Baaghi TV

Category: تعلیم

  • ‏کتابیں پڑھیں ایک اچھی عادات تحریر خالد عمران خان

    ‏کتابیں پڑھیں ایک اچھی عادات تحریر خالد عمران خان

    بعض اوقات ہمیں بہت سی چیزیں سمجھ نہں آرہی ہوتی اور دماغ بہت منتشر سا ہوتا ہے اور آپ کو سمجھ نہں آرہا ہوتا کے کس طرح سے دماغ‏کتابیں پڑھیں ایک اچھی عادات
    تحریر
    خالد عمران خان کو سکون میں لایا جائے تو اس کا ایک آسان طریقہ کوئی اچھی سی کتاب پڑھیں چائیے وہ کلام پاک ہو اِسکا سکون ہی الگ ہے لیکن اس کے علاوہ اگر آپ کہانیوں کی کتابیں پسند کرتے ہیں تو وہ یہ اپنے پسندیدہ مضبون کی کتاب پڑھیں کتاب پڑھا آپکے دماغ کو سکون پنہچاتا ہے۔آزما لیں.

    کتابیں آپکو ہر جگہ مل جاتی ہیں۔ لائبریریاں بڑی اور چھوٹی اور کتابوں کی دکانیں پورے کالج کیمپس اور بڑے شہروں میں آسانی سے ہر طرح کی کتابیں دستیاب ہیں۔ جو لوگ کتابیں پڑھتے ہیں وہ کتابیں تلاش کرنے کے لیے متعدد جگہوں کے بارے میں آپکو بتا بھی دیتے ہیں اچھی کتابیں تلاش کرنا مسئلہ نہں۔ جو لوگ کتابوں کے مداح نہیں ہیں وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کے کتابوں۔ میں ایسا کیا ہے کہ قارئین کو کتابوں کے بارے میں جنون میں مبتلا کرنے کا کیا سبب بن سکتا ہے۔ اگرچہ ان کے جنون کی ایک وجہ ہے۔ آپ اسے ہر وقت سنتے ہیں دوسروں سے سنتے ہیں.

    اگرچہ پڑھنا سادہ تفریح ​​کی طرح لگتا ہے ، لیکن سب سے اچھی بات یہ آپ کے یہ آپ کے جسم اور دماغ کی مدد کر سکتا ہے یہاں تک کہ آپ کو احساس بھی ہو کہ کیا ہو رہا ہے كس طرح سے کتابیں پڑھنا آپکی زندگی پر مثبت اثر ڈال رہا ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر پڑھنا زیادہ اہم ہو سکتا ہے نہ کہ صرف علم۔ وہ لوگ جو کتابیں پڑھنے کی لذت نہں جانتے ایسے لوگوں کے لیے جو پڑھنا پسند نہیں کرتے فوائد کے بارے میں سن کر آپ اپنا خیال بدل سکتے ہیں۔ کیا پڑھنے جیسی آسان اور تفریحی چیز آپ کی زندگی میں اتنی مددگار ثابت ہو سکتی ہے کیا فائدے ہو سکتے آپ کو کتابیں پڑھنے کے؟ یقینا آپکو سمجھ آجائے گی کے کتابیں پڑھنا کتنا اثر رکھتا ہے اور یہ کیا اثر کر سکتا ہے! پڑھنا آپ کے لیے بہت سے مختلف طریقوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے – جیسے آپ کے ذہن ، تخیل اور لکھنے کی مہارت کو تیز کرنا۔ پڑھنے کے بہت سے فوائد کے ساتھ ، کم از کم کچھ پڑھنا روزانہ کا معمول ہونا چاہیے۔
    کتابیں پڑھنا ضروری ہے کیونکہ یہ ہمارے خیالات کو ترقی دیتا ہے ، ہمیں لامتناہی علم اور اسباق دیتا ہے جبکہ ہمارے ذہنوں کو متحرک رکھتا ہے۔ ہم بہت کچھ ان کتابوں سے سیکھتے ھیں وہ ہماری دینی کتابیں ہوں یا دنیاوی کتابیں.
    کتابیں ہمیں بہت کچھ سیکھا تی ہیں ہم اپنے کسی بھی کام میں بہتری لانا چاہتے ہیں اپنے مزاج میں بہتری لانا چاہتے ہیں یہ اِرد گِرد کے لوگو میں تو یہ علم بھی ہیں کتابوں آی حاصل کر سکتے ہیں دین دنیا دونوں کے متعلق ہمیں ان سے معلومات مل جاتی ہے۔ اس دنیا میں کسی بھی چیز کے برعکس ہر قسم کی معلومات ، کہانیاں ، خیالات اور احساسات رکھ سکتی ہیں۔ چیزوں کو سیکھنے اور سمجھنے میں ہماری مدد کے لیے کتاب کی خاصیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔

    پر سکون نیند کے لیے بھی آپ کا کتابیں پڑھنا بہت فائدے مند رہتا ہے اگر آپ سونے سے پہلے کس اچھی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ آپکو کو سونے میں مدد کرتا ہے آپکے خیالات کو بھٹکنے سے روکتا ہے اور آپ ایک پر سکون نیند سو سکتے ہیں آزما کے دیکھیں۔

    Twitter handle
    ‎@KhalidImranK

  • حکومتی عدم توجہ کا شکار آن لائن تعلیم میں درپیش طلبہ کے مسائل ،ازقلم: ملک رمضان اسراء

    حکومتی عدم توجہ کا شکار آن لائن تعلیم میں درپیش طلبہ کے مسائل ،ازقلم: ملک رمضان اسراء

    یقینا آن لائن ذریعہ تعلیم پاکستان جیسے ملک میں کسی بھی طالب علم کی ترجیح نہیں کیونکہ پاکستان ڈیجیٹل ورلڈ کی رینکنگ میں عالمی دنیا سے بہت پیچھے ہے لیکن موجودہ حالات کے اعتبار سے آن لائن ذریعہ تعلیم وقت کی اشد ضرورت ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ اس کو حکومتی سطح پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔ آپ وزیر تعلیم کے بیانات اور عملی کارکردگی دیکھ لیں ان میں کھلا تضاد نظر آتا ہے۔ موصوف خود تو تعلیمی اداروں بارے کورونا وبا کے ڈر سے آن لائن میٹنگز کرتے ہیں لیکن دوسروں کے بچوں کیلئے کورونا وبا میں بھی ان کیمپس تعلیم پر بضد ہوتے ہیں حتکہ انہیں وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے طلبہ اور اساتذہ کے مسائل کو مدنظر رکھ کر اسکا کوئی حل تلاش کرنا چاہئے اور سب سے اہم بات یہ کہ جدید ترین ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرانا چاہیے تاکہ تعلیمی میدان میں بہتری لائی جاسکے۔

    اس کے علاوہ اگر میں ذاتی تجربہ شیئر کروں تو وزارت تعلیم کی طرف سے ہر روز بدلتے فیصلوں سے مجھے ہزاروں روپے کا نقصان ہوا کیوں کہ کورونا کی تیسری لہر میں انتظامیہ نے نئے داخلوں کے وقت عین موقع پر جامعات کھول دی تھیں اور کوئی محض دس دن حاضری کرنے کے بعد اچانک کہا گیا کرونا کیسز بڑھنے کی وجہ سے جامعات بند کرنا پڑ رہی ہیں اور یہ اقدام کرنا حکومت کی مجبوری بھی تھی جسکی اصل وجہ یہ کہ سب سے پہلے کسی بھی چیز سے بڑھ کر اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ انسانی جان کا تحفظ ہے لیکن دانستہ کوتاہی یہ ہوئی کہ علم ہونے کے باوجود کے کورونا زور پر ہے مگر پھر بھی سارے تعلیمی ادارے کھول دیئے اور یوں ہم نے کئی قیمتی جانیں گنوا دیں۔

    اب جب دوبارہ سارا تعلیمی نظام مکمل آن لائن ہوگیا تو مسئلہ یہ تھا کہ جامعات کے اندر کے ہاسٹل، اور ٹرانسپورٹ کا کرایہ تو پہلے سے ہر نئے سمسٹر فیس کے ساتھ ہی جمع کرانا ضروری ہوتا ہے جو آن لائن تعلیم کے باوجود بھی طالب علموں کو واپس نہیں کیا جاتا اور رہی بات ہم جیسے طالب علموں کی جو پرائویٹ ہاسٹلز میں رہتے ہیں تو ہمیں ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو ایڈوانس میں کرایہ ادا کرنا ہوتا ہے اور میں ادا کرچکا تھا کیونکہ مجھے معلوم نہ تھا کہ صرف دس دن کے لیے یونیورسٹی کھل رہی ورنہ میں تیس دن کا کرایہ ادا ہی نہ کرتا لہذا مجھے مجبورا ہاسٹل چھوڑنے کے بجائے اپنا کمرہ ریزرو پر رکھنا پڑا اور کھانے کے پیسے چھوڑ کر باقی مکمل کرایہ ادا کرتا رہا۔ ریزرو پر کمرہ رکھنا میری مجبوری اس لیئے بھی تھا کہ حکومتی فیصلوں میں تضاد تھا کبھی وہ جامعات کھولنے کی کوئی تاریخ دیتے تو کبھی کوئی لہذا نااہل انتظامیہ کا چند ہفتوں کا فیصلہ مہینوں میں بدل گیا اور یوں مجھے خوامخووہ پورے ایک سمسٹر میں ہزاروں روپے کا نقصان اٹھانا پڑگیا۔

