Baaghi TV

Category: کاروبار

  • سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ

    سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ

    سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ
    باغی ٹی وی : ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، ایک مرتبہ پھر قدر 150 روپے بڑھ گئی۔

    تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 9 امریکی ڈالر بڑھ گئی جس کے بعد نئی قیمت 1853 امریکی ڈالر ہو گئی ہے۔

    بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کے بعد ملکی صرافہ مارکیٹوں لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، حیدر آباد، سکھر، گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی سمیت دیگر جگہوں پر فی تولہ سونے کی قیمت میں 150 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور نئی قیمت 1لاکھ 13 ہزار روپے ہو گئی ہے۔

    فی تولہ کی طرح دس گرام سونے کی قیمت 130 روپے اضافے کے بعد 96 ہزار 880 روپے ہو گئی ہے۔تاہم دوسری طرف فی تولہ اور دس گرام چاندی کی قیمتیں برقرار رہیں، دونوں کی قیمتیں بالترتیب 1300 روپے اور 1114.54 روپے کی سطح پر برقرار ہیں۔

  • معیشت کے فروغ کے لیے چیمبر آف کامرس کا حکومت سے اہم مطالبہ

    معیشت کے فروغ کے لیے چیمبر آف کامرس کا حکومت سے اہم مطالبہ

    معیشت کے فروغ کے لیے چیمبر آف کامرس کا حکومت سے اہم مطالبہ

    صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) سردار الیاس خان نے حکومت سے معیشت کے فروغ کے لیے بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
    اکانومک جرنلسٹس فورم کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے صدر آئی سی سی آئی نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف انڈسٹریل یونٹس کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گا بلکہ معاشرے کے دیگر طبقوں پر بھی سنگین اثرات مرتب کرے گا۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے آمدن اکٹھی کرنے کا ذریعہ بنالیا ہے جو دانشمندانہ سوچ نہیں ہے، انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں پر نظرثانی کی تجویز دی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم عمران خان ملک میں معاشی انقلاب لانا چاہتے ہیں لیکن حکومت کو اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

    صدر آئی سی سی آئی کا کہنا تھا کہ ٹیلی کام انڈسٹری، زراعت اور تعمرات سمیت پاکستانی معیشت کے کئی شعبوں میں غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے بے پناہ مواقع ہیں۔

  • مندی کے بعد سٹاک مارکیٹ میں  تیزی

    مندی کے بعد سٹاک مارکیٹ میں تیزی

    مندی کے بعد سٹاک مارکیٹ میں تیزی

    باغی ٹی ؤی : مسلسل مندی میں جانےوالی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی واپسی ہوئی ہے۔ 100 انڈیکس میں 176.55 پوائنٹس کی تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی کے بعد تیزی نے ڈیرے ڈالے ہیں، کاروبار کا آغاز ہی مثبت انداز میں ہوا، صبح بارہ بجے تک انڈیکس میں 200 پوائنٹس سے زائد کی تیزی ریکارڈ کی گئی تھی، ایک موقع پر انڈیکس 45978.14 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تاہم کاروبار کے اختتام پر یہ سطح برقرار نہ رہ سکی۔

    کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 176.55 پوائنٹس کی تیزی کے بعد 45903.23 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا، پورے کاروباری روز کے دوران کاروبار میں 0.39 فیصد کی بہتری دیکھی گئی اور 22 کروڑ 40 لاکھ 57 ہزار 124 شیئرز کا لین دین ہوا، سرمایہ کاروں کو 30 ارب روپے سے زائد کا فائدہ ہوا۔

  • سونے کی قیمت بڑھ گئی

    سونے کی قیمت بڑھ گئی

    باغی ٹی وی : ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 150 روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونےکی قیمت میں پانچ امریکی ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں نئی قیمت 1834 امریکی کرنسی ہو گئی ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کے بعد ملکی صرافہ مارکیٹوں لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، حیدر آباد، سکھر، راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد سمیت دیگر جگہوں پر فی تولہ سونے کی قیمت میں 150 روپے کا اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد نئی قیمت ایک لاکھ 12 بارہ ہزار 550 روپے ہو گئی ہے۔

    دوسری طرف فی تولہ کی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 128 روپے اضافے کے بعد 96 ہزار 493 روپے ہو گئی ہے۔

    اُدھر چاندی کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا، فی تولہ اور دس گرام کی قیمتیں بالترتیب 1300 روپے اور 1114.50 روپے پر برقرار ہے۔

