Baaghi TV

Category: کاروبار

  • اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی سمری ارسال کردی

    اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی سمری ارسال کردی

    اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11 روپے تک کمی کی سمری وزارت پٹرولیم کو بھجوادی ہے۔

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کی سمری وزارت پٹرولیم کو بھجوادی گئی ہے جس کے مطابق پٹرول 7 روپے 6 پیسے اور مٹی کا تیل 11 روپے 88 پیسے سستا کرنے کی سفارش کی گئی۔

    اوگرا کی جانب سے وزارت پٹرولیم کو بھجوائی گئی سمری میں لائٹ ڈیزل 9 روپے 37 پیسے سستا کرنے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 پیسے مہنگا کرنے کی سفارش کی گئی ہے، قیمتوں میں ردوبدل کا حتمی فیصلہ حکومت کرے گی جب کہ قیمتوں میں ردوبدل پر عملدرآمد یکم جون سے ہوگا۔

  • تاجر رہنما نے حکومت سے لاک ڈاون کے خاتمے کا مطالبہ کردیا

    تاجر رہنما نے حکومت سے لاک ڈاون کے خاتمے کا مطالبہ کردیا

    تاجر رہنما نے حکومت سے لاک ڈاون کے خاتمے کا مطالبہ کردیا
    باغی ٹی وی : چیئرمین بزنس مین گروپ اور سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس سراج قاسم تیلی نے حکومت سے لاک ڈاون کے خاتمے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری لاک ڈاوَن ختم کیا جائے تاکہ پوری قوت سے کاروباری سرگرمیاں بحال ہوسکیں۔ ہماری معیشت پہلے ہی بحران سے دوچار ہے، یہ مزید تباہی برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔

    چیئرمین بزنس مین گروپ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کہیں جانے والانہیں ہے، معمولات زندگی اور کاروبار بحال کرنے ہوں گے۔

    سراج قاسم تیلی نے کہا کہ ملک کوکورونا وبا سے اور معاشی بحران سے بچانا ہوگا۔

    یاد رہے کہ 18 مئی کو سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ نے ہفتہ اور اتوار کو بھی ملک کی تمام چھوٹی مارکٹیں کھلی رکھنے کا حکم دیدیا،دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیا وبا نے حکومتوں سے وعدہ کر رکھا ہے وہ ہفتہ اور اتوار کو نہیں آئے گی؟ کیا حکومتیں ہفتہ اتوار کو تھک جاتی ہیں؟ کیا ہفتہ اتوار کو سورج مغرب سے نکلتا ہے؟تحریری حکم دیں گے ہفتہ اور اتوار کو تمام چھوٹی مارکیٹیں کھلی رکھی جائیں،

    عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ کو فوری عدالت طلب کرلیا،عدالت نے سندھ حکومت سے بڑے شاپنگ مالز کھولنے کی ہدایات طلب کرلیں ، ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ حکومت آج سے شاپنگ مالز کھولنے پر غٖور کررہی ہے جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ باقی مارکیٹیں کھلی ہوں گی تو شاپنگ مالز بند کرنے کا کیاجواز ہے ؟

    خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 59ہزار 151 تک پہنچ گئی ہےاور1225 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے نئے اوقار کار  کا اعلان کردیا

    اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے نئے اوقار کار کا اعلان کردیا

    اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے نئے اوقار کار کا اعلان کردیا

    باغی ٹی وی : اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رمضان المبارک کے بعد بینکوں کے نئے اوقات کار جاری کر دیے ہیں۔

    اسٹیٹ بنک کے جانب سے جاری کردہ اوقات کے مطابق تمام بینک اور مالیاتی ادارے پیر سے جمعرات صبح 10 سے سہ پہر ساڑھے 4 بجے تک کھلیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق بینکوں اور مالیاتی اداروں میں 1:30 سے 2 بجے تک نماز اور کھانے کا وقفہ ہوگا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق جمعہ کے روز بینکوں کے اوقات کار صبح 10 بجے سے ایک بجے تک ہوں گے۔

    قبل ازیں اسٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے رمضان کے دوران بینکوں کے اوقات کار کا اعلان کیا گیا تھا۔

    تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کے دوران پیر تا جمعرات صبح دس بجے سے1:30 تک بینکوں کے لیے بغیر وقفہ کام کے اوقات مقرر کیے گئے تھے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جمعہ کو بینکوں کے اوقات کار 10 سے 1 تک مختص کیے گئے۔

    ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ میں چوالیس ہزار چار سو پندرہ روپے موجود ہونے پر زکٰوة کٹوتی کیے جانے کا بھی بتایا گیا تھا۔اسٹیٹ بینک نے اس سال زکوٰۃ کا نصاب 46329 روپے مقررکیا تھا۔ بچت کھاتوں میں 46329 سےزیادہ رقم ہوتواس پرڈھائی فیصد زکوٰۃ کٹوتی کا اعلان کیا گیا تھا

  • . صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال سے پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے دفتر میں تاجروں ،صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کی الگ الگ ملاقاتیں

    . صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال سے پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے دفتر میں تاجروں ،صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کی الگ الگ ملاقاتیں

    کاروباری سرگرمیوں کی بحالی، ایس اوپیز پر عملدرآمد اور سرمایہ کاری کے امور پر بات چیت. تاجروں اور صنعت کاروں کی ذمہ داری ھے کہ ایس اوپیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے. ، اپنے بزرگوں، بچوں، دوستوں اور عزیز واقارب کواس بیماری سے محفوظ بنانا ھے. لوگوں سے بھی باربار اپیل ھے کہ اپنے بچوں کو مارکیٹوں میں نہ لے کر آئیں. احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ھی کرونا کو شکست دی جاسکتی ھے. حکومت کو ایک طرف اپنے لوگوں کو کرونا سے بچانااور دوسری جانب معاشی بد حالی کا سامنا ھے. حکومت دونوں محاذوں پر دانشمندی سے آگے بڑھ رھی ھے. اللہ تعالیٰ کے فضل، اداروں کی محنت اور عوام کے تعاون سے اس آزمائش میں سرخرو ہونگے. حکومت کاروباری طبقہ، محنت کشوں اور صنعت کاروں کو درپیش مسائل سے آگاہ ھے.

    عوام کا رش دیکھتے ہوئے مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھانے گئے ہیں، صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال
    مشکل کی اس گھڑی میں تاجروں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ کھڑے ہیں، میاں اسلم اقبال
    ملاقات کرنے والوں میں چئیرمین پاکستان فٹ وئیر مینو فیکچرز ایسوسی ایشن ایم یونس، ڈائریکٹر فلائنگ ٹشوزقاسم خان، شیپس کے خواجہ ندیم، میاں افتخار اور دیگر شامل تھے

  • سٹاک مارکیٹ میں مندی

    سٹاک مارکیٹ میں مندی

    سٹاک مارکیٹ میں مندی
    باغی ٹی وی : پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری روز کے دوران 225 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔پاکستان سٹاک ایکسچینج میں حصص فروخت کرنے والوں کا پلڑا بھاری رہا، جس کے باعث مارکیٹ 225 پوائنٹس کمی کے بعد 100 انڈیکس 33 ہزار 932 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔حصص مارکیٹ میں مندی کے باعث 34 ہزار کی نفسیاتی حد رواں ہفتے میں دوسری بار گر گئی، پورے کاروباری روز کے دوران کاروبار میں 0.66 فیصد کی تنزلی دیکھی گئی جبکہ 10 کروڑ 71 لاکھ 66 ہزار 968 شیئرز کا لین دین ہوا

