Baaghi TV

Category: تعلیم

  • اسکول  بند ہونے سے دوسرے ممالک کی طرح سہولیات فراہم کرنے کی طاقت ہے؟۔تحریر : حمیداللہ شاہین

    اسکول بند ہونے سے دوسرے ممالک کی طرح سہولیات فراہم کرنے کی طاقت ہے؟۔تحریر : حمیداللہ شاہین

    بدقسمتی سے پاکستان میں کرونا مرحلے کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد تعلیمی اداروں کو بھی تباہی کی طرف گامزن کردیا۔ 26 فروری 2020 کو کراچی میں جب پہلا معاملہ سامنے آیا، تھوڑے ہی عرصے میں یہ پورے ملک میں پھیل گیا جس نے معمولات زندگی کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبوں کو بھی لاک ڈاؤن میں گھسیٹنا شروع کردیا۔
    کیا طلباء اسکول واپس جائیں گے؟؟؟۔۔
    ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب دینے کی ضرورت ہے، کیوں کہ اداروں کی طویل اور پیچھے سے بندش کے بعد طلبہ کا مطالعہ بہت متاثر ہوا۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس بہت تیزی سے پھیل چکا ہے، اس لئے حکومت نے بچوں کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں پر بھی لاک ڈاؤن نافذ کردیا۔ تعلیمی ادارے بند ہونے سے اور بچوں کے اسکول نہ جانے سے شرع خواندگی میں کمی آنا شروع ہوگئی۔ 2019 میں ہماری خواندگی کی شرح 60٪ تھی لیکن 2020 میں اس نے 2٪ کم کرکے 58٪ تک پہنچا دیا۔ اگر مزید ہم نے اسی طرح کا کام جاری رکھا تو حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ ان طویل وقفوں سے بہت سارے طلبا کی دلچسپی ختم ہوگئی۔ پہلے وقفے میں کئی بچوں نے اپنی تعلیم چھوڑ دی، تیسری لہر میں بھی ایسے واقعات سامنے آئے۔

    جب بھی ان سے وجہ پوچھی گئی کہ انہوں نے تعلیم کیوں چھوڑ دی؟، جواب ملتا کہ ہر دو تین ماہ بعد ہمیں طویل وقفے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو ہم اس فعل سے بیمار ہوگئے۔
    اسی طرح بہت سارے دوسرے طلباء بھی اسی مصائب کا شکار ہیں۔ اس سے ہمارے ڈراپ آؤٹ تناسب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    اس سے انکار نہیں کیا جاتا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے تعلیم کو بے حد قبولیت حاصل ہے۔ اسکول تقریبا سارا سال بند رہتے تھے اور اب گرمیوں کی تعطیلات کے بہانے بہت سارے دوسرے اسکولوں کی چھٹی جاری رہتی ہے۔
    کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بندش کے دوران طلباء کو آن لائن کلاسوں کی طرف بڑھا دیا گیا جو کسی بھی موقع سے قابل قبول نہیں تھے۔ سب سے پہلے انٹرنیٹ بہت بڑا پہلا مسئلہ تھا کیونکہ ملک کے متعدد حصوں میں انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے۔ انٹرنیٹ کی رسائی تو دور کی بات موبائل کے سگنلز بھی نہیں آتے، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے علاوہ آن لائن لرننگ سسٹم میں دیگر بہت ساری خرابیاں ہیں۔
    طلباء اساتذہ سے روبرو بات چیت سے محروم ہوجاتے ہیں اور اس مواد پر توجہ مرکوز نہیں کرسکتے ہیں جو اساتذہ فراہم کرتا ہے۔
    دوم زیادہ تر طلبا ڈیجیٹائزڈ نہیں ہیں اور ان کے پاس کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ یا اسمارٹ فونز نہیں ہیں۔ حکومت نے تو وائرس سے کھل کر مقابلہ کیا لیکن تعلیم کے شعبے میں بھی کچھ دیکھنے کو ملا، یونیورسٹی سطح کے طلباء پر خاصی توجہ دی گئی اور ان کے لئے آن لائن کلاسز جاری کیں لیکن تقریبا 40٪ طلبا پرائمری سیکشن میں ہیں، وہ ان سہولیات سے محروم ہوگئے؟۔ اور پھر بڑے شہروں کے یونیورسٹیاں تو آن لائن کلاسز دے سکتی ہیں لیکن چھوٹے شہروں اور قصبوں میں یہ ممکن نہیں۔
    ان وقفوں کے مہلک نتائج تعلیم، طالب علم اور اساتذہ پہ اثر اندا ہوئے ہیں۔ دوسرے ممالک نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے مختلف طریقوں کی تجاویز پیش کی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔
    تاہم اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بند تو کردئے گئے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی بات چیت کو محدود کرے۔ لیکن اس کے باوجود عوام نے ایس او پیز کا خیال نہ رکھتے ہوئے باہر نکلتے رہے اور مواصلات، اجتماعات سیر و تفریح ویسے ہی تھے جیسے پہلے تھے۔

    احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اور اپنی صحت کو بچانا واقعی بہت اچھا ہے لیکن ہمیں اپنی تعلیم کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔
    حکومت کو ان طویل وقفوں کو ختم کرنا چاہئے اور ان کو جاری رکھنے کے لئے تعلیمی اداروں میں ایک نئی بڑی اور بہتر تبدیلی لانا چاہئے۔
    پاکستان کے کئی علاقوں میں سہولیات کے فقدان کی مثالیں موجود ہیں، میرا تعلق چونکہ بلوچستان کے ضلع پشین سے ہے، اس لئے پہلے اگر یہاں کی بات کی جائے تو اس میں کوئی شق نہیں کہ پرائیویٹ اسکول نے دھڑادھڑ پیسے کمائے، والدین پر اسکول بند ہونے کے باوجود فیس بھرنے کی زور دی گئی، یہاں پر شہر میں لڑکوں کے دو ہائی اسکول، گرلز کی ایک ہائی اسکول اور ایک گرلز ڈگری کالج جبکہ ایک بوائز ڈگری کالج اور ایک بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ کی سب کیمپس ہے، لیکن پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں کی بھرمار ہے، 80 فیصد بچے مختلف دیہی علاقوں سے آکر شہر میں پڑھتے ہیں اور یہاں پہ 30 فیصد سے کم لوگوں کو انٹرنیٹ یا کمپیوٹر کی سہولت میسر ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں تو موبائل کے سگنلز تک نہیں آرہے اور پھر دیہی علاقوں میں 18 جبکہ شہر میں 12 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہونے کے بعد صرف ایک پرائیویٹ اسکول نے آن لائن کلاسیں دینا شروع کیں جوکہ دیہی علاقوں انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور بجلی کی سہولیات نہ ہونے کے باعث بند کردی گئی۔
    حکومت پاکستان بالخصوص حکومت بلوچستان کو صوبہ بھر میں تعلیم کے شعبے پر زور دینی چاہئے، اور تعلیم کی اہمیت سمجھنے کے لیے دیہی علاقوں یا ضلعوں میں ماہانہ ورکشاپ قائم کرنے چاہئے، تاکہ لوگوں کو اگاہی ملے اور ہر سہولت فراہم کرنے میں مدد فرمائے، اساتذہ کو بھی جدید ٹیکنالوجی اور معیار تعلیم سکھانے پر توجہ دی جائے۔

