Baaghi TV

Category: تعلیم

  • میری کہانی  میری زبانی . تحریر اسامہ خان

    میری کہانی میری زبانی . تحریر اسامہ خان

    میرا نام اسامہ جہاں زیب خان ہے لیکن سب اسامہ خان کے نام سے جانتے ہیں میرا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے میں 2000 ملتان میں پیدا ہوا، اپنی پیدائش کے بعد تقریبا ایک سال ملتان رہا اپنے والدین کے پاس اس کے بعد میں جھنگ اپنے ماموں کے پاس آ گیا یہاں میں نے پرائمری تعلیم الحمد ماڈل سکول سے مکمل کی اس کے بعد مڈل اور میٹرک میں نے گورنمنٹ ایم بی ہائی سکول ریل بازار جھنگ سے 2016 میں مکمل کی اس کے بعد میں نے گورنمنٹ ڈگری کالج ادھی وال جھنگ میں داخلہ لیا۔ یہ وقت زندگی کا بہت مشکل وقت تھا جب میں نے 11th کلاس کے پیپر داہے تو اس دوران ایک ہوٹل پرویٹربن کر 2 ماہ کام کیا اور اپنے اخراجات پورے کیے اور جب کالج دوبارہ کھل گے تو 12th کلاس میں اللہ کی طرف سے ہمارے انگلش کے استاد تبدیل ہوئے اور انہو نے ہم میں خدمات خلق کا جذبہ اجاگر کیا اس دوران میرا روجہان خدمت خلق وسیاسی کاموں کی طرف گیا تو خدمت خلق کے لئے 2018 میں ٹیم سرعام جھنگ میں بطور صدر شمولیت اختیارکرلی اورخدمت خلق کرنا شروع کردی جس میں نے بطور صدراپنے خون کا عطیہ دے کر اپنی ٹیم کا جذبہ ابھارا اور ایسے ہی ہم آج بھی جہاں خون کی ضرورت ہوتی ہے ہمارے جانباز خون کا عطیہ دینے وہاں پہنچ جاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہم نے بہت سے اسکولوں کالجز اور اکیڈمیز میں آگاہی کیمپ لگائے تاکہ لوگوں میں خدمت خلق کا جذبہ پیدا کر سکیں مجھے آج فخر ہے کیا اللہ پاک نے مجھے اپنے بندوں کی خدمت کرنے کا موقع دیا اور ساتھ ہی ساتھ میں نے سیاست میں بھی شمولیت اختیار کرلی وقت گزرتا گیا سیاسی و سماجی کام چلتے رہے 2019 میں میری کارکردگی دیکھتے ہوئے مجھے محترمہ غلام بی بی بھروانہ ایم این اے جھنگ کا فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا بنا دیا گیا اس دوران جھنگ کے تمام ہونے والے ترقیاتی کاموں اور جھوٹی افواہ او سے عوام کو آگاہ کیے رکھا کیونکہ ہمارے سیاسی مخالفین جو کہ جھنگ میں 15 سال حکومت کرتے رہے لیکن سوائے اپنے کاروبار اورمفاد کے علاوہ کبھی بھی جھنگ کے لیے انہوں نے نہیں سوچا.

    محترمہ غلام بی بی بھروانہ وہ واحد لیڈر ہیں جنہوں نے جھنگ کے لیے بلاتفریق ترقیاتی کام شروع کروائے، میری جدوجہد دیکھتے ہوئے 2021 میں مجھے پاکستان تحریک انصاف سوشل میڈیا ٹیم ڈسٹرکٹ جھنگ کا ہیڈ بنا دیا گیا میری جدوجہد چلتی رہی اور میرے سیاسی تعلقات بڑھتے گئے میں نے سیاسی تعلقات کو ہمیشہ کوشش کیا کہ خدمت خلق میں اور مظلوموں کو انصاف دلانے میں استعمال کرو، سیاست میں مجھے بھائیوں جیسے اچھے دوست ملے جیسے کہ وزیر آباد سے کوڈینیٹر سی ایم پنجاب رانا عابد، فوکل پرسن سی ایم پنجاب اظہر مشوانی، اور یہاں اگر میں اپنے چاچو کا ذکر نہ کرو تو زیادتی ہوگی عمران شیخ جو کہ ایم این اے جھنگ اور سابقہ ایم پی اے جھنگ شیخ یعقوب و راشدہ یعقوب سابقہ ایم پی اے جھنگ کے سیکرٹری ہیں اور مجھے ہمیشہ بڑا بھائی بن کر راہ دکھایا آج میں اپنی تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے سافٹ ویئرانجینئرنگ کررہا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ اینڈرائڈ ڈویلپمنٹ میں فری لانسنگ کر رہا ہوں اور آج مجھے فخر محسوس ہوتا ہے جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں یہ جدوجہد ابھی جاری ہے اور ان شاء اللہ آگے بھی ایسے ہی محنت اور لگن سے جاری رہے گی یہ تھا آج تک میری زندگی کا خلاصہ۔ انشاءاللہ آنے والے بلاگز میں آپ کو فری لانسنگ کے بارے میں آگاہ کرؤں گا کہ آپ فری لانسنگ کرتے ہوئے کیسے خود مختار ہو سکتے ہیں اور بعد میں آپ اسی کاروبار کو کیسے ایک حتمی کاروبار کی شکل دے سکتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کو یہ بھی آگاہ کروں گا کہ آپ کیسے اپنی سکیل کو تلاش کر سکتے ہیں اور اپنے ہنر کو بھیجتے ہوئے آپ کیسے آن لائن کام کر سکتے ہیں.

    @usamajahnzaib

  • 21 ویں صدی میں ضلع شیرانی تعلیمی سہولیات سے محروم . تحریر : حمیداللہ شاہین

    21 ویں صدی میں ضلع شیرانی تعلیمی سہولیات سے محروم . تحریر : حمیداللہ شاہین

    کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے تعلیم کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، قومیں جب ترقی کرتی ہیں تو وہ پہلے تعلیم پہ توجہ دیتے ہیں جبکہ بدقسمتی سے ہمارے ملک پاکستان میں اکثر لوگ تعلیم حاصل کرنے سے بھاگ رہے ہیں یا تو انہیں تعلیم حاصل کرنے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر تعلیمی شرح کے لحاظ سے سب سے پسماندہ صوبہ بھی ھے۔

    آج ہم بلوچستان کے پسماندہ ضلع شیرانی کی بات کریں گے۔ شیرانی صوبہ بلوچستان کے ضلع ژوب کی ایک تحصیل تھی۔ جوکہ اب خود ضلع بن چکا ہے۔ یہاں شیرانی قبائل کی اکثریت ہے جس سے اس کا نام پڑا ہے۔ اس کی آبادی 2017 کی مردم شماری کے مطابق ایک لاکھ تریپن ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ یہ علاقہ کوہِ سلیمان میں واقع ہے اور سب سے اونچا مقام تخت سلیمان کہلاتا ہے۔
    یہ علاقہ حضرت سلیمان، قیس عبدالرشید بیٹ نیکہ سمیت غازیوں اور شہیدوں کا بھی مسکن رہا ہے۔ یہاں مغل اور بابر حکمرانوں نے بھی پڑاو ڈالا تھا۔ کوہ سلیمان میں دنیا کا سب سے بڑا خالص چلغوزے کا جنگل ہے اور عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے اعدادو شمار کے مطابق گذشتہ سال میں یہاں سے 675 ٹن چلغوزہ برآمد کیا گیا، جس کی کل مالیت  114.7 کروڑ روپے ہے۔
    بلوچستان کا ضلع شیرانی جوکہ پہلے ژوب کا حصہ ہوا کرتا تھا مگر 2006 میں اسے ایک الگ ضلع کی حیثیت حاصل ہوگئی اور اس ضلع کا نام وہاں کے مشہور قبیلے کے نام سے منسلک کر کے شیرانی رکھا گیا۔ ضلع شیرانی کوئٹہ کے شمال مشرق میں واقع ھے۔شیرانی کی خوبصورتی اس کے قداور پہاڑ اور درخت ہیں اور ان درخت پر اگے والا چلغوزہ ذریعہ معاش میں مدد گار ثابت ھوتا ھے ۔
    بلوچستان کے شیرانی کو ضلع کا درجہ ملے پندرہ سال بیت گئےمگرعوام آج بھی انتظامی دفاتر اورعدلیہ تک رسائی کیلئے گھنٹوں کی مسافت طے کرکے ضلع  ژوب جانے پر مجبورہیں.

    شیرانی تعلیم کے معاملے میں باقی اضلاع سے کافی پسماندہ ضلع ھے۔ شیرانی میں کئی سالوں سے تعلیم میں عدم دلچسپی کی وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم کو لے کر کافی تحفظات ہیں۔ شیرانی 2800 کلومیٹر رقبے پر پہلا ہوا یے.ذرائع کے مطابق  ضلع شیرانی میں سکولز کی تعداد 186 ہے اور  پورے ضلع میں ایک انٹر کالج ہے جبکہ ڈگری کالجز کا تصور بھی سر ے سے موجود نہیں ۔ اتنے بڑے علاقے میں لڑکیوں کے لیے کوئی بھی سکول قریب نہیں اور نا ہی کوئی کالج اور یونیورسٹی  موجود ہے۔ تعلیم کی پیاس رکھنے والی بہت کم ہی  لڑکیاں ژوب  جاپاتی ہیں زیادہ تر کو اجازت نہیں ملتی اور وہ ساری عمر تعلیم جیسے زیور سے محروم رہتی ہیں۔ مقامی لڑکیوں کا کہنا ہے کہ انہیں تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق ہے مگر تعلیمی درسگاہیں دور ہونے کی وجہ سے وہ تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں وہ گورنمنٹ سے اپیل کرتی ہے کے یہاں لڑکیوں کے لیے علیحدہ سکولز,کالجز اور یونیورسٹی تعمیر کرکے مقامی لڑکیوں کی مشکلات کو آسان کیا جاۓ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلع شیرانی میں بہت سے  گھوسٹ سکولز ہیں اور بعض سکولز کی بلڈنگز اس قابل نہیں کے اس میں تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھا جاۓ یہ معاملات بھی توجہ طلب ہے 21 صدی میں بلوچستان میں آج بھی ایسے کئی اضلاع ہیں جن میں خواتین تعلیم سے محروم ہیں اور تشویشناک بات یہ ہے کے ضلع شیرانی میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق محض ٪3 ہے۔

    وزیراعلی بلوچستان اور وزیر تعلیم سے درخواست ہے ضلع شیرانی میں تعلیم پہ توجہ دی جائے اور شیرانی شہر اور دیہاتوں میں 21 ویں صدی کی جدید سہولیات سے اراستہ تعلیمی ادارے بنانے چاہئے۔ ہردیہات میں کم از کم ایک لڑکیوں کا پرائمری اسکول جبکہ شہر میں ہائی اسکول اور انٹر کالج بنانے چاہئے تاکہ شیرانی کی بہادر لڑکیاں تعلیم حاصل کرکے اپنے صوبہ اور ملک کانام روشن کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔

    ٹویٹر: @iHUSB

  • گریجوایشن کے بعد زندگی کیسی رہے گی ؟  تحریر:محمد شہباز سرکانی

    گریجوایشن کے بعد زندگی کیسی رہے گی ؟ تحریر:محمد شہباز سرکانی

    اکثر طالب علم یہی سوچتا ہے کہ اب مدرسے سے فارغ ہوں اب میری زندگی کیسی گزرے گی اور کن کن مشکلات سے گزرنا پڑے گا ۔ سب سے پہلے تو اپنے دوستوں سے بچھڑنے کا غم ہوتا ہے اور پھر آگے روزگار کی پریشانی اگر آپ کا تعلق کسی غریب گھرانے سے ہے اگر آپ کسی سردار کے بیٹے ہیں ، کسی زمیندار کے بیٹے ہیں تو پھر تھوڑی آسانی رہے گی ورنہ ہر وقت یہی پریشانی رہے گی ۔
    پھر گریجوایشن کے بعد طالب علم جب روزگار کی طرف جاتا ہے تو کچھ نہیں دیکھتا وہ بس کسی نہ کسی طرح روزگار حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر اس کو پسند کا کام نہ ملے تو وہ اس امید کے ساتھ زندگی جینے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ ابھی شروعات ہے پھر زندگی سنور جاۓ گی اور کسی دن اچھا روزگار بھی مل جاۓ گا ۔ حالیہ دنوں مجھے بھی ان مشکلات کا سامنا رہا اور میں بھی تمام طالب علموں کی طرح ہی رہا مگر ہمت نہیں ہاری اور زندگی کی جنگ لڑتا رہا اور ابھی بھی جاری ہے ۔
    جب ہم بات کریں کسی بے روزگار گریجوایٹ طالب علم کی تو وہ بہت سی مشکلات کا سامنا کرتا ہے جیسے بے روزگاری کا رونا ، معاشرے کی تنگدستی ، طعنے ، اور گھر والوں کی طرف سے پریشر حتی کہ وہ کسی بھی شعبے میں جانے کےلیے تیار رہتا ہے تاکہ ان سب چیزوں سے جان چھوٹ جاۓ اور کسی نہ کسی طرح وہ کسی اچھے سے روزگار کے ساتھ جڑ جاۓ تاکہ وہ ابھی اس بے روزگاری کی نحوست سے نجات حاصل کرلے ۔
    شروعات میں جب آپ روزگور والے ہوں بھی جاٸیں تو آپ کو بہت سے لوگوں کی طرف سے مختلف باتیں سننے کو ملیں گی کہ یہ تمہارا شعبہ نہیں ، اس کو اب حتمی روزگار نہ سمجھنا ، تم خواہ مخواہ اپنا وقت ضاٸع کررہے ہو اس سے کچھ وصول نہیں ہوگا یہ تمہارا شعبہ نہیں مطلب بہت کچھ سننے کا ملتا ہے اگر آپ نے ارادہ کرلیا تو ان چیزوں کو سن لیں مگر کریں وہی جو آپ کی زندگی مطالبہ کررہی ہے کیونکہ ضرورت اپنی آپ نے خود کرنی ہے لوگوں نے نہیں اس لیے ان کی طرف کان نہ دھریں اور اپنے کام سے کام رکھیں
    جب زمانہ طالب علمی کا رہا تو بہت سے خواب آنکھوں میں سجاۓ روز یونیورسٹی کالج ، سکول جاتے ہوۓ یہ سوچ کر کہ ایک دن ملک کی تقدیر اور اپنی زندگی سنور جاۓ گی لیکن اس کےلیے بہت سی مشکلات ہم بھول جاتے ہیں جس طرح آپ نرسری سے لے کر ایم اے تک بہت سے امتحانات سے گزرتے ہیں اس طرح آپ ایم اے کے بعد مطلب تعلیم مکمل کرنے کے بعد اور بہت سی مشکلات کےلیے اپنے آپ کو تیار رکھیں کیونکہ یہ زندگی ہے اور مشکلات کو صبر کے ساتھ سامنا کریں اس طرح زندگی اچھی گزرے گی ۔ تحریر https://twitter.com/RjShahbaz01?s=09

  • کورونا ، حکومت اور تعلیم    تحریر :  صاحبزادہ برجیس احمد

    کورونا ، حکومت اور تعلیم تحریر : صاحبزادہ برجیس احمد

    کورونا وائرس نامی اس خطرناک جان لیوا عالمی وبا نے جہاں اقتصادی،معاشی اور سماجی مسائل پیدا کیئے ہیں وہیں اس وبا نے روزگار اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے امور کو خاص طور پر تعلیمی شعبے کو زیادہ متاثر کیا ہے جو کہ ناقابل تلافی ہے
    اس وبا نے جہاں دیگر مسائل کو جنم دیا وہیں اس نے مملکت خداداد پاکستان میں شعبہ تعلیم کی خامیوں اور بےچیدہ کمزوریوں کو بھی پوری دنیا کے سامنے آشکارا کردیا
    پورے عالم کی کورونا سے بچاؤ کی روایات کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے بھی لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ کورونا سے بچاؤ میں قدرے بہتر ثابت ہوا لیکن اس لاک ڈاؤن سے طلباء وطالبات کے کیریئر career اور فیوچر future پر سنگین اثرات مرتب ہوئے کہیں پڑھائی آن لائن ہورہی تو کہیں پڑھائی کو سکول کالجوں میں طلباء کی تعداد کو نصف کرنے تک محدود رکھا گیا
    اگر بات کریں آن لائن تعلیم کی تو پاکستان میں آن لائن تعلیم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے اس کی بڑی وجہ یا تو زیادہ تر لوگوں کے پاس سمارٹ فون / ڈیسک ٹاپ وغیرہ کی عدم دستیابی ہے یا پھر نیٹ ورک کے مسائل ہیں جس سےنا ہی اساتذہ اپنا لیکچر آگے پہنچاپاتے اور نہ ہی سٹوڈنٹ اس کو سن پاتے۔
    دوسری بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ گھروں میں بیٹھے طلباء وطالبات دیگر شغلیات کے پاس رہ کر آن لائن تعلیم کی کلاسز میں دلچسپی نہ دینا ہے جبکہ ایک امر یہ بھی ہے کہ دیہی علاقوں میں رہنے یا پڑھنے والے طلباء وطالبات آن لائن تعلیم کے حصول اور استعمال سے بے خبر ہیں
    ان تمام وجوہات کو دیکھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ پاکستان میں آن لائن تعلیم فلحال کیلئے سود مند نہیں ہے
    حکومت وقت کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ملک میں آن لائن کلاسز کا اجراء تو کیا لیکن اس کی خامیوں کو نہیں پرکھا جس سے یہ صورتحال بنی
    آئین پاکستان ہر شہری کو تعلیمی شعبے میں سہولیات کی ضمانت دیتا ہے اگر مختلف ناگزیر وجوہات سے تعلیمی شعبے کی بگڑی صورتحال کو دیکھا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس شعبے میں بہتری حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے

    ایک طرف کورونا کی صورتحال تو دوسری طرف خود کو مجبور کہنے والے طلباء جو کلاس روم میں بیٹھ کر پڑھنے کے بجائے سڑکوں پر نعرے بازی کررہے ہیں اور اسی کو اپنی حق کی جنگ کرار دے رہے ہیں
    اب سوال یہ بنتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔
    تعلیمی نقصانات کا ذمہ دار کون ہوگا ؟
    حکومت کی ناقص پالیسیاں ؟ طلباء کی ہٹ دھرمی ؟ یا پھر کورونا وائرس ؟
    اب ایک اور صدمہ یہ ہے کہ کورونا وائرس پھر سے سر اٹھا رہا ہے ماہرین صحت کے مطابق یہ چوتھی لہر پہلی تین لہروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور ان تعلیمات معاملات میں ایک بار پھر تعلیمی اداروں کی بندش کی طرف دیکھا جائے گا
    جس سے ” معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ” والی مثال ثابت ہوگی عالمی وبا کورونا وائرس نے نا صرف تعلیمی شعبے کو متاثر کیا بلکہ اس کے سنگین اثرات دفاتر ، کھیلوں کی جگہوں ، اور کاروباری مراکز پر بھی مرتب ہوئے جس سے پناہ خاندان بے روزگار ہوئے
    لیکن جو اثرات طلباء کی تعلیم پر پڑے وہ آنے والی کئی دہائیوں تک ہمارے ماتھے پر لگا نہ مٹھنے والا نشان ثابت ہوگا
    دن گزرنے کیساتھ ساتھ طلباء کی چینی اور بے سکونی کی کیفیت بڑھ رہی ہے یہاں تک کہ ان مسائل سے ڈپریشن کا شکار ہوکر کئی طلباء اپنے قیمتی جانوں کو ضائع کرچکے ہیں
    ہمیں معلوم نہیں کہ یہ معاملات کب درست سمت میں گامزن ہونگے
    بقول طلباء و والدین ” کورونا سے جو نقصان ہوا سو ہوا لیکن اب تو حکومت ان مسائل لی طرف توجہ دے ”
    اصل بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا جو نقصان تعلیم کا ہوا وہ تو ہوا لیکن اب حکومت کو خاطر خواہ پالیسی اختیار کرنی پڑے گی تاکہ ان نقصانات کا ازالہ ہوسکے
    اگر حکومت اور ماہرین تعلیم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہے تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج دیکھنے کیلئے ہم سب کو تیار رہنا پڑے گا۔

    ( )
    ( twitter.com@BarjeesAhmad )

  • علم  تحریر : عائشہ رسول

    علم تحریر : عائشہ رسول


    علم زندگی کا بہترین زاویہ ہے. جس سے انسان بنتا ہے اور انسانیت کی طرف سفر شروع کرتا ہے. علم ہو اور انسان تبدیل نہ ہو تو یہ علم نہیں علم کے ساتھ ظلم ہے.
    علم کی روشنی سے زہن اور فکر منور ہوتی ہے. جو علم زہن کو تاریک کرے وہ علم نہیں… وہ کسی کا یاد کروایا ہوا سبق ہوتا ہے.. . علم انسانی احساسات کو زندگی بخشتا اور شعور کی آبیاری کرتا ہے.جو علم انسان کو اندھے راستوں پہ لے جائے وہ خدا کا عطا کردہ علم نہیں. جو رزق حلال کھاتے ہیں وہ جانتے ہیں علم کیا ہے, عالم کیسا ہوتا ہے اور عالمیت کیا ہے جو خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر بجالاتے ہیں وہ ان نعمتوں سے واقف ہیں.
    وہ علم سب سے بڑی نعمت ہے جس سے انسانیت کی تعمیرِنو ہوتی ہے.
    علم انسان کو زھنی بلندیوں تک لے جاتاہے مگر سن لو… وہ علم”علم” نھیں’جو زھنی پستیوں سے نکلنے نہ دے, جو خیالوں سے باندھ دے, جو بے غرض سوچ میں جکڑ دے… بلکہ علم تو وہ ہے…. جو فکرکو ھر لمحہ ایک نئی حیات بخش دے, جو روح کو سیراب کردے, جو زہن کو ضیابخش دے.
    علم اس وقت تک باقی رہے گا جب تک علم والے اور علم کے مطابق عمل کرنے والے زندہ ہیں
    سب سے بڑا علم یہی ہے کہ موت یقینی ہے اور ایک دن ہمارے اعمال کا حساب ہوگا اور نامہ اعمال ہمارے
    ہاتھوں میں تھما دیے جائیں گے اور وہ "یوم حساب”ہوگا
    اور جو لوگ ہر یوم کو "یوم حساب” سمجھ کر گزارتے ہیں میں انکے علم کی قدر کرتی ہوں

    آؤ سب مل کراس علم سے دوستی, آشنائی اور شناسائی کر لیں
    ہماری دین, دنیا اور آخرت سب کے لیے یہ کامیاب ترین نسخہ ہے اور یہ وہ علم ہے جس علم سے نجات ہو گی
    اللہ ہمیں علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عمل کی بھی توفیق عطا کرے… آمین…
    "وما علینا الا البلاغ المبین ”

    Official Twitter handle
    ‎@Ayesha__ra

  • تعیلم ترقی پذیر ملک کی ضامن ہے!! تحریر جہانتاب احمد صدیقی

    تعیلم ترقی پذیر ملک کی ضامن ہے!! تحریر جہانتاب احمد صدیقی

    تعلیم ہر شعبے زندگی میں ترقی پذیر ملک میں بہت بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعیلم ایک ملک کی ترقی میں ایک مثالی کردار کی طرح ادا کرتا ہے اگر کسی ملک کے عوام تعلیم یافتہ ہوں تو وہ باآسانی سے ترقی کی راہ میں گامزن ہوسکتی ہے۔

    تعلیم قومی ترقی کی محرک قوت ہے اور کیسی بھی ملک کی معیشت تعلیم پر بہت مضبوطی سے منحصر ہے اور یہ دونوں ایک ملک کی ترقی میں بہت بڑا کردار ادا کررہے ہیں۔. تعلیم کے ذریعہ قومیں تعمیر کی جاتی ہیں معیشت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ، اگر کسی ملک کے عوام تعلیم یافتہ ہوں تو وہ آسانی سے قومی معیشت کو ترقی دے سکتے ہیں کیونکہ تب وہ معاشی اصولوں اور قواعد کو بہتر طور پر جان سکتے ہیں اور اگر وہ تعلیم یافتہ ہیں تو ان کے بارے میں آسانی سے سوچ سکتے ہیں۔.

