Baaghi TV

Category: تعلیم

  • ڈگری کو چھوڑنے کی بات!!! — ضیغم قدیر

    ڈگری کو چھوڑنے کی بات!!! — ضیغم قدیر

    بل گیٹس نے یونیورسٹی چھوڑی، مارک زکر برگ نے یونیورسٹی چھوڑی، سٹیو جابز نے چھوڑی وغیرہ وغیرہ

    یہ جملہ آئے روز سننے کو ملتا ہے مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ انہوں نے یونیورسٹی چھوڑی تو تب انکی پوزیشن کیا تھی اور ان کو سپورٹ کرنیوالا کون تھا؟

    جس وقت ان سب نے یونیورسٹیوں کو چھوڑا اس وقت یہ اپنی کمپنیاں بنا چکے تھے اور وہ کمپنیاں اتنی زیادہ آؤٹ ریچ پر پہنچ چکی تھی کہ ان کے لئے یونیورسٹی اور کمپنی دونوں ایک ساتھ چلانا مشکل ہوگیا تھا۔ سو انہوں نے ڈگری پہ کاروبار کو ترجیح دی۔ اور کمپنیز کو مزید ترقی دینے پر لگ گئے۔

    لیکن یہاں فائنل سٹیپ بتا کر پہلے سٹیپ نہیں بتائے جاتے۔

    کیوں؟

    کیونکہ پہلے سٹیپ محنت طلب ہیں، جبکہ فائنل سٹیپ سب سے زیادہ آسان اور دل کو لبھانے والا ہے اور انسانی نفسیات ہے کہ وہ آسان باتیں سننا پسند کرتا ہے اور محنت طلب باتوں اور کاموں سے بھاگتا ہے۔

    آسان بات یہ ہے کہ تمام ارب پتی یونیورسٹیوں سے ڈراپ آؤٹ ہوئے تو ارب پتی بنے۔

    مشکل بات یہ ہے کہ یہ سب ارب پتی امریکہ میں رہ رہے تھے، وہاں پر انہیں اچھی سکول ایجوکیشن ملی، بعد میں کالج میں انکی پروفیشنل ڈیولپمنٹ پہ کام ہوا، کالج کے دوران ان کا واسطہ اس ٹیکنالوجی سے ہوا جو غریب ممالک سے تعلق رکھنے والے آپ اور ہم نے پانچ دس سال بعد دیکھنی تھی اور پھر اس ٹیکنالوجی کو پروفیشنلی پراڈکٹ میں بدلنے کے لئے ان کے پاس ملکی وسائل تھے جس میں آسان قرضے سے لیکر والدین کے پیسے تک سب موجود تھا۔ ان پر کسی قسم کا سوشل پریشر نہیں تھا کہ آپ کی کمپنی فلاں کے مذہب، عقیدے وغیرہ کو ٹھیس پہنچائے گی نا ان سے کسی نے یہ پوچھا کہ آپ سلفی ہیں یا مقلد ہیں یا قادیانی، نا ہی ان کو آپ کے والے مسائل تھے کہ بائیس پچیس سال کی عمر تک آپ کی سیکس لائف مکمل ہوئی کہ نہیں، سب کی گرل فرینڈز تھی سو وہ نفسیاتی طور پر آزاد رہ کر کسی بھی آئیڈیا پہ کام کر رہے تھے اور ان کا معاشرہ اور ملک سپورٹ کر رہا تھا۔

    پھر جا کر انکی کمپنیاں جب ملین ڈالر سے زائد کے کیپیٹل پر پہنچی تو انہوں نے کالج سے ڈراپ آؤٹ ہونا پسند کیا۔

    اب یہاں سوال پیدا ہوتے ہیں۔۔۔کہ

    کیا آپ کے ملک میں آپ کے پاس نئے آئیڈیاز سوچنے کے لئے وسائل دستیاب ہیں؟ کیا آپ زندگی کے بنیادی سروائیول کی پسوڑیوں مطلب شادی یا سادہ الفاظ میں سیکس لائف کی پسوڑی سے نکل چکے ہیں؟ کیا آپ کا ملک آپ کو آپکی کمپنی کے لئے خام مال باآسانی دے سکتا ہے؟ کیا آپ کے ملک میں ٹیکنالوجی اس لیول پہ ہے جس پر ایک ہارورڈ کا طالب علم دیکھ رہا ہے؟ کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کی کمپنی میں لوکل انویسٹر شئیر خریدیں گے؟ اور کیا آپکے ملک میں لانگ ٹرم پہ بزنس پالیسی موجود ہے؟

    ان سب سوالوں کا جواب نا میں ہوتا ہے۔

    سو پھر ڈگری کو برا کیوں کہا جائے؟ پھر سیدھا نقطہ یہ ہے کہ آپ سماج کو بدلیں یا اسے چھوڑ دیں پھر جا کر آپ کچھ نیا بنا سکیں گے۔

    اس وقت ہمارا ملک ایک کنزیومر ملک ہے جہاں پر پروڈیوسر بننے کی سوچ کے پیچھے ہزاروں چیلنجز ہوتے ہیں۔ آئیڈیاز ہیں تو وسائل نہیں وسائل ہیں تو آئیڈیاز نہیں اگر دونوں ہیں تو ملکی پالیسیز نہیں ہیں۔

    پاکستان کا سب سے بڑا سٹارٹ اپ میرے خیال سے دراز ہے اور پھر ائیر لفٹ تھی، دراز کے سی او نے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں غیر یقینی کی صورتحال دیکھ کر بہت سے آپریشن محدود کریں گے، جبکہ ائیر لفٹ تو مکمل بند کر دی گئی۔ ائیر لفٹ کیساتھ ساتھ کریم اور دیگر ہزاروں چھوٹے سٹارٹ اپس بند ہو گئے۔

    اب یہاں سٹارٹ اپس کے بند ہونے کی وجہ FDI یا فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کا بند ہونا ہے۔ کیونکہ ہمارا لوکل انویسٹر تو دھیلا خرچنا نہیں چاہتا۔ آپ ایک آئیڈیا لائیں اس پر کمپنی بنائیں، لوکل مارکیٹ میں سے کوئی بھی انویسٹ نہیں کرے گا سارا زر باہر سے لانا پڑے گا۔

    وہیں ایک ہاؤسنگ سکیم بنائیں دھڑا دھڑ پلاٹ بکیں گے، انویسٹمنٹ آئے گی پیسہ آئے۔

    مطلب مارکیٹ کی ڈائنامکس ہی کنزیومر بیسڈ ہے پروڈیوسر کو کوئی یہاں پنپتا نہیں دیکھ سکتا۔