    اور یہ صرف میرے ساتھ نہیں ہوا بلکہ میرے جیسے بہت ساروں نے یہ نقصان اٹھایا۔ دوردراز کے طلبہ کو مجبورا بھی کمرہ ریزرو کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ صبح اٹھتے ہی اگلے روز حکومت جامعات کھولنے کا اعلان کردے تو پھر مجھ جیسے طالب علم کیلئے کم وقت میں بروقت اپنی مطابقت کا ہاسٹل ڈھونڈنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اور اسی جھنجٹ سے بچنے کیلئے اکثر طالب علم کمرہ ریزرو پر رکھ لیتے ہیں لہذا وزیر تعلیم شفقت محمود سے درخواست ہے کہ آئیندہ جو بھی لائحہ عمل تیار کریں وہ جامع اور واضح ہو اور اس میں تضاد نہ ہو کیونکہ اس کنفیوژن کی وجہ سے ہمارے ہزاروں روپے ضائع ہوجاتے ہیں۔ اب فرض کریں اگر حکومت ایسے کنفیوژڈ فیصلے نہ کرتی تو کیا مجھ جیسے غریب خاندان کے طلبہ کا خواہ مخواہ نقصان ہوتا؟ ہرگز نہ ہوتا کیونکہ ہم ذہنی طور پر مکمل تیار ہوتے اور ہزاروں روپے کے نقصان سے بچ جاتے۔

    ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق ادا کرے لیکن پاکستان میں ریاستی ادارے مجھے اپنے باشندوں کے حقوق پورے کرنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں آپ فاٹا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر کے پسماندہ علاقوں کے بارے زرا سوچیں جہاں نہ بجلی ہے اور نہ ہی موبائل سروس اور انٹرنیٹ کی سہولیات کیا طلبہ اور شہریوں کے ان بنیادی حقوق کو فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں؟ اسی طرح ریاست طاقتور طبقہ کو تو مختلف اشیاء پر سبسڈی دیتی ہے لیکن کیا طلبہ کیلئے سمارٹ فونز، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ پر عائد ٹکسز کو معاف نہیں کیا جا سکتا؟ اور غریب طلبہ کیلئے جن کے والدین محنت مزدوری کرتے ہیں یا جنکی آمدنی بیس ہزار سے کم ہے کو لیپ ٹاپ، سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی سہولیات مفت فراہم نہیں کرنی چاہئے؟

    Malik Ramzan Isra is an Islamabad based Pakistani journalist and writer. He is in journalism since 2013 and survived two deadly attacks over his journalistic work. He has worked in different National and International outlets like independenturdu.com, dw.com/urdu, dunyanews.tv & express.pk and currently writing for baaghitv.com He tweets at @MalikRamzanIsra

  • علم وہ شجر ہے جو دل میں اگتا ہے اور زبان پر پھل دیتا ہے۔

    علم وہ شجر ہے جو دل میں اگتا ہے اور زبان پر پھل دیتا ہے۔

    _(حضرت علی ع)_
    اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم انسان میں شعور اجاگر کرتی ہے اور انسان کی اصلاح اور خود شناسی میں مدد کرتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے ایک انسان اپنی وجہ تخلیق کے بارے میں جان پاتا ہے۔ تعلیم اس ستون کی مانند ہے جس کے سہارے چھت کی مضبوطی قائم رہتی ہے اور اگر اس ستون میں شگاف ہو تو وہ چھت زیادہ دیر کے لیے نہیں ٹھہر پاتی اور نست و نابود ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ جن قوموں نے ترقی کی ، انہوں نے تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی۔
    _اسی حوالے سے قائدِ اعظم نے کیا خوب کہا ہے:_
    *”علم تلوار سے بھی زیادہ طاقتور ہے اس لیے علم کو اپنے ملک میں بڑھائیں کوئی آپ کو شکست نہیں دے سکتا۔”*
    پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور پاکستان کے نظریے کو عام عوام کو سمجھانے کے لئے جس قوت نے مدد کی اس عظیم الشان قوت کا نام تعلیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قائدین نے فرد وملت کی ترقی کا دارومدار تعلیم کو دیا اور لوگوں کو غلامی کی زنجیروں سے چھٹکارا دلا کر شاہینوں جیسے کھلی فضا میں اڑنے کی ترغیب دی۔
    اب زرا آج کے پاکستان میں نظر ڈالیے اور سوچئے کہ کیا پاکستان کا نظامِ تعلیم ویسا ہے جیسے ان اقوام کا ہوتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں، یہ لمحہ فکریا ہے کہ ہم اپنے ناقص اور پرانے تعلیمی اصولوں کے باعث آج کہاں کھڑے ہیں اور ہم سے بعد میں وجود آنے والے ممالک ترقی کی کئی منزلیں طے کر چکے ہیں۔
    اب سوال یہ اجاگر ہوتا ہے کہ وجہ کیا ہے؟ کیوں ہم ابھی تک ترقی پذیر ممالک کی صف میں ہیں؟ کیوں ہم اپنے ملک کے معماروں کو وہ نظامِ تعلیم دینے سے کاسر ہیں جو ان کا بنیادی حق ہے۔ اس کی وجہ اور کوئی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم صدیوں پرانے سلیبس کو پڑھا رہے ہیں، ہم سکولوں میں بچوں کو نمبر لانے پر تو بھرپور زور دے کر پیسے کمانے کی مشین تو بنا رہےہیں لیکن ان کی کردار سازی اس طرح نہیں کر رہے کہ وہ مشین کے بجائے قابل بنیں، ہم ڈگریاں تو حاصل کر رہے ہیں لیکن صرف اپنے روزگار کی خاطر، اور ایک وجہ کہ صوبوں میں الگ الگ نظامِ تعلیم کے باعث مشکلات جنم لیتی ہیں۔
    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اول تو ہم یکساں تعلیم کے نظام کو متعارف کروائیں اور پرانے سلیبس کو تبدیل کر کے نئی اور مویسر طرض کے سلیبس کو شامل کیا جائے۔ سب سے اہم یہ کہ بچوں کو دور جدید میں ہونے والی نت نئی ایجادات کے بارے میں بتانے کے لیے باقاعدہ سیشنز کا احتمام کیا جائے تاکہ بچے میں آگے بڑھنے کا جذبہ اجاگر ہو اور دوسرے ملکوں کے ساتھ علم کی دور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ہر بچے کو سکھایا جائے کہ نہ صرف اپنے لیے علم حاصل کرے بلکہ اس پر عمل کے ذریعے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرے۔
    *”علم تمہیں راہ دکھاتا ہے اور عمل تمہیں مقصد تک پہنچاتا ہے۔”*
    اس لیے ضروری ہے کہ جو علم ہم سیکھیں اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں اور نظم و ضبط کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہو کر تاریخ کے پنوں میں امر ہو جائیں۔ اگر ہم پاکستان کو ترقی کی راہوں پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کی اہمیت کو سمجھنا ہو گا ۔ جیسے ہمارے قائد نے کہا کہ *” تعلیم ہماری قوم کے لیے زندگی اور موت کا مسلہ ہے ۔”* لہذا ہمیں آگے بڑھنے کے لیے آپس کے جھگڑوں سے نکل کر ایک قوم ہو کر پاکستان کے مستقل کے بارے میں سوچنا ہو گا، اور اس میں ہر ایک کو اپنا کردار نبھانا ہو گا۔ _اقبال کیا خوب لکھتے ہیں:_
    *” افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر،*
    *ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا۔*
    انشاللہ،ہم سب مل کر پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کی نئی داستان قلم کے زور پر خود تحریر کریں گے ،جو ہمیشہ بہترین الفاظ میں یاد رکھی جائے گی۔
    *پاکستان ذندہ باد*
    @hamzatareen4

