمیٹی نے کہاکہ اگلے ضروری ہواتو یکساں نصاب تعلیم پر سندھ حکومت کے نمائندوں کوکمیٹی میں مدعوکرکے ان کے اعتراضات سننے گے یکساں نصاب تعلیم اچھا قدم ہے پورے ملک میں رائج ہوناچاہیے ۔