    ایسے میں حل یہی ہے باہر جائیں ڈھیر سا پیسہ کما کر یا تو وہاں ہی کمپنی لانچ کریں یا یہاں آ کر لانچ کریں اور پراڈکٹس باہر ایکسپورٹ کریں۔

    مگر باہر جانے کے لئے آپ کو پراپر یونیورسٹی ایجوکیشن چاہیے، اچھا جی پی اے اور سکالرشپ سو اس کے لئے ڈگری پر محنت کریں، 3.4 سے اوپر جی پی اے رکھیں، پرسنل گرومنگ سیکھیں، خود کو پریزنٹ کرنا سیکھیں اور یہاں سے نکلنے کی کوشش کریں۔ ڈگری کو چھوڑنے کی بات کرنے والے ڈفر خود ایک پرزہ تک نہیں بنا سکتے سو ان کا چورن مت خریدیں۔

  • سکول رزلٹ کارڈ — ریاض علی خٹک

    سکول رزلٹ کارڈ — ریاض علی خٹک

    فلم تھری ایڈیٹس میں عامر خان چتر کی تقریر میں کچھ الفاظ بدل دیتا ہے. یہ کچھ الفاظ ہندی سے نابلد چھتر کی خوب بے عزتی کروا دیتے ہیں. غصے میں چھتر کالج کی ٹینکی پر ایک تاریخ لکھتا ہے. آج سے دس سال بعد فیصلہ ہوگا کون کامیاب اور کون ناکام ہے.؟

    میرے خیال میں سکولوں میں پوزیشن ہونی ہی نہیں چاہئے. یہ سمجھ کا کم یادداشت اور قسمت کا زیادہ کھیل بن جاتا ہے. سکولوں کا مقصد ایک نسل کا اپنی نئی نسل کو اس مقام تک لانا ہوتا ہے جس مقام پر آج کی نسل کھڑی ہے. اول دوئم سوئم پوزیشن ایک نسل دنیا کے میدان میں بناتی ہے، حاصل کرتی ہے اور منواتی ہے. اکثر سکول کلاس کے ٹاپرز زندگی کے میدان میں پیچھے اور کلاس کے کمزور بچے اس میدان میں آگے کھڑے ہوتے ہیں.

    کیا سکول رزلٹ کارڈ حقیقت کے میدانوں کے ترجمان ہیں.؟ آپ کے سکول میٹرک کے طلباء کی پوزیشن فرض کیا پندرہ سال بعد آج ایوارڈ ہوں. اپنے اپنے میدان میں پوزیشن اور کامیابی اگر معیار ہو تو نتیجہ کیا ہوگا.؟ آپ بھی سوچیں اور بچوں کا پوزیشن سٹریس کم کرنے کا حوصلہ کریں. ہم سسٹم تو نہیں بدل سکتے لیکن کسی کی پریشانی کو کم ضرور کر سکتے ہیں.

    وقت اکثر چتر کی طرح ان کی یادداشت کے چند لفظ آگے پیچھے کر دیتا ہے. زمانے کے قہقہے نکل جاتے ہیں اور یہ بچارے اپنی ذات میں سمٹ کر گُم ہو جاتے ہیں.

  • ایم بی بی ایس کی فیلڈ — طلحہ سید نقوی

    ایم بی بی ایس کی فیلڈ — طلحہ سید نقوی

    ایم بی بی ایس کی فیلڈ ابھی تک باقیوں سے بہت بہتر ہے لیکن فلفور اس میں ریفارمز آنے چاہیں

    ایک سال پہلے 500 سیٹ آئی پی پی ایس سی جس پے دس ہزار لوگوں نے اپلائی کیا ہاں اگر یہ سیٹ آپ انجنئیرنگ کو دیں تو یہاں پچیس ہزار اور اگر کیمسٹری وغیرہ کو دیں تو ایک ایک لاکھ تک لوگ اپلائی کریں گے۔۔۔

    لیکن مسئلہ دیکھیں پی پی ایس سی ان 11000 لوگوں کے انٹرویو لے رہا ہے ٹیسٹ کی کوئی پالیسی نہیں پرانے خیالات پے جی رہے جب 100 سیٹ پے اسی لوگ اپلائی کرتے تھے

    سیٹیں یہاں منصفانہ نہیں جا رہی جس کا اثر رسوخ ہے وہ لے رہا ہے اگر یہ سیٹیں آپ انجنئیرنگ کو دیں تو ہم بہت خوش ہوں کیونکہ ہم ان سیٹوں پے بھی سیلکٹ ہوئے جو 10 آئی اور 4000 لوگوں نے اپلائی کیا الحمدللہ میں نے بھی بہت بار ان سیٹوں پے نا صرف ٹیسٹ دیا بلکہ ٹاپ بھی کیا۔۔۔۔

    آپ کے کنگ ایڈورڈ کے گریجوایٹ غیر منصفانہ تقسیم سے مارے مارے پھر رہے جبکہ بیرون ممالک یا کم نمبروں والے لوگ سفارشات پے مستقل ملازمت لے کر جا رہے ہیں.

    ایڈہاک کی سیٹیں فلفور ختم ہونی چاہیے اسکی جگہ کنٹریکٹ لاگو ہونا چاہیے ایڈہاک کا بنیادی مقصد مستقل سیٹوں کو کسی ملازم سے فلفور بھرنا تھا اور 2004 اور 2006 کی پالیسی ہے ایڈہاک پے ملازمین کو اچھی تنخواہ دی جاتی تھی تگنی جبکہ اب دیکھا جائے ایڈہاک کے انٹرویو تھے 10 سیٹوں پے چھ سو لوگ بلائے ہوئے تھے یہاں تذلیل الگ غیر منصفانہ تقسیم الگ اسکے بعد ہر چھ ماہ بعد دوبارہ کی خواری رینیوو کرواتے الگ۔۔۔

    اسکو ختم کر کے کنٹریکٹ لایا جائے اور پورے پنجاب میں پنجاب لیول پے یا ہر ڈسٹرکٹ کے ذمے باقاعدہ ٹیسٹ انٹرویو لے کر جاب دی جائے 10 سیٹوں پے محض 50 لوگوں کا حق ہے اور پچاس بھی وہ جو قابل ترین ہوں۔۔۔۔

    اس وقت وائے ڈی اے و دیگران اپنے سروس سٹرکچر کے لیے بھی کوشاں نہیں سب مل جھل کر پرائیوٹ کالج چلانے میں مشغول ہیں اپنے اور رشتے داروں کی سفارشات میں۔۔۔۔

    تحریری طور پے یہ پیغام بہت جگہ پہنچا چکا ہوں کہ فوراً سے پہلے اگر ہم چاہتے ہیں ایم بی بی ایس بچ جائے تو ریفارمز کی فوراً ضرورت ہے وگرنہ آپ کریم آف نیشن کو تباہ کر رہے ہیں اور تباہ کرنے والے غیر نہیں انکی اپنی تنظیمیں ہیں.

    جنکے یہ نعرے لگاتے رہے ہیں کلاسوں سے نکلوا کر
    ” میرے کفن پے لکھنا وائے ڈی اے”

  • انجنئیرنگ کا عروج — طلحہ سید نقوی

    انجنئیرنگ کا عروج — طلحہ سید نقوی

    2010 تک ایم بی بی ایس ایک عام سی ہی ڈگری ہوا کرتی تھی باقی ڈگریوں کی طرح جبکہ انجنئیرنگ 2004-2005 تک ایک عام سی ڈگری تھی.

    پھر یک دم انجنئیرنگ کا عروج آیا کیونکہ انجنئیرز کو بیرون ممالک اور اپنے ملک میں ایسی نوکریاں ملی مشرف کے دور میں کہ انجنئیرز کا قحط پڑھ گیا بندے مل نہیں رہے تھے اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ یہ فیلڈ کرنی چاہیے پیسہ ہی پیسہ ہے ہوا یہ کہ 2008 کے بعد سے ہر بندے نے پرائیویٹ کالج کھولنا شروع کیے پانچ سال 2008 سے 2013 تک انجنئیرنگ فل عروج پے رہی تاریخ کے بڑے بڑے انٹری ٹیسٹ ہوئے اتنی تعداد کبھی اس سے پہلے شامل نا ہوئی تھی اور پھر حالات بدلے وقت بدلا نوکریاں نا ملی انجنئیر بدنام ہوئے پرائیویٹ بزنس بند ہوئے کالجز میں ان ٹیک ختم ہونا شروع ہوئی 2017 کے بعد سے اب 2022 ہیں انجنئیرنگ کے تقریباً تمام پرائیویٹ کالج بند ہوچکے ہیں اور بڑی یونیورسٹی جیسے کامسٹ وغیرہ میں بھی داخلے کم ہیں سب پریشان ہیں۔۔۔۔

    اب اس فیلڈ کو پھر عروج آئے گا 2023 کے بعد 2030 تک ممکنہ طور پے فیلڈ اوپر جائے گی ۔۔۔۔۔

    اسی طرح میڈیکل 2010 تک ایک نارمل ڈگری تھی لیکن وقت بدلا انجنئیرنگ سے سارا رش اٹھ کے میڈیکل پے آنے لگا 2013 کے بعد عروج شروع ہوا اور 2017 تک تمام انجنئیرنگ کالج میڈیکل کالج میں بدلنا شروع ہوئے جن جن کے انجنئیرنگ کالج تھے انہوں نے ایم بی بی ایس نا کروا سکے تو الائیڈ ہیلتھ اور نرسنگ وغیرہ شروع کردی نتیجہ یہ نکلا کہ بزنس سارا شفٹ ہوگیا میڈیکل پے اور اسکے گریجویٹ 300٪ بڑھ گے جہاں 100 بچہ نکلتا تھا اب 400 نکلنے لگا اور اب صورتحال یہ ہے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز دو تین سال بعد بند ہونا شروع ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔

    جو اس وقت عروج ہے وہ ہے کمپیوٹر سائنس کا ہر گلی میں ہر گھر میں ایک ادارہ کھل رہا ہے جو کمپیوٹر سائنس کی ڈگری کروا رہا ہے اگلے دو سال بعد انتہائی زوال جو شروع ہونا ہے وہ کمپیوٹر گریجوایٹس کا ہے جنکے پاس ڈگری ہوگی پر فری لانسنگ کے لیے کوئی سکل نہیں مارکیٹ میں نوکریاں نہیں ہونگی فری لانسر کی مارکیٹ یہ خراب کریں گے سستے میں کام کر کے شدید مسائل اس فیلڈ کو آنے والے ہیں۔۔۔

    سمجھدار لوگ اپنے بچوں کو انجنئیرنگ میں داخل کروائیں ایف ایس سی پری انجنئیرنگ کروائیں کیونکہ اسکا پھر عروج آنے والا ہے ہاں البتہ میڈیکل ابھی اپنے زوال کو جائے گا جب پرائیویٹ کالج سسٹین نہیں کر پائیں گے وہ بند ہونگے لوگ داخلہ لینا چھوڑیں گے تو تقریباً 10 سے 12 سے آٹھ سال بعد ایک بار پھر اس فیلڈ کا عروج آئے گا۔۔۔۔

    فلوقت اگر کوئی والدین اپنی جائیداد بیچ کر بچے کو پرائیویٹ ایم بی بی ایس کروانا چاہتے ہیں تو ان والدین سے بے وقوف اس دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔

    انہیں شدید غورو فکر کی ضرورت ہے.

  • کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام  — اعجازالحق عثمانی

    کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام — اعجازالحق عثمانی

    کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق یعنی کلاس فیلوز کی بہت ساری اقسام ہو سکتی ہیں۔ جن کی مستند تعداد بتانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن امر ہے۔ کیونکہ انکی اقسام اتنی ہی جلدی بدلتی ہیں جتنی جلدی پنجاب میں وزیراعلی۔۔ مگر کلاس فیلوز کی چند اقسام پیش خدمت ہیں ۔

    نمبر ایک:
    پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو کبھی وقت پر نہیں آتے مگر عموماً وقت سے پہلے چلے ضرور جاتے ہیں۔ اسی قسم کے کچھ باشندے تو چھٹی کے ٹائم سے دس منٹ پہلے ہی کہہ رہے ہوتے ہیں ۔ میم "ٹیم”(ٹائم) ہوگیا ہے۔

    نمبر دو:
    کلاس روم میں ایک اور مخلوق پائی جاتی ہے جو ہفتے کے چھ دن بیمار رہتی ہے اور ساتویں دن یعنی اتوار کو بیماری کو چھٹی دیتی ہے۔ ان پر بیماریاں بھی بڑی ترتیب سے آتی ہیں۔ سوموار کو انکا گلا خراب ہوتا ہے ۔ اگلے دن نزلہ اور پھر بخار اور اگلے دن یعنی اتوار کو بیماری کی چھٹی ۔ بیماری کا یہ سائیکل ہر دو ماہ بعد ضرور آتا ہے ۔ اگر کبھی یہ سائیکل پنکچر ہوجائے تو پھر انکے دور کے رشتہ داروں میں سے کوئی خدا کو پیارا ہو جاتا ہے۔

    نمبر تین:
    اگلی قسم کا نام ہے ” فٹا فٹ” ۔ کلاس رومز میں پائی جانے والی یہ مخلوق ہر وقت فٹا فٹ کے چکروں میں ہوتی ہے۔ جیسا کہ اگر ٹیچر کلاس میں 5 منٹ تک نہ آئے تو یہ مخلوق فٹا فٹ سٹاف روم کو دوڑے گی۔ پھر پوری کلاس انکو خوب صلواتیں بھی سناتی ہے ۔جن کا اس مخلوق پر اتنا ہی اثر پڑتا ہے ۔جتنا ہم سب پر قاسم علی شاہ کا۔

    نمبر چار:
    اس قسم کا نام Attention Beggars ہے۔
    یہ ہر وقت اٹنشن کے چکر میں بھکاریوں کی طرح ادھر ادھر بھٹک رہے ہوتے ہیں ۔ اٹنشن کے چکر میں یہ تمام تر چھچھورے پن کر مظاہرہ کرنے کے باوجود تھوڑی سی بھی توجہ نہ ملنے کے بعد بھی زرا شرمندہ نہیں ہوتے،
    بلکہ بھکاریوں کی طرح اگلے بندے کے پاس چلے جاتے ہیں۔

    نمبر پانچ:
    ایک وہ مخلوق بھی پائی جاتی ہے جو کبھی چھٹی ہی نہیں کرتی ۔ نہ جانے یہ مخلوق اتوار کو گھر کیسے بیٹھتی ہوگی۔ انکو دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ ان کے خاندان میں نہ تو کوئی شادی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی بابا مرتا ہے ۔ بیماری تو ان کے گھر ایسے ہی آتی ہوگی جیسے ہندؤں کو کلمہ

    نمبر چھ:
    ایک مخلوق ہر وقت اپنے ہی اشتہار چلاتی رہتی ہے ۔ یعنی

    میں نے یہ کر دیا
    میں نے وہ نے وہ کر دیا

    وقت آنے پر جب پتہ چلتا ہے تو اس مخلوق نے صرف وہ ہی کیا ہوتا ہے ۔ جو میں آپ کے سامنے نہیں کرسکتا۔ اس مخلوق کو آپ "بول نیوز” بھی کہہ سکتے ہیں ۔ کیونکہ ہر کام سب سے پہلے ، سب سے اچھا یہی مخلوق کرتی ہے، صرف باتوں میں ۔

    شکائتو! ٹولے کا تو نہ ہی پوچھیے۔ اس مخلوق کی پہچان انتہائی آسان کام ہے ۔ ٹیچرز کی خوش آمدیں تو ان پر بس ہیں۔ یہی لوگ "آئی ایس آئی” کا کام بھی سر انجام دیتے ہیں ۔ کلاس کی خفیہ باتیں، ٹیچرز اور ایڈمن آفس تک پہنچانا انکا اولین فرض ہوتا ہے۔ اگر کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام لکھنے بیٹھا جائے تو کئی اک دن درکار ہونگے ۔ سو انھی چند اقسام پر گزارا کرتے ہیں ۔

  • علم کی فضیلت — ام عفاف

    علم کی فضیلت — ام عفاف

    اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو تخلیق کیا تو اسے علم سکھایا انسان اور علم کا ابتداء ہی سے گہرا تعلق ہے. انسان اور دوسری مخلوقات کے درمیان فرق صرف علم اور شعور کا ہے. اسی بنا پر للہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا.

    اس دنیا کی تخلیق سے لے کر آج تک جتنی بھی قومیں گزری ہیں ان میں بھی علم کی بہت اہمیت رہی ہے. علم کے بغیر قومیں ناکام رہی ہیں. اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب نبی اکرم صلعم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ علم سے ہی متعلق تھی کہ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تجھے پیدا کیا. 12 ربیع الاول جو کہ اصحاب سیر کے ایک طبقہ کے مطابق یوم ولادت با سعادت نبوی ہے (بعض محققین 9 ربیع الاول کے قائل ہیں) مسلم معاشرے کے مختلف طبقوں میں مختلف انداز میں منایا جاتا ہے. کہیں محفل میلاد ہے تو کہیں جلسہ سیرت النبی کہیں نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد ہے تو کہیں جلوس کا اہتمام ہے.

    ظاہر ہے یہ سب کچھ رسول اللہ صلعم کے لیے اپنی محبت اور عقیدت کے اظہار کے لئے ہی کیا جاتا ہے لیکن احقر کی نظر میں یہ دن رسول اللہ صلعم کے مشن کی یاد اور اس کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کے احتساب کے طور پر منایا جائے تو آپ صلعم کے لیے امت مسلمہ کی بہترین خراج عقیدت ہو گی. ذرا غور کریں! یہ وحی اس وقت نازل ہوئی جب دنیا کے منظر نامے میں سوائے ظلم اور جہالت اور اندھیرے کے کچھ بھی نہ تھا ‘عالم یہ تھا کہ انسانیت پس چکی تھی’ مظلوم کا پرسان حال کوئی نہیں تھا ‘غریب بے یار و مددگار تھا یتیم بے کس تھا. علم کائنات سے اٹھ چکا تھا’ بے مروتی انتہا پر تھی شیخی وطیرہ بن چکی تھی. جہالت اتنی کہ جہالت بھی پناہ مانگے. قانون کوئی نہیں تھا البتہ طاقت؛ دستور وہی جو طاقتور کے الفاظ. فقط ایک افراتفری تھی بے ہنگم عقائد تھے. بے سلیقہ زندگیاں تھیں. غور وفکر ناپید تھی اسلاف کے سچے اور جھوٹے من گھڑت کارنامے تھے. ان پر نسلی قبائلی نسبی و علاقائی تفاخر طاقت ہے. انسان اسفل السافلین سے بھی نچلے گھڑے میں اتر چکا تھا. لیکن یہ انسانیت کا مقدر تو نہ تھا. یہ خلیفہ لم یزل کی شان تو نہ تھی. اس لئے انسان اور انسانیت کو عروج ودوام بخشنے کے لیے اسلامی تہذیب کا آفتاب طلوع ہونا ناگزیر تھا تاکہ زوال پذیر تہذیب بھی اسلامی تہذیب سے روشنی اور چمک لے کر محبت اور ترقی کا ثمر چکھ سکیں.

    تہذیب اسلامی کا منبع اور بنیاد رسول صلعم کی ذات مبارکہ ہے آپ صلعم کے اخلاق و کردار افعال واقوال آپ صلعم کی سیرت طیبہ مینارہ نور کی طرح ہدایت ورہنمائ کے لیے محفوظ اور موجود ہے. آپ صلعم کے بارے میں خود رب کائنات نے فرمایا کہ

    انک لعلی خلق عظیم.

    اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں.(یعنی کہ آداب قرآنی سے مزین اور اخلاق الہیہ سے متصف ہیں)
    .
    آپ صلعم نے حصول علم کو ہر مسلمان مرد و زن پر فرض قرار دیا ہے. بلکہ حصول علم کی فضیلت میں دین اسلام کہتا ہے کہ جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے ہیں.

    رسول صلعم نے فرمایا کہ حکمت(علم) مومن کی گمشدہ میراث ہے جہاں سے ملے لے لو. ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں حضور اکرم صلعم نے اہل علم کی فضیلت بیان کی حتیٰ کہ آپ صلعم نے اپنے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میں علم کا شہر ہو. مزید مومنین کو علم حاصل کرنے پر ابھارا. علم کے حصول کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلعم نے فرمایا کہ حصول علم کی خاطر گھر سے باہر جانے والے کی موت بھی واقع ہوجائے تو اس کا مرتبہ شہید جیسا ہے.

    یاد رہے! کہ یہاں علم سے مراد علم نافع ہے. جس سے انسان دین اور دنیا کی بھلائی کا کام کرسکے معاملات دنیا کو سلجھانے کی تعلیم حاصل کرنے کی بھی حوصلہ افزائی ہمیں سیرت النبی صلعم سے ملتی ہے. علم دین اور قرآن تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم درسگاہ نبوت سے براہ راست سیکھتے تھے وہ علم انہیں کہیں جاکر سیکھنے کی حاجت نہ تھی. لیکن غزوہ بدر کے موقع پر جب کفار جنگ ہار گئے اور ان میں سے کچھ کو قید کر لیا گیا تو ان کے آزاد ہونے کی شرط یہ تھی کہ جو فدیہ ادا نہیں کرسکتا وہ مسلمانوں کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھاءے اب اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں کہ کفار نے جو مسلمانوں کے بچوں کو پڑھانا تھا وہ ہرگز تعلیمات اسلامی نہیں ہوسکتی تھی. وہ اس وقت کے مروجہ دنیاوی علوم ہی تھے.

    اگر آج ہم اپنے علمی رویے پر غور کریں تو جان جائیں گے کہ ہم علم و حصول علم سے کتنی دور ہیں. مسلمانوں کی کتنی جامعات ویونیورسٹیاں عالمی معیار کے مطابق ہیں. دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں ہمارا شمار کس جگہ پر ہے؟ اتنا نیچے کہ بس شرمندگی! ہم اس دین کے پیروکار ہیں جس کی ابتداء اقراء سے ہوتی ہے. جہاں قلم کی روشنائی کا درجہ شہید کے لہو کی مانند ہے. لیکن ہمارا سماجی رویہ حصول علم کی جانب کتنا مثبت ہے؟ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نقالی کرہے ہیں ہم جدت سے کتنا دور ہیں؟ جو یہود و نصاریٰ اس وقت رسول صلعم کے آگے آنے سے ڈرتے تھے آج ہم ان کی نقالی کرہے ہیں. جس مذہب کی اپنی ثقافت تہذیب وتمدن ہو وہ قوم کسی اور کے طور طریقوں کو اختیار کرے ایسی قوم کے لئے شرمندگی کا مقام اور کیا ہو گا.

    ذرا سوچیں! کہ جس قوم کی آج سے کچھ صدیوں پہلے اتنی مضبوط پوزیشن تھی وہ قوم آج زوال پذیر کیوں ہے؟

    وہ صرف اسی لیے کہ ہم نے اطاعت رسول صلعم کو چھوڑ دیا ہے ہمارے پیارے نبی صلعم جن کی مثال کافر بھی دیتے ہیں آج ہم نے ان کی پیروکاری کو چھوڑ دیا ہے. جلسے جلوس محبت کا اظہار، جشن، چراغاں تو یہودونصاری بھی ایک دن کے لیے اپنے نبیوں کے لیے کرلیتے ہیں لیکن اصل بات اطاعت کی ہے. افسوس کہ وہ ہمارے اندر اب مفقود ہے. رسول صلعم کا عاجزانہ رویہ سادگی، سادہ طرز زندگی کو ہم نے اختیار نہیں کیا ہے. ہم نے سیرت طیبہ کے قانون کو لاگو نہیں کیا ہے اسی لیے آج ہم اتنا پیچھے ہیں. دنیا میں ہماری کوئی حیثیت نہیں،
    شاعر کیا خوب کہتا ہے.

    وہ معزز تھے زمانے میں صاحب قرآں ہو کر
    اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

  • وزیر اعظم نے منظوری دے دی، لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع. چیئرمین ایچ ای سی

    وزیر اعظم نے منظوری دے دی، لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع. چیئرمین ایچ ای سی

    پاکستان میں سرکاری جامعات کے طلبہ کے لیے وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم ایک بار شروع کی جا رہی ہے اور وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ پہلے فیز میں فروری 2023 سے اسکیم کے تحت لیپ ٹاپ کی تقسیم شروع ہو جائے گی۔

    چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد نے کراچی آمد کے موقع پر ایچ ای سی کے ریجنل دفتر میں نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ پرائم منسٹر کی جانب سے اس سلسلے میں administrative approval مل گئی ہے 28 اکتوبر کو اس سلسلے میں اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہے اور پالیسی کے نکات کی منظوری کے ساتھ ہی اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار ایم فل/پی ایچ ڈی کے ساتھ ساتھ جامعات کے انڈر گریجویٹ اور اوپن/ورچوئل یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی لیپ ٹاپ دیے جائیں گے تاہم انڈر گریجویٹ کے لیے لیپ ٹاپ کی تعداد محدود ہوگی۔ ’’ایکسپریس‘‘ کے اس سوال پر کہ کیا اس بار بھی لیپ ٹاپ اسکیم وزیر اعظم کی تصویر کے ساتھ جاری ہوگی، انھوں نے نفی میں جواب نہیں دیا، انھوں نے بتایا کہ اسکیم کے لیے 10 بلین روپے کا فنڈ مختص کیا جا رہا ہے۔

    علاوہ ازیں ایک سوال پر چیئرمین ایچ ای سی کا کہنا تھا کہ وہ کراچی کے دورے کے موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کریں گے اور ان سے گزارش کریں گے کہ جامعات کو بہتر نظم و نسق کے ساتھ چلانے کے لیے وہاں ایڈہاک ازم ختم کرکے وائس چانسلرز کا فوری تقرر کروائیں جبکہ سندھ کی جامعات میں ڈائریکٹر فنانس کے مسائل حل کرانے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سے گزارش ہوگی کہ وہ ڈی ایف کا رپورٹنگ چینل وائس چانسلرز کو ہی رہنے دیں بصورت دیگر وائس چانسلرز بے اختیار ہوجائیں گے اور جامعات کا انتظام عملی طور پر ڈائریکٹر فنانس کے پاس چلا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع، ڈھائی کروڑ بچوں کو قطرے پلائے جائیں
    عمران خان کی نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت آج ہوگی
    وزیراعظم شہبازشریف آج پاکستان سے سعودی عرب چلے جائیں گے
    پاکستانی ائیرلائنز کی یورپ میں بحالی؛ یورپی کمیشن نے پی سی اے اے حکام کو تکنیکی میٹنگ کے لیے مدعو کرلیا
    جامعات میں مالی بحران کے حوالے سے ڈاکٹر مختار کا کہنا تھا کہ جامعات کو چاہیے کہ وہ تنخواہوں کے ساتھ ساتھ دیے جانے والے الاؤنسز اور ایڈیشنل فنڈز کا استعمال روکیں، اخراجات پر قابو کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم انڈر گریجویٹ اور پی ایچ ڈی پالیسی میں ترامیم لارہے ہیں اور اس کے نقائص دور کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر مختار احمد نے پیر کو جامعہ کراچی میں چائینیز لینگویج سینٹر کا دورہ بھی کیا اور وہاں خود کش حملے کے سانحے کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور جاں بحق ہونے والوں کے سوگ میں کچھ دیر کی خاموشی اختیار کی۔

  • ” دَسْتَک ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” دَسْتَک ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    دَسْتَک کے اردو معنی، دروازہ بجانا، دروازہ اور پھاٹک کھٹکھٹانے اور تھپتھپانے کے عمل کو کہتے ہیں.

    دستک یا ڈور بیل ہماری روٹین اور معمول کا لازمی جز ہے۔

    ہمارا رویہ کسی دوست، عزیز یا پڑوسی کے گھر گئے یا بعض دفعہ اپنے گھر کی دستک یا بیل بجانی ہو تو بیل پر انگلی رکھ کر چسکے لینے لگتے ہیں جو کہ نہایت بےہودہ حرکت ہے۔ اگر مطلوبہ دروازے پر بیل کی بجائے دستک دینی پڑ جائے تو اردگرد کے لوگوں کو بھی مشقت میں ڈال دیتے ہیں۔

    عزیز بھائیو ! ذرا سوچیں کہ ممکن ہے اندر گھر میں کوئی مریض ہو یا کسی کو گھنٹوں کی مشقت سے گذر کر نیند کی گھڑی میسر آئی ہو یا پھر ممکن ہے کوئی کسی اہم امر میں مشغول ہو بعض دفع پردے والے گھر میں کسی مرد کے گھر میں نا ہونے کے سبب بھی تاخیر ہو جاتی ہے لہٰذا حوصلہ تحمل اور بردباری ایک ضروری وصف ہے جس کو ہم سب میں ہونا چاہئیے۔

    اسلامی ہدایات

    کسی کے گھر میں داخل ہونے سے
    قبل اجازت لینے کے آداب کیا ہیں؟

    کسی کے گھر جانے سے قبل اجازت لینا ایک اچھے اور مہذب انسان کی پہچان اور اس کی شرافت کى دليل ہے. ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے پاس اس کی اجازت کے بغیر پہنچ جاتا ہے تو اس کو ایسی حالت میں دیکھے گا جس میں شاید اسے دیکھنا پسند نہ ہو. شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس بات کی بالکل گنجائش نہیں کہ کوئی آدمی کسی کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر داخل ہو. اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا

    “اے ایمان والو! اپنے گھروں کے علاوہ کسی اور کے گھر میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو، اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو.” سورۃ نور 27

    اسی لئے اسلام نے اجازت کے کچھ آداب بیان کئے تاکہ اس کے ماننے والے اس کى روشنى میں اپنى عملی زندگی گزار سکیں.

    1 گھر کے اندر نہ جھانکا جائے۔

    کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے گھر میں اور اوپر نیچے جھانکنے کی، ایسے لوگ اچھے مزاج کے ہرگز نہیں ہو سکتے. بخاری، مسلم كى روايت ہےحضرت ابو هريره رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر کسی شخص نے تمہارے گھر میں بغیر تمہاری اجازت کے جھانکا اور تم نے اسے كنكری پھینک کر ماری اور اس کی آنکھ پھوٹ گئی تو تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں۔

    2 اجازت لینے والے کو چاہئیے کہ وہ دروازے کے بالکل سامنے نا کھڑا ہو، بلکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑا ہو تاکہ براہ راست گھر میں نظر نہ پڑسکے۔ ( نہایت اہم بات )

    پھر دروازے پر کھڑے ہوکر "السلام علیکم” کہتے ہوئے كہے: کیا میں داخل ہوسکتا ہوں؟ دروازے پر دستک دیتے وقت زور زور سے دروازہ پیٹنا اچھی بات نہیں بلکہ اتنی زور سے دروازہ مارا جائے کہ آواز اندر چلی جائے. دروازے پر تین بار ٹھہر ٹھہر کر دستک دے۔

    3 اجازت لینے والے کو چاہئے کہ اپنا نام بتائے۔

    جب آپ کسی کے دروازے پر دستک دیں گے اور وہ آپ کے لئے دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو واضح ہے کہ وہ دروازہ کھولنے سے پہلے آپ کا نام جاننا چاہے گا، اس لئے اپنا نام بتانے میں کسی قسم کے جھجھک کا تجربہ نہیں کرنا چاہئیے۔

    بخاری، مسلم كى روايت هے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
    "میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قرض میں مدد مانگنے کے لئے گیا جو ہمارے باپ پر تھا. میں نے دروازہ پر دستک دی تو آپ نے پوچھا: کون؟ میں نے کہا: میں ہوں. تو آپ نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا "میں” "میں” گویا آپ نے اسے ناپسند كيا۔

    4 اجازت نہ ملنے پر لوٹ جائیں۔

    اگر اجازت نہ مل سکے تو گھر والوں کے بارے میں کوئی برا خیال نہ رکھیں اور وہاں سے لوٹ جائیں کہ ظاهر ہے کہ کسی صحیح وجہ کی بنیاد پر ہی آپ کو اجازت نہیں ملی ہے: اللہ کریم نے فرمایا:-

    سورة النور 28

    ترجمہ: اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس ہو جاؤ تو واپس ہو جاؤ، یہی تمہارے لئے زیادہ اچھی بات ہے. اللہ اچھی طرح جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ سور النور آیت 28..

  • پاکستانی معاشرے میں زومبیز نما مخلوق کی بڑھتی ہوئی تعداد — محمد سجاد عبداللہ

    پاکستانی معاشرے میں زومبیز نما مخلوق کی بڑھتی ہوئی تعداد — محمد سجاد عبداللہ

    ویسے تو تمام آسمانی مذاہب میں زومبیز جیسا کوئی کردار نہیں ہے، یہ صرف ہالی ووڈ موویز میں ڈیفائن کیا گیا ہے۔ لیکن پاکستانی معاشرے کی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں زومبیز نما مخلوق کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ہالی ووڈ موویز میں زومبیز ایسے مردہ انسان ہوتے ہیں جو کسی کو کاٹ کھائیں تو وہ بھی زومبی بن جاتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ایک نئی طرح کے زومبی نیس کا شکار ہوگیا ہے۔ایسے کردار جو غلط یا غیر موجود کیرئیر کونسلنگ کی وجہ سے معاشرے کے کسی خاص شعبے میں ، اپنی مرضی کے بغیر ، شامل ہوجاتے ہیں ، وہ آہستہ آہستہ معاشرے کے دوسرے افراد میں بھی اپنی طرح بیزاری اور مایوسی بھرنا شروع ہوجاتے ہیں۔

    کیا کسی ایسے سٹوڈنٹ کو کوئی ایسا مضمون زبردستی پڑھایا جاسکتا ہے جس میں اس کی دل چسپی ہی نہ ہو؟؟

    مثلا اسلامی مدرسوں میں بچوں ان کی عدم دل چسپی کے باوجودان کو مار پیٹ کراگر ہم ان کو عالم دین یا حافظ قرآن بنا بھی دیں اور اس کے مقابلے میں کچھ ایسے سٹوڈنٹس ہوں جو صرف اپنی ذاتی دل چسپی اور شوق کی وجہ سے حافظ قرآن یا عالم دین بنیں تو کورس مکمل ہونے کی بعد کی زندگی میں پہلے والے سٹوڈنٹس زیادہ کامیاب ہوں گے یا دوسرے والے؟ معاشرے کو زیادہ بہتر اور دل جمعی کے ساتھ خدمات مہیا کرنے میں پہلے والے سٹوڈنٹس زیادہ کامیاب ہوں گے یا دوسرے والے؟ معاشرے میں بہتری، تازگی اور برداشت پہلے والے سٹوڈنٹس کی وجہ سے آئے گی یا دوسرے والے؟

    یہی کہانی باقی تمام دنیاوی مضامین میں اپلائی ہوتی ہے۔ جس بچے کو بائیو سمجھ ہی نہیں آتی، اس کو آپ ایک اچھا ڈاکٹر کیسے بنا سکتے ہیں۔ ہر بچے کی دل چسپیاں مختلف ہوتی ہیں۔ ہم ٹیچرز کے پاس ہر کلاس میں تقریبا 90%سٹوڈنٹس ایسے بیٹھے ہوتے ہیں جو اپنی مرضی کی بجائے کسی اور مثلا ماں باپ، ماموں، چاچو یا دوستوں کے کہنے کی وجہ یہ مضمون منتخب کرتے ہیں اور پھر اگر کسی طریقے سے رٹا لگا کے، ذہنی اذیت برداشت کرکے یہ مضمون پاس کربھی جائیں تو اول نمبر اتنے اچھے نہیں آتے، یا نمبر اچھے آجائیں تو اس مضمون میں اپنی عدم دل چسپی کی بنا پر معاشرے کو اپنا سو فیصد کنٹری بیوشن نہیں دے سکتے۔

    ایک اور مثال اپنے مضمون سے دینا چاہتا ہوں کہ ایم سی ایس یا بی ایس کمپیوٹر سائنسز کرنے والے اکثر سٹوڈنٹس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ان کو پروگرامنگ کی الف ب کا بھی پتہ نہیں ہوتا اور وہ اپنی طرف سے ایک لائن بھی کوڈ نہیں کرسکتے۔ اب ایک ماسٹرز ڈگری والا پروگرامنگ کی ایک لائن بھی نہیں لکھ سکتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کو کمپیوٹر سائنس پروگرام میں جو ایڈمشن دیا تھا وہ ایڈمشن غلط تھا۔اور ایسے سٹوڈنٹس جب ڈگری مکمل کرنے کے بعد حقیقی دنیا میں واپس آئیں گے۔ تو اچھی آمدن نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں بیزاری، عدم برداشت اور تعلیم سے دوری جیسے عناصر کو فروغ دیں گے۔

    حقیقتا ہمارے معاشرے میں بگاڑ کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے۔ویسے تو ایسے سٹوڈنٹس کا ڈگری میں کامیاب ہونا بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہماری یونیورسٹیز میں سے اکثریت علم کی دریافت اور ایجاد کی بجائے چھاپہ خانے کی سروسز مہیا کررہی ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اچھی آمدن کیلئے ڈگری ضروری نہیں ہوتی ۔ یہ علیحدہ قابل مباحثہ موضوعات ہیں۔

    ہمیں میٹرک کے بعد سے ہی اس مسئلے پر توجہ دینی پڑی گی۔ کیرئیر کونسلنگ کے شعبے کی کالج لیول پر اشد ضرورت ہے۔ ہر بچے سے اس کے پسندیدہ مضمون کے بارے میں پوچھا جائے، جو اس کو سمجھنے میں آسان لگتا ہے۔ یا بالفرض اس کو کسی ایسے پروگرام میں ایڈمشن مل بھی جاتا ہے جو وہ فالو نہیں کرسکتا تو ایک یا دو ماہ کے اندر اپنا پروگرام تبدیل کرلے اور کسی ایسے پروگرام میں داخلہ لے لے، جس میں اس کو دل چسپی ہے۔

    ہمیں مزید پروگرامز متعارف کروانے ہوں گے، جس میں ٹیکنیکل پروگرامز کی کثیر تعداد شامل ہو۔ کیوں کہ سٹوڈنٹس کی اکثریت روایتی تعلیمی پروگرامز میں دل چسپی نہیں رکھتی۔ ہمیں میرٹ بیسڈ ایڈمشنز کو فروغ دینا ہوگا۔ کمپیوٹر سائنس پروگرام میں اس کو ایڈمشن دیں، جس کی ریاضی اچھی ہو۔ جو کوڈنگ کرسکتا ہےورنہ اس کے کمپیوٹر سائنس پڑھنے سے نہ اس کو کوئی فائدہ اور نہ ہی ملک کو کوئی فائدہ۔ بلکہ اس کے پروگرام کو جوائن کرنے سے الٹا ریسورسز کا ضیاع ہی ہوگا۔

    کچھ ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی قسم کے تعلیمی پروگرام میں دل چسپی نہیں لیتے ۔ ان کیلئے سپورٹس پروگرام اور انٹرن شپ بیسڈ پروگرامز متعارف کروائے جاسکتے ہیں۔ جس میں مارکیٹ میں ہونے والے بہت سارے کاروبار میں ان کی مہارت ڈیویلپ کی جاسکتی ہے۔

  • اصل سوچ کا فقدان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اصل سوچ کا فقدان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    گرمیوں کی چھٹیوں میں ہوم ورک ملتا۔ سلیبس کی کتاب سے پیج نمبر 3 سے پیج نمبر 222 تک جو لکھا ہے اُسے نئی کاپی پر نقل کرنا ہے۔ فلاں چیپٹر کو دوبارہ سے دوبارہ چھاپنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ گرمیوں کے کام کی کاپیوں پر محنت "اُنکی جِلد” اور ظاہری خوش خطی پر موقوف تھی۔ علم سیکھنا کیا خاک تھا؟ لکھا ہوا چھاپنا اور بولا ہوا رٹنا۔

    آٹھویں جماعت میں سائنس انگریزی میں سیکھنی اور ستم ظریفی کہ انگریزی کا الگ سے مضمون ہونا جہاں پر گرامر رٹائی جاتی۔۔ایسے میں سائنس کیا خاک سیکھی جاتی جب سائنس کی زبان ہی اسی وقت سیکھی جا رہی ہوتی جب سائنس سیکھی جا رہی ہوتی۔ لہذا شارٹ کٹ محض رٹا یا گائڈز جس میں قدرے آسان انگریزی میں سائنسی موضوعات سمیٹے جاتے۔ پرچے میں یہی شارٹ کٹ لگا کر نمبر حاصل ہوتے۔ سکول سے لیکر یونیورسٹی تک سائنس کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے۔ ایسے میں جدید علوم کا حصول کیونکر ممکن ہے؟

    آپ کسی محفل میں چلے جائیں دو بزرگ حضرات آپس میں کونسے حکمت کے موتی پرو رہے ہونگے؟ مڈل کلاس طبقے کے بزرگوں کے پاس زندگی کے کیا تجربات ہونگے؟ نہ اُن بیچاروں نے دنیا دیکھی نہ کوئی جدید علوم پڑھے۔ بات کریں زندگی کے تجربات کی تو اُنکی زندگی تھی کب اور اّنکی دنیا تھی کتنی بڑی ؟ گھر سے کاروبار یا دفتر، وہاں سے واپس گھر۔۔۔ خاندانی مسائل میں گھرے مڈل کلاس اور نچلے طبقےکے بزرگ کونسے نئے زندگی کے تجربوں کا گیان دے سکتے ہیں؟

    اسی طرح پاکستان میں زیادہ تر امیر طبقہ ایک۔یا دو نسل قبل زمیندار تھا/ہے، ۔یا مقابلے کے امتحان میں رٹے والا یا فوج میں ترقی کرتے متوسط طبقے کے کسی فرد کی اولاد ہے جو گاؤں کی primitive سوچ سے نہیں نکل سکا۔۔انکی پرانی نسلوں کی غربت کے قصے ان میں لاشعوری طور پر کُھد چکے ہیں اور ایسا خوف ڈالے ہوئے ہیں کہ امیر ہو کر بھی انکی سوچ اپنے آباؤ اجداد جیسی غریب ہے۔ Financial insecurity کا منہ بولتا ثبوت اِنکی اوٹ پٹانگ حرکتیں ہیں جو انکے احساسِ کمتری کو نمایاں کرتی ہیں۔کبھی مارک زکر برگ کو دیکھا کہ گاڑی روکنے پر کہے: "تو مینوں جاندا نئیں”. کبھی ایلان مسک کا سنا کہ نشے میں دھت ہو کر کسی کو کچل دے وغیرہ وغیرہ۔

    شیر کے پاس پہلے سے طاقت ہوتی ہے کہ وہ جنگل کا بادشاہ ہے مگر ڈرنا تو بکری سے چاہئے کہ اگر اسکے پاس طاقت آجائے تو وہ اسکا ذمہ دارانہ استعمال کیسے کرے گی؟ سو یہ وہ عمومی مسائل اور رویے ہیں جن سے کم سے کم ہمارے بزرگ تو اب تک نہیں نکل سکے لہذا جب یہ رٹا ہوا جملہ سننے کو ملتا ہے کہ بزرگوں سے سیکھیں تو حیرت ہوتی ہے۔

    لہذا فی زمانہ مملکتِ خدادا کے نہ ہی بزرگ، نہ ہی اپر کلاس اور نہ ہی تعلیمی نظام ہمیں اصل سوچ کی طرف لا سکتا ہے۔ اصل سوچ کیسے آتی ہے؟ ایک اچھوتا خیال ، ایک اچھوتا آئیڈیا کیسے بنتا ہے؟ میرے نزدیک بچپن کی بہتر تعلیم سے اور اگر وہ میسر نہ ہو تو کم سے کم سوال کرنے کی عادت سے۔ تجسس سے، چیزوں کو گہرائی میں سوچنے سے، متابدل تعلیم کےذرائع سے وغیرہ وغیرہ ۔

    بدقسمتتی سے ہمارے ہاں ان مثبت رویوں کا فقدان ہے۔ پچھلے ستر سال کی دھول ہم ابھی تک چاٹ رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے ذہنوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں اور سوچ منجمد ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں کم سے کم آنے والی نسلوں کے لیے کچھ کرنا ہے۔۔اگر آپکے پاس جدید علم نہیں تو اپنے بچوں کی خاطر اسے سیکھیے یا کم سے کم اسے جانیں ضرور تاکہ اپنے بچوں کو بتا سکیں۔ بچوں میں سکول کی تعلیم سے ہٹ کر دیگر ذرائع جیسے کہ انٹرنیٹ سے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کیجئے۔ اور سب سے بہتر یہ کہ بچوں کو سوال کرنے سے، نئے تجربات کرنےسے مت روکیے۔ آپکو جواب نہیں آتا، مجھ سے پوچھیں، انٹرنیٹ پر خود ڈھونڈیں یا بچوں کو کہیں کہ سوال اچھا ہے، جواب ملکر ڈھونڈتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر کسی بچے کے تجسس کوغلط جواب یا یہ کہہ کر مت ختم کیجئے کہ سوال کرنا غلط ہے۔

    اصل سوچ کا حصول معاشرے میں جدید تعلیم اور مثبت رویوں کے رجحان سے ہی ممکن ہے ورنہ رٹے زدہ، موکلد اور دولو شاہ کے چوہے ہی پیدا ہوتے رہیں گے حقیقی معنوں میں عقل کی معراج کوچھوتے انسان نہیں۔