Baaghi TV

Category: کاروبار

  • اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت رحجان

    اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت رحجان

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز رحجان سے ہوا اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی۔

    باغی ٹی وی : آج جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس33 ہزار693 پر تھا اور پہلے30 منٹ میں 296 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی انڈیکس میں بتدریج کمی ہوئی۔کاروباری ہفتے چوتھے روز مارکیٹ میں مجموعی طور پر بہتری کا رحجان رہا اور سرمایہ کار کافی متحرک دکھائی دیئے۔سٹاک مارکیٹ سے آخری خبریں آنے تک انڈیکس مجموعی طور پر146 پوائنٹس کے اضافے سے33 ہزار839 پر ٹریڈ کررہا تھا اور41,885,324 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت1,574,200,742 پاکستانی روپے رہی۔

    گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رحجان رہا اور کاروبار کے اختتام پر انڈیکس میں90 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ بدھ کو جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس 33 ہزار603 پر تھا۔ منگل کے روز کاروباور کا آغاز مثبت زون میں ہوا اور100انڈیکس 319 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

  • آئی پی پیز کی مہنگی بجلی از عدنان عادل

    بجلی بنانے کی نجی کمپنیاں عرف عام میںآئی پی پیز کہلاتی ہیں۔ انیس سو نوے کی دہائی کے وسط میںبے نظیر بھٹوکے دوسرے دور حکومت میں ان کا ڈول ڈالا گیا۔ مقصد تھا کہ نجی شعبہ خاص طور سے بیرونی سرمایہ کار بجلی بنانے کے منصوبے لگائیں تاکہ ملک میں بجلی کی قلت پر قابو پایا جاسکے۔کہا گیا کہ حکومت کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں کہ وہ اربوں روپے سے یہ منصوبے لگائے۔ اس وقت کے حکمرانوں نے بجلی بنانے کی نجی کمپنیوں سے ایسے معاہدے کیے جن کی شرائط کا زیادہ تر فائدہ نجی کمپنی کو تھا‘ بجلی خریدنے والے سرکاری ادارہ اور صارفین کو نہیں۔ ایک تو نجی کمپنیوں کو حکومت نے یہ ضمانت دی کہ وہ ہر حال میں ان کی بجلی کی ایک خاص مقدار کی قیمت لازمی طور پر ادا کرے گی خواہ استعمال کرے یا نہ کرے۔ یہ ضمانت اس لیے دی گئی کہ بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کار اربوں روپے لگاتا ہے۔ وہ بے یقینی کی کیفیت میں سرمایہ نہیں لگا سکتا کہ اس کی بنائی ہوئی چیز منڈی میں فروخت ہو یا نہ ہو۔ دوسرے‘ان کمپنیوں سے بجلی خریدنے کا جو نرخ (ٹیرف) مقرر کیاگیا وہ بہت زیادہ تھا۔ اس معاملہ پراسو قت ماہرین نے بہت شورمچایا لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں بجلی بہت مہنگی ہوگئی۔جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ مہنگی۔ اس مہنگی بجلی کے باعث ملک میں کارخانے چلانا مشکل ہوتا چلا گیا کیونکہ مال بنانے پر لاگت دوسرے ملکوں کی نسبت بہت زیادہ ہوگئی۔

    بے نظیر بھٹو دور میں کیے گئے معاہدوں کی عمر پچیس سے تیس سال تھی۔اب یہ منصوبے عوام کا خون چوس کراور صنعتوں کوتباہ و برباد کرنے کے بعد اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہیں۔انیس سو ستانوے میں نواز شریف کی دوسری حکومت آئی تو انہوں نے سرکاری پلانٹ جیسے کوٹ ادو پاور پلانٹ بھی نجی شعبہ کو اونے پونے داموں‘ قسطوں پر فروخت کردیے۔اور ان ہی سے مہنگے داموں بجلی خریدنے کے معاہدے بھی کرلیے۔ جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے آئی پی پیز کی ایک نئی پالیسی دی۔ توقع تھی کہ اس بار ملکی مفاد کے پیش نظر بہتر پالیسی دی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہُوا۔ اس دور میںبھی نجی شعبہ میں بجلی بنانے کے جو معاہدے ہُوے ان میں کم و بیش وہی شرائط تھیں جو ماضی میں تھیں۔ نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے تو پھر انہوں نے ایک اورنئی آئی پی پی پالیسی دی۔ اسکے تحت چینی سرمایہ کاروں نے بھی کوئلہ اور ایل این جی (قدرتی گیس) سے بجلی بنانے کے پلانٹ لگائے۔ چین ہمارا دوست ملک ہے۔ اس سے ہمارے تزویراتی (اسٹریٹجک) تعلقات ہیں۔ان منصوبوں کی لاگت اور ان کے زیادہ نرخوں پر بات کرنا ایک حساس معاملہ ہے۔ایف آئی اے نے آئی پی پیز پر جو تحقیقات کی ہیں ان میں ان کی ہوش رُبا منافع خوری سامنے آئی ہے۔ یہ درست ہے کہ آئی پی پیز نے پاکستانی قوم کو ہزاروں ارب روپے کا چونا لگایا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کمپنیوںنے جو بھی مال سمیٹا ہے اُسکی اجازت انہیں قانونی معاہدوں کے تحت دی گئی۔ یہ توپا لیسی بنانے والوں کی نااہلی ہے یا بدنیتی ہے کہ انہوں نے ایسے یکطرفہ عہد نامے بنائے جن سے بجلی کے صارفین کو نقصان ہوا۔

    پہلی گڑ بڑ تو ان کمپنیوں نے پلانٹ لگانے کی قیمتوں میں کی۔فرض کیجیے کہ ایک پلانٹ اگر ایک سو روپے میں لگتا ہے تو اسکی قیمت سوا سو روپے یا ڈیڑھ سو روپے ظاہر کی اور نیپرا(بجلی کا نرخ مقرر کرنے کا ریگولیٹری ادارہ) نے اسے قبول کرلیا۔ دوسرے‘ بجلی کے پلانٹ بنانے والی کمپنیاںجیسے جنرل الیکٹرک وغیرہ احتیاط کے طور پر اپنے پلانٹ کی ایفی شنسی(یعنی یہ مشینری کتنے تیل سے کتنی بجلی بنائے گی ) اصل سے کم رکھتی ہیں تاکہ اگر کوئی اونچ نیچ ہو تو انہیں بعد میںجرمانہ ادا نہ کرنا پڑے۔ اسکا فائدہ بھی آئی پی پیز نے اٹھایا۔ اگر ایک پلانٹ ایک سو لیٹر تیل یا اسکے برابر گیس سے بجلی بنارہا تھا تو دستاویزات میں سوا سو لیٹر بتایا گیا ۔نیپرانے بجلی کا نرخ بھی سوا سو لیٹر پر مقرر کیا۔یوں اس کمپنی کوحقیقت میں پچیس لیٹر تیل کی بچت ہورہی تھی ۔ظاہر ہے اس کام میں بہت بڑی مقدار میں تیل استعمال ہوتا ہے تو یہ فرق کروڑوں روپے سالانہ میں جا پہنچتا ہے۔ زیادہ تر آئی پی پیز نے پاکستانی عوام کاخون چوس کر اسطرح لمبا چوڑا مال بنایا ۔بجلی بنانے والے پلانٹ میں تیل کی اصل کھپت اوردستاویزات میں ظاہر کردہ کھپت کے فرق کو مدّنظر رکھے بغیر بجلی کا نرخ مقرر کرنا نیپرا کی نالائقی ہے۔

    اب تک آئی پی پیز کے جو معاہدے ہوئے وہ ہماری بدقسمتی ہے۔ لیکن ماضی میںجو ہونا تھا ‘سو ہوگیا۔ اب حکومت ان پر انکوائری کروا کر ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ آئی پی پیز کے ساتھ حکومت پاکستان کی ضمانت کے ساتھ جو معاہدے ہوئے ہیں ان کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بین الاقوامی حیثیت کے حامل ہیں۔ اگر حکومت ان کی خلاف ورزی کرے یا اُن کوقانونی جواز کے بغیر منسوخ کرے تو یہ کمپنیاں نہ صرف پاکستانی عدالتوںسے رجوع کرسکتی ہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف تصفیہ کے عالمی ادارہ میں بھی جاسکتی ہیں۔اس سے پہلے پاکستان حکومت عالمی ادارہ میںریکوڈک کا مقدمہ اور ترکی کی بجلی بنانے کی کمپنی’ کارکے ‘کا دائر مقدمہ ہار چکی ہے اور اسے اربوں ڈالر کے بھاری جرمانے ہوچکے ہیں۔ اب اگر ان معاہدوں کو یکطرفہ طور پر چھیڑا گیا تو یہ کمپنیاں عدالت میںچلی جائیں گی جہاں حکومت کا مقدمہ جیتنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ بیرونی اور نجی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔ اس معاملہ کا حل یہی ہے کہ حکومت ان کمپنیوں سے بات چیت کے ذریعے معاہدوں پر نظر ثانی کرلے اور تیل کی اصل کھپت کو سامنے رکھ کر بجلی کے نرخ آئندہ کے لیے کم کروالے۔ اگر ایسا ہوسکے تو عوام کے لیے یہ بھی بڑا ریلیف ہوگا۔
    عدنان عادل

  • ڈالر کی قیمت بڑھ گئی

    ڈالر کی قیمت بڑھ گئی

    ڈالر کی قیمت بڑھ گئی

    باغی ٹی وی :مقامی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بڑھ گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر 25پیسے کے اضافے سے 160.60 روپے کا ہوگیا،اسی طرح 30پیسے کے اضافے سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر 160.30روپے پر جاپہنچا۔ دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونا 9 ڈالر کے اضافے سے 1704ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باوجود مقامی سطح پر فی تولہ سونا 95500اوردس گرام 81875روپے پر مستحکم رہا ۔

    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • ملک کے  کن  حصوں میں ہوگی بارش اور کہاں ہوگی ژالہ باری

    ملک کے کن حصوں میں ہوگی بارش اور کہاں ہوگی ژالہ باری

    ملک کے کن حصوں میں ہوگی بارش اور کہاں ہوگی ژالہ باری

    باغی ٹی وی :رمضان المبارک میں موسم خوشگوار ہونے لگا تاکہ روزے دار شدت کی گرمی سے بچ سکیں. محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ کو شمال مشرقی بلوچستان، خیبر پختونخوا، اسلام آباد، پنجاب، بالائی سندھ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اس دوران بعض مقامات پر ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں موسم خشک اور گرم رہے گا۔

    گزشتہ روز بدھ کو بھی پنجاب، خیبر پختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان اور کشمیر کے چند مقامات پر گرج چمک اور آندھی کے ساتھ بارش ہوئی۔

    گزشتہ روز پنجاب کے علاقے منگلا میں 24 ملی میٹر، ساہیوال میں 22 ملی میٹر، اسلام آباد میں 38 ملی میٹر، راولپنڈی میں21 ملی میٹر، جہلم میں 17 ملی میٹر، گجرات، اٹک اور مری میں 13 ملی میٹر، ملتان میں 12 ملی میٹر، خانیوال میں 08 ملی میٹر، لاہور میں 6 ملی میٹر،حافظ آباد میں 04 ملی میٹر، لیہ اور جھنگ میں 03 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    خیبر پختونخوا کے علاقے مھمند ڈیم میں 21 ملی میٹر، بونیر میں 20 ملی میٹر، بنوں میں 07 ملی میٹر، بشام میں 06 ملی میٹر، مالم جبہ اور کاکول میں 02 ملی میٹر، میر کھانی میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    کشمیر کے ضلع راولاکوٹ میں 17 ملی میٹر، ٹنڈالی میں 16 ملی میٹر، چکوٹھی میں 08 ملی میٹر، چھتر کلاس میں 07 ملی میٹر، مظفر آباد میں 5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    بلوچستان کے ضلع ژوب میں 15 ملی میٹر اور کوئٹہ میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    گزشتہ روز سب سے زیادہ گرمی میر پورخاص 44 ڈگری سینٹی گریڈ، دادو، شہید بینظیر آباد اور نوکنڈی میں 43 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں  ملا جلا رحجان

    اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رحجان

    اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رحجان

    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج ملا جلا رحجان دیکھا جا رہا ہے اور کاروباری سرگرمیاں ماند پڑی ہوئی ہیں۔

    آج جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس33 ہزار603 پر تھا اور کچھ ہی دیر بعد انڈیکس میں160 پوائنٹ کا اضافہ بھی ہوا تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔

    کاروباری ہفتے کے تیسرے روز مارکیٹ میں کچھ دیر کیلئے مندی بھی دیکھی گئی جب انڈیکس42 پوائنٹ کی کمی سے33 ہزار345 تک گر گیا تھا۔

    آخری خبریں آنے تک انڈیکس میں بتدریج بہتری دیکھی جا رہی تھی اور77 پوائنٹ کے اضافے سے33 ہزار680 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

  • سٹاک مارکیٹ میں اضافے کا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں اضافے کا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں اضافے کا رجحان

    باغی ٹی وی :پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباور کا آغاز مثبت زون میں ہوا اور انڈیکس میں سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔کاروباری ہفتے کے دوسرے روز جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس33283 پر تھا اور شروع میں سرمایہ کار کافی متحرک دکھائی دیئے۔

    اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کے سبب ایک وقت میں انڈیکس33 ہزار کی500 کی سطح بھی عبور کر گیا تھا۔اسٹاک ایکسچینج سے آخری خبریں آنے تک انڈیکس33 ہزار418 پر ٹریڈ کر رہا تھا اور 25,229,604 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت1,130,671,535 پاکستانی روپے رہی۔

    رواں ہفتے کے پہلے روز اسٹاک مارکیٹ میں ملاجلا رحجان رہا اور کاروبار کے اختتام پر انڈیکس میں صرف16 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا۔

  • امریکی ڈالر ہوا مزید مہنگا

    امریکی ڈالر ہوا مزید مہنگا

    ملک بھر میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز کے دوران امریکی ڈالر 11 پیسے مہنگا ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند روز کےدوران ملک بھر میں امریکی ڈالر کی قدر میں اُتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے، روپے کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی قدر میں آج بھی بڑھوتری دیکھنے کو ملی۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ چارٹ کے مطابق انٹر بینک میں امریکی ڈالر 11 پیسے مہنگا ہو گیا جس کے بعد روپے کے مقابلے میں ایک امریکی ڈالر کی نئی قیمت 160.07 روپے ہو گئ

    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے آخری روز بھی کساد بازاری دیکھی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی :آج جب مارکیٹ کھلی کو انڈیکس33ہزار304پر تھا اور ابتدائی چند منٹ میں تیزی بھی دیکھی گئی۔ ابتدائی20منٹ میں انڈیکس دو سو پوائنٹس اوپر گیا تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔

    کورونا وائرس کے سبب اسٹاک مارکیٹ میں بھی کاروباری سرگرمیاں ماند ہیں اور خریدار نہ ہونے کے سبب مندی کا رحجان دیکھنے میں آ رہا ہے۔

  • پٹرول، ڈیزل پر فی لٹر اضافی لیوی کی تجویز

    پٹرول، ڈیزل پر فی لٹر اضافی لیوی کی تجویز

    پٹرول، ڈیزل پر 5 روپے لٹر اضافی لیوی کی تجویز

    باغی ٹی وی : پیٹرول مصنوعات سستی ہونے کے بعد اس کے ثمرات عوام کو دینے کی بجائے حکومت اپنے قرضے اتارنے کا سوچ رہی ہے .وزیر اعظم کو گردشی قرضے کے خاتمے کیلئے اضافی لیوی عائد کرنے کی تجویز دے دی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق گردشی قرضے کے بتدریج خاتمے کیلئے پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر 5 روپے فی لٹر کی اضافی لیوی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    دستاویز کے مطابق ملک میں پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی سالانہ کھپت 20 ارب ڈالر ہے اور اضافی لیوی عائد ہونے سے سالانہ 100 ارب روپے وصول ہوں گے۔ دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے بقایا جات گردشی قرضے کی کل رقم کا 26 فیصد ہیں، ان بقایا جات کو ریکور کر کے گردشی قرضے اور بینکوں کو مارک اپ پیمنٹس میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

    دستاویز کے مطابق وزیر اعظم کو یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ وفاق اور صوبے بجلی کے شعبے میں دی جانے والی سبسڈیز اور گردشی قرضے کا بوجھ آپس میں یکساں تقسیم کرنے کیلئے طریقہ کار مرتب کریں

  • ڈالر ہوا مزید مہنگا

    ڈالر ہوا مزید مہنگا

    ڈالر ہوا مزید مہنگا

    باغی ٹی وی : ملک بھر میں رواں ہفتے کے چوتھے کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی کرنسی 25 پیسے مہنگی ہو گئی۔ انٹربینک میں ڈالر 160 روپے 30 پیسے پر ٹریڈ ہونے لگا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان میں چند روز کے دوران امریکی کرنسی میں اُتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھنے کے بعد ایک موقع پر امریکی ڈالر 165 روپے سے زائد کی سطح پر پہنچ گیا تھا، تاہم اسی دوران اُتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا۔

    گزشتہ چند روز کے دوران ملک میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، امریکی ڈالر ایک مرتبہ پھر 160 روپے سے تجاوز کر گیا ہے
    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر پٹ گیا تھا،

    اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی