Baaghi TV

Category: تعلیم

  • خواتین اساتذہ کے مسائل تحریر: آصف گوہر

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
    جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل کو ( یمن ) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانیاں پیدا کرنا، تنگی میں نہ ڈالنا، انہیں خوشخبری سنانا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں اتفاق سے کام کرنا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سر زمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے بتع کہا جاتا ہے اور جَو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے مزر‏.‏ کہا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے
    صحیح بخاری 6124
    مہذب معاشروں میں قوانین اور پالیسیاں عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لئے بنائی جاتیں ہیں اور جن قوانیں میں لچک نہیں ہوتی وہ ٹوٹ جایا کرتے ہیں ۔
    چند روز قبل ماریہ احسان الہی کی ٹویٹ نظر سے گزری نفس مضمون کچھ یوں تھا ۔
    "‏‎میں ایک ایسی ٹیچر کو جانتی ہوں جن کا مس کیریج ہوگیا اپنی جاب کی وجہ سے وہ روزانہ 46 km ایک طرف کا سفر کرتی تھی اسکول کے لیے نتیجتاً انہیں طلاق کا سامنا کرنا پڑا”
    پڑھ کر دل پسیج کر رہ گیا کہ ملازمت ہنستا بستا گھر کے ٹوٹنے کا سبب بنا۔
    ہمارے ہاں ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل بہت زیادہ ہیں ۔جنسی درندوں کی بہتات میں خواتین کا ملازمت کے لئے نکلنا جان جوکھم میں ڈالنےسے کم نہیں ۔
    سرکاری ملازمت والی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ ملازمت کی جگہ کا گھر سے دور ہونا ہے جس کے لئے انہیں روز نوکری پر پہچنے کے لئے کئ کئ میل کا غیر محفوظ سفر کرنا پڑتا ہے۔اکثر خواتین کی شادی دوسرے شہروں میں طے ہونے کے بعد مشکلات اور بڑھ جاتی ہیں پبلک ٹرانسپورٹ پر یا پھر وین لگوا کر ڈیوٹی پر پہچنا پرتا ہے جس سفر کی تھکان کے ساتھ کرائے کی مد میں بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اور ٹرانسفرز کا عمل اتنا پچیدہ اور مشکل ہے کہ بہت ساری خواتین تنگ آکر ملازمت چھوڑ دیتی ہیں جس سے انکو مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ خانگی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔
    پچھلے ماہ روالپنڈی میں ایسی ہی خواتین اساتذہ جنہوں نے سکول گھروں سے کافی دور ہونے کی وجہ سے وین لگوا رکھی تھی ڈیوٹی سے واپسی پر حادثہ کا شکار ہوئیں جن میں سے چار موقع پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں
    اور ایک کا چار سال کا بیٹا بھی جاں بحق ہوگیا۔اور باقی شدید زخمی ہو کر ہسپتال پہنچیں
    موجودہ پنجاب حکومت کے وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں اساتذہ کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے کئ انقلابی اصلاحات متعارف کروائی ہیں ۔ جس میں اساتذہ کے تبادلوں کے نظام کو مکمل ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے اساتذہ گھر بیٹھے اپنی ٹرانسفر کے لئے اپلائی کر سکتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود خواتین اساتذہ کو خواہش کی جگہ ٹرانسفرز کے راہ میں کئ طرح کی رکاوٹیں حائل ہیں سیٹیں خالی نہیں یا وہ اپنے موجودہ سکول میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے اپلائی ہی نہیں کر سکتیں ۔
    میں نے خود پنجاب کے دوردراز شہروں سے ٹرانسفر کے لئے آئی خواتین اساتذہ کو لاہور سیکرٹریٹ میں پریشان حال دیکھا جن کے پاس تعلقات اور تگڑی سفارش ہوتی ہے انکی ایکسٹریم ہارڈشپ کے تحت ٹرانسفر کردی جاتی ہے۔
    وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور ڈاکٹر مراد راس سے التماس ہے کہ
    خواتین اساتذہ کے لئے ٹرانسفرز کے عمل کو مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے اور خواتین اساتذہ کو گھروں کے قریب تعینات کیا جائے ۔اور جواتین اساتذہ کو ویڈ لاک کی بنا پر دوران سروس ایک بار بلارکاوٹ تبادلے کی سہولت فراہم کی جائے۔ اور یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں ہے ہر ڈسٹرکٹس میں اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں خالی پڑی ہیں جن کاچیف ایگزیکٹو آفیسرز کو بخوبی علم ہے ۔
    روزگار کے لئے سو سو کلومیٹر روز کا سفر اذیت ناک ہوتا ہے خانگی زندگی کو برباد کر دیتا ہے۔ اپنے بچے مطلوبہ توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں ۔
    آسانیاں پیدا کریں اور گھروں کو ٹوٹنے سے بچائیں ۔
    @Educarepak

  • تعلیمی سلسلہ اور کورونا کا وار   تحریر:- محمد عبداللہ گِل 

    تعلیمی سلسلہ اور کورونا کا وار  تحریر:- محمد عبداللہ گِل 

    کورونا وائرس کے آنے کے بعد دنیا بھر میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ لوگوں کو نقصان ہوا۔تجارتی مراکز بھی بند رہے،فیکٹریاں،ملز،سرکاری دفاتر الغرض ہر شے کو منجمند کر دیا گیا۔لیکن اگر کسی تاجر کا نقصان ہوا تو وہ وقتی تھا بعد میں وہ منافع کما لے گا،اگر کسی نجی کمپنی یا ادارے میں کام کرنے والے پر کورونا کی وجہ سے مشکل وقت آیا تو وہ بھی گزر گیا اب تو اس پر خوشحالی آ جائے گی اس کا وقت گزر گیا لیکن ان سب سے ماورا ایک ایسا شعبہ ھے جس کو تعلیمی میدان کہا جاتا ھے اس سے وابستہ طلباء کا جو نقصان ہوا اس کی بھرپائی ممکن ہی نہیں ھے۔ملک پاکستان میں جب ہی کورونا کے تناسب میں اضافہ ہوا تو تعلیمی اداروں کو سب سے پہلے بند کیا گیا یقینا میں حسن ظن کو گردانتے ہوئے یہ ہی مان لیتا ہوں طلباء کہ صحت کی وجہ سے اقدام کو اٹھایا گیا۔

    قارئین کرام! آپ دنیا بھر کے کسی بھی ملک کی پالیسی بنانے کا انداز دیکھے گے وہ پاکستان سے مخلتف ہو گا۔جس ملک میں بھی پالیسی کو بنایا جاتا ھے تو اس سے متعلقہ افراد کو اعتماد میں لیا جاتا ھے۔مغربی ممالک میں وہ سروے کرواتے ہیں اور عوامی رائے کو۔مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی کو بناتے ہیں کیونکہ جو پارلیمنٹ کا ممبر ہے وہ عوامی ووٹ بنک کی وجہ سے اسمبلی میں پہنچا ھے  اس کے لیے لازم ھے کہ وہ عوامی رائے کا خیال رکھے۔

