Baaghi TV

Category: تعلیم

  • چیف ایگزیکٹیو ایجوکیشن میاں شفقت حبیب کا حکم نہیں ماننا مختلف سکول کے ہیڈٹیچرز کو حکم

    چیف ایگزیکٹیو ایجوکیشن میاں شفقت حبیب کا حکم نہیں ماننا مختلف سکول کے ہیڈٹیچرز کو حکم

    باغی ٹی وی شیخوپورہ( محمد طلال سے)چیف ایگزیکٹیو ایجوکیشن میاں شفقت حبیب کا حکم نہیں ماننا مختلف سکول کے ہیڈٹیچرز کو حکم ۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سکینڈری شیخوپورہ کا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کو تقسیم کرنے کی کوشش۔باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محمد سجاد اسلم ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری شیخوپورہ جس جگہ پر بھی ان کی پوسٹنگ ہوئی ہے یہ متنازعہ شخصیت رہے ہیں شیخوپورہ کے سرکاری سکولز میں غیر قانونی طریقہ سے پرائیویٹ آکسن اکیڈمی کا سلیبس لاگو کرنا ہو یا دوسرے معاملات ہوں آکسن اکیڈمی سلیبس کے معاملہ پر ہیڈٹیجرز کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایجوکیشن میاں شفقت حبیب جنھوں نے اس سلیبس کو لاگو نہ کرنے کے احکامات حاری کیے تھے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری شیخوپورہ محمد سجاد اسلم نے ہیڈٹیچرز کو سی ای او ایجوکیشن کا حکم نہ ماننے کہا۔ فاروق آباد میں اپنی ریٹائرڈ ٹیچر بہن کو مانیٹرنگ آفیسر گرلز ہائیرسیکینڈری سکول فاروق آباد لگا دیا۔ شرقپور شریف میں ایک کلرک کو فوکل پرسن لگادیا۔ جو اساتذہ کرام کے جائز وناجائز کام کروانے کے لیے بھی رشوت طلب کرتا ہے بات یہی نہیں رکی ایک ہی ہیڈ ٹیچر کو چار مختلف سکولوں کی ڈی ڈی او اور دو مختلف سکولوں کا اضافی چارج بھی دے دیا۔ انرولمنٹ کے معاملہ میں ان صاحب کی کارکردگی صفر ہے انرولمنٹ میں سکینڈری ونگ کی کارکردگی صرف سات فیصد رہی جو کہ انتہائی کم ہے۔ جبکہ دوسری ایلیمنٹری ونگز سیکینڈری ونگ سے بہت آگے ہیں۔ان کا اساتذہ کے ساتھ رویہ بھی ہتک آمیز ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری محمد سجاد اسلم ڈینگی کے فوکل پرسن مقرر ہیں مگر اس سلسلہ میں بھی ان کی کارکردگی صفر ہے انکی عدم دلچسپی کے باعث سکول ایجوکیشن ڈیپاڑٹمنٹ سے جواب طلبیاں معمول بن چکی ہیں۔چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن شیخوپورہ نے خود سکولوں کی چیکنگ کے دوران ڈینگی کے پھلاو کو روکنے کے خاطرخواہ اقدامات نہ کرنے پر 40اساتذہ کو شوکاز نوٹس جاری کرکے ان کے خلاف پیڈاایکٹ کے تحت کاروائی کا آغاز کردیا ہے۔ جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری شیخوپورہ محمد سجاد اسلم کے کاموں کی وجہ سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی بد نام ہو رہی ہے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی کارکردگی بہتر ہونے کی بجائے تنزلی کی طرف جارہی ہے۔ڈی ای او سیکینڈری گرلز سکولوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔کبھی بھی وقت پر کسی سکول نہیں پہنچتے اور نہ اپنے دفتر کو ٹائم دیتے ہیں۔اس سلسلہ میں جب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری شیخوپورہ سجاد اسلم صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ دستیاب نہیں تھے۔شہر کے سماجی حلقوں میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سکینڈری شیخوپورہ محمد سجاد اسلم کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی ای او سکینڈری شیخوپورہ محمد سجاد اسلم کی غیر تسلی بخش کارکردگی کا نوٹس لیا جائے۔

  • شیخوپورہِ  پرنسپل نے درجنوں طالبات کے مستقبل کو داؤپر لگا دیا

    شیخوپورہِ پرنسپل نے درجنوں طالبات کے مستقبل کو داؤپر لگا دیا

    باغی ٹی وی: شیخوپورہ تحصیل مریدکے(محمد طلال سے) گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کینال پارک کی پرنسپل نے درجنوں طالبات کے مستقبل کو داؤپر لگا دیا وزیراعلیٰ کا پڑھا لکھا پنجاب کا خواب چکنا چور کردیا سینکڑوں طالبات ٹیچرز کے ناروا سلوک کی وجہ سے گھر بیٹھ گئی ہیں طالبات اور والدین نے پرنسپل اور سٹاف کی سفاکیت کے خلاف احتجاج اور نعرے بازی کی وزیراعلی ہمیں انصاف دو ہماری تعلیم میں حرج ہو رہا ہے جب میڈیا نمائندگان نے موصوفہ سے رابط کیا تو موقف دینے سے انکار کر دیا اساتذہ طالبعلم کے روحانی والدین ہوتےہیں لیکن جب عہدے کا خمار ہو تو وہی شیطانی روپ لے کر بچوں کے مستقبل کےساتھ کھلواڑ پر اتر آتے ہیں ایسا ہی کارنامہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کینال پارک کی بدزبان اور انسانیت سے عاری پرنسپل نے درجنوں طلبہ کے مستقبل کے ساتھ پسند اور نہ پسند کی بنیاد پر طلبہ کی نہم کلاس میں رجسٹریشن کروا کر درجنوں طلبہ کو سکول سے نکال کر ان کے خوابوں کو چکنا چور کردیا موجودہ پرنسپل کے ہوتے بچیوں کی تعداد 900 رہ گئی جبکہ پہلے 1400 کے قریب تھی وزیراعلیٰ کا پڑھا لکھا پنجاب اور انرولمنٹ ان گورنمنٹ سکولز کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں بااثرسیاسی پرنسپل کی گردن میں طاقت کا ایسا سریا پڑا ہے کہ نکالے گئے طلبہ کے والدین نے جب پرنسپل سے نکالنے کی وجہ پوچھی تو موصوفہ دھمکیوں پر اتر آئی سینکڑوں والدین اور طالبات نے پرنسپل کے رویہ اور بچوں کے مستقبل کے خوابوں کو تعبیر ملنے سے پہلے ہی روند دینے والی سفاک پرنسپل کے خلاف احتجاج کرتے ہوِئے وزیراعلی پنجاب وزیر تعلیم اور سیکرٹری سکولز پنجاب سے انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری نہم کلاس میں رجسٹریشن کروائی جائے اور ایسی پرنسپل جو تعلیم دشمن پالیسیاں اپنا رہی ہے اس کو فی الفور نوکری سے برطرف کیا جائے اور عہدے پر تعینات کرنے سے پہلے کردار سازی ضرور کی جائے

  • مرد استاد اور طالبات — ضیغم قدیر

    مرد استاد اور طالبات — ضیغم قدیر

    اگر آپ کی بیٹی آپ کو کہتی ہے کہ وہ اپنے فون پہ اپنے کسی مرد ٹیچر سے روزانہ یا ہفتہ وار بات کر رہی ہے تو اس پر نگرانی شروع کریں اور اس مرد ٹیچر کو پہلی فرصت میں بلاک کروائیں.

    ایک استاد کے لئے کسی طالب علم کو متاثر کرنا سب سے آسان کام ہوتا ہے اور اگر یہ کم عمر بچیاں ہوں تو بات بالکل حلوہ بن جاتی ہے موبائل فون آنے کے بعد سے انکے لئے نو عمر بچیاں آسان شکار بن چکی ہیں.

    یہ لوگ آسان شکار کی تلاش میں کم عمر بچیوں سے روابط بنانے سے نہیں جھجکتے حالانکہ ان کی بیٹیوں کی عمریں بھی ان بچیوں جتنی ہی ہوتی ہیں.

    اور مجھے شرم آتی ہے کہ ایسی بات کر رہا ہوں لیکن،

    پاکستان میں مرد ٹیچرز کی ایک بڑی تعداد اپنی فی میل سٹوڈنٹس کو اپنے لئے ایک آسان شکار سمجھ کر انہیں پھنسانے کے چکر میں رہتے ہیں. اور ایسے کئی کیسز میں اپنے سامنے دیکھ چکا ہوں اسلامیات کا ٹیچر، اخلاقیات کا ٹیچر، بائیو کا، فزکس کا غرضیکہ سبجیکٹ کا نام لیں میں کردار بتا دوں کہ فلاں جگہ فلاں ٹیچر کو اپنی فیمیل سٹوڈنٹ سے غلط تعلقات بناتے ہوئے دیکھا ہے.

    ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی حرکت پہ شرمندہ تک نہیں ہوتے ہیں اور پکڑے جانے پہ ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ قصور بچی کا ہے انکا نہیں اور انکے کولیگ کسی قسم کی کاروائی نہیں کرواتے کیونکہ بعد میں انکے پول بھی وہ شخص کھول سکتا ہے.

    بے غیرتی کی اس کیٹیگری میں عمر کا بھی کوئی پیمانہ نہیں ستر سال کے مذہبی ٹیچر سے لیکر 20-30 سال کے لبرل نوجوان ٹیچر تک سب اس حمام میں ننگے نظر آتے ہیں.

    اس لئے اپنی بچی کے منہ سے اگر آپ کسی مرد ٹیچر کی ضرورت سے زیادہ تعریف سن رہے ہیں، بچی ہر روز اور ہر وقت اسکی تعریف کرتی ہے اور اس کے آپکی بچی پہ احسانات بھی ہو رہے ہیں اور موبائل سے روابط بھی ہیں تو آسانی سے سمجھ جائیں کہ وہ ٹیچر کسی شکار کی تلاش میں ہو سکتا ہے.

    ہمارے معاشرے کا یہ شرمناک پہلو جس دن دیکھا اس دن مجھے حد سے زیادہ افسوس ہوا مگر یہ ایک حقیقت ہے حتیٰ کہ کولیگ ٹیچر بھی جانتے ہیں کہ کس ٹھرکی کی آجکل کس سٹوڈنٹ پہ نظر ہے اور وہ اس کو آفس میں کب بلا رہا ہے.

    ہمارے ہاں اس ٹاپک کو ٹابو سمجھا جاتا ہے اور مائیں بچیوں کو نہیں بتاتی کہ آپ سے کیسی حرکت بیہودہ ہوسکتی ہے اور کیسے اگلے شخص کو لمٹس میں رکھنا چاہیے مگر یہ باتیں بچیوں کو سمجھانا بہت ضروری ہیں اس سے پہلے کہ وہ کسی کا شکار بنیں.

    اس تحریر کا مقصد سب ٹیچرز کو برا بھلا کہنا ہرگز نہیں، ہر مرد ٹیچر ایسا ہو ضروری نہیں، مگر میں نے چند ہی شریف مرد ٹیچر دیکھے ہیں مجارٹی کا سکینڈل ضرور دیکھ رکھا ہے اور یہ باتیں میرے ذاتی مشاہدے کی ہیں سو اس کی بنیاد پہ اپنا مؤقف بتا رہا ہوں۔ آپکا میری رائے سے یا میرا آپکی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

  • روجھان ـ سنٹر آف ایکسیلنس گرلز اسکول کی طالبات مشکلات کاشکار

    روجھان ـ سنٹر آف ایکسیلنس گرلز اسکول کی طالبات مشکلات کاشکار

    باغی ٹی وی :روجھان( ضامن حسین بکھر نامہ نگار) روجھان سٹی میں سنٹر آف ایکسیلنس گرلز اسکول روجھان میں زیر تعلیم طالبات کے لئے سڑک کراس کرنا سب سے بڑا پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے باعث طالبات کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے 30 منٹ تک عام لوکل ٹریفک ماسوائے ایمرجنسی مریضوں کے تمام ٹریفک کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کی جائے۔ تفصیلات کے مطابق روجھان میں رودکوہی سیلابی پانی صورتحال کے بعد تعلیمی سرگرمیاں جاری ہو چکی ہیں اور اس وقت سنٹر آف ایکسیلنس گرلز اسکول میں زیر تعلیم سینکڑوں کی تعداد میں دیہات اور شہر سے تعلق رکھنے والی طالبات کو صبح 8:30 اسکول اور 12:10 پر اسکول میں طالبات کو چھٹی ہوتی ہے اس دوران طالبات کو اسکول سے گھر جانا پڑتا ہے اس وقت لوکل ٹریفک سڑک پر رواں دواں ہوتی ہے جس کے باعث طالبات کو حادثے کا خطرہ لاحق اور بچیوں کو آمد و رفت شدید پریشانی میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے سڑک پر سپیڈ بریکر نہ ہونے کے باعث کسی بھی وقت ناخوشگوار غیر معمولی واقعہ حادثہ رونما ہونے کا خدشہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اس سلسلے میں روجھان کے عوامی تعلیمی دیہی شہری حلقوں نے کمشنر ڈیرہ غازی خان لیاقت علی چٹھہ اور ڈپٹی کمشنر راجن پور عارف رحیم سے اپیل کی ہے کہ طالبات کی اسکول آمد و رفت / اسکول ٹائمنگ کے وقت 30 منٹ تک تھانہ روجھان روڈ پر بیریئر لگا کر سڑک سے لوکل عام ٹریفک کو (ماسوائے ایمرجنسی ایمبولینز ) متبادل راستہ بند روڈ معظم مارکیٹ سے براستہ ولید پیٹرول پمپ سے ویگن اڈا پر ٹریفک کی روانی کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کی جائے اور متبادل راستے سے ٹریفک کی روانی ممکن بنائی جائے تاکہ زیر تعلیم طالبات اسکول جانے اور اسکول سے گھر جانے میں کسی قسم کی پریشانی یا غیر معمولی حادثے کے خوف سے محفوظ بنانے جانے کی اپیل کی ہے ۔

  • ہم اپنے انصاف سکول ٹیچرز کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ زاہد اکرام ہنجرا

    ہم اپنے انصاف سکول ٹیچرز کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ زاہد اکرام ہنجرا

    جلالپور بھٹیاں انصاف آفٹرنون سکولز فیز 1 کے دیرینہ مطالبات منظور۔
    ہم اپنے انصاف سکول ٹیچرز کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ زاہد اکرام ہنجرا
    پنڈی بھٹیاں (شاھدکھرل)تفصیلات کے مطابق زاہد اکرام ہنجرا نے کہا جب مقصد نیک ، نیت خالص ، مخلص دوست اور منزل کے حصول کے لیے محنت میں تسلسل ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔انہوں نے عبید اللہ طاہر ، زبیر احمد ہنجرا کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ مزید کہا انصاف سکول 2019 والے عملہ سے عرصہ دراز سے نا انصافی ہو رہی تھی۔اب اللہ کا شکر ہے وزیر تعلیم ، سیکرٹری تعلیم ، DPI صاحب ، ڈائریکٹر مانیٹرنگ اور بجٹ آفیسر سے مسلسل ملاقاتوں سے آہستہ آہستہ تمام مسائل حل ہو رہے ہیں۔ بھکر سے عبید اللہ صاحب نے کہا ہمیں یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے پورے پنجاب میں حافظ آباد انصاف یونین کو نمایاں مقام حاصل ہے اور جب بھی کوئی معاملہ درپیش آتا ہے تو بانی تنظیم و چیئرمین پنجاب زاہد اکرام ہنجرا لاہور افسران کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔اپنے مسائل ان کے سامنے رکھتے ہیں اور پکی خبر کا کھوج لگا لیتے ہیں اس طرح کی قیادت قسمت سے ملتی ہے جو مالی بدنی اور وقت کی قربانی دیتے ہوئے دوسروں کی فلاح کا کام کرے۔ابوبکر صاحب نے بھی انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑا پنجاب انصاف ٹیچرز یونین کی مسلسل کوشش اور کاوش سے پہلے پنجاب بھر کے انصاف سکولز کے لیے 94 ملین کے فنڈز جاری ہوئے اور اب پرائمری سے مڈل سکولز کو PC-1 میں شامل کیا جا رہا ہے۔اسی جذبہ اور لگن سے کام جاری رکھا تو باقی ماندہ فنڈز ، مڈل سے ہائی سکولز کو PC-1 میں شامل کروانے کے علاؤہ دیگر مسائل بھی حل ہوتے رہیں گے۔

  • پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نے 2021 کے کووڈ نتائج کا نزلہ 2022 کی نہم کلاسز پر گرا دیا

    پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نے 2021 کے کووڈ نتائج کا نزلہ 2022 کی نہم کلاسز پر گرا دیا

    باغی ٹی وی : پیرمحل (وقاص شریف نامہ نگار)پنجاب بھر کے بورڈز نے 2021 کے کووڈ نتائج کا نزلہ 2022 کی نہم کلاسز پر گرا دیا .
    تفصیلات کے مطابق: کووڈ نے 2021 جہاں ملک بھر میں اموات بانٹیں وہاں طلبا و طالبات میں ان کی توقع سے کہیں زیادہ نمبرز بھی تقسیم کیے ۔ 2021 کے نہم دہم فسٹ ائیر اور سیکنڈ ائیر کے امتحانات میں طلبا و طالبات کو ساتویں آ سمان تک پہنچا دیا اور ہزاروں طلبا و طالبات کے مارکس ان تمام کلاسوں میں سو فیصد بھی آ ئے جس کی وجہ سے بچوں کی موجیں تو ضرور ہو گئیں مگر اُس رنگ رنگیلے نتیجے کا نزلہ امسال 2022 میں کلاس نہم کے طلبا پر بجلی بن کر گرا اور مجموعی طور پر 70 فیصد طلبا و طالبات کے مارکس نہایت کم آ نے کے ساتھ ساتھ وہ دو سے چار مضامین میں بُری طرح فیل بھی ہوئے ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ بورڈز کی پالیسی تھی کہ اس بار ہاتھ ذرا سخت رکھنا ہے اور اس سختی کی بھینٹ پنجاب بھر کے طلبا و طالبات چڑھ چکے ہیں

  • غازی یونیورسٹی کوانٹر نیشنل  رینکنگ میں لاکھڑا کیا ، پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل غازی

    غازی یونیورسٹی کوانٹر نیشنل رینکنگ میں لاکھڑا کیا ، پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل غازی

    باغی ٹی وی : ڈیرہ غازی خان (شہزاد یوسفزئی کی رپورٹ) میں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور چار سال کے مختصر عرصہ میں غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کوانٹر نیشنل رینکنگ میں لاکھڑا کیا ، پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل غازی [تمغہ امتیاز] وائس چانسلر
    گذشتہ شب غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل غازی [تمغہ امتیاز] کی تعیناتی کے چار سال کی تکمیل کے موقع پر یونیورسٹی کے اساتذہ کی طرف سے ان کے اعزاز میں ایک شاندار پروگرام کا انتظام کیا گیا جس میں عوامی نمائندگان اور شہر کے دیگر معززین نے بھی شرکت کی۔ یونیورسٹی کے سینیئر پروفیسرز ، ڈائریکٹرز اور پرنسپل آفیسران نے محترم وائس چانسلر صاحب کاپنڈال میں تشریف لانے پر پھولوں سے استقبا ل کیا۔پروفیسر ڈاکٹر اعجاز رسول نورکا نے وائس چانسلر صاحب کو بلوچی پگڑی پہنائی۔ ڈاکٹر راشدہ قاضی صاحبہ نے نظامت کے فرائض سر انجام دیئے اور حاضرین کو محترم وائس چانسلر صاحب کی تدریسی و تحقیقی کامیابیوں بارے آگاہ کیا اس کے بعد ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی جس کے پہلے حصہ میں اس وقت کو دوہرایا گیا جب چار سال قبل ستمبر 2018 میں پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے غازی یونیورسٹی کا چارج سنبھالا تو یہ عہد کیا تھا کہ وہ اس یونیورسٹی کو انٹرنیشنل رینکنگ میں لے کر آئیں گے اور اس دستاویزی فلم کے دوسرے حصہ میں دکھایا گیا کہ کس طرح پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل کی قیادت میں چار سال کے دوران یونیورسٹی میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں اور جو خواب پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے دیکھا تھا وہ شرمندہ تعبیر ہوا اور یہ یونیورسٹی قومی اور بین الا قوامی سطح پر اپنی شناخت منوانے میں کامیاب ہوئی۔
    یونیورسٹی کے سینیئر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر محمدطفیل عالمی شہرت یافتہ سائنسدان ہیں جنہوں نے اپنے بین الاقوامی کی جامعات میں کام کرنے کے تجربات سے غازی یونیورسٹی کو بھی انٹرنیشنل لیول کی پہچان دلائی۔ ان کی اور ان کی ٹیم کی انتھک محنت سے غازی یونیورسٹی میں 23 ایم فل اور 12 پی ایچ ڈی ڈگری پروگرامز کا آغاز ہو چکا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل غازی نے یونیورسٹی کے تحقیقی معیار کو بڑھانے کے لیے بین الاقوامی لیول کی لیبارٹریز اور گلاس ہاوسز کے منصوبہ جات کا آغاز کیا ہے۔

  • سنگین نتائج کی حامل تعلیمی پالیسیاں اور متاثرین — سیدرا صدف

    سنگین نتائج کی حامل تعلیمی پالیسیاں اور متاثرین — سیدرا صدف

    ایک دوست گورنمنٹ ٹیچر ہیں۔۔کہتیں میں نے اسکول امتحانات کے بعد ہیڈ کو مشورہ دیا تھا کہ نالائق طلبا کو دوبارہ ایک سال نہم میں لگوائیں۔۔۔ہیڈ کا کہنا تھا کہ چونکہ پریشر ہے کہ بچے فیل نہیں کرنے لہذا سبھی بچوں کا داخلہ جائے گا۔۔۔۔سبھی بچوں کا داخلہ بھیج کر جو نتائج آئے اس نے چودہ طبق روشن کر دیے۔۔۔۔ویسے تو پنجاب بھر میں جماعت نہم کے نتائج تشویشناک ہیں۔۔

    پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں مسائل کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔۔ سرکاری اسکولوں میں جہاں کچھ ٹیچرز کی عدم دلچسپی ایک وجہ ہے وہیں بچوں کو ڈھیٹ کرنے والی پالیسیز بھی دوسری وجہ ہے جو اچھے ٹیچرز کے ہاتھ باندھ دیتی ہے۔۔۔۔

    یہ فرض کر لینا کہ دنیا کا ہر بچہ مار سے پڑھے گا ایک حد تھی تو اسکے رد میں ایک بالکل دوسری حد متعارف کرا دی ہے مار نہیں پیار۔۔۔۔عنقریب شاید ایسی پالیسی آئے گی کہ ٹیچرز شاگردوں کو والدین کا درجہ دیں۔۔۔

    بچوں کی ہینڈلنگ ایک قابل ٹیچر کی صلاحیت پر چھوڑنی چاہیے۔۔ٹیچر بہتر جج کر سکتا ہے کہ کونسا بچہ کس انداز سے پڑھے گا۔۔۔۔محکمہ ایجوکیشن پنجاب میں نئی بھرتیوں کے بعد نوجوان اور پڑھا لکھا اسٹاف میسر ہے۔۔۔لیکن نئی بھرتیاں کرنے کے باوجود تعلیم یافتہ اسٹاف روایتی سسٹم کے آگے مجبور ہے۔۔۔

    کیسی بیہودہ لاجک ہے کہ شرح خواندگی بڑھانے کو بچے سر پر سوار کر لیں۔۔۔بچوں کی حاضری پوری کریں۔۔بچہ غیر حاضر ہے تو ٹیچر جواب دے۔۔۔۔جیسے تیسے حلیے میں آئیں آنے دیں۔۔پھر اگر وزٹ پر بچے مکمل وردی میں نہیں تو ٹیچر جواب دے۔۔۔۔بچے فیل نہ کریں۔۔سو فیصد نتیجہ دینے کی کوشش کریں۔۔۔۔۔

    منت ترلہ پروگرام سے تعلیمی انقلاب نہیں آتا ہے۔۔۔حکومت کا کام ایک یونیفارم فلاحی تعلیمی پالیسی متعارف کرانے کا ہے۔۔۔میڈیا کے ذریعے تعلیم کی اہمیت جیسے پروگرام پیش کیے جائیں لیکن اس کے بعد داخلے کو مشروط کیا جائے ایک یونیفارم سٹینڈرڈ سے اور اس پر کوئی کمپرومائز نہ ہو۔۔

    جس نے پڑھنا ہے اسے ان شرائط پر ہی پڑھنا ہو گا۔۔۔تعلیم کو مفت کرنا بھی درست پالیسی نہیں ہے۔۔۔سو طرح کے اور خرچے ہوتے سکتے ہیں تو مناسب تعلیمی اخراجات بھی برداشت کرنے چاہیے۔۔۔تعلیم کی اہمیت مفتے کے زور پر سمجھانے کی کوشش بےسود ہے۔۔۔۔جنہیں تعلیم کی اہمیت کی آگاہی ہے انکے نزدیک تعلیم انمول ہے۔۔۔

    بچوں کی باڈی لنگوئج خراب کر دی ہے۔۔۔والدین خصوصاً دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کو اسکول بھیجنا احسان سمجھتے ہیں۔۔۔ٹیچرز پر دباؤ ہے کہ سو فیصد نتائج دیں۔۔۔یہ دباؤ ناصرف اسکول بلکہ کالجز اور یونیورسٹیز میں بھی ہے۔۔۔

    جبکہ رزلٹ, نالائق بچوں کو پاس کرنے سے خراب ہوتا ہے۔۔وہ رزلٹ اچھا ہے جو لائق اور نالائق کی تفریق کرے۔۔۔رزلٹ تب خراب ہوتا ہے جب پروفیشنل لائف میں جانے والوں کو انکے ٹیچر یا ادارے کا نام پوچھ کر یہ ریمارکس دیے جائیں کہ بیٹا تمھیں پڑھانے اور پاس کرنے والوں پر چار حروف۔۔

  • نہم کے نتائج ذمہ دار کون ؟

    نہم کے نتائج ذمہ دار کون ؟

    نہم کے نتائج ذمہ دار کون ؟
    تحریر : رانا شہباز نثار
    گذشتہ روز پنجاب میں جماعت نہم کے سالانہ امتحانات کے رزلٹ کا اعلان کیا گیا جس میں1 لاکھ 48 ہزار طلبہ فیل ہو گئے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کا فیل ہونا قابل افسوس ہے کہ ہماری انگلی نسل کس طرف جا رہی ہے اس میں کس کا قصور ہے موبائل فون کا بے دریغ استعمال ، کورونا پالیسیوں کی وجہ سے تعلیمی نظام تباہ، والدین کی طرف سے عدم توجہ یا سکولوں میں اساتذہ کی پڑھانے میں عدم دلچسپی۔ اگر اسی طرح ہمارا نظام رہا تو ہم بہت دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے ۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں تعلیم بہت اہمیت رکھتی ہے. بچوں کی پڑھائی میں عدم دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے اسکی وجہ والدین کا بچوں پر توجہ نہ دینا اور بچوں کی تربیت میں اس بات کا خیال نہ رکھنا کہ ان کا بچہ کیا کر رہا ہے آج کل بچے کی توجہ پڑھائی سے زیادہ TikTok اور PUBG کی طرف ہے جتنے بھی بچے فیل ہوئے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے زیادہ تر بہت اچھے ٹک ٹاکر اور PUBG کے پلیئر ہوں گےاور والدین بچوں کو سکول چھوڑ کر ساری ذمہ داری ٹیچرز پر ڈال کر سمجھتے ہیں کہ سکول والے خود ہی بچے کی تربیت کر لیں گے۔
    اس کے علاؤہ ہمارے اس تعلیمی نظام کی تباہی میں حکومت کا کردار بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ حکومت مفت معیاری تعلیم نہیں دے پا رہی اور پرائیوٹ سکول میں علم دیا نہی جاتا بلکہ بیچا جا رہا ہے پرائیویٹ تعلیمی ادارے تعلیم کے نام پر غریبوں کو لُوٹ رہے ہیں اور اتنی مہنگی تعلیم ہو چکی ہے کہ عام آدمی اپنے بچوں کو تعلیم دینے کی بجائے اسے کسی ورکشاپ یا حجام کی دکان پر رکھوا دیتا ہے کہ کوئی کام سیکھ لے ۔ کورونا وائرس سے جہاں دنیا کی معیشت تباہی ہوئی وہاں سکول بند کرنے سے تعلیمی نظام بھی تباہ ہو گیا بہت سے غریب اور مڈل کلاس طلبہ ایسے ہیں جو کورونا میں سکول چھوڑ کر دوبارہ تعلیم جاری نہیں کر سکے ان میں زیادہ تر بچے گھریلو حالات مہنگائی کی وجہ سے اور تعلیمی اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے ہوٹلوں وغیرہ میں یا کسی اور کام پر لگ گئے ہیں۔ مجھے اکثر اوقات باہر ہوٹلوں پر کم عمر بچوں سے ملاقات کا موقع ملا اور جب ان سے سوال کیا گیا کہ بیٹا آپ پڑھتے کیوں نہیں تو ان میں اکثر کا جواب یہی ملتا ہے کہ وہ پڑھنا چاہتے ہیں لیکن گھریلو حالات کی وجہ سے وہ پڑھ نہیں سکے تو وہ کام پر لگ جاتے ہیں۔ پاکستان کے تعلیمی نظام جو ٹھیک کرنے کے لیے اساتذہ، والدین اور حکومت کو بھی اس کام کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں سے اساتذہ کی سیاسی گروپ بندی ختم کروانی ہو گی اساتذہ کی تعلیمی پراگریس رپورٹ ہر سال کی پبلک کی جانی چاہیے اب جتنے بچے فیل ہوئے ہیں ان میں اساتذہ سے بھی جواب لینا ہو گا کہ اسکی کیا وجہ ہے بچوں کی پڑھائی میں دلچسپی نہیں یا اساتذہ کرام بچوں کی تیاری ٹھیک سے نہیں کروا سکے۔ ہر استاد اپنے مضمون کے بارے میں رپورٹ دے اگر اساتذہ کے خلاف ایکشن نہیں ہو گا تو ہمارا تعلیمی معیار ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ سرکاری ٹیچرز کے اپنے بچے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ ہم یا ہمارے ساتھی کتنی محنت کرتے ہیں بچوں پر۔ اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مانانوالہ ہائی اسکول کے نہم کلاس میں ٹوٹل 393 طلبہ میں سے 54 لڑکے پاس ہوئے اور 339 لڑکے فیل ہوئے اسی طرح گورنمنٹ گرلز ہائیر سکینڈری سکول میں 329 طالبات میں سے 112 طالبات پاس اور 217 طالبات فیل ہوئیں جو کہ والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے
    اب اگر لاہور بورڈ کے اوور آل رزلٹ کو دیکھا جائے تو 266071 طلبہ کا داخلہ ہوا اور 260325 طلبہ امتحان میں شامل ہوئے جن میں سے 112644 طلبہ پاس ہوئے جو کہ 43.27 فیصد ہے اور اس میں سرکاری اسکولز میں سے 118472 طلبہ کا داخلہ ہوا اور 115940 طلبہ نے امتحان دیا جس میں سے 42187 طلبہ پاس ہوئے جو کہ کل رزلٹ کا 36.99 فیصد بنتا ہے ۔ پرائیوٹ سکولز میں سے 73048 طلبہ کا داخلہ ہوا اور 72208طلبہ امتحان میں شامل ہوئے جس میں سے 48211 طلبہ پاس ہوئے جو کہ کل 66.77 فیصد بنتا ہے۔
    اس طرح کا رزلٹ اگر ہمارے سرکاری سکولوں میں سے آئے تو یہ لمحہ فکریہ ہوگا پنجاب سرکار کو اس طرف توجہ دینی ہوگی کیونکہ ہماری آبادی زیادہ تر مڈل کلاس طبقہ پر مشتمل ہے اور اتنی مہنگائی میں پرائیویٹ سکولز کے اخراجات برداشت کرنا بہت مشکل ہے تو وہ سرکاری سکولوں میں بچوں کو تعلیم حاصل کرواتے ہیں سرکاری سکولوں میں پرائیویٹ سکولوں کی نسبت زیادہ پڑھے لکھے اور قابل ٹیچرز میسر ہیں لیکن اس کے باوجود اتنا گندا رزلٹ آیا اس پر وزارت تعلیم ایکشن لے اور تعلیمی نظام کو درست کرے ۔

  • غازی یونیورسٹی،سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے سٹوڈنٹس کی فیس معاف کرے۔طلباء کی پریس کانفرنس

    غازی یونیورسٹی،سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے سٹوڈنٹس کی فیس معاف کرے۔طلباء کی پریس کانفرنس

    غازی یونیورسٹی،سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے سٹوڈنٹس کی فیس معاف کرے۔طلباء کی پریس کانفرنس
    اگر غازی یونیورسٹی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے سٹوڈنٹس کی فیس معاف کرتی ہے تو ہم تمام سٹوڈنٹس اپنے متاثرین سٹوڈنٹس کیلئے 10 لاکھ روپے اکٹھے کرکے دیں گے.
    باغی ٹی وی :ڈیرہ غازیخان پریس کلب میں غازی یونیورسٹی کے طلباء نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ کہ حالہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ضلع ڈیرہ غازی کوہ سلیمان ریجن اور ضلع راجن پور کے سٹوڈنٹس شدید متاترہوئےہیں ایک سروے کےمطابق ان علاقوں کے کم از کم 70فیصد سٹوڈنٹس مثاترہوئے جس میں ان کو مال مویشی مکانات فصلوں کی صورت میں کافی نقصانات ہواسٹوڈنٹس نے پریس کانفرنس کےذریعے مطالبہ کیاوائس چانسلر اور انتظامیہ سے کہ متاثرہ سٹوڈنٹس کی فیس کو معاف کیاجائے تاکہ طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اگرہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے تو ہم پرامن احتجاج کاحق رکھتے ہیں انتظامیہ کی جانب سٹوڈنٹس کو کہاجارہے ہے ہم ہر ڈپارٹ سے دس طلبہ کو ریلف دیں گے لہزا ہم اس فیصلے کو مسترد کرتےہوئے ساٹھ سے سترفیصد تک سٹوڈنٹس فیس معافی کامطالبہ کرتے ہیں.طلباء نے کہا