Baaghi TV

Category: تعلیم

  • روجھان ـ سنٹر آف ایکسیلنس گرلز اسکول کی طالبات مشکلات کاشکار

    روجھان ـ سنٹر آف ایکسیلنس گرلز اسکول کی طالبات مشکلات کاشکار

    باغی ٹی وی :روجھان( ضامن حسین بکھر نامہ نگار) روجھان سٹی میں سنٹر آف ایکسیلنس گرلز اسکول روجھان میں زیر تعلیم طالبات کے لئے سڑک کراس کرنا سب سے بڑا پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے باعث طالبات کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے 30 منٹ تک عام لوکل ٹریفک ماسوائے ایمرجنسی مریضوں کے تمام ٹریفک کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کی جائے۔ تفصیلات کے مطابق روجھان میں رودکوہی سیلابی پانی صورتحال کے بعد تعلیمی سرگرمیاں جاری ہو چکی ہیں اور اس وقت سنٹر آف ایکسیلنس گرلز اسکول میں زیر تعلیم سینکڑوں کی تعداد میں دیہات اور شہر سے تعلق رکھنے والی طالبات کو صبح 8:30 اسکول اور 12:10 پر اسکول میں طالبات کو چھٹی ہوتی ہے اس دوران طالبات کو اسکول سے گھر جانا پڑتا ہے اس وقت لوکل ٹریفک سڑک پر رواں دواں ہوتی ہے جس کے باعث طالبات کو حادثے کا خطرہ لاحق اور بچیوں کو آمد و رفت شدید پریشانی میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے سڑک پر سپیڈ بریکر نہ ہونے کے باعث کسی بھی وقت ناخوشگوار غیر معمولی واقعہ حادثہ رونما ہونے کا خدشہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اس سلسلے میں روجھان کے عوامی تعلیمی دیہی شہری حلقوں نے کمشنر ڈیرہ غازی خان لیاقت علی چٹھہ اور ڈپٹی کمشنر راجن پور عارف رحیم سے اپیل کی ہے کہ طالبات کی اسکول آمد و رفت / اسکول ٹائمنگ کے وقت 30 منٹ تک تھانہ روجھان روڈ پر بیریئر لگا کر سڑک سے لوکل عام ٹریفک کو (ماسوائے ایمرجنسی ایمبولینز ) متبادل راستہ بند روڈ معظم مارکیٹ سے براستہ ولید پیٹرول پمپ سے ویگن اڈا پر ٹریفک کی روانی کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کی جائے اور متبادل راستے سے ٹریفک کی روانی ممکن بنائی جائے تاکہ زیر تعلیم طالبات اسکول جانے اور اسکول سے گھر جانے میں کسی قسم کی پریشانی یا غیر معمولی حادثے کے خوف سے محفوظ بنانے جانے کی اپیل کی ہے ۔

  • ہم اپنے انصاف سکول ٹیچرز کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ زاہد اکرام ہنجرا

    ہم اپنے انصاف سکول ٹیچرز کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ زاہد اکرام ہنجرا

    جلالپور بھٹیاں انصاف آفٹرنون سکولز فیز 1 کے دیرینہ مطالبات منظور۔
    ہم اپنے انصاف سکول ٹیچرز کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ زاہد اکرام ہنجرا
    پنڈی بھٹیاں (شاھدکھرل)تفصیلات کے مطابق زاہد اکرام ہنجرا نے کہا جب مقصد نیک ، نیت خالص ، مخلص دوست اور منزل کے حصول کے لیے محنت میں تسلسل ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔انہوں نے عبید اللہ طاہر ، زبیر احمد ہنجرا کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ مزید کہا انصاف سکول 2019 والے عملہ سے عرصہ دراز سے نا انصافی ہو رہی تھی۔اب اللہ کا شکر ہے وزیر تعلیم ، سیکرٹری تعلیم ، DPI صاحب ، ڈائریکٹر مانیٹرنگ اور بجٹ آفیسر سے مسلسل ملاقاتوں سے آہستہ آہستہ تمام مسائل حل ہو رہے ہیں۔ بھکر سے عبید اللہ صاحب نے کہا ہمیں یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے پورے پنجاب میں حافظ آباد انصاف یونین کو نمایاں مقام حاصل ہے اور جب بھی کوئی معاملہ درپیش آتا ہے تو بانی تنظیم و چیئرمین پنجاب زاہد اکرام ہنجرا لاہور افسران کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔اپنے مسائل ان کے سامنے رکھتے ہیں اور پکی خبر کا کھوج لگا لیتے ہیں اس طرح کی قیادت قسمت سے ملتی ہے جو مالی بدنی اور وقت کی قربانی دیتے ہوئے دوسروں کی فلاح کا کام کرے۔ابوبکر صاحب نے بھی انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑا پنجاب انصاف ٹیچرز یونین کی مسلسل کوشش اور کاوش سے پہلے پنجاب بھر کے انصاف سکولز کے لیے 94 ملین کے فنڈز جاری ہوئے اور اب پرائمری سے مڈل سکولز کو PC-1 میں شامل کیا جا رہا ہے۔اسی جذبہ اور لگن سے کام جاری رکھا تو باقی ماندہ فنڈز ، مڈل سے ہائی سکولز کو PC-1 میں شامل کروانے کے علاؤہ دیگر مسائل بھی حل ہوتے رہیں گے۔

  • پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نے 2021 کے کووڈ نتائج کا نزلہ 2022 کی نہم کلاسز پر گرا دیا

    پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نے 2021 کے کووڈ نتائج کا نزلہ 2022 کی نہم کلاسز پر گرا دیا

    باغی ٹی وی : پیرمحل (وقاص شریف نامہ نگار)پنجاب بھر کے بورڈز نے 2021 کے کووڈ نتائج کا نزلہ 2022 کی نہم کلاسز پر گرا دیا .
    تفصیلات کے مطابق: کووڈ نے 2021 جہاں ملک بھر میں اموات بانٹیں وہاں طلبا و طالبات میں ان کی توقع سے کہیں زیادہ نمبرز بھی تقسیم کیے ۔ 2021 کے نہم دہم فسٹ ائیر اور سیکنڈ ائیر کے امتحانات میں طلبا و طالبات کو ساتویں آ سمان تک پہنچا دیا اور ہزاروں طلبا و طالبات کے مارکس ان تمام کلاسوں میں سو فیصد بھی آ ئے جس کی وجہ سے بچوں کی موجیں تو ضرور ہو گئیں مگر اُس رنگ رنگیلے نتیجے کا نزلہ امسال 2022 میں کلاس نہم کے طلبا پر بجلی بن کر گرا اور مجموعی طور پر 70 فیصد طلبا و طالبات کے مارکس نہایت کم آ نے کے ساتھ ساتھ وہ دو سے چار مضامین میں بُری طرح فیل بھی ہوئے ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ بورڈز کی پالیسی تھی کہ اس بار ہاتھ ذرا سخت رکھنا ہے اور اس سختی کی بھینٹ پنجاب بھر کے طلبا و طالبات چڑھ چکے ہیں

  • غازی یونیورسٹی کوانٹر نیشنل  رینکنگ میں لاکھڑا کیا ، پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل غازی

    غازی یونیورسٹی کوانٹر نیشنل رینکنگ میں لاکھڑا کیا ، پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل غازی

    باغی ٹی وی : ڈیرہ غازی خان (شہزاد یوسفزئی کی رپورٹ) میں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور چار سال کے مختصر عرصہ میں غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کوانٹر نیشنل رینکنگ میں لاکھڑا کیا ، پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل غازی [تمغہ امتیاز] وائس چانسلر
    گذشتہ شب غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل غازی [تمغہ امتیاز] کی تعیناتی کے چار سال کی تکمیل کے موقع پر یونیورسٹی کے اساتذہ کی طرف سے ان کے اعزاز میں ایک شاندار پروگرام کا انتظام کیا گیا جس میں عوامی نمائندگان اور شہر کے دیگر معززین نے بھی شرکت کی۔ یونیورسٹی کے سینیئر پروفیسرز ، ڈائریکٹرز اور پرنسپل آفیسران نے محترم وائس چانسلر صاحب کاپنڈال میں تشریف لانے پر پھولوں سے استقبا ل کیا۔پروفیسر ڈاکٹر اعجاز رسول نورکا نے وائس چانسلر صاحب کو بلوچی پگڑی پہنائی۔ ڈاکٹر راشدہ قاضی صاحبہ نے نظامت کے فرائض سر انجام دیئے اور حاضرین کو محترم وائس چانسلر صاحب کی تدریسی و تحقیقی کامیابیوں بارے آگاہ کیا اس کے بعد ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی جس کے پہلے حصہ میں اس وقت کو دوہرایا گیا جب چار سال قبل ستمبر 2018 میں پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے غازی یونیورسٹی کا چارج سنبھالا تو یہ عہد کیا تھا کہ وہ اس یونیورسٹی کو انٹرنیشنل رینکنگ میں لے کر آئیں گے اور اس دستاویزی فلم کے دوسرے حصہ میں دکھایا گیا کہ کس طرح پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل کی قیادت میں چار سال کے دوران یونیورسٹی میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں اور جو خواب پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے دیکھا تھا وہ شرمندہ تعبیر ہوا اور یہ یونیورسٹی قومی اور بین الا قوامی سطح پر اپنی شناخت منوانے میں کامیاب ہوئی۔
    یونیورسٹی کے سینیئر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر محمدطفیل عالمی شہرت یافتہ سائنسدان ہیں جنہوں نے اپنے بین الاقوامی کی جامعات میں کام کرنے کے تجربات سے غازی یونیورسٹی کو بھی انٹرنیشنل لیول کی پہچان دلائی۔ ان کی اور ان کی ٹیم کی انتھک محنت سے غازی یونیورسٹی میں 23 ایم فل اور 12 پی ایچ ڈی ڈگری پروگرامز کا آغاز ہو چکا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل غازی نے یونیورسٹی کے تحقیقی معیار کو بڑھانے کے لیے بین الاقوامی لیول کی لیبارٹریز اور گلاس ہاوسز کے منصوبہ جات کا آغاز کیا ہے۔

  • سنگین نتائج کی حامل تعلیمی پالیسیاں اور متاثرین — سیدرا صدف

    سنگین نتائج کی حامل تعلیمی پالیسیاں اور متاثرین — سیدرا صدف

    ایک دوست گورنمنٹ ٹیچر ہیں۔۔کہتیں میں نے اسکول امتحانات کے بعد ہیڈ کو مشورہ دیا تھا کہ نالائق طلبا کو دوبارہ ایک سال نہم میں لگوائیں۔۔۔ہیڈ کا کہنا تھا کہ چونکہ پریشر ہے کہ بچے فیل نہیں کرنے لہذا سبھی بچوں کا داخلہ جائے گا۔۔۔۔سبھی بچوں کا داخلہ بھیج کر جو نتائج آئے اس نے چودہ طبق روشن کر دیے۔۔۔۔ویسے تو پنجاب بھر میں جماعت نہم کے نتائج تشویشناک ہیں۔۔

    پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں مسائل کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔۔ سرکاری اسکولوں میں جہاں کچھ ٹیچرز کی عدم دلچسپی ایک وجہ ہے وہیں بچوں کو ڈھیٹ کرنے والی پالیسیز بھی دوسری وجہ ہے جو اچھے ٹیچرز کے ہاتھ باندھ دیتی ہے۔۔۔۔

    یہ فرض کر لینا کہ دنیا کا ہر بچہ مار سے پڑھے گا ایک حد تھی تو اسکے رد میں ایک بالکل دوسری حد متعارف کرا دی ہے مار نہیں پیار۔۔۔۔عنقریب شاید ایسی پالیسی آئے گی کہ ٹیچرز شاگردوں کو والدین کا درجہ دیں۔۔۔

    بچوں کی ہینڈلنگ ایک قابل ٹیچر کی صلاحیت پر چھوڑنی چاہیے۔۔ٹیچر بہتر جج کر سکتا ہے کہ کونسا بچہ کس انداز سے پڑھے گا۔۔۔۔محکمہ ایجوکیشن پنجاب میں نئی بھرتیوں کے بعد نوجوان اور پڑھا لکھا اسٹاف میسر ہے۔۔۔لیکن نئی بھرتیاں کرنے کے باوجود تعلیم یافتہ اسٹاف روایتی سسٹم کے آگے مجبور ہے۔۔۔

    کیسی بیہودہ لاجک ہے کہ شرح خواندگی بڑھانے کو بچے سر پر سوار کر لیں۔۔۔بچوں کی حاضری پوری کریں۔۔بچہ غیر حاضر ہے تو ٹیچر جواب دے۔۔۔۔جیسے تیسے حلیے میں آئیں آنے دیں۔۔پھر اگر وزٹ پر بچے مکمل وردی میں نہیں تو ٹیچر جواب دے۔۔۔۔بچے فیل نہ کریں۔۔سو فیصد نتیجہ دینے کی کوشش کریں۔۔۔۔۔

    منت ترلہ پروگرام سے تعلیمی انقلاب نہیں آتا ہے۔۔۔حکومت کا کام ایک یونیفارم فلاحی تعلیمی پالیسی متعارف کرانے کا ہے۔۔۔میڈیا کے ذریعے تعلیم کی اہمیت جیسے پروگرام پیش کیے جائیں لیکن اس کے بعد داخلے کو مشروط کیا جائے ایک یونیفارم سٹینڈرڈ سے اور اس پر کوئی کمپرومائز نہ ہو۔۔

    جس نے پڑھنا ہے اسے ان شرائط پر ہی پڑھنا ہو گا۔۔۔تعلیم کو مفت کرنا بھی درست پالیسی نہیں ہے۔۔۔سو طرح کے اور خرچے ہوتے سکتے ہیں تو مناسب تعلیمی اخراجات بھی برداشت کرنے چاہیے۔۔۔تعلیم کی اہمیت مفتے کے زور پر سمجھانے کی کوشش بےسود ہے۔۔۔۔جنہیں تعلیم کی اہمیت کی آگاہی ہے انکے نزدیک تعلیم انمول ہے۔۔۔

    بچوں کی باڈی لنگوئج خراب کر دی ہے۔۔۔والدین خصوصاً دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کو اسکول بھیجنا احسان سمجھتے ہیں۔۔۔ٹیچرز پر دباؤ ہے کہ سو فیصد نتائج دیں۔۔۔یہ دباؤ ناصرف اسکول بلکہ کالجز اور یونیورسٹیز میں بھی ہے۔۔۔

    جبکہ رزلٹ, نالائق بچوں کو پاس کرنے سے خراب ہوتا ہے۔۔وہ رزلٹ اچھا ہے جو لائق اور نالائق کی تفریق کرے۔۔۔رزلٹ تب خراب ہوتا ہے جب پروفیشنل لائف میں جانے والوں کو انکے ٹیچر یا ادارے کا نام پوچھ کر یہ ریمارکس دیے جائیں کہ بیٹا تمھیں پڑھانے اور پاس کرنے والوں پر چار حروف۔۔

  • نہم کے نتائج ذمہ دار کون ؟

    نہم کے نتائج ذمہ دار کون ؟

    نہم کے نتائج ذمہ دار کون ؟
    تحریر : رانا شہباز نثار
    گذشتہ روز پنجاب میں جماعت نہم کے سالانہ امتحانات کے رزلٹ کا اعلان کیا گیا جس میں1 لاکھ 48 ہزار طلبہ فیل ہو گئے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کا فیل ہونا قابل افسوس ہے کہ ہماری انگلی نسل کس طرف جا رہی ہے اس میں کس کا قصور ہے موبائل فون کا بے دریغ استعمال ، کورونا پالیسیوں کی وجہ سے تعلیمی نظام تباہ، والدین کی طرف سے عدم توجہ یا سکولوں میں اساتذہ کی پڑھانے میں عدم دلچسپی۔ اگر اسی طرح ہمارا نظام رہا تو ہم بہت دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے ۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں تعلیم بہت اہمیت رکھتی ہے. بچوں کی پڑھائی میں عدم دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے اسکی وجہ والدین کا بچوں پر توجہ نہ دینا اور بچوں کی تربیت میں اس بات کا خیال نہ رکھنا کہ ان کا بچہ کیا کر رہا ہے آج کل بچے کی توجہ پڑھائی سے زیادہ TikTok اور PUBG کی طرف ہے جتنے بھی بچے فیل ہوئے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے زیادہ تر بہت اچھے ٹک ٹاکر اور PUBG کے پلیئر ہوں گےاور والدین بچوں کو سکول چھوڑ کر ساری ذمہ داری ٹیچرز پر ڈال کر سمجھتے ہیں کہ سکول والے خود ہی بچے کی تربیت کر لیں گے۔
    اس کے علاؤہ ہمارے اس تعلیمی نظام کی تباہی میں حکومت کا کردار بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ حکومت مفت معیاری تعلیم نہیں دے پا رہی اور پرائیوٹ سکول میں علم دیا نہی جاتا بلکہ بیچا جا رہا ہے پرائیویٹ تعلیمی ادارے تعلیم کے نام پر غریبوں کو لُوٹ رہے ہیں اور اتنی مہنگی تعلیم ہو چکی ہے کہ عام آدمی اپنے بچوں کو تعلیم دینے کی بجائے اسے کسی ورکشاپ یا حجام کی دکان پر رکھوا دیتا ہے کہ کوئی کام سیکھ لے ۔ کورونا وائرس سے جہاں دنیا کی معیشت تباہی ہوئی وہاں سکول بند کرنے سے تعلیمی نظام بھی تباہ ہو گیا بہت سے غریب اور مڈل کلاس طلبہ ایسے ہیں جو کورونا میں سکول چھوڑ کر دوبارہ تعلیم جاری نہیں کر سکے ان میں زیادہ تر بچے گھریلو حالات مہنگائی کی وجہ سے اور تعلیمی اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے ہوٹلوں وغیرہ میں یا کسی اور کام پر لگ گئے ہیں۔ مجھے اکثر اوقات باہر ہوٹلوں پر کم عمر بچوں سے ملاقات کا موقع ملا اور جب ان سے سوال کیا گیا کہ بیٹا آپ پڑھتے کیوں نہیں تو ان میں اکثر کا جواب یہی ملتا ہے کہ وہ پڑھنا چاہتے ہیں لیکن گھریلو حالات کی وجہ سے وہ پڑھ نہیں سکے تو وہ کام پر لگ جاتے ہیں۔ پاکستان کے تعلیمی نظام جو ٹھیک کرنے کے لیے اساتذہ، والدین اور حکومت کو بھی اس کام کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں سے اساتذہ کی سیاسی گروپ بندی ختم کروانی ہو گی اساتذہ کی تعلیمی پراگریس رپورٹ ہر سال کی پبلک کی جانی چاہیے اب جتنے بچے فیل ہوئے ہیں ان میں اساتذہ سے بھی جواب لینا ہو گا کہ اسکی کیا وجہ ہے بچوں کی پڑھائی میں دلچسپی نہیں یا اساتذہ کرام بچوں کی تیاری ٹھیک سے نہیں کروا سکے۔ ہر استاد اپنے مضمون کے بارے میں رپورٹ دے اگر اساتذہ کے خلاف ایکشن نہیں ہو گا تو ہمارا تعلیمی معیار ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ سرکاری ٹیچرز کے اپنے بچے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ ہم یا ہمارے ساتھی کتنی محنت کرتے ہیں بچوں پر۔ اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مانانوالہ ہائی اسکول کے نہم کلاس میں ٹوٹل 393 طلبہ میں سے 54 لڑکے پاس ہوئے اور 339 لڑکے فیل ہوئے اسی طرح گورنمنٹ گرلز ہائیر سکینڈری سکول میں 329 طالبات میں سے 112 طالبات پاس اور 217 طالبات فیل ہوئیں جو کہ والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے
    اب اگر لاہور بورڈ کے اوور آل رزلٹ کو دیکھا جائے تو 266071 طلبہ کا داخلہ ہوا اور 260325 طلبہ امتحان میں شامل ہوئے جن میں سے 112644 طلبہ پاس ہوئے جو کہ 43.27 فیصد ہے اور اس میں سرکاری اسکولز میں سے 118472 طلبہ کا داخلہ ہوا اور 115940 طلبہ نے امتحان دیا جس میں سے 42187 طلبہ پاس ہوئے جو کہ کل رزلٹ کا 36.99 فیصد بنتا ہے ۔ پرائیوٹ سکولز میں سے 73048 طلبہ کا داخلہ ہوا اور 72208طلبہ امتحان میں شامل ہوئے جس میں سے 48211 طلبہ پاس ہوئے جو کہ کل 66.77 فیصد بنتا ہے۔
    اس طرح کا رزلٹ اگر ہمارے سرکاری سکولوں میں سے آئے تو یہ لمحہ فکریہ ہوگا پنجاب سرکار کو اس طرف توجہ دینی ہوگی کیونکہ ہماری آبادی زیادہ تر مڈل کلاس طبقہ پر مشتمل ہے اور اتنی مہنگائی میں پرائیویٹ سکولز کے اخراجات برداشت کرنا بہت مشکل ہے تو وہ سرکاری سکولوں میں بچوں کو تعلیم حاصل کرواتے ہیں سرکاری سکولوں میں پرائیویٹ سکولوں کی نسبت زیادہ پڑھے لکھے اور قابل ٹیچرز میسر ہیں لیکن اس کے باوجود اتنا گندا رزلٹ آیا اس پر وزارت تعلیم ایکشن لے اور تعلیمی نظام کو درست کرے ۔

  • غازی یونیورسٹی،سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے سٹوڈنٹس کی فیس معاف کرے۔طلباء کی پریس کانفرنس

    غازی یونیورسٹی،سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے سٹوڈنٹس کی فیس معاف کرے۔طلباء کی پریس کانفرنس

    غازی یونیورسٹی،سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے سٹوڈنٹس کی فیس معاف کرے۔طلباء کی پریس کانفرنس
    اگر غازی یونیورسٹی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے سٹوڈنٹس کی فیس معاف کرتی ہے تو ہم تمام سٹوڈنٹس اپنے متاثرین سٹوڈنٹس کیلئے 10 لاکھ روپے اکٹھے کرکے دیں گے.
    باغی ٹی وی :ڈیرہ غازیخان پریس کلب میں غازی یونیورسٹی کے طلباء نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ کہ حالہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ضلع ڈیرہ غازی کوہ سلیمان ریجن اور ضلع راجن پور کے سٹوڈنٹس شدید متاترہوئےہیں ایک سروے کےمطابق ان علاقوں کے کم از کم 70فیصد سٹوڈنٹس مثاترہوئے جس میں ان کو مال مویشی مکانات فصلوں کی صورت میں کافی نقصانات ہواسٹوڈنٹس نے پریس کانفرنس کےذریعے مطالبہ کیاوائس چانسلر اور انتظامیہ سے کہ متاثرہ سٹوڈنٹس کی فیس کو معاف کیاجائے تاکہ طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اگرہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے تو ہم پرامن احتجاج کاحق رکھتے ہیں انتظامیہ کی جانب سٹوڈنٹس کو کہاجارہے ہے ہم ہر ڈپارٹ سے دس طلبہ کو ریلف دیں گے لہزا ہم اس فیصلے کو مسترد کرتےہوئے ساٹھ سے سترفیصد تک سٹوڈنٹس فیس معافی کامطالبہ کرتے ہیں.طلباء نے کہا

  • اب سپلیمنٹری کی بجائے دو سالانہ امتحان ہوں گے، نئی اصلاحات  جاری

    اب سپلیمنٹری کی بجائے دو سالانہ امتحان ہوں گے، نئی اصلاحات جاری

    حکومت نے آئندہ تعلیمی سال سے بورڈ میں نئی اصلاحات کردی ہیں۔ضمنی کی بجائے اب سیکنڈ سالانہ امتحان ہوگا جس میں فریش طلباء وطالبات بھی شرکت کرسکیں گے
    باغی ٹی وی :کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن و چیئرمین لیاقت علی چٹھہ کی زیر صدارت تعلیمی بورڈ کے بی او جی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔سیکرٹری بورڈ حبیب الرحمن گاڈی نے بریفنگ دی. اجلاس میں 18ایجنڈا پوائنٹس پر فیصلے دیئے گئے . چیئرمین و کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے کہا کہ حکومت نے آئندہ تعلیمی سال سے بورڈ میں نئی اصلاحات کردی ہیں۔ضمنی کی بجائے اب سیکنڈ سالانہ امتحان ہوگا جس میں فریش طلباء وطالبات بھی شرکت کرسکیں گے۔نئے تعلیمی سال سے پرائیویٹ طلبہ بھی ریگولر کے ساتھ سال کے شروعات میں داخلہ رجسٹریشن کراسکیں گے۔پہلے پرائیویٹ طلبہ کو صرف امتحانات کے نزدیک رجسٹریشن کی سہولت حاصل تھی۔کمشنرنے پینشنرز کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کرنے کے فیصلہ کی بھی توثیق کردی ۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن دستاویزات میں غلط مضمون کے اندراج پر متعلقہ تعلیمی اداروں کو شوکاز نوٹسز جاری کئے جائیں گے۔ مضمون کے اندراج ، کلیریکل سٹاف کی غلطی کا نقصان کسی طالب علم کو نہیں ہونے دینگے۔کمشنر نے کہا کہ طلباء وطالبات کو رجسٹریشن سے قبل مضامین سے متعلق مکمل آگاہی دی جائے۔کمشنر و چیئرمین نے کہا کہ بورڈ میں کسی بھی افسر کو اختیارات کا ناجائز استعمال ہرگز نہیں کرنے دینگے۔مالی بدعنوانی اور فرائض میں غفلت پر سخت کارروائی ہوگی۔اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن خالد منظور،اے سی جی حیات اختر،ڈائریکٹر کالجز،تعلیمی بورڈ کے دیگر افسران اور بورڈ آف گورنرز کے اراکین موجود تھے۔

  • چونیاں . پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے مافیاء کا روپ دھار لیا،بھاری فیسوں نے والدین کی کمر توڑ دی

    چونیاں . پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے مافیاء کا روپ دھار لیا،بھاری فیسوں نے والدین کی کمر توڑ دی

    چونیاں تحصیل بھر کےنامور بڑے پرائیویٹ سکولوں نے بچوں کی فیسوں میں بڑا اضافہ تو کر دیا لیکن اس کے باوجود بچوں کو بہتر تعلیم اور کمپیوٹر لیب،سائنس لیب،پینے کاصاف پانی،لوڈشیڈنگ کی صورت میں بجلی جیسی بنیادی سہولیات دینے میں ناکام والدین پریشان،محکمہ ایجوکیشن آفیسرز خاموش تماشائی،شہریوں کا اعلیٰ حکام سے جلد نوٹس لے کر پرائیویٹ سکولوں کیخلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ۔
    باغی ٹی وی – (چونیاں سے عدیل اشرف کی رپورٹ) تفصیلات کیمطابق چونیاں تحصیل بھر میں موجود بڑے نامور پرائیویٹ سکول مالکان جنہوں نے والدین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا بچوں کی فیسوں میں کئی گناہ اضافہ کر دیا لیکن بدلے میں بچوں کو بنیادی تعلیمی سہولیات دینے سے بھی قاصر ہیں،موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہےجب کہ پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کے لیے کمپیوٹر لیب، سائنس لیب کی سہولت سرے سے ہی موجود نہیں جبکہ کمیوٹر اور سائنس کا مضمون پہلی کلاس سے شروع ہوجاتا،معصوم بچوں کےپینے کے لیے صاف پانی کے سہولت نہیں، بجلی نہ ہونے کی صورت میں یو پی ایس یا جنریٹر کی سہولت نہیں بچوں کو شدید گرمی میں بیٹھنا پڑتا جبکہ فیسیں اتنی بھاری کہ ہر مہینےفیسیں ادا کرتے وقت والدین کی کمر ٹوٹ جاتی ،آنکھوں میں بے پناہ سپنے سجائےوالدین سرکاری سکولوں کی بجائے پرائیویٹ سکولوں میں اسلیے بچوں کو بھیجتے تاکہ اچھے ماحول میں بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ ہمارے بچوں کو بہتر تعلیم میسر آسکے لیکن سکول مافیا آئے روز فیسیں تو بڑھا رہے لیکن سہولیات کم کر کرتے جارہے ہیں۔ محکمہ ایجوکیشن کےآفیسرز مکمل خاموش تماشائی بنے ہوئے پرائیویٹ سکولوں کو بغیر چیک کیے این او سی جاری کر دیتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف سرکاری سکولوں میں اساتذہ تو بہتر تعلیم یافتہ ہیں لیکن سکولوں کا ماحول بہتر نہ ہونے کہ باعث والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل کرواتے ہیں شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر نوٹس لیا جائے مکمل سہولیات فراہم نہ کرنے والے پرائیویٹ سکولوں کو فوری بند کروایا جائے اور محکمہ ایجوکیشن کو وارننگ دے کر ترجیحی بنیادوں پر تمام سرکاری سکولوں میں پرائیویٹ سکولوں کے طرز پر اچھا تعلیمی ماحول فراہم کروائیں اور سرکاری اساتذہ کو بھی پابند کریں کے اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھائیں تو والدین پرائیویٹ سکولوں کی بجائے سرکاری سکولوں میں بچوں کو داخل کروانے کو ترجیح دیں گے جس سےنہ صرف اچھی تعلیم میسر آنے کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکول مافیا بھی کنٹرول ہو گا بلکہ اس مہنگائی کے دور میں ماہانہ اخراجات میں بھی واضح کمی آئے گی۔

  • بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    گو کہ یہ عنوان بھی آپکو پہلی نظر میں بکواس لگا ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت حکیمانہ مقولہ ہے۔ کیونکہ آپ لاکھ خود کو پڑھے لکھے، مہذب اور سمجھدار سمجھتے ہوں، لیکن اگر آپ بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں تو آپ بہرحال بکواس ہی فرمارہے ہیں۔

    آپ زبان سے وہی بات کہیں جس کے بارے میں آپکو یقین ہو کہ یہ بات سچی ہے،جھوٹ نہیں ہے۔ اچھی ہے، بری نہیں۔ مفید ہے، غیر مفید نہیں ہے۔ کسی کا دل خوش کرنے کیلئے ہے، کسی کی دل آزاری کیلئے نہیں ہے۔اگر آپ ہر دفعہ بولنے سے پہلے ان باتوں کو سوچ کر اچھی گفتگو کرتے ہیں تو مبارک ہو۔

    آپ مہذب، سلجھے ہوئے، بہترین انسان ہیں، بشرطیکہ آپ نہ صرف گفتار کے، کردار کے بھی غازی ہوں۔ یعنی نہ صرف آپ اچھا بولتے ہوں، اس پر عمل بھی کرتے ہوں، یا کم از کم عمل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ کیونکہ

    عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ نوری

    بہرحال کچھ بھی بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ کل کسی عدالت میں مجھ سے میرے کہے ہوئے ایک ایک لفظ کا حساب لیا جائیگا۔ اگر بات اچھی ہوئ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    وَالْـکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ صَدَقَۃٌ ’’

    اوراچھی بات بھی صدقہ ہے‘‘ (صحیح بخاری)

    اور صدقہ بڑی عظیم عبادت ہے۔ اور اگر خدانخوستہ آپکی کہی ہوئ بات بری ہوئ تو یہ بڑے خطرے کی بات ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    ما يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    ( پارہ:26،سورۃ:ق، آیات:17،18)
    ترجمہ: ۔ تم جو بات بھی نکالتے ہو، اس پر نگران موجود ہے

    لہذا آپ کی ایک ہی بری،جھوٹی، غیبت، چغلی یا طنز پر مبنی بات اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔ حدیث مبارک پڑھیئے:
    حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، وہ ارشاد فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور ارشاد فرمایا:

    ’’کُفَّ عَلَیْکَ ہٰذَا‘‘۔۔۔۔۔ ’’اس کو روکو۔‘‘ یعنی زبان کو قابو میں رکھو، یہ چلنے میں بے احتیاط اور بے باک نہ ہو۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ’’وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ‘‘۔۔۔۔۔’’ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان پر بھی ہم سے مواخذہ ہوگا؟‘‘ باز پُرس کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا مُعَاذُ!‘‘ ۔۔۔۔۔’’اے معاذ!تجھے تیری ماں روئے۔‘‘(عربی زبان کے محاورہ میں یہ کلمہ یہاں پیار ومحبت کے لیے ہے) ’’وَہَلْ یَکُبُّ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِہِمْ‘‘ لوگوں کو دوزخ میں ان کے منہ کے بل زیادہ تر ان کی زبانوں کی بے باکانہ باتیں ہی ڈلوائیں گی،یعنی آدمی جہنم میں اوندھے منہ زیادہ تر زبان کی بے احتیاطیوں کی وجہ سے ہی ڈالے جائیں گے۔( ترمذی)

    زبان کی لغزشوں سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان خاموشی کی عادت اپنالے۔ دیکھئے حدیث
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( مَنْ صَمَتَ نَجَا ) .روى الترمذي (2501)

    ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا (ترمذی)
    پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ بھی یہی تھی کہ آپ بکثرت خاموش رہا کرتے تھے۔سماک کہتے ہیں: میں سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے(مسند احمد)

    لہذا اگر ہم اس نیت سے خاموش اختیار کریں کہ یہ میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے تو دو فائدے ہونگے۔ ایک تو فضول گوئی سے بچیں گے۔ دوسرا یہ کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے وجہ سے ہماری ساری خاموشی عبادت میں لکھی جائیگی۔

    مگر اس تمام مضمون سے یہ نتیجہ نکالنا بھی ہرگز درست نہیں کہ ہم "صم بکم” ( گونگے بہرے) رہیں۔ دین بہرحال اعتدال کا نام ہے۔ اور اس باب میں اعتدال یہ ہے کہ ہم فضول گوئی سے اجتناب کرتے ہوئے خاموش تو رہیں۔ مگر جب بولنے کا موقعہ ہوتو ضرور بولیں۔ اچھا بولیں۔

    صاف بولیں ۔ برمحل بولیں۔ خاموشی اور کلام میں اعتدال لانے کیلئے بشر بن حارث رحمہ اللہ کا یہ قول مفید ثابت ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں
    إِذَا أَعْجَبَكَ الْكَلَامُ فَاصْمُتْ وَإِذَا أَعْجَبَكَ الصَّمْتُ فَتَكَلَّمْ

    "اگر تمہیں بولنا پسند ہو تو خاموش رہا کرو اور اگر تمہیں خاموش رہنا پسند ہو تو بولا کرو۔”
    [حلية الأولياء وطبقات الأصفياء – ط السعادة، جلد ۸، صفحہ نمبر ۳۴۷]