Baaghi TV

Category: کاروبار

  • رواں سال درآمدات میں کمی ہوئی ، چیئر پرسن ایف بی آر

    رواں سال درآمدات میں کمی ہوئی ، چیئر پرسن ایف بی آر

    رواں سال درآمدات میں کمی ہوئی ، چیئر پرسن ایف بی آر

    باغی ٹی وی : درآمدات میں کمی معیشت کے لیے اچھا اشارہ ہے اس حولے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) کی قائم مقام چیئر پرسن نوشین جاوید امجد کا کہنا ہے کہ اس سال امپورٹ ہمارے حساب سے زیادہ ہی کم ہوگئی ہے۔

    چیئر پرسن ایف بی آر نے کہا کہ سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں بہت کمی آئی ہے،جبکہ موجودہ حالات میں اس فرق کو کم کرنا مشکل نظر آ رہا ہےانہوں نے کہا کہ صرف امپورٹ میں کمی کی وجہ سے فرق نظر آرہا ہے، جبکہ ٹیکس کا مقررہ ہدف بہت زیادہ اور مشکل ہے۔

    نوشین جاوید امجد نے کہا کہ ملک کی موجوہ معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ بہت مشکل ہدف ہے، مگر ادارے کی سربراہ ہونے کے ناطے کبھی نہیں کہوں گی کہ یہ حاصل نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اُس مرحلے پر نہ پہنچ جائیں جہاں یہ کہہ سکیں۔جب کہ دوسری جانب ٹیکسٹائل انڈسٹری میں برآمدات میں اضافے کے اشارے ملے ہیںِ

  • ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر مستحکم

    ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر مستحکم

    کاروباری ہفتے کے پہلے روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

    باغی ٹی وی :ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق ڈالر آج 154.40 روپے میں فروخت ہوا جو کہ گزشتہ روز بھی اسی قیمت پر دستیاب تھا۔اسی طرح انٹر بینک میں ڈالر 154.30 روپے میں دستیاب ہے۔گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔
    جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

  • سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    باغی ٹی وی :کرونا وائزس نے معیشت پر بھی اثر ڈالنا شروع کردیا. دو ہزار روپے فی تولہ اضافے کے بعد ملک میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    سندھ صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت 96 ہزار 300 روپے ہوگئی ہے.اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 1715 روپے اضافے سے 82562 روپے ہوگئی ہے۔

    چین سے پھیلنے والا کوروناوائر سے دنیا بھرکی معیشت متاثر ہوئی ہے اور کاروباری حضرات اپنا سرمایا محفوظ بنانے کیلئے سونا خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں.تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ مارچ میں سونے کی قیمتیں 1700 ڈالر فی اونس تک جاسکتی ہے۔ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کے سبب مقامی صرافہ بازاروں میں بھی سونےکی فی تولہ اوردس گرام کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں  کاروباری ہفتے کے پہلے روز شدید کساد بازاری

    اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز شدید کساد بازاری

    اسٹاک مارکیٹ کاروباری ہفتے کے پہلے روز شدید کساد بازاری دیکھی گئی

    باغی ٹی وی :سوموار کو جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس 40229 پر تھا اور ابتدائی ایک گھنٹے میں چار سو سے زائد پوائنٹس کی کمی ہوئی جس سے انڈیکس40 ہزار کی سطح سے نیچے آگیا۔کاروبار کے اختتام پر100 انڈیکس 1105 پوائنٹس کمی سے39143 پر آگیا تھا۔ شئیرز کی قیمت کم ہونے سے مارکیٹ کپیٹلائزئشن میں 130 ارب روپے کم ہوگئی ہے۔
    معاشی ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ سےعالمی معیشت پراثرات پڑرہے ہیں جس کے سبب پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج بھی متاثر ہو رہی ہے۔

