اس وقت دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کووڈ 19 یعنی کرونا وائرس کا خوب زور ہے جس سے بچاؤ کے لئے گورنمنٹ نے ملک بھر میں جزوی لاک ڈاؤن کر رکھا ہے جس کی بدولت لوگوں کے کافی زیادہ کاروبار بند ہیں مگر جن کے چل رہے ہیں وہ بھی ٹائمنگ کم ہونے اور لوگوں کے پاس پیسے کی قلت کی بدولت متاثر ہو کر رہ گئے ہیں لاک ڈاؤن کرنا کرونا سے بچاؤ کیلئے انتہائی ضروری تھا اگر لاک ڈاؤن نا کیا جاتا تو خدانخواستہ ملکی صورت حال کافی بگڑ سکتی تھی یہی وقت ہے جس میں اسلام و پاکستان سے مخلص افراد کی پہچان ہو رہی ہے
زندہ رہنے کیلئے کھانا پینا انتہائی ضروری ہے ہمارا پیٹ یہ نہیں دیکھتا کہ اس وقت لاک ڈاؤن ہے یاں پھر ہمارے پاس خریدنے کیلئے پیسے نہیں اس وقت کاروبار معطل ہیں لہذہ اس جسم و جان کا رابطہ برقرار رکھنے کیلئے کھانے کی طلب تو ہوتی ہی ہے اور یہ طلب ہم دکانوں ،منڈیوں اور لوگوں سے ضروری اشیاء خرید کر پوری کرتے ہیں مگر اس مشکل وقت میں بھی وہی منافع خور متحرک ہو چکے ہیں جو کل بھی پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہے تھے یہ ایسے بدبخت لوگ ہیں جو مجبور کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اپنی پیسے جمع کرنے کی ہوس پوری کرتے ہیں ان درندہ صفت لوگوں نے حالات کا فائدہ اٹھا کر مارکیٹ سے بہت سی اشیاء غائب کرکے اپنے گوداموں اور گھروں میں سٹاک کر لی ہیں تاکہ وہ ان اشیاء کو اپنی مرضی کی قیمتوں پر فروخت کر سکیں حالانکہ آئین پاکستان میں ان منافع خور و بلیک مارکیٹنگ لوگوں کیلئے منافع خوری ایکٹ 1977 اور فوڈ سٹف کنٹرول ایکٹ 1958 کے تحت کاروائی کرکے سزائیں دینے کا اختیار موجود ہے مگر افسوس کہ آج دن تک شاید ہی کسی منافع خور کو قرار واقعی سزا ملی ہو کیونکہ بلیک مارکیٹنگ وہی لوگ کرتے ہیں جو با اثر اور مالی طاقتور ہوتے ہیں مگر ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کو ہاتھ کم ہی ڈالا جاتا ہے باقی کاغذی کاروائی پوری کرنے کیلئے چھوٹے چھوٹے غریب دکانداروں کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے اور اپنی کاروائی کرنے کا ثبوت پیش کیا جاتا ہے
ایسے منافع خور ملک و ملت کی جڑیں کاٹ رہے ہیں اور یہ لوگ کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ان لوگوں کیلئے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ
اور تو اس (دولت) میں سے جو اللہ نے تجھے دے رکھی ہے آخرت کا گھر طلب کر،اور دنیا سے (بھی) اپنا حصہ لینا نا بھول اور تو احسان کر جیسا احسان اللہ نے تجھ سے فرمایا ہے اور ملک میں فساد انگیزی تلاش نا کر ،بیشک اللہ فساد بپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (سورہ القصص)
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے صاف واضح کر دیا کہ اپنا نفع لینا نا بھول اور دنیا کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی کا بھی خیال کیا جائے اور ناجائز منافع خوری کرکے فساد بپا نا کیا جائے کیونکہ ناجائز منافع خوری سے فساد بڑھتا ہے مہنگائی بڑھ جاتی ہے اشیاء لوگوں کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہے اور وہ مجبور ہوکر چوری ڈکیتی اور بعض مرتبہ خود سوزی تک کرتے ہیں جس سے ملک کا امن خراب ہوکر فساد بڑھتا ہے اور فسادی کو اللہ رب العزت سخت ناپسند کرتے ہیں اور روز قیامت ایسے لوگ ڈبل سزا کے مستحق ہونگے اول چیزوں کا بحران پیدا کرکے منافع خوری کے اور دوم فساد برپا کروانے کے
ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ،آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نا کھاؤ،لین دین ہونا چاہئیے آپس کی رضا مندی سے اور اپنے آپ کو قتل نا کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے (سورہ النساء)
اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے وضع کر دیا کہ اپنے بھائیوں کا مال ناجائز طریقے سے نا کھاؤ لین دین ضرور کرو مگر دو طرفہ رضا مندی سے مگر یہاں یہ سوچنا ہوگا کہ منافع خور تو اپنے نفع پر راضی ہے جبکہ خریدار مجبور ہو کر چیز خرید رہا ہے اور وہ اپنے دل میں کہے گا کہ اس نے زیادہ منافع لے کر زیادتی کی ہے یہ چیز اتنے کی نہیں میں مجبور ہو کر خرید رہا ہوں تو اس صورت فروخت کنندہ نے مجبور کرکے چیز فروخت کی اور صارف چیز خرید تو رہا ہے مگر وہ مطمئن نہیں بلکہ مجبور ہے ایسی صورت میں باہمی رضا مندی نہیں بلکہ یک طرفہ منافع خور کی ہی رضا مندی ہے لہذہ منافع خور زیادتی کر رہا ہے اور ایک مجبور صارف کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے
اس موجودہ دور میں گورنمنٹ کی طرف سے ہر چیز کے نرخ مقرر کئے گئے ہیں جن کے مطابق چیزیں بیچنا دکاندار و کاروباری افراد پر لازم ہے اگر وہ اس طے کردہ قیمت سے زائد لے گا تو وہ ناجائز منافع خوری اور فساد فی الارض کا مرتکب ہوگا
کچھ دکاندار بڑے دکانداروں سے مجبور ہوکر اصل قیمت سے زائد پر مال خریدتے ہیں اور آگے معقول نفع لے کر بیچتے ہیں ایسی صورت میں گناہگار اور فساد فی الارض کا مرتکب وہی بڑا کاروباری ہوگا جس نے خود اپنی مرضی سے نفع ناجائز لیا ہے چھوٹا دکاندار مجبور ہوکر اپنی دکان و کاروبار چلانے کیلئے اس سے خرید کر معقول نفع پر بیچ رہا ہے لہذہ وہ مجبور ہیں ناجائز منافع خوری کے مرتکب نہیں
بلیک مارکیٹنگ اور ناجائز منافع خوری کل بھی حرام تھی اور آج بھی لہذہ اپنا اصل نفع لے کر دنیا کیساتھ آخرت بھی سنواریں اور فساد فی الارض کے مرتکب ہونے سے بچیں کیونکہ یہ وقت لوگوں سے ہمدردی و ایثار کرنے کا ہے اور اسی ہمدردی و ایثار کے عیوض اللہ رب العزت خوش ہو کر ہمیں دنیا و آخرت میں کامیاب کرینگے
Category: کاروبار

ناجائز منافع خور فساد فی الارض کے ذمہ دار بھی اور سماج کے دشمن بھی!!! تحریر: غنی محمود قصوری

سٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان
سٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان
باغی ٹی وی :کاروباری ہفتے کے دوسرے روز منگل کو اسٹاک مارکیٹ کا آغاز منفی زون میں ہوا تاہم جلد ہی مثبت زون میں ٹریڈ کرتے دیکھا گیا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 31 ہزار 32 پوائنٹس پر ہوا۔
کے ایس ای 100 انڈیکس ابتدا میں مزید 50 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 31 ہزار کی سطح بر قرار نہیں رکھ سکا تھا۔
کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس 183 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 31 ہزار 395 کی سطح پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا۔
کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کے دوران 38,146,224 شیئرز کی لین دین ہوئی جس کی مالیت پاکستانی روپوں میں 1,663,569,247 بنتی ہے۔

