Baaghi TV

Category: تعلیم

  • تعلیمی نظام‏ اور ہم: تحرير فیصل رفیع 

    تعلیمی نظام‏ اور ہم: تحرير فیصل رفیع 

    جیسی خطرناک بیماری نے دنیا بھر میں تعلیمی نظام کو بہت حد تک متاثر کیا ہے اگر دیکھا جائے تو دنیا کے تمام شعبہ جات کو اس وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اس موزی بیماری کی روک تھام کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں  تاکہ طلبہ کی تعلیم پر کوئی حرج نہ آئے۔

    اگر کرونا وائرس سے پہلے تعلیمی نظام کو دیکھا جائے تب ہم اپنے لئے تعلیم صرف کتابوں کی حد تک محدود رکھتے تھے۔ ہم روزانہ اپنی یونیورسٹی کالج یا سکول جاتے تھے اور ہمیں جو کتابوں سے رٹا رٹایا سلیبس دیا جاتا تھا ہم وہ یاد کرتے تھے اور اسی کو سمجھتے تھے کہ یہی آئندہ پیپرز  میں بھی آۓ گا۔ اسی امید کے ساتھ ہم لوگ کسی چیز کو انٹرنیٹ کے ذریعے دریافت کرنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ ہمیں پڑھنے کے لئے تمام مواد کتابوں سے بھی دیا جاتا تھا۔

    بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام اس طرح کا ہے کہ کتابوں کا رزلٹ آتا ہے اکثر طلبہ اگر رٹا رٹایا سلیبس نہ لکھیں تو ان کو کم نمبر دیے جاتے ہیں۔

    اگر ہم بات کریں کہ اس کو ‏covid-19 کی وجہ سے ہماری کلاسیں آن لائن پڑھائی جا رہی ہیں تو کیا ہم اس کو مثبت انداز میں استعمال کر رہے ہیں؟

    میرے مشاہدے کے مطابق میرے دوست، احباب میں جو کسی نہ کسی تعلیمی ادارے کا حصہ ہیں انہوں نے اپنے پورے سمسٹر میں اپنی پڑھائی کا آغاز پیپر سے دو دن پہلے شروع کیا کیونکہ وہ پہلے سے جانتے ہیں کہ ہمارے پیپر کا دورانیہ8 گھنٹے ہو گا اور اتنے زیادہ وقت میں ایک بہترین قسم کا پرچہ لکھا جا سکتا ہے اگر ہم انٹرنیٹ اور کتابوں کا اچھے سے استعمال کریں۔

    بہت سے طلبہ ایسے ہیں جو کہ گروپ کی شکل میں اپنے تمام تمام پیپرز حل کرتے ہیں اور جو آپس میں میل جول نہیں کر سکتے وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے آسانی سے اپنے پرچے باہمی مشاورت کے ساتھ حل کر لیتے ہیں۔

    بظاہر اس تمام صورتحال میں اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا رہے  ہیں کیونکہ کہ اس ٹیکنالوجی کا اور اس صورتحال کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

    جہاں پر اتنی زیادہ تنقید کی گئی ہے وہاں پر ہمیں مثبت پہلوؤں کو بھی سامنے لانا ہوگا کمالیہ میں ایک انٹر کی طالبات جو کہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتی ہے اس نے تعلیمی میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے ہے طالبہ نے 1100/1100 نمبر حاصل کر کے آج تک کے تمام تعلیمی ریکارڈ توڑ دیے ہیں. پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں 

     ہے یہ ہم سب اچھے سے جانتے ہیں لیکن ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ہر چیز کا مثبت استعمال کریں۔

    جب ہمارے ہاتھوں میں ڈگری موجود ہوں گی لیکن ہمیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوگا تو وہ نہ صرف ہمارے شرمندگی کا باعث ہوگا بلکہ ہمارے والدین کے لیے بھی ہو گا جنہوں نے ہمیں اتنی محنت کے ساتھ اتنی بھاری فیسیں جمع کروا کر ہماری پڑھائی کو مکمل کیا۔

    جب آئندہ مستقبل میں ہم سے ایسے سوال پوچھا جائے گا تو ہم اس کا جواب دینے کے لائق نہیں ہوں گے۔

    اگر ہم ہم تاریخ کو پڑھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تلوار سے زیادہ طاقت قلم میں ہے لیکن اگر ہمارے آج کے نوجوان میں علم کو حاصل ہی نہیں کیا تو ہم کیسے ایک روشن مستقبل کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔

    تاریخ اسلام میں علم کے حوالے سے اگر کسی کو فوقیت حاصل ہے تو وہ صرف اور صرف ہمارے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کی ذات کو مکمل ضابطہ حیات بنا کر بھیجا گیا ہے۔

    ہماری اسلامی تاریخ کو دیکھا جائے تو حضرت علی کرم اللہ کی ذات علم کے حوالے سے بہترین نمونہ ثابت ہوتی ہے بے شک انہوں نے اپنے تمام دشمنوں کو اپنے علم سے اور تلوار سے شکست دی۔ جب مشرکین مختلف سوالات اسلام کو بنیاد بنا کر لے آتے تھے تب حضرت علی علیہ السلام ان کو اپنے علم سے حیران کردیتے تھے اور اسی علم کی بدولت بہت سے کافر مسلمان ہونے پر مجبور ہو گئے۔

    زیادہ دور نہیں ہم صرف اپنے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال جنھیں شاعر مشرق کا خطاب دیا گیا ان کی زندگی کے پہلو کو دیکھیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف  علم ہی وہ واحد چیز ہے جنہوں نے اایک نئے ملک کا کام شرمندہ تعبیر کیا اگر یہ لوگ اپنے علم اور جدوجہد سے ہم لوگوں کو قائل نہیں کرتے تو ہم کبھی بھی اس آزاد ملک میں سانس نہیں لے پا رہے ہوتے۔

    یہ تحریر لکھنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ہماری تعلیمی معیار اور سوچ کو بدلنا ہوگا ہمیں صرف رٹا رٹایا اور یاد کرنے کی بجائے ان کی چیزوں کی گہرائی پر توجہ دینی ہوگی اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اس کو کیوں پڑھ رہے ہیں؟ اس کا کیا مقصد ہے؟ اس سے ہماری ذات کو کیا کیا فرق پڑ سکتا ہے؟

    جب تک ہم ان تمام سوالات کو اپنے دماغ میں نہیں لائیں گے ہماری پڑھائی بے مقصد ہو گی۔

    تعلیمی نظام کیسا بھی ہو، بے شک ہم جا کر پڑھائی کریں یا پھر آن لائن تعلیم حاصل کریں جب تک ہم تعلیم کے اصل مقصد کو نہیں سمجھیں گے ہم ترقی حاصل نہیں کر پائیں گے۔

  • ساہیوال: کنٹرولر امتحانات کا امیدواروں کو ٹیلی فون کالز پر جواب نہ دینے اورمسائل حل نہ کرنے پر نوٹس

    ساہیوال: کنٹرولر امتحانات کا امیدواروں کو ٹیلی فون کالز پر جواب نہ دینے اورمسائل حل نہ کرنے پر نوٹس

    ساہیوال: کنٹرولر امتحانات پروفیسر شہزاد رفیق نے بورڈ کی برانچز میں امیدواروں کو ٹیلی فون کالز پر موثر جواب نہ دینے اور ان کے مسائل حل نہ کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ دور دراز سے فون کرنے والے امیدواروں کے ٹیلی فون پر ان کی فوری داد رسی کی جائے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہا کہ دیکھنے میں آیا ہے کہ میٹرک اور انٹر برانچوں کے آفیشل نمبرباربار ملانے کے باوجود کوئی جواب نہیں ملتا جس وجہ سے امیدوار مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ برانچ میں متعلقہ آفیسر یا اہلکار کی عدم دستیابی پر مختلف امیدواروں کو کنٹرولر آفس رجوع کرنے کا کہا جاتا ہے جو کہ دفتری اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے میٹرک اور انٹر برانچز کے افسران اور سپرنٹنڈنٹس کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ امیدواروں کو درپیش مسائل فوری حل کریں۔

    انہوں نے میٹرک اور انٹر برانچز کے افسران کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اپنے موبائل آن رکھیں اور ٹیلی فون کالز سننے کے لئے فرض شناس اہلکار تعینات کریں۔

  • یکسان نظام تعلیم تحریر: نعمان سرور

    یکسان نظام تعلیم تحریر: نعمان سرور

    پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں یکساں نصاب تعلیم رائج کرنے کا جو وعدہ
    کیا تھا حالیہ دنوں میں پورا کر دکھایا۔ ہم نے دیکھا جب سے یکساں نصاب کی
    بات ہوئی ساتھ ہی اس پر بہت زیادہ تنقید بھی کی گئی آخر ایسا کیوں ہے۔۔؟؟

    ایک قوم اور ایک نصاب وقت کی ضرورت ہے وہ قومیں  کبھی ترقی کر رہی نہیں
    سکتیں جو طبقاتی نظام میں الجھی رہتی ہیں جہاں غریب کے بچے کی تعلیم کا
    نظام الگ اور امیر کے بجے کا الگ اصل خرابی کی جڑ یہی ہمارا نظام تعلیم
    ہے جو کہ تین حصوں میں بٹ کر رہ گیا ہے۔

     پہلا پرائیویٹ اسکول بہترین انگریزی تعلیم دینے کے ساتھ منہ مانگی فیسیں
    لیتے ہیں  بے تحاشہ اخراجات جو کہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے ہیں بلکہ
    یوں کہہ لیں ان کے لئے ہے جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں۔
    دوئم سرکاری اسکول جہاں ہمارا مڈل کلاس طبقہ تعلیم کے زیور سے آراستہ
    ہوتا اور سوئم  ہمارے مدارس جہاں غریب ترین طبقے کے بچے زیر تعلیم ہیں۔

    سرکاری اسکولوں کی بات کریں تو یہاں اخراجات زیادہ نہیں پر سہولیات کا
    فقدان ہے۔استادوں کی حاضری بھی نہ ہونے کے برابر،بوسیدہ عمارتیں اسٹاف کی
    بات کریں وہ بھی آٹے میں نمک کے برابر۔ دیہاتی اور شہری سرکاری اسکولوں
    کا حال کیا لکھوں ہمارے ہی گاؤں کی مثال لے لیں دیہات سے اٹھ کر جب بچے
    شہر میں مزید تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں تو نصاب کی وجہ سے بہت سی مشکلات
    کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے بچے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں احساس
    کمتری کا شکار ہوتے ہیں اکثر تو تعلیم کو ہی خیر باد کر دیتے ہیں۔

    افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے بچے انگریزی کی طرف تو راغب ہو جاتے
    ہیں مگر اپنی قومی زبان پڑھنے سے کتراتے ہیں پانچویں جماعت کے بچوں سے
    اردو کی کتاب پڑھوا لیں وہ پڑھ ہی نہیں سکیں گے یہ ہی حال ڈگری یافتہ
    نوجوانوں کا ہے ایک معیاری درخواست بھی اردو میں نہیں لکھ سکتے ہیں۔
    تعلیم کا حصول ہمارے بچوں کے نزدیک ڈگری اور بس اچھی نوکری کی حد تک رہ
    گیا ہے۔

     یکساں نصاب نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے بچے بنیادی تعلیم حاصل کرنے میں بہت
    پیچھے رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے میرٹ پر یونیورسٹی میں داخلہ اسکالرشپ سے
    لے کر اچھی نوکری حاصل کرنے میں انہیں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا
    ہے۔اور جب الیکشن کا وقت آتا ہے تو ہمارے سیاستدانوں کو نوجوان طبقے کے
    حقوق کا خیال آتا ہے کوٹہ سسٹم متعارف کروا دیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ کم
    تعلیمی قابلیت کے حامل افراد قابلیت کے حامل افراد کے برابر آ کر کھڑے
    ہوتے ہیں اور بڑے عہدوں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جن سے اداروں
    کا توازن بگڑتا ہے اور ان کی تباہی ہوتی ہے۔

     ہمارے یہاں  تعلیم جب سے کاروبار  بنی ہے تب سے تعلیم  کا معیار  گر گیا
    ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب  نے ایک تقریب میں کہا کہ،” میری
    شروع ہی سے یہ سوچ تھی کہ پاکستان میں یکساں تعلیمی نظام ہو میں جب اس پر
    بات کرتا تھا لوگ مجھے کہتے یہ تو ناممکن ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا اسکی وجہ
    اقتدار میں بیٹھے لوگ جنھوں نے فیصلے کرنے تھے انکے بچے اعلئ تعلیمی
    اداروں میں انگریزی میڈیم میں پڑھتے تھے آگے انکے لئے نوکریوں کے انبار
    تھے انکا کہنا تھا کہ آپ دنیا کے کسی بھی ملک میں چلے جائیں وہاں ایک
    کریکولم ہوتا ہے اور ہمارے ملک میں تین الگ الگ قسم کے کریکولم  جس کی
    وجہ سے سب کے  سوچنے کا انداز مختلف ان کا کلچر مختلف یعنی کے ہمارے ملک
    کے اندر ہی تین مختلف قسم کی قومیں بن رہی تھیں میرا یہ ویژن تھا جب بھی
    مجھے موقع ملا میں ملک میں ایک کریکولم لے کر آؤں گا تاکہ ہم ایک قوم
    بنیں ایک سوچ بنیں مجھے اندازہ تھا یہ کام بہت مشکل ہے کیوں کہ جب الیٹ
    کلاس ایک سسٹم  سے فائدہ اٹھاتی ہے تو پھر وہ کبھی اسکو تبدیل نہیں ہونے
    دے سکتی اور یہ تبدیلی ہمارا پہلا قدم ہے”۔

    ہماری قوم تبدیلی کی تو خواہشمند ہے مگر خود تبدیل ہونے کو تیار نہیں
    وزیراعظم عمران خان صاحب نے جس بھی شعبے میں اصلاحات لانے کی کوشش کی
    لوگوں نے اسے تسلیم کرنے سے ہی انکار کیا ہے وزیراعظم عمران خان صاحب نے
    تعلیم کے نظام میں اصلاحات لانے کی کوشش کی تو انگریزی میڈیم والوں نے
    رونا دھونا ڈال دیا اس موقع کا فائدہ اٹھانے میں ہمارے لبرل بریگیئڈ کہاں
    پیچھے رہنے تھے یہ لنڈے کے لبرل ہمیشہ ہر مثبت اور انقلابی قدم کی نہایت
    ڈھٹائی سے  مخالفت کرتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو پاکستان کو ترقی کرتا
    نہیں دیکھ سکتے۔ یہ ہی حال سندھ حکومت کا ہے اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے
    حکومت کے ہاتھ بندھے ہوۓ ہیں۔

    اس وقت صوبہ سندھ کے علاؤہ حکومت نے  ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم رائج
    کر دیا ہے پہلے مرحلے پر پرائمری تک یکساں نصاب تعلیم ہوگا ، اس کے بعد
    اگلے مراحل طے ہوں گے۔ تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں اب ایک
    جیسی نصابی کتب پڑھائی جائیں گی۔ یہ ایک انتہائی اہم اقدام ہے بس اب
    عملدرآمد کے ساتھ  اس کے سامنے رکاوٹیں ڈالنے والوں سے بہتر انداز میں
    نمٹنے کی ضرورت ہے انشاء اللہ اس اقدام سے نظام تعلیم میں

     بہتری کے ساتھ تمام بچوں کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملیں گے۔

    اب دو نہیں ایک پاکستان

    شکریہ وزیراعظم عمران خان صاحب۔

    ٹویٹر اکاؤنٹ

    @Nomysahir

  • تعلیمی انقلاب یا تعلیمی بحران؟ خودکشی کرنے والے پنجاب بورڈز کے دو سٹوڈنٹس کا معصومانہ سوال تحریر ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    پنجاب میں تعلیمی انقلاب نہیں تعلیمی بحران آنے کو تیار ہے، دو سٹوڈنٹس پنجاب بورڈز کی نااہلی کی وجہ سے ایک بہتر مستقبل کا خواب آنکھوں میں سجائے آنکھیں بند کر گئے، ہزاروں اس سوچ میں ہیں کہ اگر بورڈ نے ہاتھ نہ پکڑا تو شائد وہ زندگی سے ہاتھ دھونے پر مجبور ہوجائیں، اس ساری صورتحال میں بورڈ حکام خاموشی کی نیند سے بیدار ہونے کو تیار نہیں، اگر ہزار کوشش کے بعد بات کا موقع مل بھی جائے تو یہ کہ کر معاملہ ختم کیا جارہا ہے بورڈز کی جانب سے بہترین نتائج دینے کی کوشش کی گئی ہے لیکن چیکر کی جانب سے دئیے گئے مارکس کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا، اب کون نہیں جانتا کہ ان بورڈز میں چیکر کس طرح 18 روپے فی پیپر کی گیم میں زیادہ سے زیادہ پیسے بنانے کی ریس میں کس طرح اپنے ہاتھوں سے بچوں کے مستقل کو کچلتے ہوئے پیسہ بناتے ہیں اور اس بار تو 5 فیصد اضافی نمبرز کا فارمولہ، صرف تین سائنسی سبجیکٹس اور باقی فارمولہ کی بنیاد پر مارکس کی بے دریغ تقسیم یعنی بہتی گنگا میں بڑے بڑے تعلیمی اداروں کی خوب ڈبکیاں لگوائی گئیں، جس کو دیا گیا چھپڑ پھاڑ کر کہ ایک ہی سکول ایک ہی کلاس کے 30 بچوں کے 1100 میں سے 1100 آگئے لیکن دوسری جانب میٹرک میں 90 فیصد سے زائد نمبرز لینے والوں کو جیسے کہیں کا نہ چھوڑا گیا کوئی 40 فیصد کوئی 42 فیصد پر آگرا، اب معاملہ کچھ یوں ہے کہ سال تو ضائع ہو ہی گیا لیکن جوا شروع کر دیا گیا یعنی آفر کچھ یوں دی گئی کہ اگر آپ کو بورڈ کی جانب سے دئیے گئے نمبرز پسند نہیں تو آپ ایک حلف نامہ جمع کروائیں اور بورڈ حکام کے نام درخواست دیں جس میں آپ یہ تحریر کریں کہ موجودہ نتائج غیر تسلی بخش ہونے کی وجہ سے میں یہ نتیجہ قبول نہیں کرنا چاہتا اس لیے اسے کینسل کرتے ہوئے مجھے دوبارہ نومبر میں ہونے والی حکومت کی خصوصی مہربانی کی بدولت سپیشل امتحانات میں بیٹھنے کا موقع دیا جائے یہاں تک سب بظاہر ٹھیک ہوتا ہے لیکن معاملہ کچھ یوں ہے کہ اگر آپ نومبر میں بھی بورڈ چیکرز کی نااہلی کا نشانہ بن گئے تو واپسی کا راستہ نہیں ہوگا، ہاں یہ ضرور ہے کہ آپ کو آئندہ سال امپروومنٹ کا چانس ملے گا لیکن ممکنہ طور پر کتابیں بھی 12 ہونگی اور سلیبس بھی پورا۔۔۔ اب معاملہ یہ ہے کہ میٹرک میں 94 فیصد والوں کو جب 39 فیصد کی خبر ملی تو ان کی جانب سے جینے کی امید چھوڑ دی گئی باقی دوسری جانب ایسے خوش نصیبوں کی تعداد بھی تھوڑی نہیں جن کو میٹرک کے تھوڑے نمبرز کے باوجود انٹر میں ٹاپ پوزیشنز سے نواز دیا گیا، اب صورتحال کچھ یوں بن چکی کہ بظاہر خوش نظر آنے والے ٹاپرز بھی اندر سے پریشان ہیں ان کو لگتا ہے کہ اگر بورڈ کی جانب سے کوئی انکوائری ہو گئی تو خوشیاں واپس جانے کے امکانات ہیں، بورڈ حکام سے امید تھی کہ انٹر کے بعد میٹرک میں وہی کارنامے سرانجام دینے کا عمل دہرایا نہیں جائے گا لیکن میٹرک میں تو ریکارڈز ہی توڑ ڈالے گئے مارکس کی بندر بانٹ بالکل اسی طرز پر ہوئی یعنی ایک مخصوص سوچ کو نواز دیا گیا اور باقیوں کو کوڑیوں سے داموں بیچ دیا گیا، موجودہ صورتحال میں تبدیلی سرکار کے بلندوبانگ دعوے پھیکے پڑتے نظر آتے ہیں تعلیم کے میدان میں انقلاب برپا کرنے کی دعویدار بزدار سرکار اس ساری صورتحال میں بھنگ کے نشے میں چور دکھائی دیتی ہے مریم نواز کے فیصل آباد جلسے پر تبصرے کرنے کے لیے تمام حکومتی وزرا کی فوج تیاری کے ساتھ پریس کانفرنس، ٹاک شوز میں تقاریر جھاڑتی نظر آتی ہے سوشل میڈیا پر ہر دو منٹ بعد ایک نیا فلسفہ متعارف کرواتے ہوئے نیا بیان بھی داغ دیا جاتا ہے لیکن قوم کے مستقبل پر بات کرنے کو بظاہر کوئی تیار نظر نہیں آتا، حکومت کی مجرمانہ خاموشی کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ لاکھوں سٹوڈنٹس ایک بار پھر سڑکوں پر ہونگے لاکھوں سٹوڈنٹس ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وزیراعظم کو مدد کی اپیل کرتے نظر آئیں گے لاکھوں سٹوڈنٹس ایک بار پھر احتجاج، دھرنے اور پولیس کی لاٹھیوں کا نشانہ بنتے نظر آئیں گے اس کے بعد کہیں جاکر پنجاب حکومت شائد کوئی کمیشن کوئی انکوائری کمیٹی بنا دے اور ایک نیا لولی پاپ بچوں کو تھما دیا جائے، کیا ہی اچھا ہو کہ وزیراعظم عمران پنجاب میں اپنے وسیم اکرم یعنی بزدار صاحب کو معاملے کی انکوائری کی ہدایات کریں اور دونوں لاڈلے وزرائے تعلیم مراد راس اور ہمایوں سرفراز کی سربراہی میں ایک ٹیم بنا دی جائے جس میں ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران خصوصا ڈپٹی سیکرٹری بورڈز اور پی بی سی سی کے دیگر عہدیداروں کو حصہ بنا کر ایک انکوائری کر لی جائے جس میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا یہ نہ ہوا تو بورڈز کے ان نتائج کے اثرات دورس ہونگے اور اثرات صرف کم مارکس والے بچوں کی نہیں فل مارکس والے بچوں کی زندگیوں پر بھی اثر انداز ہونگے اور سب سے بڑھ کر پنجاب بورڈز کی ساکھ بھی شدید متاثر ہوگی اب فیصلہ حکومت کے ہاتھوں میں ہے

  • عملی زندگی میں کامیابی کے لیے صرف نمبرات کافی نہیں! تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    نمبرات کی دوڑ ہمیں جس طرف لے جا رہی ہے وہاں سامنے اندھا کنواں ہے اور سسٹم اس قابل نہیں کہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لا سکے۔ اور یہ چیز آنے والی عملی زندگی میں طلباء کو محسوس ہوگی جب انکو عملی طور پر کام کرنا ہوگا مگر وہ اپنی صلاحیت کی پہچان نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات میں پھنس جائیں گے۔ اور اسکے نتائج نظر آنا شروع بھی ہوگئے ہیں کیوں کہ حالیہ میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ میں بہت سے نمبروں کے سلطان ڈھیر ہوگئے کیوں کہ انکے پاس ایک محدود حد تک رٹہ تھا جو صرف نمبر لا سکا مگر عملی طور پر وہ کچھ بھی نہ سیکھ سکے اور جب ٹیسٹ میں تصوراتی بنا پر سوال کیے گئے تو جواب دینے سے قاصر رہے، اور یہی چیز پھر آگے چل کے اُنکو عملی زندگی میں مشکل میں ڈال دیتی ہے اور پھر طلباء ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ بطور یونیورسٹی اسٹوڈنٹ میں اس چیز کو محسوس کر رہا ہوں  کیوں کہ نمبر میرے بھی اپنے وقت میں بہت اچھے تھے میں بھی بہت خوش تھا اور ہر طرف نمبروں کا ہی چرچا تھا اور یہی چیز اب بھی ہے نمبر ہم پر نفسیاتی طور پر اس قدر حاوی ہیں کہ ہم انہی کی خاطر دوڑ میں لگے ہیں اس میں بچوں کا کوئی قصور نہیں کیوں والدین ، اساتذہ اور رشتے دار یہ بچوں کی ذہن سازی ہی ایسی کر رہے ہیں کہ وہ پھر سب چیزیں بھول کر صرف اچھا اسکور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس اسکور میں رٹہ ہوتا ہے جو صرف مخصوص وقت تک رہتا ہے۔ میں خود سائنس کا طالب علم ہوں اور ابھی یونیورسٹی سطح پر ہوں اور با خوبی سمجھ چکا ہوں کہ میں نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے پایا تو خیر کچھ نہیں مگر اب کوشش میں لگے ہیں کہ کچھ حاصل ہو جائے۔ میری عزیز طلباء سے یہی گزارش ہے کہ بس کوشش کریں کہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کریں اپنے تصوارت اور مشاہدات کو وسیع کرتے جائیں اگر ابھی سے آپ ایسا کریں گے تو جب آگے جائیں گے تو خود کو جلد کامیابی کی طرف لے جا سکتے ہیں اور جب آپ یونیورسٹی میں آئیں گے تو آپکو آسانی ہوگی۔ آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے اور لوگ ڈیجیٹل زون کی طرف بڑھ رہے ہیں اور پیسہ بھی اسی طریقے سے کمانے کی کوشش میں ہیں۔ اب تو حکومتی سطح پر بھی ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جہاں انٹرنیٹ کے ذریعے آنلائن پیسے کمانے کی طرف رجحان کو بڑھایا جا سکے۔ یونیورسٹی سطح پر پہنچ کر کم سے کم ایک طالب علم کو یہ احساس ضرور ہونا ضروری ہے کہ وہ اب عملی زندگی میں داخل ہو چکا ہے اور آنے والے وقت میں اس نے بہت سے زمہ داریاں اٹھانی ہیں اور ایسے ایک طالب علم کو اپنی سکلز کو کو بڑھانے کے بہت ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ خود کو مالی طور پر خود کفیل بھی بناتا جائے۔ کیوں کہ یونیورسٹی سے آپکی عملی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ اور یہاں آپکو صرف گائیڈ کیا جائے گا آپ پر اسکول اور کالج کی طرح سختی نہیں ہوتی یہاں وہی چل سکتا ہے جس کو سیکھنے کا شوق ہوگا۔ وہ طالب علم جو یونیورسٹی کی سطح پر خود کو تیار کرنا شروع کر دیتا ہے اور حالت کے تقاضے سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کو ترتیب دیتا ہے وہ جب اپنی تعلیم سے فراغت حاصل کرتا ہے تو پھر معاشرہ اسے خوش آمدید کہتا ہے اس کے پاس حالت سے نپٹنے کی سکت زیادہ ہوتی ہے ، اور دوسری اہم چیز اُسکے تصورات اور مشاہدات اس قدر وسیع ہو چُکے ہوتے ہیں کہ موجودہ صورت حال کے مطابق تمام مسائل کے حل نکال کر لے آتا ہے۔ اسلئے بطور یونیورسٹی طالب علم میں اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنا پر آپ سے یہ سب کہہ رہا ہوں اس پر غور لازمی کیجئے گا میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جب آپ یونیورسٹی میں جائیں گے تو آپ ان سب چیزوں کو ہوتا دیکھیں گے۔ اسلیے میں اسے اپنا فرض سمجھتا تھا کہ آپ کو ایک اچھا مشورہ دوں اور آپکو اپنے مستقبل کے حوالے سے کچھ آگاہی بھی ہو جائے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آپکی دعاؤں کا طالب

    TA: @AhtzazGillani

  • اسلامی جمعیت طلبہ کا چارسدہ کالج میں سیکنڈ شفٹ شروع کرنے کا مطالبہ

    چارسدہ ( ) اسلامی جمعیت طلبہ نے چارسدہ کالج میں سیکنڈ شفٹ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اس ضمن میں اسلامی جمعیت طلبہ علاقہ کالجز کے ناظم محمد اشفاق نے اپنے ایک اخباری بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چارسدہ کالج میں گیارہویں اور بی ایس کلاسز میں فی الفور سیکنڈ شفٹ شروع کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ چارسدہ کالج میں بی ایس کے کل 600 سیٹس ہے جس کیلئے امسال 5 ہزار کے قریب آن لائن اپلائی ہوئی ہیں، جبکہ اسی طرح انٹرمیڈیٹ کے بھی 200 سیٹوں کیلئے ہزاروں کی تعداد میں طلباء نے اپلائی کیا ہے۔ جبکہ کالج میں طلباء کے لئے محدود سٹیں ہونے کے وجہ زیادہ تر طلباء داخلے سے رہ جاتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے ادوار میں سابق پرنسپل پروفیسر عبدالجبار نے کالج میں سیکنڈ شفٹ کے ساتھ ساتھ کالج میں طلباء کے لئے محتص انٹرمیڈیٹ و بی ایس سیٹوں میں اضافہ کیا تھا لیکن موجودہ پرنسپل نے آتے ہی وہ اضافہ ختم کیا جس سے طلباء بہت متاثر ہوئے۔

    انہوں نے کہا کہ محکمہ اعلی تعلیم نے صوبے کے 6 کالجز میں سیکنڈ شفٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں چارسدہ سے کوئی بھی کالج شامل نہیں ہے، جبکہ چارسدہ کی کل آبادی 16 لاکھ کی قریب ہے۔ جبکہ امسال 17 ہزار طلباء نے چارسدہ کے محتلف سرکاری ونجی سکولوں سے میٹرک کے امتحانات دئیے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ چارسدہ کالج چونکہ چارسدہ کی واحد بڑا اور پوسٹ گریجویٹ کالج ہے جس میں چارسدہ کے مضافات سے متوسط طبقے کے طلباء و طالبات داخلہ لینے کے متلاشی ہوتے ہیں جبکہ سیٹوں میں کمی کے باعث زیادہ تر طلباء کو داخلے نہیں ملتے جس کے وجہ سے وہ آگے اعلی تعلیم حاصل نہیں کرسکتے اور مزید تعلیم حاصل کرنا چھوڑتے ہیں۔

  • تعلیم یافتہ اور ڈگری یافتہ تحریر:شمسہ بتول

    ہم نے بہت بار یہ جملہ سنا کہ عالم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے ۔ ایک پڑھا لکھا شخص اور ایک ان پڑھ شخص میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ہم اس بات کو مکمل طور پہ آج تک سمجھ نہیں پاۓ۔ ہم نے اس بات کا الٹا مطلب لے لیا کہ جو ان پڑھ ہو گا وہ جاہل ہو گا اور جس کے پاس ڈگری ہو گی وہ عالم ہو گا مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ہو ان پڑھ اور جاہل میں بھی فرق ہوتا ہے سب ان پڑھ جاہل نہیں ہوتے اور سب پڑھے لکھے عالم نہیں ہوتے ۔ 

    کیا وجہ ہے کہ اتنے ہاٸی سٹینڈرڈ کے سکول اور کالجز اور یونیورسیٹیز میں پڑھنے کہ باوجود بھی ہمارے بچوں اور نوجوان نسل میں اخلاقیات کی کمی ہے کیا ۔ کیا وجہ ہے کہ نوجوان نسل بڑوں کا ادب اور اپنی اقدار اور روایات کو بھلا رہی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ اتنی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی وہ دین سے دور ہیں اور اسلامی روایات کو بھلا بیٹھیں ہیں؟ جبکہ ہماے آباٶاجداد نہ تو بڑے اداروں سے پڑھے اور نہ ہی زیادہ تعلیم یافتہ تھے مشکل سے کوٸی میٹرک یا ایف اے پاس ہوتا تھا مگر با ادب اور اعلی اخلاقیات انکا شیوہ تھیں اور اسلامی روایات کو بہت خوبصورتی سے لے کر چلتے رہے کیونکہ اس وقت کا تعلیمی نظام رٹا سسٹم یا GPA کی دوڑ پہ مبنی نہیں تھا بلکہ علم کے حصول پہ مبنی تھا والدین اور اساتذہ مل کر بچوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت کرتے تھے ۔ مختصر کہا جاۓ اگر تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہم نے

     ہم نے اعلی تعلیم یافتہ جاہل بھی دیکھے اور کم تعلیم یافتہ عالم بھی دیکھے ”

    علم کی تعریف یہ نہیں ہے کہ تمہارے پاس ڈگریاں ہوں بلکہ علم کا مطلب تو یہ ہے کہ تم صحیح اور غلط اور حق و باطل میں اور جاٸز و ناجاٸز میں فرق کر سکو۔

    ہمارے نوجوان نسل جو یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہو رہی ہے اگر ہم جاٸزہ لیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ان کے پاس اسناد تو ہیں مگر علم کی کمی ہے۔ ان میں اخلاقیات او تہذیب اور ادب و آداب کی کمی ہے کیونکہ ہمارا تعلیمی نظام اس قدر تباہ ہو چکا ہے کہ ہم نے بچوں کو مارکس اور رٹا سسٹم پہ لگا دیا ہم نے انہیں شعور نہیں دیا ہم نے انکی تربیت نہیں کی اخلاقیات نہیں سکھاٸی ۔

    اور جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل تباہی کی طرف جا رہی ۔ ڈگری تو صرف ایک رسید ہوتی کہ آپ نے تعلیم حاصل کی مگر آپ کے علم و قابلیت کا پتہ تو آپ کی اخلاقیات و اقدار سے پتہ چلتا

    جس کا ہمارے ہاں بہت زیادہ فقدان ہے اور اس کا ذمہ دار کہیں نہ کہیں ہمارا تعلیمی نظام بھی ہے

    مثال کے طور پہ ہم نے اکثر یہ دیکھا ہو گا کہ کالجز یونیورسیٹیز کے سٹوڈنٹس اپنے ہی کالجز اور یونیورسیٹیز میں کچرا جہاں چاہا پھینک دیا کلاس روم میں کچرا پھیلا دیا کہ صفاٸی تو خاکروب کا کام ہے۔ تو ایسے تعلیم یافتہ او جاہل میں کیا فرق باقی رہ گیاہم تو یہاں پڑھنے آتے یہ کونسی تعلیم دی ہم نے انہیں  جو ان میں اتنا شعور بھی نہ پیدا کر سکی کہ وطنِ عزیز کا ہر ایک کونہ ہمارا گھر ہے اور بحیثیت پاکستانی ہم اس گھر کے فرد ہیں اور ہمیں اسکی تزٸین و آراٸش کا خیال رکھنا ہے تو ایسے تعلیم یافتہ ات جاہل میں کیا فرق باقی رہ گیا۔

    مختصر یہ کہ ہمارے ہاں پڑھے لکھے لوگ  کچرا پھینکتے اور پراٸمری یا مڈل پاس وہ کچرا اٹھاتا تو سوال یہ ہے کہ واقع ہی ہم اپنی درسگاہوں میں علم کی روشنی پھیلا رہے شعور اجاگر کر رہے یا صرف ڈگریاں بانٹ رہے؟

    ہمارے سیاستدان جو آکسفورڈ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں لیکن انکے علم کا پتہ انکی الزام تراشیوں اور اخلاقیات سے چلتا۔ محض چند سیٹوں کے لیے ایک دوسرے کو گالیاں دینا یا کردار کشی کرنا تعلیم یافتہ ہونے کی نشانی نہیں بلکہ جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ تعلیم  حاصل کرنے کے بعد بھی کرپشن رشوت بدعنوانی سفارش اور گالم گلوچ کا کلچر  یہ سب علم کی توہین کے زمرے میں آتا

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام کو ٹھیک کریں اور والدین اور اساتذہ مل کر ایک تربیت یافتہ نسل تیار کریں ۔ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہی مگر افسوس کہ ہم نے اسے GPA اور گریڈ تک محدود کر دیا اور اس میں اداروں کے ساتھ ساتھ ہمارے اساتذہ اور والدین بھی شامل ہیں ۔ ہر سال ہمارے ہاں اتنی وافر مقدار سے سٹوڈنٹس کالجز اور یونیورسیٹیز میں ٹاپ کر رہے مگر عملی زندگی میں کوٸی بھی اس ملکی ترقی کے لیے کچھ نہیں کر پا رہا کیونکہ ہم نے انہیں رٹا سسٹم سکھایا انہیں حقیقی معنوں میں تعلیم و شعور  نہیں دیا ۔ یونیورسیٹیز کو GPA کی فیکٹریاں بنانے کی بجاۓ اصل معنوں میں علم و شعور کی درسگاہیں بناٸیں تا کہ مستقبل میں ہماری نوجوان نسل اس قوم کی ترقی کا باعث بنے نہ کہ شرمندگی کا۔

    "خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے”

    اس لیے رٹا سسٹم کی بجاۓ بچوں کو عملی طور پر تعلیم سے روشناس کراٸیں کیونکہ ڈگری صرف یہ بتاۓ گی کہ آپ نے یہ پڑھا ہے مگر آپکا عمل اور کردار اور آپکی اخلاقیات بتاٸیں گی کہ آپ واقع ہی اہل علم ہیں۔

    @sbwords7

  • سائنس کی تعلیم دینے کے لیے ملک کا پہلا انٹر ایکٹیوسائنس سینٹر

    سائنس کی تعلیم دینے کے لیے ملک کا پہلا انٹر ایکٹیوسائنس سینٹر

    کراچی: سائنس کی تعلیم دینے کے لیے ملک کا پہلا سائنس سینٹر داؤد فاؤنڈیشن کی جانب سے قائم کیا گیا ہے جسے دی میگنفی سائنس سینٹر کا نام دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی "ہم نیوز” کے مطابق تین منزلوں پر مشتمل اس سینٹر کو مختلف سائنسی موضوعات کے لیے وقف کیا گیا ہے جن میں انسانی جسم، آواز، روشنی، فریب نظر، نقل و حمل اور قابل تجدید توانائی سمیت قوت و حرکت جیسے سائنسی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

    اس سینٹر میں طلبا و طالبات انتہائی دلچسپ طریقے سے نہ صرف انسانی اعضا کے بارے میں جان سکتے ہیں بلکہ عملی طور پر تجربات کرکے بھی دیکھ سکتے ہیں سینٹر کا ہدف سائنسی تصورات اور اصولوں کو بہتر انداز میں سمجھا کر سائنس کو مقبول بنانا اور سینٹر آنے والوں میں تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت بڑھانا ہے۔

    اس میں تمر یعنی میگروز کے جنگلات کے ماحولیاتی نظام کو بھی سینٹر کا حصہ بنایا گیا ہے صرف یہی نہیں بلکہ مختلف کھیلوں کی سرگرمیاں بھی سینٹر کا حصہ ہیں جن سے صرف بچے ہی محظوظ نہیں ہوں گے بلکہ بڑے بھی اپنا اچھا وقت گزار سکیں گے۔

    میگنفی سائنس سینٹر میں کراچی محلہ بھی بنایا گیا ہے اس محلے میں انتہائی دلچسپی کا پہلو پوشیدہ ہے کھیل کھیل میں کراچی کا عکس دیکھنے کو بھی مل جاتا ہے۔

    طلبہ کو ابتدائی طبی امداد کے حوالے سے آگہی دینے کے لیے ایک ایمبولنس کا ماڈل بھی یہاں رکھا گیا ہے۔ انسانی دل بھی ڈسپلے کیا گیا ہے جس میں برقی آلات کی مدد سے جان ڈالی گئی ہے اس وجہ سے وہاں آنے والوں کو دل دھڑکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

    ریلوے روڈ پر قائم یہ عمارت رلی برادرز کی تھی جسے 1888 میں قائم کیا گیا تھا۔ برطانوی راج میں یہاں ویئر ہاؤس موجود تھا داؤد فاؤنڈیشن نے 1969 میں یہ عمارت خریدی جسے 1974 میں ایشین کوآپریشن بینک کو منتقل کردیا گیا لیکن داؤد فاؤنڈیشن نے 1976 میں عمارت دوبارہ خرید لی۔

    داؤد فاؤنڈیشن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سبرینا داؤد نے یقین ظاہر کیا ہے کہ میگنفی سائنس سینٹر ملک میں سائنس کی تعلیم کو سب تک پہنچانے، اسے بہتر بنانے اور نئی نسل میں سائنس کی جستجو بڑھانے میں معاون و مددگارثابت ہوگا۔

    سائنس سینٹر کی تقریب رونمائی سے قبل ہی اس کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر سائنس سینٹر میں داخلے کی فیس 8 سو روپے مقرر کی گئی ہے۔

  • ایک قوم ایک نصاب اور طبقاتی نظام تعلیم

    ایک قوم ایک نصاب اور طبقاتی نظام تعلیم

    تحریر: رضی طاہر

    کہتے ہیں سیاست دان ایسے اقدامات کرتے ہیں جن کے بارے میں انہیں علم ہوتا ہے کہ ان کاموں کے نتائج انہیں اگلے انتخابات میں ملیں گے لیکن قائدین کی نظر اگلے انتخابات پر نہیں بلکہ اگلی نسل پر ہوتی ہے، وہ ایسے اقدامات کرتے ہیں جس کے پھل سے نسلیں سیراب ہوتی ہیں، ایک قوم ایک نصاب کے اقدام کی بھی مثال ایسی ہی ہے، ممکن ہے کہ ابھی اگلے چند سالوں میں اس کے نتائج سامنے نہیں آئیں گے لیکن اگلے دو عشروں میں ایک نئی نسل جب سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں مختلف بجٹ کے ساتھ ایک جیسا نصاب پڑھ کر کسی مقابلے کے امتحان میں جائے گی تو کوئی امیر و غریب، انگلش و اردو میڈیم کی تفریق کے بغیر قوم کے نوجوان بیٹھے ہوں گے۔ یقینا اس کے نتائج تب سامنے آئیں گے، دیہاتوں میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ غریب کا لڑکا نمبردار نہیں بن سکتا لیکن ایک قوم ایک نصاب دراصل انہی نمبرداریوں کو ختم کرنے کی جانب بارش کا پہلا قطرہ ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تیسرے سال کو مکمل کرچکی ہے ایسے میں حکومت کی جانب سے عوام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات میں سب سے بڑا قدم ہمارے مستقبل کے معماروں کو ایک نصاب پڑھانا ہے، حکومت کی جانب سے اس کے اعلان کے بعد اشرافیہ میں کھلبلی سے مچ گئی ہے اور تعلیمی اداروں کے نام پر بڑے کاروباری مراکز کے مالکان نے عدالتوں کے چکر کاٹنا شروع کردیئے ہیں، وہ اپنی دوکانداریاں اور نمبرداریاں ختم کرنے کیلئے یہ چاہتے ہیں کہ عدالت آئین کے متصادم فیصلہ دے، لیکن ایسا ممکن نہ ہوگا۔ پاکستان کا آئین ملک کے ہربچے کو تعلیم کا حق دینے کے ساتھ ساتھ مساوات کا بھی درس دیتا دکھائی دیتا ہے اور مستقبل کے تحفظ کی ضمانت بھی ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک پاکستان کے ایوان میں کسی نوجوان کی جگہ نہیں تھی لیکن گزشتہ انتخابات نے کئی بڑے بڑے برج الٹادیئے اور ان کی جگہ نوجوانوں نے لی، اب ایک وقت ایسا آئے گا کہ کسی دیہاڑی دار مزدور کا باصلاحیت بچہ بھی اسسٹنٹ کمشنر بن سکے گا، مقابلے کے امتحان میں بازی لے گا اور سول سروسز میں ایمانداری کو زیور بناتے ہوئے اپنی جگہ بنائے گا۔

    ایک قوم ایک نصاب کا آغاز دراصل وزیراعظم عمران خان کے انتخابی مہم میں لگائے گئے نعرے کی تکمیل کی جانب بڑا قدم ہے، مینار پاکستان کے سائے تلے دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگا تھا، اب وہ وقت دور نہیں کہ جب یقینا نمبردار کے بیٹے کے مقابلے میں کئی نمبردار مقابلے میں تیار ہوں گے۔ایک قوم ایک نصاب طبقاتی تقسیم کے بت کو پاش پاش کردے گا، پاکستان میں ہمیشہ سے ایسے نہیں تھا، لیکن جب سے ہم نے اکیسیویں صدی میں قدم رکھا، پاکستان میں تعلیم کے ساتھ تجارت نتھی ہوگئی اس وقت سے طبقاتی فرق نے جنم لیا، جب تعلیم کو سمجھنے، سمجھانے اور تربیت حاصل کرنا کا ذریعہ اور حصول علم کا وسیلہ سمجھا جاتا تھا تب کوئی طبقاتی تفریق نہیں تھی۔

    پاکستان میں ویسے تو کئی نظام تعلیم رائج ہیں اور لاتعداد نصاب، لیکن اگر ہم بالخصوص تقسیم کی بات کریں تو ہمارے زوال پذیر تعلیمی نظام نے چار طبقات میں تقسیم نسل تیار کی، یا یوں کہہ لیں کہ ہمارا نظام چار حصوں میں تقسیم ہے، پہلا نظام روایتی سکولوں میں رائج ہے جس میں اردو میڈیم، نیم انگریزی میڈیم یا اگر سندھ کی بات کی جائے تو وہاں سندھی میڈیم سکول قائم ہیں، دوسرا طبقہ یا نظام مکمل انگریزی میڈیم سکولوں کی صورت میں رائج ہے جہاں کی فیس عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے، تیسرا طبقہ او اور اے لیول کا ہے اس طبقے میں وہی تعلیم حاصل کرپائے گا جو ماہانہ پچاس، ساٹھ ہزار فیس بھر سکتا ہو، گویا پیسے کی بنیاد پر تقسیم کردی گئی، اب غریب کا بچہ چاہے جتنا بھی باصلاحیت کیوں نہ ہو، یہاں اس کے والدین کے پر جلتے ہیں۔ چوتھا طبقہ مدارس کا ہے جہاں پر حکومتی نصاب کے ساتھ خاص فرقے یا مذہب بھی گھول کر پلایا جاتا ہے،لاکھوں کی تعداد میں بچے مدارس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ دیگر اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے اور مدرسے سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ میں زمین آسمان کا فرق واضح محسوس کیا جاسکتا ہے۔

    اب یہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے، ایک دوسرے کی سننے کی بجائے ایک دوسرے کے مخالف ہوجاتے ہیں، ایک دوسرے کی رائے اور سوچ کو رد کرتے ہیں۔ اس طبقاتی تقسیم کے نتیجے میں ہم نے مختلف نصاب، مختلف ماحول میں پڑھا کر جو کھیپ تیار کی تھی وہ ہمارے سامنے ہیں، وہ ہم لوگ ہیں جو 20سے30کے درمیان ہیں، تقسیم در تقسیم،اختلاف برائے اختلاف، سوشل میڈیا پر قوم کی یکجہتی کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں، تاہم ا ب حکومت وقت نے ایک قوم ایک نصاب کا فیصلہ کرکے طبقاتی نظام کو سمندر برد کرنے کاآغاز کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے ملک کے تمام ادارے، سیاسی جماعتیں، مذہبی قائدین اور مشائخ ایک قوم ایک نصاب کو رائج کرنے کیلئے حکومت کے ساتھ تعاون کریں،یہ ہی واحد صورت ہے جو طبقاتی نظام کی تنسیخ کے لیے ضروری ہے۔

  • سیاست چمکاتے سیاستدان اور نظام تعلیم تحریر حمیرا نذیر

    سیاست چمکاتے سیاستدان اور نظام تعلیم تحریر حمیرا نذیر

    کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی
    سماتی کہاں اس فقیری میں میری
    سیاست نے مذہب سے پیچھا چھڑایا
    چلی کچھ نہ پیرِ کلیسا کی پیری
    ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی
    ہوس کی امیری ہوس کی وزیری
    سیاست کی دوڑ میں ہانپے ہوئے سیاستدان، ملکی مفاد کو پس پشت ڈالتے ہوئے انفرادی مفاد کی خاطر ہر چیز کا سودا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہر ایک اپنی جماعت کے دفاع میں دوسروں پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہے۔ جس کی مد میں کبھی پانامہ کیس سامنے آتا ہے تو کبھی پینڈورا لیکس، ان سب میں نظام تعلیم کے مسائل اور مشکلات حکومتی ترجیحات سے کوسوں دور ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کسی بھی ملک کی بنیادیں تعلیم پہ استوار ہوتی ہیں اور ہر وہ ملک اور معاشرہ جو تعلیم سے منہ موڑ لیتا ہے وہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اپنے نوجوانوں کو بہتر سے بہتر تعلیم دینے کے بجائے ان کے سامنے نت نئے سیاسی ہتھکنڈے رکھ دیے جاتے ہیں کہیں کرپشن اور کہیں بے حیائی، کہیں مہنگائی کے مسائل تو کہیں سکرین پہ بیٹھے سیاستدانوں کے جھگڑے اور اخلاق سے گری ہوئی گفتگو! یہ تربیت ہے ہمارے ان معززین کی جن کے ہاتھوں میں اس ملک کی بھاگ دوڑ ہے۔ جنہوں نے ملک کے ساتھ وفا کے عہد کر رکھے ہیں۔
    حیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے
    جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا
    اس تحریر کی بساط سے میرا مقصد ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے جس کی وجہ سے طالبعلم نہایت مایوسی کا شکار ہیں۔ میٹرک اور انٹر کے نتائج تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں نجانے کتنی تواریخ دی گئیں اور انٹر کے نتیجے سے ایک دن قبل اس کو منسوخ کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا اور ابھی تک نئی تواریخ کا اعلان نہیں کیا گیا جس کے باعث طالبعلم تذبذب کا شکار ہیں انہیں اپنا سال برباد ہوتا نظر آ رہا ہے۔ کورس کا دورانیہ کم ہوتا جا رہا ہے اور ملکی ترقی کی ضامن افرادی قوت ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔ یونیورسٹیوں کے داخلے رکے ہوئے ہیں ان کے سمسٹر سسٹمز تباہی کے دہانے پہ کھڑے ہیں لیکن ہماری حکومت کو سیاست سے فرست ہی نہیں۔ پروموشن پالیسی منظور ہونے کا بہانہ بنا کر عوام کو لالی پاپ دیا گیا لیکن تاحال اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل پایا۔ جن بورڈز کا رزلٹ آیا ہے ان میں بھی مردان بورڈ میں 1100 میں سے 1100 نمبر دیے گئے جو کہ ناممکنات میں سے ایک بات تھی۔ ہماری تعلیم کا معیار کس قدر گر گیا اس کا اندازہ اس بات سے ہم بآسانی لگا سکتے ہیں۔ بچوں کا رٹالائزیش کی مشین میں گھمایا جاتا ہے اور پھر سوچی سمجھی سکیم کے مطابق پرچہ آتا ہے جس کا طلبعلم کو پہلے ہی علم ہوتا ہے کہ کونسی سبق میں سے معروضی اور انشائیہ کے کتنے کتنے سوال آنے ہیں اور سوالوں کا بھی تقریبا سب کو اندازہ ہوتا ہے۔ اس نظام تعلیم نے تباہی یہ برپا کی کہ ہمارے ہاں کوئی سائنسدان، فلسفی اور کوئی اہل علم نہیں پید ہوتا۔ ایک وقت تھا کہ ہمارے ہی بزرگوں نے سائنس کی بنیاد رکھی تھی جابر بن حیان جسے کیمیا کا بانی کہا جاتا ہے، ابوالقاسم زھراوی جس نے قانون فی الطب لکھ کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالا، محمد بن موسی الخوارزمی جس نے الجبرا کی شناخت کروائی، ابن الہیشم جس نے کیمرے کی ایجاد کی اور روشنی کے آنکھ میں داخل ہونے کی قیاس آرائی کی، عمر خیام نے شمسی کیلنڈر بنایا، عباس بن فرانس جس نے پہلا ہوائی جہاز بنایا ، محمد بن زکریا رازی نے تپ دق کا علاج اور چیچک کا ٹیکہ بنایا۔ بات یہاں پہ ختم نہیں ہوتی ایک لمبی فہرست ہے جس کا احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔
    گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
    حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
    نہیں دنیا کے آئینِ مسلَّم سے کوئی چارا
    مگر وہ عِلم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
    جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
    اور دوسری طرف کویڈ کے کیسس کم سے کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور تا حال تعلیمی نظام کو اس طرح بحال نہیں کیا گیا ، جامعات بند ہیں۔ جب کے ملک میں مارکیٹس سے لے کر پارکوں تک، شادی حال اور سینما گھر سب کھلا ہے بند ہیں تو صرف جامعات۔ جہاں نہ صرف تعلیم کا حرج ہو رہا ہے بلکہ نوجوان نسل سکرین ٹائمنگ بڑھنے سے مختلف مسائل کا بھی شکار ہو رہی ہے ۔ آنکھوں کے مسائل، اعصابی نظام کے مسائل اور ڈپریشن سر فہرست ہیں۔ یہ سب صرف اور صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم لوگوں کے لیے تفریح تعلیم سے بڑھ کے ہے، ہمارے لیے سیاست اور کاروبار سب اولین ترجیح ہیں تعلیم تو کہیں ہے ہی نہیں۔ ایسی صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کو تعلیمی نظام متاثر کرنے سے روکا جائے اور جہاں ہر اخبار سیاسی خبروں کی سرخیوں سے مزین ہوتا ہے وہاں تعلیمی مسائل کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ حکومت کی توجہ مبذول کروائی جا سکے۔ کیونکہ یہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں اور مستقبل کو اپنے ہاتھوں سے برباد کرنا کسی سمجھدار قوم کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں تو ملکی سرمائے کو نہایت حفاظت کے ساتھ سنبھالنے سے ہی ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں اور ترقی پذیر ملکوں کی فہرستوں سے نکل کہ ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں سر فہرست آ سکتے ہیں۔ خدارا ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)۔
    زمانے کے انداز بدلے گئے ۔
    نیا راگ ہے ساز بدلے گئے۔
    ہوا اس طرح فاش راز فرنگ ,
    کہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگ ۔
    پرانی سیاست گری خوار ہے ,
    زمیں میر و وسلطاں سے بے زار ہے ۔
    گیا دور سرمایہ داری گیا ۔
    تماشا دکھا کر مداری گیا

    :
    Twitter: @iamhumera_