Baaghi TV

Category: کاروبار

  • 2020 میں پاکستانی معیشت کیسی رہی

    2020 میں پاکستانی معیشت کیسی رہی

    2020 میں پاکستانی معیشت کیسی رہی

    باغی ٹی وی ،کرونا نے جہاں‌دنیا بھر میں اپنا اثر دکھایا وہاں پاکستان پر کی معیشت پر بھی اس کے وار جاری رہے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی سال 2021ء میں پاکستان کی معیشت کی مرحلہ وار بحالی متوقع ہے۔
    یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی پالیسی ٹریکر نامی رپورٹ میں کہی گئی ہے، اس رپورٹ میں پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے مریض سے لے کر اب تک کی صورت حال، وبا سے نمٹنے کیلئے حکومتی اقدامات اور مستقبل کی صورت حال کی تفصیلی عکاسی کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جون 2020ء میں پاکستان میں وائرس کے پھیلائو کی یومیہ شرح چھ ہزار کیسز کی بلند ترین سطح پر تھی، حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں جولائی سے نئے کیسوں کی تعداد میں کمی آنا شروع ہوئی اور اگست اور ستمبر میں یومیہ کیسز کی تعداد ایک ہزار سے کم ہو گئی۔

    رپورٹ کے مطابق نومبر کے وسط سے کورونا کے مثبت کیسوں کی تعداد میں اضافہ کا رحجان شروع ہوا جو تاحال جاری ہے، کوویڈ19 کے ان دھچکوں نے ملکی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، مالی سال 2020ء کیلئے پاکستان کی اقتصادی بڑھوتری کا اندازہ منفی 0.4 فیصد لگایا گیا تھا تاہم آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ مالی سال 2021ء میں پاکستان کی معیشت کے مرحلہ وار بحالی کی راہ پر گامزن ہونے کی توقع ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل کے وسط سے وفاقی حکومت نے صوبوں کی مشاورت و تعاون سے لاک ڈائون میں نرمی کیلئے انتظامات کئے، موسم گرما کے اختتام تک پابندیوں میں مزید نرمی کی گئی، تعلیمی ادارے، تفریحی مقامات، ریستوران، مالز، ریٹیل آئوٹ لیٹس اور کاروبار کو معیاری حفاظتی طریقہ کار کے مطابق کھولا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے معمر افراد اور فرنٹ لائن طبی عملہ کو وائرس سے نمٹنے کیلئے ویکیسن کی فراہمی کا منصوبہ بنایا ہے، پاکستان اضافی ویکسین کی فراہمی کیلئے تیارکنندگان اور عالمی بینک و ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے اداروں سے بھی رابطے میں ہے ، پاکستان نے اس ضمن میں 250 ملین ڈالر کی رقم بھی مختص کی ہے۔ ویکسین کی فراہمی سال 2020ء کی دوسری سہ ماہی میں متوقع ہے۔

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ میں کورونا وائرس کی عالمگیر وبا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی حکومت کی جانب سے مالیاتی، زری و میکرو فنانشنل اقدامات کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کی حکومت نے معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کو وبا کے اثرات سے بچانے اور معیشت کا پہیہ چلانے کیلئے 24 مارچ کو 1240 ارب روپے کا امدادی پیکج جاری کیا جس پر مکمل عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

    چھوٹے اور درمیانہ درجہ کے کاروبار اور زراعت کے شعبوں کو معاونت فراہم کی گئی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس ضمن میں کئی سکیمیں متعارف کرائی ہیں، ایندھن کی قیمتوں میں کمی لائی گئی جس پر 70 ارب روپے خرچ ہوئے، کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کیلئے ادویات، آلات اور سامان کی درآمد پر درآمدی ڈیوٹیاں ختم یا کم گئیں۔

    اسی طرح سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کو مرحلہ وار 13 فیصد سے کم کر کے سات فیصد کر دیا، ہسپتالوں میں سہولیات فراہم کرنے کیلئے قرضے فراہم کئے گئے، روزگارکے تحفظ اور کاروباری اداروں کو نئے پراجیکٹس شروع کرنے کیلئے آسان قرضہ جات فراہم کئے گئے
    بعض ماہرین معیشت کے مطابق سال 2020 عوا م اور معیشت پر بہت بھاری گزرا ہے۔عوام بدحال صنعت کمزور اور زراعت زمین بوس ہو گئی ہے اور اگر موجودہ صورتحال جاری رہی توآنے والے سال میں بھی کسی بڑی تبدیلی کاامکان نہیں ہے۔عوام کے بعد سب سے زیادہ زرعی شعبہ متاثر ہوا ہے جس کی وجوہات میں کرونا وائرس، ٹڈی دل کے حملے،موسمیاتی تبدیلیاں، غلط پالیسیاں و فیصلے اور مافیا کی تباہ کاری شامل ہے۔ شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ 2020 میںعوام کو نوکریاں دینے کا وعدہ تو پورا نہیں ہوا بلکہ کروڑوں بے روزگار اور لاکھوں کاروبار دیوالیہ ہو گئے ، مہنگائی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے اور بجلی و گیس کے بلوں کی وصولی بھتہ خوری کی صورت اختیار کر گئی۔

    ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے عوام پر ٹیکس کا مزید بوجھ لادا گیا جبکہ اشرافیہ کو اربوں روپے کا ٹیکس ریلیف دینے کا سلسلہ جاری رہا۔اسی سال میں کاشتکاروں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جس میں کپاس گندم اور مکئی کی فصلیںقابل زکر ہیں۔ فصلوں کی تباہی میں سرکاری اداروں نے بھی نئی اور بہتر اقسام کا بیج بنانے کے بجائے دعووں کا انحصار کر کے اپنا کردار ادا کیاجبکہ سیڈ مافیا نے کاشتکاروں کو غیر معیاری بیج کی فراہمی بڑھا دی۔

    سب سے زیادہ نقصان کپاس کی فص کو ہوا جو کئی دہائیوں میں ایک ریکارڈ ہے مگر ان معاملات کو حل کرنے کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہ آ سکا نہ مختلف صوبے گندم کی امدادی قیمت پر متفق ہو سکے جس کی وجہ سے اگلے سال بھی زرعی اشیاء کی درامد پر بھاری زرمبادلہ خرچ کرنا ہو گا۔ زرعی شعبہ صنعتی و تعمیراتی صنعت سے زیادہ اہم ہے مگر اسے وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جس کا یہ مستحق ہے

  • ذخیرہ اندوزوں اور ملاوٹ مافیا کیخلاف پنجاب حکومت کا بڑا آپریشن

    ذخیرہ اندوزوں اور ملاوٹ مافیا کیخلاف پنجاب حکومت کا بڑا آپریشن

    ذخیرہ اندوزوں اور ملاوٹ مافیا کیخلاف پنجاب حکومت کا بڑا آپریشن

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے ذخیرہ اندوزوں اور ملاوٹ مافیا کیخلاف گھیرا تنگ کردیا۔ گزشتہ 3 ماہ کے دوران کارروائیوں کی رپورٹ جاری کر دی گئی۔

    پنجاب حکومت کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرانفروشی پر 2 ہزار چار سو چھپن افراد گرفتار، دو ہزار پانچ سو تیئس مقدمات درج اور بارہ کروڑ چوراسی لاکھ روپے کے جرمانے کئے گئے۔

    رپورٹ کے مطابق 20 ہزار چینی کی بوری، 302 بوری چاول، 3130 بوری گندم، 3629 آٹے کے تھیلے اور 35 ہزار کلو ذخیرہ کیا گیا گھی بھی برآمد کیا گیا۔ ملاوٹ مافیا کیخلاف کارروائیوں کے دوران 3118 یونٹس سیل کیے گئے۔ ملاوٹ مافیا کیخلاف 148مقدمات درج اور 15 کروڑ روپے کے جرمانے کیے گئے۔

    سات ہزار کلو گرام مضر صحت گوشت، 14 لاکھ لیٹر دودھ، 13 سو کلو گرام مصالحہ جات تلف کئے گئے۔ 23 سو کلو گرام مضر صحت دالیں، 10 ہزار کلو گرام گھی اور 34 سو لیٹر پانی تلف کیا گیا۔

    چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق اشیائے خورونوش کی قیمتوں اور دستیابی کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور ملاوٹ کے مرتکب عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

    انہوں نے ڈی جی فوڈ اتھارٹی کو ہدایت دی کہ اشیائے خورونوش میں ملاوٹ کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کیا جائے۔ ملاوٹ کے جرم کے مرتکب عناصر لوگوں کی صحت اور زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ ایسے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔چیف سیکرٹری نے کہا ہے کہ اشیا کی طلب اور رسد کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی منصوبہ بندی از حد ضروری ہے۔ ڈپٹی کمشنرز ہر سہولت بازار سے استفادہ کرنے والے صارفین کی تعداد سے متعلق جامع رپورٹ بھجوائیں

    معاون خصوصی ملک عمر فاروق نے سہولت بازارمیں غیر معیاری آٹا کی شکایت پر مقامی اعظم فلور ملز کی انتظامیہ کو 25ہزار روپے جرمانہ کرتے ہوئے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کو ہدایت کی کہ غیر معیاری آٹا کی سپلائی کرنے والے فلور ملز مالکان کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے۔

    انکا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی سر براہی میں حکومت پنجاب عوام کو سستی اور معیاری اشیائے کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے اگر کسی ملز یا تاجر کی جانب سے ناقص چیزوں کی سپلائی یا فروخت کی شکایت ملی تو آئند بھی انکے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔معاون خصوصی نے کسوکے روڑ اور ماڈل بازار میں لگائے جانے والے سستے بازاروں کا دورہ کیا اور وہاں پر چیزوں کی قیمتوں اور کوالٹی کا خصوصی جائزہ لیا

  • سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اربوں ڈوب گئے

    سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اربوں ڈوب گئے

    سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اربوں ڈوب گئے

    باغی ٹی وی : پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 418 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، سونے کی فی تولہ قیمت میں 100 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    تفصیل کے مطابق کاروباری ہفتے کے دوسرے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ دوارن کاروبار ایک وقت میں انڈیکس 200 پوائنٹس سے اوپر بھی چلا گیا۔

    مگر اختتام پر مارکیٹ 418 پوائنٹس کی کمی کے بعد 100 انڈیکس 43 ہزار 255 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ آج ہونے والی گراوٹ کے سبب سرمایہ کاروں کے لگ بھگ 40 ارب روپے سے زائد ڈوب گئے

  • روپے نے ڈالرکو  پھر لگائی روک

    روپے نے ڈالرکو پھر لگائی روک

    روپے نے ڈالرکو پھر لگائی روک

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر 10 پیسے کمی کے بعد 160 روپے 60 پیسے پر فروخت ہوا جبکہ انٹربینک میں ڈالر صرف ایک پیسہ اضافے سے 160 روپے 38 پیسے پر بند ہوا۔

    دوسری جانب سونے کی فی تولہ قیمت میں 100 روپیہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت ایک لاکھ 13 ہزار 550 ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ دس گرام سونے کی قیمت 85 روپے اضافے کے بعد 97 ہزار 350 ہو گئی ہے۔
    واں ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق انٹر بینک میں امریکی ڈالر 23 پیسے سستا ہو گیا جس کے بعد قیمت 160 روپے 55 پیسے سے کم ہو کر 160 روپے 32 پیسے ہو گئی ہے
    واضح ‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگائی تھی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی

  • انڈوں، آٹا اورٹماٹرکی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا وزیر خزانہ نے

    انڈوں، آٹا اورٹماٹرکی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا وزیر خزانہ نے

    انڈوں، آٹا اورٹماٹرکی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا وزیر خزانہ نے

