Baaghi TV

Category: کاروبار

  • خام تیل کوڑیوں کے بھاؤ بکنے لگا، تیل والے ممالک کی معیشتوں کو خطرات لاحق

    خام تیل کوڑیوں کے بھاؤ بکنے لگا، تیل والے ممالک کی معیشتوں کو خطرات لاحق

    خام تیل کوڑیوں کے بھاؤ بکنے لگا، تیل والے ممالک کی معیشتوں کو خطرات لاحق

    باغی ٹی وی : خام تیل فروخت کرکے ملک کا بڑا ریونیو حاصل کرنے والے ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی ، خام تیل کی دنیا بھر میں‌ بے قدری جاری ہے. دنیا بھر میں عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا لگا ہے، ایک روز میں امریکی خام تیل کی قیمت 40 فیصد گر گئی ہے۔سعودی عرب کی حکومت کے لیے اب مالی بحران شدت اختیار کر جائے گا. کیوں‌کہ تیل کی قیمتیں گرنے کے بعد عمرہ وغیر پر بھی پابندی ہے جو کہ سعودی عرب کی معیشت کی ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیںِ دنیا بھر میں کورونا بحران کے باعث طلب میں کمی کی وجہ سے تیل کی قیمتیں مسلسل گراوٹ کا شکار ہیں جب کہ آج تیل کی قیمتوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے اور امریکی خام تیل 45 فیصد کمی کے ساتھ 10.14 ڈالر فی بیرل کا ہوگیا۔

    خیال رہے کہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی) اس سے قبل 1986 میں اس سطح پر موجود تھا جب کہ رواں سال جنوری میں یہ 60 ڈالر فی بیرل کی سطح پر فروخت ہورہا تھا

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے، اس دوران سعودی عرب، روس کے درمیان تیل کی قیمتوں پر ہونے والی کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زبردست کمی دیکھی گئی تھی جس کے بعد دونوں ممالک میں ’ڈیل‘ ہوئی تھی، دو روز قبل تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے کو ملا تھا۔تاہم اب مزید خبریں آئی ہیں کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا لگا ہے، ایک ہی روز کے دوران امریکی خام تیل کی قیمت 40 فیصد نیچے گر گئی ہے جس کے بعد امریکی خام تیل 11.31 امریکی ڈالر فی بیرل پر فروخت ہونے لگا ہے۔

    واضح رہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 21 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔تجریہ کاروں کے مطابق خام تیل برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی پیداوارمیں کٹوتی تو کی گئی مگر اب بھی پیداوار طلب سے زیادہ ہے۔

    دوسری جانب مختلف ممالک کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی جگہ بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں گر کر اس وقت 21 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔معاشی معاہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گھٹ جانے سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔دریں اثناء معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے لٹر کمی کا اعلان کر دے تو رمضان میں پھل، سبزیاں اور دیگر اجناس کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا اگر پورا پورا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے تو حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 24 روپے فی لیٹر تک کمی کر سکتی ہے
    واضح رہے کہ اس سے پہلے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تیل کی قیمتوں میں گراوٹ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے پیداوار میں حالیہ کمی کے باوجود جاری ہے۔ذرائع کےمطابق فی بیرل 20 ڈالرقیمت کم ہوگئی ہے ، جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے کم ہونے سے عالمی معیشت پربہت زیادہ گہرے اثرات مرتب ہوں گے

    ادھر عالمی مارکیٹ سے متعلق تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہےکہ یہ پچاس سال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس قدر کم قیمتیں ہوئی ہیں ،دوسری طرف معاشی ماہرین کا کہنا ہےکہ 20 کی دہائی میں تیل کی قیمتوں کے اثرات دنیا پربہت گہرے ہوں گے.ماہرین کے مطابق یہ تاریخ میں خام تیل کی پیداوار میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی کمی ہے۔ اوپیک پلس اوپیک کے رکن مالک اور تیل پیدا کرنے والے غیر رکن ممالک پر مشتمل ہے جن میں روس سرفہرست ہے

  • عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا

    عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا

    عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا

    باغی ٹی وی : خام تیل کی دنیا بھر میں‌ بے قدری جاری ہے. دنیا بھر میں عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا لگا ہے، ایک روز میں امریکی خام تیل کی قیمت 40 فیصد گر گئی ہے۔

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے، اس دوران سعودی عرب، روس کے درمیان تیل کی قیمتوں پر ہونے والی کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زبردست کمی دیکھی گئی تھی جس کے بعد دونوں ممالک میں ’ڈیل‘ ہوئی تھی، دو روز قبل تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے کو ملا تھا۔تاہم اب مزید خبریں آئی ہیں کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بڑا جھٹکا لگا ہے، ایک ہی روز کے دوران امریکی خام تیل کی قیمت 40 فیصد نیچے گر گئی ہے جس کے بعد امریکی خام تیل 11.31 امریکی ڈالر فی بیرل پر فروخت ہونے لگا ہے۔

    واضح رہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 21 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔تجریہ کاروں کے مطابق خام تیل برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی پیداوارمیں کٹوتی تو کی گئی مگر اب بھی پیداوار طلب سے زیادہ ہے۔

    دوسری جانب مختلف ممالک کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی جگہ بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں گر کر اس وقت 21 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔معاشی معاہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گھٹ جانے سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔دریں اثناء معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے لٹر کمی کا اعلان کر دے تو رمضان میں پھل، سبزیاں اور دیگر اجناس کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا اگر پورا پورا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے تو حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 24 روپے فی لیٹر تک کمی کر سکتی ہے
    واضح رہے کہ اس سے پہلے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تیل کی قیمتوں میں گراوٹ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے پیداوار میں حالیہ کمی کے باوجود جاری ہے۔ذرائع کےمطابق فی بیرل 20 ڈالرقیمت کم ہوگئی ہے ، جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے کم ہونے سے عالمی معیشت پربہت زیادہ گہرے اثرات مرتب ہوں گے

    ادھر عالمی مارکیٹ سے متعلق تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہےکہ یہ پچاس سال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس قدر کم قیمتیں ہوئی ہیں ،دوسری طرف معاشی ماہرین کا کہنا ہےکہ 20 کی دہائی میں تیل کی قیمتوں کے اثرات دنیا پربہت گہرے ہوں گے.ماہرین کے مطابق یہ تاریخ میں خام تیل کی پیداوار میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی کمی ہے۔ اوپیک پلس اوپیک کے رکن مالک اور تیل پیدا کرنے والے غیر رکن ممالک پر مشتمل ہے جن میں روس سرفہرست ہے۔

  • امریکی ڈالر ہوا مزید سستا

    امریکی ڈالر ہوا مزید سستا

    امریکی ڈالر ہوا مزید سستا

    باغی ٹی وی :ملک بھر میں رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر مزید 8 پیسے سستا ہوگیا.پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے کی طرف سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم وصول ہونے، وفاقی حکومت کی طرف سے کنسٹرکشن کا صنعت کا درجہ دینے، سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے شرح سود میں کمی اور جی 20 ممالک کی طرف سے پاکستان کے 12 ارب ڈالر سے زائد کا قرض مؤخر ہونے کے بعد ملک بھر میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں ملک بھر میں امریکی ڈالر مزید 8 پیسے سستا ہو گیا جس کے بعد روپے کے مقابلے میں ایک امریکی کرنسی 163 روپے 49 پیسے پر بند ہوئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر پٹ گیا تھا،
    اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • ڈالر کے مقابلے روپے کی بڑی چھلانگ

    ڈالر کے مقابلے روپے کی بڑی چھلانگ

    ڈالر کے مقابلے روپے کی بڑی چھلانگ

    باغی ٹی وی : فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر 166.88 سے سستا ہوکر 163.37 روہے کا ہوگیا۔
    انٹر بینک میں ڈالر 3 روپے 51 پیسے سستا ہوگیا

    آج کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قیمت166.88 تھی تاہم اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کے سبب روپے کی طلب میں اضافہ ہوا اور ڈالر کی قیمت میں نیچے آگئی۔

    معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے ایک ارب 38 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی منظوری کے سبب روپے کی قدر میں نمایاں بہتری آئی اور مستقبل میں ڈالر مزید سستا ہونے کا امکان ہے۔

    شرح سود میں کمی کے مثبت اثرات اسٹاک ایکسچینج پر بھی ہوئے ہیں۔ کاروباری ہفتے کے آخری روز انڈیکس میں 15 سو سے زیادہ پوائنٹس کا اضافہ ہے
    واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

    اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

    آج جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس31329 پر تھا اور پہلے ہی گھنٹے میں ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا.اسٹاک مارکیٹ کھلنے کے بعد فوری تیزی کا رحجان دیکھا گیا جس کے سبب انڈیکس میں بتدریج اضافہ ہوا اور 32ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کرگیا۔
    اسٹاک مارکیٹ سے آخری خبریں آنے تک انڈیکس4.93 فیصد اضافے کیساتھ 1544.86 پر پہنچ چکا تھا۔ خبرفائل ہونے تک 31,329.46 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت 3,583,257,769 پاکستانی روپے رہی۔

    خیال رہے پاکستان کے مرکزی بینک نے گزشتہ روز ہی شرح سود میں دو فیصد کمی ہے جس کے کاروبار پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں کمی سے ملک میں کاروبار کے مواقع بڑھیں گے اور روز پیدا ہوگا. اس سے پہل کرونا کی وجہ سےسٹآک مارکیٹ‌پر بھی برا اثڑ جاری رہا لیکن حالیہ چند دنوں سے مارکیٹ مثبت اور تیزی کی طرف جارہی ے.

  • ناجائز منافع خور فساد فی الارض کے ذمہ دار بھی اور سماج کے دشمن بھی!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    ناجائز منافع خور فساد فی الارض کے ذمہ دار بھی اور سماج کے دشمن بھی!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    اس وقت دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کووڈ 19 یعنی کرونا وائرس کا خوب زور ہے جس سے بچاؤ کے لئے گورنمنٹ نے ملک بھر میں جزوی لاک ڈاؤن کر رکھا ہے جس کی بدولت لوگوں کے کافی زیادہ کاروبار بند ہیں مگر جن کے چل رہے ہیں وہ بھی ٹائمنگ کم ہونے اور لوگوں کے پاس پیسے کی قلت کی بدولت متاثر ہو کر رہ گئے ہیں لاک ڈاؤن کرنا کرونا سے بچاؤ کیلئے انتہائی ضروری تھا اگر لاک ڈاؤن نا کیا جاتا تو خدانخواستہ ملکی صورت حال کافی بگڑ سکتی تھی یہی وقت ہے جس میں اسلام و پاکستان سے مخلص افراد کی پہچان ہو رہی ہے
    زندہ رہنے کیلئے کھانا پینا انتہائی ضروری ہے ہمارا پیٹ یہ نہیں دیکھتا کہ اس وقت لاک ڈاؤن ہے یاں پھر ہمارے پاس خریدنے کیلئے پیسے نہیں اس وقت کاروبار معطل ہیں لہذہ اس جسم و جان کا رابطہ برقرار رکھنے کیلئے کھانے کی طلب تو ہوتی ہی ہے اور یہ طلب ہم دکانوں ،منڈیوں اور لوگوں سے ضروری اشیاء خرید کر پوری کرتے ہیں مگر اس مشکل وقت میں بھی وہی منافع خور متحرک ہو چکے ہیں جو کل بھی پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہے تھے یہ ایسے بدبخت لوگ ہیں جو مجبور کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اپنی پیسے جمع کرنے کی ہوس پوری کرتے ہیں ان درندہ صفت لوگوں نے حالات کا فائدہ اٹھا کر مارکیٹ سے بہت سی اشیاء غائب کرکے اپنے گوداموں اور گھروں میں سٹاک کر لی ہیں تاکہ وہ ان اشیاء کو اپنی مرضی کی قیمتوں پر فروخت کر سکیں حالانکہ آئین پاکستان میں ان منافع خور و بلیک مارکیٹنگ لوگوں کیلئے منافع خوری ایکٹ 1977 اور فوڈ سٹف کنٹرول ایکٹ 1958 کے تحت کاروائی کرکے سزائیں دینے کا اختیار موجود ہے مگر افسوس کہ آج دن تک شاید ہی کسی منافع خور کو قرار واقعی سزا ملی ہو کیونکہ بلیک مارکیٹنگ وہی لوگ کرتے ہیں جو با اثر اور مالی طاقتور ہوتے ہیں مگر ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کو ہاتھ کم ہی ڈالا جاتا ہے باقی کاغذی کاروائی پوری کرنے کیلئے چھوٹے چھوٹے غریب دکانداروں کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے اور اپنی کاروائی کرنے کا ثبوت پیش کیا جاتا ہے
    ایسے منافع خور ملک و ملت کی جڑیں کاٹ رہے ہیں اور یہ لوگ کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ان لوگوں کیلئے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ
    اور تو اس (دولت) میں سے جو اللہ نے تجھے دے رکھی ہے آخرت کا گھر طلب کر،اور دنیا سے (بھی) اپنا حصہ لینا نا بھول اور تو احسان کر جیسا احسان اللہ نے تجھ سے فرمایا ہے اور ملک میں فساد انگیزی تلاش نا کر ،بیشک اللہ فساد بپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (سورہ القصص)
    اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے صاف واضح کر دیا کہ اپنا نفع لینا نا بھول اور دنیا کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی کا بھی خیال کیا جائے اور ناجائز منافع خوری کرکے فساد بپا نا کیا جائے کیونکہ ناجائز منافع خوری سے فساد بڑھتا ہے مہنگائی بڑھ جاتی ہے اشیاء لوگوں کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہے اور وہ مجبور ہوکر چوری ڈکیتی اور بعض مرتبہ خود سوزی تک کرتے ہیں جس سے ملک کا امن خراب ہوکر فساد بڑھتا ہے اور فسادی کو اللہ رب العزت سخت ناپسند کرتے ہیں اور روز قیامت ایسے لوگ ڈبل سزا کے مستحق ہونگے اول چیزوں کا بحران پیدا کرکے منافع خوری کے اور دوم فساد برپا کروانے کے
    ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ،آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نا کھاؤ،لین دین ہونا چاہئیے آپس کی رضا مندی سے اور اپنے آپ کو قتل نا کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے (سورہ النساء)
    اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے وضع کر دیا کہ اپنے بھائیوں کا مال ناجائز طریقے سے نا کھاؤ لین دین ضرور کرو مگر دو طرفہ رضا مندی سے مگر یہاں یہ سوچنا ہوگا کہ منافع خور تو اپنے نفع پر راضی ہے جبکہ خریدار مجبور ہو کر چیز خرید رہا ہے اور وہ اپنے دل میں کہے گا کہ اس نے زیادہ منافع لے کر زیادتی کی ہے یہ چیز اتنے کی نہیں میں مجبور ہو کر خرید رہا ہوں تو اس صورت فروخت کنندہ نے مجبور کرکے چیز فروخت کی اور صارف چیز خرید تو رہا ہے مگر وہ مطمئن نہیں بلکہ مجبور ہے ایسی صورت میں باہمی رضا مندی نہیں بلکہ یک طرفہ منافع خور کی ہی رضا مندی ہے لہذہ منافع خور زیادتی کر رہا ہے اور ایک مجبور صارف کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے
    اس موجودہ دور میں گورنمنٹ کی طرف سے ہر چیز کے نرخ مقرر کئے گئے ہیں جن کے مطابق چیزیں بیچنا دکاندار و کاروباری افراد پر لازم ہے اگر وہ اس طے کردہ قیمت سے زائد لے گا تو وہ ناجائز منافع خوری اور فساد فی الارض کا مرتکب ہوگا
    کچھ دکاندار بڑے دکانداروں سے مجبور ہوکر اصل قیمت سے زائد پر مال خریدتے ہیں اور آگے معقول نفع لے کر بیچتے ہیں ایسی صورت میں گناہگار اور فساد فی الارض کا مرتکب وہی بڑا کاروباری ہوگا جس نے خود اپنی مرضی سے نفع ناجائز لیا ہے چھوٹا دکاندار مجبور ہوکر اپنی دکان و کاروبار چلانے کیلئے اس سے خرید کر معقول نفع پر بیچ رہا ہے لہذہ وہ مجبور ہیں ناجائز منافع خوری کے مرتکب نہیں
    بلیک مارکیٹنگ اور ناجائز منافع خوری کل بھی حرام تھی اور آج بھی لہذہ اپنا اصل نفع لے کر دنیا کیساتھ آخرت بھی سنواریں اور فساد فی الارض کے مرتکب ہونے سے بچیں کیونکہ یہ وقت لوگوں سے ہمدردی و ایثار کرنے کا ہے اور اسی ہمدردی و ایثار کے عیوض اللہ رب العزت خوش ہو کر ہمیں دنیا و آخرت میں کامیاب کرینگے

  • سٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

    باغی ٹی وی :کاروباری ہفتے کے دوسرے روز منگل کو اسٹاک مارکیٹ کا آغاز منفی زون میں ہوا تاہم جلد ہی مثبت زون میں ٹریڈ کرتے دیکھا گیا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 31 ہزار 32 پوائنٹس پر ہوا۔

    کے ایس ای 100 انڈیکس ابتدا میں مزید 50 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 31 ہزار کی سطح بر قرار نہیں رکھ سکا تھا۔

    کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس 183 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 31 ہزار 395 کی سطح پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا۔

    کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کے دوران 38,146,224 شیئرز کی لین دین ہوئی جس کی مالیت پاکستانی روپوں میں 1,663,569,247 بنتی ہے۔

  • ڈالر ہوا مزید مہنگا

    ڈالر ہوا مزید مہنگا

    ڈالر ہوا مزید مہنگا
    باغی ٹی وی :پاکستان میں رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران اوپن اور انٹر بینک میں امریکی ڈالر بالترتیب 25 اور 3 پیسے مہنگا ہو گا۔

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں پاکستانی روپیہ کی کرنسی تنزلی کی جانب گامزن ہے جبکہ امریکی ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران امریکی ڈالر تقریباً دس روپے کے قریب بڑھ گیا ہے۔
    آج اوپن مارکیٹ میں ڈالر 25 پیسے مہنگا ہوا جس کے بعد روپے کے مقابلے میں امریکی کرنسی 167 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    دوسری طرف اوپن مارکیٹ کی طرح انٹر بینک میں امریکی کرنسی کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا، ڈالر 3 پیسے مہنگا ہونے کے بعد 166 روپے 82 پیسے کی سطح پر بند ہوا۔
    واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

    اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی

  • سٹاک مارکیٹ میں‌ شدید مندی

    سٹاک مارکیٹ میں‌ شدید مندی

    سٹاک مارکیٹ میں‌ شدید مندی

    باغی ٹی وی: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز شدید مندی کا رحجان دیکھا جا رہا ہے۔

    آج جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس320033 پر تھا اور پہلے30 منٹ میں 500 سے زائد پوائنٹس کی کمی ہوئی۔ اسٹاک مارکیٹ کاروبار نہ ہونے کے سبب انڈیکس مسلسل تنزلی کا شکار رہا۔

    کارباری ہفتے کے پہلے روز اسٹاک مارکیٹ سے آخری خبریں آنے تک انڈیکس میں609 پوائنٹس کی کمی آ چکی تھی۔
    اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کے سبب صرف32,033.21 شیئرز کا لین دین ہوا تھا جن کی مالیت 1,837,794,730 پاکستانی روپے رہی۔

    معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد بڑھنے کے سبب اسٹاک مارکیٹ میں مندی دیکھی جا رہی ہے۔

    گزشتہ ہفتے کے آخری روز کاروبارکا اختتام 196 پوائنٹس کے اضافے پر ہوا تھا۔ کورونا کے باعث ملک بھر میں معاشی صورتحال انتہائی متاثرہ ہو رہی ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑھ رہے ہیں

  • مرکزی صدر انجمن تاجران آزادکشمیر سردار عبدالرزاق خان کی چیف سیکریٹری آزادکشمیر سے ملاقات، تاجران کے مسائل پر غور

    مرکزی صدر انجمن تاجران آزادکشمیر سردار عبدالرزاق خان کی چیف سیکریٹری آزادکشمیر سے ملاقات، تاجران کے مسائل پر غور

    مظفرآباد (عطاءالرحمٰن) آزادکشمیر کی مرکزی تاجر قیادت سردار عبدالرزاق خان ، حافط طارق محمود، سردار وسیم خورشید، راجہ رفاقت حسین ، سردار ارشاد، سہیل شجاع، مسعود سیال، حیدر شاہ اور دیگرسے مشاورت کے بعد مشترکہ مسائل پیش کئے.
    1. آزادکشمیر میں کروونا لاک ڈاؤن سے چھوٹے تاجران کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے.
    2. کروونا لاک ڈاؤن سے چھوٹے تاجران پر دکانات کے کرائے، یوٹیلیٹی بلات، سیلز مین کی تنخواہوں سمیت دکانات کے اندر موجود سامان بھی خراب ہو رہا ہے.
    3. اپریل 14 کے بعد ہر شہر میں تاجر تنظیمات کی مشاورت سے ٹائم ٹیبل اور سیفٹی میئر کیساتھ دکانات کھولنے کی اجازت دی جائے.
    4. تاجران کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے بلاسود قرضہ دیاجائے.
    5. ہر گزرتا دن تاجران پر قیامت بن کر ٹوٹ رہاہے.
    چیف سیکریٹری آزاد کشمیر نے یقین دلایا کے 14 تاریخ کے بعد تاجران کے لئے نئ پالیسی وضع کریں گے.