  • یکساں نصابِ تعلیم کےفائدے تحریر:شعبان اکبر

    یکساں نصابِ تعلیم کےفائدے تحریر:شعبان اکبر

    کسی بھی قوم کی ترقی کے لیےتعلیم کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے۔تعلیم انسانی شعورکوبیدارکرکےانسان کی اصلاح کاسامان کردیتی ہے۔تعلیم اخلاقی پختگی کی اساس ہے۔اگراساس کمزورپڑجائےیاسرے سےہی نہ ہوتوانسانی ترقی کاخیال عبث ہے۔تمام ممالک میں تعلیم کی ترسیل کےلیےتگ ودو جاری وساری ہے اوراس ضمن میں بہترین طرائق کواپناکراہداف حاصل کرنےکی کوشش کی جاتی ہے۔پاکستان میں بھی عوام الناس کوتعلیم سےآراستہ کرنے کےلیےمختلف ادارےقائم ہیں۔ان اداروں میں عمر کی بنیادپردرجات(کلاسز)طےہیں۔
    تعلیم”علم اورعمل”کامجموعہ ہے۔پاکستان میں درس وتدریس کےلیےسکولز،کالجزاورجامعات کاوسیع سلسلہ قائم ہے۔جہاں حکومت کی جانب سےادارےقائم کیےگئےہیں وہیں نجی شعبہ بھی عصری علوم کی تعلیم کے لیےسرکرداں ہے۔پاکستان میں نظامِ تعلیم کی بہتری کے لیےسابقہ ادوارمیں کافی اصلاحات کانفاذکیاگیا۔کسی بھی قوم کوعلوم پہنچانےکےلیےاس قوم کی قومی زبان کوترجیح دی جاتی ہے۔تاکہ اس قوم کےلوگ عصری علوم کابہتراندازمیں ادراک پاسکیں۔
    بدقسمتی سےپاکستان میں آغازسےہی علوم کی ترسیل کے لیے قومی زبان اردو کوذریعہ نہیں بناگیا۔جس کی بنا پرتعلیم کی ترسیل بہتراندازمیں نہ ہوسکی۔نوجوان نسل کے لیے غیرملکی زبانوں میں علوم کوسمجھنا خاصا مشکل رہا۔اس لیے اکثرطالب علم تعلیم میں عدم فہم کےباعث نمایاں کامیابی حاصل نہ کرسکےاوراکثرطالب علم کثیروجوہات کی بناپرتعلیم سے دورہوگئے۔تعلیمی اہداف کے حصول میں ناکامی کی ایک وجہ یکساں نصابِ تعلیم کا نہ ہونا ہے۔مگرامسال حکومت نےجماعت اول سےلےکرپنجم جماعت تک یکساں نصابِ تعلیم لاگو کرنے کافیصلہ کیا ہے،جوکہ نہایت قابلِ ستائش ہے۔عوام الناس میں اِسے خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔یکساں نصابِ تعلیم سےنوجوان نسل کو کافی فوائد حاصل ہوں گے۔طالب علم جس قسم کے نصاب تعلیم کوپڑھتاہے،اس نصابِ تعلیم کامعیاراس کی عملی زندگی پرکافی اثراندازہوتاہے اوراس کےشعوری درجہ کی نشاندہی کرتاہے۔اگرتمام طلباء یکساں معیاری نصاب پڑھیں گے توان کی یکساں فکری نشوونما ہوگی اورمعاشرے میں موجود طبقات کی تقسیم کوختم کرنے میں مدد ملے گی۔صوبوں کاروزِاول سےشکوہ رہاہےکہ ان کی عوام کومعیاری تعلیمی سہولیات سے قصداً محروم رکھاجاتاہے،اس لیےصوبوں میں یکسانیت کی کمی ہے۔لٰہذایکساں نصابِ تعلیم سےصوبائی تفاوت کاخاتمہ بھی ہوگا۔اساتذہ کے لیےطالب علم تک معلومات پہنچانے میں آسانی ہوگی۔اگر یکساں نصاب ہے توپاکستان کے کسی بھی کونے میں کوئی بھی مدرس بآسانی فرائض سرانجام دےسکتاہےاوراساتذہ کی تقرریوں اورتبادلوں کےحوالے سے تحفظات بھی دورہوجائیں گے۔
    پاکستان کے بعض نجی سکولزمیں بچوں کی پڑھائی کے لیے بھاری معاوضہ لیاجاتاہےاوراتنی بڑی رقم والدین ہنسی خوشی اداکردیتےہیں کیوں کہ سکول انتظامیہ کی طرف سےیہ دعویٰ کیاجاتاہےکہ ان کےادارےمیں سب سےمعیاری نصاب پڑھایاہے۔نصابی تضاد کےباعث یہ نجی ادارے تعلیم کے نام پرعوام سےپیسہ لوٹتے ہیں۔یکساں نصابِ تعلیم لاگوہونے کی صورت میں نجی اداروں کادھندہ بند ہوجائے گا کیوں کہ ملک کے تمام تعلیمی ادارے یکساں نصاب کوپڑھانے کے پابند ہوں گے۔
    معاشرے کی اصلاح کے لیے افراد کا اخلاقی لحاظ سے عمدہ ہونا لازمی ہےاور تعلیم کے بل بوتے پرہی شعوری بالیدگی کی منازل کوطےکیاجاسکتاہے۔

    @iamshabanakbar

  • ہمارا تعلیمی نظام  تحریر مدثر حسن

    ہمارا تعلیمی نظام تحریر مدثر حسن

    ہمارے ملک میں تعلیم کے مختلف معیار ہیں،
    اور ہم اس سے مطمئن بھی ہیں کیوں کے ہماری ترجیح تعلیم نہیں بلکے سڑکیں، پل ، گلی اور نالی پکی کروانا، ایم این اے سے سفارش کروا کے اپنی میٹرک پاس نکمی اولاد کی نوکری لگوا لینا، ایم پی اے یا علاقے کے کونسلر سے تعلقات بنا کر لوگوں پر رعب جھاڑ لینا اور سب سے بڑھ کر اگر کبھی پولیس پکڑ لے تو فون لگا کر کہنا ک” اے رانا صاھب نئی اے اپنے پرا نے”

    پاکستان کے آزاد ہونے سے لے کر اب تک عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا ہے، انکو تعلیم اور شعور سے دور رکھا گیا ہے کے اگر عوام سمجھدار ہو گئی تو کچھ لوگوں کی سیاسی دکان بند ہو جائے گی،
    پاکستان میں تین طرح کا تعلیمی نصاب پڑھایا جاتا ہے، اور سونے پر سہاگا ہر صوبے کا تعلیمی نظام بھی وکھرا ہے۔
    پہلے ہم صوبہ سندھ اور اس کے تین مختلف تعلیمی نظاموں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    اگر آپ غریب کے بچے ہیں تو آپ کے لیے گورنمنٹ فری تعلیم مہیا کرے گی۔ جس کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔ ایسے ایسے استادزہ رکھے جاتے ہیں جو اسکول انے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے اور اگر آ بھی جایں تو سواۓ مکھیاں مارنے کے اور بچوں کے لنچ باکس خالی کرنے کے علاوہ کوئی خاطر خواہ کام سر گرمی انجام نہیں دیتے ہیں، کبھی کبھی تو آپکو اسکول میں بھینسیں اور گدھے بھی بندھے مل جایں گے، ظاہر ہے انکا بھی دل کرتا ہوگا تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس میں کون سا بڑی بات ہے، کہیں قبضہ مافیا سر گرم ہوتا ہے تو کہیں نقل مافیا،، آپ اردو میڈیم میں آٹھ دس جمعاتیں پڑھیں اور پھر اپنے باپ دادا کے ہی آبائی پیشے میں سر کھپایں، کیوں کے آپ کو اعلی تعلیم دلوا دی گئی تو کہیں بھوٹو صاھب نا انتقال کر جایں۔

    اگر آپ کو یہ نظام پسند نہیں اور آپ کے اچھے حالات ہیں تو آپ اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکول میں بھی داخل کروا سکتے ہیں، جہاں آپ کے بچوں کو انگلش میڈیم پڑھایا جاتا ہے،آپ کے بچے تو اچھی تعلیم حاصل کر لیں گے لیکن آپ کی جائیداد رہے نہ رہے اس کے بارے میں کچھ کہ نہیں سکتے۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوکری کے لیے دھکے کھانا ایک الگ ٹوپک ہے۔

    اگر آپ سیاست دان ہیں، کسی جرنل، کرنل یا کسی جج کی اولاد ہیں تو آپ کے لیے مثلا ہی کوئی نہیں ، آپ پاکستان میں رہ کے آکسفورڈ کی کتابیں پڑھیں آپ کے لیے اعلی سے اعلی نظام ہے،نوکری پلیٹ میں رکھ کے ملے گی آپکو اور اس کے بعد دل کرے تو پاکستان نہیں تو بیرون ملک جا کر اپنی خدمات پیش کریں۔

    پنجاب کے حالات بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں، لیکن یہاں اتنا فرق ہے کے آپکو اسکول میں گدھے اور بھینسیں نظر نہیں آیئں گی اور نا ہی نقل مافیا سر گرم لیکن استاتذہ کی حالت تقریباً ملتی جلتی ہی ہے،
    یہاں بھی بہتر تعلیم کے لیے آپکو پرائیویٹ اسکولز کا رخ کرنا پڑتا ہے، اور نوکری کے لیے دھکے کھانا پڑتے ہیں، کیوں کے میرٹ کا اور ہمارا تو دور دور تک کوئی تعلق واسطہ ہی نہیں ہے۔ یہاں بھی آپکو تین مختلف تعلیمی نظام ہی نظر ایں گے۔ کیوں کے اچھا اور بہترین تعلیمی نظام ہونے سے شیر آنے کے بجاے جا بھی سکتا ہے۔

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا خاں کے حالات پہلے دہشت گردی کی وجہ سے ابتر رہے لیکن ہماری آرمی کی خاطر خواہ قربانیوں کی وجہ۔ سے اب حالات کافی بہتر ہیں اور ایک اچھا تعلیمی نظام آپکو میسر ہے۔

    موجودہ حکومت نے پورے ملک میں۔ ایک تعلیمی نظام کے لیے کچھ اقدامات لئے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کے اب سے تمام بچوں کو برابر ترقی کے حقوق ملیں گے۔

    ‎@MudasirWrittes

  • قدیم نظام تعلیم تحریر: محمد معوّذ

    قدیم نظام تعلیم تحریر: محمد معوّذ

    جہاں تک ہمارے پرانے نظام تعلیم کا تعلق ہے وہ آج سے صدیوں پہلے کی بنیادوں پر قائم ہے، جس وقت یہاں انگریزی حکومت آئی اور وہ سیاسی انقلاب برپا ہوا جس کی بدولت ہم غلام ہوئے۔ اس وقت جو نظام تعلیم ہمارے ملک میں رائج تھا وہ ہماری اس وقت کی ضروریات کے لیے کافی تھا۔ اس نظام تعلیم میں وہ ساری چیزیں پڑھائی جاتی تھیں جو اس وقت کے نظام مملکت کو چلانے کے لیے درکار تھیں۔ اس میں صرف مذہبی تعلیم ہی نہیں تھی بلکہ اس میں فلسفہ بھی تھا، اس میں منطق بھی تھی، اس میں ریاضی بھی تھی۔ اس میں ادب بھی تھا اور دوسری چیزیں بھی تھیں ۔ اس زمانے کی سول سروس کے لیے جس طرح کے علوم درکار تھے، وہ سب طلبہ کو پڑھائے جاتے تھے ۔ لیکن جب وہ سیاسی انقلاب برپا ہوا جس کی بدولت ہم غلام ہوئے تو اس پورے نظام تعلیم کی افادیت ختم ہوگئی۔ اس نظام تعلیم سے نکلے ہوئے لوگوں کے لیے نئے دور کی مملکت میں کوئی جگہ نہ رہی ۔ جس قسم کے علوم اد دوسری مملکت کو درکار تھے وہ اس کے اندر شامل نہیں تھے اور جو علوم اس میں شامل تھے ان کے جاننے والوں کی اس دوسری مملکت کو کوئی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم چوں کہ اس کے اندر ہماری صدیوں کی قومی میراث موجود تھی اور ہماری مذہبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی اس کے اندر کچھ نہ کچھ سامان موجود تھا (اگرچہ کافی نہ تھا) اس لیے اس زمانے میں ہماری قوم کے اچھے خاصے بڑے عنصر نے محسوس کیا کہ اس نظام کو جس طرح بھی ہوسکے قائم رکھا جائے تا کہ ہم اپنی آبائی میراث سے بالکل منقطع نہ ہو جائیں۔

    اسی غرض کے لیے انھوں نے اسے جوں کا توں قائم رکھا لیکن جتنے جتنے حالات بدلتے گئے اتنی ہی زیادہ اس کی افادیت گھٹتی چلی گئی کیوں کہ اس نظام تعلیم کے تحت جو لوگ تعلیم پاکر نکلے انھیں وقت کی زندگی اور اس کے مسائل سے کوئی مناسبت ہی نہ رہی۔ اب جو لوگ اس نظام تعلیم کے تحت پڑھ رہے ہیں اور اس سے تربیت پا کرن کل رہے ہیں ان کا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ ہماری مسجدوں کو سنبھال کر بیٹھ جائیں یا کچھ مدرسے کھول لیں اور طرح طرح کے مذہبی جھگڑے چھیڑتے رہیں تا کہ ان جھگڑوں کی وجہ سے قوم کو ان کی ضرورت محسوس ہو۔ اس طرح ان کی ذات سے اگر کچھ نہ کچھ فائدہ بھی ہمیں پہنچتا ہے۔ یعنی ان کی بدولت ہمارے اندر قرآن و دین کا کچھ نہ کچھ علم پھیلتا ہے، دین کے متعلق کچھ نہ کچھ واقفیت لوگوں کو حاصل ہوجاتی ہے اور ہماری مذہبی زندگی میں کچھ نہ کچھ حرارت باقی رہ جاتی ہے لیکن اس کے فائدے کے مقابلے میں جو نقصان ہمیں پہنچ رہا ہے، وہ بہت زیادہ ہے۔ وہ نہ تو اسلام کی صحیح نمائندگی کر سکتے ہیں، نہ موجودہ زندگی کے مسائل پر اسلام کے اصولوں کو منطبق کر سکتے ہیں، نہ ان کے اندر اب یہ صلاحیت ہے کہ دینی اصولوں پر قوم کی راہنمائی کر سکیں اور نہ وہ ہمارے اجتماعی مسائل میں سے کسی مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اب ان کی بدولت دین کی عزت میں اضافہ ہونے کی بجائے الٹی اس میں کچھ ککیمی ہورہی ہے، دین کی جیسی نمائندگی آج ان کے ذریعہ سے ہورہی ہے، اس کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں دین سے روز بروز بعد بڑھتا جارہا ہے اور دین کے وقار میں کمی آرہی ہے۔ پھر ان کی بدولت ہمارے ہاں مذہبی جھگڑوں کا ایک سلسلہ ہے جو کسی طرح ٹوٹنے میں نہیں آتا، کیوں کہ ان کی ضروریات زندگی انہیں مجبور کرتی ہیں کہ وہ ان جھگڑوں کو تازہ رکھیں اور بڑھاتے رہیں۔ یہ جھگڑے نہ ہوں تو قوم کو سرے سے ان کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔

    یہ ہے ہمارے پرانے نظام تعلیم کی پوزیشن اور یہ بھی وضاحت کے ساتھ کہہ دوں کہ حقیقت میں وہ دینی تعلیم بہت کم ہے۔ دراصل وہ اب سے دو ڈھائی سو برس پہلے کی سول سروس کی تعلیم ہے جس میں زیادہ تر اس وجہ سے دینی تعلیم کا جوڑ لگایا گیا تھا کہ اس زمانے میں اسلامی فقہ ہی ملک کا قانون تھی اور اسے نافذ کرنے والے کے لیے فقہ اور اس کی بنیادوں کا جاننا ضروری تھا۔ آج ہم غنیمت سمجھ کر اسی کو اپنی دینی تعلیم سمجھتے ہیں-لیکن حقیقت میں اس کے اندر دینی تعلیم کا عنصر بہت کم ہے، کوئی عربی مدرسہ ایسا نہیں ہے جس کے نصابِ تعلیم میں پورا قرآن مجید داخل ہو۔ صرف ایک یا دو سورتیں (سورہ بقرہ یا سورہ آل عمران) باقاعدہ درساً درساً پڑھائی جاتی ہیں۔ باقی سارا قرآن اگر کہیں شامل درس ہے بھی تو صرف اس کا ترجمہ پڑھا دیا جاتا ہے۔ تحقیقی مطالع قرآن کسی مدرسے کے نصاب میں بھی شامل نہیں۔ یہی صورت حال حدیث کی ہے۔ اس کی باقاعدہ تعلیم جیسی کہ ہونی چاہیے، جیسی کہ محدث بننے کے لیے درکار ہے کہیں نہیں دی جاتی ۔ درس حدیث کا جو طریقہ ہمارے ہاں رائج ہے وہ یہ ہے کہ جب فقہی اور اعتقادی جھگڑوں سے متعلق کوئی حدیث آجاتی ہے تو اس پر دو دو تین تین دن صرف کر دیے جاتے ہیں۔ باقی رہیں وہ حدیثیں جو دین کی حقیقت کو سمجھاتی ہیں، یا جن میں اسلام کا معاشی ، سیاسی ، دینی اور اخلاقی نظام بیان کیا گیا ہے، جن میں دستور مملکت یا نظام عدالت یا بین الاقوامی امور پر روشنی پڑتی ہے۔ ان پر سے استاد اور شاگرد دونوں اس طرح رواں دواں گزر جاتے ہیں کہ گویا ان میں کوئی بات قابل توجہ ہے ہی نہیں ۔ حدیث اور قرآن کی بنسبت ان کی توجہ فقہ کی طرف زیادہ ہے،…………….. لیکن اس میں زیادہ تر ،بلکہ تمام تر جزئیات فقہ کی تفصیلات ہی توجہات کا مرکز رہتی ہیں۔ فقہ کی تاریخ، اس کے تدریجی ارتقاء، اس کے مختلف اسکولوں کی امتیازی خصوصیات، ان اسکولوں کے متفق علیہ اور مختلف فیہ اصول اور ائمہ مجتہدین کے طریق استنباط، جن کے جانے بغیر کوئی حقیقت میں فقہی نہیں بن سکتا، ان کے درس میں سرے سے شامل ہی نہیں ہیں۔ بلکہ ان چیزوں پر شاگرد تو درکنار استاد بھی نگاہ نہیں رکھتے۔

    اس طرح یہ نظام تعلیم ہماری ان مذہبی ضروریات کے لیے بھی سخت ناکافی ہے ۔ جن کی خاطر اسے باقی رکھا گیا تھا۔ رہیں دنیوی ضروریات تو ان سے تو اس کو سرے سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔

    @muhammadmoawaz_

  • تعلیم ضروری ہے تحریر: محمد عدنان شاہد

    تعلیم ضروری ہے تحریر: محمد عدنان شاہد

    رابرٹ موگابے نے کہاتھا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسے باور کرائیں گے کہ "تعلیم ہی کامیابی کی کنجی ہے، جب ہم گھرے ہوۓ ہوں غریب گر یجویٹس اور امیر بد معاشوں سے” اور ہم یہ باور کرانے میں نا کام ہو گئےہیں۔ آج نو جوان نسل کی سوچ یہ ہے کہ سفارش اور رشوت کے بغیر نوکری نہیں مل سکتی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی سوچ میری بھی ہے۔ لیکن ایک عرصے تک میں اس سوچ میں بتلارہا کہ اگر یہ سچ ہے اور تعلیم ہی میابی کی کنجی نہیں ہے تو پھر لوگ اس کو دھڑا دھڑ حاصل کیوں کرنے میں لگے ہیں۔

    ہمارے کالج، یو نیورسٹیاں بھری ہوئی کیوں ہیں اور میں اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہوں کہ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی وجہ ہے کام چوری ان کو یہ لگتا ہے کہ اگر یہ لوگ یونیورسٹی نہیں آئیں گے تو ان کے ماں باپ ان کو محنت مزدوری پر لگا دیں گے، اور یہ لوگ اپنی جوانی کو موج مستی میں گزارنا چاہتے ہیں۔ مطلب ان میں احساس ذمہ داری نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ دوسری وجہ امید ہے ان کو لگتا ہے کہ ہمارا ملک ایک دن ضرور ہماری قدر کرے گا۔ اس امید میں ایسے لوگ دن رات محنت کرر ہے ہیں اور محنت بھی ضائع نہیں جاتی۔ لیکن یہی محنت انہیں ایک امتحان میں ڈال دیتی ہے وہ امتحان ایک شکارگاہ ہوتی ہے جہاں ان کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ شکار بنو یا شکاری بن جاؤ لیکن اس امتحان میں کا میابی ان دونوں میں سے کسی کو بھی نہیں ملتی۔

    اس امتحان میں کا میاب وہی ہے جو نہ شکار بنتا ہے نہ ہی شکاری ایسے لوگ بس جی رہے ہوتے ہیں اور بس موقع کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں موقع ملا وہاں اس سے فائدہ اٹھایا آسان الفاظ میں سمجھاؤں تووہ اس سسٹم کے ڈسے ہوۓ لوگ ہیں جو شکار بن چکے ہیں، اور ڈسنے والے شکاری ہیں لیکن اس سسٹم سے لڑنے والے لوگ وہ ہیں جو موقع پرست لوگ ہوتے ہیں جو موقع ملتے ہی اس سٹم پر کاری ضرب مارتے ہیں اور لو ہے کوتلوار بنانے کے لئے اس پر ضرب مارنی ہی پڑتے ہیں لیکن تعلیمی اداروں میں داخل نہیں کئے جاتے ہیں بلکہ ٹھونسے جاتے ہیں کیوں کہ تعلیمی اداروں کی تعداد کم ہے۔

    بدقسمتی سے ن لیگ کے دور میں سڑکوں پر توجہ دی گئی نا کہ تعلیم پر اب اللّه کا شکر ہے کہ موجودہ حکومت تعلیم پر خاطر خواہ توجہ دے رہی ہے۔

    ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ جب تک لوگوں میں شعور نہیں ہوگا کہ ان سڑکوں اور آمد ورفت کا استعمال کیسے کرنا ہے تب تک اسے بنانے کا کیا
    فائدہ لائسنس ان لوگوں کے پاس نہیں ہوتا ہیلمٹ یہ لوگ نہیں پہنتے، اشارے یہ توڑے ہیں ایسے میں کیا ضرورت ان سڑکوں کی؟ اس کی جگہ تعلیمی ادارے بنیں تا کہ عوام کو شعور آئے۔

    اسی بات پر تھوڑی اور نظر ڈالتے ہیں ہمارے ملک میں احتجاج جب تک پر تشدد نہ ہو اس وقت تک احتجاجیوں کو کوئی منہ نہیں لگا تا اس لئے ہمارے ملک میں احتجاج پر تشدد ہو جاتے ہیں بدقسمتی سے احتجاج کرنے والے لوگ اگر تعلیم یافتہ ہوں تو دل اور بھی زیادہ دکھتا ہے۔

    بس اصل بات یہ ہے کہ تعلیم بہت ضروری ہے کیوں کہ تعلیم ہوگی تو ہی شعور آئے گا تعلیم کے بغیر شعور ممکن ہی نہیں ہے اور رہی بات سفارش اور رشوت کے بغیر نوکری حاصل کرنے کی تو اس کا ایک ہی حل ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ میں قابلیت ہے اور آپ نے سہی معنوں میں تعلیم حاصل کی ہے تو آپ کو کسی سفارش کرانے کی یا رشوت دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

    اور سہی معنوں میں تعلیم تب ہی حاصل ہو سکتی ہے جب ہم یونیورسٹیز میں جا کر اپنا اصل مقصد نا بھولیں اور اپنا فوکس صرف تعلیم پر رکھیں نا کہ آوارہ گردی کرنے پر، اگر ہم ایسا کر گئے تو ہم ایک باشعور قوم بن سکتے ہیں اور خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

    @RealPahore

  • ن لیگی رانا مشہود اور بشری انجم بٹ پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کے ہم آواز – تحریر: یاسر اقبال خان

    ن لیگی رانا مشہود اور بشری انجم بٹ پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کے ہم آواز – تحریر: یاسر اقبال خان

    جب دسمبر 2019ء میں چین کے شہر ووہان میں کوویڈ 19 وبائی مرض کا پہلا کیس آیا تو چین میں تعلیمی ادارے سمیت ہر چیز بند کردی گئی اور سفری پابندیاں لگا دی گئی۔ جیسے جیسے کوویڈ 19 کے کیسز دوسرے ممالک میں سامنے آتے گئے تو ہر ملک میں تعلیمی ادارے بند کردئے گئے۔ اس دوران ہزاروں طلباء جو چین میں زیرتعلیم تھے جو چین کے مختلف یونیورسٹییز سے BS, MS اور PhD کی ڈگریز کر رہے تھے وہ پاکستان آئے جو آج تک اس انتظار میں ہے کہ وہ اپنی یونیورسٹی کے کلاس رومز، ریسرچ لیبز اور لائبریری کا پڑھائی والا ماحول کبھی دیکھیں گے۔ 19 ماہ سے لے کر آج تک چین کا ویزا ملنا ان پاکستانی طلباء کی پہنچ سے کوسوں دور ہے۔

    پاکستان میں پھنسے ان طلباء میں کچھ ایسے بھی ہے جن کو 2020 اور 2021 میں چین کے یونیورسٹیوں میں داخلہ ملا ہے۔ ان نئے طلباء نے ابھی تک اپنی یونیورسٹی کا ماحول دیکھا بھی نہیں۔ چین میں زیر تعلیم بی ایس، ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے طلباء کو پاکستان میں پھنسے 19 ماہ ہو چکے ہیں اور انکو ویزا نہیں مل رہا۔ یہ طلباء پاکستانی حکومت کا بے بسی کے علم میں 19 ماہ سے دروازہ کھٹکھٹکا رہے ہیں لیکن زرائع کے مطابق کوئی حکومتی رہنما ان کی مدد کیلئے آواز نہیں اٹھا رہا۔ البتہ اپوزیشن سیاسی جماعت مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے رانا مشہود احمد خان اور ایم پی اے بشری انجم بٹ پاکستان میں پھنسے ان طلباء کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ان طلباء کو ہر قسم کی مدد کا یقین دہانی کرا رہے ہیں۔ 16 جولائی 2021ء کو ن لیگ کے پنجاب کے نائب صدر و پنجاب اسمبلی کے ممبر رانا مشہود احمد خان نے سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے ٹویٹر بیان میں طلباء کیلئے ہر محاذ پر آواز اٹھانے کا عزم کیا۔ 17 جولائی 2021ء کو لیگی رہنما رانا مشہود نے اپنے ایک ٹویٹر بیان میں پاکستان کے طلباء کو پیش انے والے مسائل کیلئے آواز اٹھائی۔

    22 جولائی 2021ء کو ٹویٹر پر پنجاب اسمبلی کے لیگی رہنما رانا مشہود احمد خان اپنے ایک بیان میں کہتے ہیں کہ طلباء پر سفری پابندی کا معاملہ نہ صرف اسمبلی میں بلکہ ہر جگہ اٹھاؤنگا۔ ساتھ میں انکا یہ بھی کہنا تھا کہ چائنیز قونصلیٹ سے طلباء کے مسئلے کیلئے رابطہ کیا ہے اور ان کے ساتھ جلد ملاقات ہوگی۔

    29 جولائی 2021ء کو لیگی رہنما رانا مشہود نے پاکستان میں پھنسے چین میں ریز تعلیم طلباء کے ساتھ ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پنجاب اسمبلی کے رہنما طحیہ نون اور خواجہ سعد رفیق بھی موجود تھے لیگی رہنماؤں نے طلباء کے مسائل سنے اور ان کیلئے آواز اٹھانے کا عزم کیا۔ اس موقع پر رانا مشہود احمد خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت بھی اس معاملے میں طلباء کی کوئی مدد نہیں کر رہی اور انہوں نے طلباء کو یقین دہانی کروائی کہ ہم طلباء کے تعلیمی مستقبل داؤ پر نہیں لگنے دیں گے اس کے لیے جس فورم پربھی آواز اٹھانی پڑی اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب اسمبلی میں ان طلباء کےمستقبل کےلیے آواز اٹھائیں گے۔

    29 جولائی 2021ء کو ن لیگ کی خاتون رہنما اور پنجاب اسمبلی کی ایم پی اے بشری انجم بٹ نے پاکستان میں پھنسے ان طلباء کے ساتھ پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں ملاقات کی اور طلباء سے کورونا وبا کی وجہ سے چین کا ویزا نہ ملنے کے حوالے سے ان کے مسائل سنے۔ طلباء کے ساتھ اس ملاقات کی تصدیق کی۔ لیگی ایم پی اے بشری انجم بٹ نے ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں طلباء کے ساتھ یہ عزم کیا کہ پنجاب اسمبلی میں سفری پابندیوں کی وجہ سے پاکستان میں پھنسے طلباء کا مسئلہ اٹھائیں گے۔

    29 جولائی 2021ء کو لیگی رہنما رانا مشہود احمد خان اور بشری انجم بٹ نے پنجاب اسمبلی میں پاکستانی طلباء کے مسئلے کو اجاگر کرنے کیلئے قرارداد اور تحریک التوائے کار جمع کرا دی جسکی تصدیق مسلم لیگ ن کے پنجاب کے نائب صدر نے اپنے ٹویٹر بیان میں کی۔

    19 اگست کو رانا مشہود احمد خان اپنے ٹویٹر بیان میں لکھتے ہیں کہ میری قیادت میں طلباء کا ایک وفد چینی کونسل جنرل سے ملاقات کرنے جا رہا ہے۔ 20 اگست 2021ء کو مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود احمد خان نے طلباء کے ایک وفد کو ساتھ لے کر چینی کونسل جنرل سے ملاقات کی۔ پنجاب اسمبلی کے ن لیگی ایم پی اے نے اپنے ٹویٹر پر جاری کردا بیان میں چینی کونسل جنرل لانگ ڈنگبن سے ملاقات کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس ملاقات میں چینی قونصل جنرل لانگ ڈنگبن نے رانا مشہود احمد خان کو یقین دہانی کروائی کہ آئیندہ ماہ ستمبر میں شروع ہونے والے سمسٹر سے قبل تمام طلباء کے مسائل کو اولین بنیادوں پر حل کریں گے تاکہ طلباء اپنے تعلیمی سال کو مکمل کر سکے گے۔ رانا مشہود نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے چینی قونصل جنرل لانگ ڈنگبن کے ساتھ ملاقات کے کچھ تصاویر بھی شیر کئے ہیں جس میں چین میں زیرتعلیم طلباء ان دونوں چینی و ن لیگی رہنماؤں کے ملاقات میں موجود ہیں۔

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • پروفیسر فتح محمد ملک: ایک سادہ لوح عظیم دانشور تحریر: ملک رمضان اسراء

    پروفیسر فتح محمد ملک: ایک سادہ لوح عظیم دانشور تحریر: ملک رمضان اسراء

     
    پروفیسر فتح محمد ملک جیسے عظیم دانشور ہماری فکری اور نظریاتی رہنمائی کرتے ہیں۔ نئی نسل کو اقبال اور قائد کے نظریہ سے روشناس کرتے ہیں۔ اور نظریہ پاکستان اور اسلام کی صحیح معنوں میں ترجمانی بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک روشن خیال عالم ہیں تو دوسری طرف اعتدال پسند پروفیسر جنکی محفل آپ کو گھنٹوں علم سے بھرپور گفتگو سننے پر مجبور کردے اور اختتام پر آپ کا دل پروفیسر صاحب کی علمی و ادبی نشست چھوڑنے پر اگلی بیٹھک تمنا رکھے۔
    تعلیم، ادب، اسلام، پاکستان، اقبال اور قائد اعظم بارے علم سے سرشار ایسا انداز بیان کے آپ انکی سادہ گرفتار کے اسیر ہوجائیں۔ فتح محمد ملک کی زبان و بیان اور عمل و فکر سے ناصرف اقبالیات جھلکتی ہے بلکہ قائد اعظم کا پاکستان اور وسیع النظر اسلامی سوچ کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی ہے۔
    پروفیسر فتح محمد ملک 18 جون 1936 کو ضلع چکوال تحصیل تلہ گنگ کے چھوٹے سے گاؤں ٹہی میں ایک غریب کسان ملک گل محمد کے ہاں پیدا ہوئے۔ والد کی تعلیم میٹرک تک تھی لیکن وہ انہیں ہمیشہ تقاریر، مناظرے اور علمی مجالس میں لے جاتے تھے۔ اور گھر میں بھی بچوں کیلئے کتب رکھی ہوئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب فتح محمد ملک کو کالج میں داخلہ کرانے کا وقت آیا تو اس وقت جو آپشن تھا اس میں راولپنڈی کا گارڈن کالج، زمیندار کالج گجرات، گورنمنٹ کالج چکوال اور گورنمنٹ کالج کیمل پور یعنی اٹک تھا۔ لیکن ملک گل محمد نے کیمل پور کالج کا انتخاب کیا کیونکہ وہاں ڈاکٹر غلام جیلانی برگ اور پروفیسر محمد عثمان جیسے ہونہار اساتذہ تھے۔

    اب آپ اندازہ لگائیں کہ اس زمانے میں پروفیسر صاحب کے والد گرامی نے عمارت یا فاصلے کو نہیں دیکھا بلکہ یہ دیکھا کہ وہاں تعلیم کون دے رہا ہے جہاں ملک صاحب کے ہم جماعت شفقت تنویر مرزا اور منو بھائی تھے۔ بعد ازاں جب ملک صاحب روالپنڈی کالج ایم اے کرنے کیلئے آئے تو وہاں  منو بھائی اور شفقت تنویر مرزا کے ساتھ مقامی اخبار روزنامہ تعمیر میں ملازمت بھی کی جس کے ایڈیٹر محمد فاضل تھے۔ پھر تینوں بیروزگار ہوگئے تو یہ دوست تقریباً بائیس دن تک لیاقت باغ میں سوتے رہے کیونکہ ان کے پاس بیروزگاری کے سبب رہنے کی جگہ نہیں تھی اور سامنے ایک چائے والا تھا جس کے ساتھ کنٹریکٹ کیا گیا تھا کہ وہ انہیں چائے اور رس دے گا یعنی انہوں نے مسلسل بائیس روز تک بنا روٹی کے چائے اور رس پر کھلے آسمان تلے گزارا کیا۔
    اس دوران ریڈیو پاکستان کے کمپیئر طارق عزیز مرحوم کچھ دنوں کیلئے بیمار ہوگئے تو انہوں نے انہیں پیغام بھیجا کہ میری جگہ آپ آجائیں اور خبریں پڑھیں اور منو بھائی کو سکرپٹ رائٹر بنا دیا گیا۔ پھر جب انہیں تنخواہ کا چیک ملا اور یہ پیدل آرہے تھے اور اس وقت ریڈیو پاکستان پشاور روڈ پر ہوا کرتا تھا تو راستے میں ہوٹلوں پر تکہ کڑاہی اور گوشت بنا نظر آیا تو فتح ملک نے ہاتھ پکڑ کر منو بھائی مرحوم سے کہا اس طرف نہیں دیکھنا بلکہ پہلے اپنے اس محسن چائے والے کا ادھار چکانا ہے کیونکہ اس نے بائیس دن تک ہمارے ساتھ تعاون کیا۔
    پروفیسر فتح محمد ملک نے اردو اور انگریزی زبان میں درجن بھر کتب لکھی ہیں، جن میں “تعصبات، انداز نظر، تحسین و تردید، فلسطین اردو ادب میں، اقبال فکر و عمل، اقبال فراموشی، اقبال اسلام اور روحانی جمہوریت، فیض شاعری اور سیاست، ن م راشد شخصیت اور شاعری، منٹو ایک نئی تعبیر، ندیم شناسی، انتظار حسین شخصیت اور فن، انجمن ترقی پسند مصنفین، فیض کا تصور انقلاب، اردو زبان ہماری پہچان، پاکستان کا روشن مستقبل، اقبال کی سیاسی فکر، پاکستان کے صوفی شعرا، پنجابی شناخت، اسلام بمقابلہ اسلام” وغیرہ شامل ہیں۔ اور یہ جتنی بھی کتابیں ہیں ساری اکٹھی کرکے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے دو جلدوں میں چھاپی ہیں جن میں ایک کا نام “آتش رفتہ کا سراغ” اور دوسری “کھوئے ہوؤں کی جستجو” ہے۔ یعنی یہ دو کتابیں  باقی تمام کتب کا مجموعہ ہیں۔

    اس کے علاوہ مصنف و قلم کار محمد حمید شاہد نے پروفیسر فتح محمد ملک کی زندگی پر “پروفیسر فتح محمد ملک شخصیت اور فن” کے نام سے بھی ایک کتاب لکھی ہے اور انہوں نے پروفیسر صاحب کے مزاج اور عظمت کو یہ کہہ کر جیسے دریا کو کوزے میں بند کردیا کہ: "علامہ محمد اقبال نے نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو جیسے پروفیسر فتح محمد ملک بارے کہا تھا۔ یہ ایسی عظیم اور اعلی طبیعت شخصیت ہیں جس کی کوئی مثال نہیں۔”
    پروفیسر فتح محمد ملک کی شادی اپنے آبائی علاقہ عطا اللہ شاہ بخاری کے احراری خاندان کی ذکیہ ملک سے ہوئی تھی جو پڑھی لکھی اور انتہائی عظیم خاتون تھی جن کی تربیت ان کے چاروں بچوں میں جھلکتی ہے، جس میں محمد طارق ملک موجودہ چیئرمین نادرا، پروفیسر طاہر نعیم ملک نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویج اسلام آباد، اور پروفیسر ڈاکٹر عدیل ملک آکسفورڈ یونیورسٹی لندن جبکہ چھوٹی بیٹی سعدیہ ملک بھی پروفیسر ہیں۔
    فتح محمد ملک کی رفیق حیات ذکیہ ملک ایک ہاوس وائف خاتون تھیں جو بیماری میں مبتلا ہو کر 1995ء میں جہان فانی سے کوچ کرگئی تو فتح محمد ملک کو رشتہ داروں اور احباب نے مشورہ دیا کہ آپ دوسری شادی کرلیں لیکن ملک صاحب نے انہیں یہ کہہ کر لاجواب کردیا کہ: "یہ تو بہت بڑی زیادتی ہوگی کہ میرے دل میں کوئی اور ہو اور گھر میں کوئی اور۔”
    پروفیسر صاحب پر نمل یونیورسٹی، بہاولدین زکریا یونیورسٹی، اور بہاول پور یونیورسٹی میں تین ایم فل ہوچکی ہیں۔ علاوہ ازیں اردو یونیورسٹی میں ان کی علمی، ادبی خدمات پر پی ایچ ڈی کا ایک تھیسس بھی لکھا گیا ہے۔ اور علم و ادب کی بے پناہ خدمات پر 2006 میں ستارہ امتیاز، 2017 میں عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ سمیت مختلف اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ ناصرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی جامعات سے بھی آپ وابستہ رہے۔ جن میں کولمبیا یونیورسٹی، ہیڈلبرگ یونیورسٹی، ہمبولٹ یونیورسٹی، سینٹ پیٹرزبرگ یونیورسٹی شامل ہیں۔
    پروفیسر صاحب  نے ہمیشہ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے نظریات کو اہمیت دی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ موجودہ وزیراعظم عمران خان سے پہلے نیا پاکستان بنانے کا عزم ذوالفقار علی بھٹو بھی سامنے لائے تھے لیکن ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حقیقی پاکستان کا تصور پیش کیا جائے کیونکہ اس پاکستان کا خواب علامہ اقبال اور قائد اعظم نے دیکھا تھا۔ اور جس پاکستان کیلئے انہوں نے دن رات انتھک محنت کی تھی۔ اور وہ اپنے نظریات کے مطابق یہ سمجھتے تھے کہ حقیقی پاکستان بنانے کیلئے سب سے پہلے پاکستان میں جاگیردارانہ نظام کو ختم کیا جائے۔ سردار اور وڈیرا نظام شاہی وہ چاہے کہیں بھی ہو ختم ہوگا تو عام عوام کو ان کے بنیادی حقوق ملیں گے۔
    قائداعظم نے سب سے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ: نسل، رنگ  اور لسانی تصورات کے تعصبات کو ختم کیا جائے۔ ایک دفعہ تحریک پاکستان  کے دوران قائد اعظم ایک بہت بڑے جلسے کی قیادت کررہے تھے تو ان کے کان میں ایک آواز سنائی دی کہ حضرت مولانا قائد اعظم محمد علی جناح زندہ باد اس پر انہوں نے جلوس کو روک کر نعرہ لگانے والوں کو مخاطب کر کے انگریزی میں  کہا میں آپ کا مذہبی رہنما نہیں بلکہ سیاسی رہنما ہوں، اس لیے مجھے مولانا نہ کہیں۔
    پروفیسر فتح محمد ملک کہتے ہیں کہ: کاش جنرل ضیاء جیسی ذہانت کے لوگ اس جلسہ میں شریک ہوتے اور قائد کے اس فرمان سے سبق اندوز ہوتے۔
    ہمارے ہاں موسیقی کو اسلام سے دوری سمجھا جاتا ہے لیکن پروفیسر صاحب ایک واقعہ سناتے ہیں کہ میں ہیڈلبرگ  یونیورسٹی میں ایک کلاس میں پڑھا رہا تھا جس میں اس سمسٹر کا مضمون تھا Muslim thoughts and South Asia تو وہاں ایک خاتون مجھ سے ملنے آئی اور وہ گیٹ پر میرا انتظار کررہی تھی، میں جیسے باہر نکلا تو انہوں نے کہا کہ جناب میں آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی اور بتانے لگی "میں میڈکل کی طالبہ ہوں۔” انتظار کی وجہ پوچھی تو کہنے لگی مجھے آپ کی اجازت چاہئے تاکہ آپ کی کلاس میں، میں بھی بیٹھ سکوں؟  کیونکہ میں اسلام سے متعلق جاننا چاہتی ہوں۔ جس پر میں نے انہیں کہا خوش آمدید، ضرور آئیں اور پھر اس نے اپنا ایک واقع سنایا کہ: میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ایک پب میں بیٹھی تھی اور وہاں ایک میوزک لگا ہوا تھا اور اتنا لطیف میوزک تھا، بہت اعزاز کی کیفیت تھی۔ خیر میں نے سمجھا کہ شائد میں زیادہ (شراب) پی گئی ہوں اس لیے یہ کیفیت ہے۔ لیکن دوسری صبح میں نے سوچا اب دوپہر کو جاونگی وہاں دوپہر کا کھانا کھاوں گی اور ان سے اسی موسیقی کی فرمائش کروں گی۔  تو انہوں نے جب وہ میوزک لگایا تو وہی کیفیت وہی وجد طاری ہوگیا تو میں حیران ہوئی اور ان سے جاکر پوچھا کہ: یہ کس ملک کا میوزک ہے اور یہ موسیقار کون ہیں تو انہوں نے کہا یہ پاکستانی میوزک ہے اور نصرت فتح علی خان وہاں کے بہت بڑے موسیقار ہیں یہ ان کی گائیکی ہے۔ پھر میں نے کہا یہ پاکستان سے کسی کو کہہ کر منگوانا پڑے گا، جس پر جواب ملا نہیں باہر جاکر کسی موسیقی کی دوکان پر یہ نام بتائیں اور آپ کو مل جائے گا۔ میں نے جاکر خرید لیا اب یہ سنتی ہوں اور بہت لطف اندوز ہوتی ہوں  اور پھر سوچا کہ مجھے اسلام کے بارے میں کچھ سمجھ ہونی چاہیے۔ اور میں اس لیے آپ کے پاس آئی ہوں۔
    جہاں پر پروفیسر صاحب نے وضاحت کی موسیقی بھی اللہ کی دین ہے اور یہ سننے اور گانے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے کس زاویہ سے سنتا ہے۔
    ملک صاحب نے ناصرف اقبال کے نظریہ پر چلتے ہوئے اس ملت کو بحث تنقید بنایا جس کے بارے میں اقبال نے فرمایا تھا کہ “نیم حکیم خطرہ جان؛ نیم ملا خطرہ ایمان، دین کافر فکر و تدبیر و جہاد، دین  ملا  فی سبیل اللہ فساد” بلکہ جب فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو نے آپ ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کئے تو اس سے متعلق ایک مضمون بعنوان ” آزادیء اظہار یا آزادی آزار” لکھا اور اس میں متذکرہ بالا جریدے اور فرانسیسی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے اس عمل کو صحافتی دہشت گردی قرار دیا اور فرانسیسی قیادت کو اس قبیح حماقت پر ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری جیسے القابات سے مخاطب کیا۔ اور یہ مضمون مصنف کی کتاب “چچا سام اور دنیائے اسلام” میں بھی موجود ہے۔
    قارئین آپ کو ان کی تحاریر پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ یہ مذہبی انتہاپسندی اور لبرل فاشزم دونوں کے خلاف ہیں ایک اعتدال پسند یعنی پروگریسو مسلمان ہیں۔ تبھی تو ان کی مسلسل یہی کوشش رہی ہے کہ نئی نوجوان نسل میں وہ اپنی قلم کے ذریعے حقیقی پاکستان، اسلام اور علامہ اقبال و قائد کی روح پھونک سکیں۔ چونکہ نوجوان نسل ہی قوم و ملک کا مستقبل ہوتی ہیں تو اگر ان کے دل اقبال اور قائد کے فکر و عمل سے صحیح معنوں میں سرشار ہونگے تو تب جاکر کہیں حقیقی پاکستان کا تصور عمل میں لانا ممکن ہوگا۔
     پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی عمر اب 85 سال کو پہنچ گئی جس میں 55 سال اور علم ادب کی خدمات میں گزرگئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے لہذا اس عظیم دانشور کی بے بہا خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے یہ تحریر بالکل ناکافی ہے کیونکہ یہ احقر ایک علم کے پہاڑ کے سامنے مٹی کا ایک زرا ہے۔ بس دعا ہے کہ اللہ تعالی ایسے دانشوروں کا سایہ ہم طلبہ اور انکے بچوں پر ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین

  • پرائیویٹ تعلیمی ادارے مافیاز ،تحریر :ارم شہزادی

    پرائیویٹ تعلیمی ادارے مافیاز ،تحریر :ارم شہزادی

    ویسے تو اس پر بہت لکھا جا چکا ہے لیکن بدقسمتی سے اسکا فائدہ نہیں ہوا ہےیہ مافیا کیسے بنا ہم نے بنایا یا ہمیں مجبور کیا گیا کہ اس مافیا کے سامنے سر جھکا دیں؟ آج سے پندرہ بیس سال پہلے جو پرائیویٹ سکولز میں بچے تعلیم حاصل کرتے تھے انہیں نالائق سمجھا جاتا تھا کہ یہ بچے سب بچوں کے ساتھ مل کر نہیں چل سکتے ہیں تو اس لیے الگ کردیا گیا پرائیویٹ سکول بھی چند بڑے ناموں کے علاوہ اکا دکا تھے۔ گورنمنٹ سکول میں پڑھانے والے اساتذہ کا معیار کافی بلند تھا انگریزی بھلے 6کلاس سے شروع ہوتی تھی لیکن بچوں کو اچھی خاصی واقفیت تھی اردو بولنا اور صحیح تلفظ سے ادا کرنا خوب جانتے تھے گنتی اردو انگریزی دونوں میں آتی تھی۔ پھر وقت یا ہماری قسمت نے پلٹا کھایا اور ہم ان پرائیویٹ اداروں میں پھنس گئے۔ گورنمنٹ کے اداروں کو جان بوجھ کے تباہ کیا گیا یا ان پر توجہ نہیں دی گئی اور گلی گلی انگلش میڈیم اسکول کے نام پے پانچ پانچ مرلے میں زہنی مریض بنانے کی نرسریاں بنائی گئیں ۔ ان نرسریوں کے خوش نما جملوں نے جہاں والدین کو سحرزدہ کیا وہیں کچھ پڑھے لکھے نوجوان بھی مرعوب ہوئے۔ اب یہ پورے ملک میں جونک کی طرح چمٹ گئے ہیں۔ اب ایک طرف والدین ان بھاری فیسوں کی مد میں پستے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف پسنے والے وہ نوجوان ہیں جو ان اداروں میں کام کرتے ہیں۔ والدین سے فیسیں پوری لی جاتی ہیں جبکہ استحصال اساتذہ اور دوسرے عملے کا کیا جاتا ہے۔ چند ہزار تنخواہ سے سکول کے معیار کو بھی رکھنا ہے جبکہ اپنی ضروریات کو بھی پورا کرنا ہے۔ اس مہنگائی کے دور میں یہ ممکن نہیں رہا ہے۔ اگر کبھی انکے خلاف اواز اٹھائی گئی تو یہ کہہ کر خاموش کروا دیا جاتا ہے کہ لاکھوں نوجوانوں کو روزگار دیا ہوا ہے کیا وہ روزگار مفت دیا ہوا؟

    کیا بچوں سے فیسیں نہیں لی گئیں؟ تعلیم۔ علم جو پیغمبری پیشہ ہے اسے صرف ایک کاروبار بنا دیا جس میں صرف کمائی مالکان کی ہورہی ہے۔ جبکہ بچوں سے پوچھیں تو چند جملے اردو یا انگریزی کے وہ نہیں بول سکتے ہیں تربیت کرنے نہیں دی جاتی بس پالیسی ہے کہ رٹوائے جاؤ کتابی جملے کتابی لفظوں سے زیادہ وہ ایک لفظ نہیں سمجھ سکتے۔ زرا سی ڈانٹ ڈپٹ ہو جائے تو والدین کی شکایات الگ اور سکول انتظامیہ کی الگ ہوتی ہیں اس میں یہ نوجوان طبقہ پس کے رہ گیا ہے۔ رہی سہی کسر قدرتی آفات پورا کردیتی ہیں جیسے ابھی کورونا آیا تو متاثر والدین ہوئے بغیر کلاسز کے فیسیں پوری لیں ان اداروں نے جبکہ اساتذہ اور باقی عملے کو یا تو مکمل فارغ کردیا گیا یا پھر تنخواہوں میں کٹوتیاں کی گئیں۔ اور اب ویکسین نا لگوانے والوں کی تنخواہیں ادھی دی گئیں مگر کوئی نہیں ہے جو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکے۔ اگر ان پانچ پانچ مرلے کی نرسریوں کے بجائے ہنر مندی کی فیکڑیز لگائی جاتیں تو آج یہ ملک اپنی ضروریات کی چیزیں خود بنا رہا ہوتا حکومتیں اپنی سرپرستی میں چلنے والے تعلیمی اداروں پر توجہ دیتی تو ہم بھی جابر بن حیان، عبدل اسلام، نیوٹن پیدا کررہے ہوتے ناکہ رٹاوی نسل۔ اور اب یہ تباہی سکول سے نکل کر کالج اور پھر کالج سے نکل کر یونیورسٹیوں تک پہنچ گئی ہے۔ لوٹ مار کا بازار گرم ہے پرائیویٹ کالج اور یونیورسٹیوں کے فیس پیکجز اور فنکشنز ان پے آنے والے اخراجات نے والدین کی کمر دہری کردی اور اخلاقیات الٹا تباہ ہوئیں۔ پھر گورنمنٹ کے سب کیمپسز کے نام پے الگ لوٹ مار۔ خدارا اس نسل کو بچائیں اس تعلیمی نظام اور پرائیویٹ اداروں سے۔ ان کے ہاتھوں ہونے والے استحصال سے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی حوصلہ شکنی کیجے گورنمنٹ کے اداروں پر توجہ دیجیے لاکھوں میں تنخواہیں اور پھر ساری زندگی پینشنز لینے والوں کو بھی تھوڑا نگاہ میں رکھیے۔ اسی طرح کی رٹاوی اور ذہنی مریض جن میں قوت برداشت زیرو ہے آتی رہی تو مستقبل روشن ہونے کے بجائے تاریک ہوگا۔ ابھی سوچیے ابھی وقت ہے۔
    جزاک اللہ