Baaghi TV

Category: تعلیم

  • لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی  تحریر: زاہد کبدانی

    لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی تحریر: زاہد کبدانی

    اگر ہم آبادی پر نظر ڈالیں تو ، پاکستان آبادی کے لحاظ سے ایک بہت بڑا ممالک ہے۔ تاہم ، لڑکیوں کی تعلیم کی شرح ملک میں کافی کم ہے۔ یہ ایک ایسے ملک میں اعداد و شمار کو دیکھ کر کافی پریشان کن ہے جہاں خواتین کو دیوی کا درجہ دیا جاتا ہے۔ اعدادوشمار میں کافی حد تک بہتری آئی ہے لیکن ابھی بہت طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔

    قدیم پاکستان میں عورتوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی ، لیکن وقت بدل رہا ہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی سوچ بھی بدل رہی ہے۔ وہ اپنی لڑکیوں کو تعلیم دینے اور انہیں زندگی میں کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم ، دیہی پاکستان میں ایسا نہیں ہے جو کہ آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ ہمیں لڑکیوں کی تعلیم کی اتنی کم شرح کے عوامل کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کچھ حل تلاش کیے جا سکیں۔

    لڑکیوں کی تعلیم کی کم شرح میں شراکت کرنے والے عوامل
    مختلف عوامل ہیں جن کی وجہ سے ہمارے ملک میں لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہے۔ اول ، غربت کی شرح تشویشناک ہے۔ اگرچہ تعلیم مفت کی جا رہی ہے ، پھر بھی اس میں لڑکیوں کو سکول بھیجنے کے لیے کافی خرچ آتا ہے۔ اس لیے وہ خاندان جو اپنے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں وہ اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات ادا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

    دوم ، دیہی علاقوں میں ، بہت سارے اسکول نہیں ہیں۔ اس سے دوری کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ وہ دیہات سے بہت دور واقع ہیں۔ کچھ علاقوں میں طالب علموں کو اپنے اسکول تک پہنچنے کے لیے تین سے چار گھنٹے پیدل چلنا پڑتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں لڑکیوں کی حفاظت سے سمجھوتہ ہو جاتا ہے لہذا والدین ان کو اتنا دور بھیجنا مناسب نہیں سمجھتے۔
    مزید یہ کہ لوگوں کی رجعت پسندانہ سوچ لڑکیوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل بنا دیتی ہے۔ کچھ لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ لڑکیاں اپنے گھروں میں رہتی ہیں اور باورچی خانے کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ وہ عورتوں کو یہ پسند نہیں کرتے کہ گھر کے کاموں کے لیے کوئی دوسرا کام کریں۔
    اس کے علاوہ ، بچپن کی شادی اور چائلڈ لیبر جیسے سماجی مسائل بھی لڑکی کو تعلیم حاصل کرنے سے روکتے ہیں۔ والدین بیٹیوں کو کم عمری میں شادی کے لیے سکول سے نکال دیتے ہیں۔ نیز ، جب لڑکیاں چائلڈ لیبر میں مشغول ہوتی ہیں تو انہیں پڑھائی کا وقت نہیں ملتا۔
    لڑکیوں کی تعلیم کے فوائد
    اگر ہم پاکستان کو ترقی اور ترقی دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی بچیوں کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ وہ واقعی ہماری قوم کا مستقبل ہیں۔ مزید یہ کہ جب وہ تعلیم یافتہ ہو جائیں گے تو انہیں اپنی معاش کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔
    لڑکیوں کی تعلیم کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ ملک کا مستقبل روشن اور بہتر ہوگا۔ اسی طرح ہماری معیشت تیزی سے ترقی کر سکتی ہے اگر زیادہ سے زیادہ خواتین مالی طور پر مضبوط ہو جائیں اور اس طرح غربت کم ہو۔

    مزید یہ کہ جو خواتین تعلیم یافتہ ہیں وہ اپنے بچوں کی مناسب دیکھ بھال کر سکتی ہیں۔ اس سے مستقبل مضبوط ہوگا کیونکہ کم بچے ویکسینیشن کی کمی یا اسی طرح کی وجہ سے مر جائیں گے۔ یہاں تک کہ خواتین کے لیے بھی ان کے ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض بننے کے امکانات کم ہوں گے کیونکہ وہ نتائج سے آگاہ ہوں گے۔
    سب سے اہم بات یہ ہے کہ تعلیم یافتہ خواتین سماجی مسائل جیسے کرپشن ، کم عمری کی شادی ، گھریلو زیادتی اور بہت کچھ میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ وہ زیادہ پر اعتماد ہوں گے اور اپنے خاندانوں کو تمام شعبوں میں بہتر طریقے سے سنبھالیں گے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک تعلیم یافتہ عورت دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں اتنی تبدیلی کیسے لا سکتی ہے۔

    @Z_Kubdani

  • سوشل میڈیا اور ماضی میں لے جانے والے نئے فیچرز –  محمد نعیم شہزاد

    سوشل میڈیا اور ماضی میں لے جانے والے نئے فیچرز – محمد نعیم شہزاد

    سوشل میڈیا اور ماضی میں لے جانے والے نئے فیچرز
    محمد نعیم شہزاد

    1896 میں مارکونی نے ریڈیو ایجاد کیا اور انسان ہوا کے دوش پر اپنی آواز کو دور دراز منتقل کرنے کے قابل ہو گیا۔ دنیا کے پہلے کمرشل ریڈیو اسٹیشن KDKA نے امریکی ریاست پنسلوینیا میں پٹس برگ کے مقام پر اکتوبر 1920 میں کام کا آغاز کیا۔ پاکستان میں ریڈیو کا آغاز آزادی کے ساتھ ہی ہو گیا۔ صبح آزادی کا پہلا اعلان 13 اگست 1947 کی شب 11:59 پر مصطفیٰ علی ہمدانی کی آواز میں لاہور سے اردو اور انگریزی زبان میں کیا گیا اور عبداللہ جان مغموم نے پشاور سے پشتو میں یہی اعلان کیا۔

    السلام علیکم
    پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ۔ ہم لاہور سے بول رہے ہیں ۔تیرا اور چودہ اگست ، سنہ سینتالیس عیسوی کی درمیانی رات ۔ بارہ بجے ہیں ۔ طلوع صبح آزادی ۔

    The English translation of this announcement is as follows:

    Greetings Pakistan Broadcasting Service. We are speaking from Lahore. The night between the thirteenth and fourteenth of August, year forty-seven. It is twelve o’clock. Dawn of Freedom.

    جبکہ اس وقت ریڈیو پاکستان 34 زبانوں میں براڈ کاسٹنگ کر رہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت سے ایجادات ہوتی رہیں اور ہمارا معیار زندگی بلند سے بلند تر ہوتا رہا۔ آج کے جدید دور میں ریڈیو سے بڑی کئی ایجادات ہماری دسترس میں ہیں۔ نت نئے سوشل میڈیا ٹولز ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ ان ٹولز میں عوام میں عمومی طور پر مقبول ایپلیکیشن واٹس ایپ میسنجر ہے جس کے ذریعے ہم تحریری، آڈیو، ویڈیو اور دیگر میڈیا میسجز بھیج سکتے ہیں۔ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے ایک مقبول پلیٹ فارم ٹویٹر بھی ہے۔ حال ہی میں ٹویٹر نے ایک نیا فیچر متعارف کروایا ہے جس Space کا نام دیا گیا ہے۔ صارفین اپنی مرضی کا عنوان منتخب کر کے ایک space بنا سکتے ہیں جس میں دوسروں کو مدعو کر سکتے ہیں اور دوسرے صارفین بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس فیچر کے تحت زبانی گفتگو کی جاسکتی ہے جیسے ہم فون کال پر کرتے ہیں اور دوسرے کی گفتگو کے دوران چند ایموجیز بھی بھیج سکتے ہیں۔ آج ایک معروف تعلیم کے شعبہ میں خدمات انجام دینے والے ادارے ایجو سولز پاکستان ( EduSols Pk) کی جانب سے ایک space بنا کر کرونا وبا کے بعد کی تعلیمی صورتحال اور محکمہ تعلیم حکومت پاکستان کی طرف سے اس سلسلے میں کی جانے والی پیشرفت کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ ایک گھنٹے سے کچھ زائد وقت تک جاری رہنے والی اس گفتگو میں پاکستان میں کرونا وبا آنے کے بعد کی تعلیم کے میدان میں ہونے والی پیشرفت پر سیر حاصل بات چیت کی گئی۔ گفتگو کے لیے تعلیم سے وابستہ بعض سرکاری ملازمین، پرائیویٹ سیکٹر کے افراد، طلباء نمائندگان اور سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ حکومت پاکستان کے محکمہ تعلیم کی جانب سے کی گئی کوششوں کو سراہا گیا جن کے بروقت اجراء سے پاکستان میں حفظان صحت کے اصولوں پر کاربند رہ کر ممکنہ بہتر تعلیمی سہولیات میسر ہو سکیں۔ مجموعی طور پر وبا کے دوران ایمرجنسی کے حالات میں کی جانے والی تعلیمی کاوشوں کے اطمینان بخش ہونے پر اتفاق کیا گیا اور اسے حکومت کی بڑی کامیابی تصور کیا گیا۔ جس سے طلباء کے قیمتی تعلیمی سال کو ضائع ہونے سے بچا لیا گیا اور ملک میں تعلیم و تعلم کے سلسلے میں نئی جہتوں کا کامیاب اضافہ کیا گیا۔ آج کے اس تجربے سے پہلے کئی بار جب ٹویٹر پر کسی صارف سے تبادلہ خیال کرنا ہوتا تو واٹس ایپ کا آڈیو فیچر شدت سے یاد آتا کیونکہ لکھ کر بات کرنے کی نسبت بول کر اپنی بات بتانا نسبتاً آسان عمل ہے مگر آج عملی طور پر ٹویٹر پر بھی یہ طریقہ استعمال کر لیا کہ بول کر اپنی آواز کے ذریعے اپنا پیغام مخاطب تک پہنچا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ریڈیو کی یاد بھی آنے لگی جہاں ہم مخاطب کو دیکھے بغیر محض اس کی آواز سنتے ہیں ۔ ایجاد اگرچہ پرانی ہے مگر نئے انداز سے اس فیچر کا ٹویٹر میں اضافہ اچھا لگا اور صارفین کے لیے ایک اہم سہولت ثابت ہوا جس کے ذریعے ہم ایک دوسرے کے تاثرات اور خیالات جان سکتے ہیں۔

    19 اگست ، سنہ دو ہزار اکیس عیسوی کی رات ۔ بارہ بج کر چھپن منٹ ہوئے ہیں ۔ پچھترہویں سال کی طلوع صبح آزادی ۔

  • علم کی دولت|تحریر :عدنان یوسفزئی

    علم کی دولت|تحریر :عدنان یوسفزئی

    انسان کو الله تعالیٰ نے اپنی عبادت کیلیے پیدا فرمایا ۔اللہ اگر چاہتے تو عالم ارواح ہی میں انسان کو ولایت عطا فرما دیتے ۔ لیکن اللہ نے اس کے حصول کیلئے انسان کو دنیا میں بھیجا۔

    ولایت کے حصول کا راستہ تین قدم ہے۔ جب تک تینوں قدم نہیں اٹھیں گے اس وقت تک منزل پر نہیں پہنچیں گے۔ اس میں پہلا قدم علم کا حاصل کرنا ہے۔ بے علم انسان اپنے پروردگار کو نہیں پہچان سکتا۔