  • رواں مالی سال کے پہلے سات مہینوں میں پاکستان کا پیٹرولیم درآمدی بل کتنا ہوا کم

    رواں مالی سال کے پہلے سات مہینوں میں پاکستان کا پیٹرولیم درآمدی بل کتنا ہوا کم

    رواں مالی سال کے پہلے سات مہینوں میں پاکستان کا پیٹرولیم درآمدی بل کتنا ہوا کم

    باغی ٹی وی :موجودہ حکومت کا درآمدات میں کمی کرنے کا دعوی سچ ثابت ہونے لگا.رواں مالی سال کے پہلے سات مہینوں میں پاکستان کا پیٹرولیم گروپ کا درآمدی بل 17.91 فیصد کمی سے 7 ارب 13کروڑ ڈالر رہا جب کہ پیٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 21.83 فیصد گر گیا۔ ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے سات مہینوں میں پٹرولیم گروپ کی مد میں 7 ارب 13 کروڑ ڈالر کی درآمدات ہوئیں جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 8 ارب 68 کروڑ ڈالر تھیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے جنوری تک پیٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 3 ارب ایک کروڑ ڈالر رہا جو گزشتہ سال اس عرصے میں 3 ارب 85 کروڑ ڈالر تھا۔ رواں مالی سال سات ماہ میں خام تیل کی درآمدات 2 ارب 8 کروڑ ڈالر رہیں جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 2 ارب 70 کروڑ ڈالر کا خام تیل درآمد کیا گیا تھا۔

    اسی طرح اس سال سات ماہ میں ایک ارب 85کروڑ ڈالر کی ایل این جی درآمد ہوئی جو گزشتہ سال اس عرصے میں ایک ارب 97کروڑ ڈالر درآمد ہوئی تھی۔ جولائی سے ستمبر تک 18کروڑ 58 لاکھ ڈالر کی ایل پی جی درآمد کی گئی جب کہ گزشتہ سال سات ماہ میں 15کروڑ 26 لاکھ ڈالر کی ایل پی جی درآمد ہوئی تھی۔یوں کم درآمدگی کے ہدف کا حصول جاری ہے.

  • پاکستان بنگلہ دیش  کے مقابلے معیشت میں کہاں کھڑا ہے، اہم رپورٹ

    پاکستان بنگلہ دیش کے مقابلے معیشت میں کہاں کھڑا ہے، اہم رپورٹ

    پاکستان بنگلہ دیش کے مقابلے معیشت میں کہاں کھڑا ہے، اہم رپورٹ

    باغی ٹی وی :پاکستان اور بنگلہ دیش کی معیشت کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بنگلہ دیش کی معیشت پاکستان کو پیچھے چھوڑ گئی بنگلہ دیش جب پاکستان سے 1971ء میں الگ ہوا تو اس وقت پاکستان کی آبادی 60 ملین تھی جبکہ بنگلہ دیش کی آبادی 65 ملین تھی.اس وقت پاکستان کی معیشت 3.5 بلین ڈالر تھی اور بنگلہ دیش کی معیشت 2 بلین ڈالر تھی. بنگلہ دیش کو ایک ڈالر کے بدلے 7.5 ٹکا ملتا تھا پاکستان کو ایک ڈالر کے بدلے 4.5 روپے ملتے تھے.پاکستان کا رپیہ ٹکے کے مقابلے میں کافی مضبوط تھا.ان اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت ہماری اکانومی زیادہ مضبوط تھی.2018ء‌میں‌ یہ اعداد و شمار یہاں‌تک پہنچ گئے کہ پاکستان کی آبادی 220 ملین ہوگئی ، جبکہ بنگلہ دیش کی آباد165 ملیں تک پہنچ گئ..ہماری ایکسپورٹ 20 بلین ڈالر تھی اور بنگلہ دیش کی ایکسپورٹ 40 بلین ڈالر تھی جو کہ پاکستنان سے دو گنا زیادہ ہے. ان کی ٹیکسٹائل برآمدات ہماری مجموعی برآمدات سے زیادہ ہے .آج ہم نے ایک ڈالر خریدنا ہے تو ہمیں 156 ڈالر دینا پڑتے ہیں. اور بنگلہ دیش کو صرف 85 ٹکے دینا پڑتے ہیں. 2018ء میں‌بنگلہ دیش کے 31 لاکھ ٹیکس پیئر تھے اور ہمارے صرف 12 لاکھ ٹیکس پیئر ہیں.آج ہمارا ہر شہری 156000کا مقروض ہے اور بنگلہ دیشی 35000ہزار ٹکے کا مقروض ہے. پاکستان جو قدرت کی نعمتوں سے مالا مال ہے اس ہم سے نکل گیا کہ سمندر میں گھر اہوا ہے. پاکستان کے ذمہ داران اور سٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر پاکستان کے لیے کچھ کر نا چاہیے.

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینچ میں  منفی رحجان

    پاکستان اسٹاک ایکسچینچ میں منفی رحجان

    پاکستان اسٹاک ایکسینچ میں آج کاروبار کے آغاز پر منفی رحجان دیکھنے میں آیا۔

    باغی ٹی وی: کاروباری ہفتے کے آخری دن مارکیٹ کھلی تو انڈیکس 40,481.65 پرتھا اور ابتدائی 30 منٹ میں 60 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ بھی ہوا لیکن یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار معمول سے کم ہونے کے سبب شدید مندی دیکھی گئی اور خبر فائل ہونے تک انڈیکس میں سو سے زائد پوائنٹس کی کمی آچکی تھی۔

    اسٹاک مارکیٹ سے آخری خبریں آنے تک انڈیکس 122 پوائنٹس کی کمی سے 40,358.73 پر ٹریڈ کر رہا تھا اور6,500,360 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت349,394,162 پاکستانی روپے رہی۔

  • پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج زبردست تیزی

    باغی ٹی وی :پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج زبردست تیزی رہی اور انڈیکس کا اختتام 399 پوائنٹس اضافے پر ہوا۔

    کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بدھ کو اسٹاک مارکیٹ مثبت زون میں ٹریڈ کرتی رہی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 40 ہزار 175 پوائنٹس پر ہوا اور ابتدائی ایک گھنٹے میں ہی انڈیکس میں 211 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس 40 ہزار 386 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتی نظر آئی۔کاروبار کے دوران انڈیکس مثبت زون میں ہی رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس سب سے زیادہ 469 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 40 ہزار 644 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا نظر آیا تاہم کاروبار کا اختتام 399 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 40 ہزار 574 کے مجموعی پوائنٹس پر ہوا۔

  • سٹاک مارکیٹ میں کمی کا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں کمی کا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں کمی کا رجحان

    باغی ٹی وی : اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی رہی اور کاروبار کے اختتام پر 101 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    منگل کے روز جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس 40276 پر تھا اور ابتدائی ایک گھنٹے میں تین سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ بھی ہوا تھا لیکن یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکی اور انڈیکس تیزی سے نیچے آیا۔

    کاروباری ہفتے کے دوسرے روز سرمایا کاری کافی محتاط رویہ اختیار کیے رکھا جس کے سبب انڈیکس اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔پچھلے دنوں سٹاک مارکیٹ میں کمی نظر آئی .پاکستان کی معاشی صورت حال عالمی جریدے کی رپورٹ نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو بہت مثبت قراردیا،بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے تیزی کے زبردست رجحان کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نمبرون قراردے دیا، اگلے ماہ میں ملک میں غیرملکی سرمایہ آئے گا.

  • ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر مستحکم

    ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر مستحکم

    ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر مستحکم

    باغی ٹی وی :کاروباری ہفتے کے تیسرے روز اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور روپے کی قدر میں استحکام دیکھا گیا ہے۔

    بدھ کے روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر 154.40 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے جو کہ گزشتہ روز بھی اسی قیمت میں فروخت کیا گیا تھا۔
    جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