Baaghi TV

Category: کاروبار

  • نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ترمیم، سولرپینلز کی قیمتیں گر گئیں

    نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ترمیم، سولرپینلز کی قیمتیں گر گئیں

    وفاق کی جانب سے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ترمیم سےسولرپینلز کی قیمتیں گرنےلگیں، سولر پینلز کی قیمت میں دو روپے فی واٹ کے حساب سے کمی ہو گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سولر سسٹم کی تنصیب میں 35 ہزار سے 1لاکھ 75 ہزار روپے قیمت کم ہو گئی،پانچ کلوواٹ کیلئے مارکیٹ میں 5لاکھ 50ہزار روپے قیمت مقرر کر دی گئی۔اسی طرح سات کلوواٹ سسٹم کیلئے 6 لاکھ 25ہزار روپے قیمت مقرر کر دی گئی،دس کلوواٹ سسٹم کے لئے 8لاکھ 50ہزار روپے تک قیمت گر گئی،بارہ کلوواٹ سسٹم کے لئے 9 لاکھ 75 ہزار روپے قیمت مقرر کر دی گئی۔مارکٹ ذرائع کے مطابق پندرہ کلوواٹ سسٹم کے لئے 11لاکھ 50ہزار روپے قیمت مقرر کی گئی،مذکورہ قیمتیں آن گرڈ سسٹم کے لئے متعین کی گئی ہیں،ہائیبرڈ سسٹم کے لئے بیٹریوں کی اضافی قیمت ادا کرنا ہو گی۔

    پیپلز پارٹی نے بھتہ، بوری بند لاشیں اور ہڑتالیں بند کروا دیں،شرجیل میمن

    نوشکی میں فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ،3 دہشتگرد ہلاک، 5 افراد شہید

    پشاور میں کھلونا بندوق اور فائر کریکر پر دفعہ 144 نافذ

    مصطفی کمال کا صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو کراچی کا دورہ

  • امریکی پابندیاں،سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    امریکی پابندیاں،سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    امریکا کی جانب سے چین، یورپ، میکسیکو کی درآمدات پر 10 سے 25فیصد ڈیوٹی عائد کیے جانے کے ردعمل پر انہی ممالک کی جانب سے بھی امریکی درآمدات پر ڈیوٹی عائد کرنے کے اعلان سے عالمی سطح پر مہنگائی کی ایک نئی لہر سامنے آگئی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مہنگائی کی اس لہر میں اپنے سرمائے کو محفوظ بنانے کے لیے عالمی سطح پر سونے میں سرمایہ کاری رحجان بڑھ گیا ہے جس سے ناصرف عالمی سطح پر بلکہ پاکستان میں بھی سونے کی قیمتیں تاریخ ساز بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں۔عالمی سطح پر گذشتہ ایک ہفتے دوران فی اونس سونے کی قیمت 74ڈالر کے اضافے سے 2984ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی ہے جسکے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت 7ہزار 700روپے کے اضافہ ہوا۔اس اضافے سے فی تولہ سونے کی قیمت 3لاکھ 13ہزار 700روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 6ہزار 602روپے کے اضافے سے 2لاکھ 68ہزار 947روپے کی بلند ترین سطح پر آگئی ہے۔

    ہفتہ وار کاروبار کے دوران فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 142روپے کے اضافے سے 3ہزار 530روپے جبکہ دس گرام چاندی کی قیمت 122روپے کے اضافے سے 3ہزار 26روپے پر آگئی ہے۔اس نئے عالمی تجارتی جنگ کے ماحول میں روس چین بھارت سمیت دیگر ممالک ڈالر میں اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو گولڈ ذخائر میں تبدیل کررہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ڈالر ممکنہ طور پر مضبوط ہونے سے ان کی کرنسی ڈی ویلیو ہوجائیں گی۔متعدد ممالک اپنی معیشت میں ڈالر کی مداخلت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ڈالر کے ذخائر فروخت کرکے سونے کی خریداری کررہے ہیں جبکہ متعدد بااثر ممالک ڈالر کے متبادل نئی عالمی کرنسی متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

    والد کوسیکورٹی کیوں نہیں دی ،جواب دیں ورنہ تدفین نہیں کرونگا،بیٹامفتی منیر شاکر

    کوئٹہ میں تین دھماکے، ایک اہلکار شہید اور 6 زخمی

    ملتان میں 11 سالہ بچے سے بدفعلی کے ملزم کو عمر قید کی سزا

    نیشنل ٹی 20 کپ : پشاور نے لاہور وائٹس کو8 وکٹوں سے ہرادیا

  • احسن اقبال کا لاہور میں الیکٹرک بائیکس فیکٹری کا افتتاح

    احسن اقبال کا لاہور میں الیکٹرک بائیکس فیکٹری کا افتتاح

    لاہور: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے لاہور کے علاقے سندر میں الیکٹرک بائیکس بنانے والی فیکٹری کا افتتاح کیا ہے۔ اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ وہ ملک میں انڈسٹریلائزیشن کو فروغ دے تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

    احسن اقبال نے اس موقع پر مزید کہا کہ الیکٹرک وہیکلز کا شعبہ پاکستان میں ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس شعبے کی ترقی کے ساتھ ہی پاکستان گرین انرجی کی جانب اپنے سفر کو تیز تر کرے گا اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے کی سمت میں ایک نیا قدم اٹھائے گا۔انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ پاکستان کا مستقبل برآمدات سے جڑا ہوا ہے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ نجی شعبے کو طاقتور بنایا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل اور صلاحیتوں کو پوری طرح سے بروئے کار لا سکے۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت نجی شعبے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔

    وزیر منصوبہ بندی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کا "اڑان پاکستان پروگرام” ایک مضبوط اقتصادی روڈ میپ پر مبنی ہے، جو ملکی معیشت کی مضبوطی کے لیے واضح سمت فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کے تحت نجی شعبے کو بھرپور حمایت دی جائے گی تاکہ وہ اپنے کاروبار کو مزید وسعت دے سکے اور ملکی معیشت میں فعال کردار ادا کرے۔فیکٹری کے افتتاح کے ساتھ ساتھ، وزیر نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اس نوعیت کی صنعتیں نہ صرف پاکستان میں ماحولیاتی بہتری کے لیے اہم ہیں بلکہ یہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی فروغ دیتی ہیں جو عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کی مانگ بڑھا سکتی ہے۔

    اس فیکٹری کے قیام سے نہ صرف ماحولیاتی فائدے ہوں گے بلکہ ملک میں نئی صنعتوں کا آغاز ہوگا جس سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی معیشت میں مزید استحکام آئے گا۔

  • پاکستان نے کرپٹو کونسل قائم کر دی،سربراہ بھی مقرر

    پاکستان نے کرپٹو کونسل قائم کر دی،سربراہ بھی مقرر

    پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) کا باضابطہ قیام عمل میں آگیا ہے، جو ملک میں بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے فروغ اور ضابطہ کاری کی جانب ایک نمایاں پیش رفت ہے۔ یہ کونسل کرپٹو اپنانے کے لیے مؤثر پالیسی سازی، جدیدیت کے فروغ اور محفوظ مالیاتی نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    پاکستان کے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب پاکستان کرپٹو کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے، جو ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے حوالے سے حکومت کے عزم کا مظہر ہے۔ وزیر خزانہ کے چیف ایڈوائزر برائے پاکستان کرپٹو کونسل، بلال بن ثاقب، کونسل کے سی ای او مقرر کیے گئے ہیں، جو بلاک چین ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری حکمت عملی، اور ڈیجیٹل جدت کے شعبے میں اپنی مہارت کے ذریعے اس اقدام کی قیادت کریں گے۔پاکستان کرپٹو کونسل کے ابتدائی بورڈ ممبران میں گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)، وفاقی سیکرٹری قانون، اور وفاقی سیکرٹری آئی ٹی شامل ہیں۔ یہ متنوع قیادت مالی استحکام، قانونی فریم ورک، اور تکنیکی ترقی کے امتزاج کو یقینی بنائے گی تاکہ پاکستان میں کرپٹو ایکو سسٹم کو فروغ دیا جا سکے۔

    پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس کے نئے دور کا آغاز
    پاکستان کرپٹو کونسل کا قیام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے عالمی رجحان کو اپنانے کے لیے سرگرم ہے۔ پاکستان ایک واضح ضابطہ جاتی حکمت عملی کے تحت سرمایہ کاروں، کاروباری اداروں اور جدید ٹیکنالوجی کے خواہشمند افراد کے لیے محفوظ اور مربوط ماحول فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

    وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کونسل کے قیام پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:“دنیا تیزی سے ڈیجیٹل فنانس کی طرف بڑھ رہی ہے، اور پاکستان اس میدان میں قیادت کا خواہاں ہے۔ پاکستان کرپٹو کونسل کا قیام جدیدیت کے فروغ اور ایک ایسا ضابطہ جاتی فریم ورک بنانے کی جانب قدم ہے جو سرمایہ کاروں اور مالیاتی نظام کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ہم ایک ذمہ دار اور ترقی پسند کرپٹو ایکو سسٹم کے قیام کے لیے پرعزم ہیں جو پاکستان کی معیشت میں مثبت کردار ادا کرے گا۔”

    پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب نے اس اقدام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا:“یہ کونسل صرف ضوابط کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسا ماحول بنانے کے لیے ہے جہاں بلاک چین اور ڈیجیٹل فنانس کو ترقی دی جا سکے۔ ہمارا مقصد پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ایک مؤثر کھلاڑی بنانا ہے، جہاں سیکیورٹی، شفافیت اور جدیدیت کو اولیت دی جائے۔ ہم کلیدی اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ایسی پالیسیاں ترتیب دینا چاہتے ہیں جو ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھیں، تاکہ کاروباری افراد اور سرمایہ کار بلا خوف اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔”

    پاکستان کرپٹو کونسل کا فوکس واضح ضابطہ جاتی پالیسیوں کی تشکیل، نجی اور سرکاری شعبے کے اسٹیک ہولڈرز سے مؤثر روابط، اور پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل اثاثہ جات کی صنعت میں ایک نمایاں حیثیت دلوانے پر ہوگا۔
    آئندہ اقدامات
    کونسل کے ابتدائی اقدامات درج ذیل ہوں گے:
    • کرپٹو اپنانے کے لیے واضح ضابطہ جاتی ہدایات مرتب کرنا۔
    • عالمی کرپٹو اور بلاک چین تنظیموں سے روابط قائم کر کے بہترین عالمی روایات اپنانا۔
    • مالیاتی ٹیکنالوجی (Fintech) اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں، اور بلاک چین ڈویلپرز کے ساتھ مل کر ذمہ دارانہ جدت کو فروغ دینا۔
    • صارفین کے تحفظ اور مالیاتی سلامتی کے لیے مضبوط قانونی اور تعمیلی فریم ورک تیار کرنا۔
    پاکستان کرپٹو کونسل کے قیام سے ملک میں مالیاتی اور تکنیکی ترقی کا نیا باب کھلے گا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کاروبار اور جدیدیت کے فروغ کے لیے تیار ہے اور ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں ایک نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتا ہے۔
    پاکستان کرپٹو کونسل کے بارے میں
    پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) ایک حکومتی اقدام ہے جس کا مقصد بلاک چین اور کرپٹو کرنسی کی ترقی، انضمام، اور ضابطہ کاری کے لیے ایک مستحکم اور ترقی پسند فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ کلیدی پالیسی سازوں، ریگولیٹری سربراہان، اور صنعت کے ماہرین پر مشتمل یہ کونسل پاکستان میں ایک جدید اور محفوظ ڈیجیٹل اثاثہ جاتی ایکو سسٹم قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں  بڑااضافہ، قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑااضافہ، قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    کراچی: فی تولہ قیمت میں 4 ہزار 700 روپے کا بڑا اضافہ ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : سونے کی قیمتوں میں آج پھر بڑا اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے نتیجے میں عالمی اور مقامی سطح پر سونا تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے امریکی ٹیرف اقدامات سے عالمی تجارت اور گولڈ مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی، بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں 18روزہ وقفے کے بعد فی اونس سونے کی قیمت یک دم 46ڈالر کے اضافے سے 2ہزار 988ڈالر کی سطح پر آ گئی۔

    مقامی صرافہ مارکیٹوں میں جمعے کو سونے کی قیمت تاریخ کی نئی بلند سطح پر پہنچ گئی ہے اور 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 4 ہزار 700 روپے کے اضافے سے 3 لاکھ 14ہزار روپے کی سطح پر آگئی،اسی طرح ملک میں فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 4 ہزار 30 روپے کے اضافے سے 2 لاکھ 69 ہزار 204 روپے کی سطح پر آگئی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان کو آج ہی پیش کرنے کا حکم

    جبکہ فی تولہ چاندی کی قیمت 90روپے کے اضافے سے 3ہزار 530روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 77روپے کے اضافے سے 3 ہزار 26 روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی عالمی قیمت میں 27 ڈالر فی اونس اور مقامی مارکیٹ میں 2800 روپے فی تولہ کا اضافہ ہونے سے قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔

    پاکستان نے اسپیشل اولمپکس ورلڈ ونٹر گیمز میں سونے کا تمغہ حاصل کر لیا

  • آئی ایم ایف کا پاکستان پر ریونیو بڑھانے اور اخراجات کم کرنے پر زور

    آئی ایم ایف کا پاکستان پر ریونیو بڑھانے اور اخراجات کم کرنے پر زور

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ریونیو کو بڑھانے اور اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کرے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں اور ذرائع کے مطابق دونوں فریقین موجودہ مالی سال کی کارکردگی اور آئندہ مالی سال کے اہداف پر مشاورت کر رہے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو پاکستان کی جانب سے رائٹ سائزنگ اقدامات کے تحت خزانے پر بوجھ کم کرنے کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ ٹیکس ریونیو میں اضافہ کریں اور اخراجات کو کم کریں۔آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ اگلے مالی سال کے لیے ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار ارب روپے سے زیادہ رکھنے کی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق، اگلے مالی سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 13 فیصد تک جا سکتی ہے، جب کہ نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 2745 ارب روپے جمع ہونے کا تخمینہ ہے۔

    وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے مالی سال میں معاشی نمو 4 فیصد سے تجاوز کر جانے کی توقع ہے، جبکہ رواں مالی سال میں معاشی گروتھ ساڑھے 3 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ اگلے سال بھی مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجیٹ تک محدود رہنے کی توقع ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کو بیرونی مالی ضروریات کے لیے 20 ارب ڈالر سے زیادہ درکار ہوں گے۔ اس کے علاوہ، اگلے سال دوست ممالک سے ڈپازٹس رول اوور کرائے جائیں گے۔

    آئی ایم ایف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سرکاری اداروں میں ڈیڑھ لاکھ خالی آسامیاں مستقل طور پر ختم کردی گئی ہیں۔ رائٹ سائزنگ اقدامات کے تحت سرکاری خزانے پر مزید بوجھ کم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مختلف محکموں میں ملازمین کو رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ کی پیشکش کی جائے گی، اور گولڈن ہینڈ شیک کے تحت اضافی ملازمین کو واجبات ادا کرنے کا پلان ہے۔ آئی ایم ایف کو یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں ترمیم کر کے فالتو آسامیاں ختم کی جائیں گی۔

    پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے درمیان یہ بات چیت اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ دونوں فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ مالیاتی استحکام کی کوششیں جاری رکھنا ضروری ہیں۔

  • آئی ٹی برآمدات میں 24 فیصد کا شاندار اضافہ

    آئی ٹی برآمدات میں 24 فیصد کا شاندار اضافہ

    آئی ٹی برآمدات 24 فیصد کے شاندار اضافے کیساتھ 3.223ارب ڈالر تک پہنچ گئیں اور تیز رفتار انٹرنیٹ سے معیشت اور تعلیم کو فروغ دیا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایس آئی ایف سی کی حکمت عملی سے پاکستان عالمی آئی ٹی مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔مالی سال 2023-2024 میں آئی ٹی برآمدات 24 فیصد کے شاندار اضافے کیساتھ 3.223ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی میں سبسکرائبرز کی تعداد 139 ملین سے تجاوزکر گئی ، 4.1 ملین افرادبراڈ بینڈکی توسیع سے مستفید ہورہے ہیں۔تیز رفتار انٹرنیٹ سے معیشت اور تعلیم کو فروغ دیا جارہا ہے، ڈیجی اسکلز پروگرام کے تحت 6 لاکھ افراد کی تربیت سمیت 166 اسٹارٹ اپس، 5000 سے زائد نئی ملازمتیں اور 260 ملین روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔پاکستان میں 5G کی تیاری سے وائی فائی 6E اور نیشنل اسپیس پالیسی سے جدید کنیکٹیویٹی کی راہ ہموار ہوگی۔”حج ایپ اور "ون پیشنٹ، ون آئی ڈی سسٹم سے شہریوں کو جدید سہولیات کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔

    جعفر ایکسپریس کے بازیاب مسافروں کا پاک فوج اور ایف سی کو خراج تحسین

    شرجیل میمن سے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنرکی ملاقات

    پیپلزپارٹی نےسیاسی جماعت کی بڑی وکٹ گرادی

    وزیراعظم کا کل کوئٹہ کے دورے کا امکان

  • پاکستانی بینکوں بارے موڈیز کی نئی ریٹنگ جاری

    پاکستانی بینکوں بارے موڈیز کی نئی ریٹنگ جاری

    کریڈٹ ریٹنگ کی عالمی ایجنسی موڈیز نے پاکستانی بینکوں کے لیے اپنا منظرنامہ مستحکم سے مثبت قرار دے دیا ہے۔ موڈیز کے مطابق اس فیصلے کی بنیاد بینکوں کی مالی کارکردگی اور ان کی لچک پر رکھی گئی ہے، جس میں سال 2024 کے مقابلے میں بہتری دیکھی گئی ہے۔

    موڈیز نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی بینکوں کی مالی حالت مستحکم رہی ہے اور وہ بہتر طریقے سے معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، موڈیز نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی معیشت کی مجموعی حالت میں بھی بہتری آرہی ہے، جو کہ بینکوں کے لیے ایک اچھا اشارہ ہے۔ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایک سال پہلے کی نسبت پاکستان کے معاشی حالات بہتر ہوئے ہیں۔ اس سال میں پاکستان کی معیشت کی نمو 3 فیصد تک پہنچنے کی توقع کی جارہی ہے، جو کہ 2024 میں صرف 2.5 فیصد تھی۔ اس معاشی نمو میں اضافے کا مطلب ہے کہ ملک کی معیشت نے مزید استحکام حاصل کیا ہے، جس سے مالی اداروں کو فائدہ پہنچے گا۔

    موڈیز کے اس فیصلے کے اثرات پاکستان کے مالیاتی شعبے اور بینکوں پر مثبت ہوں گے، جو اب اپنی کاروباری سرگرمیاں مزید بہتر طریقے سے چلانے میں کامیاب ہوں گے۔ یہ منظرنامہ بینکوں کی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے اور پاکستان کے مالیاتی شعبے کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔پاکستانی بینکوں کے لیے اس مثبت منظرنامے کا مطلب ہے کہ وہ عالمی مالیاتی اداروں کی نظر میں مزید مستحکم اور مضبوط سمجھے جائیں گے، جو ان کی عالمی سطح پر کاروباری مواقع کو بڑھانے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔

  • سونے کی قیمت 306,000 روپے فی تولہ پر مستحکم

    سونے کی قیمت 306,000 روپے فی تولہ پر مستحکم

    کاروباری ہفتے کے پہلے رو زملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے ساتھ3 لاکھ 6 ہزار روپے پر مستحکم رہی۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق پیر کو سونے کی فی تولہ قیمت 3 لاکھ 6 ہزار روپے پر برقرار رہی جبکہ 24 قیراط سونے کے 10 گرام کی قیمت بھی 262,345 روپے اور 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 240,491 روپے پر برقرار رہی۔فی تولہ اور دس گرام چاندی کی قیمت بالترتیب 3,388 اور 2,904 پر مستحکم رہی۔دوسری جانب ایسوسی ایشن نے رپورٹ کیا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بھی 2,910 ڈالر فی اونس پرمستحکم رہی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز مقامی اور بین القوامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا، جس سے سونا فی تولہ 3000 روپے اضافے سے 3 لاکھ 7 ہزار روپے پر پہنچ گیا تھا۔یاد رہے کہ سونا خریدنا روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، جس کی قیمت افراط زر، سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے اوقات میں بڑھ جاتی ہے۔

    سوچ عورت ایوارڈ .تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    ڈیویلیئرز کی کرکٹ میں واپسی، 28 گیندوں پر سنچری

  • اسٹیٹ بینک کا  شرح سود کو 12 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک کا شرح سود کو 12 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    پاکستان کے مرکزی بینک، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود میں کسی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے اگلے دو ماہ کے لیے شرح سود کو 12 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس فیصلے کا اعلان اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق، فروری 2025 میں مہنگائی کی شرح توقعات سے کم رہی ہے۔ غذائی اجناس اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی میں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ سے موجودہ شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ معاشی سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور درآمدات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں، معاشی استحکام کے لیے موجودہ حقیقی شرح سود کو مستقبل بنیادوں پر کافی حد تک مثبت سمجھا جا رہا ہے۔

    مزید برآں، اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2025 میں پاکستان کی جی ڈی پی نمو کی پیش گوئی 2.5 سے 3.5 فیصد کے درمیان برقرار رکھی ہے۔ اس کے علاوہ، اسٹیٹ بینک کی توقع ہے کہ جون 2025 تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 13 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے.تاہم، اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر غذائی اجناس اور توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو مہنگائی میں اضافے کا امکان ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں مزید کمی متوقع ہے اور پھر بتدریج بڑھ کر 5 سے 7 فیصد کے درمیان مستحکم ہو جائے گی۔

    اسٹیٹ بینک کے اس اعلان کا مقصد ملک کی اقتصادی صورتحال کو مستحکم کرنا اور مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے موزوں اقدامات کی نشاندہی کرنا ہے۔ اس فیصلے کے بعد، بینکوں اور مالیاتی اداروں کو اقتصادی صورتحال کے پیش نظر مزید احتیاطی اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