  • سٹاک مارکیٹ سے پھر مایوسی والی خبر

    سٹاک مارکیٹ سے پھر مایوسی والی خبر

    سٹاک مارکیٹ سے پھر مایوسی والی خبر

    باغی ٹی وی : پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی نے ڈیرے ڈال لیے، رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران 204.32 پوائنٹس کی مندی ریکارڈ کی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان سٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال چھائی ہوئی ہے، کاروبار کا آغاز منفی انداز میں ہوا، صبح دس بجے تک انڈیکس میں 43.34 پوائنٹس کی تنزلی دیکھی گئی۔ تاہم اس دوران تیزی کی واپسی ہوئی اور ایک موقع پر انڈیکس 46 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کر کے 46047.56 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔

    تاہم کاروبار کے اختتام تک یہ سطح برقرار نہ رہ سکی اور 100 انڈیکس 204.32 پوائنٹس کی مندی کے بعد 45726.68 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا۔ پورے کاروباری روز کے دوران کاروبار میں 0.44 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی جبکہ 28 کروڑ 51 لاکھ 41 ہزار 893 شیئرز کا لین دین ہوا جس کے باعث سرمایہ کاروں کو 30 ارب روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

  • ایف بی آر کو ریفنڈ کے لیے کتنی درخواستیں‌ وصول ہوئیں‌، تفصیلات آگئیں

    ایف بی آر کو ریفنڈ کے لیے کتنی درخواستیں‌ وصول ہوئیں‌، تفصیلات آگئیں

    ایف بی آر کو ریفنڈ کے لیے کتنی درخواستیں‌ وصول ہوئیں‌، تفصیلات آگئیں

    باغی ٹی وی : فیف بی آر کے حکام کا کہنا ہے کہ ادارے کو ریفنڈز کیلئے 1 لاکھ 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں، اب تک 313 ارب روپے کے انکم ٹیکس ریفنڈز ایف بی آر نے ادا کرنے ہیں۔

    اس سلسلے میں‌ فیض اللّٰہ کموکا کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں بتایا گیا کہ 187 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کے بقایا جات ہیں جبکہ رواں مالی سال اب تک 99 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے ہیں، ایف بی آر نے اب تک 2205 ارب روپے کے محصولات جمع کئے ہیں۔

    بتایا گیا کہ ایف بی آر نے پہلے چھ ماہ میں ہدف سے زائد ٹیکس اکھٹا کیا، رواں مالی سال اب تک ایڈوانس ٹیکس وصول نہیں کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایکسپورٹرز کے ریفنڈز کی مد تمام بقایا جات ادا کردئیے گئے ہیں۔ جولائی سے ستمبر میں انکم ٹیکس ریٹرن کی وجہ سے انکم ٹیکس کلیکشن میں اضافہ ہوا۔

    رکن کمیٹی عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ صرف 18 فیصد ایف بی آر نے ریفنڈز جاری کئے ہیں،82 فیصد کو ابھی تک ریفنڈز ادا نہیں کئے گئے، گزشتہ مالی سال سے 5 فیصد ٹیکس گروتھ زیادہ ہونے پر بھی ٹیکس ہدف کا حصول ممکن نہیں، معیشت کے پہیے کو چلانے کیلئے سخت اقدامات سے پرہیز کیا جارہا ہے۔

    ایف بی آر حکام نے کہا کہ صنعتوں کو چلانے کیلئے بہتر اقدامات کئے ہیں لیکن محصولات میں اضافہ کیلئے اقدامات بھی کئے، ٹیکس آفسز کو ہدف نہیں دیئے گئے بلکہ ان کو ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، ہم مارکیٹ کو پھلنے پھولنے دے رہے ہیں اور آئندہ 6 ماہ میں اس میں مزید کام کریں گے۔

    رکن کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ ایف بی آر کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیکس ہدف حاصل کرنے کیلئے اقدامات کرے، ایف بی آر کی صنعتوں کو چلنے دینے والی بات حکومت کی ذمہ داری ہے، آنکھیں بند کرکے اہداف حاصل نہیں کئے جاسکتے، اس حکومت نے بڑے پیمانے پر قرضے لئے ہیں ایف بی آر محصولات کی کمی کی وجہ سے مزید قرض لے گی، حکومت کے قرض لینے سے خسارہ مزید بڑھ جائے گا۔

  • عوام پر پیٹرول بم گرادیا گیا

    عوام پر پیٹرول بم گرادیا گیا

    عوام پر پیٹرول بم گرادیا گیا

    باغی ٹی وی : وفاقی حکومت نے عوام پر مہنگائی کا بم گراتے ہوئے پٹرول 3 روپے 20 پیسے فی لٹر مہنگا کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے اضافے کی سفارش کی گئی تھی۔

    اوگرا کی جانب سے ہائی سپیڈ ڈیزل 2 روپے 95 پیسے، مٹی کا تیل 3، لائٹ ڈیزل 4 روپے 42 پیسے اور پٹرول 3 روپے 20 پیسے فی لٹر مہنگا کر دیا گیا ہے۔

    مٹی کا تیل 73 روپے 65 فی لٹر تھا، حالیہ اضافے سے نئی قمیت 76 روپے 65 پیسے ہو جائے گی۔ ہائی سپیڈ ڈیزل 110 روپے 24 پیسے فروخت ہو رہا تھا، اب قیمت بڑھنے کے بعد 113 روپے 19 پیسے ہو جائے گی۔

    پٹرول ابھی 106 روپے فی لٹر فروخت ہو رہا ہے۔ قیمت بڑھنے کے بعد پٹرول کی قیمت 109 روپے 20 پیسے فی لٹر ہو جائے گی۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل 31 دسمبر 2020ء کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹٰی (اوگرا) نے وزارت خزانہ کو پٹرول کی قیمت میں 10 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 37 پیسے اضافہ کی سمری بجھوائی تھی تاہم پیٹرولیم ڈویژن نے دونوں تجاویز مسترد کر دی تھیں۔

    اس کے بعد 31 دسمبر 2020ء کو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 31 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 80 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ جس کے بعد فی لیٹر پیٹرول کی نئی قیمت 106 روپے اور ڈیزل کی نئی قیمت 110 روپے 24 پیسے مقرر ہو دی گئی تھی۔

  • عالمی سطح پر تجارت کی مکمل بحالی کے لیے مزید کتنا وقت درکار ، آئی ایم ایف کی رپورٹ جاری

    عالمی سطح پر تجارت کی مکمل بحالی کے لیے مزید کتنا وقت درکار ، آئی ایم ایف کی رپورٹ جاری

    عالمی سطح پر تجارت کی مکمل بحالی کے لیے مزید کتنا وقت درکار ، آئی ایم ایف کی رپورٹ جاری

    باغی ٹی وی :عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 1950ء میں دنیا بھرمیں صرف اڑھائی کروڑ افراد بین الاقوامی سطح پر سفر کرتے تھے تاہم 2019ء کے اختتام تک عالمی سطح پر سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے تجاوز کر گئی۔

    رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک کی معیشت کا انحصار سفرو سیاحت کی صنعت پر ہے تاہم کووڈ۔19 کی وباء کے باعث زیادہ تر افراد سفر اور سیاحت سے گریزاں ہیں جس کی وجہ سے متعدد ممالک کی معیشتوں کو مسائل درپیش ہیں۔

    فرانس، سپین، امریکا، چین، اٹلی، ترکی، میکسیکو، جرمنی سمیت 20 ممالک ایسے ہیں جہاں ہر سال کروڑوں سیاح سیروتفریح کیلئے جاتے ہیں اور ان ممالک کی معیشت میں ٹورزم انڈسٹری کا اچھا خاصا حصہ ہوتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کووڈ۔19 سے قبل سفروسیاحت کی صنعت عالمی معیشت میں اہم حیثیت کی حامل تھی جو بین الاقوامی جی ڈی پی میں 10 فیصد کی شراکت دار اور 32 کروڑ سے زیادہ افراد کے روزگار کا سبب تھی۔

    رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث سفروسیاحت کے شعبہ سے 10 کروڑ کارکنوں کے روزگار براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ سفروسیاحت کے کئی چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباری اداروں میں کام کرنے والے افراد کے روزگار کو بھی سنگین خدشات درپیش ہیں۔

    واضح رہے کہ سیاحت کے شعبہ کی 54 فیصد افرادی قوت خواتین پر مشتمل ہے۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ سال 2019ء کی سطح تک بحال ہونے کیلئے ٹریول اینڈ ٹورزم انڈسٹری کو 2023ء تک انتظار کرنا ہو گا۔

  • وزیر اعظم کے  نوٹس کے باوجود اشیائے خوردو نوش کے بھاؤ آسمان سے باتیں کرنے لگے

    وزیر اعظم کے نوٹس کے باوجود اشیائے خوردو نوش کے بھاؤ آسمان سے باتیں کرنے لگے

    وزیر اعظم کے نوٹس کے باوجود اشیائے خوردو نوش کے بھاؤ آسمان سے باتیں کرنے لگے

    باغی ٹی وی : آٹا، گھی، چینی اور تیل کی قیمتیوں میں اضافے کا سلسلہ بدستور جاری ہے، پشاور میں مکس آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 1250 روپے کا ہو گیا، اوپن مارکیٹ میں چینی 100 روپے فی کلوفروخت ہورہی ہے۔

    گھی، چینی اور آٹا مہنگا، اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی کے طوفان سے عوام پریشان ہو گئے، بنیادی ضرورت کی اشیاء عوام کی پہنچ سے باہر ہو گئیں، یوٹیلٹی سٹورز اور سستا بازاروں سے سستی اشیاء غائب ہو گئیں۔

    پشاورکی اوپن مارکیٹ میں مکس آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 1100 سے بڑھ کر 1250 روپے کا ہو گیا، سپر آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 1280 سے بڑھ کر 1300 روپے ہوگئی ہے جبکہ 20 کلو فائن آٹا 1350 سے بڑھ کر 1400 روپے کا ہوگیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی سے قوت خرید جواب دے گئی ہے۔

    یوٹیلٹی سٹورز پر چینی کی قیمت 68 روپے فی کلو ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں چینی 100 روپے فی کلوفروخت ہورہی ہے، یوٹیلٹی سٹور پر سبسڈائزڈ گھی فی کلو 170 روپے میں فروخت ہورہا ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ایک کلو گھی 250 سے لیکر 280 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کل ہی وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں پی ڈی ایم تحریک، براڈ شیٹ اور مہنگائی میں کمی لانے پر غور کیا گیا۔ چینی ہنگامی بنیادوں پر درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، درآمد کے بعد چینی کی قیمت فوری کم ہوجائے گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ چینی اور پاور کے معاملے پر اہم فیصلے کرلیے گئے ہیں، چینی درآمد کرنے کے لیے فوری انتظامات کیے جائیں۔

  • پاکستان کی بڑی صنعتوں کی پیداوار خوش کن خبر لے آئی

    پاکستان کی بڑی صنعتوں کی پیداوار خوش کن خبر لے آئی

    پاکستان کی بڑی صنعتوں کی پیداوار خوش کن خبر لے آئی

    باغی ٹی وی : جاری مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) تک پاکستان کی بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 7.41 فیصد جبکہ نومبر 2020ء کے دوران 14.46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    پاکستان بیورو برائے شماریات پی بی ایس کے مطابق بڑی صنعتوں کی پیداوار اکتوبر کے مقابلہ میں نومبر کے مہینے میں 1.35 فیصد زیادہ رہی۔ جبکہ لارج سکیل انڈسٹری کی پیداوار میں نومبر 2019 کے مقابلے میں نومبر 2020ء میں 14.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    اعدادوشمار کے مطابق مالیاتی سال 2021 کے پہلے پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران ایل ایس ایم انڈیکس کے مجموعی آؤٹ پٹ میں گزشتہ برس کے پانچ ماہ کے مقابلے میں 7.41 فیصد اضافہ ہوا۔

    زیرجائزہ عرصے کے دوران جن شعبوں کی شرح نمو میں اضافہ ہوا اُن میں ٹیکسٹائل، خوراک، مشروبات اور تمباکو، پیٹرولیم، فارما سیوٹیکلز، کیمیکلز، نان مٹیلک منرلز پروڈکٹس، آٹو موبائلز، کھاد اور پیپر اینڈ بورڈ شامل ہیں۔خاص طور پر لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد بڑی صنعتوں کی شرح نمو میں نمایاں اضافہ ہوا، پی بی ایس کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا نومبر 2020ء تک کے عرصے میں گزشتہ برس کے مقابلے میں خوراک، مشروبات اور تمباکو سیکٹر کی پیداوار میں 21.28 فیصد اضافہ ہوا۔

    پانچ ماہ کے دوران ٹیکسٹائل سیکٹر کی پیداوار میں 2.4 فیصد، نان مٹیلک منرل پروڈکٹس کی پیداوار میں 20 فیصد اور فارما سیوٹیکلز مصنوعات کی پیداوار میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