    لیکن ملک پاکستان میں طلباء کے حوالے سے جب بھی پالیسی کو بنایا گیا کسی بھی طالب علم سے اس کی رائے نہیں لی گئی کہ طلباء کیا چاہتے ہیں۔جب حالات غیر یقینی ہو تو حکومت کا کام ہوتا ھے کہ وہ عوام کو اعتماد میں لے۔لیکن افسوس صد افسوس لاکھوں روپے لینے والے بیوروکریٹ،تعلیمی دانشور،وزرائے تعلیم عوامی پیسہ سمندر کے پانی کی طرح بہا کر میٹنگز کر کے اب تک ایک ایسی پالیسی نہیں بنا سکے جس سے طلباء راضی ہو۔جب انٹر اور میٹرک کے طلباء کے امتحانات کا معاملہ تھا اس طرح صورتحال غیر یقینی بنا دی گئی کہ طلباء کو اس پر  بھی شک تھا کہ کل پرچہ ہو گا یا نہیں۔پھر جب طلباء احتجاج کے لیے نکلے تو ان کے قائدین کی گرفتاری کی گئی۔اور کہا گیا کہ ہم نے وقت دیا ھے سلیبس بھی شارٹ ہے۔تمام طلباء نے امتحان دیا اب اگر ملک کا لٹریسی ریٹ کم ہوتا ھے تو اس کی ذمہ داری وزرائے تعلیم کو لینی چاہیے کیونکہ پاکستان میں آدھے سے زیادہ آبادی کے پاس تو انٹرنیٹ کنیکشن ہی نہیں ھے اور ملک کے کسی بھی حصے میں سگنل مکمل نہیں ہوتے۔اور آن لائن کلاسز کا تو سب کو ہی پتہ ھے کہ کیا تماشہ بنایا گیا تعلیم کا۔میرا ایک دوست مجھے یہ واقعہ بتا رہا تھا کہ اس کے والد کو زوم ایپ چلانا ہی نہیں آتا تھا۔وہ وقت طلباء نے جیسے تیسے نکال لیا لیکن اب جب میڈیکل کے طلباء انٹری ٹیسٹ جس کو ایم ڈی کیٹ بھی کہا جاتا ھے اس کی تیاری کے لیے آئے تو PMC کے سلیبس میں وہ سارے ٹاپک شامل ہیں جو کہ وزارت تعلیم نے مختصر سلیبس میں سے نکالے تھے۔ظاہری سی بات ھے اساتذہ نے اس کی تیاری بھی نہیں کروائی ہو گی اب وزارت تعلیم کی نااہلی یہ ہے کہ ٹیسٹ اسی تاریخ سے ہی ہورہے ہیں لیکن اکیڈمیز کو بند کر دیا گیا ھے اب جن طلباء نے جو ایک ٹاپک پڑھا ہی نہیں اب بھی وہ نہیں پڑھ رہے تو اس کا PMC ٹیسٹ کس بنیاد پر لے رہی ھے۔یہ سراسر طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہیں والدین نے تو اکیڈمیز کی ہزاروں میں فیسیں بھی بھر دی ھے جب طلباء فیل ہو گے تو اس کا ذمہ دار بھی وزیر تعلیم ہو گا۔اب تک جو رزلٹ آیا ھے انٹری ٹیسٹ کا اس کے مطابق آدھے سے زیادہ بچے فیل ہوئے اس کی وجہ ایک ہی ھے کہ آن لائن کلاسز میں رٹہ تو لگ سکتا ہے لیکن استاد بچے کو Conceptual

    سٹڈی نہیں کروا سکتا جبکہ انٹری ٹیسٹ میں تو رٹہ سسٹم کامیاب ہی نہیں  ہوتا جس کی وجہ سے وہ فیل ہو گے ہیں اور اس کہ ذمہ دار حکومت وقت ھے چنانچہ سب سے پہلے خ

    وزیراعظم پاکستان کو وزرائے تعلیم کو ہدایت کرنی چاہیے کہ طلباء کو اعتماد میں لے پھر ان کے حوالے سے پالیسی بنائے تاکہ طلباء کو اس کا فائدہ پہنچے 

    واسلام 

    @ABGILL_1

  • علم ایک طاقت ہے تحریر: عاصمہ قریشی

    علم ایک طاقت ہے تحریر: عاصمہ قریشی

     اس جملے کے مختلف ورژن ثقافتوں کیساتھ زمانے بھر میں موجود ہے۔ 10 ویں صدی میں فقرہ کی تاریخ کے پہلے ورژن، جیسے نہج البلاگہ میں:

     "علم طاقت ہے اور یہ اطاعت کا حکم دے سکتا ہے،”

     یا پھر فارسی شاعر فردوسی کے الفاظ:

     "قابل وہ ہے جو عقلمند ہے۔”

     بائبل کتاب میں ایک عبرانی جملہ ہے جس کا تقریبا ایک ہی ترجمہ کیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر لاطینی میں سب سے پہلے:

     "ور ساپاانس اٹ فورٹاس ایسٹ اٹ ور دوکٹوس روبسٹوس اٹ والادو،”

     اور پھر انگریزی بادشاہ جیمز بائبل مثال کے طور پر:

     "ایک عقلمند آدمی مضبوط ہے، علم آدمی کی طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔”

     علم طاقت کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو اس علم کا استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگی پر تعلیم اور مکمل کنٹرول ہے. تعلیم یافتہ افراد زندگی میں چیزوں کو آسانی سے سنبھال سکتے ہیں۔ علم سب سے مضبوط ذریعہ ہے جو لوگوں کو طاقت فراہم کرتا ہے اور علم کو زمین پر کسی اور طاقت سے شکست نہیں دی جاسکتی ہے۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ، علم ایک ایسے شخص کو طاقت دیتا ہے جو اپنے حقوق کی جنگ لڑتا ہے اور دنیا کا مقابلہ کرتا ہے۔ علم نے انسان اور جانور میں فرق پیدا کیا ہے۔ انسانوں کا جسمانی طاقت میں جانوروں سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا لیکن، انسان صرف علم کی طاقت کی وجہ سے زمین پر سب سے طاقتور مخلوق رہا ہے۔ انسان جسمانی طاقت میں جانوروں سے کمزور ہے. انسان علم سے قوت حاصل کرتا ہے اور جسمانی قوت پر انحصار نہیں کرتا۔ انسان زمین پر بہت تیز اور سمجھ دار مخلوق ہے کیونکہ وہ اپنے علم، تحقیق اور تجربات سے دنیا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    علم انسان کو یہ جاننے کی طاقت دیتا ہے کہ فطرت کی قوتوں کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے اور فوائد حاصل کرنے کے لئے ان کا استعمال کرنا ہے۔ علم حاصل کرنا ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے۔ علم کے ذریعے ہم صحیح اور غلط، اچھا یا برا کے درمیان فرق کرنے کے قابل ہیں۔ علم ہماری مستقبل کی منصوبہ بندی میں ہماری مدد کرتا ہے اور ہمیں صحیح راستے پر گامزن کرتا ہے۔ اس سے ہمیں اپنی کمزوریوں، غلطیوں پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنے اور ان پر جلد از جلد قابو پانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ علم انسان کو زندگی میں ذہنی اور اخلاقی ترقی دے کر زیادہ طاقتور بناتا ہے۔ معاشرے اور ملک میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لئے علم ایک نہایت اہم ذریعہ ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ علم ہی کامیابی اور خوشی کا ستون ہے۔ اس لیے ہمیں علم حاصل کرنا چاہیے اور ایمانداری سے کام کرنا چاہیے اور اپنے معاشرے کو برائی سے بچانا چاہیے مختصر یہ کہ علم لوگوں کو لڑائی جھگڑوں اور دیگر معاشرتی برائیوں سے دور رکھ کر معاشرے میں امن قائم رکھتا ہے۔

    سیاہ طرز میموری مٹانے والا چھڑی قسم کی صورتحال میں ایک مرد کی کمی، میں ایسی صورتحال کا تصور نہیں کرسکتا جہاں کوئی آپ سے آپ کا علم لے سکے۔

     یہاں تک کہ اگر باقی سب کچھ آپ سے، اپنے مال، آپ کی سماجی حیثیت، یا آپ کی صحت کی طرح لیا گیا تھا -آپ اب بھی آپ کو آپ کو یاد کرنے کا انتظام کر سکتے ہیں کہ سیکھا ہے تمام معلومات پڑے گا۔

    دراصل، اگر آپ نے اس طرح کے بدترین صورت حال کو برداشت کیا تو آپ شاید اس سے زیادہ علم کے ساتھ ختم ہوجائیں گے۔ حکمت بھی، یقینی طور پر۔ جو مجھے میرے اگلے نکتے پر لاتا ہے:

     یہ بہترین چاندی کی پرت ہے

     اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کی زندگی میں مکمل طور پر پاگل گڑبڑ چیزیں کم ہوجاتی ہیں، آپ تجربے کے لئے سمجھدار ہوں گے۔

     اگر اس مخصوص لمحے میں چیزیں خوفناک ہیں تو، آپ کم از کم اس حقیقت میں راحت حاصل کرسکتے ہیں کہ آپ کو یہ تسلی انعام کے طور پر ہوگی۔ کبھی کبھی یہ بھی اس سے زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے کے لئے بھی جاتا ہے -صرف ایک خلاصہ زندگی میں شرکت کی ٹرافی کے بجائے کچھ حد تک مفید ہے.

    آپ کو یہ معلوم کرنا ختم ہوسکتا ہے کہ آپ نے جو کچھ سیکھا وہ اس سے کہیں زیادہ قیمتی تھا جس کے بارے میں آپ نے سوچا کہ آپ کھو گئے ہیں، یا فیصلہ کریں کہ آپ جو بھی تکلیف سے گزرے وہ اس کے قابل تھا جس کے بارے میں آپ کو اپنے بارے میں یا زندگی کے بارے میں معلوم ہوا۔

     یہ ہمیں آزاد کرتا ہے

     علم ہمیں دنیا میں زندہ رہنے اور پنپنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ یہ آزادی ہے، اور آپ کے اندر آزادی کے بغیر حقیقی طاقت نہیں ہے.

    مزید علم ہمیں بہتر طور پر فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے، نیز اس منطقی اور اخلاقی بنیادوں کا فیصلہ کرنا ہے جس پر ہم اپنے فیصلے کر رہے ہیں۔

     علم اور حکمت ہمیں بہتر انتخاب کرنے میں مدد کرتی ہے. جب ہم بہتر انتخاب کرتے ہیں تو ہم خود کا زیادہ احترام کرتے ہیں، اور جب ہم خود کا زیادہ احترام کرتے ہیں تو، ہم بہتر انتخاب جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ سائیکل طاقتور ہے۔

     جب یہ واضح ہوجائے کہ ہم اپنی عزت کرتے ہیں تو دوسرے بھی ہماری زیادہ عزت کرنے آتے ہیں جو بے حد طاقتور بھی ہے۔

     اس بات سے انکار نہیں ہے کہ علم طاقت ہے -لیکن یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے

     بڑی طاقت کے ساتھ بڑی ذمہ داری آتی ہے.

     کبھی بھی سیکھنے سے باز نہ آئیں، اور اپنی طاقتوں کو اچھے کام کے لئے استعمال کرنا یاد رکھیں۔

    Twitter ID: ‎@AQsmt2

  • ہمارے معاشرے میں تعلیم کی اہمیت   تحریر زاہد کبدانی

    ہمارے معاشرے میں تعلیم کی اہمیت تحریر زاہد کبدانی

    یہ کہنا کہ تعلیم اہم ہے ایک چھوٹی سی بات ہے۔ تعلیم کسی کی زندگی کو بہتر بنانے کا ہتھیار ہے۔ یہ شاید کسی کی زندگی بدلنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ بچے کی تعلیم گھر سے شروع ہوتی ہے۔ یہ زندگی بھر کا عمل ہے جو موت کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ تعلیم یقینی طور پر کسی فرد کی زندگی کے معیار کا تعین کرتی ہے۔ تعلیم کسی کے علم ، مہارت کو بہتر بناتی ہے اور شخصیت اور رویہ کو ترقی دیتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ تعلیم لوگوں کے روزگار کے مواقع کو متاثر کرتی ہے۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کو شاید اچھی ملازمت ملنے کا امکان ہے۔ تعلیم کی اہمیت پر اس مضمون میں ، ہم آپ کو زندگی اور معاشرے میں تعلیم کی اہمیت کے بارے میں بتائیں گے۔

    سب سے پہلے ، تعلیم پڑھنے لکھنے کی صلاحیت سکھاتی ہے۔ پڑھنا اور لکھنا تعلیم کا پہلا قدم ہے۔ زیادہ تر معلومات لکھ کر کی جاتی ہیں۔ لہذا ، لکھنے کی مہارت کی کمی کا مطلب ہے کہ بہت سی معلومات سے محروم رہنا۔ اس کے نتیجے میں تعلیم لوگوں کو خواندہ بناتی ہے۔

    سب سے بڑھ کر ، روزگار کے لیے تعلیم انتہائی ضروری ہے۔ یہ یقینی طور پر مہذب زندگی گزارنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ یہ ایک اعلی تنخواہ والی ملازمت کی مہارت کی وجہ سے ہے جو تعلیم فراہم کرتی ہے۔ جب تعلیم کی بات آتی ہے تو غیر تعلیم یافتہ لوگ بہت بڑے نقصان میں ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت سے غریب لوگ تعلیم کی مدد سے اپنی زندگی کو بہتر بناتے ہیں۔

    بہتر مواصلات تعلیم میں ایک اور کردار ہے۔ تعلیم انسان کی تقریر کو بہتر اور بہتر بناتی ہے۔ مزید برآں ، افراد تعلیم کے ساتھ رابطے کے دوسرے ذرائع کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

    تعلیم ایک فرد کو ٹیکنالوجی کا بہتر صارف بناتی ہے۔ تعلیم یقینی طور پر ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے ضروری تکنیکی مہارت فراہم کرتی ہے۔ لہذا ، تعلیم کے بغیر ، جدید مشینوں کو سنبھالنا شاید مشکل ہوگا۔

    لوگ تعلیم کی مدد سے زیادہ بالغ ہو جاتے ہیں۔ نفاست تعلیم یافتہ لوگوں کی زندگی میں داخل ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر ، تعلیم افراد کو نظم و ضبط کی قدر سکھاتی ہے۔ پڑھے لکھے لوگ بھی وقت کی قدر کو زیادہ سمجھتے ہیں۔ پڑھے لکھے لوگوں کے لیے وقت پیسے کے برابر ہے۔

    آخر میں ، تعلیم افراد کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے خیالات کا موثر انداز میں اظہار کر سکیں۔ تعلیم یافتہ افراد اپنی رائے کو واضح انداز میں بیان کر سکتے ہیں۔ لہذا ، پڑھے لکھے لوگ لوگوں کو اپنے نقطہ نظر پر قائل کرنے کا امکان رکھتے ہیں۔

    معاشرے میں تعلیم 

    سب سے پہلے ، تعلیم معاشرے میں علم پھیلانے میں مدد دیتی ہے۔ یہ شاید تعلیم کا سب سے قابل ذکر پہلو ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرے میں علم کی تیزی سے تبلیغ ہوتی ہے۔ مزید برآں ، تعلیم کے ذریعہ نسل سے دوسری نسل میں علم کی منتقلی ہوتی ہے۔

    تعلیم ٹیکنالوجی کی ترقی اور اختراع میں مدد دیتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ تعلیم جتنی زیادہ ہو گی اتنا ہی ٹیکنالوجی پھیلے گی۔ جنگی سازوسامان ، ادویات ، کمپیوٹرز میں اہم پیش رفت تعلیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    نتیجہ

    تعلیم اندھیرے میں روشنی کی کرن ہے۔ یہ یقینی طور پر اچھی زندگی کی امید ہے۔ تعلیم اس سیارے پر ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس حق سے انکار کرنا برائی ہے۔ ان پڑھ نوجوان انسانیت کے لیے بدترین چیز ہے۔ سب سے بڑھ کر ، تمام ممالک کی حکومتوں کو تعلیم کو پھیلانا یقینی بنانا چاہیے۔

    @Z_Kubdani

  • پرائیویٹ اسکولز کا تعلیمی نظام (ایک کاروبار)  تحریر فرقان اسلم

    پرائیویٹ اسکولز کا تعلیمی نظام (ایک کاروبار)  تحریر فرقان اسلم

    "علم ایک لازوال دولت ہے”

    ہمارے مذہب اسلام میں تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ اس لیے کوئی بھی ذی شعور انسان تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ اسی بِنا پر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ معیاری تعلیم حاصل کرے۔ اب مسلہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کو کس تعلیمی ادارے میں داخل کروایا جائے۔ دو طرح کے تعلیمی ادارے ہوتے ہیں سرکاری تعلیمی ادارے اور پرائیویٹ (نجی) تعلیمی ادارے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی سرپرستی حکومت کرتی ہیں لیکن پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا کوئی خاص سرپرست نہیں ہوتا ملی بھگت سے کام چلتا ہے۔ چند پرائیویٹ ادارے اچھے بھی ہوتے ہیں۔ 

    ہمارے معاشرے میں اکثر والدین سرکاری اسکولز سے متنفر نظر آتے ہیں بعض کا ماننا ہے کہ سرکاری اداروں میں سہولیات کا فقدان ہے اور معیار کی کمی ہے۔ اسی اثنا میں وہ پرائیویٹ مافیا کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابلِ غور ہے کہ چند پرائیویٹ اسکولز تعلیمی معیار پر پورا اترتے ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن نام نہاد پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار ہے جن کا معیارِ تعلیم انتہائی ناقص ہے بلکہ وہ تعلیم کے نام پر کاروبار کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پرائیویٹ اسکولز ہیں جبکہ بہت سے ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔ یہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ اور ہماری عوام بھی انجانے میں ان کے دھندے کا شکار ہورہی ہے۔

    اگر دیکھا جائے تو بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے مگر میں دو اہم مسائل پر بات کرنا چاہوں گا۔

    من مانی فیسیوں کا مطالبہ: 

    پرائیویٹ اسکولز طلبہ اور انکے والدین کو مختلف حیلے بہانوں سے لوٹتے ہیں لیکن سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہر ماہ کے شروع میں والدین کو فیسوں کے نام پہ ہزاروں روپے اسکولز میں جمع کروانے ہوتے ہیں تا کہ انکے بچے تعلیم کی روشنی سے بہرہ مند ہو سکیں۔ چاہے کوئی امیر ہے یا غریب ہے لیکن فیس ہر صورت جمع کروانی ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں ہر سال اضافہ ہونا بھی کوئی نئی بات نہیں۔ پیپر فنڈ اور پیپر کی شیٹوں کے پیسے الگ سے لیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک پیپر کی فوٹوکاپی پر دو یا تین روپے خرچ آتا ہے لیکن پیپر فنڈ ہزاروں میں لیتے ہیں۔

    سٹیشنری کا سامان : 

    اگر آپکا بچہ کسی مہنگے سکول میں زیرِ تعلیم ہے تو صرف ماہانہ فیس کے ساتھ ساتھ اسکول کے پرنٹڈ مونوگرام والی کاپیاں، کتابیں اور دیگر سٹیشنری کا سامان خریدنا بھی آپکی ذمہ داری ہے۔ جس کاپی کی قیمت باہر 30 روپے ہو یہاں پر یہ دوگنا قیمت پر ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کتابیں، یونیفارم اور دیگر سامان بھی انتہائی مہنگے داموں بیچتے ہیں اگر اس کو کاروبار کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ اگر پرائیویٹ اسکولز کا بس چلے تو یہ اس بات کو بھی لازم کردیں کہ آپ کا بچہ جس آٹے کی روٹی کھاتا ہے وہ بھی ہمارے اسکول سے لیا جائے تاکہ اس کی نشوونما بہترین ہوسکے۔

    مکتب نہیں دوکان ہے، بیوپار ہے

    مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے

    ان مسائل کا سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے خلاف ایک موثر ایکشن لیا جائے تاکہ ان کی من مانی بند ہوسکے۔ پرائیویٹ اسکولز انتظامیہ ملی بھگت کرکے اپنا دھندہ چلا رہی ہے جس کا شکار بے چارے سادہ لوح عوام بن رہے ہیں۔ دوسرے ممالک میں پرائیویٹ اسکولوں کا نظام ہم سے کئی گنا بہتر ہے۔ وہاں ہر چیز کا چیک اینڈ بیلنس ہے۔ اگر کوئی اسکول زیادہ فیس وصول کرے یا ان کا معیار اچھا نہ ہو تو فوراً بند کردیا جاتا ہے بلکہ بھاری جرمانہ بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن وطنِ عزیز میں نظام اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسی وجہ سے آج ہم تعلیمی میدان میں بہت سے ممالک سے پیچھے ہیں۔ لٰہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائیویٹ اسکول مافیا کو بے نقاب کیا جائے اور تعلیم کی آڑ میں کاروبار کرنے والوں اور قوم کے معماروں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

    یہاں پر ایک بات ذکر کرتا چلوں کہ چند نجی اسکول ایسے بھی ہیں جن کا معیار تعلیم بہت اچھا ہے مگر ایسے ادارے بہت کم ہیں۔ زیادہ تر لوگ ان کی فیس ادا نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے ان کا ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اور تمام طلباء کے لیے یکساں تعلیم کی فراہمی ناممکن ہوجاتی ہے۔

    والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور بلاوجہ سرکاری تعلیمی اداروں پر تنقید نہ کریں کیونکہ وہ بھی عوام کی بھلائی اور آسانی کے لیے تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ہماری زیادہ تر آبادی مڈل کلاس ہے اس لیے وہ پرائیویٹ اسکولز کی فیس ادا نہیں کرسکتے اس لیے وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولز میں داخل کروا دیتے ہیں۔ اللّٰہ پاک وطنِ عزیز کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں ہم سب کی مدد فرمائے۔۔۔آمین

    @RanaFurqan313

  • انگلش ۔دوست یا دشمن تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    ہم پی آئ اے کی فلائیٹ پر چھ لوگ محو سفر تھے،

    یہ فلائیٹ اسلام آباد سے ابو ظہبی جا رہی تھی،

    ہم 6لوگوں کاتعلق ایک ہی شہر سے تھا۔

    اتفاق سے ہم ایک ہی کمپنی کے ورک ویزوں پر وہاں جا رہے تھے۔

    مزید اتفاق یہ کہ ہم سب کا جاب بھی ایک ہی تھا۔

    ہم سب قدرے گھبراۓ ہوۓ بھی تھے کہ نہ جانے وہاں پہنچ کر ہم کلک کر پائیں گے یا نہیں؟

    ہمارے اس گروپ میں ہم سب کی فنی تعلیم تو برابر تھی۔

    مگر تجربے کے لحاظ سے میں اُن سب سےپیچھے تھا۔

    میرا کام کا تجربہ اُن سب سے کم تھا۔

    اس لحاظ سے میری گھبراہٹ کا ان سے زیادہ ہونا فطری تھا۔

    یہ چیز مجھے مسلسل پریشان کیے جا رہی تھی۔

    پورے سفر میں طرح طرح کے خیالات آتے رہے،

    کیونکہ ایک تو ویزہ بہت مہنگا خریدا تھا تو دوسرا فیملی کی بہت زیادہ توقعات بھی ہم سب سے وابستہ تھیں۔

    شام کے وقت ہم جونہی ابوظہبی 

    ائیر پورٹ پر لینڈ ہوۓ تو دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہو گئیں کہ اب نجانے کیا ہو؟

    نہ جانے کن حالات سے گزرنا پڑے؟

    ائیر پورٹ سے لینے ہمارا ایک مشترکہ دوست آیا ہوا تھا۔

    اُسکی لش پش کرتی نئی گاڑی،

    ہاتھ میں گولڈ لیف کا سگریٹ اور آنکھوں میں رے بین کا چشمہ دیکھ کر ہم سب کے دلوں میں بھی حسرت جاگی کہ نہ جانے کتنے کٹھن مرحلوں کے بعد ہم بھی اسی طرح کی شان وشوکت کے حامل ہوں گے؟

    مگر ابھی کہاں؟

    ابھی تو عشق کے کئی امتحاں باقی تھے۔

    دوست کی رہاشگاہ پررات جیسے تیسے کروٹیں بدلتے گزری۔

    اگلی صبح اُٹھ کر بے دلی سے ناشتہ زہر مار کیا،

    کیونکہ مستقبل کو لیکر زہنی طور پر 

    بے یقینی کی سے کیفیت تھی۔

    جس کے باعث کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا!

    اگلی صبح کپنی کے ہیڈ آفس گئے تو انہوں نے میڈیکل وغیرہ کے لئے ایک دن بعد آنے کو کہا،

    یوں کرتے کراتے چند دنوں بعد ہمیں ایک ورک سائیٹ پر جانے کا پروانہ تھما دیا گیا۔

    کمپنی ڈرائیور کے ہمراہ ہم سب دوست متحدہ عرب امارات کے شہر العین جا پہنچے،

    جہاں پہ ہمارا پراجیکٹ تھا۔

    مجھے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک شاکر نامی شخص کے کمرے میں رکھا گیا۔

    شاکر بھائ انتہائ ملنسار اور تعاون کرنے والے شخص تھے۔

    اُن کے ساتھ ٹائم کافی اچھا گزرا۔

    اگلی صبح ہمیں بس کے زریعے پراجیکٹ کے سائیٹ آفس پہنچایا گیا،جہاں ہماری ملاقات ہمارے فلسطینی پراجیکٹ مینیجر انجینئر فتحی سے کروائ گئی۔

    انجینئر فتحی پہلی ہی ملاقات میں کافی سخت آدمی لگا۔

    اُس نے ملاقات کے شروع ہی میں بتا دیا کہ ہمارا اس پراجیکٹ پر رہنا کنسلٹنٹ کمپنی کے ریذیڈینٹ انجینئر مصر سے تعلق رکھنے والے امریکن  پاسپورٹ ہولڈراللہ دین میکاوی کے انٹرویو پر انحصار کرے گا!

    یہ سُنتے ہی تقریبا” ہم سب ہی کے اوسان خطا ہو گئے کہ پتہ نہیں اس انٹرویو میں کیا پوچھا جاۓ گا؟

    پتہ نہیں کتنے مشکل سوالات ہوں گے؟

    یہ سب باتیں ہمیں اگلی صبح تک مضطرب رکھنے کے لئے کافی تھیں۔

    رات رہائشی کیمپ میں واپسی پر شاکر بھائ سے اس انٹرویو کی بابت استفسار کیا،

    مگر انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ آئیڈیا نہیں کہ انٹرویو کیسا ہو گا؟

    کیونکہ بقول شاکر بھائ کے۔

    یہ انٹرویوز کا سلسلہ ابھی ہی شروع ہوا ہے۔

    پہلے تو بغیر انٹرویو کے ہی ڈیوٹی پر لگا دیا جاتا تھا۔

    یہ سُن کر اپنی قسمت پر اور زیادہ افسوس ہونے لگا کہ

    یااللہ ہم سے کونسی غلطی ہوئ ہے کہ جب ہم نے آنا تھا تو انٹرویو پروگرام بھی شروع ہونا تھا۔

    کاش ہم بھی اسی وقت آجاتے جب بغیر انٹرویوزکے نیا پار چڑھ جاتی تھی۔

    مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا،

    سواۓ انٹرویو والی پُل صراط سے گزرنے کے۔

    انٹرویو سے پہلی والی اس رات ہم سب دوستوں نے ڈائریاں کھول کر کچھ نوٹس اور تھیوری و فارمولوں وغیرہ کا مطالعہ کیا مگر شومئی قسمت کہ انٹرویو کے پریشر کے باعث کچھ نیا زہن میں جانے کے بجاۓ پرانا بھی نکلتا محسوس ہوا۔

    خیر کُفر ٹوٹا خدا خدا کر کے،

    بالاخر انٹرویو کی فیصلہ کُن گھڑی آن پہنچی۔

    انٹرویو کے لئے ہم سب کو باری باری اسی کنسلٹنٹ ریذیڈینٹ انجینئر اللہ دین میکاوی کے کمرے میں بھیجا گیا۔

    میری باری پر جونہی میں کمرہ میں داخل ہوا تو سلام دعا کے فورا” بعد میکاوی سر نے مجھے کہا کہ 

    :لگتا ہے مسٹر بخاری کہ آپ کی نیند پوری نہیں ہوئ؟

    یہ سُن کر میرے تو جیسے ہاتھوں کے طوطے ہی اُڑ گئے،

    مجھے لگا کہ یہ بندہ بڑا تیز ہے،

    اس نے میری ہڑبڑاہٹ ہی سے اندازہ لگا لیا ہے کہ مجھ میں تجربے کی کمی ہے۔

    خیر جوں توں کر کے یہ ایک گھنٹہ طویل انٹرویو اختتام پزیر ہوا۔

    انٹرویو کے دوران میکاوی سر نے مجھے دس منٹ کا چاۓ پینے کے لئے وقفہ دیا تو میں نے سُکھ کا سانس لیا۔

    ان غنیمت دس منٹوں میں چاۓ کا تو حلق سے اترنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا،

    تاہم اس وقت کو میں نے اپنی سانسیں بحال کرنے اور چہرے پر تھوڑا بہت اعتماد بحال کرنے کے لیے صرف کیا۔

    دس منٹ کے وقفے کے بعد جب میں دوبارہ انٹرویو کے لئے کمرے میں گیا تو میری کیفیت کچھ اچھی تھی،کیونکہ انٹرویو کے پہلے مرحلے میں مجھے کچھ ان جانا سا حوصلہ ملا تھا۔

    میرے بعد ہم سب چھ کے چھ دوستوں کے انٹرویو مکمل کراۓ گئے۔

    انٹرویو کے خاتمے کے بعد میکاوی سر نے ہم سب کو کہا کہ اب تم چلے جاؤ اور اپنی اپنی نیند پوری کرو۔

    میں کل تک انٹرویو کے رزلٹس سے آپ کے پراجیکٹ مینیجر کو آگاہ کر دوں گا۔

    ہم سب شکریہ ادا کر کے ایکبار پھر کمپنی کیمپ میں واپس آگئے۔

    اگلی رات ہم سب کے لئے پچھلی راتوں سے بھی بھاری تھی،

    کیونکہ اگلے دن ہماری قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔

    اگلی صبح ہم سب کے کیرئر کے لئے بہت ہی اہم تھی۔

    بس یوں سمجھیے کہ یہ رات بھی کانٹوں پر ہی گزری،

    نیند تو جیسے کوسوں دور تھی۔

    کروٹیں بدلتے بدلتے رات گزری اور صبح پھر ہم سائیٹ آفس جا پہنچے۔

    کچھ دیر انتظار کے بعد ہمیں ہمارے پی ایم نے اپنے دفتر بُلایا اور انٹرویوز کے رزلٹ کے بارے میں بتاتے ہوۓ ہوۓ جو انکشاف کیا،

    وہ سواۓ میرے ،

    باقی سب کے لئے بہت ہی شاکنگ تھا۔

    میکاوی سر نے صرف مجھے کامیاب قرار دیا تھا،

    کیونکہ بقول اُن کے،

    میں ان کے سوالوں کے زبانی اور تحریری جواب دینے میں کافی حد تک کامیاب رہا تھا۔

    اگرچہ ان میں پچاس فیصد جواب تو غلط تھے مگر میں ان کے سوالوں کے جواب میں بے تکان بولتا رہا اور جب انہوں نے لکھنے کا کہا تو میں لکھنے میں بھی کامیاب رہا۔

    بتاتا چلوں کہ ہمارے یہ انٹرویوز انگلش زبان میں تھے۔

    اور میری اکیڈمک کوالیفیکیشن دوسرے دوستوں سے زیادہ ہونے کی وجہ سے انگلش میں جواب دیتے وقت کچھ زیادہ پریشانی نہیں ہوئ۔

    جبکہ باقی دوستوں کا ہاتھ انگلش میں بہت تنگ تھا،

    جیسا کہ ہم میں سے اکثر پاکستانیوں کے ساتھ یہ مشکل رہتی ہے۔

    وہ  سب میکاوی سر کے زیادہ تر سوالات اس وجہ سے سمجھ ہی نہیں پاۓ کیونکہ یہ سوالات انگریزی زبان میں پوچھے گئے تھے۔

    میرا فیلڈ کا تجربہ اُن سب سے کم تھا،

    ٹیکنیکی طور پروہ سب مجھ سے اچھے پروفیشنل تھے۔

    مگر کمزور انگلش کی وجہ سے مار کھا گئے۔

    انٹرویو کی ناکامی سے میرے اُن دوستوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،

    کیونکہ پہلے تین مہینے ہم سب کا پروبیشن پیریڈ چل رہا تھا،

    جس میں کمپنی کے پاس ورکرز کو اپنی توقعات پر پورا نہ اترنے کے باعث تادیبی کاروائ کااختیار ہوتاہے۔

    میرے ان دوستوں کے پیکیج بھی تبدیل کئے گئے،

    انکی تنخواہوں میں چالیس فیصد تک کمی کر کے دوسری سائیٹ پر ٹرانسفر کر دیا گیا۔وہاں بھی انکی مشکلات کم نہ ہوسکیں اور وہ لمبا عرصہ جدوجہد میں رہے۔

    میں انگلش پر قدرے عبور اور اپنی خوش قسمتی سے اکیلا آدمی تھا،

    جو اسی پراجیکٹ پر سروائیو کر گیا،

    جس کے لئے ہمیں پاکستان سے لایا گیا تھا۔

    میں تقریبا” پراجیکٹ کے اختتام تک وہیں رہا اور الحمدللہ پراجیکٹ کی  کامیاب تکمیل میں بھرپور حصہ ڈالا۔

    اس زاتی تجربے اور مشاہدے کو آپ کے گوش گزارنے پر مجھے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے اس بیان نےمجبور کیا،جس میں انہوں نے چند روزانگلش زبان کے بارے میں کچھ ناپسندیدگی کا تاثر دیا۔

    مجھے وزیر اعظم کے اس بیان سے جزوی طور پر اختلاف ہے،

    ہم انگلش سے دور نہیں رہ سکتے،

    ایسا کرنے سے ہم دنیا سے دور ہو جائیں گے،

    انگلش بیرون ملک خصوصا” گلف میں نوکریوں کے لئے اہم ترین ٹُول ہے۔

    اس پر عبور حاصل کرنا بہت اہم اور ضروری ہے،

    ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم جو کہنا چاہ رہے ہوں،

    ہم ان کی بات اس تناظر میں سمجھ نہ پاۓ ہوں۔

    تاہم ہو سکتاہے کہ عمران خان کا مدعا یہ ہو کہ انگلش نہ آنے کی وجہ سے اپنے آپ کو احساس کمتری کا شکار نہ ہونے دیں۔

    یہ بات وزن رکھتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنی سوچ کو اتنا ہی اہم سمجھیں،

    جتنا گورے اپنی بات کو سمجھتے ہیں۔

    مگر انگلش ایک انٹرنیشنل زبان ہے،

    اسے سیکھنا ہمارے بچوں کے لئے بہت ضروری ہے۔

    بیرون ملک کام کرنے کے لئے یہ زبان انکی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔

    اسلئے انگلش کی بطور زبان ،

    قدروقیمت سے انکار ممکن ہی نہیں۔

    کیا پتہ آپکی فیلڈ میں ٹیکنیکل تجربے کی کمی کو انگلش زبان دور کر کے اسی طرح قسمت کا دروازہ کھول دے۔

    جس طرح مجھ پر اللہ پاک نے اپنا کرم کیا#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • ابتدائی تعلیم میں مختلف زبانیں سیکھنے کی اہمیت۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    ابتدائی تعلیم میں مختلف زبانیں سیکھنے کی اہمیت۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    کسی بھی تعلیمی نظام میں پہلے بارہ سال اصل میں معاشرہ تعلیم دیتا ہے۔ اس میں ایک قوم اپنا علم، اپنی میراث منتقل کرتی ہے اور وہ ضروری صلاحیت پیدا کرتی ہے تاکہ بچہ جب شعور کی عمر کو پہنچے تو وہ اپنے فیصلے خود کر سکے اور اپنے میدان کے انتخاب میں بھی آسانی محسوس کرے۔ 

    یہ جو بارہ سال کی تعلیم ہوتی ہے اس میں ایک بہت بڑا ٖ فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ بچوں کو زبانیں کون سی پڑھانی ہیں، کیونکہ زبان علم کا دروازہ ہے۔ اس میں بڑے سادہ اصول ہیں، یعنی آپ کو اپنی تعلیم کی ابتدا اپنی زبان سے کرنی چاہیے۔ اپنی زبان کا مطلب ہے وہ جو آپ کی ماں بولتی ہے، وہ جو آپ کے گھر میں بولی جاتی ہے۔ گھر کی اور تعلیم کی زبان کو ابتدا میں بالکل مشترک ہونا چاہیے۔ اس پر دنیا بھر میں اہلِ علم کا اتفاق ہے۔

    ایک بچے کو پہلے ہی مرحلے میں زبانوں کے تصادم میں نہیں ڈال سکتے۔ بچہ اپنی زبان اپنے ماں باپ سے سیکھتا ہے۔ جب وہ ایک زبان سیکھ لیتا ہے تو اُس سے آپ تعلیم کی ابتدا کر لیں۔ اس کے بعد مختلف زبانیں اس کو سکھانی چاہئیں۔ اس میں بھی ایک تدریج رکھی جاتی ہے، یعنی یہ نہیں ہے کہ آپ پہلی جماعت ہی سے بچے کو کسی ایک زبان میں صحت کے ساتھ بولنے یا لکھنے کی تربیت دینے سے پہلے اس کے اندر ایک خلجان پیدا کر دیں ۔ایک تدریج کے ساتھ زبانوں سے تعارف کروایا جاتا ہے۔

    یہ اس اصول پر ہوتا ہے کہ رابطے کی زبان سیکھنی پڑتی ہے۔ رابطے کی زبان بعض اوقات کوئی قومی زبان بن جاتی ہے۔مثال کے طور پر ہمارے ہاں لوگ پشتو بھی بولتے ہیں، سندھ، بلوچی، سرائیکی اور پنجابی بھی بولتے ہیں لیکن ان کے ہاں رابطے کی زبان کی حیثیت اردو کو حاصل ہو چکی ہے۔ اس لیے ہم اردو کو قومی زبان بھی کہتے ہیں۔ رابطےکی زبان سیکھنا بہت ضروری ہے۔

    اس کے بعد آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا اب ایک ویلج بن چکی ہے، دنیا میں مختلف جگہوں پر علوم پیدا ہو رہے ہیں۔ آپ ایک ہی جگہ پر نہیں رہتے بلکہ آپ کو آگے بھی بڑھنا ہوتا ہے، تعلیم کے لیے بھی دوسری جگہوں پر ہجرت کرنی ہوتی ہے تو آپ عالمی سطح پر انتخاب کرتے ہیں کہ رابطے کی زبان کیا ہو سکتی ہے۔

    ہمارے ہاں ایک خاص پسِ منظر کی وجہ سے انگریزی زبان عالمی رابطے کی زبان بن چکی ہے۔ دنیا میں اور بھی بہت سے زبانیں بولی جاتی ہیں، برحال کوئی ایک زبان آپ بین الاقوامی رابطے کی حیثیت سے سیکھتے اور سکھاتے ہیں۔

    آپ کا مذہب اسلام ،ہندومت یا کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کے مذہب کی زبان جس میں آپ کی مذہبی کتاب ہے، مذہبی علم ہے تو وہ بھی کوئی زبان ہو سکتی ہے۔ ہمارے ہاں وہ مذہبی زبان عربی ہے، تو اس وجہ سے عربی زبان سیکھنا بھی ضروری ہے۔ 

    اس میں ایک چیز یہ ہوتی ہے کہ ایک زبان آپ اس مقصد کے لیے سکھاتے ہیں کہ بچہ اس کو بولے گا بھی، اس کو سمجھے گا بھی، پڑھے گا بھی اور لکھے گا بھی۔۔۔۔ جب کہ کچھ زبانیں آپ اس مقصد سے سکھاتے ہیں کہ علوم تک رسائی ہو جائے۔ میرے نزدیک عربی زبان کو اس مقصد کے لیے سکھانا ضروری نہیں ہے کہ لوگ اس کو لکھیں اور بولیں، بلکہ صرف اس کو سمجھ سکیں یہی کافی ہے۔ تاکہ اللہ کی کتاب جس کو وہ ماننے والے ہیں اس کو براہِ راست پڑھ سکیں اور اس کو خود سے سمجھنے کے قابل ہو جائیں۔

    بچوں پر کوئی دباؤ نہ بڑھے اس لیے عربی زبان کا نصاب ہی اس طرح بنانا چاہیے کہ وہ پہلے مرحلے میں بچے کو وہ ضروری چیزیں سکھانے کا باعث بن جائے جو ایک مسلمان بچے کی ہمہ وقت ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی اس نے نماز پڑھنی ہے، کوئی دعا کرنی ہے یا اپنے پیغمبر کی کچھ بتائی ہوئی چیزوں کو دہرانا ہے۔ یہ بہت معمولی چیزیں ہیں اور بچے بہت آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اس کے لیے ریڈر کی حیثیت باتدریج قرآن بن جائے، یہاں تک کہ وہ بارہویں سال تک پہنچتے پہنچتے قرآن مجید پورا کا پورا سمجھ کر پڑھ لے جس طرح ایک انگریزی زبان کا ریڈر پڑھتا ہے۔ یعنی ایک کتاب کی حیثیت سے قرآن سے وابستہ ہوجائے۔

    اور یہ جو باقی چیزیں اسلامیات وغیرہ نصاب میں شامل کر کے بچوں پر بوجھ ڈالا ہوا ہے وہ ختم کر دینی چاہئیں۔ ان سب کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف چیزوں کو علمی طور پر جاننا، تاریخ سے واقف ہونا یا مسلمانوں کی تاریخ سے واقف ہونا یہ سب کچھ بعد میں آدمی کر لے گا۔ تاریخ بھی اگر پڑھانی ہے تو اس کو تاریخ کے طور پر پڑھائیے، اُس کو مذہبی چیز بنا کر نہ پڑھائیے۔

    twitter.com/iamAsadLal

    @iamAsadLal

  • ‏کتابیں پڑھیں ایک اچھی عادات تحریر خالد عمران خان

    ‏کتابیں پڑھیں ایک اچھی عادات تحریر خالد عمران خان

    بعض اوقات ہمیں بہت سی چیزیں سمجھ نہں آرہی ہوتی اور دماغ بہت منتشر سا ہوتا ہے اور آپ کو سمجھ نہں آرہا ہوتا کے کس طرح سے دماغ‏کتابیں پڑھیں ایک اچھی عادات
    تحریر
    خالد عمران خان کو سکون میں لایا جائے تو اس کا ایک آسان طریقہ کوئی اچھی سی کتاب پڑھیں چائیے وہ کلام پاک ہو اِسکا سکون ہی الگ ہے لیکن اس کے علاوہ اگر آپ کہانیوں کی کتابیں پسند کرتے ہیں تو وہ یہ اپنے پسندیدہ مضبون کی کتاب پڑھیں کتاب پڑھا آپکے دماغ کو سکون پنہچاتا ہے۔آزما لیں.

    کتابیں آپکو ہر جگہ مل جاتی ہیں۔ لائبریریاں بڑی اور چھوٹی اور کتابوں کی دکانیں پورے کالج کیمپس اور بڑے شہروں میں آسانی سے ہر طرح کی کتابیں دستیاب ہیں۔ جو لوگ کتابیں پڑھتے ہیں وہ کتابیں تلاش کرنے کے لیے متعدد جگہوں کے بارے میں آپکو بتا بھی دیتے ہیں اچھی کتابیں تلاش کرنا مسئلہ نہں۔ جو لوگ کتابوں کے مداح نہیں ہیں وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کے کتابوں۔ میں ایسا کیا ہے کہ قارئین کو کتابوں کے بارے میں جنون میں مبتلا کرنے کا کیا سبب بن سکتا ہے۔ اگرچہ ان کے جنون کی ایک وجہ ہے۔ آپ اسے ہر وقت سنتے ہیں دوسروں سے سنتے ہیں.

    اگرچہ پڑھنا سادہ تفریح ​​کی طرح لگتا ہے ، لیکن سب سے اچھی بات یہ آپ کے یہ آپ کے جسم اور دماغ کی مدد کر سکتا ہے یہاں تک کہ آپ کو احساس بھی ہو کہ کیا ہو رہا ہے كس طرح سے کتابیں پڑھنا آپکی زندگی پر مثبت اثر ڈال رہا ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر پڑھنا زیادہ اہم ہو سکتا ہے نہ کہ صرف علم۔ وہ لوگ جو کتابیں پڑھنے کی لذت نہں جانتے ایسے لوگوں کے لیے جو پڑھنا پسند نہیں کرتے فوائد کے بارے میں سن کر آپ اپنا خیال بدل سکتے ہیں۔ کیا پڑھنے جیسی آسان اور تفریحی چیز آپ کی زندگی میں اتنی مددگار ثابت ہو سکتی ہے کیا فائدے ہو سکتے آپ کو کتابیں پڑھنے کے؟ یقینا آپکو سمجھ آجائے گی کے کتابیں پڑھنا کتنا اثر رکھتا ہے اور یہ کیا اثر کر سکتا ہے! پڑھنا آپ کے لیے بہت سے مختلف طریقوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے – جیسے آپ کے ذہن ، تخیل اور لکھنے کی مہارت کو تیز کرنا۔ پڑھنے کے بہت سے فوائد کے ساتھ ، کم از کم کچھ پڑھنا روزانہ کا معمول ہونا چاہیے۔
    کتابیں پڑھنا ضروری ہے کیونکہ یہ ہمارے خیالات کو ترقی دیتا ہے ، ہمیں لامتناہی علم اور اسباق دیتا ہے جبکہ ہمارے ذہنوں کو متحرک رکھتا ہے۔ ہم بہت کچھ ان کتابوں سے سیکھتے ھیں وہ ہماری دینی کتابیں ہوں یا دنیاوی کتابیں.
    کتابیں ہمیں بہت کچھ سیکھا تی ہیں ہم اپنے کسی بھی کام میں بہتری لانا چاہتے ہیں اپنے مزاج میں بہتری لانا چاہتے ہیں یہ اِرد گِرد کے لوگو میں تو یہ علم بھی ہیں کتابوں آی حاصل کر سکتے ہیں دین دنیا دونوں کے متعلق ہمیں ان سے معلومات مل جاتی ہے۔ اس دنیا میں کسی بھی چیز کے برعکس ہر قسم کی معلومات ، کہانیاں ، خیالات اور احساسات رکھ سکتی ہیں۔ چیزوں کو سیکھنے اور سمجھنے میں ہماری مدد کے لیے کتاب کی خاصیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔

    پر سکون نیند کے لیے بھی آپ کا کتابیں پڑھنا بہت فائدے مند رہتا ہے اگر آپ سونے سے پہلے کس اچھی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ آپکو کو سونے میں مدد کرتا ہے آپکے خیالات کو بھٹکنے سے روکتا ہے اور آپ ایک پر سکون نیند سو سکتے ہیں آزما کے دیکھیں۔

    Twitter handle
    ‎@KhalidImranK

  • حکومتی عدم توجہ کا شکار آن لائن تعلیم میں درپیش طلبہ کے مسائل ،ازقلم: ملک رمضان اسراء

    حکومتی عدم توجہ کا شکار آن لائن تعلیم میں درپیش طلبہ کے مسائل ،ازقلم: ملک رمضان اسراء

    یقینا آن لائن ذریعہ تعلیم پاکستان جیسے ملک میں کسی بھی طالب علم کی ترجیح نہیں کیونکہ پاکستان ڈیجیٹل ورلڈ کی رینکنگ میں عالمی دنیا سے بہت پیچھے ہے لیکن موجودہ حالات کے اعتبار سے آن لائن ذریعہ تعلیم وقت کی اشد ضرورت ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ اس کو حکومتی سطح پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔ آپ وزیر تعلیم کے بیانات اور عملی کارکردگی دیکھ لیں ان میں کھلا تضاد نظر آتا ہے۔ موصوف خود تو تعلیمی اداروں بارے کورونا وبا کے ڈر سے آن لائن میٹنگز کرتے ہیں لیکن دوسروں کے بچوں کیلئے کورونا وبا میں بھی ان کیمپس تعلیم پر بضد ہوتے ہیں حتکہ انہیں وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے طلبہ اور اساتذہ کے مسائل کو مدنظر رکھ کر اسکا کوئی حل تلاش کرنا چاہئے اور سب سے اہم بات یہ کہ جدید ترین ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرانا چاہیے تاکہ تعلیمی میدان میں بہتری لائی جاسکے۔

    اس کے علاوہ اگر میں ذاتی تجربہ شیئر کروں تو وزارت تعلیم کی طرف سے ہر روز بدلتے فیصلوں سے مجھے ہزاروں روپے کا نقصان ہوا کیوں کہ کورونا کی تیسری لہر میں انتظامیہ نے نئے داخلوں کے وقت عین موقع پر جامعات کھول دی تھیں اور کوئی محض دس دن حاضری کرنے کے بعد اچانک کہا گیا کرونا کیسز بڑھنے کی وجہ سے جامعات بند کرنا پڑ رہی ہیں اور یہ اقدام کرنا حکومت کی مجبوری بھی تھی جسکی اصل وجہ یہ کہ سب سے پہلے کسی بھی چیز سے بڑھ کر اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ انسانی جان کا تحفظ ہے لیکن دانستہ کوتاہی یہ ہوئی کہ علم ہونے کے باوجود کے کورونا زور پر ہے مگر پھر بھی سارے تعلیمی ادارے کھول دیئے اور یوں ہم نے کئی قیمتی جانیں گنوا دیں۔

    اب جب دوبارہ سارا تعلیمی نظام مکمل آن لائن ہوگیا تو مسئلہ یہ تھا کہ جامعات کے اندر کے ہاسٹل، اور ٹرانسپورٹ کا کرایہ تو پہلے سے ہر نئے سمسٹر فیس کے ساتھ ہی جمع کرانا ضروری ہوتا ہے جو آن لائن تعلیم کے باوجود بھی طالب علموں کو واپس نہیں کیا جاتا اور رہی بات ہم جیسے طالب علموں کی جو پرائویٹ ہاسٹلز میں رہتے ہیں تو ہمیں ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو ایڈوانس میں کرایہ ادا کرنا ہوتا ہے اور میں ادا کرچکا تھا کیونکہ مجھے معلوم نہ تھا کہ صرف دس دن کے لیے یونیورسٹی کھل رہی ورنہ میں تیس دن کا کرایہ ادا ہی نہ کرتا لہذا مجھے مجبورا ہاسٹل چھوڑنے کے بجائے اپنا کمرہ ریزرو پر رکھنا پڑا اور کھانے کے پیسے چھوڑ کر باقی مکمل کرایہ ادا کرتا رہا۔ ریزرو پر کمرہ رکھنا میری مجبوری اس لیئے بھی تھا کہ حکومتی فیصلوں میں تضاد تھا کبھی وہ جامعات کھولنے کی کوئی تاریخ دیتے تو کبھی کوئی لہذا نااہل انتظامیہ کا چند ہفتوں کا فیصلہ مہینوں میں بدل گیا اور یوں مجھے خوامخووہ پورے ایک سمسٹر میں ہزاروں روپے کا نقصان اٹھانا پڑگیا۔

    اور یہ صرف میرے ساتھ نہیں ہوا بلکہ میرے جیسے بہت ساروں نے یہ نقصان اٹھایا۔ دوردراز کے طلبہ کو مجبورا بھی کمرہ ریزرو کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ صبح اٹھتے ہی اگلے روز حکومت جامعات کھولنے کا اعلان کردے تو پھر مجھ جیسے طالب علم کیلئے کم وقت میں بروقت اپنی مطابقت کا ہاسٹل ڈھونڈنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اور اسی جھنجٹ سے بچنے کیلئے اکثر طالب علم کمرہ ریزرو پر رکھ لیتے ہیں لہذا وزیر تعلیم شفقت محمود سے درخواست ہے کہ آئیندہ جو بھی لائحہ عمل تیار کریں وہ جامع اور واضح ہو اور اس میں تضاد نہ ہو کیونکہ اس کنفیوژن کی وجہ سے ہمارے ہزاروں روپے ضائع ہوجاتے ہیں۔ اب فرض کریں اگر حکومت ایسے کنفیوژڈ فیصلے نہ کرتی تو کیا مجھ جیسے غریب خاندان کے طلبہ کا خواہ مخواہ نقصان ہوتا؟ ہرگز نہ ہوتا کیونکہ ہم ذہنی طور پر مکمل تیار ہوتے اور ہزاروں روپے کے نقصان سے بچ جاتے۔

    ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق ادا کرے لیکن پاکستان میں ریاستی ادارے مجھے اپنے باشندوں کے حقوق پورے کرنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں آپ فاٹا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر کے پسماندہ علاقوں کے بارے زرا سوچیں جہاں نہ بجلی ہے اور نہ ہی موبائل سروس اور انٹرنیٹ کی سہولیات کیا طلبہ اور شہریوں کے ان بنیادی حقوق کو فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں؟ اسی طرح ریاست طاقتور طبقہ کو تو مختلف اشیاء پر سبسڈی دیتی ہے لیکن کیا طلبہ کیلئے سمارٹ فونز، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ پر عائد ٹکسز کو معاف نہیں کیا جا سکتا؟ اور غریب طلبہ کیلئے جن کے والدین محنت مزدوری کرتے ہیں یا جنکی آمدنی بیس ہزار سے کم ہے کو لیپ ٹاپ، سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی سہولیات مفت فراہم نہیں کرنی چاہئے؟

    Malik Ramzan Isra is an Islamabad based Pakistani journalist and writer. He is in journalism since 2013 and survived two deadly attacks over his journalistic work. He has worked in different National and International outlets like independenturdu.com, dw.com/urdu, dunyanews.tv & express.pk and currently writing for baaghitv.com He tweets at @MalikRamzanIsra

  • علم وہ شجر ہے جو دل میں اگتا ہے اور زبان پر پھل دیتا ہے۔

    علم وہ شجر ہے جو دل میں اگتا ہے اور زبان پر پھل دیتا ہے۔

    _(حضرت علی ع)_
    اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم انسان میں شعور اجاگر کرتی ہے اور انسان کی اصلاح اور خود شناسی میں مدد کرتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے ایک انسان اپنی وجہ تخلیق کے بارے میں جان پاتا ہے۔ تعلیم اس ستون کی مانند ہے جس کے سہارے چھت کی مضبوطی قائم رہتی ہے اور اگر اس ستون میں شگاف ہو تو وہ چھت زیادہ دیر کے لیے نہیں ٹھہر پاتی اور نست و نابود ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ جن قوموں نے ترقی کی ، انہوں نے تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی۔
    _اسی حوالے سے قائدِ اعظم نے کیا خوب کہا ہے:_
    *”علم تلوار سے بھی زیادہ طاقتور ہے اس لیے علم کو اپنے ملک میں بڑھائیں کوئی آپ کو شکست نہیں دے سکتا۔”*
    پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور پاکستان کے نظریے کو عام عوام کو سمجھانے کے لئے جس قوت نے مدد کی اس عظیم الشان قوت کا نام تعلیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قائدین نے فرد وملت کی ترقی کا دارومدار تعلیم کو دیا اور لوگوں کو غلامی کی زنجیروں سے چھٹکارا دلا کر شاہینوں جیسے کھلی فضا میں اڑنے کی ترغیب دی۔
    اب زرا آج کے پاکستان میں نظر ڈالیے اور سوچئے کہ کیا پاکستان کا نظامِ تعلیم ویسا ہے جیسے ان اقوام کا ہوتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں، یہ لمحہ فکریا ہے کہ ہم اپنے ناقص اور پرانے تعلیمی اصولوں کے باعث آج کہاں کھڑے ہیں اور ہم سے بعد میں وجود آنے والے ممالک ترقی کی کئی منزلیں طے کر چکے ہیں۔
    اب سوال یہ اجاگر ہوتا ہے کہ وجہ کیا ہے؟ کیوں ہم ابھی تک ترقی پذیر ممالک کی صف میں ہیں؟ کیوں ہم اپنے ملک کے معماروں کو وہ نظامِ تعلیم دینے سے کاسر ہیں جو ان کا بنیادی حق ہے۔ اس کی وجہ اور کوئی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم صدیوں پرانے سلیبس کو پڑھا رہے ہیں، ہم سکولوں میں بچوں کو نمبر لانے پر تو بھرپور زور دے کر پیسے کمانے کی مشین تو بنا رہےہیں لیکن ان کی کردار سازی اس طرح نہیں کر رہے کہ وہ مشین کے بجائے قابل بنیں، ہم ڈگریاں تو حاصل کر رہے ہیں لیکن صرف اپنے روزگار کی خاطر، اور ایک وجہ کہ صوبوں میں الگ الگ نظامِ تعلیم کے باعث مشکلات جنم لیتی ہیں۔
    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اول تو ہم یکساں تعلیم کے نظام کو متعارف کروائیں اور پرانے سلیبس کو تبدیل کر کے نئی اور مویسر طرض کے سلیبس کو شامل کیا جائے۔ سب سے اہم یہ کہ بچوں کو دور جدید میں ہونے والی نت نئی ایجادات کے بارے میں بتانے کے لیے باقاعدہ سیشنز کا احتمام کیا جائے تاکہ بچے میں آگے بڑھنے کا جذبہ اجاگر ہو اور دوسرے ملکوں کے ساتھ علم کی دور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ہر بچے کو سکھایا جائے کہ نہ صرف اپنے لیے علم حاصل کرے بلکہ اس پر عمل کے ذریعے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرے۔
    *”علم تمہیں راہ دکھاتا ہے اور عمل تمہیں مقصد تک پہنچاتا ہے۔”*
    اس لیے ضروری ہے کہ جو علم ہم سیکھیں اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں اور نظم و ضبط کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہو کر تاریخ کے پنوں میں امر ہو جائیں۔ اگر ہم پاکستان کو ترقی کی راہوں پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کی اہمیت کو سمجھنا ہو گا ۔ جیسے ہمارے قائد نے کہا کہ *” تعلیم ہماری قوم کے لیے زندگی اور موت کا مسلہ ہے ۔”* لہذا ہمیں آگے بڑھنے کے لیے آپس کے جھگڑوں سے نکل کر ایک قوم ہو کر پاکستان کے مستقل کے بارے میں سوچنا ہو گا، اور اس میں ہر ایک کو اپنا کردار نبھانا ہو گا۔ _اقبال کیا خوب لکھتے ہیں:_
    *” افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر،*
    *ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا۔*
    انشاللہ،ہم سب مل کر پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کی نئی داستان قلم کے زور پر خود تحریر کریں گے ،جو ہمیشہ بہترین الفاظ میں یاد رکھی جائے گی۔
    *پاکستان ذندہ باد*
    @hamzatareen4