  • سونے کی قیمت میں  ہوا اضافہ

    سونے کی قیمت میں ہوا اضافہ

    سونے کی قیمت میں ہوا اضافہ
    باغی ٹی وی :ملک بھر میں رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روز کے دوران فی تولہ سونے کی قیمت میں 300 روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں سونا فی اونس 15 ڈالر مہنگا ہوا، جس کے بعد عالمی منڈی میں سونے کی نئی قیمت 1750 ڈالر فی اونس ہو گئی ہے۔

    دوسری طرف عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں بڑھنے کے بعد ملکی صرافہ، لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، سکھر، حیدر آباد، فیصل آباد سمیت دیگر شہروں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 300 روپے کا اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد سونے کی نئی قیمت 95 ہزار 800 روپے ہو گئی ہے۔

    واضح رہے کہ رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران سونے کی قیمت میں 2 ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت 97 ہزار روپے ہو گئی تھی

  • فیس بک نے خریدوفروخت کا ایک نیا پلیٹ فارم متعارف کرا دیا

    فیس بک نے خریدوفروخت کا ایک نیا پلیٹ فارم متعارف کرا دیا

    فیس بک نے اپنے صارفین کے لیے مختلف اشیاء کی خریدوفروخت کا ایک نیا پلیٹ فارم متعارف کرا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : آن لائن تجارت کی طرف ایک نیا قدم ، فیس بک کے مالک مارک زکربرگ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والوں کی مدد کرنا ہے تا کہ وہ اپنی اشیا یہاں فروخت کر سکیں۔

    فیس بک یوزرز کو اس نئے پلیٹ فارم کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فیس بک ایک نیا آئیکون ’’شاپ‘‘ متعارف کرائے گی، جو اس سائٹ کے پیجز پر آنے والے نوٹیفیکشنز اور پیغامات کے آئیکون کے ساتھ نمودار ہوگا۔

    یہ نیا آئیکون اس سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کی موبائل ایپلی کیشن پر اسکرین کے نچلے حصے میں دکھائی دے گا۔ فیس بک کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کا متعارف کردہ نیا پلیٹ فارم آئندہ چند دنوں میں دستیاب ہوگا۔

    فیس بک کے متعارف کردہ اس شاپنگ پلیٹ فارم پر یوزرز مختلف آئٹمز کی تصاویر دیکھ سکیں گے، جو ان کے قریبی اسٹورز پر دست یاب ہوں گی۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنی مطلوبہ مختلف پروڈکٹس کے بارے میں تفصیلات سرچ بھی کرسکیں گے۔واضح‌رہے آن لائن شاپنگ اور تجارت کا رجحان پہلے ہی عام ہو چکا ہے . اب ایسی سہولیات متعارف کرانے سے اس کو مزید ہوا ملے گی.

  • ڈالر کی قیمت بڑھ گئی

    ڈالر کی قیمت بڑھ گئی

    ڈالر کی قیمت بڑھ گئی

    باغی ٹی و ی : انٹر بینک میں ڈالر کی قدر بڑھ گئی جب کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالرمستحکم رہا ۔فاریکس ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز انٹر بینک میں ڈالر 40پیسے کے اضافے سے 160.90 روپے پر جا پہنچا، تاہم اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 160.50روپے پر مستحکم رہا ۔ یورو 50پیسے کے اضافے سے 173روپے جب کہ برطانوی پاؤنڈ ایک روپے کے اضافے سے 197روپے پر جا پہنچا۔
    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

    اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

    اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

    باغی ٹی وی :اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بدھ کو مثبت آغاز ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 34 ہزار 158 پوائنٹس پر ہوا۔ کاروبار کے آغاز پر انڈیکس میں 66 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور انڈیکس 34 ہزار 224 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا نظر آیا۔

    کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار زیادہ دیر مثبت زون میں ٹریڈ نہ کر سکا اور جلد ہی منفی زون میں ٹریڈ کرنے لگا۔

  • ‎پاکستان میں لوکل اسمبل گاڑیوں کی صنعت پر سوالیہ نشانات از ‎احمد جواد

    ‎پاکستان میں لوکل اسمبل گاڑیوں کی صنعت پر سوالیہ نشانات
    ‎احمد جواد

    ‎آٹو انڈسٹری کے حوالے سے کچھ گزارشات ہیں جو کہ میں پیش کر رہا ہوں پاکستان میں تقریبا چالیس سال پہلے لوکل اسمبل گاڑیوں کی صنعت کا آغاز ہوا اور ان چالیس سالوں میں اس لوکل آٹو انڈسٹری نے عوام کا کس طریقے سے استحصال کیا، میں آپ کو بتانا چاہوں گا، گاڑیوں کی صنعت کا آغاز اس مقصد کے تحت کیا گیا تھا کہ لوکل مینوفیکچرنگ ہوگی لیکن آج تقریبا 40 سال گزرنے کے بعد بھی اس آٹو انڈسٹری کے پرزے تقریبا 50 سے 60 فیصد ابھی بھی باہر سے امپورٹ کیے جاتے ہیں ہیں اس لوکل انڈسٹری کا مقصد یہ تھا کہ یہ مہارت پاکستان کے اندر پیدا ہو پاکستان کے اندر نوکریاں پیدا ہو اور پاکستان کو اپنا قیمتی زرمبادلہ ان کو پرزوں کی امپورٹ پر خرچ نہ کرنا پڑے لیکن یہ مقصد 40 سال گزرنے کے بعد بھی حاصل نہیں ہو سکا،

    ‎اس کے بعد دوسرا سوال ان کی قیمت کے حوالے سے اٹھتا ہے کہ وہی گاڑی وہی ماڈل جو پاکستان میں بھی لوکل اسمبل ہوتا ہے اور انڈیا میں بھی ہوتا ہے، پاکستان میں اسکی قیمت ۳۰ سے ۴۰ فیصد ذیادہ کیوں ہے،ہمیں اس سوال کا جواب ڈھونڈنا چاہیے۔

    ‎ اس کے بعد تیسرا عوام کے ساتھ ظلم یہ ہو رہا ہے کہ جب ایک صارف گاڑی کی بکنگ کرواتا ہے تو وہ سو فیصد اس کی قیمت ادا کر دیتا ہے اور اس کے بعد اسے 3 مہینے 6 مہینے ایک سال کا ٹائم دے دیا جاتا ہے اور وہ ڈلیوری ٹائم آنے پر بھی اس کو مزید دو تین مہینے اس کو دیر کردی جاتی ہے، یہ جو کم و بیش ایک سال کا ٹائم ہے جس میں سو فیصد پیمنٹ لے لی جاتی ہے اس کا دس فیصد انٹرسٹ ریٹ جو ہے یہ آٹو انڈسٹری کی جیب میں جاتا ہے اور جتنا وہ ڈلیوری کو لیٹ کرتے ہیں اتنا ہی ان کو اس کا فائدہ ہے آپ صرف اس سے اندازہ کرلیں کہ اگر ایک کار انڈسٹری ارب روپیہ کا آڈر لیتے ہیں اور اس کو ایک سال تک اپنی اکاؤنٹ میں رکھتے ہیں اور وہ ان کو گاڑی مہیا نہیں کرتے تو سیدھا سیدھا دس بارہ کروڑ تو صرف سود سے کما لیتے ہیں ہیں تو یہ کتنا ظلم ہے جو عوام کے ساتھ پچھلے چالیس سال سے ہو رہا ہے

    ‎پھر اس کی سیفٹی پر آ جائیں اس کے سیفٹی سٹینڈر جو ہیں وہ اتنے گھٹیا قسم کے رکھے گئے ہیں اور جس کی وجہ سے میرا خیال ہے کہ ہر سال پاکستان میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں جانیں چلی جاتی ہے اس کا خون بھی آٹو انڈسٹری کے سر کے اوپر ہے جو کہ اپنے منافع کو بہتر کرنے کے لئے انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں۔

    ‎پھر اس کی کوالٹی کے اوپر آ جائیں آپ کسی ایک ماڈل کی گاڑی لوکل سمبل پاکستانی اور امپورٹڈ گاڑی کا موازنہ کر لیں آپ زمین اور آسمان کا فرق نظر آئے گا، لوکل اسمبل گاڑی کا سٹینڈرڈ اور اس کی کوالٹی انتہائ گھٹیا ہوتی ہے

    ‎یہ وہ تمام سوالات ہیں جو کہ پچھلے چالیس سال سے موجود ہیں اور اب امید ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس کے حوالے سے قانون سازی کرے گی اور یہ بھی آئی پی پیز ، شوگر، گندم مافیا اور دوسرے انڈسڑریل مافیاز کی طرح سے عوام کا استحصال کر رہی ہے اس کے خلاف بھی ایکشن ہونا چاہئے اس کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے

    ‎یہاں میں اپنا ذاتی تجربہ دیتا ہوں کہ کس طریقے سے گاڑیوں کی ڈیلیوری کو لیٹ کیا جاتا ہے، گاڑی کی بکنگ کے بعد جب ڈلیوری کا ٹائم بھی گزر گیا اور گاڑی نہ ملی تو میں نے منسٹری آف انڈسٹری کو خط لکھا تو فیڈرل سیکرٹری سے جائنٹ سیکریٹری تک کسی نے جواب دینا پسند نہ کیا۔

    ‎اور وہ اس لئے کہ ہماری بیوروکریسی عوام کو غلام یا اپنی رعایا سمجھتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو پبلک سرونٹ نہیں سمجھتے اس لئے اگر آپ کو کوئی خط لکھیں تو یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ آپ کو اس کا جواب دیں اس لیے مجھے بھی کوئی جواب نہیں ملا- اس کے بعد میں نے وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کو خط لکھا اور انہوں نے منسٹری آف انڈسٹری اور کار انڈسٹری کے نمائندے کو بلا لیا ،وفاقی محتسب کے مشیروں شکایات کمشنر حافظ احسان کھوکھر نے منسٹری آف انڈسٹری سے پوچھا جی آپ کیوں نہیں ان شکایات کا ازالہ کرسکتے، جبکہ تمام اجازت نامے اپ دیتے ہیں پھر آپ ان کو کنٹرول کیوں نہیں کر سکتے اوروفاقی محتسب سیکرٹیریٹ نے منسڑری سے رپورٹ مانگ لی۔ اسی طرح آٹو انڈسٹری کے نمائندے سے پوچھا گیا کہ آپ بتائیں کہ جو ڈیٹ آپ نے دی تھی اس کے بعد کتنی ایسی گاڑیاں جو ڈیلیور نہیں کیں گئیں اور پھر جو تعداد ان کو بتائی گی وفاقی محتسب نے حکم دیا کہ آپ جون کے پہلے ہفتے تک یہ تمام گاڑیاں ان تمام صارفین کو ڈلیوری کروائی جاۓاور مجھے اس کی رپورٹ جمع کرائ جاۓ، تو کہنے کا مقصد یہ ہے حکومت کے اندر جو بھی کام کرنا چاہے گا وہ کر سکتا ہے۔

    ‎موٹر وھیکل آرڈینینس ۱۹۶۹ تمام برائی کی جڑ ہے-اس کے تحت آٹو انڈسٹری میں تبدیلی نہیں آ سکتی۔ منسٹری آف انڈسٹری کو لیڈ کرنا ہو گا۔

    ‎وفاقی محتسب کا ادارہ صدر پاکستان کے نیچے آتا ہے اور میں صدر پاکستان کو وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کی اچھی کارکردگی پر مبارکباد دیتا ہوں۔

    ‎اوورسیز پاکستانیوں کی بھی جس طرح سے شکایات کمشنر حافظ احسان کھوکھر نے کورونا کے دوران مدد کی وہ قابل ستائش ہے۔

    ‎وقت آ گیا ہے اب عوام کی سنی جاۓ اور مافیا کی پکڑ ہو۔ انشااللہ نیا پاکستان