Baaghi TV

Category: کاروبار

  • سٹاک مارکیٹ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا

    سٹاک مارکیٹ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا

    سٹاک مارکیٹ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا

    باغی ٹی و ی : سٹاک مارکیٹ میں 176 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر مزید 30 پیسے سستا ہو گیا۔

    کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری کا رجحان تو رہا مگر کچھ سرمایہ کاروں نے شیئرزفروخت کرکے منافع کمانے کو ترجیح دی۔

    آج مجموعی طور پرحصص کے خریداروں کا پلڑا بھاری رہا۔ یہی وجہ ہے کہ کاروباری دن کے اختتام پر مارکیٹ 176 پوائنٹس کے اضافے سے 100 انڈیکس 40 ہزار 340 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    آج ہونے والی تیزی کے باعث حصص کی مالیت میں 25 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    دوسری جانب روپے کے مقابلے ڈالر کی قیمت میں کمی دیکھی گئی۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 30 پیسے کمی کے بعد 162 روپے 70 پیسے میں فروخت جبکہ انٹر بینک میں ڈالر 11 پیسے کمی کے بعد 162 روپے 37 پیسے پر بند ہوا

  • ڈالر کی قیمت میں کمی

    ڈالر کی قیمت میں کمی

    ڈالر کی قیمت میں کمی

    باغی ٹی وی : انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 40 پیسے اور اوپن مارکیٹ میں 50 پیسے سستا ہوگیا، پاکستانی کرنسی کے نرخ 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ڈالر مزید 45 پیسے سستا ہوکر 5 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، رواں ماہ امریکی کرنسی کے نرخ 2.88 روپے کم ہوچکے ہیں۔ آج (پیر کو) ڈالر، یورو، پاؤنڈ، ریال، درہم سمیت دیگر کرنسیوں کے نرخ یہ رہے۔

  • روپیہ ڈالر کے مقابلے تگڑا ہونے لگا

    روپیہ ڈالر کے مقابلے تگڑا ہونے لگا

    روپیہ ڈالر کے مقابلے تگڑا ہونے لگا

    باغی ٹی وی : ملک بھر میں گزشتہ چار ماہ کے دوران مسلسل بڑھتے ہوئے ترسیلات زر کے اثرات ملکی کرنسی پر پڑنے لگے، روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں گراوٹ کا تسلسل جاری ہے، آج ایک مرتبہ پھر امریکی کرنسی 62 پیسے سستی ہو گئی۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں رواں ہفتے کے چوتھے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں ایک مرتبہ پھر امریکی ڈالر کی قدر میں 62 پیسے کی گراوٹ دیکھی گئی اور قیمت 163 روپے 48 پیسے سے کم ہو کر 162 روپے 86 پیسے ہو گئی ہے۔
    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی

  • فی تولہ سونے کی قیمت برقرار

    فی تولہ سونے کی قیمت برقرار

    باغی ٹی وی : پاکستان کی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کوئی ردوبدل دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ گزشتہ روز کی طرح فی تولہ سونے کی قیمت 116500 پر برقرار رہی۔

    صرافہ مارکیٹ کی جانب سے سونے کی قیمتوں بارے جاری اعدادوشمار کے مطابق 10 گرام چوبیس قیراط سونے کی قیمت 99880 جبکہ بائیس قیراط سونے کی قیمت 91557 پر مستحکم رہی۔

    عالمی سطح پر سونے کی قیمت دو روپے بڑھی جبکہ فی تولہ چاندی کی قیمت میں بھی 30 روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کے علاوہ 10 گرام چوبیس قیراط چاندی کی قیمت میں پچیس اعشاریہ 72 پیسے کا اضافہ ہوا

  • مہنگائی آسمانوں پر آٹا چینی ، دالوں اور سبزیوں کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر

    مہنگائی آسمانوں پر آٹا چینی ، دالوں اور سبزیوں کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر

    مہنگائی آسمانوں پر آٹا چینی ، دالوں اور سبزیوں کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر

    باغی ٹی وی: ملک میں جاری مہنگائی کی نئی لہر نے عوام کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا، آٹا، چینی، دالوں اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، عوام رونے پر مجبور ہوگئے۔

    حکومت نے مہنگائی پر قابو کرنے کی کوششیں شروع کی تو کراچی میں اشیاء خوردونوش کی قیمتیں کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے لگی، مہنگائی کی نئی لہر آنے پر عوام چلا اٹھے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ 2019 کی پرائز لسٹ پر زبرستی عملدرآمد کرانا سمجھ سے بالا تر ہے، ایسے حالات میں کاروبار چلانا تقریبا ناممکن ہوچکا ہے۔

    ایک روز کے دوران بھنڈی فی کلو 40 روپے اضافے سے 160 روپے کلو، تورئی 20 روپے اضافے سے 140 روپے کلو، ٹماٹر 20 روپے اضافے سے 160 روپے کلو، آلو 10 روپے اضافے سے 70 سے 80 روپے کلو، مرغی کا گوشت 10 روپے اضافے سے 320 سے 330 روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔

    اسی طرح صوبائی دارلحکومت کوئٹہ میں مہنگائی نے اپنے پر پھیلانا شروع کر دیئے۔ کرایانے کی دکانوں میں آٹا، چینی، دالوں سمیت دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے عوام پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے، اچانک اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے غریب اور متوسط طبقہ بری طرح متا ثر ہوا ہے۔

    دوسری طرف حکومت نے مہنگائی کو روک لگانے کےلیے مصنوعی مہنگائی کے ذمہ داروں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ،جرمانے ،چالان اورپھرگرفتاریاں بھی ہوں گی ،اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت کا مصنوعی مہنگائی کے ذمہ داروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ، نرخ نامے نمایاں جگہ آویزاں نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    صوبائی وزیر صنعت وتجارت اسلم اقبالنے گرانفروشوں کیخلاف کریک ڈائون کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کردیں۔ صوبائی وزیرکی جانب سے جاری کی گئی ہدایات میں کہا گیا کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس مارکیٹوں میں موجود رہ کر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، صارفین کے حقوق کے تحفظ کیلئے متعلقہ ادارے اور انتظامیہ اپنا فرض پورا کریں۔

  • پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی ریکارڈ کی گئی

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی ریکارڈ کی گئی

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز 588 پوائنٹس کی مندی ریکارڈ کی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان سٹاک ایکس چینج کا آغاز مثبت ہوا، ابتداء میں مارکیٹ 200 پوائنٹس سے زائد بڑھی مگر بعد میں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

    کاروبار کے اختتام پر مارکیٹ مجموعی پر 588 پوائنٹس کمی کے بعد 100 انڈیکس 40 ہزار 209 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ مندی کے باعث سرمایہ کاروں کے 90 ارب روپے سے زائد ڈوب گئے ۔

  • ڈالر ہوا سستا

    ڈالر ہوا سستا

    ڈالر ہوا سستا

    باغی ٹی وی : ملک بھر میں رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر 3 پیسے سستا ہو گیا، 26 اگست کے بعد امریکی کرنسی سستی ہونے کے ملکی قرضوں میں 500 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز میں امریکی کرنسی 3 پیسے سستی ہو گئی جس کے بعد ڈالر کی قیمت 163 روپے 84 پیسے سے کم ہو کر 163 روپے 81 پیسے ہو گئی ہے۔

    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی

  • سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی

    سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی

    باغی ٹی وی : پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مسلسل دوسرے کاروباری روز کے دوران زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد 40 ہزار کی نفسیاتی حد ایک مرتبہ پھر بحال ہو گئی۔

    ملکی سیاسی افق پر چھائی غیر یقینی صورتحال کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران حصص مارکیٹ میں مندی دیکھنے کو مل رہی تھی۔ تاہم گزشتہ دو کاروباری روز کے دوران غیر یقینی صورتحال ختم ہونے کے بعد تیزی کی واپسی ہوئی ہے۔

    رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روز کے دوران حصص مارکیٹ میں صبح دس بجے تک انڈیکس میں 192 پوائنٹس کی تیزی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 40 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کر گیا تھا۔

    دوپہر تین بجے کے بعد سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کی واپسی ہوئی اور انڈیکس میں 530.25 پوائنٹس کی تیزی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    کاروبار کے اختتام پر پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 503.66 پوائنٹس کی تیزی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 40353.62 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا۔،پورے کاروباری روز کے دوران کاروبار میں 1.26 فیصد کی بہتری ریکارڈ کی گئی اور پانچ حدیں بحال ہوگئیں، بحال ہونے والی حدوں میں 39900، 40000، 40100، 40200، 40300 پوائنٹس کی حدیں بحال ہوئیں۔

    واضح ‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی

  • ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری

    ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری

    ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری

    رواں ماہ کے دوسرے ہفتے کے دوران روپے کی قدر میں اضافہ کا سلسلہ جاری ہے، ایک مرتبہ پھر امریکی ڈالر کی قدر میں 25 پیسے سستا ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے، ایک سال کے دوران ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں چار ارب ڈالرز سے زائد کا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ جس کے باعث گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ڈالر تنزلی کا شکار ہے۔

    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی

  • امریکی کرنسی کی تنزلی کا سلسلہ جاری

    امریکی کرنسی کی تنزلی کا سلسلہ جاری

    امریکی کرنسی کی تنزلی کا سلسلہ جاری

    ملک بھر میں امریکی کرنسی کی تنزلی کا سلسلہ جاری ہے جس کے بعد روپے کی قدر میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روز کے دوران ایک مرتبہ پھر ڈالر 7 پیسے سستا ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ ایک سال کے دوران ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے، ایک سال کے دوران ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں چار ارب ڈالرز سے زائد کا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ جس کے باعث گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ڈالر تنزلی کا شکار ہے۔

    رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روز کے دوران سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر مزید 7 پیسے سستا ہو گیا، امریکی کرنسی کی نئی قیمت 164 روپے 04 پیسے سے کم ہو کر 163 روپے 97 پیسے ہو گئی ہے÷
    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی