Baaghi TV

Category: کاروبار

  • سونے کی قیمت میں  ہوا اضافہ

    سونے کی قیمت میں ہوا اضافہ

    سونے کی قیمت میں ہوا اضافہ
    باغی ٹی وی :ملک بھر میں رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روز کے دوران فی تولہ سونے کی قیمت میں 300 روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں سونا فی اونس 15 ڈالر مہنگا ہوا، جس کے بعد عالمی منڈی میں سونے کی نئی قیمت 1750 ڈالر فی اونس ہو گئی ہے۔

    دوسری طرف عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں بڑھنے کے بعد ملکی صرافہ، لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، سکھر، حیدر آباد، فیصل آباد سمیت دیگر شہروں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 300 روپے کا اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد سونے کی نئی قیمت 95 ہزار 800 روپے ہو گئی ہے۔

    واضح رہے کہ رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران سونے کی قیمت میں 2 ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت 97 ہزار روپے ہو گئی تھی

  • فیس بک نے خریدوفروخت کا ایک نیا پلیٹ فارم متعارف کرا دیا

    فیس بک نے خریدوفروخت کا ایک نیا پلیٹ فارم متعارف کرا دیا

    فیس بک نے اپنے صارفین کے لیے مختلف اشیاء کی خریدوفروخت کا ایک نیا پلیٹ فارم متعارف کرا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : آن لائن تجارت کی طرف ایک نیا قدم ، فیس بک کے مالک مارک زکربرگ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والوں کی مدد کرنا ہے تا کہ وہ اپنی اشیا یہاں فروخت کر سکیں۔

    فیس بک یوزرز کو اس نئے پلیٹ فارم کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فیس بک ایک نیا آئیکون ’’شاپ‘‘ متعارف کرائے گی، جو اس سائٹ کے پیجز پر آنے والے نوٹیفیکشنز اور پیغامات کے آئیکون کے ساتھ نمودار ہوگا۔

    یہ نیا آئیکون اس سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کی موبائل ایپلی کیشن پر اسکرین کے نچلے حصے میں دکھائی دے گا۔ فیس بک کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کا متعارف کردہ نیا پلیٹ فارم آئندہ چند دنوں میں دستیاب ہوگا۔

    فیس بک کے متعارف کردہ اس شاپنگ پلیٹ فارم پر یوزرز مختلف آئٹمز کی تصاویر دیکھ سکیں گے، جو ان کے قریبی اسٹورز پر دست یاب ہوں گی۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنی مطلوبہ مختلف پروڈکٹس کے بارے میں تفصیلات سرچ بھی کرسکیں گے۔واضح‌رہے آن لائن شاپنگ اور تجارت کا رجحان پہلے ہی عام ہو چکا ہے . اب ایسی سہولیات متعارف کرانے سے اس کو مزید ہوا ملے گی.

  • ڈالر کی قیمت بڑھ گئی

    ڈالر کی قیمت بڑھ گئی

    ڈالر کی قیمت بڑھ گئی

    باغی ٹی و ی : انٹر بینک میں ڈالر کی قدر بڑھ گئی جب کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالرمستحکم رہا ۔فاریکس ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز انٹر بینک میں ڈالر 40پیسے کے اضافے سے 160.90 روپے پر جا پہنچا، تاہم اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 160.50روپے پر مستحکم رہا ۔ یورو 50پیسے کے اضافے سے 173روپے جب کہ برطانوی پاؤنڈ ایک روپے کے اضافے سے 197روپے پر جا پہنچا۔
    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

    اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

    اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

    باغی ٹی وی :اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بدھ کو مثبت آغاز ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 34 ہزار 158 پوائنٹس پر ہوا۔ کاروبار کے آغاز پر انڈیکس میں 66 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور انڈیکس 34 ہزار 224 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا نظر آیا۔

    کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار زیادہ دیر مثبت زون میں ٹریڈ نہ کر سکا اور جلد ہی منفی زون میں ٹریڈ کرنے لگا۔

  • ‎پاکستان میں لوکل اسمبل گاڑیوں کی صنعت پر سوالیہ نشانات از ‎احمد جواد

    ‎پاکستان میں لوکل اسمبل گاڑیوں کی صنعت پر سوالیہ نشانات
    ‎احمد جواد

    ‎آٹو انڈسٹری کے حوالے سے کچھ گزارشات ہیں جو کہ میں پیش کر رہا ہوں پاکستان میں تقریبا چالیس سال پہلے لوکل اسمبل گاڑیوں کی صنعت کا آغاز ہوا اور ان چالیس سالوں میں اس لوکل آٹو انڈسٹری نے عوام کا کس طریقے سے استحصال کیا، میں آپ کو بتانا چاہوں گا، گاڑیوں کی صنعت کا آغاز اس مقصد کے تحت کیا گیا تھا کہ لوکل مینوفیکچرنگ ہوگی لیکن آج تقریبا 40 سال گزرنے کے بعد بھی اس آٹو انڈسٹری کے پرزے تقریبا 50 سے 60 فیصد ابھی بھی باہر سے امپورٹ کیے جاتے ہیں ہیں اس لوکل انڈسٹری کا مقصد یہ تھا کہ یہ مہارت پاکستان کے اندر پیدا ہو پاکستان کے اندر نوکریاں پیدا ہو اور پاکستان کو اپنا قیمتی زرمبادلہ ان کو پرزوں کی امپورٹ پر خرچ نہ کرنا پڑے لیکن یہ مقصد 40 سال گزرنے کے بعد بھی حاصل نہیں ہو سکا،

    ‎اس کے بعد دوسرا سوال ان کی قیمت کے حوالے سے اٹھتا ہے کہ وہی گاڑی وہی ماڈل جو پاکستان میں بھی لوکل اسمبل ہوتا ہے اور انڈیا میں بھی ہوتا ہے، پاکستان میں اسکی قیمت ۳۰ سے ۴۰ فیصد ذیادہ کیوں ہے،ہمیں اس سوال کا جواب ڈھونڈنا چاہیے۔

    ‎ اس کے بعد تیسرا عوام کے ساتھ ظلم یہ ہو رہا ہے کہ جب ایک صارف گاڑی کی بکنگ کرواتا ہے تو وہ سو فیصد اس کی قیمت ادا کر دیتا ہے اور اس کے بعد اسے 3 مہینے 6 مہینے ایک سال کا ٹائم دے دیا جاتا ہے اور وہ ڈلیوری ٹائم آنے پر بھی اس کو مزید دو تین مہینے اس کو دیر کردی جاتی ہے، یہ جو کم و بیش ایک سال کا ٹائم ہے جس میں سو فیصد پیمنٹ لے لی جاتی ہے اس کا دس فیصد انٹرسٹ ریٹ جو ہے یہ آٹو انڈسٹری کی جیب میں جاتا ہے اور جتنا وہ ڈلیوری کو لیٹ کرتے ہیں اتنا ہی ان کو اس کا فائدہ ہے آپ صرف اس سے اندازہ کرلیں کہ اگر ایک کار انڈسٹری ارب روپیہ کا آڈر لیتے ہیں اور اس کو ایک سال تک اپنی اکاؤنٹ میں رکھتے ہیں اور وہ ان کو گاڑی مہیا نہیں کرتے تو سیدھا سیدھا دس بارہ کروڑ تو صرف سود سے کما لیتے ہیں ہیں تو یہ کتنا ظلم ہے جو عوام کے ساتھ پچھلے چالیس سال سے ہو رہا ہے

    ‎پھر اس کی سیفٹی پر آ جائیں اس کے سیفٹی سٹینڈر جو ہیں وہ اتنے گھٹیا قسم کے رکھے گئے ہیں اور جس کی وجہ سے میرا خیال ہے کہ ہر سال پاکستان میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں جانیں چلی جاتی ہے اس کا خون بھی آٹو انڈسٹری کے سر کے اوپر ہے جو کہ اپنے منافع کو بہتر کرنے کے لئے انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں۔

    ‎پھر اس کی کوالٹی کے اوپر آ جائیں آپ کسی ایک ماڈل کی گاڑی لوکل سمبل پاکستانی اور امپورٹڈ گاڑی کا موازنہ کر لیں آپ زمین اور آسمان کا فرق نظر آئے گا، لوکل اسمبل گاڑی کا سٹینڈرڈ اور اس کی کوالٹی انتہائ گھٹیا ہوتی ہے

    ‎یہ وہ تمام سوالات ہیں جو کہ پچھلے چالیس سال سے موجود ہیں اور اب امید ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس کے حوالے سے قانون سازی کرے گی اور یہ بھی آئی پی پیز ، شوگر، گندم مافیا اور دوسرے انڈسڑریل مافیاز کی طرح سے عوام کا استحصال کر رہی ہے اس کے خلاف بھی ایکشن ہونا چاہئے اس کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے

    ‎یہاں میں اپنا ذاتی تجربہ دیتا ہوں کہ کس طریقے سے گاڑیوں کی ڈیلیوری کو لیٹ کیا جاتا ہے، گاڑی کی بکنگ کے بعد جب ڈلیوری کا ٹائم بھی گزر گیا اور گاڑی نہ ملی تو میں نے منسٹری آف انڈسٹری کو خط لکھا تو فیڈرل سیکرٹری سے جائنٹ سیکریٹری تک کسی نے جواب دینا پسند نہ کیا۔

    ‎اور وہ اس لئے کہ ہماری بیوروکریسی عوام کو غلام یا اپنی رعایا سمجھتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو پبلک سرونٹ نہیں سمجھتے اس لئے اگر آپ کو کوئی خط لکھیں تو یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ آپ کو اس کا جواب دیں اس لیے مجھے بھی کوئی جواب نہیں ملا- اس کے بعد میں نے وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کو خط لکھا اور انہوں نے منسٹری آف انڈسٹری اور کار انڈسٹری کے نمائندے کو بلا لیا ،وفاقی محتسب کے مشیروں شکایات کمشنر حافظ احسان کھوکھر نے منسٹری آف انڈسٹری سے پوچھا جی آپ کیوں نہیں ان شکایات کا ازالہ کرسکتے، جبکہ تمام اجازت نامے اپ دیتے ہیں پھر آپ ان کو کنٹرول کیوں نہیں کر سکتے اوروفاقی محتسب سیکرٹیریٹ نے منسڑری سے رپورٹ مانگ لی۔ اسی طرح آٹو انڈسٹری کے نمائندے سے پوچھا گیا کہ آپ بتائیں کہ جو ڈیٹ آپ نے دی تھی اس کے بعد کتنی ایسی گاڑیاں جو ڈیلیور نہیں کیں گئیں اور پھر جو تعداد ان کو بتائی گی وفاقی محتسب نے حکم دیا کہ آپ جون کے پہلے ہفتے تک یہ تمام گاڑیاں ان تمام صارفین کو ڈلیوری کروائی جاۓاور مجھے اس کی رپورٹ جمع کرائ جاۓ، تو کہنے کا مقصد یہ ہے حکومت کے اندر جو بھی کام کرنا چاہے گا وہ کر سکتا ہے۔

    ‎موٹر وھیکل آرڈینینس ۱۹۶۹ تمام برائی کی جڑ ہے-اس کے تحت آٹو انڈسٹری میں تبدیلی نہیں آ سکتی۔ منسٹری آف انڈسٹری کو لیڈ کرنا ہو گا۔

    ‎وفاقی محتسب کا ادارہ صدر پاکستان کے نیچے آتا ہے اور میں صدر پاکستان کو وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کی اچھی کارکردگی پر مبارکباد دیتا ہوں۔

    ‎اوورسیز پاکستانیوں کی بھی جس طرح سے شکایات کمشنر حافظ احسان کھوکھر نے کورونا کے دوران مدد کی وہ قابل ستائش ہے۔

    ‎وقت آ گیا ہے اب عوام کی سنی جاۓ اور مافیا کی پکڑ ہو۔ انشااللہ نیا پاکستان

  • اسٹاک مارکیٹ میں‌مثبت رجحان

    اسٹاک مارکیٹ میں‌مثبت رجحان

    اسٹاک مارکیٹ میں‌مثبت رجحان

    باغی ٹی وی :کاروباری ہفتے کے دوسرے روز منگل کو اسٹاک مارکیٹ کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 33 ہزار 804 پوائنٹس پر ہوا اور ابتدا سے ہی انڈیکس مثبت زون میں ٹریڈ کرنے لگا۔

    کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کے دوران 546 پوائنٹس تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس 34 ہزار 350 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا دیکھا گی

  • اسٹیٹ بینک نے شرح سود  کم کردی

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود کم کردی

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود کم کردی

    باغی ٹی وی :اسٹیٹ بینک نے شرح سود ایک فیصد کم کرکے 8فیصد مقرر کرنے کا اعلان کردیا۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا گیا جس کے مطابق شرح سود ایک فیصد کم کرکے 8فیصد مقرر کردی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق شرح سود کم کرکے لاک ڈائون کی وجہ سے معاشی سست روی کو روکنا بھی ممکن نہیں ہوگا جبکہ شرح سود کم ہونے سے کرونا کی وبا پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،

    کرونا کی وبا کے باعث پیدا ہونے والی معاشی صورتحال مانیٹری پالیسی کے لیے چیلنج ہے۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال افراط زر 7سے 9فیصد رہنے کی توقع ہے جب کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے افراط زر کا دبا کم ہوا ہے اور رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد رہے گی۔

  • ڈالر ہوا سستا

    ڈالر ہوا سستا

    ڈالر ہوا سستا

    باغی ٹی وی :انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 60 پیسے سستا ہونے کے بعد 160 روپے کی سطح سے بھی نیچے آ گیا۔

    کاروباری ہفتے کے آخری روز ڈالر 160 روپے 10 پیسے سے کم ہو کر 159 روپے 50 پیسے پر ٹریڈ کرنے لگا، امریکی کرنسی کی قدر میں محض ایک دن میں 60 پیسے کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قدر میں 84 پیسے کی کمی دیکھی گئی تھی جس کے بعد ٹریڈنگ 160 روپے 10 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج ملا جلا رحجان

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج ملا جلا رحجان

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج ملا جلا رحجان

    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج ملا جلا رحجان دیکھا گیا اور کاروبار کےاختتام پر مثبت رجحان ریکارڈ کیا گیا ۔

    آج جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس 33 ہزار603 پر تھا اور کچھ ہی دیر بعد انڈیکس میں160 پوائنٹ کا اضافہ بھی ہوا تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔کاروباری ہفتے کے تیسرے روز مارکیٹ میں کچھ دیر کیلئے مندی بھی دیکھی گئی جب انڈیکس42 پوائنٹ کی کمی سے33 ہزار345 تک گر گیا تھا۔
    بعد ازاں کاروبار کا اختتام 100 انڈیکس میں 90 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 33 ہزار 693 کی سطح پر ہوا ہے۔

  • ڈالر ہوا مہنگا

    ڈالر ہوا مہنگا

    ڈالر ہوا مہنگا

    باغی ٹی وی : ڈالر 40پیسے کے اضافے سے 161روپے پر جاپہنچا،اسی طرح 70پیسے کے نمایاں اضافے سے اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 161روپے کا ہوگیا۔

    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی