Baaghi TV

Category: کاروبار

  • امریکی ڈالر کی قیمت میں‌کمی

    امریکی ڈالر کی قیمت میں‌کمی

    امریکی ڈالر کی قیمت میں‌کمی

    باغی ٹی وی :ملک بھر میں رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں 14 پیسے کمی ریکارڈ کی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران امریکی ڈالر 22 پیسے مہنگا ہوا تھا جس کے بعد روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت 166 روپے 98 پیسے ہو گئی تھی۔

    دوسرے کاروباری روز کے دوران امریکی ڈالر 92 پیسے مہنگا ہوا تھا، روپے کے مقابلے میں ڈالر 167 روپے 90 پیسے کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا تھا۔آج انٹر بینک میں رواں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز کے دوران امریکی ڈالر کی قیمت میں تنزلی دیکھی گئی ہے، روپے کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی قدر میں 14 پیسے کی کمی دیکھی گئی جس کے بعد ایک امریکی ڈالر 167.76 روپے کا ہو گیا ہے
    واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

    اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔
    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی۔

  • اسٹاک مارکیٹ کا آغاز منفی زون میں رہا

    اسٹاک مارکیٹ کا آغاز منفی زون میں رہا

    اسٹاک مارکیٹ کا آغاز منفی زون میں رہا

    باغی ٹی وی : کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بھی اسٹاک مارکیٹ کا آغاز منفی زون میں ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 31 ہزار 231 پوائنٹس پر ہوا۔

    ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران انڈیکس میں 315 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 30 ہزار 916 پوائنٹس تک گر گیا تھا۔
    اروباری ہفتے کے تیسرے روز جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس30579 پر تھا اور پہلے ہی گھنٹے میں 250 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔اسٹاک مارکیٹ سے آخری خبریں آنے تک انڈیکس295 پوائنٹس کے اضافے سے 30,874 پر ٹریڈ کر رہا تھا اور30,579.15 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت1,561,896,769 پاکستانی روپے رہی۔

    اس سے قبل اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی جس کے سبب انڈیکس میں مجموعی طور پر1042 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔ ہفتے کے پہلے روز181,224,838 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت 8,080,930,923 رہی اور انڈیکس 30579 کی سطح پر بند ہوا۔

    رپورت فائل ہوتے وقت انڈیکس 144 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 31 ہزار 86 پر ٹریڈ کر رہا تھا

  • سٹاک مارکیٹ میں‌ تیزی کا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں‌ تیزی کا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں‌ تیزی کا رجحان

    باغی ٹی وی :کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مثبت رحجان سے کاروبار کا آغاز ہوا اور انڈیکس 30 ہزار 800 کی سطح عبور کرگیا۔

    کاروباری ہفتے کے دوسرے روز جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس30579 پر تھا اور پہلے ہی گھنٹے میں 250 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔اسٹاک مارکیٹ سے آخری خبریں آنے تک انڈیکس295 پوائنٹس کے اضافے سے 30,874 پر ٹریڈ کر رہا تھا اور30,579.15 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت1,561,896,769 پاکستانی روپے رہی۔

    گزشتہ روز اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی جس کے سبب انڈیکس میں مجموعی طور پر1042 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔ ہفتے کے پہلے روز181,224,838 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت 8,080,930,923 رہی اور انڈیکس 30579 کی سطح پر بند ہوا۔

  • امریکی ڈالر مسلسل مہنگا ہونے لگا

    امریکی ڈالر مسلسل مہنگا ہونے لگا

    امریکی ڈالر مسلسل مہنگا ہونے لگا

    باغی ٹی وی :ملک بھر میں امریکی ڈالر مسلسل مہنگا ہونے لگا، رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی کرنسی 22 پیسے مہنگی ہو گئی۔

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران امریکی ڈالر کی قدر مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، ڈالر کی قدر بڑھنے کی وجہ سے روپیہ دباؤ کا شکار ہے، آج انٹر بینک میں امریکی ڈالر 22 پیسے مہنگا ہوا جس کے بعد روپے کے مقابلے میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 166 روپے 98 پیسے ہو گئی ہے.

    واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

    اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔
    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی۔

  • ڈالر کی قیمت میں کمی

    ڈالر کی قیمت میں کمی

    ڈالر کی قیمت میں کمی

    باغی ٹی وی :کاروباری ہفتے کے آخری روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں 16 پیسے کی کمی ہوئی ہے۔فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک میں ڈالر 166.92 سے کم ہو کر 166.76 پر بند ہوا۔

    گزشتہ روز انٹر بینک میں ڈالر 13 پیسے سستا ہوا ۔ فاریکس ڈیلرز کے مطابق چوتھے روز پاکستانی روپے کے مقابلے امریکی کرنسی 6 پیسے گرگئی جس کے بعد انٹربینک میں ڈالر 166 روپے 70 پیسے کا ہو گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

    اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔
    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی۔

  • سٹاک مارکیٹ میں مسلسل تیزی

    سٹاک مارکیٹ میں مسلسل تیزی

    سٹاک مارکیٹ میں مسلسل تیزی

    باغی ٹی وی :پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر آج چوتھے روز بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

    کاروباری ہفتے کے آخری روز جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس30782 پر تھا اور ابتدائی گھنٹے میں11 سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ بھی ہوا۔

    اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل چوتھے روز تیزی دیکھی جا رہی ہے اور انڈیکس31,817.10 پر پہنچ گیا تھا جو اب تک کی بلند ترین سطح رہی۔مارکیٹ سے آخری خبریں آنے تک انڈیکس613 پوائنٹس کے اضافے سے31,395 پرٹریڈ کر رہا تھا اور92,705,736 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت 4,014,528,272 پاکستانی روپے رہی۔

    گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی اور کاروبار کا اختتام 1277 پوائنٹس کے اضافے پر پر ہوا تھا۔

  • سٹاک مارکیٹ بھی  مسلسل کرونا کا شکار

    سٹاک مارکیٹ بھی مسلسل کرونا کا شکار

    سٹاک مارکیٹ بھی مسلسل کرونا کا شکار

    باغی ٹی وی :پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز شدید مندی دیکھی جا رہی ہے۔

    آج جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس 29231 پر تھا اور آغاز میں کچھ دیر کیلئے تیزی بھی دیکھی گئی تاہم یہ مثبت رحجان زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکا۔

    مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر انڈیکس 29,307 پر پہنچ گیا تھا جو اب تک کی بلند ترین سطح رہی۔ کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے سبب تیزی کا رحجان زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکا اور انڈیکس میں تیزی سے نیچے آیا۔
    جبکہ فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک میں ڈالر 166.70 سے کم ہوکر 166.30 روپے کا ہوگیا ہے
    اس سے پہلے فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر 161 روپے 60 پیسے سے بڑھ کر 166 روپے پر پہنچ گیاتھا جو اگلے ہی دن بہتر ہوکر اپنی اسی قیمت پر آگیا تھا. ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی کے فیصلے کے بعد ڈالر کی خریداری کی جارہی ہے جس کے باعث عارضی طور پر اس کی قیمت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔تین روز میں ڈالر 7.33 روپے مہنگا ہوا ہےصرف آج ڈالر 4 روپے 40 پیسے مہنگا ہو کر 166 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے،

  • ڈالر ہوا سستا

    ڈالر ہوا سستا

    ڈالر ہوا سستا

    باغی ٹی وی :کاروباری ہفتے کے تیسرے روز انٹربینک میں ڈالر 40 پیسے سستا ہوگیا۔

    فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک میں ڈالر 166.70 سے کم ہوکر 166.30 روپے کا ہوگیا ہے
    اس سے پہلے فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر 161 روپے 60 پیسے سے بڑھ کر 166 روپے پر پہنچ گیاتھا جو اگلے ہی دن بہتر ہوکر اپنی اسی قیمت پر آگیا تھا. ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی کے فیصلے کے بعد ڈالر کی خریداری کی جارہی ہے جس کے باعث عارضی طور پر اس کی قیمت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔تین روز میں ڈالر 7.33 روپے مہنگا ہوا ہےصرف آج ڈالر 4 روپے 40 پیسے مہنگا ہو کر 166 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، 3 روز میں ڈالر 7 روپے 33 پیسے مہنگا ہوچکا ہے جس کے باعث پاکستان کے بیرونی قرضوں کے بوجھ میں 7 سو ارب روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے۔

  • اسٹیٹ بینک  نے صارف قرضوں کی ادائیگی ایک سال تک مؤخر دی

    اسٹیٹ بینک نے صارف قرضوں کی ادائیگی ایک سال تک مؤخر دی

    اسٹیٹ بینک نے صارف قرضوں کی ادائیگی ایک سال تک مؤخر دی

    باغی ٹی وی :اسٹیٹ بینک پاکستان نے صارف قرضوں کی ادائیگی ایک سال تک مؤخر کرنے کی منظوری دے دی۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کنزیومر صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے صارف قرض کا اصل زر ایک سال مؤخر کرنے کی مشروط اجازت دے دی۔ گاڑی، گھر، ذاتی خرچ اور کریڈٹ کارڈ کے صارفین کا قرض مؤخر ہو سکے گا۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ سہولت ان صارفین کے لیے دستیاب ہوگی جن کی ادائیگی 31 دسمبر تک ریگولر ہو جبکہ قرض ادائیگی مؤخر کرنے پر بینک کوئی فیس یا سود چارج نہیں کریں گے تاہم بینک اس دوران صرف سود یا منافع کی وصولی کر سکیں گے۔ جو صارفین سود یا منافع کی رقم ادا نہ کر سکیں وہ ری اسٹرکچر کی درخواست کر سکتے ہیں اور قرضوں کو مؤخر یا ری شیڈول کرنے سے کریڈٹ ہسٹری متاثر نہیں ہو گی.
    واضح‌ رہےکہ کورونا کے باعث جاری بحران کی وجہ سے معیشت اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے .حکومت اس سلسلے عوام کو ریلیف دے رہی ہے.

  • ڈالر ہوا مزید مہنگا

    ڈالر ہوا مزید مہنگا

    کاروباری ہفتے کے دوسرے روز انٹر بینک میں ڈالر 61 پیسے مہنگا ہوگیا۔

    فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر 166.14 سے بڑھ کر 166.75 روپے کا ہوگیا ہےگزشتہ روز ڈالر کی قیمت میں 96 پیسے اضافہ ہوا تھا۔

    اس سے پہلے فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر 161 روپے 60 پیسے سے بڑھ کر 166 روپے پر پہنچ گیاتھا جو اگلے ہی دن بہتر ہوکر اپنی اسی قیمت پر آگیا تھا. ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی کے فیصلے کے بعد ڈالر کی خریداری کی جارہی ہے جس کے باعث عارضی طور پر اس کی قیمت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔تین روز میں ڈالر 7.33 روپے مہنگا ہوا ہےصرف آج ڈالر 4 روپے 40 پیسے مہنگا ہو کر 166 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، 3 روز میں ڈالر 7 روپے 33 پیسے مہنگا ہوچکا ہے جس کے باعث پاکستان کے بیرونی قرضوں کے بوجھ میں 7 سو ارب روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے۔