Baaghi TV

Category: تعلیم

  • مقصد کامیابی کی ضمانت — ام عفاف

    مقصد کامیابی کی ضمانت — ام عفاف

    زندگی ایک رفتار کے ساتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے، وہ بچے جو ابھی چھوٹے ہیں ان کے لیے یہ دنیا بالکل نئی ہے ان کی آنکھوں میں تجسس ہوتا ہے اور جو لوگ جوانی کے جوبن پر ہیں ان کے لیے کچھ نیا ہے تو کچھ پرانا. اور وہ لوگ جو اپنی زندگی گزار چکے ہیں ان کے لیے یہ سب کچھ پرانا ہے.

    لیکن اصل بات یہ ہے کہ انسان نے اس دنیا میں کیا پایا ہے اور کیا کھویا ہے کچھ لوگ بغیر مقصد کے زندگی گزارتے ہیں.

    زندگی بہت خوبصورت ہے اگر اس کے اندر کچھ ترتیب لائ جائے کوئی مقصد طے کیا جائے. ہر انسان کی زندگی اس کے ساتھ ہی شروع ہو کر اس کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے. لوگ ہمارے کاموں میں، خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں کیونکہ ہم ان کے درمیان موجود ہیں.

    جیسے ہی زندگی ختم ہوگی سارے کام ختم ہو جائیں گے اور لوگ کچھ دیر سوگ منا کر اپنے کام پر لگ جائیں گے. زندگی کی ڈور کٹنے کے ساتھ ہی ہمارا نام بھی ختم ہو جاتا ہے.

    اور پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہو جائیں تو صدیوں تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں. سو بار بھلانے پر بھی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر یاد آجاتے ہیں. یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک مقصد کے تحت زندگی گزارتے ہیں.

    اور مقصد ہی وہ بنیاد ہے جو انسان کو مکمل زندگی کا لائحہ عمل دیتا ہے. ایسے لوگ زندگی ایک ترتیب سے گزراتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مرحلے کو کامیابی سے طے کرتے ہیں اور کامیابی بھی ان کے قدم چومتی ہے.

    آپ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہی مثال لے لیں ان کی مکمل زندگی انتھک محنت سے عبارت ہے. انہوں نے مکمل زندگی میں کام کیا اور لوگوں کو کام کام اور بس کام کا سبق دیا.

    وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنا ایک مقصد چنا اور اسے لیکر وہ آگے بڑھے. جب انہوں نے یہ مسلمانوں کی آزادی و خود مختاری کو اپنا مقصد بنایا تو وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے نجات دہندہ بنے اور قوم نے انہیں بابائے قوم کا درجہ دیا.

    دیکھیں اگر آپ کے پاس کوئی مقصد ہوگا تو ہی آپ کی زندگی میں کوئی کارآمد کام ہوگا. اسی وقت آپ اپنی قوم اور ملک کے لیے کچھ کر سکتے ہیں. اس لیے آپ اپنی زندگی میں مقصد اور ترتیب کو لازم سمجھیں.

    یاد رکھیں ہمیشہ کام کرنے والے لوگوں کو ہی یاد رکھا جاتا ہے اور وہ کام زیادہ بہتر ہوتا ہے جو ایک مقصد کے ساتھ ہو اسی لیے اپنی زندگی کا ایک مقصد بنائیں پھر دیکھیں کامیابیاں کیسے آپ کے قدم چومتی ہیں.

  • جامعات میں نشہ آور اشیاء کی روک تھام کیلئے کام کرنا ہوگا۔گورنر پنجاب

    جامعات میں نشہ آور اشیاء کی روک تھام کیلئے کام کرنا ہوگا۔گورنر پنجاب

    ڈیرہ غازی خان۔گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ کسی معاشرے کی ترقی میں اعلی تعلیم کا کردار مسلمہ ہے، جامعات کو انڈسٹریز، کامرس، آئی ٹی اور ای مارکیٹنگ کی ذمہ داریوں کے احساس کو سمجھتے ہوئے عملی فیلڈ میں آنا ہوگا، تعلیم کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا بہت ضروری ہے.وفاق اورپنجاب حکومت اعلی تعلیم کے فروغ کیلئے بھرپور وسائل فراہم کررہی ہے .فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو کامیابیاں سمیٹنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،طلبہ کے چمکتے چہرے اس بات کے عکاس ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ملک و قوم کا نام روشن کرینگے۔
    باغی ٹی وی۔ گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازیخان کے پہلے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہماری زندگیوں میں والدین اور اساتذہ کا کردار بہت اہم ہے جن کا احسان اتارا نہیں جا سکتا،اعلی تعلیم میں بہترین صلاحیتیوں کو غازی یونیورسٹی بروئے کار لا رہی ہے، اساتذہ طلبہ کو مل جل کر کام کرنا سکھائیں کیونکہ دنیا میں اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے،طلبائوطالبات سافٹ ڈیجیٹل فیلڈز میں نام پیدا کریں، انہوں نے کہاکہ ہم سب ایک دوسرے کے محتاج ہیں،مل جل کر کام کرنے والی قومیں ہی دنیا میں عروج حاصل کرتی ہیں ، خوشی ہے کہ غازی یونیورسٹی اکیڈمک کیلنڈر بنانے والی پنجاب کی پہلی یونیورسٹی ہے، انہوں نے کہاکہ جدید علوم کے احیاء کے ساتھ جامعات میں نشہ آور اشیاء کی روک تھام کیلئے بھی کام کرنا ہوگا،طلبائوطالبات جو کام کریں اچھے طریقے سے کریں، ہمارا آنے والا دن گزرے دن سے بہتر ہونا چاہئے .وائس چانسلر غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازیخان پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ غازی یونیورسٹی کے کانووکیشن کا مقصد پاس آوٹ طلبائو طالبات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، یونیورسٹی میںطلبہ کو تعلیم حصول کے بعد درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ای روزگار کی ٹریننگ بھی دی گئی ہے،جدید ٹیکنالوجی سے متعلقہ ڈپارٹمنٹس کا قیام میری اولین ترجیح رہی ہے،طلبہ وطالبات تعلیم حصول کے بعد ملک و قوم کی ترقی کیلئے صلاحیتیں بروئے کار لائیں.غازی یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن میں تین ہزار سے زائد طلبائو طالبات کو میڈلز اور ڈگریاں دی گئیں. قبل ازیںگورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے باقاعدہ کانووکیشن کے انعقاد کی اجازت دی اور یونیورسٹی کے پوزیشن ہولڈرطلبائو طالبات اور اساتذہ میں میڈلز تقسیم کیے۔

  • کیا ہائرایجوکیشن کمیشن ایم فل اور ایم ایس داخلہ پر پابندی کے فیصلے کو برقرار رکھ پائے گی؟

    کیا ہائرایجوکیشن کمیشن ایم فل اور ایم ایس داخلہ پر پابندی کے فیصلے کو برقرار رکھ پائے گی؟

    ہائرایجوکیشن کمیشن نے تمام جامعات سے وابستہ کالجز میں ایم ایس اور ایم فل کے داخلوں پر پابندی لگادی جسکے سبب اب ان کالجز سے ایم فل اور ایم ایس پرواگرام نہیں ہوسکیں گے لہذا اب طلبہ کو جامعات میں سے ہی ایم ایس، ایم فل کی ڈگری کرنی گی۔
    اسلام آباد کے رہائشی طالب علم محمد رضوان نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ ایچ ای سی میں پروفیشنل لوگ نہ ہونے کی وجہ سے تعلیمی نظام کا بیڑا غرق ہوکر رہ گیا ہے اور اب انہوں نے جامعات سے وابستہ کالجز سے ایم ایس اور ایم فل کی ڈگری کرنے پر پابندی تو لگا دی لیکن ان طلبہ کا نہیں سوچا جو دوردراز علاقوں میں رہتے ہیں اور انکے قریب صرف کالج کی سہولت موجود ہے جبکہ جامعات ان سے کافی دور ہیں۔ لہذا میرا ایچ ای سی سے سوال ہے کہ اب ان طلبہ کا کیا بنے گا؟

    ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر خالد سلطان نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ: ہائرایجوکیشن کمیشن نے کالجز کی سطح پر ایم ایس اور ایم فل پروگرامز پر پابندی لگا کر ایک اچھا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس ڈگری میں ریسرچ اور کورس ورک کیلئے جس قسم کے معیار کی ضرورت ہوتی ہے وہ کسی کالج میں برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ جو معیار ایک جامع فراہم کرسکتی ہے وہ کالج میں مشکل ہے۔

    پروفیسر خالد سلطان نے مزید بتایا کہ: ایچ ای سی کے اس فیصلہ سے دور دراز علاقوں میں رہنے والے طلبہ خوش نہیں ہونگے کیونکہ ہر ایک کے قریب جامع نہیں ہوتی اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایچ ای سی ایم ایس اور ایم فل کے داخلہ پر پابندی کے اس فیصلے کو برقرار رکھ پائے گی یا نہیں کیونکہ بعض اوقات ایسے فیصلوں سے کالجز، طلبہ اور سول سوسائٹی کے جانب سے دباو آتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔ لیکن جس قسم کے معیار کی ان ڈگریوں کیلئے ضرورت ہوتی ہے اسے برقرار رکھنا بھی ایچ ای سی کی ذمہ داری ہے۔

    اس سلسلے میں باغی ٹی وی نے ایچ ای سی کا موقف لینے کیلئے کوشش کی مگر ایچ ای سی ہیڈ آفس اسلام آباد میں کسی سے رابطہ نہ ہوسکا۔

  • کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی،چیف جسٹس پاکستان

    کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی،چیف جسٹس پاکستان

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان نے درخواست گزار کے وکیل کو انگریزی بولنے پر ٹوک دیا،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی۔

    درخواست گزار کے وکیل کوکب اقبال نے موقف اپنایا کہ اردو زبان کے نفاذ کا حکم 2015 میں دیا گیا لیکن آج تک عمل نہیں ہوا جبکہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت سی ایس ایس امتحانات میں بھی اردو شامل کرنے کا کہا گیا تھا۔

    وکیل کوکب اقبال نے عدالت سے کہا کہ میں نے 2003 میں درخواست دائر کی تھی اور چاہتا ہوں میری زندگی میں کیس کا فیصلہ ہو جائے، سپریم کورٹ وزیر اعظم کو ہدایات دیں کہ اردوزبان کو سرکاری زبان کےطور پر رائج کرے بیوروکریسی سپریم کورٹ کےبجائےوزیراعظم کے حکم کو مانتی ہے۔

    سپریم کورٹ کے از خود دائرہ اختیار کو ریگولیٹ کرنے والی آئینی ترمیم منظور

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ یہ اچھی بات نہیں کہ حکومت اردو زبان کے نفاذ میں تاخیر کر رہی ہے وکیل کوکب اقبال نے کہا کہ امیر کا بچہ سی ایس ایس کر لیتا ہے اور غریب بس کلرک ہی بنتا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتا، ہمارے بزرگ انگریزی کے بجائے عربی اور فارسی جانتے تھے۔

    سپریم کورٹ نے وفاق اور پنجاب حکومت کو جواب جمع کرانے کے لیے وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

    شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    واضح رہے کہ ستمبر 2015 میں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پرنافذ کرنے کا حکم دیا تھا اور تحریری فیصلہ بھی اردو میں جاری کیا تھا سائلین بھی متعدد بار یہ شکایت کرچکے ہیں کہ کیس کی کارروائی انگریزی میں ہونے کی وجہ سے انہیں سمجھ ہی نہیں آتی، جو بعد میں انہیں وکیل سے پوچھنی پڑتی ہے۔

    گذشتہ برس اردو زبان رائج نہ کرنے پر وکیل کوکب اقبال نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی گذشتہ برس ستمبر اور رواں ماہ جنوری میں بھی اس کیس کی ایک سماعت ہوئی تھی جس میں حکومت سے جواب طلب کیا گیا تھا۔

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

    ستمبر 2015 میں جاری کیے گئے اردو زبان کیس کا تفصیلی فیصلہ

    آئین کا آرٹیکل 251 اس معاملے پر واضح ہے، جس کی شق نمبر ایک کے مطابق پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور سرکاری سطح پر اس کے فروغ کے انتظامات ہونے چاہییں شق نمبر دو کے مطابق دفتری زبان انگریزی رہے گی، جب تک اردو کو اُس کا مکمل متبادل نہیں بنا دیا جاتا اسی طرح شق نمبر تین کے مطابق صوبائی اسمبلی قومی زبان کے ساتھ ساتھ صوبائی زبانوں کی ترویج کے لیے بھی اقدامات کرے۔

    اسی بنیاد پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں لکھا تھا کہ ‘آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا تاخیر فوراَ نافذ کیا جائے۔’

    کرکٹ قوانین میں بڑی تبدیلیاں

    بارہ صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں مزید لکھا گیا تھا:

    قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے وفاقی اورصوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں، تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا ترجمہ کر لیا جائے بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے نگرانی کرنے والے اور باہمی ربط قائم رکھنے والے ادارے آرٹیکل 251 کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس دفعہ کا نفاذ یقینی بنائیں وفاقی سطح پر مقابلے کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے میں حکومتی ادارے مندرجہ بالا سفارشات پر عمل کریں۔

    عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’ان عدالتی فیصلوں کا، جو عوامی مفاد سے تعلق رکھتے ہوں، جو آرٹیکل189 کے تحت اصولِ قانون کی وضاحت کرتے ہوں، لازماَ اردو میں ترجمہ کروایا جائے اور عدالتی مقدمات میں سرکاری محکمے اپنے جوابات حتیٰ الامکان اردو میں پیش کریں تاکہ شہری اس قابل ہو سکیں کہ اپنے قانونی حقوق نافذ کروا سکیں۔‘

    مزید کہا گیا تھا کہ اس فیصلے کے اجرا کے بعد اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اہلکار آرٹیکل 251 کے احکامات کی خلاف ورزی جاری رکھے گا تو جس شہری کو بھی اس کی خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان یا ضرر پہنچے گا، اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔

    پاکستان کو 60 کی دہائی کی معیشت بنانا چاہتے ہیں،وزیر خزانہ

  • اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب

    اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب

    چارسدہ ( ) اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب
    اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی اجتماع ارکان برائے انتخاب ناظم مقام گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں اراکین کے علاوہ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخواہ کلیم اللہ نے حصوصی شرکت کی
    اس موقع پر ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخواہ نے اراکینِ چارسدہ جمعیت سے استصواب رائے کے بعد سیشن 2022-23 کے لیے چارسدہ کالج کے طالب علم نسیم الرحمٰن کو ناظم منتخب کیا اور ان سے اپنے ذمہ داری کا حلف لیا
    اسی طرح ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ نسیم الرحمٰن نے اراکین سے مشاورت کے بعد فیصل خان کو انچارج شعبہ تنظیم و ترتیب و اہتمام دفتر، محمد اشفاق کو ناظم علاقہ کالجز، ذاکر اللہ کو ناظم علاقہ وسطی، مصباح اللہ کو ناظم علاقہ شمالی، ملک عبید کو ناظم تنگی سرکل جبکہ وحید اللہ کو صدر بزم شاہین مقرر کرکے ان سے ان کی زمہ داریوں کا حلف لیا
    اس موقع پر محمد اشفاق، ذاکر اللہ اور مصباح اللہ پر مشتمل 3 رکنی پلاننگ کمیٹی بنائی گئی جو چارسدہ میں جمیعت کے کام کے وسعت کے حوالے سے احباب اور ماہرین سے ملاقات کریگی
    ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ نسیم الرحمٰن نے اس موقع پر کہا کہ ضلع چارسدہ میں اسلامی جمعیت طلبہ کو حقیقی معنوں میں طلباء کا ہراول دستہ بنائیں گے

  • سب کی جستجو آگے بڑھنا ؟ تحریر:عبد الوحید

    سب کی جستجو آگے بڑھنا ؟ تحریر:عبد الوحید

    ہر کوئی زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنا چاہتا ہے چاہے وہ کھیل کا میدان ہو ، کاروبار کا میدان ہو ، تعلیم کا میدان ہو یا چاہے کوئی بھی میدان ہو ہر ایک آگے بڑھنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ۔ سب اپنی زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں ۔ تاہم ایک طالب علم کے کامیاب ہونے کا مطلب بہتر گریڈ اور مجموعی ترقی حاصل کرنا ہے۔ کامیاب مطالعاتی حکمت عملی پر موثر طریقے سے عمل کرتے ہیں اپنی آخری تاریخ کا بہتر انتظام کرتے ہیں اور اپنی عادات کو اس طرح بہتر بناتے ہیں جس سے انہیں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں۔ اگرچہ تمام طلبا کا سیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے لیکن کچھ ثابت شدہ طریقے زیادہ کامیاب ہونے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔

    کامیابی زندگی میں ٹھوکر کھانے کے مناسب حصے کے بعد آتی ہے۔ کلید یہ ہے کہ مایوس نہ ہوں اور صیح وقت پر ضروری تبدیلیاں کریں۔ اس وقت تک ایک طالب علم تعلیمی فضیلت کے حصول کے لیے پرعزم ہے؛ وہ کامیاب ہونے کا پابند ہے۔اگر آپ زندگی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں تواچھی طرح سے خود ڈھالنا چاہیے۔ آپ کو جو کچھ کرنا ہے اور کب کرنا ہے اس کا منصوبہ بنائیں۔ اس سے آپ تمام حالات سے صیح معنوں میں آگاہ رہ سکیں گے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کاغذ پر منصوبہ بناتے ہیں یا اپنے کمپیوٹر پر۔ زیادہ اہم بات اس پر عمل کرنا ہے۔ آخری تاریخ، امتحانات، ذاتی اور کام سے متعلق واقعات کے ساتھ اس منصوبہ ساز میں تمام اہم معلومات شامل کریں۔آپ اپنی زندگی کو جتنا ہموار کریں گے، اتنا ہی آپ چیزوں کو موثر طریقے سے سنبھالنے کے بارے میں وضاحت حاصل کر سکیں گے۔ طلباء کے لئے سخت تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اوسط گریڈ حاصل کرنا عام بات ہے۔ جبکہ کچھ دوسرے لوگ جو کم وقت کی سرمایہ کاری کرتے ہیں انہیں بہت بہتر نتائج ملتے ہیں۔ ایک کامیاب طالب علم بننے کی کلید ہوشیار تعلیم حاصل کرنا ہے نہ کہ مشکل۔اس حقیقت سے قطع نظر کہ یہ ایک مکمل اکائی ہے، صرف ایک باب ہے یا صرف ایک موضوع ہے، اسے بار بار گھسیٹنے کے بجائے اسے سمجھنے پر توجہ مرکوز کریں۔ اس سے چیزوں کو بہتر طریقے سے واضح کیا جائے گا۔اس کے علاوہ ، باقاعدگی سے مطالعہ کرنے کا نقطہ بنائیں اور کبھی کبھار نہیں۔ آپ کو مطالعاتی مواد کا جائزہ لینے اور اسے صیح طور پر نافذ کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ اگر آپ کسی تکنیکی موضوع سے نمٹ رہے ہیں تو کچھ سوالات کی مشق کریں اور ہوشیار کا مطالعہ کریں۔کسی نہ کسی طریقے سے کسی بھی قسم کی خلل ہمیشہ آپ کی زندگی میں ظاہر ہوگا۔ آپ کو اپنی تعلیم پر گہری توجہ مرکوز کرنے کا ایک نقطہ بنانا چاہئے تاکہ سیکھنا بہت زیادہ موثر ہو۔کسی بھی ایسی چیز سے چھٹکارا حاصل کریں جو آپ کی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھیں۔ ایک مقصد کے ساتھ اتنا مضبوط کام کریں کہ آپ کا عزم متاثر نہ ہو جو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
    آپ کی ذہنیت آپ کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلیاں لائے گی اور آپ کو دوسرے طلباء کے مقابلے میں نمایاں کرے گی۔ ایک اور انتہائی اہم بات پر یقین کرنا ہے۔آپ کو اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہونا چاہئے اور اپنے آپ کا بہترین ورژن بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ایک بار جب آپ اس ذہنیت میں آجائیں گے تو آپ کو بہت جلد تیز رفتار ترقی کا تجربہ ہوگا ہم سب میں الگ الگ صلاحیتیں ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کا دوسروں سے موازنہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ ہم سب مختلف انداز میں تخلیق کیے گئے ہیں۔

    کامیاب طلباء اپنی صلاحیتوں کا موثر طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ دوسروں کو نقل نہ کرنے کا نقطہ بنائیں۔ اپنا راستہ بنائیں اور اس پر چلنے کے لئے کافی پراعتماد رہیں۔

  • طالب علم شاہ فہد نے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا

    طالب علم شاہ فہد نے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا

    چارسدہ ( ) گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چارسدہ کے شعبہ انگریزی کے طالب علم شاہ فہد نے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا۔

    انہوں نے اپنے بی ایس تھیسز جس کا عنوان "A comparative study of pantheism in William Wordsworth and Mirza Khan Ansari’s poetry”تھا کو انٹرنیشنل جرنل آف پختونخواہ نے شائع کردیا۔

    انہوں نے اس کامیابی کو اپنے اساتذہ کی مرہون منت کا نتیجہ قرار دیا اور اپنے اساتذہ کرام، سپروائزر کا شکریہ ادا کیا۔

    انہوں نے اس کامیابی کو اپنے والدہ کا نام کیا۔

    یاد رہے کہ یہ واحد طالب علم ہے جس کا بی ایس لیول کے ریسرچ تھیسز ایک انٹرنیشنل جرنل نے شائع کیں۔

  • یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز میرٹ پر لگائے ہیں اورسفارشی کلچر کو ختم کیا جارہا ہے۔ گورنر پنجاب

    یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز میرٹ پر لگائے ہیں اورسفارشی کلچر کو ختم کیا جارہا ہے۔ گورنر پنجاب

    فیصل آباد(عثمان صادق)گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا ہے کہ تاریخ میں محلات،بڑے عہدوں اور دولت رکھنے والے نہیں انسانیت کی خدمت کر نیوالے ہی زندہ رہتے ہیں، جذبہ اور محنت ہو تو دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز میرٹ پر لگائے ہیں اور یونیورسٹیز میں سفارشی کلچر کو جڑوں سے ختم کیا جارہا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں وفاقی اور پنجاب حکومت خواتین کو ہر شعبے میں آگے بڑ ھانے کے مواقعے فراہم کر نے کے لئے تمام اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے۔وہ بدھ کے روز گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کے پہلے کانووکیشن سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے جبکہ اس موقع پر چیئر مین اینٹی نارکوٹکس پنجاب حاجی رمضان پرویز،کمشنر زاہد حسین،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ فاروق،کنٹرولر امتحانات پروفیسر رضوانہ تنویر رندھاوا،رجسٹرار یونیورسٹی آصف علی،بانی وائس چانسلر ڈاکٹر ذکر حسین،وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر اقرار حسین سمیت دیگر بھی موجود تھے جبکہ گورنر پنجاب و یونیورسٹی چانسلر چوہدری محمدسرور نے مختلف شعبہ جات میں فارغ الحتصل ہونیوالی طالبات میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر میڈلز بھی تقسیم کئے اور ان کو کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔ تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کے دوران گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ میں سو فیصددعویٰ سے کہتاہوں کسی سفارش کے بغیر میں نے سو فیصد میرٹ پر پنجاب کی مختلف یونیورسٹیز کے 20سے زائد وائس چانسلرزلگائے ہیں اور ہمارا مشن یونیورسٹیز میں ہر سطح پر شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ہے جہاں بھی کوئی غیر قانونی کام ہوگا وہاں سخت ایکشن لیا جائے گا کیونکہ شفافیت اور میرٹ سے ہی ادارے مضبوط ہوتے ہیں یونیورسٹیز میں میرٹ لانے کی وجہ سے آج پنجاب کی یونیورسٹیز کا شمار دنیا کی بہتر ین پانچ سو یونیورسٹیز میں ہورہا ہے۔ گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ میں یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہونیوالی طالبات سے کہنا چاہتاہوں وہ جس بھی شعبے میں جائیں وہاں انسانیت کی خدمت کیلئے اپنے عہدے سے انصاف کریں کیونکہ تاریخ میں صرف انسانیت کی خدمت کر نیوالے ہی زندہ رہتے ہیں مجھے اس بات پر بھی فخر ہے کہ پاکستانی خواتین صرف اپنے ملک ہی نہیں دنیا میں بھی اپنے ملک کانام روشن کر رہی ہیں۔ معاشرے کے تمام طبقات کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے سمیت انکے دیگر حقوق کے لئے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ کسی بھی ملک میں جب تک خواتین مضبوط نہیں ہوتیں وہ ملک بھی مضبوط نہیں ہوتے موجودہ حکومت خواتین کی مضبوط ترقی اور خوشحالی پر یقین رکھتی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ فاروق نے کہا کہ ہم یونیورسٹی میں اعلی اور معیادی تعلیم کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں اور آج گور رنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آبادہائر ایجوکیشن رینکنگ کے مطابق پنجاب میں پہلے اور پاکستان میں دوسرے نمبر پر ہے انشاء اللہ ہم مزید کامیابیوں کیساتھ آگے بڑھیں گے آج یونیورسٹی سے ڈگریاں لینے والی طالبات پر لازم ہے کہ وہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے ساتھ ساتھ خواتین کی مضبوطی اور تعلیم کو عام کر نے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کر یں۔

  • خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے جبکہ فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کو اپنی ممبرز اور تعلیم یافتہ طالبات کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دینی چاہیے۔ یہ بات محترمہ صفورا زینب نے وومن چیمبر کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹنگ اور بزنس پر موشن دو الگ الگ شعبے ہیں اور ہمیں اِن کے فرق کو سمجھتے ہوئے اپنے مطلوبہ سیکٹر پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اِن سے بہترین نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ اِس کے ذریعے آن لائن میسر سہولتوں سے ہی اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی جا سکتی ہے اور اِس مقصد کیلئے جگہ جگہ گھومنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس ذریعہ کے مؤثر استعمال سے ہی مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہر چھ سیکنڈ بعد ایک نیا اکاؤنٹ کھل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شارٹ میسج استعمال کرنے والوں کی تعداد 4.4ارب جبکہ انسٹاگرام کے ایکٹو یوزر کی تعداد 1.7ارب ہے۔ اسی طرح روزانہ 95ملین تصاویر روزانہ اَپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ 53منٹ کے اوسط وقت میں 71فیصدملینلزاور 71فیصد امریکی بزنس مین اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں۔ اس سے قبل وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ انہوں نے کاروباری خواتین کی آگاہی اور نوجوان طالبات کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینے کیلئے ایک جامع پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ بارے بھی آگاہی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے استعمال سے خواتین کواپنے کاروبار کیلئے مردوں کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور وہ تمام کام از خود ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے ہی کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا اور جدید ذریعہ ہے جس سے طالبات کو لازمی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کی آگاہی تقریبات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ آخر میں نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ اس تقریب میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد، حنا خاں، ہما خالد اور دیگر خواتین نے بھی شرکت کی۔

  • لڑکے بھی اسکرٹ پہن کر آئیں، اسپین میں اسکول انتظامیہ کا انوکھا حکم

    لڑکے بھی اسکرٹ پہن کر آئیں، اسپین میں اسکول انتظامیہ کا انوکھا حکم

    اسپین میں اسکول انتظامیہ نے لڑکوں کو بھی لڑکیوں کی طرح اسکرٹ پہن کر آنے کا حکم دے دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسپین میں اسکول انتظامیہ نے لڑکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ لڑکیوں کی طرح اسکرٹ پہن کر کلاس میں آئیں سکول انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی ہدایت کا بنیادی مقصد اس پیغام کو عام کرنا ہے کہ لباس کی کوئی صنف نہیں ہوتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایڈںبرگ کے کیسل ویو پرائمری اسکول نے طلبا و طالبات دونوں کو کلاس میں اسکرٹ پہن کر آنے کو کہا ہے جس کے بعد تمام طلبا نے "ویئر اے اسکرٹ ٹو” اسکول تحریک میں شرکت کی یہ "کلاتھ ہیو نو جینڈر” تحریک کا حصہ ہے یہ تحریک اس وقت شروع ہوئی تھی جب 15 سال کے طالب علم مائیکل گومز کو کلاس میں اسکرٹ پہننے کی وجہ سے اسکول سے نکال دیا گیا تھا یہ تحریک سب سے پہلے ہسپانوی شہر بلباؤ میں شروع ہوئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق کیسل ویو اسکول کے طلبا و طالبات کے ساتھ اساتذہ بھی اسکرٹ پہنے ہوئے دکھائی دیئے اسکول کی خاتون ٹیچرکا کہنا ہے کہ اسکول دقیانوسی خیالات کے خلاف آگے بڑھ رہا ہے ہم نے ویئر اے اسکرٹ ٹو اسکول ڈے کا اہتمام کیا مگر کسی کو اسکرٹ پہننے کے لئے مجبور نہیں کیا۔

    اسکول انتظامیہ کے اس اقدام کی کچھ والدین نے تعریف کی تو کچھ نے اس پر اعتراض بھی ظاہر کیا، کچھ لوگوں نے کہا کہ اس کا تعلیم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، بچوں سے پڑھائی کرائیں، انہیں اس سب میں ملوث نہ کریں۔