  • سپیشل بچوں کا سپیشل خیال ،‏تحریر: شاہدہ بانو

    سپیشل بچوں کا سپیشل خیال ،‏تحریر: شاہدہ بانو

    انسان کو اللہ پاک نے بڑی پیاری اور اعلی جسامت سے نوازا ہے
    انسان کا جسم ہڈیوں، گوشت، خون وغیرہ سے مل کر ایک جسم کی شکل میں سامنے ہوتا ہے
    سامنے دیکھنے میں تو انسان تقریبا سب ایک جیسے ہی ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگوں میں اللہ پاک کی طرف سے کوئی نا کوئی کمی رکھ دی جاتی ہے یا پھر زندگی میں آگے بڑھتے ہوئے انسان کی زندگی میں کوئی ایسا حادثہ کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے جس سے انسان اپنے جسم کا ظاہری یا اندرونی حصوں میں سے کوئی ایک کھو دیتا ہے جس سے وہ معذور ہو جاتا ہے
    کچھ بچے پیدائش کے وقت ہی کسی نا کسی جسمانی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں
    ایسے بچے نارمل بچوں سے زیادہ توجہ مانگتے ہیں جب ان کو خصوصی توجہ دی جائے تو وہ بچے احساس کمتری کا شکار نہیں ہوتے اور وہ بھی زندگی کی دوڑ مین شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں سپیشل بچوں کے لیے الگ سے سکولز ہیں وہاں بچوں کے لیے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں کوشش کریں وہاں بھی بچوں کو بھیجا جائے اور خصوصی توجہ دلائی جائے اور گھر مین بھی بچوں کو ایسا ماحول دیا جائے جس سے وہ اپنی کمزوری کو سوچنے کے بجائے وہ اپنی زندگی کا سوچیں

    وہ کھڑے نہیں ہو سکتے تو لیٹا کر ہی ان کو ورزش کرائی جائے ان کے ساتھ باتیں کی جائیں ان کو زیادہ سے زیادہ ٹائم دیا جائے
    اگر وہ بول نہیں سکتے تو ان کے اندر پڑھنے لکھنے کی اتنی صلاحیت پیدا کی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں دنیا کو بتا سکیں
    وہ اپنے کام کروا سکیں
    آگے جا کر وہ اپنے لیے خود کما کر کھا سکیں

    بہت جگہوں پےچل دیکھا گیا ہے اسپیشل بچوں کو الگ کر کے رکھ دیا جاتا یے ان کو کوئی توجہ نہیں دی جاتی ان کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا جس سے وہ بچے پہلے تو بیمار ہوتے ہی ہیں بعد میں وہ سوچ سوچ کر احساس کمتری جیسی لعنت کا بھی شکار ہو جاتے ہیں
    آئیں مل کر معاشرے کو اسپیشل بچوں کا اسپیشل خیال رکھنے کی طرف لے کر آئیں
    خود بھی کوشش کریں ہمارے معاشرے میں ہمارے ارد گرد ہمارے خاندان میں کوئی ایسا بچہ ہے تو ہم خود اس کا زیادہ سے زیادہ خیال بھی رکھیں گے

  • پاکستان میں تعلیم ،تحریر ! صاحبزادہ ملک حسنین

    پاکستان میں تعلیم ،تحریر ! صاحبزادہ ملک حسنین

    تعلیم انفرادی و اجتماعی طور پر سب کے لیے نہایت اہم ہے تعلیم معاشرے کو بہترین شہری پڑھے لکھے نوجوان اور معاشرے کو باشعور کرتی ہے تعلیم ہر قوم کی بنیاد ہوتی ہے تعلیم ایک اچھا انسان بننے میں مدد دیتی ہے انفرادی طور پر کسی بھی ملک کا تعلیم یافتہ ہونا ملکی استحکام اور ترقی کے لئے بہت ضروری ہے جس سے وہ ملک ترقی کرتا ہمارے دن اسلام نے مسلمانوں پر تعلیم فرض کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی اہمیت اس قدر بیان کی ہے کہ "علم عبادت سے افضل ہے”
    تحریک پاکستان سے قبل برصغیر میں سرسید احمد خان نے تعلیم کے لئے جو اقدامات کیے آج ایسی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں ایک سکول کو کالج اور یونیورسٹی تک لے گئے اگر اس وقت مسلمان ایسی اعلی کاوشیں کر سکتے ہیں تو آج ہم اس آزاد ملک میں کیوں نہیں کر سکتے

    ہماری آزادی کو 73 گزر چکے ہیں مگر آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے کیا اچھا کیا اور کیا برا کیا کبھی ہم پکے مسلمان بننے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی مغربی ممالک کی نقالی کرتے نظر آتے ہیں یہ یہ بات صرف رہن سہن کی حد تک نہیں ہمارا تعلیمی نظام بھی اس سے نہیں بچ سکا ہرسال بدلتے تعلیمی نصاب نے ہمارے تعلیمی نظام کو مکمل تباہ کر دیا ہے ہم تو آج تک یہ طے نہیں کر پائے کہ ہمارے تعلیمی نظام کی زبان اردو ہونی چاہیے یا انگریزی ملک کا حال یہ ہے کہ ہماری قومی زبان اردو ہونے کے باوجود ہم لوگ انگریزی کو پسند کرتے ہیں تعلیمی نظام میں بھی انگریزی کو پسند کیا جاتا ہے آخر کون سی احساس کمتری ہے جو ہمیں ہماری قومی زبان اردو سے دور کر رہی ہے دنیا میں جتنی بھی قوموں نے ترقی کی ہے وہ اپنی قومی زبان میں کی ہے

    مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارا تعلیمی نصاب امریکا اور یورپ کا ہی مرہون منت رہا ہے ہمارے مصنفین نے جو بھی اردو میں کتابیں لکھی ہیں ان کو ترقی یافتہ ممالک میں لکھی گئی کتابوں کا ترجمہ کہہ سکتے ہیں جو کتابیں ہمارے مصنفین نے انگریزی میں لکھی ہیں ان کو ترقی یافتہ ممالک میں لکھی گئی کتابوں کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں جب سے نجی اسکولوں اور اور کالجوں کا رواج پڑا ہے تب سے کتابیں بھی انہی مصنفین کی پڑھائی جاتی ہیں جو یورپین یا امریکن سکولوں کالجوں میں پڑھائی جاتی ہیں
    قوموں کی ترقی کا دارومدار کتابیں پڑھ لینے یا ڈگریاں حاصل کرنے میں نہیں ہے کہا جاتا ہے کہ گریجویٹ اسمبلی بن جانے سے ہمارا سیاسی کلچر تبدیل ہو جائے گا اکثر ہمیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ پڑھے لکھے لوگ آگے آئیں گے تو یہ ملک ترقی کرے گا مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان ہر محکمے میں پڑھے لکھے افراد موجود ہیں جن کی تعلیمی قابلیت ایم فل یا پی ایچ ڈی ہے مگر پھر بھی ملک ترقی نہیں کر رہا ہے تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور ان اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں جن کا ذکر ہمیں کتابوں میں ملتا ہے

    مگر "پاکستان میں حقیقت اس چیز کے بالکل برعکس ہے یہاں طلبہ کو تعلیم نہیں ڈگریاں دی جاتی ہیں”
    پاکستان میں ہزاروں گورنمنٹ کالج اور سکول قائم ہیں جن میں نہ جانے کتنے زمین پر اور کتنے کاغذوں پر موجود ہیں لیکن ہزاروں کالجوں اور سکولوں کے باوجود لوگ بنیادی تعلیم سے محروم ہیں تعلیم مہنگی سے مہنگی تر ہوتی جا رہی ہے لوگوں میں اس کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے "بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کو کاروبار سمجھا جاتا ہے اور لاکھوں نہیں کروڑوں کمائے جاتے ہیں ”
    دنیا کے وہ 26ممالک جو پاکستان سے بھی زیادہ غریب ہیں مگر تعلیم پر پاکستان سے زیادہ خرچ کرتے ہیں مگر ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بجٹ میں سے صرف 2 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ ہمیں سکولوں اور کالجوں کی خستہ حالت کی صورت میں نظر آتا ہے جو چند لوگ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ سرکاری اداروں کے بجائے نجی اداروں کو فوقیت دیتے ہیں

    تعلیم کے لیے مختص کیا گیا 2 فیصد بجٹ بھی کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے ” پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے بھی زیادہ بچے غربت کی وجہ سے اسکول نہیں جا پاتے ہم اس وجہ سے بھی تعلیم میں دنیا سے پیچھے رہ گئے ہیں کہ ہمارے حکمران تعلیم پر توجہ نہیں دیتے اگر پاکستان میں نظام تعلیم بہتر کرنا ہے تو سب سے پہلے ہمیں تعلیمی بجٹ بڑھانا ہوگا اور اپنا تعلیمی نصاب درست کرنا ہوگا اور تعلیم کے لیے ان اساتذہ کا انتخاب کرنا ہوگا جو نئی نسل کی ذہنی صلاحیت سے واقف ہوں اور ان کے تعلیمی تقاضوں کو پورا کر سکیں اور اس کا بہترین ذریعہ ہے وہ طلباء ہیں جو حال ہی میں تعلیم حاصل کرکے فارغ ہوئے ہو (یعنی نوجوان اساتذہ )وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز تبدیل ہوئی ہے تو لازما” ایجوکیشن کے طور طریقے اور تقاضے بھی تبدیل ہوئے ہیں انہیں وہ اساتذہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں جو چند سال قبل ہی تعلیم سے فارغ ہوئے ہوں حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کے لئے تمام عملی اقدامات بروئے کار لائے اور پورے ملک میں ایک ہی نظام تعلیم ہو۔

  • اخوت یونیورسٹی خواب نہیں حقیقت۔ تحریر: عادل ندیم

    اخوت یونیورسٹی خواب نہیں حقیقت۔ تحریر: عادل ندیم

    وہ دور جس میں تعلیم کو ذریعہ معاش بنا لیا گیا ھو
    اس دور میں تعلیم، کھانا ، رھائش، یونیفارم اور دیگر ضروری سامان کی مفت فراہمی ایک دیوانے کا خواب ھی لگتا تھا۔
    لیکن یہ خواب حقیقت کا روپ دھار چکا ھے۔

    میں آپ کو متعارف کروانے جا رھا ھوں
    لاھور اور قصور کے سنگم پر للیانی نہر کے کنارے واقع اخوت کالج یونیورسٹی قصور سے۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب کا ایک اور خواب ایک اٹل حقیقت کا روپ دھارے ھمارے سامنے کھڑا ھے۔

    اخوت کالج یونیورسٹی میں پنجاب، سندھ ، کے پی کے ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام علاقوں سے برابری کی بنیاد پر طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ھے۔

    اخوت کالج میں انٹرمیڈیٹ کی کلاسز کا آغاز 2015 سے ھو چکا تھا اور اب یونیورسٹی کلاسز کا بھی آغاز ھو چکا ھے۔
    طلباء سے ایک روپیہ بھی فیس کی مد میں نہیں لیا جاتا۔
    اعلیٰ معیار کا کھانا ، تعلیم اور رہائش مفت فراھم کی جاتی ھے۔
    طلباء کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ھے۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب سے جب طلباء کی فیس کے بارے میں پوچھا جاتا ھے تو ان کا یہ کہنا ھے کہ
    اخوت کالج یونیورسٹی میں طلباء سے پڑھائی سے قبل لاکھوں روپے فیس کا مطالبہ نہیں کیا جاتا بلکہ طلبا سے کہا جاتا ھے کہ پڑھ لکھ کر جب کامیاب ھو جاؤ تو پھر آ کر اپنی فیس ادا کر دینا تا کہ آپ کسی کا سہارا بن سکو اور آپ کی دی ھوئی فیس سے کوئی اور پڑھ لکھ کر کامیاب ھو سکے۔

    اس قدر اعتماد؟ اس قدر بھروسہ ؟
    اسے خاموش انقلاب ھی کہا جا سکتا ھے ۔

    ایسا انقلاب جو ھمیں کچھ سالوں بعد نظر آنا شروع ہو جاے گا جب اخوت کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلباء مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سر انجام دیں گے۔
    اخوت ایجوکیشن پروگرام میں اخوت کالج یونیورسٹی قصور ، اخوت انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فیصل آباد ، اخوت کالج فار وومن چکوال ، این جے وی سکول کراچی اور اخوت پرائمری سکولز (350 سے زائد) شامل ھیں ۔

    نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیز ہے ساقی

  • تعلیمی اداروں میں کیمرے کیوں ضروری ۔۔۔تحریر:حنا

    تعلیمی اداروں میں کیمرے کیوں ضروری ۔۔۔تحریر:حنا

    جیسا کہ آپ جانتے ہیں ۔ہمارے ملک میں بدفعلی زنا اور فحاشی دن بدن بڑتی جارہی ہے ۔حکمران ریاست حتی کہ سبھی لوگ بے بس نظر آتے ہیں ۔۔کہ اس بدفعلی کو کیسے روکا جاے ۔آئے روز ِنت نئے کیس دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ دنیا بھر کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی اداروں میں کیمرے نصب کیے جاتے ہے اساتذہ سمیت بچوں کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے ۔بطور مسلمان ہم سب جانتے ہیں فحاشی اور بدفعلی گناہ ہے جرم ہے اور اسلام میں اس کی کیا سزا ہے ۔
    زنا کی سزا بتاتے وقت ۔
    اللہ تعالی نے فرمایا ۔
    اور تمھیں اللہ کے دین کے نفاد کے متعلق ان دونوں کے بارے میں کوئ ترس نہ آئے ۔
    اگر تم اللہ تعالی اور یوم آخرت پر یقین رکھتے ہو ۔
    (النور 2:24)
    وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲)ترجمہ: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔
    زنا کرنے والا شخص اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سو (۱۰۰) کوڑے ہیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سنگسار کیا جانا ہے، آدھا جسم زمین میں گاڑ کر پتھروں سے اسے مارا جائے یہاں تک کہ اس کی جان نکل جائے۔ ایسی سزا کو حدود اللہ کہا جاتا ہے جس کا جاری کرنا حاکم اسلام کا کام اور ذمہ داری ہے، 

    پاکستان میں اس وقت تین بڑے مکتبہ فکر ہیں جنکے مدارس کثیر تعداد میں پورے پاکستان میں پھیلے ہوۓ ہیں دیوبندی مکتبہ فکر کا الحاق وفاق المدارس سے ہے جس سے تقریبا 18600 مدارس منسلک ہیں جنمیں 20 لاکھ کے قریب طلباء طالبات زیر تعلیم ہیں جبکہ بریلوی مکتبہ فکر کا الحاق تنظیم المدارس سے ہے اور اس سے تقریبا 9000 بریلوی مدارس منسلک ہیں جنمیں 13 لاکھ طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں
    اس طرح اہل حدیث مکتبہ فکر کا الحاق وفاق المدارس اسلافیہ سے ہے اس کے تحت تقریبا 1400 مدارس ملک بھر میں فعال ہیں جنمیں کل ملا کے 39000 طلباءوطالبات زیر تعلیم ہیں
    خلاصہ یہ نکلا کے پاکستان میں 29000 رجسٹرڈ مدارس ہیں جنمیں 3339000 طلباءوطالبات زیر تعلیم ہیں
    اسی طرح دنیاوی تعلیم کے اداروں پر بات ہو تو سرکاری غیر سرکاری ابتدائی مڈل سیکنڈری کالج یونیورسٹی سمیت 2234255 ادارے دنیاوی تعلیم کے لیۓ پاکستان میں فعال ہیں جنمیں قریب 8 کروڑ قوم کے بچے بچیاں زیر تعلیم ہیں

    پاکستان بھر میں مدرسہ ہو یا کالج یونیورسٹی ہو یا جامعہ الا قلیل ہر ایک ادارے میں ہفتے مہینے میں ایک دو کیس ایسے ضرور سامنے آتے ہیں جن سے پتا چلتا ہے طلباء نے آپس میں یا طالب علم نے طالبہ سے یا ٹیچر نے طالبہ کیساتھ قاری نے بچے کیساتھ ٹیچر نے شاگرد کے ساتھ پروفیسر نے طلبہ کے ساتھ زیادتی کی ہے اور سینکڑوں ایسی زیادتیاں ہوتی ہیں جو سامنے ہی نہیں آتیں بچے مسلسل زیادتی کا شکار ہو ہو کر مفلوج ہو جاتے ہیں کچھ عرصہ پہلے گجرانوالہ کی دینی درسگاہ کی ویڈیو سامنے آئی تھی اس طرح اک کالج میں کلاس روم کے سیکنڈل کی بھی لاہور یونیورسٹی میں ایک طلبہ کا گینگ ریپ بھی مانسہرہ کے قاری شمس الدین کی زیادتی ہو یا آئے روز جو دین کے ٹھیکدار ہوتے ۔جو خود کو دین کا وارث کہتے ہیں آئے روز ان کی بدفعلی کی وڈیو آرہی ہے ۔

    اگر ہم سیاست سے بالاتر ہو کر دیکھیں ۔تو ہمارے آس پاس ان گنت بچے اس وقت زیادتی کے بعد قتل کیے جا چکے ہیں. انصاف نہیں ملتا ۔۔کیوں؟ اس کی ایک بڑی وجہ ہے ۔۔میرے حکمرانوں کی خاموشی ۔۔۔موجودہ حکمران ہوں یا ماضی کے ۔۔سبھی ہمیشہ تب بولتے ہیں جب قتل یا درندگی سے متاثرہ ہونے والے بچے کا تعلق مخالف پارٹی کے صوبے یا علاقے سے ہو ۔۔ہمیشہ اس وقت انصاف کا رونا رویا جاتا ہے جب مخالف کو ذلیل اور لعن طعن کرنا ہو ۔حکمران انبیاء اور صحابہ کی مثالیں عوام کو تو دیتے ہیں لیکن خود عمل کیوں نہی کرتے درندگی فحاشی کتنا ہی بڑھ گئ ہو ۔اسے روکنا حکمرانوں پر فرض ہے ۔۔لیکن میرے حکمران تو جیسے ستو پی کر سووے ہووے ہیں ۔۔جناب عالی صرف گرفتار کرنے کو سزا دینا نہیں کہتے ۔۔کہ کسی نے جرم کیا تو آپ نے اسے سزا دے دی ۔۔جیلوں میں عیاشی کی زندگی دے دی ۔۔اور پھر وہی مجرم پولیس کو رشوت دے کر ضمانت کروا لیتا ہے ۔۔۔خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے چوبیس لاکھ مربع میل کر حکومت کی……..راتوں کو اٹھ اٹھ کر پیرا دیتے تھے اور لوگوں کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے…..کہتے تھے اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن عمر (رضی اللہ عنہ )سے اس بارے میں پوچھ ہو گی……

    ۔۔جب مدرسہ کا مولوی بچے کے ساتھ زنا کرتا ہے ۔ قتل کرتا ہے تو تمام علماء خاموش ہوتے ہیں ۔مگر ڈگری والے ماسٹر رونا ڈال رہے ہوتے ہیں ۔انصاف کا ۔۔ اصل میں انصاف کا نہیں ۔بلکہ مدرسے کو بدنام کرنے کا اور اس وقت میری تمام حقوق کی تنظیمیں بھی بڑھ چڑھ کہ بولتی ہے میرے اداکار میرے گلوکار چینلوں پہ کالے رنگ کے لباس پہن کہ آجاتے ہیں۔مگر انصاف نہیں مانگتے ۔انصاف مانگتے تو جس مولوی کی غلطی ہو وہ اس کی سزا کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں لیکن وہ تمام مولوی طبقے کو گالی گلوچ مدرسوں کو غلط جگہ قرار دے کر اپنا الگ ہی بغض نکالنے لگ جاتے ہیں ۔ مدرسے کو بدنام وہ تمام مولوی طبقہ بھی کرتا ہے جو ایک مولوی کی غلطی پہ گناہ پہ خاموش ہوتا ہے ۔وہ تمام حافظ قرآن وہ تمام عالم بھی اس گناہ میں شامل ہوتے ہیں کیونکہ وہ خاموش رہے ۔اب آپ لوگ مجھے کہیں گے ۔تم علماء کو برا کیوں بول رہی ۔۔ باقی جگہوں پر بھی تو ایسا ہوتا ہے ۔۔ارے باقی جگہیں خدا کا گھر نہیں کہلائ جاتی مساجد مدارس کو خدا کا گھر کہا گیا ہے ۔۔اور علماء کا رتبہ بہت بلند رکھا گیا ہے ۔۔قرآن جیسی عظیم کتاب پڑھانے والا بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے والا ایسا فحش عمل کرے گا تو سوال تو ہوں گے ۔۔ انگلی تو اٹھے گی ۔۔صرف اس پر نہیں ہر مولوی ہر داڑھی والے پر کہ کہیں یہ بھی ایسا تو نہیں ۔۔ایک مچھلی گندی ہو تو پورا تالاب گندہ کرتی ہے۔۔۔دوسری بات ۔جب سکول کالجز یونیورسٹیوں میں کسی لڑکی لڑکے کے ساتھ غلط ہوتا ہے یا قتل ہوتا ہے تو میڈیا خاموش ہوتا ہے ۔میرے حکمران خاموش ہوتے ہیں ۔میرے اداکاروں میری گلوکاروں کے سیاہ رنگ کے لباس گم ہو جاتے ہیں ۔کیوں؟ کیوں کہ وہ جگہیں ڈگری والوں کی ملکیت ہوتی ہے ۔۔وہاں منہ بند رکھنے کے پیسے ملتے ہیں میڈیا مالکان کو ۔حقوق کے علمبرداروں کو ۔موم بتی مافیا کو ۔وہاں ہر تیسرا بندہ یہ کہ کر جھٹلا دیتا ہے کہ لڑکی ہی غلط ہو گی ۔لڑکا ہی غلط ہو گا ۔۔۔والدین ہی برے ہوں گے ۔۔۔ آج زنا کی اس وباء سے چھوٹے چھوٹے بچے بھی محفوظ نہیں۔وہ لڑکا ہو یا لڑکی ۔۔آج یہ کہنا کہ لڑکی نے ہی ورغلایا ہوگا ۔۔یا یہ کہنا بچی کا لباس پورا نہ تھا تو مرد بہک گیا ۔۔ایک ماں کا لاڈلہ بہک گیا ۔۔دین کا خودساختہ ٹھیکدار بہک گیا ۔۔یا سکول ماسٹر پروفیسر بچے کی خوبصورتی اور میک اپ کو دیکھ کر بہک گیا یہ بالکل غلط بات ہے۔ سال دو سال کے بچے جو ماں تک بولنا نہی جانتے ہوتے ۔ وہ بھی محفوظ نہیں ۔۔کیوں؟ اس کے ذمہ دار آپ سب بھی ہے ۔آپ نے کیوں نہیں مانگا انصاف ۔۔اسماء کے لیے ۔عاصمہ کے لیے ۔مدیحہ کے لیے ۔آمنہ کے لیے ۔ ۔نور کے لیے ۔ہادیہ کے لیے ۔رضوان کے لیے ۔عامر کے لیے ۔اور ان جیسے بے شمار بچوں کے لیے ۔۔آپ کیوں صرف اک دوسرے کی مخالفت پہ ہی بولتے ہو۔سرے عام پھانسی پر کیوں نہیں بولتے ؟کیوں نہیں سرے عام سنگسار کی بات کرتے۔۔کوی بھی بندہ کسی دوسرے کے ایسے جرم پر اسے سنگسار نہیں کر سکتا ۔۔یہ قانون حکمران بناتا ہے حکمران مجرم کو سنگساری کی سزا دے سکتا ہے ۔

    کچھ ماہ قبل جب بشریٰ انصاری نے مدارس میں کیمرے لگانے کا مطالبہ کیا تو ایک مشہور سلفی دانشور نے غلاظت اگلتے ہوئے اس مطالبے پہ بشریٰ کو طوائف قرار دیا تھا۔وہ اداکارہ ہے تو وہ طوائف ٹھہری اور مذہب کے نام پر بدفعلی کرنے والے کیا کہلاے؟
    ہاں یہ کہا جاسکتا تھا کہ سکولوں کالجوں میں بھی کیمرے لگاے جائیں ۔آپ مدرسوں میں کیمرے لگاو کوی مولوی مخالفت کرے اسے الٹا لٹکاو ۔۔علماء مولوی کو بھی ہم نے خدا سمجھ لیا ہے ۔۔کہ وہ گناہ کر ہی نہیں سکتا اور اگر کرتا ہے تو چپ کر جاو خاموش ہو جاو ۔۔نہ جانے کیوں یہ سوچ لوگوں کے ذہنوں پر مسلط کی ہووی ہے ۔کہ عالم حافظ کو سزا کی بات کی تو دین خطرے میں پڑھ جاے گا ۔۔۔ارے دین کو سب سے زیادہ بدنام خود یہ علماء کررہے ہیں علماء کے بارے ایک فرمان ہے
    عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔” (بیہقی)۔۔۔تو علماء کو علماء ہی سمجھیے ۔۔خدا یا رسول نہیں کہ یہ مجرم ہے تو خاموش ہو جاو

    ہم ملکر حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں ۔پورے پاکستان میں خفیہ کیمرے نصب کیے جائیں
    مدارس میں کیمرے لگائے جائیں ۔ بشرطیکہ وہ کیمرے کالج، یونیورسٹی،ایم این اے، ایم پی ایز کے ریسٹ ہاؤسز، افسران کے دفاتر، پولیس، وکلاء اور بڑے بڑے دفاتر جو حکومت کے ماتحت ہے ہر جگہ خفیے کیمرے نصب کیے جائیں ۔۔ہاں یہ مفت کا کام نہیں ہے اس پہ بہت پیسہ لگے گا ہم عوام دیں گے پیسہ ۔۔ویسے بھی ہم بہت ٹیکس دیتے ہیں ۔۔چند پیسے اگر ہماری نسل کے تحفظ پہ لگ جائیں تو ہمیں قابل قبول ہے ۔۔آپ کیمرے لگائیں ۔پھر دیکھیں گے ۔۔برائی کس جگہ سے جنم لے رہی ہے ۔۔۔اور کون اس برائ سے پاک صاف ہے

    ۔

    Article Writer Name

    Hina 

     

  • اسکول نہیں نوٹوں کی مشین ہیں! تحریر: عقیل احمد راجپوت

    پاکستان کا سب سے بڑا المیہ تعلیم کا بوسیدہ نظام سرکاری اسکولوں میں تعلیم نام کی چڑیا اگر کسی پاکستانی نے دیکھی تو وہ 80 کی دھائی کا زمانہ تھا اس کے بعد سیاست دانوں سے لیکر ہر کاروباری شخصیت نے اپنے ایک منافع بخش کاروبار کے طور پر اسکول کا انتخاب کیا جس میں کبھی نقصان ہو ہی نہیں سکتا اس بھیانک صنعت کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کے سرکاری اسکولوں میں معنوں تعلیم ہر گزرتے دن کے ساتھ ایسے غائب ہورہی ہے جیسے کراچی سے صفائی کا نظام کراچی والوں کی مثالیں اب اسی طرح کی ہوگئی ہے خیر اسکول مافیا کا زور آج اتنا بڑھ چکا کے سپریم کورٹ کے فیصلوں اور واضح احکامات کے باوجود یہ مافیا اپنی مان مانی جاری رکھا ہوا ہے فیسوں سے لیکر کاپیوں اور یونیفارم سے لیکر مختلف پروجیکٹس کے نام پر والدین کی جیبوں سے پیسہ ایسے نکالا جاتا ہے جیسے کراچی میں مرغی کا ریٹ پھر کراچی والا!

    تو قدر دانوں بات یوں ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے نام پر اساتذہ کو دی جانے والی تنخواہیں اسکولوں کے نام پر جاری ہونے والے فنڈ ایسے غائب ہورہے ہیں جیسے کچرے میں کراچی غائب ہو رہا ہے!
    اسکول پر اربوں کھربوں لگانے والے حکمرانوں میں سے کسی ایک اولاد ان سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتی ہوئی دکھائی دیتی تو مجھے احساس ہوتا کے پاکستان دو نہیں ایک ہوگیا تبدیلی کے بعد مگر پاکستان تبدیلی کے بعد بھی دو ہیں تبدیلی کا نعرہ لگانے والے یہ حکمران اپنے بچوں کو بیکن ہاؤس اور ماما پارسی جیسے اسکولوں سے نکال کر کالے پیلے اسکول میں جب داخلہ کروانا شروع ہوجائیں تو سمجھ لینا تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ آگئی ہے مگر فلحال تبدیلی ایسی ہی ہے جیسے کراچی کی پینے کے پانی کی لائنوں سے آتا ہوا گٹر ملا پانی!

    اسکول مافیا کی من مانیاں اس قدر بھڑ چکی ہے کے اب انہوں نے ان کاروباری سرگرمیوں کو رہائشی علاقوں میں بھی شروع کردیا عام سا بجلی پانی اور ٹیکس دینے کے بعد یہ کمرشل کاروبار کو رہائشی علاقوں میں چلا کر علاقے کی عوام کو روزانہ کی بنیاد پر مشکل اور پریشانیوں میں ڈال رہے ہیں اسکول کی چھٹیوں کے وقت اس پاس کے لوگ اپنے گھروں سے کسی ایمرجنسی کی صورت میں باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے بلکل کراچی کی سڑکوں پر چوتھے گیر میں لگاتار گاڑی چلانے کی طرح!

    تو حکمرانوں اور اداروں سے درخواست ہے کہ مافیا ختم تو آپ نہیں کرسکتے کم سے کم اس پر قانون سازی کرکے ایک راہ ہموار کریں جس کے زریعے گزرنے والے والدین کو اپنی پریشانیوں کو کس حد تک بڑھانا ہے اور اپنا کتنا پیٹ کاٹنا ہے معلوم ہو بلکل اسی طرح جیسے کراچی والوں کو پانی آنے اور ٹینکرز کس دن ڈلوانا ہے معلوم ہوتا ہے
    کرونا وائرس کے ادوار میں فیسوں کا معاملات کو دیکھا جائے فیسوں کو والدین کی استقامت کے مطابق وصول کیا جائے بچوں کو فیسوں کے جمع نا کروانے پر اسکول سے نکالنے کے عمل کو رکوایا جائے بچوں کو فیس نا دینے کی پاداش میں سزائیں نا دی جائے ان کی دل آزاری اور تضحیک نا کی جائے بلکل اسی طرح جیسے کراچی کے نالے صاف نہیں کئے جاتے!

    آخری اور اہم نوٹ پر بات کا اختتام کرتا ہوں کہ رہائشی علاقوں سے اسکولوں کو فوری کمرشل جگہوں پر شفٹ کیا جائے کیونکہ خدا نا خواستہ کسی حادثے کی صورت میں وہاں ریسکیو آپریشن نہیں کیا جاسکتا اسکول میں ایمرجنسی اخراج کا کوئی موثر نظام نہیں اس پر فوری عملدرآمد کروایا جائے تاکہ حادثے کی صورت میں جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے میری یہ درخواست چارج شیٹ ہیں ان اداروں کے افسران کے خلاف جو اس کے کرتا دھرتا ہیں ایسے کسی بھی حادثے کی صورت میں وہ اسکے زمہ دار ہونگے

  • کینسل ایگزیمز سیو سٹوڈنٹس؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    کینسل ایگزیمز سیو سٹوڈنٹس؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    پچھلے کچھ عرصے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طالبعلموں کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اُن کے امتحانات منسوخ کر کے انہیں پروموٹ کیا جائے۔ اس مطالبے کا پس منظر، وجوہات، مثبت و منفی پہلو اور اثرات پر بات کرتے ہیں۔

    2020 میں کوویڈ (کرونا وائرس) کی وجہ سے جہاں دوسرے معمولات زندگی متاثر ہوئے، وہیں تعلیمی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تعلیمی ادارے بھی بند تھے۔ ان وجوہات کی بنا پر وزارت تعلیم نے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد امتحانات کے بغیر پروموشن کا فیصلہ کیا۔ دہم اور بارہویں جماعت کے امیدواروں کو پچھلے سال کے امتحانات کی بنا پر نمبر دیے گئے اور نہم اور گیارہویں کے طالبعلموں کو کہا گیا کہ اُنکو اگلے سال کے امتحانات کی بنا پر نمبر دیے جائیں گے۔

    یہ ایک مجبوری میں کیا گیا فیصلہ تھا کیوں کہ اُس وقت نا تو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب تھی اور نہ ہی حالات کنٹرول میں تھے۔ لیکن اُس وقت کچھ ذہین/ محنتی بچوں نے امتحانات کی منسوخی کے خلاف احتجاج کیا تھا، جن کا موقف تھا کہ اس فیصلے کی وجہ سے نہ صرف اُنکی محنت رائیگاں جائے گی بلکہ مستقبل میں انکا میریٹ بھی متاثر ہو سکتاہے۔
    2021 کے آغاز میں ہی وزیرِ تعلیم نے بول دیا تھا کہ اس سال امتحانات کے بغیر کسی کو بھی پروموٹ نہیں کیا جائے گا، لیکن وقتاً فوقتاً اس کے خلاف طالب علموں کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ جس میں باقاعدہ اعلان کے بعد شدت آ گئی۔

    کچھ روز قبل کُچھ سٹوڈنٹس نے فیض آباد احتجاج کرتے ہوئے سرینگر ہائی وے کو نہ صرف بند کر دیا بلکہ وہاں موجود نجی گاڑیوں کو نقصان بھی پہنچایا۔ جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے درجنوں گرفتاریاں کیں۔

    سٹوڈنٹس کے تحفظات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اعلان کیا کہ اس سال امتحانات صرف آدھے اختیاری مضامین کے ہوں گے اور اُن 4-3 مضامین کا سلیبس بھی کم کر دیا گیا ہے۔

    کچھ طالبِ علموں کا مطالبہ ہے کہ امتحانات کو منسوخ کر کے ان کو پروموٹ کر دیا جائے۔ اس کے لیے وہ پہلی توجیح یہ دیتے ہیں کہ ہمیں امتحانات کی تیاری کا وقت نہیں دیا گیا۔ دوسری توجیح کرونا کی دی جاتی ہے کہ ہماری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک سال کا عرصہ 3 یا 4 مضامین کی تیاری کے لیے کم تھے؟ کیا انہوں نے پورا سال اِس اُمید میں تیاری نہیں کی کہ اگلے سال بھی امتحان کینسل ہو جائیں گے؟ اور اگر کرونا کی بات کی جائے تو اِسکی تیسری ویو تقریباً ختم ہو چُکی ہے، ویکسینیشن کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔ اور اگر ہمیں شاپنگ کرتے وقت کرونا کی فکر نہیں ہوئی، احتجاج کرتے وقت کرونا کا خطرہ نہیں ہوتا تو امتحانات میں بھی کرونا کُچھ نہیں کہے گا۔

    سٹوڈنٹس کے ایک دوسرے گروپ کا مطالبہ ہے کہ چونکہ ہماری کلاسز آن لائن ہوئی ہیں اِس لیے امتحانات بھی آن لائن لیے جائیں۔ یہ گروپ بھی آن لائن امتحانات کے لیے کرونا کی توجیح پیش کرتے ہیں۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ کی تیاری اچھی ہے تو اس بات سے فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ امتحان فزیکل ہوتے ہیں یا آن لائن۔ کرونا کی پیک میں کلاسز آن لائن ہوئی تھی، لیکن اس وقت اسکول اور کالج کھولے جا چُکے ہیں، اگر اس وقت بھی تعلیمی ادارے بند ہوتے تو یہ مطالبہ شاید قابلِ قبول ہوتا۔ اور ویسے بھی اگر روز مرہ زندگی کے لیے ہم کرونا کو خاطر میں نہیں لاتے تو امتحانات کے لیے یہ توجیح کچھ مضحکہ خیز ہے۔

    آنلائن امتحانات کے لیے توجیح پیش کی جاتی ہے کہ چونکہ آنلائن کلاسز ٹھیک طرح سے نہیں ہوئیں اور بہت سارے لوگ انٹرنیٹ ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے کلاسز بھی نہیں لے سکے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پڑھائی تو کتابوں کی مدد سے خود بھی کی جا سکتی ہے لیکن ایسے سٹوڈنٹس جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں وہ آن لائن امتحان کیسے دیں گے؟

    کچھ بچے مطالبہ کرتے ہیں کہ چونکہ اُنکو تیاری کے لیے مناسب وقت نہیں ملا اس لیے اُنکے امتحانات کو ملتوی کیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ ایک سال میں تیاری نہ کر سکے تو مزید کتنا وقت چاہیے؟
    اور اس سب میں کچھ لوگوں نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے طالب علموں کو بڑھاوا بھی دیا۔ ان معصوم بچوں کے درمیان موجود کُچھ شر پسند عناصر نے تو امتحانات منسوخ نا ہونے کی صورت میں املاک کو آگ لگانے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔

    کُچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سٹوڈنٹس کو بغیر امتحان پاس کر دیا گیا تو یہ نہ صرف اُن کے لیے بلکہ مُلک کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو گا۔ سٹوڈنٹس کے رویے سے لگتا ہے کہ انہوں نے تیاری نہیں کی۔ آج انکو امتحان کے بغیر ڈگری دی دی گئی تو کل کو یہ لوگ بغیر محنت نوکری کا مطالبہ بھی کریں گے۔ اور نوکری مل بھی گئی تو یہ پرفارم کیا کریں گے۔
    کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ طالب علم آن لائن امتحانات کا مطالبہ اس لیے کر رہے ہیں کہ اِن میں نقل کرنا آسان ہے۔ لوگ اپنی جگہ کسی اور سے پیپر حل کروا سکیں گے یا کسی سے مدد لے سکیں گے۔

    بالفرض اگر امتحان منسوخ ہو جاتے ہیں تو مستقبل کی پڑھائی کے لیے میرٹ کیسے بنیں گے؟ اور اگر اس سال بغیر امتحان ڈگری لینے والوں کو انڈسٹری نے قبول نہ کیا تو انکا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا یہ لوگ پھر سڑکوں پر آئیں گے؟

    ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جو لوگ امتحان دینا چاہتے ہیں اُنکی اِس خواہش کا احترام کون کرے گا؟ ایسے سٹوڈنٹس تو اکثریت میں ہیں جو مطالبہ کرتے ہیں کہ اِن کے امتحان جلد سے جلد لیے جائیں۔ یہ طبقہ امتحان منسوخ ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والے میرٹ اور نوکری کے مسائل کی وجہ سے بھی پریشانی کا شکار ہے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر فزیکل امتحانات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کے لئے 29 جون کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ جبکہ بین الصوبائی وزیر تعلیم کانفرنس (آئی پی ای ایم سی) میں لیے گئے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر تعلیم شفقت محمود نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اس سال بغیر امتحان کسی بھی طالب علم کو اگلی کلاس میں ترقی نہیں دی جائے گی۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں حکومت کو چاہیے کہ امتحانات میں بچوں کی صحت کے لیے خصوصی اقدامات کرے وہیں والدین کو بھی اپنے بچوں کو امتحانات کے لیے قائل کرنا چاہئے۔ طالب علموں کو بھی اپنی پڑھائی پر توجہ دینی ہوگی کیوں کہ امتحانات کا منسوخ ہونا مسائل کا حل نہیں ہے۔ بغیر امتحان ترقی کا سب سے زیادہ نقصان سٹوڈنٹس کا ہی ہوگا۔اس سے نہ صرف مزید مسائل پیدا ہوں گے بلکہ زندگی کے دوسرے امتحانات زیادہ مُشکِل ہو جائیں گے۔

  • کیڈٹ کالج کی فیسوں میں 10 فیصد اضافہ پر وزیر اعلیٰ نے بڑا حکم سنا دیا

    کیڈٹ کالج کی فیسوں میں 10 فیصد اضافہ پر وزیر اعلیٰ نے بڑا حکم سنا دیا

    کیڈٹ کالج سوات کے بورڈ آف گورنرز کا چھٹا اجلاس وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کیڈٹ کالج میں باقی ماندہ تعمیراتی کاموں کیلئے نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان کی منظوری دے دی گئی ہے، پلان کے تحت چھ مختلف مرحلوں میں تعمیراتی کاموں کا عمل مکمل کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں رہائشی ہاسٹل، مسجد، کثیر المقاصد ہال اور ٹراما سنٹر تعمیر کئے جائیں گے، دوسرے مرحلے میں سیوریج، لانڈری، گریڈ 1تا6 ملازمین کیلئے اپارٹمنٹس ، تیسرے مرحلے میں گریڈ 7تا16 ملازمین کیلئے اپارٹمنٹس، اسپورٹس کمپلیکس، چوتھے مرحلے میں گریڈ17 سے اوپر کے ملازمین کیلئے اپارٹمنٹس، اسٹاف بیرک، پانچویں مرحلے میں سکواش کورٹ، سوئمنگ پول اور رائیڈنگ کلب جبکہ چھٹے مرحلے میں پرنسپل ہاﺅس، لنک روڈز اور دیگر انفراسٹرکچر تعمیر کئے جائیں گے.
    جنرل آفیسر کمانڈنگ 21 آرٹلری ڈویژن، سیکرٹری ابتدائی و ثانونی تعلیم، سیکرٹری منصوبہ بندی، سیکرٹری خزانہ، کمشنر ملاکنڈ، چیئرمین بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سوات، پرنسپل کیڈٹ کالج سوات کے علاوہ بورڈ آف گورنر کے دیگر ممبران نے بھی اجلاس میں شرکت کی ہے، اجلاس کے شرکاء کو بورڈ آف گورنر کے سابقہ اجلاس میں کئے گے فیصلوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں پیشرفت کے علاوہ ادارے میں نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں، ادارے کی مجموعی کارکردگی، مالی و انتظامی اُمور میں درپیش مسائل اور دیگر اُمور پر بریفینگ دی گئی ہے، بورڈ آف گورنرز نے مالی سال 2020-21 کے لئے ادارے کے اخراجات کی توثیق کے علاوہ مالی سال 2021-22 کیلئے بجٹ کی بھی منظوری دے دی ہے، اجلاس میں ادارے کی فنانس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے طریقہ کار کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، وزیراعلیٰ نے کیڈٹ کالج سوات کی فیسوں میں 10 فیصد سالانہ اضافے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں طلباء اور اُن کے والدین پر کسی صورت بھی اضافی مالی بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا ہے، اُنہوں نے کہا کہ اضافی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے حکومت اداروں کو خصوصی گرانٹ دینے پر غور کرے گی، اس موقع پر وزیراعلیٰ نے رحمتہ اللعالمین سکالر شپ پروگرام کے تحت کیڈٹ کالجوں کے مستحق طلباء کو بھی سکالرشپ دینے کا اعلان کیا ہے، کیڈٹ کالج کیلئے فیس پالیسی کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، تاہم وزیراعلیٰ نے ادارے کے حکام کو فیس چارجز کو حقیقت پسندانہ بنانے اور چھٹیوں کے دوران طلباء سے میس چارجز کی مد میں وصولیاں نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، بورڈ آف گورنر نے ادارے میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے بطور پائلٹ پراجیکٹ اکیڈمک بلاک کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے، اسی طرح اجلاس میں کیڈٹ کالج سوات میںگیارہویں کلاس میں داخلوں کیلئے میرٹ فارمولے میں چند ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، کیڈٹ کالج سوات کو پورے ملاکنڈ ڈویژن میں معیاری تعلیم کی فراہمی کا ایک اہم ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ اس ادارے سے اب تک 637 کیڈٹ فارغ التحصیل ہو کر آرمی، میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس ادارے کی مزید تعمیر و ترقی اور اس کے مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، اُنہوں نے کالج انتظامیہ کو نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان کے مطابق انفراسٹرکچر کی تعمیر پر جلد کام شروع کرنے اور اگلے دو سالوں کے اندر اس کی تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے.

  • تعلیم، تعلیمی نظام اور طالب علم. تحریر: فضل عباس

    تعلیم، تعلیمی نظام اور طالب علم. تحریر: فضل عباس

    علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب

    انسان جنت سے زمین کا مسافر ہوا تو زندگی کی شروعات انتہائی سادگی سے کی
    جوں جوں وقت گزرتا گیا انسان اپنے اردگرد کی چیزوں کے بارے میں کھوج لگاتا رہا اور ان کے بارے میں جاننے لگا انسان کی اس کھوج لگانے اور اردگرد کے بارے میں جاننے کی کوشش کو علم کہتے ہیں اور علم حاصل کرنے کو تعلیم کہتے ہیں

    اگر ہم تعلیم کے حوالے سے اسلام کی بات کریں تو اسلام دین فطرت ہے اسلام تعلیم کی طرف بلاتا ہے اسلام دعوت دیتا ہے کہ زمین میں جو کچھ ہے اسے تلاش کرو جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
    "اے ایمان والو زمین کی سیر کرو اور اس میں جو کچھ ہے اس کی تلاش کرو”

    تعلیم کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار احادیث بیان فرمائی ہیں ان میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:
    "علم حاصل کرو ماں کی گود سے لے کر قبر تک”

    "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے”

    ہمارے ہاں تعلیم کے بنیادی طور دو نظام رائج ہیں ایک دینی تعلیم ایک دنیاوی تعلیم
    دینی تعلیم میں قرآن پاک،احادیث اور فقہ کی تعلیم دی جاتی ہے جبکہ دنیاوی تعلیم میں سائنس آرٹس اور دیگر علوم کی تعلیم دی جاتی ہے

    دنیاوی تعلیم کی بات کریں تو اس کے مختلف نظام ہیں سرکاری اسکولوں میں اردو میڈیم پرائیویٹ اسکولوں میں انگلش میڈیم اور اس کے علاوہ کیمبرج آکسفورڈ وغیرہ کے نظام ہیں

    اس تقسیم نے پاکستان کے طلباء کے درمیان تفریق پیدا کر دی ہے پاکستانی طلباء کی سوچ بٹ چکی ہے اردو میڈیم والے طلباء کو انگلش میڈیم والے طلباء اچھے نہیں لگتے انگلش میڈیم والے طلباء کو اردو میڈیم والے طلباء گوار لگتے ہیں آکسفورڈ اور کیمبرج والے طلباء خود کو اعلیٰ مانتے ہیں

    اس کے علاوہ جو تعلیم ان سب ذرائع سے مل رہی ہے اس سے کسی کو بھی فائدہ نہیں پہنچ رہا کوئی تعلیم حاصل کر کے مغرور بن رہا ہے تو کوئی بے راہ روی کا شکار ہو رہا ہے کوئی پیسہ کے پیچھے بھاگ رہا ہے تو کوئی اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہا ہے
    بقول شاعر
    جس قوم کے بچے نہیں خود دار و ہنر مند
    اس قوم سے تاریخ کے معمار نہ مانگو

    اس سے آگے چلیں تو امتحان کا نظام آتا ہے جو شروع سے بہت کمزور رہا ہے اس نظام میں کئی خامیاں موجود ہیں یہاں طالب علم کی قابلیت، محنت ممتحن کی مرہون منت ہوتی ہے اگر اس کا مزاج اچھا ہو تو طالب علم کی محنت وصول ہو جاتی ہے اگر وہ غصے میں ہو تو طالب علم کی محنت ضائع ہو جاتی ہے

    اس کے علاوہ امتحان کے نظام میں رشوت خوری عام ہو چکی ہے امیر طلباء بغیر محنت کے پاس ہو جاتے ہیں جبکہ غریب طلباء محنت کر کے بھی پیچھے رہ جاتے ہیں یہ نظام طلباء کے لیے باعث مایوسی ہے

    اور اوپر سے ستم یہ کہ کورونا وائرس آ گیا کورونا وائرس نے تعلیمی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے نہ طالب علم کو پتا ہوتا ہے کہ اسکول کب کھلیں گے نہ یہ پتا ہوتا ہے کہ کب اسکول بند ہوں گے اس کی تازہ مثال پچھلے سال ہونے والا ایم ڈی کیٹ کا امتحان ہے جہاں لاکھوں طلباء میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے امتحان دے رہے تھے لیکن آخری وقت تک تاریخ بدلتی رہی جس کی وجہ سے مجھ سمیت لاکھوں طلباء ذہنی اذیت میں مبتلا رہے

    اب آتے ہیں طالب علموں پر دنیا بھر میں کئی طرح کے طالب علم ہوتے ہیں محنتی بھی ہوتے ہیں کام چور بھی اسی طرح پاکستان میں بھی طالب علموں کا امتزاج ہے لیکن کورونا وبا نے طلباء کی اکثریت کو پڑھائی سے بیزار کر دیا ہے اب طالب علم ہر وقت تعلیم سے راہِ فرار اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر چند نام نہاد راہنماؤں کے ہاتھوں استعمال ہو جاتے ہیں ہر وقت امتحان منسوخ کروانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں یہ صورت حال پاکستان کے لیے بہت افسوس ناک ہے

    لیکن اس کے باوجود گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ہم سب مل کر اس نظام میں بہتری لا سکتے ہیں بطور طالب علم ہمیں اپنے اندر ولولہ پیدا کرنا ہے اور یک نصابی کتب کے حوالے سے موجودہ حکومت کی کوششیں قابل تعریف ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں تعلیم کے میدان میں کامیابی عطاء فرمائے آمین ♥️
    تحریر: فضل عباس

  • تعلیم کیوں ضروری ہے. تحریر: ملک ضماد

    تعلیم کیوں ضروری ہے. تحریر: ملک ضماد

    حدیث شریف کا مفہوم ہے
    طَلَبُ العِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ
    عِلم کا حاصل کرنا ہرمسلمان مرد (و عورت)پرفرض ہے۔
    (سنن ابن ماجہ)
    اب تعلیم کے مختلف مراحل اور شعبے ہیں جن میں انسان کو پہلے مرحلے میں وہ تعلیم حاصل کرنی جس سے وہ ایمان کو سمجھ بوجھ سکے
    پھر اس کو اتنا علم حاصل کرنا چاہیے جس سے وہ پاکی، ناپاکی، حلال، حرام، کا فرق کر سکے
    پھر ارکان اسلام کے بارے میں اتنا علم ضروری ہے جس سے وہ اسلام کے بنیادی ارکان کو سمجھ کر ان پر عمل کرنے والا بن جائے
    پھر اس کو معاشرے، ماحول کے بارے میں بھی اتنا علم ہونا چاہئے تاکہ اس کو پتہ چل سکے اس وقت ہمارے معاشرے میں کیا اور کیسے چل رہا ہے سب
    معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار اپنے علم کی بنیاد پے ادا کر سکے
    دور حاضر میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے جس سے انسان کو نا صرف اپنے ادر گرد بلکہ ضلع، صوبہ، ملکی سطح پر حالات و واقعات سے واقف ہو سکے اور دنیا میں چلنے والی ٹیکنالوجی کو بھی سمجھ سکتا ہو اور اس کے مطابق معاشرے میں چلنے اور اس پے عمل کرنے کی صلاحیت رکھنا بھی آج کے دور میں ضروری ہے
    تاکہ انسان اگر دین کا کام بھی کرے تو اس کے لیے بھی اس کو مشکل نا ہو وہ آسانی سے ہر علاقے، گلی، محلے  میں جا کر دیں اسلام کی تبلیغ کر سکے

    اسی طرح اگر اس نے کوئی کام کاروبار کرنا ہے تو اس کے لیے بھی ضروری ہے اس کو اتنا علم ہونا چاہیے کہ وہ اپنے کاروبار کو حلال طریقے سے چلا سکے
    اپنے ماتحت لوگوں کے حقوق کا اس طرح خیال رکھے جیسے شریعت اس کو اجازت دیتی ہے اور شریعت اس کو بتاتی ہے
    دنیاوی علم اتنا ضروری ہے اس دور جدید میں ہم دنیا سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں
    علم حاصل کرنے کا مقصد صرف نوکری حاصل کرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کا ایک اہم فرد بننے کے لیے ضروری ہے اتنا علم ہونا چاہیے کہ وہ معاشرے میں اپنی روز مرہ کی زندگی عزت و احترام سے گزارے اور اپنے ارد گرد لوگوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچائے
    علم کا مقصد صرف حاصل کرنا ہی نہیں بلکہ اس علم سے دوسروں کو سیراب کرنا بھی ضروری ہے
    ہم علم حاصل کر کے اپنے آپ کو تو فائدہ دے سکتے ہیں لیکن اس سے وہ علم جہاں تک ہے وہاں ہی رک جائے گا لیکن اگر ہم اسی علم کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے اور اس سے باقی لوگوں کو فائدہ پہنچائیں گے تو وہ علم بڑھتا رہے گا اور اس میں ہمارا حصہ بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    ایک اور حدیث شریف کا مفہوم ہے
    ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: علم حاصل کرو، گو تمہیں چین میں جانا پڑے”
    اس حدیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم حاصل کرنے کی اہمیت کے بارے میں بتایا علم حاصل کرنے کے لیے آپ کو کتنا بھی دور جانا پڑے آپ جاو اور علم حاصل کرو
    تعلیم کے بعد اگر کوئی انسان کوئی چھوٹا موٹا کام یا نوکری بھی کرتا ہے تو اس میں اور جو بغیر تعلیم کے بڑے سے بڑا کاروبار بھی کر لے اس میں واضح فرق دیکھنے کو ملتا ہے
    بڑھا لکھا آدمی چھوٹا کام، کاروبار کر کے بھی بڑا بن سکتا ہے لیکن تعلیم کے بغیر شروع کیا گیا کام، کاروبار جہاں سے شروع ہوتا ہے وہاں ہی رہتا ہے اکثر دیکھا گیا ہے پڑھے لکھے لوگ نیچے سے اوپر جانے پر یقین رکھتے ہیں جب اس کے برعکس جو لوگ پڑھے لکھے نہیں ہوتے وہ ڈائریکٹ اوپر جانا چاہتے ہیں جس سے وہ اکثر منہ کے بل گرتے ہیں اور اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں
    تعلیم کا اتنا ہونا ضروری ہے انسان اپنے معاشرے میں روزمرہ کی زندگی عزت و احترام اور دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ساتھ گزار سکے اور دور جدید میں دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہو