Baaghi TV

Category: کاروبار

  • شہر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن

    شہر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی)ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ اصغر علی جوئیہ کی خصوصی ہدایت پر میونسپل کارپوریشن نے مین بازار میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کردیا جس کی نگرانی سی او میونسپل کارپوریشن احسن عنایت سندھو نے کی میونسپل کارپویشن کا عملہ اور پولیس کی بھاری نفری ان کے ہمراہ تھی

    جبکہ دوسری جانب تاجر برادری صدر مرکزی انجمن تاجران میاں ذیشان پرویز اور سینئر نائب صدر چوہدری احمد خورشید بھائی کی قیادت میں سراپا احتجاج بن گئی اور میونسپل کارپوریشن کے خلاف نعرے بازی کی، تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے میاں ذیشان پرویز اور احمد خورشید چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم سی شیخوپورہ نے تاجر برادری کو بغیر نوٹس اور تاجر رہنماؤں کو اعتماد میں لئے بغیر یہ غیر آئینی آپریشن شروع کیا،

    مین بازار اور چھتری چوک میں کسی کو ایم سی کی طرف سے کوئی نوٹس نہیں دیا گیا اس کے بغیر دکانداروں کے سائن بورڈز کو توڑ دیا گیا ہے، دکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے ہم اس غیر آئینی اقدام کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، تاجر برادری پہلے ہی کاروبار نہ ہونے کی بناء پر پریشان حال ہے اوپر سے تجاوزات کی آڑ میں تاجروں کو تنگ کیا جارہا ہے جو قابل مذمت ہی نہیں بلکہ قابل گرفت اقدام ہے،انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اصغر علی جوئیہ سے تاجر برادری نے ہمیشہ تعاون کیا مگر اچانک آپریشن بااثر سیاسی شخصیت کی ایماء پر کیا گیا ہے اور اس غیر آئینی آپریشن سے نہ صرف آج کاروبار زندگی متاثر ہوا ہے بلکہ تاجر برادری کا لاکھوں روپے کا نقصان بھی ہوا ہے

    موجودہ حکومت کی تاجر دشمن پالیسیوں سے نہ ہی ملک معاشی طور پر مضبوط ہوسکتا ہے نہ ہی سیاسی استحکام آسکتا ہے، کسی صورت ایم سی کو غنڈہ گردی کرنے نہیں دیں گے اس موقع پر جنرل سیکرٹری ملک پرویز اقبال، نائب صدر شیخ عظیم جاوید اور دیگر تاجر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

  • امریکی ڈالر ہوا مزید سستا

    امریکی ڈالر ہوا مزید سستا

    امریکی ڈالر ہوا مزید سستا

    باغی ٹی وی : ملک بھر کی مقامی مارکیٹوں میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر ایک مرتبہ پھر 28 پیسے سستا ہو گیا۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں انٹر بینک میں امریکی ڈالر 28 پیسے سستا ہو گیا اور قیمت 159 روپے 54 پیسے سے کم ہو کر 159 روپے 26 پیسے ہو گئی ہے.

    واضح ‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگائی تھی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی

  • پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کیسا رہا رجحان

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کیسا رہا رجحان

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کیسا رہا رجحان

    باغی ٹی وی : پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران 567.23 پوائنٹس کی زبردست تیزی کے باعث ایک مرتبہ پھر 46 ہزار کی نفسیاتی حد بحال ہو گئی۔

    ملکی معیشت کے حوالے سے مثبت اعشاریوں کے اثرات پاکستان سٹاک مارکیٹ پر پڑنے لگے، رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روزکے دوران کاروبار کا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ ہوا، صبح دس بجے تک انڈیکس میں 363.04 پوائنٹس کی ریکاڈ تیزی دیکھی گئی جس کے باعث انڈیکس 46 ہزار کی نفسیاتی حد بحال ہونے کے بعد 46171.4 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔

    کاروبار میں زبردست تیزی کا تسلسل دوپہر بارہ بجے تک دیکھنے کو ملا، ایک موقع پر انڈیکس 46507.42 پوائنٹس کی بلندترین سطح کو چھو گیا تھا تاہم کاروبار کے اختتام پر یہ سطح برقرار نہ رہ سکی۔

    رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران 100 انڈیکس 567.23 پوائنٹس بڑھ گیا، 46 ہزار کی نفسیاتی حد بحال ہونے کے بعد انڈیکس 46375.59 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا تھا۔

    تیزی کے باعث پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران 1.24 فیصد کی بہتری دیکھی گئی اور 24 کروڑ 90 لاکھ 81 ہزار 852 شیئرز کا لین دین ہوا جس کے باعث سرمایہ کاروں کو 90 ارب روپے سے زائد کا فائدہ ہوا۔

  • صنعتوں کی پیداوار میں کتنا اضافہ ہوا اور کتنی کمی ، ادارہ شماریات کی رپورٹ جاری

    صنعتوں کی پیداوار میں کتنا اضافہ ہوا اور کتنی کمی ، ادارہ شماریات کی رپورٹ جاری

    صنعتوں کی پیداوار میں کتنا اضافہ ہوا اور کتنی کمی ، ادارہ شماریات کی رپورٹ جاری

    باغی ٹی وی : ادارہ شماریات نے رواں مالی سال کی پہلی چھ ماہ کی رپورٹ جاری کردی، ادارہ شماریات کے مطابق دسمبرمیں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ صنعت کی گروتھ میں11.4فیصد اضافہ ہوا. رواں مالی سال کےپہلے6ماہ پیداوارمیں8.16فیصداضافہ ہوا،10بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں اضافہ،پانچ صنعتوں کی پیداوارمیں کمی ہوئی.

    ٹیکسٹائل کی صنعت کی پیداوارمیں ماہ دسمبرمیں3.54فیصداضافہ ہوا. فوڈبیوریجزاورتمباکوکی صنعتوں کی پیداوارمیں 17.72فیصداضافہ ہوا.ادویات کی مینوفیکچرنگ میں دسمبرمیں13.82فیصداضافہ ہوا

    آٹوموبیل کی صنعت کی پیداوارمیں دسمبرمیں43.91فیصداضافہ ہوا،الیکٹرانکس کی صنعتی پیداوارمیں ماہ دسمبرمیں35.59فیصدکمی ہوئی.چمڑےکی مصنوعات کی پیداوارمیں3.25فیصدکمی آئی.لکڑی سےبننےوالی مصنوعات کی پیداوارمیں30.20فیصدکمی آئی،

  • ڈالر تیزی سے نیچے آنے لگا

    ڈالر تیزی سے نیچے آنے لگا

    ڈالر تیزی سے نینچے آنے لگا
    باغی ٹی وی : ڈالر ایک بار پھر نیچے آنے لگا ہے .۔ پورے ہفتے امریکی ڈالر ایک روپے 17 پیسے سستا ہوا
    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں امریکی ڈالر مزید 25 پیسے سستا ہو گیا جس کے بعد قیمت 159 روپے 7 پیسے سے گر کر 158 روپے 82 پیسے ہو گئی ہے۔

    واضح ‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگائی تھی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی

  • سی پیک منصوبوں میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے کی منظوری، مفاہمتی یاداشت پر دستخط

    سی پیک منصوبوں میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے کی منظوری، مفاہمتی یاداشت پر دستخط

    سی پیک منصوبہ ملک کی سماجی و معاشی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا؛ چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک

    قومی اسمبلی اور فریڈرک البرٹ اسٹیفنگ (ایف ای ایس) پاکستان آفس کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی تقریب قومی اسمبلی میں منعقد ہوئی ۔ اس موقع پر چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک) شیر علی ارباب بھی موجود تھے۔

    چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ملک کے بہترین مفاد میں سی پیک سے متعلق منصوبوں کی رفتار بڑھانےکے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک ملک کی سماجی و معاشی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے ذریعے روزگار کے مواقعوں میں اضافہ ہوگا اور خطے میں خوشحالی آئے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک ملک بھر میں سی پیک سے متعلق منصوبوں کی افادیت بڑھانے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشاورتی عمل میں شامل کرے گی۔

    کنٹری ڈائریکٹر ایف ای ایس نے دونوں اداروں کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے لئے چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سی پیک کی اہمیت کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمتی یاداشت پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک کی کارکردگی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حسین اور کنٹری ڈائریکٹر ایف ای ایس Dr. Jochen Hippler نے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے ۔

  • سات ماہ کے اندر برآمدات میں اضافہ ہوا یا کمی ، رپورٹ جاری

    سات ماہ کے اندر برآمدات میں اضافہ ہوا یا کمی ، رپورٹ جاری

    سات ماہ میں برآمدات میں اضافہ ہوا یا کمی ، رپورٹ جاری
    باغی ٹی وی : حکومت کے برآمدات میں بہتری کےدعوے سچ ثابت ہونے لگے . جاری مالی سال 2020-21ء کے ابتدائی سات ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران مجموعی قومی برآمدات میں 5.53 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
    ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں جولائی تا جنوری 2020-21ء کے دوران پاکستان کی مجموعی برآمدات 14 ارب 24 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک بڑھ گئیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران پاکستان نے برآمدات کے ذریعے 13 ارب 49 کروڑ 60 لاکھ ڈالر زرمبادلہ کمایا تھا۔

    سابقہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے دوران مجموعی قومی برآمدات میں 74 کروڑ 60 لاکھ ڈالر یعنی 5.53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    دوسری جانب اسی عرصہ کے دوران درآمدات میں بھی 6.92 فیصد اضافہ کے نتیجہ میں درآمدات کا حجم گزشتہ سال کے 27 کروڑ 31 لاکھ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلہ میں رواں سال 29 ارب 20 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔

    پی بی ایس کے مطابق جنوری 2020ء کے مقابلہ میں جنوری 2021ء کے دوران پاکستان کی برآمدات میں 8.11 فیصد اضافہ ہوا اور برآمدات کی مالیت ایک ارب 97 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مقابلہ میں دو ارب 13 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک بڑھ گئی۔

    اسی طرح جنوری 2020ء کے مقابلہ میں جنوری 2021ء کے دوران درآمدات بھی 14.85 فیصد اضافہ سے چار ارب 12 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے مقابلہ میں چار ارب 73 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک بڑھ گئیں۔

    بیرون ملک ایکویٹی میں سرمایہ کاری کی نئی پالیسی فارن ایکسچینج ریگولیشنز میں دیگر تبدیلیوں کے علاوہ پاکستانی فن ٹیک اور اسٹارٹ اپس کی ہولڈنگ کمپنیوں کے قیام کے ذریعے بیرونی براہ ِراست سرمایہ کاری کو ترغیب دے گی۔

    نئی پالیسی برآمدکنندگان کو پاکستان سے باہر اپنا ذیلی ادارہ یا برانچ آفس قائم کرنے کی سہولت فراہم کرکے برآمدات کو فروغ دے گی اور مقیم پاکستانیوں کو سویٹ (sweat) ایکویٹی کی اجازت دے گی۔

    زرِمبادلہ کے ضوابط میں مزید تبدیلیاں پاکستانی روپے میں روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹ (آر ڈی اے) اور سپیشل کنورٹبل روپی اکاﺅنٹ (ایس سی آر اے) کے ذریعے میوچل فنڈز، ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایف)اور رئیل اسٹیٹ انوسٹمنٹ ٹرسٹ (آر ای آئی ٹی) فنڈز سمیت جزدانی سرمایہ کاری کے مزید مواقع لائیں گی۔

  • ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں،امیر طبقے کے لیے جنت، عام عوام  تباہ ، عثمان خان کاکڑ

    ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں،امیر طبقے کے لیے جنت، عام عوام تباہ ، عثمان خان کاکڑ

    ایوان بالاء کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد، چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات، چمن کسٹم گیٹ وے پر بے شمار کاروباری حضرات کو ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینا، صوبہ بلوچستان سے خشک میوہ جات اور تربوز کی دیگر صوبوں میں ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینے کی وجوہات، بزنس کمیونٹی کی ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اشیاء اور خاص طور پر کوئٹہ اور کراچی کے شہروں میں کسٹم اتھارٹی کے سرپرائز وزٹ کے علاوہ یکم نومبر 202کو کراچی کی ٹائر شاپ مارکیٹ کے واقعہ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑنے کہا کہ صوبہ بلوچستان ملک کا آدھا حصہ ہے پانی نہ ہونے کی وجہ سے 80فیصد زراعت ختم ہو چکی ہے۔ صوبے میں کان کنی کی بہتری کیلئے 63سال سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔بد قسمتی کی بات ہے کہ ملک کا پسماندہ ترین صوبہ ہونے کے باوجود بھی اس صوبے کی اجناس خاص طور پر خشک میوجات،تربو ز، سبزیاں، فروٹ و دیگر فصلوں کو ملک کے باقی صوبے میں لے جانے کی اجازت نہیں ہے جگہ جگہ تنگ کیا جاتا ہے اور ٹرکوں سے سامان تک نکال لیا جاتا ہے۔ ہمارے صوبے سے چلغوزے کا پیکٹ 1800روپے میں خرید کر 8سے 10ہزار میں فروخت کیا جاتا ہے۔ کسانوں، زمینداروں کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہی حال صوبہ خیبر پختونخواہ اور فاٹا و پاٹا کی عوام کے ساتھ بھی ہے لوگوں کو بار بار تنگ کیا جاتا ہے۔ کسٹم حکام دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ملکر مسائل حل کریں۔ جے ایس وزارت کامرس نے کہا کہ کسی بھی قانون کے تحت تاجروں کو روکنے کی اجازت نہیں ہے۔تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔

    کمیٹی اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقدہ کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 25ویں ترمیم کے بعد سابق فاٹا و پاٹا کے اضلاع سمیت ژوب ڈویژن میں جون 2023تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی ہے اور سیل ٹیکس کے حوالے سے ان علاقوں کو جون 2023تک استثنیٰ حاصل ہے۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ ان علاقوں کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے فنکشنل کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ان علاقوں کو 2023کے بعد بھی مزید پانچ سال کے لئے استثنیٰ دی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان سے کرومائٹ را کی شکل میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اگر اُس کی فینشنگ کی جائے تو ملک و قوم کو اربوں کا فائدہ ہو گا۔ پروسیسنگ پلانٹ کیلئے صوبائی حکومت سے بات کی ہے مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ 5.5ملین ڈالر کی ویلو ایڈیشن ہو سکتی ہے صرف ایک پلانٹ لگانے سے۔

    کمیٹی اجلاس میں چمن کسٹم گیٹ وے کو 24گھنٹے کھولنے کے حوالے سے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سٹاف کی کمی ہے 750آسامیوں کی سمری ایف پی ایس سی کے پاس پڑی ہے جبکہ تک بھرتی مکمل نہیں ہوتی بہتری ممکن نہیں ہے۔ فنکشنل کمیٹی نے ایف پی ایس سی کو کسٹم کی 750آسامیوں کی جلد سے جلد بھرتی مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کو بھی 2023تک ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی تھی مگر مالاکنڈ ڈویژن سے ایف ای ڈی وصول کی جا رہی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے فاٹا و پاٹا اور بلوچستان میں تمام ٹیکسز سے استثنیٰ کی سفارش کر دی۔

    چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ چمن گیٹ وے اور طور خم گیٹ وے پر سیاسی رشوت بہت بڑھ چکی ہے۔ گیٹ وے رات کو بند ہونے کے باوجود مخصوص لوگوں کی گاڑیاں آئس کا نشہ، منشیات، اسلحہ و دیگر چیز یں لے کر گزاری جاتی ہیں اور لاکھوں کی رشوت وصول کی جاتی ہے۔  انہوں نے کہا کہ وہ تاجر جو حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں انہیں بارڈر سے کراچی اور اسلام آباد پہنچنے کیلئے ہفتوں لگ جاتے ہیں۔ جگہ جگہ روک کر تنگ کیا جاتا ہے مگر جو من پسند لوگ ہیں جو ملک کو اربوں کا نقصان دے رہے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں پرچی سسٹم فروغ پا چکا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صادق اچکزئی اور بنی بخش نامی افراد آئس، سیگریٹ، چھالیا اور دیگر منشیات پورے ملک میں سپلائی کر رہے ہیں اُنہیں کوئی پوچھتا تک نہیں ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ  تمام ایکسپورٹرایمپورٹر ٹیکس ادا کرتے ہیں اُن کو تنگ نہ کیا جائے اور سمگلرز کے ساتھ سخت کارروائی کی جائے جو ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ طور خم بارڈر پر سیکنرز لگائے گئے ہیں جس سے پھل اور سبزیاں نقصان دے ہو جاتی ہیں اس کو چیک کرنا چاہئے۔ ایکسپورٹ کی بجائے ٹراذٹ کو ترجیح دیجاتی ہے اور سیکنر والے 8گھنٹے کام کرتے ہیں پھر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ طور خم سے پشاور آتے ہوئے مختلف اداروں کی جانب سے چیک پوسٹیں قائم کر کے بھی لوگوں کو بلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے۔ ایک ہی جگہ تمام ادروں کے نمائندے چیکنگ کر سکتے ہیں۔ جے ایس وزارت مواصلات نے کہا کہ بار بار چیکنگ کا کام سے وزارت کا تعلق نہیں ہے متعلقہ اداروں کے ساتھ معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کراچی میں پہلے ایک کنٹینر کا 60ڈالر کرایہ لیا جاتا تھا جس کو بڑھا کر چار سو سے زائد کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایکسپورٹ ختم ہوتی جا رہی ہے اور خاص طور پر کرومائٹ کا بزنس تباہ ہو رہا ہے۔ متعلقہ ادارے اس مسئلے کو جلد سے جلد حل کریں۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ہمارے علاقے کے لوگ سخت محنت کر کے اپنی حالت بہتر کرتے ہیں کراچی میں کپڑا ٹائر و دیگر کاروبار کرتے ہیں۔سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے دور میں بھی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ہمارے لوگ اسلحہ منشیات وغیرہ کے کام نہیں کرتے بلکہ محنت سے روزگار کماتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ کسٹم حکام کے اہلکار افتخار حسن عرف بِلاملک و قوم کیلئے بدنامی کا باعث ہیں۔کاروباری حضرات کو تنگ کرنا اس کا وطیرا ہے۔ افتحار حسن نے منظور جو عرصہ سے کراچی میں ٹائروں کا کاروبار کرتا ہے اس پر فائرنگ کی اوراس کا سامان بھی غیرقانونی طور پر قبضے میں کر لیا۔ منظور تاجر کو افتخار حسن نے دفتر بولا کر کسی اور کا سامان منظور پر ڈال کر پرچہ درج کرا دیا۔ انھوں نے کہا ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں رہی اشرافیہ،سول بیروکریسی،چوہدریوں،نوابوں اور بڑے سرمایہ کاروں  کے لئے یہ ملک جنت بن چکا ہے مگر عام عوام کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ افتحار حسن جیسے لوگوں کے سامنے ہمارے ادارے تک بے بس ہو چکے ہیں۔ افتخار حسن کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے انٹرنل کمیٹی قائم کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کی جائے۔ فنکشنل کمیٹی کو منظور کے بھائی نے کراچی کے واقعہ پر تفصیلی آگاہ کیا کمیٹی نے کسٹم حکام کو ملوث لوگوں کے خلاف ایکشن لینے کی سفارش کر دی۔ کسٹم حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی کہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کر دی جائے گی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ پچھلے دنوں ایئرپورٹ پر 53 کلو سونا پکڑا گیادوسرے دن خبر موصول ہوئی کے تمام سونا جہاں حکام نے رکھوایا تھا چوری ہو گیا ہے اس کا آج تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا اس میں با اثر لوگ ملوث ہیں جنہوں نے سونا چوری کیا ہے۔کراچی اور بلوچستان کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ کسٹم ڈیوٹی دینے کو تیار ہیں کسٹم کے گوداموں میں اربوں روپے کا سامان پڑا ہے جو مختصر وقت میں خراب ہو جاتا ہے کسٹم حکام نے کہا کہ تمام مسائل کو تحریری طور پر لکھ کر دے دیں جلد مسائل حل کر لیئے جائیں گے۔

    فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز فدا محمد، سردار محمد شفیق ترین، محمد خالد بزنجواور نصرت شاہین کے علاوہ  جوائنٹ سیکرٹری وزارت کامرس، چیف کسٹم ایف بی آر، ممبر کسٹم ایف بی آر، جوائنٹ سیکرٹری وزارت خزانہ، صوبہ بلوچستان اور کراچی کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

  • طور خم گیٹ وے پر سیاسی رشوت میں اضافہ، ایماندار تاجر پریشان، مسئلہ کمیٹی میں پیش

    طور خم گیٹ وے پر سیاسی رشوت میں اضافہ، ایماندار تاجر پریشان، مسئلہ کمیٹی میں پیش

    ایوان بالاء کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد، چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات، چمن کسٹم گیٹ وے پر بے شمار کاروباری حضرات کو ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینا، صوبہ بلوچستان سے خشک میوہ جات اور تربوز کی دیگر صوبوں میں ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینے کی وجوہات، بزنس کمیونٹی کی ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اشیاء اور خاص طور پر کوئٹہ اور کراچی کے شہروں میں کسٹم اتھارٹی کے سرپرائز وزٹ کے علاوہ یکم نومبر 202کو کراچی کی ٹائر شاپ مارکیٹ کے واقعہ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑنے کہا کہ صوبہ بلوچستان ملک کا آدھا حصہ ہے پانی نہ ہونے کی وجہ سے 80فیصد زراعت ختم ہو چکی ہے۔ صوبے میں کان کنی کی بہتری کیلئے 63سال سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔بد قسمتی کی بات ہے کہ ملک کا پسماندہ ترین صوبہ ہونے کے باوجود بھی اس صوبے کی اجناس خاص طور پر خشک میوجات،تربو ز، سبزیاں، فروٹ و دیگر فصلوں کو ملک کے باقی صوبے میں لے جانے کی اجازت نہیں ہے جگہ جگہ تنگ کیا جاتا ہے اور ٹرکوں سے سامان تک نکال لیا جاتا ہے۔ ہمارے صوبے سے چلغوزے کا پیکٹ 1800روپے میں خرید کر 8سے 10ہزار میں فروخت کیا جاتا ہے۔ کسانوں، زمینداروں کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہی حال صوبہ خیبر پختونخواہ اور فاٹا و پاٹا کی عوام کے ساتھ بھی ہے لوگوں کو بار بار تنگ کیا جاتا ہے۔ کسٹم حکام دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ملکر مسائل حل کریں۔ جے ایس وزارت کامرس نے کہا کہ کسی بھی قانون کے تحت تاجروں کو روکنے کی اجازت نہیں ہے۔تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔

    کمیٹی اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقدہ کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 25ویں ترمیم کے بعد سابق فاٹا و پاٹا کے اضلاع سمیت ژوب ڈویژن میں جون 2023تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی ہے اور سیل ٹیکس کے حوالے سے ان علاقوں کو جون 2023تک استثنیٰ حاصل ہے۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ ان علاقوں کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے فنکشنل کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ان علاقوں کو 2023کے بعد بھی مزید پانچ سال کے لئے استثنیٰ دی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان سے کرومائٹ را کی شکل میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اگر اُس کی فینشنگ کی جائے تو ملک و قوم کو اربوں کا فائدہ ہو گا۔ پروسیسنگ پلانٹ کیلئے صوبائی حکومت سے بات کی ہے مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ 5.5ملین ڈالر کی ویلو ایڈیشن ہو سکتی ہے صرف ایک پلانٹ لگانے سے۔

    کمیٹی اجلاس میں چمن کسٹم گیٹ وے کو 24گھنٹے کھولنے کے حوالے سے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سٹاف کی کمی ہے 750آسامیوں کی سمری ایف پی ایس سی کے پاس پڑی ہے جبکہ تک بھرتی مکمل نہیں ہوتی بہتری ممکن نہیں ہے۔ فنکشنل کمیٹی نے ایف پی ایس سی کو کسٹم کی 750آسامیوں کی جلد سے جلد بھرتی مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کو بھی 2023تک ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی تھی مگر مالاکنڈ ڈویژن سے ایف ای ڈی وصول کی جا رہی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے فاٹا و پاٹا اور بلوچستان میں تمام ٹیکسز سے استثنیٰ کی سفارش کر دی۔

    چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ چمن گیٹ وے اور طور خم گیٹ وے پر سیاسی رشوت بہت بڑھ چکی ہے۔ گیٹ وے رات کو بند ہونے کے باوجود مخصوص لوگوں کی گاڑیاں آئس کا نشہ، منشیات، اسلحہ و دیگر چیز یں لے کر گزاری جاتی ہیں اور لاکھوں کی رشوت وصول کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تاجر جو حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں انہیں بارڈر سے کراچی اور اسلام آباد پہنچنے کیلئے ہفتوں لگ جاتے ہیں۔ جگہ جگہ روک کر تنگ کیا جاتا ہے مگر جو من پسند لوگ ہیں جو ملک کو اربوں کا نقصان دے رہے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں پرچی سسٹم فروغ پا چکا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صادق اچکزئی اور بنی بخش نامی افراد آئس، سیگریٹ، چھالیا اور دیگر منشیات پورے ملک میں سپلائی کر رہے ہیں اُنہیں کوئی پوچھتا تک نہیں ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ تمام ایکسپورٹرایمپورٹر ٹیکس ادا کرتے ہیں اُن کو تنگ نہ کیا جائے اور سمگلرز کے ساتھ سخت کارروائی کی جائے جو ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ طور خم بارڈر پر سیکنرز لگائے گئے ہیں جس سے پھل اور سبزیاں نقصان دے ہو جاتی ہیں اس کو چیک کرنا چاہئے۔ ایکسپورٹ کی بجائے ٹراذٹ کو ترجیح دیجاتی ہے اور سیکنر والے 8گھنٹے کام کرتے ہیں پھر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ طور خم سے پشاور آتے ہوئے مختلف اداروں کی جانب سے چیک پوسٹیں قائم کر کے بھی لوگوں کو بلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے۔ ایک ہی جگہ تمام ادروں کے نمائندے چیکنگ کر سکتے ہیں۔ جے ایس وزارت مواصلات نے کہا کہ بار بار چیکنگ کا کام سے وزارت کا تعلق نہیں ہے متعلقہ اداروں کے ساتھ معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کراچی میں پہلے ایک کنٹینر کا 60ڈالر کرایہ لیا جاتا تھا جس کو بڑھا کر چار سو سے زائد کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایکسپورٹ ختم ہوتی جا رہی ہے اور خاص طور پر کرومائٹ کا بزنس تباہ ہو رہا ہے۔ متعلقہ ادارے اس مسئلے کو جلد سے جلد حل کریں۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ہمارے علاقے کے لوگ سخت محنت کر کے اپنی حالت بہتر کرتے ہیں کراچی میں کپڑا ٹائر و دیگر کاروبار کرتے ہیں۔سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے دور میں بھی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ہمارے لوگ اسلحہ منشیات وغیرہ کے کام نہیں کرتے بلکہ محنت سے روزگار کماتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ کسٹم حکام کے اہلکار افتخار حسن عرف بِلاملک و قوم کیلئے بدنامی کا باعث ہیں۔کاروباری حضرات کو تنگ کرنا اس کا وطیرا ہے۔ افتحار حسن نے منظور جو عرصہ سے کراچی میں ٹائروں کا کاروبار کرتا ہے اس پر فائرنگ کی اوراس کا سامان بھی غیرقانونی طور پر قبضے میں کر لیا۔ منظور تاجر کو افتخار حسن نے دفتر بولا کر کسی اور کا سامان منظور پر ڈال کر پرچہ درج کرا دیا۔ انھوں نے کہا ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں رہی اشرافیہ،سول بیروکریسی،چوہدریوں،نوابوں اور بڑے سرمایہ کاروں کے لئے یہ ملک جنت بن چکا ہے مگر عام عوام کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ افتحار حسن جیسے لوگوں کے سامنے ہمارے ادارے تک بے بس ہو چکے ہیں۔

    افتخار حسن کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے انٹرنل کمیٹی قائم کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کی جائے۔ فنکشنل کمیٹی کو منظور کے بھائی نے کراچی کے واقعہ پر تفصیلی آگاہ کیا کمیٹی نے کسٹم حکام کو ملوث لوگوں کے خلاف ایکشن لینے کی سفارش کر دی۔ کسٹم حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی کہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کر دی جائے گی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ پچھلے دنوں ایئرپورٹ پر 53 کلو سونا پکڑا گیادوسرے دن خبر موصول ہوئی کے تمام سونا جہاں حکام نے رکھوایا تھا چوری ہو گیا ہے اس کا آج تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا اس میں با اثر لوگ ملوث ہیں جنہوں نے سونا چوری کیا ہے۔کراچی اور بلوچستان کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ کسٹم ڈیوٹی دینے کو تیار ہیں کسٹم کے گوداموں میں اربوں روپے کا سامان پڑا ہے جو مختصر وقت میں خراب ہو جاتا ہے کسٹم حکام نے کہا کہ تمام مسائل کو تحریری طور پر لکھ کر دے دیں جلد مسائل حل کر لیئے جائیں گے۔

    فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز فدا محمد، سردار محمد شفیق ترین، محمد خالد بزنجواور نصرت شاہین کے علاوہ جوائنٹ سیکرٹری وزارت کامرس، چیف کسٹم ایف بی آر، ممبر کسٹم ایف بی آر، جوائنٹ سیکرٹری وزارت خزانہ، صوبہ بلوچستان اور کراچی کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

  • سٹاک مارکیٹ میں  تیزی کا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان

    باغی ٹی وی : پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 16 سال کے بعد ایک ارب حصص کا کاروبار ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے قبل 23 فروری 2005 کو ایک ارب حصص کا کاروبار ہوا تھا۔

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں صبح پہلے ہی گھنٹے کے دوران محتاط انداز میں کاروبارکا آغاز ہوا، صبح دس بجے تک انڈیکس میں 12 پوائنٹس کی تیزی دیکھی گئی جس کے بعد مندی نے ڈیرے ڈال لیے، دوپہر بارہ بجے تک انڈیکس 228.54 پوائنٹس تک گر گیا تھا۔

    تاہم کاروبار کے اختتام پر پاکستان سٹاک مارکیٹ میں اُتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا اور انڈیکس کا اختتام 30.48 پوائنٹس کی مندی پر ہوا اور انڈیکس 46644.29 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا، پورے کاروباری روز کے دوران 31 کروڑ 43 لاکھ 98 ہزار 230 شیئرز کا کاروبار ہوا۔ جبکہ 0.07 فیصد کی گراوٹ بھی دیکھی گئی۔