    آدمی ہر وقت تو مفتی صاحب کے ساتھ نہیں ہوتا کہ ان سے راہنمائی لیتا رہے۔ جب کبھی تنہا ہو تو کیسے پتا چلے گا یہ کام ٹھیک ہے؟ یہ غلط ہے؟ اس لیے ضروریاتِ دین کا جانا ہر مسلمان کیلیے ضروری ہے۔

    الله پاک نے انسان کے اندر تین قسم کے اعضاء بنائے ہیں۔
    1: اعضائے علم 2: اعضائے عمل. 3: اعضائے مال

    اعضائے علم:یعنی علم حاصل کرنے کے اعضاء ،کان،آنکھ اور دماغ۔
    جو لوگ معاشرے میں تعلیم حاصل کرتے ہوں وہ دینی ہو یا دنیاوی اس انسان کا معاشرہ کے اندر اور اپنے گھر کے اندر ایک الگ مقام ہوتا ہے۔
    ایک نوجوان بچے کا قدر بزرگ لوگ صرف تعلیم کی وجہ سے کرتے ہے توہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صحیح استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ ہمارا دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہوجائے گا جو
    جدید علوم سے اگاہی رکھتے ہیں۔

    اللہ نے ان اعضاء کو بدن کے سب سے اوپر رکھا۔ اسلیے کہ علم وقعت والا ہے۔ اور ان اعضاء کے ذریعہ انسان کو علم حاصل ہوتا ہے۔ اور قیامت کے دن بھی ان ہی اعضاء کے بارے ميں سوال ہوگا۔ "ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسؤلا” پوچھا جائے گا ان اعضاء سے کون سا علم حاصل کیا ؟ دین کا علم حاصل کیا یا نہیں؟

    دنیا کی تمام تر ترقی علم پر منحصر ہے۔ علم ہی دراصل ایک انسان کو انسانی صلاحیتوں سے نوازتا ہے۔ جس کی بدولت انسان نیکی اور بدی میں تمیز کرسکتا ہے۔ علم ہی وہ ذریعہ ہے جس کی بدولت انسان دوسرے انسانوں پر سبقت لے جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب انسان بجلی کی گرج سے ڈرتا تھا اور آج وہی انسان اس پر قابو پاچکا ہے۔ اسے اپنے قبضے میں کر چکا ہے۔ بجلی کو کئی اہم کاموں میں استعمال کیا جارہا ہے۔ علم کی بدولت انسان نے اطپنے لئے تفریح طبع کی سہولتیں بھی پیدا کرلیں ہیں۔ علم ایسا نور ہے جس سے جہالت اور گمراہی کی تاریکیاں دورہوجاتی ہیں۔ علم کی بدولت انسان کی چشمِ بصیرت روشن ہوجاتی ہے جس کی بدولت اس میں نیکی و بدی اور حق باطل کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ علم ایسا بیش بہا جوہر۔ علم سے انسان کے اطوار شائستہ اور اخلاق پاکیزہ بن جاتے ہیں۔ وہ دل و دماغ کو جہالت کے گہرے اندھیروں اور گہرائیوں سے نکال کر اس مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ جہاں حسد و بغض، دشمنی اور لالچ کا گزر نہیں ہوتا۔ بلکہ انسان کو نیکی، خلوص، فیاضی اور دوستی جیسی عظیم صفات عطا کرتا ہے۔

    دنیا کی یہ تمام تر ترقی علم ہی کی بدولت ہے علم کی بدولت ہی آج کا انسان خلاءکو مسخر کررہا ہے۔ علم انسان کو جرات،بہادری، ہمت، استقلال، تدبر و بردباری اور ہر قسم کی عقدہ کشائی کی صلاحیت بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان نے دنیا کا چپہ چپہ چھان مارا، قطبِ شمالی سے لیکر قطب جنوبی تک زمین کو رندتا چلا گیا۔
    انسان کے اندر کچھ فطری چیزیں ہوتی ہیں جیسے بھوک اور پیاس کا ہونا۔ اسی طرح انسان میں علم کا جزبہ بھی فطری ہوتا ہے۔ اس کی آسان سی دلیل جہاں کوئی چند آدمی اکھٹے کھڑے ہوں ۔دوسرا کوئی آدمی آجائے تو فوراً پوچھے گا کیا ہوا ؟ کیوں کھڑے ہو؟ اور اگر کوئی واقعہ درپیش ہو تو پھر سوال ہو گا ۔کیسے ہوا؟ یہ سب اصل میں علم ہے ۔ چونکہ وہ آدمی لاعلم ہوتا ہے۔ اور اس علم کیلیے وہ سوال کرتا ہے۔ اسی لیے ضرورتِ دین کا علم حاصل کرنا فرض ہے۔ "الطلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ”۔

    حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ علم ایک روشنی ہے۔ اس کے برعکس دیکھا جائے تو جہالت اندھیرا ہے، یہ اندھیرا روشنی سے دور ہو گا۔ نہ کہ اندھیرے کو گالیاں دینے سے وہ دور ہو گا ۔ جس طرح ایک حقیقی اندھیرا بغیر روشنی کے دور نہیں ہوتا ۔اسی طرح جہالت کا اندھیرا بھی علم کی روشنی بغیر دور نہیں ہوگا۔ لہذا علم حاصل کریں ۔ جہالت خود بخود دور ہو جائے گی، اور ولایت کا حصول بھی آسان ہو جائے گا۔ بندگی کا طریقہ بھی علم میں آجائے گا۔
    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار  حصہ سوم تحریر۔   چوہدری عطا محمد

    غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار حصہ سوم تحریر۔ چوہدری عطا محمد

    میرا دل خون کے آنسورو رہا ہے حسرتیں ماتم کناں ہیں کہ میں اس بدقسمت معاشرے کا باسی ہوں جہاں غریبوں کے بچے تھل اور صحراؤں میں سسک سسک کر مر رہے ہیں اور امیروں کے کتے جرمن کے بنائے امپورٹڈ بسکٹ کھاتے ہیں منرل واٹر پیتے ہیں گرمیوں میں ائیر کنڈیشنز کمروں میں رہتے ہیں اور سردیوں میں مہنگے کمبل اوڑھ کر سوتے ہیں۔ ان کتوں کیلئے دنیا کے مہنگے ترین شیمپو، وٹامنز خوراک اور ادویات لائی جاتی ہیں ۔ ان کی رہائش غریب کی جھونپڑی کی بے بسی پر مسکراہٹ کے تازیانے برسارہی ہوتی ہے ۔

    دوسری طرف معصوم بچوں کے پڑھنے لکھنے کی عمر ہوتی ہے اس عمر میں یا تو میرے وطن کے غریب بچے محنت مزدوری کرتے ہیں یا سماج دشمنوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں
    اور وہ انہیں تخریبی سرگرمیوں میں طرح طرح سے استعمال کرتے ہیں جیب کترا بناتے ہیں چوری اور ڈاکے ڈالنے کے فن سے آگاہ کرتے ہیں۔ کچھ جرائم پیشہ افراد ان کے ہاتھ پیر توڑ کر ان سے بھیک منگواتے ہیں

    حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عوام کی خدمت بہتر طریقے سے کر رہی ہے لیکن وہ سڑکوں شاہراہوں پر ان بچوں کو بھیک مانگتے, ہاتھ پھیلاتے، گاڑیوں کے پیچھے دوڑتے بھاگتے نہیں دیکھتی ۔ بے شمار بچے ہر روز کچرے کے ڈھیر پر جھکے اپنا رزق تلاش کررہے ہوتے ہیں گلے سڑے پھل اور ڈبل روٹی کی ٹکڑوں سے اپنے شکم کی آگ بجھا رہے ہوتے ہیں ۔

    سخت سردی ہویا گرمی برسات ہویا موسموں کی سنگینی یہ بے پرواہ اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہیں انہیں اپنی ماں کیلئے روٹی کا انتظام کرنا ہوتا ہے وہ پرانی چیزیں جن میں شیشہ ، خالی بوتلیں، ردی ، لوہا، پلاسٹک، شامل ہوتے ہیں انہیں بیچ کر چند روپے کما کر اپنے گھر والوں کے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ مائیں توسب کی ہوتی ہیں ان محنت کش بچوں کی بھی مائیں ہیں جو خود انہیں رزق کی تلاش میں گھروں سے رخصت کرتی ہیں اور خود بھی محنت مزدوری کرتی ہیں جب کہ بہت ساری عورتیں مشقت کرتی ہیں فیکٹریوں اور کارخانوں میں چند روپے کے عوض پورا دن کام کرتی گزار دیتی ہیں ۔

    ایک طرف بھیک مانگنے والا طبقہ ہے تو دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو غربت کی لکیر سے نیچے رہ کر زندگی بسر کر رہے ہیں،
    وہ بچے جن کی عمریں بمشکل پانچ سال سے دس سال تک ہوتی ہیں ورکشاپوں پر ڈینٹ پینٹ کا کام کر ریے ہوتے ہیں
    ٹرین کا سفر ہویا بسوں کا معصوم بچے ہر شہر میں چائے اور دوسری کھانے پینے کی اشیاء بیچتے ہوئے نظر آئیں گے بجے گاڑیوں کے پاس آکر اپنا ہاتھ پھیلاتے ہیں اور مدد کے منتظرہوتے ہیں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو انہیں دھتکاتے نہیں ہیں ورنہ زیادہ تر وہ ڈانٹ ڈپٹ کا شکار رہتے ہیں بچوں پر تشدد کے حوالے سے بھی درد ناک واقعات سامنے آتے ہیں

    گھروں میں کام کرنے والے ننھے معصوم پھول جیسے بچوں پر معمولی سی غلطی کی بنا پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ہمارے ملک میں قانون نام کا ایک خوبصورت پرندہ ہوا کرتا تھا

    جو زمانہ ہوا اڑ چکا ہے کسی نے بھی پکڑنے کی کوشش نہیں کیں اگر حکومت لوگوں کے جینے کیلئے اسباب پیدا کردے تعلیم اور انصاف مفت فراہم کرے، تو کوئی بچہ نہ تو کچرے کی ڈھیر سے گلی سڑی غذا سے اپنا پیٹ بھرے گا اور نہ ہی تخریب کاروں کے ہتھے چڑھے گا۔ آج کے بچے پاکستان کا مستقبل ہیں ۔

    خدارا ! اپنے مستقبل کو بچا لیجئے

    @ChAttaMuhNatt

  • غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار  حصہ دوم تحریر چوہدری عطا محمد

    غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار حصہ دوم تحریر چوہدری عطا محمد

    دنیا بھر کے غریب ممالک کی طرح وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، بےروزگاری، غربت جیسے مسائل کی وجہ سے ننھے معصوم بچوں کو زیور تعلیم سے دور رکھ کر مشقت لی جارہی ہے جابجا پھول جیسے بچے گھریلو ملازم ، بوٹ پالش کرتے، ہوٹلوں، چائے خانوں، ورکشاپوں مارکیٹوں،

    چھوٹی فیکٹریوں خشت بھٹوں سی این جی اور پیٹرول پمپوں سمیت بہت سی جگہوں پر مشقت کرتے نظر آتے ہیں جبکہ بچوں سے جبری مشقت کو ہمارے معاشرے میں معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا۔

    کھیلنے کودنے اور لکھے پڑھنے کے دنوں میں ہاتھوں میں کتابوں کی بجائے اوزار تھامے پھول جیسے معصوم بچے جب حالات سے مجبور ہو کر کام کرنے کیلئے نکل کھڑے ہوں تو یقیناً اس معاشرے کیلئے ایک المیہ وجود پارہاہوتا ہے ۔

    بچوں سے مشقت خوشحالی وترقی کے دعویدار معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ اور قوم کی اخلاقی اقدار کی زوال کی علامت ہے۔

    ددوسری طرف امیر ہیں۔ اشرافیہ ہیں ۔ سرمایہ کار ہیں ۔ جاگیر دار ہیں ۔ صنعت کار ہیں ۔ تاجر ہیں ۔ سوداگر ہیں ۔ ان کے بچوں کا غریبوں کے بچوں کے ساتھ کیا مقابلہ کروں ؟ مجھے توان امیروں کے کتے ان غریبوں کے بچوں سے زیادہ معتبر اور خوشحال دکھائی دیتے ہیں
    اچھی خوراک، حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق خوراک ان کے شکم میں اُترتی ہے ان کی آنکھیں نم ہو جائے تو دنیا کے مہنگے ترین ڈاکٹروں سے علاج کروایا جاتا ہے ۔ انہیں خالص دودھ پلایا جاتاہے ۔ ان کی خوراک بیرون ملک سے آتی ہے۔ ان کی رہائش بھی ان کے شیان شان ہوتی ہے جب امیروں کے کتے بھونکتے ہیں تو مجھے غریبوں کے بھوکے پیاسے خوراک رہائش، آسائشات اور دواؤں سے محروم بچوں کی سسکیاں سنائی دینے لگتی ہیں ۔

    جب دنیا کے ایسے اور خصوصا اپنی ارض پاک کے مناظر آنکھوں کے سامنے آتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کیا ہمیں ہماری اصل زندگی جو کہہ موت کے بعد شروع ہونی ہے اسکی بلکل بھی فکر یا یاد نہیں ہے کہہ ہم واقعی اپنی موت کو بھول چکے ہیں
    ہماری آنکھوں کے سامنے بچے سڑکوں پر کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں میں رزق تلاش کر کے کھاتے نظر آتے ہیں اور یہ منظر دیکھ کر بھی ہمیں اس مالک کی یاد نہیں آتی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے غریب کی محرومیوں پر لکھنے کو اتنا کچھ ہے جو ختم نہیں ہو رہا اگلی تحریر میں مزید کچھ ابھی تک کے لئے اس دعا کے ساتھ اجازت کہہ اللہ پاک ارض پاک کے باسیوں پر خصوصا اور پوری دنیا پر اپنا رحم فرمائیں اور ہمارے دلوں کو منور فرما دیں آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار تحریر چوہدری عطا محمد

    غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار تحریر چوہدری عطا محمد

    قوم و ملک کو ترقی کی معراج لے جانا ہے تو تعلیم پر بھر پور توجہ دینا ہوگی اس لئے نہ صرف ڈی نیشنلائزیشن کی پالیسی ترک کرنا ہوگی بلکہ مزید سرکاری تعلیمی ادارے قائم کرنے ہونگے۔ تعلیم وصحت کی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی زمہ داری ہے مگر پاکستان میں جہاں غربت مہنگائی،بےروگاری نے غریب بچوں کو اسکولوں سےدور کردیاہے کہ ان کیلئے تعلیم ایک خواب بن کر رہ گئی ہے وہاں پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں نے تعلیم کو اس قدر مہنگا کردیا ہے کہ اوسط درجے کی آمدن والے لوگ بھی اپنی اولادوں کو معیاری تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں

    ایسے حالات میں غریب مفلوک الحال خاندان اپنے پیٹ کی آگ بجھائے یہ تعلیم کے بھاری اخراجات برداشت کریں چاروں طرف لوگوں نے تعلیم کو کاروبار بنا لیا ہے گلی اور محلوں میں پرائیویٹ سکول کالجز اور یونیورسٹیاں تک قائم ہوچکی ہیں۔

    والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اچھی سے اچھی تعلیم حاصل کرے لیکن آسمان سے باتیں کرتی فیسوں نے شفید پوش والدین کیلئے بچوں کی تعلیم کو ایک خواب بنا دیا ہے

    میڈیکل کی تعلیم کے اخراجات تو سرکاری اداروں میں بھی عام آدمی کیلئے برداشت کرنا بہت مشکل ہے ۔ پرائیویٹ میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں 40سے50لاکھ کون ادا کرے؟

    جس کو میرٹ کہا جاتا ہے وہ کہاں ہے؟ اب تو صرف دولت ہی میرٹ ہے صلاحیت کو کوئی اہمیت حاصل نہیں تعلیم نے بیوپار کا روپ اختیار کر لیا ہے یہی وجہ ہےکہ غریب کے بچے ہر طرح کی قابلیت کے باوجود پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اور ان کے والدین وسائل کی کمی کے سبب ان کو تعلیم نہیں دلواسکتے۔ محنت کش بچے کوئی پیدائشی محنت کش نہیں ہوتے۔

    ان کی شکلیں بھی ایسی ہی ہوتی ہے جیسے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کی ہوتی ہے لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ معاشرے میں چھوٹے بن کر رہ جاتے ہیں
    اس پر لکھنے کو بہت سے الفاظ ہیں ان شاءاللہ اگلی تحریر میں مزید بات ہوگی غریب بچوں کی تعلیم کے مسائل پر
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • سالانہ نچوڑ. تحریر : محمد اسامہ

    سالانہ نچوڑ. تحریر : محمد اسامہ

    "امتحان ” اس جانچ کا نام ہے جس کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ طلباء نے کس خاص مضمون میں کس قدرمہارت اور سمجھ بوجھ حاصل کرلی ہے. تدریس کے مقاصد کس حد تک حاصل کیے گئے ہیں. اسکول میں تدریس کے عمل میں طلباء، اساتذہ اور والدین تینوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے. کوئی ایک بھی اپنے کردار کو ادا کرنے میں غفلت کرے تو تدریس کا عمل متاثر ہوتا ہے. ملک عزیز میں کرونا کی آمد کے بعد معاشی، سماجی اور تعلیمی روابط بری طرح متاثر ہوئے ہیں.

    تعلیم کو ہی دیکھیں تو تدریسی عمل اورامتحانی عمل دونوں بری طرح متاثر ہوئے ہیں. پہلے تو احتیاط کے طور پر تعلیمی اداروں کو فوری طور پر بند کردیا گیا تھا. پھر تدریس کے عمل کو online classes کی طرف لے جایا گیا تھا. یہ عمل کارآمد ثابت نہ ہوسکا. کیونکہ کبھی بجلی کی بندش اور کبھی انٹرنیٹ کی مختلف علاقوں میں عدم دستیابی ہوتی ہے. لیکن پھربھی یہ ایک عمدہ کاوش ضرور تھی.

    گزشتہ سال طلباء کو بغیر امتحان لیے اگلی جماعت میں پروموٹ کردیا گیا تھا. انہیں تین نمبر اضافی بھی دیے گئے تھے. جبکہ انکی قابلیت میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہوا تھا. رواں سال طلباء سے صرف اختیاری مضامین کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے. اس فیصلے کا جواز سمجھ سے باہر ہے. جب طلباء مطلوبہ قابلیت نہیں رکھتے تو انہیں اپ کس حد تک سہارا دے سکتے ہیں.

    یہ بات سمجھ سے باہر ہے.
    کیا یہ لازمی مضامین کو نظر اندازکرنے کے مترادف نہیں ہوگا؟
    "لازمی ” کیسے غیر ضروری؟
    کیا یہ طلباء مستقبل میں معاشرے کے لئے اس حد تک کارآمد ہونگے جتنا کہ انکو ہونا چاہیئے ہے؟

    والدین نے کرونا کے دوان خراب معاشی حالات کے باوجود اپنے بچوں کے لئے معمول سے زیادہ کوشش کر کے online classes کے دوران اپنے بچوں کو کمپیوٹر اور موبائل لے کر دینا اور انٹرنیٹ کا اضافی بوجھ اٹھانا ہر طبقے کے لئے سہل نہیں تھا. اساتذہ اور طلباء نے ایک نئے طریقہ تدریس کو اپنایا جسکی اس سے پہلے مثال نہیں تھی. "سمارٹ لاک ڈاؤن کے ساتھ سمارٹ سلیبس” کی اصطلاح بھی سماعتوں نے سنی ہے. جب طلباء تمام سلیبس میں مہارت حاصل نہیں کریں گے تو مطلوبہ نتائج تو حاصل نہیں ہوں گے. بلکہ کمزورنتائج حاصل ہوں گے.

    یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے طلباء کے مسائل بھی توجہ طلب ہیں. یونیورسٹیاں کرونا کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں بھی اپنے مطلوبہ معیارسے نیچے آنے کو تیار نہیں ہیں. انکا کہنا ہے کہ پہلے سمسٹر کو مکمل کرنے سے پہلے گزشتہ امتحان میں مطلوبہ نمبرز کا ہونا ضروری ہے.

    جو طلباء مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتریں گے ان کی یونیورسٹی کو ادا کی گئی فیسوں اور پہلے سمسٹر میں لگائے جانے والےوقت کا کیا ہوگا؟
    کیا ان پر یہ اضافی دبائو نہیں ہوگا کہ آگےانکے ساتھ کیا ہوگا؟

    سونے پرسہاگہ ہمارا تعلیمی نظام جو جدید تعلیمی اصولوں سے ابھی کوسوں دور ہے. تعلیمی اداروں کا تمام تر زور اپنے تعلیمی کاروبار سے منافع حاصل کرنے پر ہے. تعلیم کا معیار بہتر بنانا، طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارنا انکا مطمع نظر ہے ہی نہیں. رہی سہی کسر ہمارا امتحانی نظام اور نقل کا بڑھتا ہوا رجحان پوری کردیتا ہے. امتحانات میں مارکنگ کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ عملے کی بہت ضرورت ہے. ہمارا تعلیمی نظام بہت زیادہ کمزوریوں کا شکار ہے. فوری توجہ کا طالب ہے. تاکہ تیزی سے گرتے ہوئے تعلیمی معیار کو بہتری کی طرف لے جایا جاسکے.

    جب تلک یہ سوچوں کا زاویہ نا بدلے گا
    منزلیں نا بدلیں گی ,راستہ نا بدلے گا

    @its_usamaislam

  • طلبہ کو درپیش مسائل  تحریر: سحر عارف

    طلبہ کو درپیش مسائل تحریر: سحر عارف

    کسی بھی ملک کے طلبہ اپنے ملک کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں ٹھیک ایسے ہی پاکستان کے طلبہ بھی ہمارے ملک کا مستقبل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ طلبہ جب پڑھ لکھ جاتے ہیں تو وہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ اپنے ملک کا روشن مستقبل ہوتے ہیں۔

    پر اس کے لیے ضروری یہ ہوتا ہے کہ طلبہ کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے انھیں تمام سہولیات سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے بغیر اچھی تعلیم حاصل کرسکیں۔

    آج پاکستان جہاں بہت سے مسائل میں جکڑا ہوا ہے انہیں میں سے ایک مسئلہ طلبہ کو درپیش مشکلات کا بھی ہے۔ اگر پاکستان میں گورنمنٹ سکولوں کو دیکھا جائے تو وہاں اساتذہ تو موجود ہوتے ہیں پر ان کی کارکردگی صفر ہوتی ہے۔ گورنمنٹ سکولوں میں بہت سے اساتذہ بچوں کے ساتھ اکثر زیادتی کر جاتے ہیں۔

    انھیں اچھی تعلیم نہیں دیتے۔ اس کے علاؤہ وہاں طلبہ کے لیے مکمل فرنیچر کی سہولت موجود نہیں ہوتی۔ اکثر بچے زمین پہ بیٹھ کر پڑھائی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر پرائیویٹ سکولوں کو دیکھا جائے تو وہاں سہولیات تو ساری ہوتی ہیں پر ان سکولوں کی فیس بہت ہوتی ہے۔

    جس کی وجہ سے کم ازکم ایک غریب کا بچہ تو اچھی تعلیم حاصل نہیں کرسکتا پھر اگر فرض کریں وہ داخلہ لے بھی لے تو وہاں کی مہنگی کتابیں اور دیگر ضروریات کے خرچے تو نہیں اٹھا سکتا۔ اس سب کے سبب بہت سے بچے تعلیم کی دنیا کو خیر باد کہہ دیتے ہیں اور جو باقی پیچھے تعلیم حاصل کرنے کے لیے رہ جاتے ہیں ان میں سے بھی آدھی تعداد کہیں نا کہیں ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتی ہے۔

    ہمارے ہاں تعلیم کو اب بہت مشکل بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے بچے سکول کا نام سنتے ہی بھاگ جاتے ہیں اور باقی اگر جو تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکولوں کا رخ کرتے ہیں تو بچارے ڈر ڈر کر پڑھتے ہیں۔ پڑھائی کو اپنے اعصاب پر اس قدر سوار کرلیتے ہیں کے ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کو بچوں کے لیے آسان بنانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ایک غریب کا بچہ بھی آرام اور سکون سے تعلیم حاصل کرسکے۔

    @SeharSulehri

  • پاکستان کا تعلیم نظام  تحریر محمد عدیل علی خان

    پاکستان کا تعلیم نظام تحریر محمد عدیل علی خان

    ‏پاکستان میں جو تعلیمی نظام ہیں اسکا آپ اور میں بہتر انداز سے جانتے ہے کیوں آج کا طالب علم اکیڈمیوں کا محتاج ہے سب سے پہلے ہم سرکاری اسکول اور کالجز کے تعلیمی نظام پے روشنی ڈالتے ہیں اور کچھ حقیقی حقائق سے میں آپ کو آگاہ کرتا ہوں سرکاری اسکولوں میں تمام استادزہ آتے تو ہیں لیکن صرف دس یا پندرہ منٹ کی کلاس لیتے ہیں اگر کوئی طالب علم سوال اٹھائے تو اس سے کہتے ہے کہ اگر آپ کو اتنا پڑھنے کا شوق ہے تو جناب اعلیٰ آپ میری اکیڈمی میں آجایا کرے فیس بھی اتنا زیادہ نہیں ہے صرف پانچ سو روپے آپ اندازے لگائیں جس کے والد صاحب روز کے پانچ سو روپے یا اس سے کماتے ہیں اور بیچارے دیہاڑی دار مزدور ہے اور کبھی تو ہفتہ ہفتہ بھی مزدوری نہیں لگتی وہ بیچارہ گھر کے اخراجات پورے کرے یا بیٹے کو اکیڈمی میں داخلہ دلوائے اور اس طرح کے کئی بچے یا تو خودکشی کر گئے یا مزدوری کرنے چلے گئے اور اس طرح سے پاکستان کا مستقبل تباہ ہوا صرف ان نالائق اور لالچی استادزہ کی وجہ سے یہ تو وہ اساتذہ اکرام تھے جو صرف کچھ منٹوں کی کلاس لیتے تھے اب آتے ان استادزہ کی طرف جو صرف سکول کے اسٹاف روم میں صرف گپھے لڑانے آتے ہے اور پڑھانے کا تو کوئی سوال ہی نہیں اگر کبھی محکمہ تعلیم کی طرف سے کوئی افسر تعلیم چیکنگ کے لئے آئے تو طلباء کو دمھکی دی جاتی ہے اگر آپ نے کوئی شکایت کی تو ہم آپ کو اسکول سے نکال دے گے اور ایسا سرٹیفکیٹ بنا کر دے گے کہ آپ کو کہیں بھی داخلہ نہیں ملے گا اگر محکمہ تعلیم کا افسر کوئی شکایت لکھ بھی لے تو لے دے کر معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے اگر ان اساتدزہ کو ایک مہینے کی تنخواہ نہ ملے تو حکومت کے خلاف پُر زور احتجاج کرتے ہیں جناب اعلیٰ پڑھائے گے نہیں پر تنخواہ پوری چاھئے ….
    اگر ہم ڈگری کالجز کی بات کرے تو وہاں آپ کو صرف ایک سختی بڑی دیکھنے کو ملے گی کہ پیر کے دن تمام طلبا کو یونیفارم میں لازماً آنا ہے ڈگری کالج کے استادزہ بھی کسی سے کم نہیں جناب اعلیٰ دس یا گیارہ بجے تک کالج میں اس کے بعد پرائیویٹ کالجز میں چلے جائیں گے اگر کوئی طالب علم ان استادزہ کی شکایت پرنسپل کو کرے تو وہ کہتے ہیں استادزہ کی شان میں گستاخی اگر آپ نے دوبارہ یہ بدتمیزی کی تو ہم آپکا داخلہ منسوخ کر دے گے اور آپ جیسے بدتمیز طلبا کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے…………..
    پرائیویٹ اسکول/کالجز بھی کسی سے کم نہیں ہے اس معاملے میں..
    ان کو صرف اپنی فیس سے مطلب ہوتا اگر کسی طالب علم کی ایک دو ماہ کی فیس رہتی ہے تو اسے دمھکی دی جاتی ہے اگر آپ نے فیس کلیئر نہ کرائی تو ہم آپکو سلپ نہیں دے گے ان کو طالب علم کے پورے سال کی کوئی اہمیت نہیں ہے ٹیچر آیا لیکچر دیا اور چلا گیا کسی کی سمجھ میں آئے یا نہیں اگر کوئی طالب علم سوال کرے مجھے فلاں چیز سمجھ میں نہیں آئی تو جواب روایتی ملتا ہے بیٹا کوچنگ سینٹر جوائن کر لیں آپ بہت وییک ہو اگر میرا کوچنگ سینٹر جوائن کرنا چاہو تو ‎#موسٹ_ویلکم
    اور دوسرا جواب سنے بیٹا مجھے دوسرے کالجز میں بھی جانا ہوتا اس وقت میرے کوئی وقت نہیں ہے میں پہلے ہی لیٹ ہوچکی/ہوچکا ہو………….
    یہ ہمارا تعلیمی نظام ہے جو میں نے لکھا ہے اس سے بھی گھٹیا ہے ہمارا تعلیمی نظام جو میں نے میں سمجھتا ہو کہ جو میں نے بہت کم لکھا ہے اگر اس طرح سے طالب علم کو پڑھیا گیا تو وہ بھی بڑا ہو کر منہ بھائی ایم بی بی ایس بنے گا اس بڑھ کر کچھ نہیں ہم نے اپنے بچوں کو منہ بھائی نہیں بلکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ڈاکٹر عبدالسلام اور جابر بن حیان بنانا ہے

    نوٹ……….

    میری اس تحریر میں ان استادزہ کو بلکل بھی نشانہ نہیں بنایا گیا جو ایمانداری سے اپنا کام کرتے ہیں اور اس ٹیچری کو جاب سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں میرا نشانہ وہ استادزہ ہے جنہوں نے اس تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے میرا نشانہ صرف لالچی اور کرپٹ استادزہ ہے
    الحمدللہ عزوجل اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جو مجھے بہترین استادزہ ملے وہ استاد ملے جو جاب سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر کے ادا کرتے ہے… .
    ایک اور ضروری بات اگر ایک استاد بہتر انداز سے اور اپنی پوری محنت سے اپنا سبجیکٹ پڑھاتا ہے وہ صرف پورے سلیبس 20% حصہ کوور کرسکتا ہے باقی کا 80% وہ کہاں سے پڑھے گے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے سرکاری اسکول اور کالجز کے لئے

    Twitter ‎@iAdeelalikhan

  • تعلیم اور تربیت کتنی ضروری تحریر:  سید محمد مدنی

    تعلیم اور تربیت کتنی ضروری تحریر: سید محمد مدنی

    تعلیم انسان کا حق ہے اور ہر انسان اچھی تعلیم کا حاصل کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں زیادہ تر اچھی تعلیم ان اسکول کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے جہاں کی فیس عام آدمی ایفورڈ کر ہی نہیں سکتا پھر دوسری بات کے ایسے اسکول کالجز اور یونیورسٹیوں میں تعلیم ہونے کے باوجود بعض انسانوں کی تربیت اچھی نہیں ہوتی ان میں پیسے اور معیاری تعلیم ہونے کی وجہ سے غرور آج جاتا ہے.

    آپ نے کبھی نوٹ کیا ہوگا کے ایک ٹاٹ (فرش پر دری) پر بیٹھ کر پڑھنے والا انسان ایک کرسی پر بیٹھ کر پڑھنے والے سے بہت بہتر ہوتا ہے اس کی وجہ ہے اچھی تربیت تعلیم تو انسان حاصل کر ہی لیتا ہے مگر تربیت گھر سے اور گھر کا مطلب ہے کے والدین سے آتی ہے جہاں تعلیم حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے وہاں کہیں کہیں یہ انسان میں غرور بھی لاتی ہے اور پھر تکبر غرور ﷲ کو ہرگز پسند نہیں میرا کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے اچھی تعلیم حاصل نا کی جائے مگر ساتھ بہترین تربیت بھی ہونی چاہیے.

    ہمارے مذہب اسلام میں تو جب آپ رسول ﷲ صلی ﷲ علیه وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو ﷲ کی طرف سے فرمایا گیا کے پڑھ اپنے رب کے نام سے پڑھ مطلب ابتداء ہی پڑھنے سے ہوئی تو اس لحاظ سے ہمارے مذہب میں تعلیم کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے پھر جس کا بہت زکر کیا جاتا ہے کے

    علم حاصل کرو خواہ اس کے لئے تمھیں چین ہی کیوں نا جانا پڑے

    ( اہم نوٹ یہ علم کے لیے چین جانے والی بات بہت سے لوگ اسے حدیث کہتے ہیں اور بہت سے لوگ اسے ضعیف سمجھتے تو اس کے لئے ﷲ مجھے معاف کرے)

    مشہور ہے کے گود سے گور تک علم حاصل کرو

    تعلیم ایک ایسا زیور ہے جس سے انسان نکھرتا ہے بغیر تعلیم کے انسان جاہل ہی کہلاتا ہے.

    آج کل کا دور کمپیوٹر کا ہے مگر بنیادی تعلیم بہت ضروری ہے ہم جہاں انگریزی اور ماڈرن تعلیم پر زور دیتے ہیں وہاں دینی تعلیم اور اخلاقی تعلیم بھی ضروہے تعلیم حاصل کرلی مگر دینی اخلاقی تعلیم اور تربیت حاصل نا کی تو ایس تعلیم کا کیا فائدہ جس کے پاس ڈگریاں تو ہوں مگر وہ اخلاقی اور دینی تربیت سے محروم ہو. آپ صرف وسطی ایشیائی ممالک کو لے لیں جہاں پر شرح خواندگی ٩٩٪ ہے وہاں ہر دوسرا شخص پڑھا لکھا ہے

    حدیث نبوی صلی الله علیه وسلم ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اب آپ یہ بھی اندازہ لگا لیں کے قرآن اور حمیں کتنا زور دیا گیا ہے تعلیم پر

    ہم اگر اپنے آپ سے وعدہ کریں کے تعلیم اور تربیت کے معاملے پر کوتاہی نہیں برتیں گے تو یقین کریں ہم بھی اپنی شرح خواندگی کو بہترین کر سکتے ہیں تعلیم نہایت ضروری ہے آخر کیوں وسطی ایشیا یا پھر کئی ممالک تہذیب یافتہ ہیں وجہ تعلیم پر زور اور سب کے لئے یکساں مواقع.

    ہم نے تعلیم اور تربیت ضرور حاصل کرنی ہے کیونکہ یہ ﷲ کا حکم اور حدیث بھی ہے.

    Twitter Id @ M1Pak