Baaghi TV

Category: کاروبار

  • اسٹاک مارکیٹ میں‌مثبت رجحان

    اسٹاک مارکیٹ میں‌مثبت رجحان

    اسٹاک مارکیٹ میں‌مثبت رجحان

    باغی ٹی وی :کاروباری ہفتے کے دوسرے روز منگل کو اسٹاک مارکیٹ کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 33 ہزار 804 پوائنٹس پر ہوا اور ابتدا سے ہی انڈیکس مثبت زون میں ٹریڈ کرنے لگا۔

    کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کے دوران 546 پوائنٹس تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس 34 ہزار 350 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا دیکھا گی

  • اسٹیٹ بینک نے شرح سود  کم کردی

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود کم کردی

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود کم کردی

    باغی ٹی وی :اسٹیٹ بینک نے شرح سود ایک فیصد کم کرکے 8فیصد مقرر کرنے کا اعلان کردیا۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا گیا جس کے مطابق شرح سود ایک فیصد کم کرکے 8فیصد مقرر کردی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق شرح سود کم کرکے لاک ڈائون کی وجہ سے معاشی سست روی کو روکنا بھی ممکن نہیں ہوگا جبکہ شرح سود کم ہونے سے کرونا کی وبا پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،

    کرونا کی وبا کے باعث پیدا ہونے والی معاشی صورتحال مانیٹری پالیسی کے لیے چیلنج ہے۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال افراط زر 7سے 9فیصد رہنے کی توقع ہے جب کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے افراط زر کا دبا کم ہوا ہے اور رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد رہے گی۔

  • ڈالر ہوا سستا

    ڈالر ہوا سستا

    ڈالر ہوا سستا

    باغی ٹی وی :انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 60 پیسے سستا ہونے کے بعد 160 روپے کی سطح سے بھی نیچے آ گیا۔

    کاروباری ہفتے کے آخری روز ڈالر 160 روپے 10 پیسے سے کم ہو کر 159 روپے 50 پیسے پر ٹریڈ کرنے لگا، امریکی کرنسی کی قدر میں محض ایک دن میں 60 پیسے کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قدر میں 84 پیسے کی کمی دیکھی گئی تھی جس کے بعد ٹریڈنگ 160 روپے 10 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج ملا جلا رحجان

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج ملا جلا رحجان

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج ملا جلا رحجان

    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج ملا جلا رحجان دیکھا گیا اور کاروبار کےاختتام پر مثبت رجحان ریکارڈ کیا گیا ۔

    آج جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس 33 ہزار603 پر تھا اور کچھ ہی دیر بعد انڈیکس میں160 پوائنٹ کا اضافہ بھی ہوا تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔کاروباری ہفتے کے تیسرے روز مارکیٹ میں کچھ دیر کیلئے مندی بھی دیکھی گئی جب انڈیکس42 پوائنٹ کی کمی سے33 ہزار345 تک گر گیا تھا۔
    بعد ازاں کاروبار کا اختتام 100 انڈیکس میں 90 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 33 ہزار 693 کی سطح پر ہوا ہے۔

  • ڈالر ہوا مہنگا

    ڈالر ہوا مہنگا

    ڈالر ہوا مہنگا

    باغی ٹی وی : ڈالر 40پیسے کے اضافے سے 161روپے پر جاپہنچا،اسی طرح 70پیسے کے نمایاں اضافے سے اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 161روپے کا ہوگیا۔

    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت رحجان

    اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت رحجان

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز رحجان سے ہوا اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی۔

    باغی ٹی وی : آج جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس33 ہزار693 پر تھا اور پہلے30 منٹ میں 296 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی انڈیکس میں بتدریج کمی ہوئی۔کاروباری ہفتے چوتھے روز مارکیٹ میں مجموعی طور پر بہتری کا رحجان رہا اور سرمایہ کار کافی متحرک دکھائی دیئے۔سٹاک مارکیٹ سے آخری خبریں آنے تک انڈیکس مجموعی طور پر146 پوائنٹس کے اضافے سے33 ہزار839 پر ٹریڈ کررہا تھا اور41,885,324 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت1,574,200,742 پاکستانی روپے رہی۔

    گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رحجان رہا اور کاروبار کے اختتام پر انڈیکس میں90 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ بدھ کو جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس 33 ہزار603 پر تھا۔ منگل کے روز کاروباور کا آغاز مثبت زون میں ہوا اور100انڈیکس 319 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

  • آئی پی پیز کی مہنگی بجلی از عدنان عادل

    بجلی بنانے کی نجی کمپنیاں عرف عام میںآئی پی پیز کہلاتی ہیں۔ انیس سو نوے کی دہائی کے وسط میںبے نظیر بھٹوکے دوسرے دور حکومت میں ان کا ڈول ڈالا گیا۔ مقصد تھا کہ نجی شعبہ خاص طور سے بیرونی سرمایہ کار بجلی بنانے کے منصوبے لگائیں تاکہ ملک میں بجلی کی قلت پر قابو پایا جاسکے۔کہا گیا کہ حکومت کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں کہ وہ اربوں روپے سے یہ منصوبے لگائے۔ اس وقت کے حکمرانوں نے بجلی بنانے کی نجی کمپنیوں سے ایسے معاہدے کیے جن کی شرائط کا زیادہ تر فائدہ نجی کمپنی کو تھا‘ بجلی خریدنے والے سرکاری ادارہ اور صارفین کو نہیں۔ ایک تو نجی کمپنیوں کو حکومت نے یہ ضمانت دی کہ وہ ہر حال میں ان کی بجلی کی ایک خاص مقدار کی قیمت لازمی طور پر ادا کرے گی خواہ استعمال کرے یا نہ کرے۔ یہ ضمانت اس لیے دی گئی کہ بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کار اربوں روپے لگاتا ہے۔ وہ بے یقینی کی کیفیت میں سرمایہ نہیں لگا سکتا کہ اس کی بنائی ہوئی چیز منڈی میں فروخت ہو یا نہ ہو۔ دوسرے‘ان کمپنیوں سے بجلی خریدنے کا جو نرخ (ٹیرف) مقرر کیاگیا وہ بہت زیادہ تھا۔ اس معاملہ پراسو قت ماہرین نے بہت شورمچایا لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں بجلی بہت مہنگی ہوگئی۔جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ مہنگی۔ اس مہنگی بجلی کے باعث ملک میں کارخانے چلانا مشکل ہوتا چلا گیا کیونکہ مال بنانے پر لاگت دوسرے ملکوں کی نسبت بہت زیادہ ہوگئی۔

    بے نظیر بھٹو دور میں کیے گئے معاہدوں کی عمر پچیس سے تیس سال تھی۔اب یہ منصوبے عوام کا خون چوس کراور صنعتوں کوتباہ و برباد کرنے کے بعد اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہیں۔انیس سو ستانوے میں نواز شریف کی دوسری حکومت آئی تو انہوں نے سرکاری پلانٹ جیسے کوٹ ادو پاور پلانٹ بھی نجی شعبہ کو اونے پونے داموں‘ قسطوں پر فروخت کردیے۔اور ان ہی سے مہنگے داموں بجلی خریدنے کے معاہدے بھی کرلیے۔ جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے آئی پی پیز کی ایک نئی پالیسی دی۔ توقع تھی کہ اس بار ملکی مفاد کے پیش نظر بہتر پالیسی دی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہُوا۔ اس دور میںبھی نجی شعبہ میں بجلی بنانے کے جو معاہدے ہُوے ان میں کم و بیش وہی شرائط تھیں جو ماضی میں تھیں۔ نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے تو پھر انہوں نے ایک اورنئی آئی پی پی پالیسی دی۔ اسکے تحت چینی سرمایہ کاروں نے بھی کوئلہ اور ایل این جی (قدرتی گیس) سے بجلی بنانے کے پلانٹ لگائے۔ چین ہمارا دوست ملک ہے۔ اس سے ہمارے تزویراتی (اسٹریٹجک) تعلقات ہیں۔ان منصوبوں کی لاگت اور ان کے زیادہ نرخوں پر بات کرنا ایک حساس معاملہ ہے۔ایف آئی اے نے آئی پی پیز پر جو تحقیقات کی ہیں ان میں ان کی ہوش رُبا منافع خوری سامنے آئی ہے۔ یہ درست ہے کہ آئی پی پیز نے پاکستانی قوم کو ہزاروں ارب روپے کا چونا لگایا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کمپنیوںنے جو بھی مال سمیٹا ہے اُسکی اجازت انہیں قانونی معاہدوں کے تحت دی گئی۔ یہ توپا لیسی بنانے والوں کی نااہلی ہے یا بدنیتی ہے کہ انہوں نے ایسے یکطرفہ عہد نامے بنائے جن سے بجلی کے صارفین کو نقصان ہوا۔