    تعلیم لوگوں کو وہ مہارت فراہم کرتی ہے جن کی انہیں غربت سے نکالنے یا دوسرے لفظوں میں خوشحالی میں مدد کرنے کی ضرورت ہے۔. اگر کسی نے تعلیم حاصل کی ہے تو وہ بہتر ملازمت کے قابل ہے تو پھر مزدوری کا کام۔. وہ سرکاری ملازمت یا کوئی اور نجی کام کرنے کا اہل ہے اور وہ اپنی صلاحیتیں دکھا سکتا ہے جو کسی ملک کی ترقی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔. ایک تعلیم یافتہ اور ان پڑھ شخص کے مابین بہت فرق ہے ، ایک ان پڑھ اپنے خیالات اور صلاحیتوں کو کسی تعلیم یافتہ شخص سے بہتر نہیں دکھا سکتا۔. وہ ہمیشہ تعلیم یافتہ سے آگے ہوتا ہے۔. لہذا یہ وہ تعلیم ہے جو کسی شخص کو غربت سے خوشحالی کی طرف لے جاسکتی ہے۔.

    وہ ممالک جو تعلیم کی اہمیت کو جانتے ہیں ، لہذا وہ پہلے تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔. نیز کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جن میں تمام طلبا یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔. لہذا وہ کسی ایسے شخص کو اسکالرشپ دیتے ہیں جو باصلاحیت ہے اور انہوں نے بلا معاوضہ تعلیم حاصل کی۔. وہ ممالک پہلے تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو تعلیم سے زیادہ کسی ملک کی ترقی میں مدد فراہم کرے۔.

    لہذا تعلیم ایک ملک میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔. وہ زندگی کے ہر شعبے میں مدد کرتے ہیں۔. اس کے بعد ہمارے کنٹرول میں ہے کہ ہم اس چیز کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اس کے بعد یہ ہمیں ہر چیز کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔. ہم ان کو مثبت یا منفی استعمال کرسکتے ہیں۔. اگر ہم کسی ملک کی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے مثبت استعمال کرنا چاہئے۔.

    تعلیم ہمیں یہ چاہتی ہے کہ ملک میں کیا اور کیسے اور کتنی ایک چیز تیار ہوتی ہے۔. یہ اس چیز کے بارے میں تمام فوائد اور نقصانات کو ظاہر کرتا ہے۔. تعلیم ہمیں پہلے ایک چیز سکھانے میں مدد کرتی ہے اور پھر ہم اسے کسی ملک کی ترقی میں استعمال کرسکتے ہیں۔.

    لہذا تعلیم ایک ملک کی ترقی میں بہت بڑا اور بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔. اس کی وجہ سے ڈائیجینس کیریٹیوس کا کہنا ہے کہ "ہر ریاست کی بنیاد اس کے نوجوانوں کی تعلیم ہے”۔.

    ‎@JahantabSiddiqi

  • مزدور کی زندگی . تحریر : ام کاشف حسین

    مزدور کی زندگی . تحریر : ام کاشف حسین

    السلام علیکم دوستوں میرا نام کاشف حسین ہے میں ایک کسان کا بیٹا ہوں اور سرکاری ملازم ہوں ۔میری بہت خواہش تھی کہ مزدور کی زندگی پر لکھوں اور میرے الفاظ میں اتنی جان ہو کہ اسے دنیا پڑھے اور ہماری گورنمنٹ مزدور کو سہولیات دینے کے بارے میں غور کرے۔۔کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ میرا کسی جگہ سے گزر ہوا جہاں ایک نوجوان جس کا ایک پاؤں مکمل مڑا ہوا ہے مزدوری کر رہا اور ہاتھ والی ریڑھی کے زریعے اینٹیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جارہا میں دیکھ کہ بہت پریشان ہوا کہ اس حالت میں یہ انسان مزدوری کر رہا اور سندھ کی گرمی میں پسینے سے شرابور ہوا پڑا۔خیر مجھ سے رہا نہ گیا اور اس بھائ سے پوچھنے لگا کہ بھائ آپکا پاؤں تو مکمل مڑا ہوا اور آپ اس حالت میں مزدوری کیسے کر لیتے آپکا پاؤں درد نہیں کرتا تو کہنے لگا نہیں درد کرتا تو پھر میں نے سوچا کہ اللہ پاک نے ان کو صلاحیت دے رکھی جو انسان کوشش کرتا محنت کر کے کمانے کی تو اللہ اسے ہمت عطا کر ہی دیتا۔پھر پوچھا بھائ آپکی دن کی مزدوری کتنی تو کہنے لگا چار سو روپے تو دل بہت دکھا یہ سن کے کہ کس قدر مشکل حالات میں مزدوری کر کے بھی یہ دن کے چار سو روپے کماتا۔اور ان چار سو روپے سے وہ اپنی بیوی بچوں کا پیٹ کیسے پالتا ہوگا۔کیسے اپنے بچوں کے لیے خوشیوں کا سامان خریدتا ہوگا۔جب کبھی گھر خالی ہاتھ جاتا ہوگا تو اپنے بیوی بچوں سے نظریں کیسے ملاتا ہوگا۔پھر سوچتا ہوں کہ اس کا اتنا ہی قصور تھا کہ یہ ان پڑھ رہا اور پھر جوان ہونے کے بعد اپنی زندگی گزارنے کے لیے اسے مزدوری کرنا پڑی ۔لیکن مزدوری کرتا تو کیا ہوا آخر کام تو اپنے ملک کے لیے کرتا۔جس طرح ایک پڑھے لکھے انسان کو نوکری ملتی جس میں لاکھ روپے تک تنخواہ ہوتی آفس میں اے سی لگے ہوتے دفتر ٹائم کے بعد گھر اجاتا اور ایک مزدور سارا دن پسینے میں شرابور ہو کر کام کرتا تو اور اسے دیہاڑ صرف چار سو روپے ملتی آخر کسی نے تو مزدور بننا تھا پھر یہ سزہ کم تھی کہ وہ ان پڑھ رہا اور مزدور بن گیا ۔کیا مزدور کی دیہاڑ اس پڑھے لکھے انسان کے برابر نہیں ہونی چاہیے جو آفس میں بیٹھ کر کام کرتا۔اچھا چلو مان لیتے کہ۔ اتنی نہیں ہونی چاہیے تو کیا اتنا فرق ہونا چاہیے ۔میری اس کالم کے زریعے گورنمنٹ آف پاکستان سے درخواست ہے کہ مزدور بہت قیمتی ہیں اس لیے مزدور کی دیہاڑ میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوا سکے اگر ایسا نہ ہوا تو کل مزدور کا بچہ مزدور ہی بنے گا۔شکریہ

    @kashu_uu

  • پاکستان کا تعلیمی معیار. تحریر: نعمان خان

    پاکستان کا تعلیمی معیار. تحریر: نعمان خان

    پاکستان کا تعلیمی معیار۔پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ملک ہے۔جہاں ہونا تو ایک نظام تعلیم تھا لیکن ایسا ہوا نہیں بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ اسے تباہ کیا گیا ہے۔دنیا کے بیشتر ممالک اپنی قومی زبان میں تعلیم دیتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ۔سرکاری اسکولوں کا معیار 1988 سے پہلے بہترین تھا۔داخلہ بھی سخت امتحان کے بعد ملتا تھا لیکن اس کے بعد تو جیسے سرکاری اسکولوں پر عزاب مسلط ہو گیا۔تعلیم تباہ ہو گئی پھر اس کے بعد انگلش میڈیم کی بھرمار آگئی اور ایک کاروباری دوڑ شروع ہو گئی لیکن مقصد تعلیم بہت پیچھے رہ گیا۔اب تو یہ حال ہے کہ سرکاری اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ کے بچے بھی انگلش میڈیم میں پڑھتے ہیں بلکہ نظام تعلیم سے منسلک تمام ہی افسران کے بچے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔انگلش میڈیم اسکولوں میں بھی الگ الگ معیار ہیں۔بھاری فیس والے اور نارمل فیس والے اور سستی فیس والے۔معیار اساتذہ اور دیگر سہولیات ہیں۔سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے ذیادہ تر اساتذہ سیاسی بھرتیاں ہیں جس سے سرکاری تعلیم کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔موجودہ حکومت کا منشور تھا ایک نظام تعلیم لیکن فلحال ایسا کچھ نہیں ہو سکا۔33 سالہ بگاڑ ب ہرحال تین سال میں بہتر ممکن نہیں لیکن امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنا یہ وعدہ آئندہ نسل کی بہتری کے لئے ضرور پورا کریں گے انشاللہ ٹائٹل: پاکستان کا تعلیمی معیار Noman Khan @dtnoorkhan

  • تعلیمی نصاب . تحریر : ذیشان وحید بھٹی

    تعلیمی نصاب . تحریر : ذیشان وحید بھٹی

    یوں تو غلام اقوام معاشرے کی مختلف سطحوں پر ہونے والے استحصال کے نتیجے میں اندر ہی اندر بتدریج آزادی کے مختلف اسباق آپوں آپ پڑھتے رہتے ہیں اور جب آزادی کی جنگ چھڑتی ہے تو اس میں بنیادی اور مرکزی کردار بھی معاشرے کی وہی پرتیں ادا کرتی ہیں جو سب سے زیادہ دبی ہوئ اور کچلی ہوتی ہیں لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں قومی اور عوامی آزادی کی تحریکوں میں یہاں کے طالبہ نے جو کردار ادا کیا ہے وہ کم اہمیت کا حامل نہیں ہے کیوں کہ یہ طالبہ ہی ہے جو اپنی ذاتی،گروہی یا طبقاتی مفادات محدود ہونے کی وجہ سے اس طرح کی تحریکوں میں آگے آگے رہتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر ان کو والدین اور سماجی "مصلحین "کی طرف سے مختلف اقسام کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے کے یہ پڑھنے سے زیادہ سیاست کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ کہ ماں باپ کا پیسہ ضائع کرتے ہیں اور یہ کہ ملکی حالات بھی خراب کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن لیکچر باز اکثر اس تلخ اور دراصل توئین آمیز حقیقت کو نظر انداز کر جاتے ہیں کہ” جسے وہ پڑھائی کہتے ہیں وہ دراصل بچوں کے عقل اور شعور کو سلانے اور ان کو گرد و پیش سے بیگانہ ہو کر اداب غلامی رٹا لگانے کا نام ہے” ہمارے ہاں یعنی تیسری دنیا میں جو دراصل مغربی سرمایہ دار سامراج کی جدید نوآبادیاتی غلامی کے شکنجے میں ہے

    (سامراج کا نیا روپ جس میں ملکوں کی دولت معاشی اور اقتصادی ہتھکنڈوں سے فوجی قبضے کے بغیر لوٹی جاتی ہے )یہاں تعلیم کم ہی اردگرد کے ٹھوس مطالعے کی بنیاد پر ہوتی ہے تمام مضامین گردو پیش سے بیگانہ کرنے کی حوصلہ افزائی اور اس طرح رہنمائی کرتے ہیں ۔ان مضامین کا مواد اکثر بوسیدہ اور متعلقہ مضمون کی عینک سے اس میدان میں اس معاشرے کے اپنے مسائل اور مشکلات اور ترقی کے امکانات پر غور کرنے کی ترغیب دینے کے بجائے مغرب پر انحصار کے رجحان کو تقویت پہنچاتا ہے۔یہ نئی یہ ایک اور طرح کی غلامی ہے جس میں دراصل پاکستان کا ملکی ڈھانچہ بھی جھکڑا ہوا ہے کشمیریوں کے ساتھ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ اس کے علاوہ پاکستان کے غلام حکمرانوں کی غلامی میں بھی جھکڑے ہوئے ہیں جس کی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ
    "کشمیری عوام غلاموں کے غلاموں کے غلام ہیں ”

    @zeeshanwaheed4

  • امید کی کرن:  تحریر.عمرخان

    امید کی کرن: تحریر.عمرخان

    آگ تو ناجانے کب کی بُجھ گئی تھی۔ اب صرف راکھ بچی تھی اور میں اپنی سوچوں میں ڈوبا خواہشوں اور امیدوں کی تکمیل کا سوچتے اُس راکھ کو گورے جا رہا تھاجو دھیرے دھیرے یخ ٹھنڈی ہوئے جا رہی تھی۔
    میری سوچیں میرے دماغ پہ حاوی ہوئے جا رہی تھیں،
    آخر یہ اُمیدوں اور خواہشوں کی تکمیل کیونکر ممکن نہیں؟ کیونکر وقت کہ ساتھ ہر اُمید ختم ہوئے جاتی ہے؟ کیونکر میں خواہشوں کو تکمیل نہیں دے پا رہا؟لگتا تھا کہ اب کامیابی ممکن ہی نہیں۔ اب تو ناکامی مقدر ہے۔ لیکن یہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ راکھ جو میری آنکھوں کے سامنے بلکل بُھج چکی تھی‚ اس میں ایک ہلکی سی روشنی منور ہوئے جاتی ہے۔ یہ روشنی !!یہ روشنی کیسی ہے؟ ایک عجیب کشمکش میں مبتلا میں ایک اور سوچ سوچنے ہر مجبور ہوا کہ جیسے اس بُجھی ہوئی راکھ میں سے اس چھوٹی سی چنگاری نے اُمید نہ کھوتے ہوئے اپنے ہونے کا احساس مجھے دلایا تو میں انسان ہو کر نہ اُمید کیسے ہو سکتا ہوں ؟
    تب سمجھ آیا کہ انسان زندگی کہ کتنے ہی اندھیروں کا شکار کیوں نہ ہو ایک جگنو اُمید کا اسکے ہمدم ہوتا ہے جو ہر وقت اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ اندھیرا زیادہ دیر نہیں ہے خواہ وہ جگنو چھوٹا ہی ہوتا ہے لیکن اس سے جڑی امیدیں بہت بڑی ہوتی ہیں.
    انسان زندگی میں کتنا ہی بے سکون اورنہ اُمید کیوں نہ ہو اسکی زندگی مکمل امیدوں اور کاوشوں ہر انحصار کرتی ہے.
    امیدیں ایک ایسی ڈور ہیں جو انسان کو زندگی کی روشنیوں سے باندھے رکھتی ہیں. زندگی کی خوبصورتی انہی چھوٹی اور بڑی امیدوں کی تکمیل پر ہے. جب زندگی میں اُمید کی کوئی کرن جاگتی ہے تو اسے پورا کرنا جوش اور ولولہ انسان کو اس کے خالق کے قریب کر دیتا ہے بس عقل انسانی اپنی امیدوں کو پہچاننے سے قاصر ہے.
    اس بُجھی راکھ میں ایک چھوٹی سی چنگاری نے آگ مکمل نہ بُجھنے کا احساس دلا کر مجھے اس قابل بنایا کہ اپنی خواہشوں کی تکمیل کےلئیے اپنی اُمید کی کرن کو کبھی مرنے نہیں دینا اور یہی زندگی کی بھاگ دوڑ ہے۔

    ‎@U4_Umer_