Baaghi TV

Category: کاروبار

  • افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے آغاز میں اور راہ داری آپریشنل ہوگئی

    افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے آغاز میں اور راہ داری آپریشنل ہوگئی

    افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے آغاز میں اور راہ داری آپریشنل ہوگئی

    باغی ٹی وی : تجارت کے حوالے سے اچھی خبر کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے سلسلے میں شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان بارڈر پر تجارت کا افتتاح ہوگیا۔یہ دوسرا تجارٹی رستہ ہے جو کہ طور خم کے بعد ہے . پہلی بار ٹرانزٹ ٹریڈ کا آغاز ہوا ہے۔

    سامان تجات کی پہلی کھیپ غلام خان بارڈر سے کابل روانہ کردیا گیا ہے جو کہ کراچی سے پہنچنے والی ٹرانزٹ ٹریڈ کی 2 گاڑیوں پر مشتمل تھی . وسطی ایشیا تک تجارت ہوسکے گی اور 20 ہزار افراد کو روزگار میسر آئے گا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی مدت میں 3 ماہ کی توسیع کی گئی تھی۔

  • بجلی صارفین ہو جائیں تیار

    بجلی صارفین ہو جائیں تیار

    بجلی صارفین ہو جائیں تیار

    باغی ٹی وی :پاکستانیوں کے لیے بری خبر آگئی ،حکومت نے بجلی بم گرانے کا فیصلہ کر لیا ، نیپرا نے بجلی 64 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی جس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی فروری کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی ہے جس سے صارفین پر 4 ارب 40 کروڑ روپے اضافی بوجھ پڑے گا۔ نیپرا کا کہنا ہے کہ اضافی وصولی اپریل کے بلوں میں کی جائے گی، اضافے کا اطلاق لائف لائن، کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہوگا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا کو 0.6573 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی، اتھارٹی نے 30مارچ 2021 کو ایف سی اے پر عوامی سماعت کی، اور 64 پیسے فی یونٹ کی منظوری دی۔
    نوٹیفکیشن کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق صرف اپریل کے مہینے کے بلوں پر ہوگا، اور نوٹیفکیشن کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق لائف لائن اور کے الیکٹرک کے سوا تمام صارفین پر ہوگا۔

  • پاکستان کو جی 20 ممالک کی طرف کتنا ریلیف ملنے کا امکان

    پاکستان کو جی 20 ممالک کی طرف کتنا ریلیف ملنے کا امکان

    پاکستان کو جی 20 ممالک کی طرف کتنا ریلیف ملنے کا امکان

    باغی ٹی وی : جی20 ممالک سے پاکستان کو تقریباً 90 کروڑ ڈالر کا ریلیف ملنے کا امکان ہے، ذرائع.جی 20 ممالک سے جولائی سے دسمبر 2021 تک ریلیف ملنے کی توقع ہے، ذرائع کے مطابق عالمی بینک،آئی ایم ایف اس ہفتےجی20 ممالک کوقرض وصولی التواکی اپیل کریں گے،،وزارت اقتصادی امورنے قرض موخرکی سفارشات کی تیاری شروع کردی.

    جی 20ممالک نے دنیا کو مستقبل میں کورونا وائرس جیسی وباؤں سے نمٹنے کے قابل بنانے کے لیے عالمی ادارہ صحت اور ان ممالک کے سربراہان نے منگل کو ایک بین الاقوامی معاہدہ تشکیل دینے کی تجویز کی حمایت کی ہے کورونا ویکسین تک دنیا بھر کے افراد کی رسائی، ادویات کی فراہمی اور وبا کی بروقت تشخیص کو یقینی بنانے سے متعلق اس معاہدے کی تجویز یورپی یونین کے سربراہان کے چیئرمین چارلس میشل نے گذشتہ سال نومبر میں جی 20 کے ایک اجلاس میں پیش کی تھی۔

    ادھر ایم کیو ایم کے رہنما کنور نوید جمیل نے کہا کہ ڈالر اورپٹرول بڑھنے سےمنہگائی بڑھ جاتی ہے،.گزشتہ دنوں ڈالرکی قدر میں کمی آئی، لیکن اشیا کی قیمتوں میں کمی نہیں آئی،

    ڈالر کی قیمت میں12روپے کی نمایاں کمی ہوئی،لیکن کسی چیز میں کمی نہیں آئی،کنور نوید جمیل،حکومت کو تاجروں سے کہنا چاہیے کہ 24 گھنٹے اور ساتوں دن کاروبار چلائیں،کاروبار اور بازار کا دورانیہ کم ہوگا تو لوگ زیادہ جائیں گے،

  • تعلیم یا کاروبار،مالکان کی موجیں، والدین پریشان

    تعلیم یا کاروبار،مالکان کی موجیں، والدین پریشان

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) شیخوپورہ میں بڑے نجی تعلیمی اداروں نے نئی کلاسز کے اجراء سے قبل ہی فیسوں میں کئی گنا اضافہ کردیا تو دوسری طرف سکولز کے سلیبس کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ سکولز یونیفارمز بھی مہنگے کردیئے گئے اس صورتحال میں طلبہ کے والدین کی پریشانی بڑھ گئی ہے خصوصاً تنخواہ دار ملازمین پہلے ہی مہنگائی اور بجلی وگیس کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث گزارہ مشکل سے کررہے ہیں اور اب کورونا کے باعث سکولوں کی بندش کے دوران ہی فیسوں میں اضافہ کرکے چالان فارم بھجوادیئے گئے ہیں

    حالانکہ گزشتہ ایک سال سے ان تعلیمی اداروں کی اکثریت میں تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں مگر سکولز کی انتظامیہ ہر ماہ متواتر فیسیں وصول کرتی رہی اور بعض اوقات تو مقررہ تاریخ گزر جانے پر جرمانے کے ساتھ فیسیں وصول کی گئیں

    فیسوں میں کئی گناء اضافہ پر محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ بھی ان بااثر تعلیمی اداروں کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے، شکایات کے باوجود ان کی کوئی باز پرس نہیں کی جاتی بعض اوقات تو شکایت کرنے والے والدین کے بچوں کو سکولز سے نکال دیا جاتا ہے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے نجی سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہونے کے باعث سکولز کے ماہانہ اخراجات میں نمایاں کمی رہی اور بعض سکولز نے تو اساتذہ کی تنخواہیں یا توآدھی ادا کیں یا پھر دی ہی نہیں گئیں مگر بچوں سے فیسیں متواتر وصول کی جاتی رہیں جبکہ بعض سکولز کا سلیبس اور یونیفارمز سمیت سٹیشنری تک اپنی پرنٹ کروارکھی ہے جن کی قیمتوں میں بھی کئی گنا اضافہ کرکے انہیں والدین کی پہنچ سے بہت دور کردیا گیا ہے

    والدین کا کہنا ہے کہ حکومت کسی بھی شعبہ میں موثر پالیسی مرتب کرنے اور عوامی مسائل کے حل میں موثر پیش رفت یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی جبکہ تعلیم جیسے اہم شعبہ میں بھی حکومتی رٹ کہیں دکھائی نہیں دے رہی جس کافائدہ اٹھاتے ہوئے پرائیویٹ سکولز انتظامیہ اپنی جیبیں بھر رہی ہے جن کے خلاف فوری کاروائی ناگزیر ہے تاکہ والدین کو اس استحصال سے نجات دلائی جاسکے۔

  • رمضان المبارک سے قبل مہنگائی کا طوفان ، عوام پریشان

    رمضان المبارک سے قبل مہنگائی کا طوفان ، عوام پریشان

    (غفار ریاض نمائندہ باغی ٹی وی قصور)

    رمضان المبارک کی آمدآمدہے اور لوگوں نے اِس مبارک مہینہ کا استقبال روزافزوں مہنگائی سے کرنے کی ٹھان لی ہے‘سبزی اور فروٹ سے لیکر آٹا‘چینی‘دال‘مرغی کا گو شت غرضیکہ ضروریات زندگی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوگئی ہیں اور جو کہاکرتے تھے کہ میرے پاس ٹیم ہے جس نے ہر لحاظ سے ہوم ورک کیاہواہے کہ عوام کو کوئی مسئلہ ہوگا اُس کا حل ڈھونڈلیں گے‘لوگ اُس رہنما اور لیڈر کو ڈھونڈنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔اِن خیالات کا اظہار ایم یسیٰن فرخ کمبوہ سابق ممبرایگزیکٹو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب اُس لیڈرکو اقتدار ملے تین سال ہونے کو ہیں اور تین ماہ میں پاکستان بدلنے والی ٹیم نظرنہیں آرہی۔ انہوں نے مزیدکہا کہ تبدیلی ماسٹرنے پہلے اسدعمرکو معاشی ٹیم کا قائدبنایا جس کے ایماء پر انہوں نے کروڑوں گھراور کروڑوں نوکریاں دلوانے کے غیر حقیقی وعدے کئے‘اُس کے بعد شبرزیدی کو آزمایا گیا۔بعدازاں حفیظ شیخ کی تعریف میں زمین آسمان ایک کردیا جس نے پاکستانی عوام کو اربوں روپے کے قرضوں کے بوجھ تلے دبادیا وار پاکستا نی معیشت کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھدیااب اُن کو بھی ناکام ڈیفالٹرکرکے نیاوزیرخزانہ اور نیامشیرخانہ لایاگیاہے اورندیم بابر نے جب کروڑوں کا ٹیکہ لگادیا تو اُس کو بھی نکال دیاگیالوگ ڈھونڈ رہے ہیں کہ وہ مخلص حقیقی لیڈر کب آئے گا جب واقعی ڈوبتی کشتی پار لگائے گا۔

  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان  ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی  توسیع

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی توسیع

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی توسیع

    باغی ٹی وی : پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی 3 ماہ کیلئے توسیع کر دی گئی . مشیر تجارت اور افغان وزیر تجارت نے ویڈیو لنک کے ذریعے تقریب میں شرکت کی . افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے میں تین ماہ کیلئے توسیع کی گئی ہے،

    مشیر تجارت. کا کہنا تھا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعلقات سے پاکستان تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا،افغان بارڈر سے قانونی اور محفوظ تجارت کیلئے کوشاں ہیں، فغان وزیر تجارت نے معاہدے میں توسیع کے اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے .

    اس سے قبل پاکستان اور تاجکستان نے تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپس اور بین الحکومتی کمیشن فورمز کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بدھ کو دوشنبے میں تاجکستان کی وزارت خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد تاجک ہم منصب سراج الدین مہر الدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گزشتہ 30 سال سے ہمارے تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مستحکم ہوئے ہیں، ہم تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں اضافے کے اس رجحان کا تسلسل چاہتے ہیں اور تاجک صدر اور وزیر خارجہ کی جلد پاکستان آمد کے متمنی ہیں

  • موڈیز نے پاکستانی یورو بانڈز کی رینکنگ جاری کردی

    موڈیز نے پاکستانی یورو بانڈز کی رینکنگ جاری کردی

    باغی ٹی وی : موڈیز نے پاکستانی یورو بانڈز کو ” بی 3″ ریٹنگ دے دی ہے .

    عالمی ریکنگ کے ادارے موڈیز نے پاکستانی یورو بانڈز کی ریٹنگ جاری کردی، پانچ، دس اور 30 سال کے یورو بانڈز کو "بی 3” ریٹنگ دی گئی ہے۔ یہ ریٹنگ طویل مدت میں بانڈز کی بہتر کارکردگی ظاہر کرتی ہے، عالمی ریٹنگ کے ادارے کے مطابق امن و امان کی صورتحال اور تجارتی پالیسی میں بہتری کا امکان ہے جبکہ کورونا سے متاثرہ معاشی سرگرمیاں آئندہ دو سال میں مکمل بحال ہوجائیں گی اور بینکوں کی کارکردگی مستحکم رہے گی۔ان حالات کی وجہ سے پاکستان کو یہ رینکنگ ملکی ہے

    موڈیز کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے مالی اصلاحات میں بہتری آئے گیدو ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا، بانڈز کی قیمت کا تعین آج کیے جانے کا امکان ہے۔

    پاکستان کا دو ارب ڈالر کے یورو بانڈز فروخت کرنے کا منصوبہ، یورو بانڈز کی مدت معیاد 5، 10 اور 30 سال رکھے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع وزرت خزانہ کے مطابق پانچ سال کے بانڈز پر شرح منافع 6 اعشاریہ 25 فیصد، 10 سال کے بانڈز پر شرح منافع 7 اعشاریہ 5 فیصد اور 30 سال کے بانڈز پر شرح منافع 8 اعشاریہ 85 فیصد ہوگا جبکہ ان بانڈز کی قیمت کا تعین بھی آج ہی کیے جانے کا امکان ہے۔

  • حکومت نے اڑھائی ارب ڈالر حاصل کرلیے، معاشی پالیسون کے مثبت اثرات سامنے آنے لگے

    اڑھائی ارب ڈالر حاصل کرلیے، معاشی پالیسون میں مثبت اثرات سامنے آنے لگے

    باغی ٹی وی : حکومت کی معاشی پالسیوں کے اثرات سامنے آنے لگے جو کہ مثبت شکل میں‌ ہیں ، پاکستان نے یورو بانڈ انٹرنیشنل مارکیٹ میں فروخت کرکے ڈھائی ارب ڈالر حاصل کرلیے۔

    پاکستان نےڈھائی ارب ڈالرکے یوروبانڈانٹرنیشنل مارکیٹ میں فروخت کردیے، پاکستان نے پانچ ، دس اورتیس سال کی مدت کے یوروبانڈ پر ڈھائی ارب ڈالر حاصل کیے۔

    یوروبانڈ کی فروخت سے پاکستان کے زرمبادلہ کےذخائرمیں ڈھائی ارب ڈالرکا اضافہ ہوگیا۔اس حوالے سے وزیر خزانہ حماد اظہر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستانی معیشت پر اعتماد کا اظہار کردیا اور معیشت کےمستقبل کے بارے میں پر امید ہیں۔

    وزارت خزانہ کے مطابق پانچ سال کے بانڈز پرشرح منافع 6.25 فیصد، 10 سال کے بانڈز پر شرح منافع7.5فیصد اور 30 سال کے بانڈز پر شرح منافع 8.85فیصد ہوگامعاشی تجزیہ کاروں کے مطابق بانڈز کے اجرا ء سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں مزید بہتری کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ بانڈز ہونے والی سرمایہ کاری سے بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معیشت پر اعتماد کا بھی پتہ لگایا جاسکے گا۔

  • برطانوی کمپنیوں نے باہر کتنا پیسہ پہنچایا سٹیٹ بینک نے اعداد و شمار جاری کردیے

    برطانوی کمپنیوں نے باہر کتنا پیسہ پہنچایا سٹیٹ بینک نے اعداد و شمار جاری کردیے

    برطانوی کمپنیوں نے باہر کتنا پیسہ پہنچایا سٹیٹ بینک نے اعداد و شمار جاری کردیے

    باغی ٹی وی : جاری مالی سال کے دوران پاکستان میں کام کرنے والی برطانوی کمپنیوں کی طرف سے منافع جات کی بیرون ملک منتقلی میں 123.1 ملین ڈالر اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح امریکی کمپنیوں کی جانب سے بھی 49.7 ملین ڈالر کے زیادہ منافع جات بیرون ملک بھجوائے گئے ہیں۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق جاری مالی سال کے کام کرنے والی برطانوی کمپنیوں نے 362.3 ملین ڈالر کے منافع جات بیرون ملک بھجوائے ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال میں جولائی تا فروری 20-20219 کے دوران اس مد میں 239.2 ملین ڈالر بیرون ملک منتقل کئے گئے تھے۔

    اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران پاکستان میں کام کرنے والی برطانوی کمپنیوں کی جانب سے منافع جات کی بیرون ملک منتقلی میں 123.1 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ادھر ماد اظہر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈھائی ارب ڈالر کا بانڈ جاری کیا تھا، اس میں کامیابی ہوئی، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کریں گے،بھارت سے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کریں گے، ڈیزل کی قیمت میں تین روپے فی لیٹر کمی کی جائے گی،پٹرول کی قیمت میں ڈیڑھ روپے کمی کا فیصلہ کیا ہے، ہم نے اسٹیٹ بینک کو خود مختار کیا ہے، ہماری کرنسی اپنے زور پر کھڑی ہے، اس میں ڈالر نہیں جھونک رہے،

    چینی کی قیمت پاکستان سےکم ہونے پر انڈیا سے چینی درآمد کا فیصلہ کیا ہے، چھوٹی صنعتوں کیلئے بھارت سے کاٹن کی درآمد جون کے آخر تک کیلئے کھولیں گے، بھارت سے کاٹن کی تجارت بھی کھولیں گے ہمارے فیصلوں کی بنیاد پاکستان اورعوام کی فلاح ہوگی،کبھی کبھی حکومت کو سخت فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں،نجی شعبےکوبھارت سے5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمدکرنے کی اجازت دی

  • روپے نے ڈالر کو تاریخی سطح پر پیچھے چھوڑ دیا

    روپے نے ڈالر کو تاریخی سطح پر پیچھے چھوڑ دیا

    روپے نے ڈالر کو تاریخی سطح پر پیچھے چھوڑ دیا

    باغی ٹی وی : ڈالر ایک بار پھر نیچے آنے لگا ہے .ڈالر کی کمی اور تنزلی کا سلسلہ جاری ہے جب کہ روپیہ اس کے مقابلے میں تکڑا ہوا رہا ہے . انٹربینک میں ڈالر 22 ماہ کی کم ترین سطح پر بند ہوا۔ ڈالر سستا ہونے سے بیرونی قرضوں کے بوجھ میں اب تک 1700 ارب روپے کی کمی ہوئی۔

    تفصیلات کے مطابق ڈالر کمزور اور روپیہ جان پکڑنے لگا، انٹربینک میں ڈالر مزید 95 پیسے کمی کے بعد 22 ماہ کی کم ترین سطح 152 روپے 9 پیسے پر بند ہوا، اس قبل ڈالر 13 جون 2019 کو اس سطح پر ٹریڈ ہوا تھا ۔۔

    موجودہ حکومت جب اقتدار میں آئی تو اس وقت ڈالر 124 روپے 50 پیسے پر تھا جبکہ 23 اگست 2020 کو انٹربینک میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح 168 روپے 43 پیسے پر پہنچ گیا تھا۔ اگست سے اب تک ڈالر کی قیمت میں 9 فیصد کم ہوچکی ہے ۔۔ جبکہ صرف مارچ میں ہی ڈالر 3 اعشاریہ 2 فیصد سستا ہوا۔

    واضح ‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگائی تھی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی