Baaghi TV

Category: کاروبار

  • سٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

    باغی ٹی وی :پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج ملا جلا رحجان دیکھنے میں آ رہا ہے اور مندی کے بعد تیزی دیکھی گئی ہے۔

    آج جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس32422 پر تھا اور شروع میں ہی شدید مندی دیکھی گئی جس کے سبب انڈیکس 31,893 تک گر گیا تھا۔

    ابتدائی ایک گھنٹے میں کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے سبب اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکاری رہی۔ ابتدائی ایک گھنٹے کے بعد مارکیٹ میں تیزی کا رحجان دیکھا گیا اور انڈیکس نمبر بتدریج بہتر ہوئے۔

    اسٹاک مارکیٹ سے آخری خبریں آنے تک مجموعی طور پر29 پوائنٹس کے اضافے سے32,452 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

  • کرونا کے اثرات اپنی جگہ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے اچھی خبر آگئی

    کرونا کے اثرات اپنی جگہ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے اچھی خبر آگئی

    کرونا کے اثرات اپنی جگہ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے اچھی خبر آگئی

    باغی ٹی وی :کرونا کی تباہ کاریوں کے باوجود پاکستان کے لیے اچھی خبریں ہیں. معیشت کے لیے ایک اور مثبت خبر ہے کہ رواں مالی سال میں اب تک غیر ملکی سرمایہ کاری میں 380 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال جولائی سے مارچ میں غیر ملکی سرمایہ کاری 2 ارب 37 کروڑ ڈالر پر پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ مالی سال اسی عرصے کے درمیان غیر ملکی سرمایہ کاری 49 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہی تھی یعنی رواں مالی سال غیر ملکی سرمایہ کاری میں 380 فی صد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کےمطابق رواں مالی سال سب سے زیادہ سرمایہ کاری چین سے 87 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی گئی ہے جبکہ ناروے سے 28 کروڑ 80 لاکھ ڈالر، مالٹا سے 16 کروڑ 60 لاکھ ڈالر اور ہانگ کانگ سے 13کروڑ 50لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئ
    ادھر کاروباری ہفتے کے دوسرے روز آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر ایک روپے 49 پیسے سستا ہو کر 162 روپے پر ٹریڈ ہوا۔ دوسری جانب پاکستان سٹاک مارکیٹ میں منفی رجحان رہا، 700 پوائنٹس کمی کے بعد 100 انڈیکس 32 ہزار 770 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر پٹ گیا تھا،
    اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

  • روپے کے مقابلے ڈالر ہوا مزید سستا

    روپے کے مقابلے ڈالر ہوا مزید سستا

    روپے کے مقابلے ڈالر ہوا مزید سستا

    باغی ٹی وی :انٹربینک میں‌ ڈالر ایک روپے 49 پیسے سستا ہو گیا، پاکستان سٹاک مارکیٹ میں آج 700 پوائنٹس کی کمی ہوئی دوسری جانب دیگر ایشیائی مارکیٹس بھی گراوٹ کا شکار ہیں۔

    کاروباری ہفتے کے دوسرے روز آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر ایک روپے 49 پیسے سستا ہو کر 162 روپے پر ٹریڈ ہوا۔ دوسری جانب پاکستان سٹاک مارکیٹ میں منفی رجحان رہا، 700 پوائنٹس کمی کے بعد 100 انڈیکس 32 ہزار 770 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر پٹ گیا تھا،
    اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی

    سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی

    سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی

    باغی ٹی وی :پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج زبردست تیزی دیکھی گئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں 667 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔کاروباری ہفتے کے پہلے روز اسٹاک مارکیٹ زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 32 ہزار 831 پوائنٹس پر ہوا۔

    کاروبار کے ابتدا میں ہی 100 انڈیکس میں ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس 33 ہزار 857 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا۔

    کے ایس ای 100 انڈیکس کاروبار کے دوران 33 ہزار کی سطح پر بحال ہو گیا۔

  • امریکی تیل پانی سے بھی ارزاں ، ملک میں پیٹرول کی قیمتیں کہاں تک گرسکتی ہیں،عوام نے امیدیں لگا لیں

    امریکی تیل پانی سے بھی ارزاں ، ملک میں پیٹرول کی قیمتیں کہاں تک گرسکتی ہیں،عوام نے امیدیں لگا لیں

    امریکی تیل پانی سے بھی ارزاں ، ملک میں پیٹرول کی قیمتیں کہاں تک گرسکتی ہیں ،عوام نے امیدیں لگا لیں

    باغی ٹی وی :تیل پانی سے بھی ارزاں ہوگیا، عالمی مارکیٹ کریش کر گئی جس کے بعد امریکی کروڈ آئل پہلی بار منفی میں چلا گیا، کینیڈا میں تیل کے کنوئیں بند کر دیئے گئے۔امریکی کروڈ آئل پہلی بار منفی میں چلا گیا۔جس کے بعد ملک میں بھی لوگوں نے پٹرول 50 روپے لٹر پر آنے کی امید لگالی۔واضح رہے کہ منفی میں جانے والا خام تیل صرف وہی اس قیمت میں خرید سکتا ہے جس کے پاس سٹور ہے اور وہ ڈلیوری اٹھا سکتا ہے . اس کے لیے علاہ یہ منفی ڈالر قیمت رات بارہ بچے تک ہیں، ایسا پہلے بھی ہوتا آئا ہے لیکن اگر کوئی ملک یہ خریدے گا تو اسے قیمت آج رات یا کل تک ڈلیوری اٹھانا ہوگی ، ورنہ یہ پہلے والی قیمت پر ہی چلے گا. سٹوریج کی وجہ سے ایسا مسئلہ ہوتا ہے .

    تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے، اس دوران سعودی عرب، روس کے درمیان تیل کی قیمتوں پر ہونے والی کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زبردست کمی دیکھی گئی تھی جس کے بعد دونوں ممالک میں ’ڈیل‘ ہوئی تھی، دو روز قبل تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے کو ملا تھا۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تیزی سے ختم ہورہی ہے جس کے باعث امریکا میں خام تیل کی قیمت 4 دہائیوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو رمضان میں پھل، سبزیاں اور دیگر اجناس کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں کیوں کہ ان پر ٹرانسپورٹیشن کی لاگت کم ہوجائے گی۔
    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ طلب میں کمی ہےجبکہ امریکی خام تیل کےذخائرکی اسٹوریج کپیسٹی کم پڑنےلگی۔

    خیال رہے گذشتہ ہفتے سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی یومیہ پیداوار کم کرنے کا معاہدہ ہوا تاکہ تیل کی طلب میں بہتری اور قیمتیں مستحکم کی جا سکیں۔ اس پابندی کا اطلاق تمام تیل پیدا کرنے والے ممالک پر ہوتا ہے تاہم اس فیصلے کے باوجود تیل کی قیمتوںمیں مسلسل کمی ریکارڈ کی جارہی ہے۔

    ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر تیل کی طلب میں اسی طرح کمی ہوتی رہی تو قیمتیں مستحکم نہیں ہو سکیں گی۔

  • خام تیل کوڑیوں کے بھاؤ بکنے لگا، تیل والے ممالک کی معیشتوں کو خطرات لاحق

    خام تیل کوڑیوں کے بھاؤ بکنے لگا، تیل والے ممالک کی معیشتوں کو خطرات لاحق

    خام تیل کوڑیوں کے بھاؤ بکنے لگا، تیل والے ممالک کی معیشتوں کو خطرات لاحق

    باغی ٹی وی : خام تیل فروخت کرکے ملک کا بڑا ریونیو حاصل کرنے والے ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی ، خام تیل کی دنیا بھر میں‌ بے قدری جاری ہے. دنیا بھر میں عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا لگا ہے، ایک روز میں امریکی خام تیل کی قیمت 40 فیصد گر گئی ہے۔سعودی عرب کی حکومت کے لیے اب مالی بحران شدت اختیار کر جائے گا. کیوں‌کہ تیل کی قیمتیں گرنے کے بعد عمرہ وغیر پر بھی پابندی ہے جو کہ سعودی عرب کی معیشت کی ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیںِ دنیا بھر میں کورونا بحران کے باعث طلب میں کمی کی وجہ سے تیل کی قیمتیں مسلسل گراوٹ کا شکار ہیں جب کہ آج تیل کی قیمتوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے اور امریکی خام تیل 45 فیصد کمی کے ساتھ 10.14 ڈالر فی بیرل کا ہوگیا۔

