Baaghi TV

Category: کاروبار

  • موجودہ حکومت بھی آئی ایم ایف کے سامنےگر گئی، کتنا قرضہ ملنے کا امکان

    موجودہ حکومت بھی آئی ایم ایف کے سامنےگر گئی، کتنا قرضہ ملنے کا امکان

    موجودہ حکومت بھی آئی ایم ایف کے سامنےگر گئی، کتنا قرضہ ملنے کا امکان

    باغی ٹی وی : پاکستان کو عالمی بینک سے نئی شراکت داری کی حکمتِ عملی کے تحت آئندہ پانچ سال کے لیے 12 ارب ڈالر کے قریب قرض ملنے کا امکان ہے، عالمی بینک رواں برس مئی تک پاکستان کو قرض کی منظوری دے گا۔
    وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار اور ورلڈ بینک کنٹری ڈائریکٹر ناجی بن حسائن کے درمیان ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ پانچ سالوں کے لیے پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات پر بات چیت کی گئی، اجلاس کے بعد وزارتِ اقتصادی امور کی جانب سے جاری کیے گئے ایک ہینڈآؤٹ میں پاکستان کو عالمی بینک سے 12 ارب ڈالر کے قریب قرض ملنے کی تصدیق کی گئی۔

    وزارتِ اقتصادی امور کے ایک سینئر افسر نے کہا ہے کہ بات چیت کی اس سطح پر عالمی بینک کی جانب سے مالیاتی معاونت کا کوئی پختہ ارادہ نہیں ہے، تاہم پاکستان آئندہ پانچ سالوں کی شراکت کے لیے قرض پر غور کر رہا ہے۔ انہوں ںے کہا کہ پاکستان کے کوٹے کی بنیاد پر بجٹ سپورٹ کی ضرورت اور نجی شعبے کی جانب سے قرضوں کی بنیاد پر آئندہ پانچ سال 2022 تا 2026 تک کے لیے عالمی بینک 12 ارب ڈالر کے قریب پاکستان کو قرض دے سکتا ہے۔

    وزارت کے عہدیدار نے کہا کہ ورلڈ بینک کے ایک دوسرے منصوبے آئی ڈی اے 19 کے تحت پاکستان کا کوٹہ آئندہ تین سالوں کے لیے 3.5 ارب ڈالر ہے۔ عالمی بینک سے تعمیرِ نو اور ڈویلپمنٹ کے لیے آئندہ تین سال کے لیے 3 ارب ڈالر تک کا قرض لیا جا سکتا سکتا ہے۔

    سرکاری عہدیدار نے کہا کہ پاکستان نے عالمی بینک سے چند مخصوص شعبوں پر توجہ دینے کی درخواست کی ہے جہاں پاکستان میں ہنگامی بنیادوں پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور اسی دوران چھوٹے منصوبوں میں قرض نہ دینے کا بھی اعادہ کیا ہے۔

    سرکاری افسر کے مطابق ورلڈ بینک کا آئندہ ماہ فروری کے آخر تک پاکستان کے ساتھ مشاورت مکمل کرنے کا امکان ہے اور عالمی بینک کے بورڈ کا رواں برس مئی کے آخر تک آئندہ پانچ سالوں تک قرض کی منظوری دینے کی توقع ہے۔

    پاکستان اپنے بجٹ فنانسنگ اور ترقیاتی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کثیرالجہتی قرض دہنندگان پر انحصار کر رہا ہے۔ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے رعایتی اور مہنگی شرح سود پر پاکستان کو طویل مدتی قرض دینے میں توسیع کی ہے۔ لیکن ان دونوں بینکوں کے قرضوں کی شرح سود کے مقابلے میں تجارتی بینکوں سے لیے گئے قرض کی شرح سود کم ہے۔

    سرکاری عہدیدار نے کہا کہ ورلڈ بینک کی پاکستان میں میکرو اکانومک استحکام کو دوبارہ سے بحال کرنے، توانائی کے شعبے کی کارکردگی بہتر کرنے، پبلک گورننس مضبوط کرنے اور پانی کے وسائل کی مینجمنٹ کو بہتر کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

    تاہم، ان شعبوں پر پہلے سے ہی توجہ دی جارہی ہے اور ابھی تک اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود ان شعبوں میں خاطرخواہ بہتری نہیں آئی کیونکہ پاکستان میں تعلیمی شعبے میں ابھی تک سب سہاران افریقہ کے 22 فیصد کے مقابلے میں 27 فیصد بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں اور پانچ سال سے کم عمر کے 38 فیصد بچے سکولوں میں داخل ہی نہیں ہوئے۔

    پاکستانی حکام نے عالمی بینک سے ملک کے چند اہم شعبوں پر توجہ دینے کی درخواست کی ہے۔ اجلاس میں بات چیت کی گئی کہ اس بار صرف چھ پرنسپل انڈیکیٹرز پر توجہ دی جائے جہاں ورلڈ بینک پاکستان کی قرضوں سے ان شعبوں میں رینکنگ کو بہتر کرسکتا ہے۔

    عالمی بینک پاکستان میں پہلے ہی 12 ارب ڈالر کے 58 منصوبوں اور پروگرامز میں فنانسنگ کر رہا ہے۔ عالمی بینک اس وقت پاکستان کی 2015 سے 2021 تک کی شراکت داری کی حکمتِ عملی کا جائزہ لے رہا ہے۔

    2015 تا 2016 تک کی شراکت داری کی حکمتِ عملی کے تحت 4.2 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے اور پروگرامز پر رقم خرچ ہی نہیں کی گئی، یہ شراکت داری کا دورانیہ رواں برس جون میں ختم ہو جائے گا۔

    تاہم، کچھ غیرمنظورشدہ فنڈز اس نئی حکمتِ عملی کے تحت جاری کیے جائیں گے۔

    عالمی بینک نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ عدم وسائل اور بغیرمہارت کے انسانی وسائل پاکستان کی اقتصادی شرح نمو میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

    عالمی بینک اپنی نئی حکمتِ عملی میں مسابقت، ٹیکس پالیسی میں ہم آہنگی، ٹیکس ایڈمنسٹریشن میں بہتری اور اینٹی ایکسپورٹ تعصب کو بہتر کرنے جیسے شعبوں کو ٹارگٹ کرے گا۔

    ورلڈ بینک کنٹری ڈائریکٹر ناجی بن حسائن نے وفاقی وزیر خسرو بختیار کو بتایا کہ عالمی ادارے نے بنیادی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملک گیر مشاورت کا آغاز کیا ہے جس میں حکومت، پارلیمینٹیرینز، نجی شعبے، سول سوسائیٹی آرگنائزیشن اور ترقیاتی شراکت دار شامل ہیں، سٹیک ہولڈرز کی مختلف آراء سے پاکستان کی معیشت اور سوشل چیلنجز کے حل کے لیے ورلڈ بینک گروپ ملک کو درپیش چیلنجز میں حکومت کی مدد کر سکتا ہے۔

    ناجی بن حسائن نے کہا کہ ورلڈ بینک پاکستان کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے آئندہ اجلاس میں تعلیم، صحت، ماحولیات اور شرح نمو جیسے چار سٹریٹجک ایریاز پرخصوصی توجہ دی جائے گی جو حکومت کو گورننس کے قابل کرنے میں مدد کرے گا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ہیومن کیپیٹل، غربت کے خاتمے، مہارت، آمدن کو موبلائز کرنے اور اقتصادی اصلاحات کے ایریاز میں پیچھے ہے جس پر اولین توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

  • مہنگائی کے ستائے عوام  کو حکومت ایک اور جھٹکا دینے کے لیے پر تول رہی

    مہنگائی کے ستائے عوام کو حکومت ایک اور جھٹکا دینے کے لیے پر تول رہی

    . مہنگائی کے ستائے عوام کو حکومت ایک اور جھٹکا دینے کے لیے پر تول رہی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق : عوام تیار ہو جائیں حکومت مہنگائی سے بے حال عوام کو ایک اور جھٹکا دینے والی ہے. مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے ایک اور بری خبر آئی ہے، حکومت نے عوام پر پٹرولیم مصنوعات کا ایک اور اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری کرلی۔

    تفصیلات کے مطابق پٹرولیم ڈویژن نے پٹرول ،ڈیزل پر او ایم سی اور ڈیلر مارجن بڑھانے کی سمری تیار کرلی ہے، پٹرول پر او ایم سی مارجن میں فی لٹر 45 پیسے اضافے کی تجویز ہے۔ پٹرول پر ڈیلرز مارجن میں 58 پیسے اضافے کی تجویز ہے۔

    ہائی سپیڈ ڈیزل پر او ایم سی مارجن میں 45 پیسے فی لٹر، ڈیزل پر ڈیلرز مارجن میں 50 پیسے بڑھانے کی تجویز ہے۔ پٹرول پر او ایم سی مارجن 2روپے 81 پیسے سے بڑھا کر 3 روپے 26 پیسے فی لٹر کیا جا سکتا ہے۔

    پٹرول پر ڈیلرز مارجن 3 روپے 70 پیسے سے بڑھا کر 4 روپے 28 پیسے فی لٹر کرنے کی تجویز ہے، ڈیزل پر او ایم سی مارجن 2 روپے 81 پیسے سے بڑھا کر 3 روپے 26 پیسے فی لٹر، ہائی سپیڈ ڈیزل پر ڈیلرز مارجن 3 روپے 12 پیسے سے بڑھا کر 3 روپے 62 پیسے فی لٹر کرنے کی تجویز ہے۔

    رواں ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ تھا ، پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 31 پیسے فی لیٹر اضافے کی منظوری تھی ، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 106 روپے فی لٹر ہو گی۔

    اب پھر یہ حکومت ایک نئے انداز سے بوجھ ڈال رہی ہے . جس کو مثال پہلے نہیں ملتی .

  • سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، سرمایہ کاروں کو کتنا ہوا فائدہ

    سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، سرمایہ کاروں کو کتنا ہوا فائدہ

    سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، سرمایہ کاروں کو کتنا ہوا فائدہ

    باغی ٹی وی: پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز کے دوران 219.60 پوائنٹس کی زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی۔ جس کے بعد سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کا مثبت انداز میں آغاز ہوا، صبح دس بجے کے قریب انڈیکس میں 233.78 پوائنٹس کی تیزی ریکارڈ کی گئی تھی۔ تیزی کا یہی تسلسل دوپہر بارہ بجے تک چلتا رہا۔

    تیزی کے باعث ٹریڈنگ کے دوران 100 انڈیکس 46189.02 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا تاہم کاروبار کے اختتام پر یہ حد برقرار نہ رہ سکی۔

  • حکومت نے  بجلی تقسیم کار کمپنیوں سے جان چھڑانے کا پلان بنالیا

    حکومت نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں سے جان چھڑانے کا پلان بنالیا

    حکومت نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں سے جان چھڑانے کا پلان بنالیا

    باغی ٹی وی : اب وفاق پر صوبوں کا بوجھ کیوں پڑھے اس سلسلے میں حکومت کیلئے بھاری خسارے کا شکار بجلی تقسیم کار کمپنیاں درد سر بن گئیں۔ حکومت نے 4 بجلی تقسیم کار کمپنیوں سے جان چھڑانے کا پلان بنالیا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ وفاقی حکومت نے حیدر آباد اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنیاں سندھ جب کہ پشاور اور ٹرائبل الیکٹرک سپلائی کمپنیاں خیبر پختونخوا حکومت کو دینے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس سلسلے میں پاور ڈویژن کو معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جانے کی تیاری کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق بجلی چوری، ترسیل اور تقسیم کے نقصانات سنگین مسئلہ بن چکا ہے جب کہ بلوں کی عدم ادائیگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سالانہ نقصانات 38.69 فیصد پر پہنچ چکے ہیں اور ٹرائبل الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نقصانات 16.19 فیصد ہیں جب کہ سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سالانہ نقصانات 36.27 فیصد اور حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نقصانات 28.82 فیصد پر پہنچ گئے۔

    واضح‌ رہے کہ حال ہی میں حکومت نے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا ہے . جس بعد عوام پر جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی . مزید پس کر رہ گئی ہے.

  • ایل این جی سپاٹ خریداری،ترجمان پٹرولیم ڈویژن کا نئے کارگوز کے انتظامات

    ایل این جی سپاٹ خریداری،ترجمان پٹرولیم ڈویژن کا نئے کارگوز کے انتظامات

    اسلام آباد :- ترجمان پٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ پی ایل ایل نے فروری کے لیے مزید ایک ایل این جی سپاٹ کارگوز کا انتظام کر لیا ہے،
    نیا ایل این جی کارگو پہلے کارگو سے 22٪ کم قمیت پر خریدا گیا ہے.

    ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کارگو کو ملا کر کل 9 ایل این جی کارگوز فروری کے لیے دستیاب ہونگے، پچھلے ایل این جی کارگو کی ڈلیوری ونڈو 49 دنوں کی تھی جبکہ نیا کارگو 35 دنوں میں ترسیل ہو گا.

    ترجمان کے مطابق اس سے اس بیانیے کی بھی نفی ہوتی ہے کہ اگر جلدی بڈ کر لی جاتی تو ایل این جی سستے داموں ملتی،
    ایل این جی قمیت درآمد کا انحصار طلب و رسد پر ہوتا ہے.

  • ایمنسٹی اسکیم میں توسیع آرڈیننس:سرمایہ کاری پرذرائع آمدن نہیں بتانی ہوگی

    ایمنسٹی اسکیم میں توسیع آرڈیننس:سرمایہ کاری پرذرائع آمدن نہیں بتانی ہوگی

    وزیراعظم کے 31 دسمبر 2020کے اعلانات پر عملدرآمد شروع ہو گیا ، شعبہ تعمیرات کی ایمنسٹی اسکیم آگئی، آرڈیننس جاری کر دیا گیا ، پراپرٹی خریدنے پر 30 جون تک ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے،تعمیرات میں سرمایہ کاری پر بھی 30 جون تک ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے، آرڈیننس میں حکومت نے سرمایہ کاروں کو رواں سال 30 جون تک چھوٹ دیدی

    فکسڈ ٹیکس رجیم 31 دسمبر 2021 تک برقرار رہے گی، 30 دسمبر2023 تک منصوبے مکمل کرنے کی حد ایک سال بڑھا دی گئی ، وزیر اعظم نے شعبہ تعمیرات میں ایمنسٹی اسکیم کا اعلان گزشتہ سال کیا تھا

    حکومت نےسرمایہ کاری پرذرائع آمدن بتانے کی چھوٹ میں 30 جون 2021 تک توسیع کردی ہے۔صدر مملکت نے تعمیراتی شعبے کیلئےانکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس 2021 جاری کردیا ہے۔وزیراعظم نے 31 دسمبر 2020کو اسکیم میں 6 ماہ کی توسیع کا اعلان کیا تھا۔

    آرڈینس کی منظوری سےپراپرٹی سےحاصل آمدن پر فکسڈ ٹیکس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی ڈیڈ لائن 31 دسمبر تک بڑھادی گئی ہے۔ تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل کی آخری تاریخ میں بھی ایک سال کا اضافہ کردیا گیا ہے اورمنصوبہ 30 ستمبر 2022 کےبجائے 30 ستمبر 2023 تک مکمل کرنا ہوگا۔

    ترمیمی آرڈیننس کے تحت ہاؤسنگ یونٹس یا پلاٹ کی خریداری کرنے والوں کو بھی ذرائع آمدن کی چھوٹ میں مزید 6 ماہ کی چھوٹ دی گئی ہے۔تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری پر ٹیکس دہندگان کو الیکٹرانک نوٹسزبھی جاری نہیں ہوسکیں گے۔بلڈرز یا ڈیویلپرز ایف بی آر کی ویب سائٹ

  • سونے کی قمیت مزید گر گئی

    سونے کی قمیت مزید گر گئی

    سونے کی قمیت مزید گر گئی
    باغی ٹی وی : ملک بھر میں سونے کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا، فی تولہ کی قدر میں مزید 400 روپے کی بڑھوتری دیکھی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں مسلسل فی اونس سونے کی قیمت میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 17 امریکی ڈالر کے بعد 187 امریکی ڈالر ہو گئی ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کے بعد ملکی صرافہ مارکیٹوں لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، حیدر آباد، سکھر، گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولنپڈی سمیت دیگر جگہوں پر فی تولہ سونے کی قیمت میں 400 روپے کا اضافہ دیکھا گیا اور نئی قیمت 1 لاکھ 13 ہزار 400 روپے ہو گئی ہے۔

    فی تولہ سونے کی طرح دس گرام کی قیمت میں بھی 342 روپے کی بڑھوتری دیکھی گئی اور نئی قیمت 97 ہزار 222 روپے ہو گئی ہے۔

    تاہم چاندی کی قیمت میں مسلسل استحکام دیکھنے کو مل رہا ہے، رواں ہفتے کے چوتھے کاروباری روزکے دوران فی تولہ اور دس گرام سونے کی قیمتیں بالترتیب 1300 روپے اور 1114.54 روپے کی سطح پر برقرار ہے۔

  • آٹھ  ہاؤسنگ سوسائٹی پر  انتطامیہ نے  لیا بڑا ایکشن

    آٹھ ہاؤسنگ سوسائٹی پر انتطامیہ نے لیا بڑا ایکشن

    آٹھ ہاؤسنگ سوسائٹی پر انتطامیہ نے لیا بڑا ایکشن

    باغی ٹی وی : فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایف ڈی اے) نے شہر میں آٹھ غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف کارروائی کر کے مذکورہ سوسائیٹیز کو سِیل کر دیا۔
    ایف ڈی اے نے اس کے علاوہ شہر بھر میں تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف آپریشنز کرکے غیرقانونی تعمیرات کو مسمار بھی کیا۔

    ترجمان ایف ڈی اے نے کہا ہے کہ اسٹیٹ آفیسر امتیاز علی گورایا کی سربراہی میں ایک ٹیم نے نجی ہاؤسنگ سکیموں کے قانونی سٹیٹس کا جائزہ لیا اور ایف ڈی اے کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی آٹھ ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو سِیل کر دیا گیا۔

    سِیل ہونے والی ہاؤسنگ سکیموں میں کرن ویلی، عمیر ٹاؤن، جے ایم ویلی، ایس ایم ڈی سٹی-1 اور 2، مدنی گارڈن، آئیڈیل ویلی اور سندل سٹی شامل ہیں، مذکورہ سوسائیٹیز کو ریکوسیٹ منظوری کے بغیرتعمیر کرنے پر سِیل کیا گیا۔

    مذکورہ ٹیم نے تمام ہاؤسنگ سکیموں کے دفاتر سِیل اور ان کے اسٹرکچر کو ختم کر دیا۔

  • نان ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے  مشیر تجارت نے بڑی سہولت دے دی

    نان ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے مشیر تجارت نے بڑی سہولت دے دی

    نان ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے مشیر تجارت نے بڑی سہولت دے دی

    باغی ٹی وی : وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ نان ٹیکسٹائل سیکٹر کی ڈراءبیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز (ڈی ایل ٹی ایل) کی ادائیگی کے لیے 213 ملین روپے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    ر مشیر تجارت نے کہا کہ نان ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے 213 ملین روپے کے ریفنڈز اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس ہیں اور جلد متعلقہ برآمدکنندگان کو واپس کر دیے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ “حکومت کی پالیسی کسی بھی برآمدکنندہ پر کسی بھی طرح کی ورکنگ کیپیٹل میں دشواری ڈالنا نہیں۔ مجھے امید ہے کہ ڈی ایل ٹی ایل کی ادائیگی سے برآمدکنندہ کو سہولت ملے گی”۔عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ “یہ امر بہت متاثر کن ہے کہ کراچی میں دو نوجوانوں کی جانب سے پاکستان میں روایتی ریٹیل سیکٹر کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے “بازار ٹیکنالوجیز” کے نام سے ایک سٹارٹ اپ کی محض آٹھ ماہ پہلے بنیاد رکھی گئی اور اتنے کم عرصے میں مذکورہ سٹارٹ اپ سیڈ راؤنڈ میں 6.5 ملین ڈالر اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو گیا، مذکورہ سٹارٹ اپ کا مقصد ملک میں ای کامرس کو فروغ دینا ہے۔

    رزاق داؤد نے کہا کہ “میں نے ہمیشہ اپنے نوجوانوں کی انٹرپرینیورشپ صلاحیتوں پر یقین رکھا ہے اور یہ انٹرپرینیورشپ کے کلچر میں اضافہ نوجوانوں کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان دنیا میں ممکنہ ای کامرس کی ایک بڑی مارکیٹ ہے اس لیے میں نوجوانوں کی کامیابی کا خواہشمند ہوں اور اپنے نوجوان انٹرپرینیورز سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ انٹرپرینیورشپ کے کلچر کو اپنائیں

  • چینی بحران پر قابو پانے کے لیے اقتصاد ی رابطہ کمیٹی نے  اٹھایا قدم

    چینی بحران پر قابو پانے کے لیے اقتصاد ی رابطہ کمیٹی نے اٹھایا قدم

    اقتصاد ی رابطہ کمیٹی نے مزید چینی درآمد کرنے کی اجازت دے دی

    باغی ٹی وی : اقتصاد ی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مزید آٹھ لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی اجازت دیدی۔ 5 لاکھ ٹن چینی ٹریڈنگ کارپوریشن اور تین لاکھ ٹن نجی شعبہ درآمد کرے گا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا،اجلاس کے دوران 8 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے اجازت دے دی گئی، درآمدی چینی پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کی بھی منظوری دیدی گئی۔

    5 لاکھ ٹن چینی ٹریڈنگ کارپوریشن اور 3 لاکھ ٹن نجی شعبہ درآمد کرے گا جبکہ چینی کی در آمد پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں 5.25 فیصد کمی کی گئی ہے ۔ اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی کے لیے 16 ارب 62 کروڑ روپے کی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔

    اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت منصوبہ بندی کے لیے 16 ارب 62 کروڑ روپے ، وزارت داخلہ کے لیے 1کروڑ روپے کی ضمنی گرانٹ اوراسلام آباد ہائیکورٹ کے تحت تین نئی عدالتوں کے قیام کیلئے فنڈز کی منظوری دے دی جبکہ روز ویلٹ ہوٹل کی فنڈنگ کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ ای سی سی نے ٹیکسٹائل پالیسی 2020سے 2025 ، قومی فریٹ اینڈ لاجسٹکس پالیسی اور روڈ ٹو مکہ منصوبے کو وسعت دینے کا معاملہ موخر کر دیا۔