ڈالر ہوا مزید مہنگا
ڈالر ہوا مزید مہنگا
باغی ٹی وی :پاکستان میں رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران اوپن اور انٹر بینک میں امریکی ڈالر بالترتیب 25 اور 3 پیسے مہنگا ہو گا۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں پاکستانی روپیہ کی کرنسی تنزلی کی جانب گامزن ہے جبکہ امریکی ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران امریکی ڈالر تقریباً دس روپے کے قریب بڑھ گیا ہے۔
آج اوپن مارکیٹ میں ڈالر 25 پیسے مہنگا ہوا جس کے بعد روپے کے مقابلے میں امریکی کرنسی 167 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔دوسری طرف اوپن مارکیٹ کی طرح انٹر بینک میں امریکی کرنسی کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا، ڈالر 3 پیسے مہنگا ہونے کے بعد 166 روپے 82 پیسے کی سطح پر بند ہوا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔
اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی
سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی
باغی ٹی وی: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز شدید مندی کا رحجان دیکھا جا رہا ہے۔
آج جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس320033 پر تھا اور پہلے30 منٹ میں 500 سے زائد پوائنٹس کی کمی ہوئی۔ اسٹاک مارکیٹ کاروبار نہ ہونے کے سبب انڈیکس مسلسل تنزلی کا شکار رہا۔
کارباری ہفتے کے پہلے روز اسٹاک مارکیٹ سے آخری خبریں آنے تک انڈیکس میں609 پوائنٹس کی کمی آ چکی تھی۔
اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کے سبب صرف32,033.21 شیئرز کا لین دین ہوا تھا جن کی مالیت 1,837,794,730 پاکستانی روپے رہی۔معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد بڑھنے کے سبب اسٹاک مارکیٹ میں مندی دیکھی جا رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے کے آخری روز کاروبارکا اختتام 196 پوائنٹس کے اضافے پر ہوا تھا۔ کورونا کے باعث ملک بھر میں معاشی صورتحال انتہائی متاثرہ ہو رہی ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑھ رہے ہیں

مرکزی صدر انجمن تاجران آزادکشمیر سردار عبدالرزاق خان کی چیف سیکریٹری آزادکشمیر سے ملاقات، تاجران کے مسائل پر غور
مظفرآباد (عطاءالرحمٰن) آزادکشمیر کی مرکزی تاجر قیادت سردار عبدالرزاق خان ، حافط طارق محمود، سردار وسیم خورشید، راجہ رفاقت حسین ، سردار ارشاد، سہیل شجاع، مسعود سیال، حیدر شاہ اور دیگرسے مشاورت کے بعد مشترکہ مسائل پیش کئے.
1. آزادکشمیر میں کروونا لاک ڈاؤن سے چھوٹے تاجران کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے.
2. کروونا لاک ڈاؤن سے چھوٹے تاجران پر دکانات کے کرائے، یوٹیلیٹی بلات، سیلز مین کی تنخواہوں سمیت دکانات کے اندر موجود سامان بھی خراب ہو رہا ہے.
3. اپریل 14 کے بعد ہر شہر میں تاجر تنظیمات کی مشاورت سے ٹائم ٹیبل اور سیفٹی میئر کیساتھ دکانات کھولنے کی اجازت دی جائے.
4. تاجران کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے بلاسود قرضہ دیاجائے.
5. ہر گزرتا دن تاجران پر قیامت بن کر ٹوٹ رہاہے.
چیف سیکریٹری آزاد کشمیر نے یقین دلایا کے 14 تاریخ کے بعد تاجران کے لئے نئ پالیسی وضع کریں گے.
ایک ماہ کے دوران ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ کمی
ایک ماہ کے دوران ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ کمی
باغی ٹی وی :اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ایک ارب 91 کروڑ ڈالر کی کمی کے بعد 16 ارب 98 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں۔
ایک ماہ کے دوران مرکزی بینک کے ذخائر 2 ارب 6 کروڑ ڈالر کمی کے بعد 10 ارب 72 کروڑ ڈالرپر آگئے جب کہ شیڈولڈ بینک کے ذخائر 15 کروڑ 10 لاکھ ڈالر اضافے کے ساتھ 6 ارب 26 کروڑ ڈالر پر آگئے ہیں۔

اسٹاک مارکیٹ کا آغاز مثبت زون میں ہوا
اسٹاک مارکیٹ کا آغاز مثبت زون میں ہوا
باغی ٹی وی : کاروباری ہفتے کے چوتھے روز جمعرات کو اسٹاک مارکیٹ کا آٓغاز مثبت زون میں ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 30 ہزار 971 پوائنٹس پر ہوا۔
کے ایس اے 100 انڈیکس میں کاروبار کے ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران مثبت کاروبار ہوا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 866 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 31837 کی سطح پر بند ہوا۔
ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں 44,457,975 شیئرز کی لین دین ہوئی جس کی مالیت پاکستانی روپوں میں 1,975,595,308 بنتی ہے۔

قطر کرونا وائرس کے سبب 8 ارب ڈالر کے معاہدے ملتوی کر نے پر مجبور
قطر کرونا وائرس کے سبب 8 ارب ڈالر کے معاہدے ملتوی کر نے پر مجبور
باغی ٹی وی :قطر کے حکمران نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب سرمایہ جاتی اخراجات کے منصوبوں کے لیے غیر پیش کردہ معاہدوں کو ملتوی کر دیا جائے۔ مذکورہ معاہدوں کی مالیت 8.2 ارب امریکی ڈالر ہے۔
بونڈ پراسپیکٹس کی دستاویز میں قطر نے کہا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کے سبب قطر میں معیشت اور فنانشل مارکیٹس پر منفی اثرات مرتب ہونے کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ ممکنہ طور پر اس کا نتیجہ کساد بازاری کی صورت میں سامنے آئے۔
دوسری جانب قطر نے اقرار کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا ملک کی آمدنی اور اس کے مالی حالات پر بڑا اقتصادی اثر ہو گا۔ اس لیے کہ 2018 کی مجموعی آمدنی میں تیل اور گیس کے سیکٹر کا تناسب 83.3% رہا تھا۔ گذشتہ برس مجموعی مقامی پیداوار میں اس سیکٹر کا حصہ 34فیصد تھا۔قطر نے منگل کے روز تین مختلف مدتوں کے لیے ڈالر بونڈز کی مارکیٹنگ کا آغاز کر دیا۔ یہ بونڈز 5، 10 اور 30 سال کی مدت کے لیے ہوں گے۔ اس کا مقصد کرونا وائرس کے سبب تیل کی قیمتوں میں کمی کے بیچ سیالیت کا حجم میں اضافہ کرنا ہے۔
ادھر تحادی افواج نے یمن میں جنگ بندی کا اعلان کردیاکورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔ترجمان اتحادی افواج کرنل ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ یمن کے عوام کو مہلک وائرس سے بچانے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں ،جنگ بندی کورونا وائرس کی وجہ سے اقوام متحدہ کی درخواست پرکی گئی جنگ بندی کا عرصہ 2 ہفتوں کے لیے ہے،جنگ بندی کے عرصے میں توسیع ممکن ہے،
دوسری جانب حوثی باغیوں نے مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کردیا،ترجمان حوثی باغیوں نے کہا ہے کہ حوثی مکمل جنگ بندی اور محاصرہ ختم کرانے چاہتے ہیں،
سعودی نائب وزیر دفاع خالد بن سلمان کا کہنا ہے کہ یمن میں اتحادی فوج کی فائربندی خطےمیں استحکام لائےگی،2ہفتوں پرمشتمل سیز فائر میں کوئی فریق بدامنی کی کوشش نہیں کرے گا،سعودی عرب اقوام متحدہ کے یمن میں ایچ آرپی پروگرام میں500 بلین ڈالرکی امداد دے گا، سعودی عرب وبائی امراض سےنمٹنے کیلئے مزید25ملین ڈالرکی امدادبھی جاری کرے گا،دیکھناہےحوثی باغی اب کیسے یمنی عوام کی صحت محفوظ اوربالاتررکھتے ہیں

فیول ایڈجسٹمنٹ 3 ماہ کیلئے مؤخر کرنے کی تجویز منظور
فیول ایڈجسٹمنٹ 3 ماہ کیلئے مؤخر کرنے کی تجویز منظور
باغی ٹی وی : مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں فیول ایڈجسٹمنٹ 3 ماہ کیلئے مؤخر کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی، پائیدار ترقی پروگرام کیلئے ایک ارب 70 کروڑ گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
اجلاس کے دوران تاپی پائپ لائن منصوبے کیلئے گیس قیمتوں کا تعین کرنیوالی کمیٹی قائم کر دی گئی۔ ای سی سی نے 4 سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری بھی دی، ایف پی ایس سی کیلئے 16 کروڑ، اسپیشل سکیورٹی ڈویژن جنوبی فیز ون کیلئے 11 ارب 48 کروڑ اور ایس سی او کیلئے 46 کروڑ 42 لاکھ روپے کی گرانٹس دی جائیں گی۔
کمیٹی اراکین کو آئی ایم ایف کی جانب سے کورونا وبا کے خلاف اقدامت کی مد میں ملنے والے متوقع قرض سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔
دوسری طرف حکومت پنجاب نے وفاقی حکومت کے ساتھ ملکر پنجاب میں 69 لاکھ خاندانوں کی مالی امداد کا فیصلہ کیا ہےکرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے مزدوروں کے لئے معاشی پیکج کا اعلان کیا تھا پنجاب میں 44 لاکھ افراد کو احساس کفالت پروگرام کے تحت اور 25 لاکھ خاندانوں کو چیف منسٹر انصاف امداد پروگرام کے تحت امداد دی جائے گی۔ حکومت پنجاب کی جانب سے 2 لاکھ افراد کو زکوۃ فنڈ سے 9 ہزار روپے فی کس امداد دی جائے گی۔
چیف منسٹر انصاف امداد پروگرام کی درخواستوں کی سکروٹنی کا عمل آج سے شروع ہوگا۔ پنجاب حکومت کو 1 کروڑ 56 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں جس کی سکر وٹنی کا عمل تین روز میں مکمل ہوگا۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ مالی امداد کی فراہمی کا عمل شفاف اور تیز ترین ہوگا، رقم کی تقسیم میں کسی قسم کی سستی برداشت نہیں ہوگی۔ آزمائش کے وقت متاثرہ لوگوں کی مددکا جذبہ قابل ستائش ہے،قوم نے ہمیشہ مشکل گھڑی میں دل کھول کر مدد کی ہے،فنڈ کی رقم دیانتداری کے ساتھ مستحق لوگوں تک پہنچائیں گے

سٹاک مارکیٹ میں بہتر رجحان
سٹاک مارکیٹ میں بہتر رجحان
باغی ٹی وی :پاکستان اسٹاک ایکسچینج 756 پوائنٹس اضافے کے ساتھ مثبت زون میں ٹریڈ کر رہی ہے۔
کاروباری ہفتے کے چوتھے روز جمعرات کو اسٹاک مارکیٹ کا آٓغاز مثبت زون میں ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 30 ہزار 971 پوائنٹس پر ہوا۔
کے ایس اے 100 انڈیکس میں کاروبار کے ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران مثبت کاروبار ہوا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 756 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 31 ہزار 727 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔
ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں 44,457,975 شیئرز کی لین دین ہوئی جس کی مالیت پاکستانی روپوں میں 1,975,595,308 بنتی ہے