    خیال رہے کہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی) اس سے قبل 1986 میں اس سطح پر موجود تھا جب کہ رواں سال جنوری میں یہ 60 ڈالر فی بیرل کی سطح پر فروخت ہورہا تھا

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے، اس دوران سعودی عرب، روس کے درمیان تیل کی قیمتوں پر ہونے والی کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زبردست کمی دیکھی گئی تھی جس کے بعد دونوں ممالک میں ’ڈیل‘ ہوئی تھی، دو روز قبل تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے کو ملا تھا۔تاہم اب مزید خبریں آئی ہیں کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا لگا ہے، ایک ہی روز کے دوران امریکی خام تیل کی قیمت 40 فیصد نیچے گر گئی ہے جس کے بعد امریکی خام تیل 11.31 امریکی ڈالر فی بیرل پر فروخت ہونے لگا ہے۔

    واضح رہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 21 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔تجریہ کاروں کے مطابق خام تیل برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی پیداوارمیں کٹوتی تو کی گئی مگر اب بھی پیداوار طلب سے زیادہ ہے۔

    دوسری جانب مختلف ممالک کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی جگہ بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں گر کر اس وقت 21 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔معاشی معاہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گھٹ جانے سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔دریں اثناء معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے لٹر کمی کا اعلان کر دے تو رمضان میں پھل، سبزیاں اور دیگر اجناس کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا اگر پورا پورا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے تو حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 24 روپے فی لیٹر تک کمی کر سکتی ہے
    واضح رہے کہ اس سے پہلے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تیل کی قیمتوں میں گراوٹ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے پیداوار میں حالیہ کمی کے باوجود جاری ہے۔ذرائع کےمطابق فی بیرل 20 ڈالرقیمت کم ہوگئی ہے ، جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے کم ہونے سے عالمی معیشت پربہت زیادہ گہرے اثرات مرتب ہوں گے

    ادھر عالمی مارکیٹ سے متعلق تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہےکہ یہ پچاس سال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس قدر کم قیمتیں ہوئی ہیں ،دوسری طرف معاشی ماہرین کا کہنا ہےکہ 20 کی دہائی میں تیل کی قیمتوں کے اثرات دنیا پربہت گہرے ہوں گے.ماہرین کے مطابق یہ تاریخ میں خام تیل کی پیداوار میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی کمی ہے۔ اوپیک پلس اوپیک کے رکن مالک اور تیل پیدا کرنے والے غیر رکن ممالک پر مشتمل ہے جن میں روس سرفہرست ہے

  • عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا

    عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا

    عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا

    باغی ٹی وی : خام تیل کی دنیا بھر میں‌ بے قدری جاری ہے. دنیا بھر میں عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا لگا ہے، ایک روز میں امریکی خام تیل کی قیمت 40 فیصد گر گئی ہے۔

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے، اس دوران سعودی عرب، روس کے درمیان تیل کی قیمتوں پر ہونے والی کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زبردست کمی دیکھی گئی تھی جس کے بعد دونوں ممالک میں ’ڈیل‘ ہوئی تھی، دو روز قبل تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے کو ملا تھا۔تاہم اب مزید خبریں آئی ہیں کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا لگا ہے، ایک ہی روز کے دوران امریکی خام تیل کی قیمت 40 فیصد نیچے گر گئی ہے جس کے بعد امریکی خام تیل 11.31 امریکی ڈالر فی بیرل پر فروخت ہونے لگا ہے۔

    واضح رہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 21 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔تجریہ کاروں کے مطابق خام تیل برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی پیداوارمیں کٹوتی تو کی گئی مگر اب بھی پیداوار طلب سے زیادہ ہے۔

    دوسری جانب مختلف ممالک کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی جگہ بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں گر کر اس وقت 21 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔معاشی معاہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گھٹ جانے سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔دریں اثناء معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے لٹر کمی کا اعلان کر دے تو رمضان میں پھل، سبزیاں اور دیگر اجناس کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا اگر پورا پورا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے تو حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 24 روپے فی لیٹر تک کمی کر سکتی ہے
    واضح رہے کہ اس سے پہلے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تیل کی قیمتوں میں گراوٹ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے پیداوار میں حالیہ کمی کے باوجود جاری ہے۔ذرائع کےمطابق فی بیرل 20 ڈالرقیمت کم ہوگئی ہے ، جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے کم ہونے سے عالمی معیشت پربہت زیادہ گہرے اثرات مرتب ہوں گے

    ادھر عالمی مارکیٹ سے متعلق تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہےکہ یہ پچاس سال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس قدر کم قیمتیں ہوئی ہیں ،دوسری طرف معاشی ماہرین کا کہنا ہےکہ 20 کی دہائی میں تیل کی قیمتوں کے اثرات دنیا پربہت گہرے ہوں گے.ماہرین کے مطابق یہ تاریخ میں خام تیل کی پیداوار میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی کمی ہے۔ اوپیک پلس اوپیک کے رکن مالک اور تیل پیدا کرنے والے غیر رکن ممالک پر مشتمل ہے جن میں روس سرفہرست ہے۔

  • امریکی ڈالر ہوا مزید سستا

    امریکی ڈالر ہوا مزید سستا

    امریکی ڈالر ہوا مزید سستا

    باغی ٹی وی :ملک بھر میں رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر مزید 8 پیسے سستا ہوگیا.پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے کی طرف سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم وصول ہونے، وفاقی حکومت کی طرف سے کنسٹرکشن کا صنعت کا درجہ دینے، سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے شرح سود میں کمی اور جی 20 ممالک کی طرف سے پاکستان کے 12 ارب ڈالر سے زائد کا قرض مؤخر ہونے کے بعد ملک بھر میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں ملک بھر میں امریکی ڈالر مزید 8 پیسے سستا ہو گیا جس کے بعد روپے کے مقابلے میں ایک امریکی کرنسی 163 روپے 49 پیسے پر بند ہوئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر پٹ گیا تھا،
    اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • ڈالر کے مقابلے روپے کی بڑی چھلانگ

    ڈالر کے مقابلے روپے کی بڑی چھلانگ

    ڈالر کے مقابلے روپے کی بڑی چھلانگ

    باغی ٹی وی : فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر 166.88 سے سستا ہوکر 163.37 روہے کا ہوگیا۔
    انٹر بینک میں ڈالر 3 روپے 51 پیسے سستا ہوگیا

    آج کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قیمت166.88 تھی تاہم اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کے سبب روپے کی طلب میں اضافہ ہوا اور ڈالر کی قیمت میں نیچے آگئی۔

    معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے ایک ارب 38 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی منظوری کے سبب روپے کی قدر میں نمایاں بہتری آئی اور مستقبل میں ڈالر مزید سستا ہونے کا امکان ہے۔

    شرح سود میں کمی کے مثبت اثرات اسٹاک ایکسچینج پر بھی ہوئے ہیں۔ کاروباری ہفتے کے آخری روز انڈیکس میں 15 سو سے زیادہ پوائنٹس کا اضافہ ہے
    واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

    اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

    آج جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس31329 پر تھا اور پہلے ہی گھنٹے میں ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا.اسٹاک مارکیٹ کھلنے کے بعد فوری تیزی کا رحجان دیکھا گیا جس کے سبب انڈیکس میں بتدریج اضافہ ہوا اور 32ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کرگیا۔
    اسٹاک مارکیٹ سے آخری خبریں آنے تک انڈیکس4.93 فیصد اضافے کیساتھ 1544.86 پر پہنچ چکا تھا۔ خبرفائل ہونے تک 31,329.46 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت 3,583,257,769 پاکستانی روپے رہی۔

    خیال رہے پاکستان کے مرکزی بینک نے گزشتہ روز ہی شرح سود میں دو فیصد کمی ہے جس کے کاروبار پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں کمی سے ملک میں کاروبار کے مواقع بڑھیں گے اور روز پیدا ہوگا. اس سے پہل کرونا کی وجہ سےسٹآک مارکیٹ‌پر بھی برا اثڑ جاری رہا لیکن حالیہ چند دنوں سے مارکیٹ مثبت اور تیزی کی طرف جارہی ے.