    پہلی گڑ بڑ تو ان کمپنیوں نے پلانٹ لگانے کی قیمتوں میں کی۔فرض کیجیے کہ ایک پلانٹ اگر ایک سو روپے میں لگتا ہے تو اسکی قیمت سوا سو روپے یا ڈیڑھ سو روپے ظاہر کی اور نیپرا(بجلی کا نرخ مقرر کرنے کا ریگولیٹری ادارہ) نے اسے قبول کرلیا۔ دوسرے‘ بجلی کے پلانٹ بنانے والی کمپنیاںجیسے جنرل الیکٹرک وغیرہ احتیاط کے طور پر اپنے پلانٹ کی ایفی شنسی(یعنی یہ مشینری کتنے تیل سے کتنی بجلی بنائے گی ) اصل سے کم رکھتی ہیں تاکہ اگر کوئی اونچ نیچ ہو تو انہیں بعد میںجرمانہ ادا نہ کرنا پڑے۔ اسکا فائدہ بھی آئی پی پیز نے اٹھایا۔ اگر ایک پلانٹ ایک سو لیٹر تیل یا اسکے برابر گیس سے بجلی بنارہا تھا تو دستاویزات میں سوا سو لیٹر بتایا گیا ۔نیپرانے بجلی کا نرخ بھی سوا سو لیٹر پر مقرر کیا۔یوں اس کمپنی کوحقیقت میں پچیس لیٹر تیل کی بچت ہورہی تھی ۔ظاہر ہے اس کام میں بہت بڑی مقدار میں تیل استعمال ہوتا ہے تو یہ فرق کروڑوں روپے سالانہ میں جا پہنچتا ہے۔ زیادہ تر آئی پی پیز نے پاکستانی عوام کاخون چوس کر اسطرح لمبا چوڑا مال بنایا ۔بجلی بنانے والے پلانٹ میں تیل کی اصل کھپت اوردستاویزات میں ظاہر کردہ کھپت کے فرق کو مدّنظر رکھے بغیر بجلی کا نرخ مقرر کرنا نیپرا کی نالائقی ہے۔

    اب تک آئی پی پیز کے جو معاہدے ہوئے وہ ہماری بدقسمتی ہے۔ لیکن ماضی میںجو ہونا تھا ‘سو ہوگیا۔ اب حکومت ان پر انکوائری کروا کر ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ آئی پی پیز کے ساتھ حکومت پاکستان کی ضمانت کے ساتھ جو معاہدے ہوئے ہیں ان کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بین الاقوامی حیثیت کے حامل ہیں۔ اگر حکومت ان کی خلاف ورزی کرے یا اُن کوقانونی جواز کے بغیر منسوخ کرے تو یہ کمپنیاں نہ صرف پاکستانی عدالتوںسے رجوع کرسکتی ہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف تصفیہ کے عالمی ادارہ میں بھی جاسکتی ہیں۔اس سے پہلے پاکستان حکومت عالمی ادارہ میںریکوڈک کا مقدمہ اور ترکی کی بجلی بنانے کی کمپنی’ کارکے ‘کا دائر مقدمہ ہار چکی ہے اور اسے اربوں ڈالر کے بھاری جرمانے ہوچکے ہیں۔ اب اگر ان معاہدوں کو یکطرفہ طور پر چھیڑا گیا تو یہ کمپنیاں عدالت میںچلی جائیں گی جہاں حکومت کا مقدمہ جیتنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ بیرونی اور نجی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔ اس معاملہ کا حل یہی ہے کہ حکومت ان کمپنیوں سے بات چیت کے ذریعے معاہدوں پر نظر ثانی کرلے اور تیل کی اصل کھپت کو سامنے رکھ کر بجلی کے نرخ آئندہ کے لیے کم کروالے۔ اگر ایسا ہوسکے تو عوام کے لیے یہ بھی بڑا ریلیف ہوگا۔
    عدنان عادل

  • ڈالر کی قیمت بڑھ گئی

    ڈالر کی قیمت بڑھ گئی

    ڈالر کی قیمت بڑھ گئی

    باغی ٹی وی :مقامی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بڑھ گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر 25پیسے کے اضافے سے 160.60 روپے کا ہوگیا،اسی طرح 30پیسے کے اضافے سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر 160.30روپے پر جاپہنچا۔ دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونا 9 ڈالر کے اضافے سے 1704ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باوجود مقامی سطح پر فی تولہ سونا 95500اوردس گرام 81875روپے پر مستحکم رہا ۔

    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • ملک کے  کن  حصوں میں ہوگی بارش اور کہاں ہوگی ژالہ باری

    ملک کے کن حصوں میں ہوگی بارش اور کہاں ہوگی ژالہ باری

    ملک کے کن حصوں میں ہوگی بارش اور کہاں ہوگی ژالہ باری

    باغی ٹی وی :رمضان المبارک میں موسم خوشگوار ہونے لگا تاکہ روزے دار شدت کی گرمی سے بچ سکیں. محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ کو شمال مشرقی بلوچستان، خیبر پختونخوا، اسلام آباد، پنجاب، بالائی سندھ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اس دوران بعض مقامات پر ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں موسم خشک اور گرم رہے گا۔

    گزشتہ روز بدھ کو بھی پنجاب، خیبر پختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان اور کشمیر کے چند مقامات پر گرج چمک اور آندھی کے ساتھ بارش ہوئی۔

    گزشتہ روز پنجاب کے علاقے منگلا میں 24 ملی میٹر، ساہیوال میں 22 ملی میٹر، اسلام آباد میں 38 ملی میٹر، راولپنڈی میں21 ملی میٹر، جہلم میں 17 ملی میٹر، گجرات، اٹک اور مری میں 13 ملی میٹر، ملتان میں 12 ملی میٹر، خانیوال میں 08 ملی میٹر، لاہور میں 6 ملی میٹر،حافظ آباد میں 04 ملی میٹر، لیہ اور جھنگ میں 03 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    خیبر پختونخوا کے علاقے مھمند ڈیم میں 21 ملی میٹر، بونیر میں 20 ملی میٹر، بنوں میں 07 ملی میٹر، بشام میں 06 ملی میٹر، مالم جبہ اور کاکول میں 02 ملی میٹر، میر کھانی میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    کشمیر کے ضلع راولاکوٹ میں 17 ملی میٹر، ٹنڈالی میں 16 ملی میٹر، چکوٹھی میں 08 ملی میٹر، چھتر کلاس میں 07 ملی میٹر، مظفر آباد میں 5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    بلوچستان کے ضلع ژوب میں 15 ملی میٹر اور کوئٹہ میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    گزشتہ روز سب سے زیادہ گرمی میر پورخاص 44 ڈگری سینٹی گریڈ، دادو، شہید بینظیر آباد اور نوکنڈی میں 43 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں  ملا جلا رحجان

    اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رحجان

    اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رحجان

    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج ملا جلا رحجان دیکھا جا رہا ہے اور کاروباری سرگرمیاں ماند پڑی ہوئی ہیں۔

    آج جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس33 ہزار603 پر تھا اور کچھ ہی دیر بعد انڈیکس میں160 پوائنٹ کا اضافہ بھی ہوا تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔

    کاروباری ہفتے کے تیسرے روز مارکیٹ میں کچھ دیر کیلئے مندی بھی دیکھی گئی جب انڈیکس42 پوائنٹ کی کمی سے33 ہزار345 تک گر گیا تھا۔

    آخری خبریں آنے تک انڈیکس میں بتدریج بہتری دیکھی جا رہی تھی اور77 پوائنٹ کے اضافے سے33 ہزار680 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