Baaghi TV

Category: کاروبار

  • سٹاک مارکیٹ میں اضافے کا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں اضافے کا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں اضافے کا رجحان

    باغی ٹی وی :پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباور کا آغاز مثبت زون میں ہوا اور انڈیکس میں سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔کاروباری ہفتے کے دوسرے روز جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس33283 پر تھا اور شروع میں سرمایہ کار کافی متحرک دکھائی دیئے۔

    اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کے سبب ایک وقت میں انڈیکس33 ہزار کی500 کی سطح بھی عبور کر گیا تھا۔اسٹاک ایکسچینج سے آخری خبریں آنے تک انڈیکس33 ہزار418 پر ٹریڈ کر رہا تھا اور 25,229,604 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت1,130,671,535 پاکستانی روپے رہی۔

    رواں ہفتے کے پہلے روز اسٹاک مارکیٹ میں ملاجلا رحجان رہا اور کاروبار کے اختتام پر انڈیکس میں صرف16 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا۔

  • امریکی ڈالر ہوا مزید مہنگا

    امریکی ڈالر ہوا مزید مہنگا

    ملک بھر میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز کے دوران امریکی ڈالر 11 پیسے مہنگا ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند روز کےدوران ملک بھر میں امریکی ڈالر کی قدر میں اُتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے، روپے کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی قدر میں آج بھی بڑھوتری دیکھنے کو ملی۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ چارٹ کے مطابق انٹر بینک میں امریکی ڈالر 11 پیسے مہنگا ہو گیا جس کے بعد روپے کے مقابلے میں ایک امریکی ڈالر کی نئی قیمت 160.07 روپے ہو گئ

    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے آخری روز بھی کساد بازاری دیکھی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی :آج جب مارکیٹ کھلی کو انڈیکس33ہزار304پر تھا اور ابتدائی چند منٹ میں تیزی بھی دیکھی گئی۔ ابتدائی20منٹ میں انڈیکس دو سو پوائنٹس اوپر گیا تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔

    کورونا وائرس کے سبب اسٹاک مارکیٹ میں بھی کاروباری سرگرمیاں ماند ہیں اور خریدار نہ ہونے کے سبب مندی کا رحجان دیکھنے میں آ رہا ہے۔

  • پٹرول، ڈیزل پر فی لٹر اضافی لیوی کی تجویز

    پٹرول، ڈیزل پر فی لٹر اضافی لیوی کی تجویز

    پٹرول، ڈیزل پر 5 روپے لٹر اضافی لیوی کی تجویز

    باغی ٹی وی : پیٹرول مصنوعات سستی ہونے کے بعد اس کے ثمرات عوام کو دینے کی بجائے حکومت اپنے قرضے اتارنے کا سوچ رہی ہے .وزیر اعظم کو گردشی قرضے کے خاتمے کیلئے اضافی لیوی عائد کرنے کی تجویز دے دی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق گردشی قرضے کے بتدریج خاتمے کیلئے پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر 5 روپے فی لٹر کی اضافی لیوی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    دستاویز کے مطابق ملک میں پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی سالانہ کھپت 20 ارب ڈالر ہے اور اضافی لیوی عائد ہونے سے سالانہ 100 ارب روپے وصول ہوں گے۔ دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے بقایا جات گردشی قرضے کی کل رقم کا 26 فیصد ہیں، ان بقایا جات کو ریکور کر کے گردشی قرضے اور بینکوں کو مارک اپ پیمنٹس میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

    دستاویز کے مطابق وزیر اعظم کو یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ وفاق اور صوبے بجلی کے شعبے میں دی جانے والی سبسڈیز اور گردشی قرضے کا بوجھ آپس میں یکساں تقسیم کرنے کیلئے طریقہ کار مرتب کریں

  • ڈالر ہوا مزید مہنگا

    ڈالر ہوا مزید مہنگا

    ڈالر ہوا مزید مہنگا

    باغی ٹی وی : ملک بھر میں رواں ہفتے کے چوتھے کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی کرنسی 25 پیسے مہنگی ہو گئی۔ انٹربینک میں ڈالر 160 روپے 30 پیسے پر ٹریڈ ہونے لگا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان میں چند روز کے دوران امریکی کرنسی میں اُتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھنے کے بعد ایک موقع پر امریکی ڈالر 165 روپے سے زائد کی سطح پر پہنچ گیا تھا، تاہم اسی دوران اُتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا۔

    گزشتہ چند روز کے دوران ملک میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، امریکی ڈالر ایک مرتبہ پھر 160 روپے سے تجاوز کر گیا ہے
    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر پٹ گیا تھا،

    اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • اسٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان

    اسٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان

    اسٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان
    باغی ٹی وی :پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان سے کاروبار کا آغاز ہوا اور انڈیکس شروع میں ہی دوسو سے زائد پوائنٹس نیچے چلا گیا۔

    آج جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس33728 پر تھا اور پہلے چند منٹوں میں 91پوائنٹس اور بعد میں 260پوائنٹس سے زائد کمی ہوئی۔کورونا وائرس کے سبب اسٹاک مارکیٹ میں بھی کاروباری سرگرمیاں ماند ہیں اور خریدار نہ ہونے کے سبب مندی کا رحجان دیکھنے میں آ رہا ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے آخری خبریں آنے تک انڈیکس173 پوائنٹس کی کمی سے 33,554 پر ٹریڈ کر رہا تھا اور31,899,838 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت 1,567,515,924 پاکستانی روپے رہی۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز شدید مندی دیکھی گئی اور انڈیکس میں264پوائنٹس کی کمی ہوئی۔

    اسٹاک مارکیٹ کل 264پوائنٹس کی کمی سے33728 پر بند یوئی اور150,581,190 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت5,878,884,725 پاکستانی روپے رہی۔

    منگل مارکیٹ اتار چڑھاؤ کا شکار رہی اور کاروبار کے اختتام ہر76پوائنٹس کا معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا

  • ڈالر ہوا مہنگا

    ڈالر ہوا مہنگا

    ڈالر ہوا مہنگا

    انٹربینک میں ڈالر 35 پیسے مہنگا ہوگیا جس کے بعد ڈالر 160 روپے پر ٹریڈ ہونے لگا۔

    دوسری جانب سٹاک مارکیٹ میں 249 پوائنٹس کمی ہوئی، 100 انڈیکس 33 ہزار 743 پوائنٹس پر آگیا۔
    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر پٹ گیا تھا،
    اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں  شدید مندی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : آج جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس33992پر تھا اور آغا میں127پوائنٹ کا اضافہ بھی ہوا۔ اسٹاک مارکیٹ میں یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکی اور چند منٹوں بعد ہی انڈیکس تیزی سے نیچے آیا۔

    مارکیٹ میں تیزی کے سبب انڈیکس34ہزار کی سطح عبور کر گیا تھا لیکن کاروباری سرگرمیوں میں استحکام نہ ہونے سبب انڈیکس میں تیزی سے کمی دیکھی گئی۔
    اسٹاک مارکیٹ سے آخری خبریں آنے تک انڈیکس233پوائنٹس کی کمی سے33758 پر آچکا تھا اور64,110,833 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت2,513,970,690 پاکستانی روپے رہی۔

    گزشتہ روز بھی مارکیٹ اتار چڑھاؤ کا شکار رہی اور کاروبار کے اختتام ہر76پوائنٹس کا معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    کاروباری ہفتے کے پہلے روز اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان رہا اور انڈیکس 195 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 33 ہزار 916 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

  • ای ایم  پی جی اور او ایل ایکس کا مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا  کیلئے کاروبار ضم کرنے کا اعلان

    ای ایم پی جی اور او ایل ایکس کا مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا کیلئے کاروبار ضم کرنے کا اعلان

    ای ایم پی جی اور او ایل ایکس کا مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا کیلئے کاروبار ضم کرنے کا اعلان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خطے میں اُ بھرتی ہوئی پراپرٹی مارکیٹس کے معروف نام ایمرجنگ مارکیٹس پراپرٹی گروپ (ای ایم پی جی) اور عالمی سطح پر کلاسیفائیڈ کاروبارکے لئے مشہور نام او ایل ایکس گروپ نے پاکستان ، مصر، لبنان اور متحدہ عرب امارات کیلئے اپنے کاروبار کو ضم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اس کاروباری معاہدے میں ای ایم پی جی کے شئیر ہولڈرز اور او ایل ایکس کی جانب سے مشترکہ ۱۵۰ ملین ڈالر نقد شامل ہیں ،اس معاہدے کے بعد ای ایم پی جی کی کاروباری قدر 1 ارب ڈالر ہو چُکی ہے۔اس کے بعد او ایل ایکس ان چار ممالک میں اپنےآپریشنز ای ایم پی جی کے ساتھ سرانجام دے گا اور ای ایم پی جی کمپنی کے ۳۹ فیصد حصص کی ملکیت کے ساتھ اس کمپنی کا سب سے بڑا حصص دار بھی ہوگا۔

    ای ایم پی جی اس سرمایے کو مارکیٹ میں نئی خدمات متعارف کروانے، صارفین کے تجربے کو مزید بہتر کرنے،ڈیٹا کی شفافیت اور مارکیٹ انٹیلی جنس کے معاملات کو کاروبار کیلئے اور صارفین کیلئے مزید بہتر کرنے میں صرف کرے گا۔مصر اور لبنان میں ای ایم پی جی موجودہ او ایل ایکس گروپ کے پلیٹ فارمز کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ رئیل اسٹیٹ صارفین کیلئے نئی خدمات متعارف کروائے گا اور صارفین کو تمام ضمن میں اعلیٰ اور بہترین کام کا تجربہ فراہم کیا جائے گا۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں دونوں گروپس کے پلیٹ فارم ای ایم پی جی کے زیر انتظام استعمال کئے جائیں گےاور وہ اپنے مقامی ناموں سے ہی کام کریں گے۔

    ان مارکیٹس میں سالانہ تقریباً ۹۰ ارب ڈالر کی پراپرٹیز کی فروخت عمل پذیر ہوتی ہے جس سے رئیل اسٹیٹ ایجنسیز کو سالانہ تقریباً ۲ ارب ڈالر کا کمیشن حاصل ہوتا ہے ۔اس سے ای ایم پی جی کے پاس ان مارکیٹس میں کاروبار کو فروغ دینے کا شاندار موقع موجود ہے ۔

    ای ایم پی جی کے سی ای او عمران علی خان نے کہا کہ اپنے قیام سے ہی ای ایم پی جی نے تیزی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں،جس میں ہماری پراپرٹی کے حوالے منفرد اور کارآمد سوچ اور جدید ٹیکنالوجی کے درست استعمال کا اہم کردار ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے دنیا بھر کے ایک ارب صارفین کو مسائل کے درست حل دینے کے سفر میں ہم ایک قدم اور آگے بڑھے ہیں۔

    او ایل ایکس گروپ کے سی ای او مارٹن شیبور نے کہا کہ اِن چار مارکیٹس میں ہم نے جو تعمیر کیا ہے،اُس پر مجھے فخر ہے،ہمارے برانڈز ہر گھر میں معروف ہیں اور اس وقت لاکھوں لوگوں کوخدمات کی فراہمی اور مختلف اشیاء کی خریداری میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ای ایم پی جی کے ساتھ پراپرٹی کے کاروباری سفر میں آگے بڑھنا دلچسپ امر ہے،ای ایم پی جی کے سب سے بڑے شراکت دار ہونے کے ناطے یہ ہمارے لئے نئی باتیں سیکھنے کا شاندار موقع ہوگا کہ کیسے اِن کی سروسز کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے اور کیسے مستقبل میں کلاسفائیڈ کے کاروبار سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

    ای ایم پی جی اس وقت جی سی سی کے خطے میں بیوت کے نام سے ، پاکستان میں زمین،بنگلہ دیش میں بی پراپرٹی،مراکش اور تیونس میں مبوّب اور تھائی لینڈ میں کائیڈی کے نام سے کام کر رہی ہے۔اس ڈیل کے بعد ایک جانب تو مصر اور لبنان میں اپنے قدم بڑھاتے ہوئےای ایم پی جی پاکستان، سعودی عرب،کویت، قطر اور اومان میں او ایل ایکس کے پلیٹ فارمز کو استعمال کرے گی اور دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں ڈوبی زل کا پلیٹ فارم بھی گروپ کی دسترس میں ہوگا۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان

    اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان

    اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان

    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک مارکیٹ آج مثبت زون میں ٹریڈ کر رہی ہے اور ابتدا میں ہی کے ایس ای 100 انڈیکس میں 469 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    کاروباری ہفتے کے دوسرے روز منگل کو اسٹاک مارکیٹ کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 33 ہزار 916 پوائنٹس پر ہوا اور ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران انڈیکس میں 469 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس 34 ہزار 385 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔

    کے ایس ای 100 انڈیکس میں ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران 73,306,369 شیئرز کا لین دین ہوا جس کی مالیت پاکستانی روپوں میں 3,203,098,949 بنتی ہے۔