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے انڈوں، آٹا اورٹماٹرکی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ضروری اشیا کی قیمتوں میں کمی کیلئے تمام ممکنہ اقدامات یقینی بنانے اورصوبائی حکومتوں کو ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اورسمگلنگ کے تدارک کیلئے گندم کی قیمتوں پرکڑی نظررکھنے کی ہدایت کی ہے تاکہ عام آدمی کومناسب نرخوں پرگندم اورآٹا کی بلاتعطل فراہمی کوممکن بنایا جاسکے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیرصنعت و پیداوار حماد اظہر، معاون خصوصی برائے محصولات ڈاکٹر وقار مسعود، صوبائی چیف سیکرٹریز، سیکرٹری منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، سیکرٹری صنعت وپیداوار، چئیرمین ایف بی آر، چئیرمین ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان، ایڈیشنل سیکرٹری قومی غذائی تحفظ وتحقیق، ایم ڈی پاسکو، ایم ڈی یوٹیلیٹی سٹورز کارپویشن آف پاکستان، پاکستان بیوروبرائے شماریات کے ممبران اوروزارت خزانہ کے سینئیرافسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے رحجان کاجائزہ لیاگیا۔

  • وفاقی حکومت نے جون 2021ء تک نئی قومی بجلی پالیسی لانے کا فیصلہ کر لیا

    وفاقی حکومت نے جون 2021ء تک نئی قومی بجلی پالیسی لانے کا فیصلہ کر لیا

    وفاقی حکومت نے جون 2021ء تک نئی قومی بجلی پالیسی لانے کا فیصلہ کر لیا

    باغی ٹی وی رپورٹ : وفاقی حکومت نے جون 2021ء تک نئی قومی بجلی پالیسی لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری لی جائے گی۔

    تفصیل کے مطابق حکومت نے نئی قومی بجلی پالیسی لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری لی جائے گی۔ اس سلسلے میں قومی بجلی پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔

    مسودے میں بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ بروقت کرنے، سہ ماہی اور ماہانہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ میں تاخیر نہ کرنے سمیت 6 رہنما اصول تجویز کئے گئے ہیں۔ مسابقت، شفافیت اور استعداد کار رہنما اصولوں میں شامل ہیں۔

    ماحولیاتی ذمہ داری اور مقامی تحقیق وترقی رہنما اصولوں میں شامل ہیں۔ پاور سیکٹر کیلئے مربوط انرجی پلان پالیسی ڈرافٹ کا حصہ ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت بجلی کی پیداوار اور ترسیل پر توجہ دی جائے گی۔ پالیسی کے تحت مسابقت اور شفافیت کو فروغ دیا جائے گا.

  • روپے کے مقابلے ڈالر پھر سر اٹھانے لگا

    روپے کے مقابلے ڈالر پھر سر اٹھانے لگا

    روپے کے مقابلے ڈالر پھر سر اٹھانے لگا

    باغی ٹی وی رپورٹ : ملک بھر میں رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران امریکی ڈالر کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو گیا۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں امریکی ڈالر 6 پیسے مہنگا ہو گیا جس کے بعد قیمت 160 روپے 32 پیسے سے بڑھ کر 160 روپے 38 پیسے ہو گئی ہے.
    رواں ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق انٹر بینک میں امریکی ڈالر 23 پیسے سستا ہو گیا جس کے بعد قیمت 160 روپے 55 پیسے سے کم ہو کر 160 روپے 32 پیسے ہو گئی ہے
    واضح ‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگائی تھی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی

  • آٹے کا 20 کلو کا تھیلا مزید مہنگا ہو گیا

    آٹے کا 20 کلو کا تھیلا مزید مہنگا ہو گیا

    باغی ٹی وی :آٹے کا 20 کلو کا تھیلا مزید مہنگا ہو گیا
    آٹے کا 20 کلو کا تھیلا ساڑھے 5 روپے مہنگا ہو گیا .. ادارہ شماریات نے ہفتہ واری رپورٹ جاری کردی، جس کے مطابق ایک ہفتے میں آٹے کا 20 کلو کا تھیلا ساڑھے پانچ روپے مہنگا ہوگیا۔

    رپورٹ کے مطابق انڈے 6 روپے درجن اوپر چلے گئے، کوئٹہ میں 230 روپے درجن تک پہنچ گئے، ٹماٹر تقریباً ساڑھے 8 روپے فی کلو مہنگے ہوگئے.اس کے علاوہ آلو 6 روپے 71 پیسے، پیاز تقریباً 4 روپے اور مرغی کے گوشت کی قیمت 15روپے فی کلو کم ہوئی۔

  • بھارت کو پھر منہ کی کھانی پڑی ، پاکستانی چاول بھارتی چاول کو پیچھے چھوڑ گیا

    بھارت کو پھر منہ کی کھانی پڑی ، پاکستانی چاول بھارتی چاول کو پیچھے چھوڑ گیا

    بھارت کو پھر منہ کی کھانی پڑی ، پاکستانی چاول بھارتی چاول کو پیچھے چھوڑ گیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق :بھارت کو پھر منہ کی کھانی پڑی ، رواں سال دنیا بھر میں کورونا وائرس کے سبب معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئی اور درآمدات، برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

    پاکستان کے باسمتی کی ایکسپورٹ اگرچہ سال2019 کے مقابلے میں تھوڑی کم رہی لیکن کاروبار افراد کا کہنا ہے کہ کورونا اور بھارتی سازش کے باوجود یہ اعدادوشمار کافی حد تک حوصلہ افزا ہیں۔

    ادارہ شماریات کے مطابق سال 2020 میں چاول کی ایکسپورٹ2019 کے مقابلے میں 16 فیصد کم رہی۔ سال 2020 میں 43 لاکھ 75ہزار 445 ٹن چاول برآمد کیا گیا۔

    سال 2019 میں 49 لاکھ 8 ہزار524 ٹن چاول برآمد کیا گیا تھا۔ مشکل حالات کےباوجود پاکستانی باسمتی چاول کی ایکسپورٹ زیادہ متاثرنہیں ہوئی۔

    پاکستان نے باسمتی کے علاوہ دیگراقسام کےچاول برآمد کر کے بھی کثیرزرمبادلہ کمایا۔ سال 2020 میں 2 ارب 34 کروڑ21 لاکھ 61 ہزارکا زرمبادلہ پاکستان آیا۔

    سال 2019 میں 2 ارب 48 کروڑ94 لاکھ 50 ہزار تھا۔ سب سےزیادہ کمی 46 فیصد جنوری 2020 میں ریکارڈ کی گئی۔

    اعدادوشمار کے مطابق مجموعی طورپر3 لاکھ 64 ہزار169 ہزارٹن چاول ایکسپورٹ کیا گیا۔ جنوری 2019 میں اسی مدت میں 4 لاکھ 95 ہزار280ہزارٹن برآمد کیا گیا تھا۔

    اکتوبر2020 میں چاول ایکسپورٹ میں 45 فیصدکمی ریکارڈکی گئی اور 2 لاکھ 19 ہزار810 ٹن چاول برآمد کیا گیا۔

    سال 2019 میں اسی ماہ 3 لاکھ 17 ہزار222 ٹن چاول برآمد ہوا۔ اگست 2020 میں چاول ایکسپورٹ 41 فیصد گر کر ایک لاکھ 67 ہزار793 ٹن تک آگئی۔ اسی مدت سال 2019 میں 2 لاکھ 49 ہزار70 ٹن چاول برآمد کیا گیا تھا

  • ڈالر کے مقابلے روپیہ مضبوط ہونے لگا

    ڈالر کے مقابلے روپیہ مضبوط ہونے لگا

    ڈالر کے مقابلے روپیہ مضبوط ہونے لگا

    باغی ٹی وی رپورٹ :ملک بھر میں کاروباری ہفتے کے آخری روز امریکی ڈالر کی قیمت میں مزید 23 پیسے کی تنزلی دیکھی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں مسلسل 6 ماہ کے دوران ترسیلات زر کی ریکارڈ آمد کے بعد امریکی ڈالر کی قیمت میں اُتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے، گزشتہ ہفتے کے دوران روپیہ تگڑا ہوا ہے جبکہ امریکی کرنسی کی قدر گرتی جا رہی ہے۔

    رواں ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق انٹر بینک میں امریکی ڈالر 23 پیسے سستا ہو گیا جس کے بعد قیمت 160 روپے 55 پیسے سے کم ہو کر 160 روپے 32 پیسے ہو گئی ہے
    واضح ‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگائی تھی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی