Baaghi TV

Category: کاروبار

  • معیشت میں درپیش چیلنجز ،حکومت جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام

    معیشت میں درپیش چیلنجز ،حکومت جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام

    حکومت رواں مالی سال کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے رواں مالی سال کے لیے عبوری جی ڈی پی گروتھ کی منظوری دے دی ہے رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی گروتھ 2.68 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ حکومت نے مالی سال کے آغاز میں 3 فیصد گروتھ کا ہدف مقرر کیا تھا یوں ہدف اور حاصل کردہ گروتھ کے درمیان واضح فرق سامنے آیا ہے، جو معیشت میں درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے۔

    نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے رواں مالی سال کے عبوری معاشی اشارئیے جاری کر دیئے ہیں، جن کے مطابق رواں مالی سال معیشت میں بتدریج بہتری کا رجحان دیکھا گیا ہےاعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں معاشی ترقی کی شرح 1.37 فیصد رہی، جب کہ دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں یہ شرح بڑھ کر 1.53 فیصد ہو گئی تیسرے سہ ماہی یعنی جنوری سے مارچ 2025 کے دوران معاشی ترقی کی شرح 2.40 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں،وزیرِ اعظم

    ذرائع کے مطابق رواں مالی سال 2024 کے لیے مجموعی عبوری معاشی ترقی کی شرح 2.68 فیصد رہی، جو کہ گزشتہ مالی سال 2023 کی منفی 0.21 فیصد شرح کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے مالی سال 2024 میں مکمل سال کے دوران معاشی ترقی کی شرح 2.51 فیصد رہی۔

    pak

    نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک ملک کی مجموعی معیشت کا حجم 411 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جب کہ فی کس آمدنی 1824 ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے یہ اعداد و شمار ملک کی اقتصادی پالیسیوں میں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔

    نور مقدم قتل کیس:سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا،سزائے موت برقرار

  • سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    کراچی: ملک بھر میں آج پھر سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔

    کاروباری ہفتے کے پہلے روز عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کے نرخ یکدم بڑھ گئے،آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت 4000 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 42 ہزار 500 روپے ہوگئی ہے 10 گرام سونا 3429 روپے مہنگا ہوکر 2 لاکھ 93ہزار638 روپے کا ہوگیا ہے عالمی صرافہ بازار میں سونے کا بھاؤ 40 ڈالر اضافے سے 3241 ڈالر فی اونس ہے۔

    دنیا بھرمیں سونے کے ذخائر کے حوالے سے امریکا پہلے نمبر پرہے جبکہ ایشیا میں یہ اعزاز چین کے پاس ہے،بھارت عالمی سطح پر آٹھویں اورایشیا میں دوسرے نمبر پر ہے، پاکستان عالمی فہرست میں 49 ویں نمبر ہے امریکا، جرمنی اور اٹلی سونے کے ذخائر کے حوالے سرفہرست ہیں، ایشیاء میں چین اور بھارت سونے کے سب سے زیادہ ذخائر رکھتے ہیں۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز

    کاروباری ہفتے کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان رہا ،100 انڈیکس میں 515 پوائنٹس کا اضافہ ہوا-

    کاروباری ہفتے کے پہلے روز اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر تیزی ریکارڈ کی گئی ، 100 انڈیکس میں 515 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس سے انڈیکس ایک لاکھ 20 ہزار 164 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا،گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری دن کاروبار کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس ایک لاکھ ، 19 ہزار 649 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اضافہ ملکی معاشی اشاریوں میں بہتری، ترسیلات زر میں استحکام اور کاروباری ماحول میں بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہےماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مثبت پیش رفت، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دیا ہے۔

    دوسری جانب انٹر بینک میں امریکی کرنسی کے مقابلے میں روپے کی قدر بہتر ہو گئی ہے ، انٹر بینک میں 20 پیسے کی کمی کے بعد ڈالر کی قیمت 281 روپے 46 پیسے ہو گئی ہے-

  • افغان ٹرانزٹ پر  ناجائز منافع خوری روکنے کے لیے 10 فیصد پروسیسنگ فیس عائد

    افغان ٹرانزٹ پر ناجائز منافع خوری روکنے کے لیے 10 فیصد پروسیسنگ فیس عائد

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے افغان ٹرانزٹ کے ذریعے ہونے والی ناجائز منافع خوری اور غیر قانونی تجارت کے خلاف اہم قدم اٹھاتے ہوئے 10 فیصد پروسیسنگ فیس نافذ کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس فیصلے کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا اور ٹیکس وصولی میں بہتری لانا ہے۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ابتدائی طور پر افغان ٹرانزٹ کے تحت درآمد کی جانے والی 5 نئی اقسام کی اشیاء پر یہ فیس لاگو ہوگی۔ ان میں زرعی آلات، کرینیں، ڈیٹا مشینیں، الیکٹرانکس اور بجلی و الیکٹرانک کباڑ شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، وزارتِ تجارت کی سفارش پر یہ پالیسی مرتب کی گئی ہے، جس کا مقصد افغانستان میں کم کسٹم ڈیوٹی کے ذریعے پاکستان میں غیر قانونی منافع خوری کو روکنا ہے۔ حکومت اس حوالے سے بینک گارنٹی اور دیگر سخت اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ افغان ٹرانزٹ کی آڑ میں اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے یہ کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔ پروسیسنگ فیس کے نفاذ سے نہ صرف ٹرانزٹ سسٹم میں شفافیت بڑھے گی بلکہ ملکی خزانے کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

    شاہد آفریدی کا لائن آف کنٹرول کا دورہ، کشمیری عوام اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

    کالعدم ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر عبدالواحد افغانستان میں فائرنگ سے ہلاک

    پیر عادل: یورو ویگن کی ٹکر سے بچی شدید زخمی، حالت تشویشناک

    کراچی میں شدید گرمی کے دوران 14 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ، شہری پریشان

  • پاکستان کی فتح، اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی،9900 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ

    پاکستان کی فتح، اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی،9900 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ

    پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے اثرات پاکستانی اسٹاک ایکسچینج پر بھی واضح نظر آ رہے ہیں۔ بھارت کو بھرپور جواب دینے کے بعد، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے کو ملی ہے، جس نے کاروباری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

    آج، کاروباری ہفتے کے پہلے روز، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا آغاز ہوا، جس کے دوران 100 انڈیکس میں 9929 پوائنٹس کا شاندار اضافہ دیکھنے کو ملا۔ اس دوران 100 انڈیکس 117104 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا ہوا دکھائی دیا۔ اسی طرح، کے ایس سی 30 انڈیکس میں بھی 3020 پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے کو آیا، جس کے بعد یہ انڈیکس 35668 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اس تیزی کے نتیجے میں، کے ایس سی 30 انڈیکس 5 فیصد تک بڑھا، جس کے بعد اسٹاک مارکیٹ کا کاروبار عارضی طور پر روک دیا گیا۔ اسی طرح 100 انڈیکس میں بھی تاریخی تیزی کے باعث کاروبار کو کچھ دیر کے لیے معطل کیا گیا، تاہم ایک گھنٹے بعد کاروبار دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

    یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی نے اسٹاک مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔ بھارتی حملے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 6 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی تھی، جس سے سرمایہ کاروں میں بے چینی پھیل گئی تھی۔تاہم، پاکستان کی جانب سے بھارت کو دیے جانے والے بھرپور اور منہ توڑ جواب کے بعد، کاروباری ہفتے کے آخری روز اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آنا شروع ہوئی تھی۔ اس صورتحال نے پاکستانی سرمایہ کاروں کی امیدوں کو جلا بخشی ہے اور کاروباری ماحول میں استحکام واپس لایا ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں یہ تیز تر ریکوری، عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، اور پاکستان کے معاشی منظر نامے کے حوالے سے نئی امیدوں کی لہر پیدا ہوئی ہے۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی،  3,647 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ

    اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 3,647 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایک روزہ شدید مندی کے بعد آج سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور بازارِ حصص میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3,647 پوائنٹس کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کاروباری ہفتے کے آخری روز ابتدائی لمحات سے ہی مارکیٹ میں مثبت رحجان دیکھا گیا اور انڈیکس 849 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 104,375 پوائنٹس پر پہنچا۔ کاروبار کے دوران یہ تیزی مزید بڑھی اور ایک موقع پر انڈیکس 2,115 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 105,642 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

    تاہم دن بھر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ بھی جاری رہا اور ایک موقع پر انڈیکس 536 پوائنٹس کی کمی کے بعد 102,990 پوائنٹس تک گر گیا۔ اس کے بعد معمولی بحالی دیکھنے میں آئی اور انڈیکس دوبارہ 103,669 پوائنٹس تک پہنچا۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ویب سائٹ کے مطابق کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 3,647 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 107,174 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ایک دن میں ہونے والے بڑے اضافوں میں سے ایک ہے۔

    یہ بحالی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز پاک بھارت کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں بدترین مندی دیکھی گئی تھی۔ جمعرات کے روز اسٹاک مارکیٹ 6,482 پوائنٹس یا 5.89 فیصد گر کر 103,526 پوائنٹس پر بند ہوئی تھی، جو کہ پی ایس ایکس کی تاریخ کی دوسری سب سے بڑی ایک روزہ کمی تھی۔ اس سے قبل سب سے بڑی کمی گزشتہ ماہ امریکی ٹیرف کے اعلان کے بعد 8,700 پوائنٹس کی ریکارڈ کمی کی صورت میں دیکھی گئی تھی۔

    وزیراعظم سے سعودی وزیر خارجہ کی ملاقات، پاک بھارت کشیدگی پر اظہار تشویش

    بھارتی فوجی حکام کی پریس بریفنگ بے نتیجہ، پاکستان پر روایتی الزامات دہرا دیے

    بھارتی سازش ناکام، پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کی ایک ارب ڈالر قسط منظور

    قوم کے اتحاد کیلئے حکومت اے پی سی بلائے: عثمان ڈار

  • سونے کی قیمت میں  آج بھی سینکڑوں روپے کمی

    سونے کی قیمت میں آج بھی سینکڑوں روپے کمی

    ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار ہے، آج بھی فی تولہ سونا سینکڑوں روپے سستا ہو گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی جیولرز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ 24 قیراط کا حامل فی تولہ سونا 2 ہزار 300 روپے کمی کے بعد 3لاکھ 42 ہزار 200 روپے کا ہوگیا۔کمی کے بعد 10 گرام سونا ایک ہزار 972 روپے تنزلی سے 2 لاکھ 93 ہزار 381 روپے کا ہوگیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز 24 قیراط کے حامل خالص سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک ہزار 300 روپے کی کمی سے 3 لاکھ 44 ہزار 500 روپے ہو گئی تھی۔اسی طرح 24 قیراط 10 گرام سونے کی قیمت ایک ہزار 114 روپے تنزلی سے 2 لاکھ 95 ہزار 353 روپے ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ 22 قیراط 10 گرام سونا 2 لاکھ 70 ہزار 740 روپے میں فروخت ہوا تھا۔

    بھارت کو آئی ایم ایف میں بھی پاکستان کے خلاف رسوائی

    پاکستانی خاتون سے شادی بھارتی پولیس اہلکار کو پڑی مہنگی

    حوثی ملیشیا کے میزائل حملے، اسرائیل کے کئی علاقوں میں سائرن بج گئے

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک بار پھر اضافہ

    سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک بار پھر اضافہ

    کاروباری ہفتے کے دوسرے دن پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج سونے کی فی تولہ قیمت میں 2100 روپے کے اضافے کے بعد 3 لاکھ 49 ہزار 200 روپے ہوگئی ہے جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت میں 1800 روپے اضافہ ہوا ہے۔جس کے بعد نئی قیمت 2 لاکھ 99 ہزار 382 روپے ہوگئی ہے۔دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 21 ڈالر اضافے سے 3310 ڈالر فی اونس ہوگئی ہے۔

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں معاشی بے یقینی اور سیاسی کشیدگی کے باعث سونے کی قیمت میں ایک بار پھر زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور پاکستان میںسونا نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا تھا ۔بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت پہلی بار 3500 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی، جس کے بعد کچھ کمی ضرور آئی، مگر قیمتیں اب بھی تاریخی سطح پر برقرار ہیں۔

    وزیراعظم کا اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سے بھارتی اشتعال انگیزی پر رابطہ

    سابق بھارتی بیوروکریٹ نے پہلگام حملے کا پروپیگنڈا بے نقاب کر دیا

    پہلگام فالس فلیگ،مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو ہتھیار بانٹ دیے

  • ہارورڈ یونیورسٹی میں‌وزیر خزانہ کی عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    ہارورڈ یونیورسٹی میں‌وزیر خزانہ کی عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    کیمبرج، میساچوسٹس :وزیر خزانہ، سینیٹر محمد اورنگزیب، نے ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ "پاکستان کانفرنس 2025” میں شرکت کی، جہاں انہوں نے ملک کی اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری کے مواقع، اور پائیدار ترقی کے لیے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔​

    وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اقتصادی استحکام حاصل کیا ہے، جس میں افراطِ زر کی شرح 0.7 فیصد تک کم ہوئی ہے، جو پچھلے 60 سالوں میں سب سے کم ہے۔ ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 44 فیصد اضافہ ہوا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات میں 24 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں معدنی وسائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور سبز توانائی کے شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ حکومت نے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا ہے اور عالمی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پائیدار ترقی کے لیے حکومت کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی، جن میں ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اقدامات، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات، اور معاشی ترقی کے لیے جامع حکمتِ عملی شامل ہیں۔حکومت کا مقصد نہ صرف اقتصادی ترقی ہے بلکہ معاشرتی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ بھی ہے۔​

    کانفرنس میں عالمی سطح پر ماہرینِ اقتصادیات، سرمایہ کاروں، اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ وزیر خزانہ نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے پاکستان کی اقتصادی حکمتِ عملی، اصلاحات، اور عالمی سطح پر ملک کی پوزیشن پر تفصیلی بات کی۔​

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا ہارورڈ پاکستان کانفرنس میں خطاب پاکستان کی اقتصادی ترقی اور عالمی سطح پر ملک کی پوزیشن کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع تھا۔ انہوں نے عالمی سامعین کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا، جو ملک کی پائیدار ترقی کے لیے اہم ہیں-

  • وفاقی وزیرِ خزانہ  کی واشنگٹن ڈی سی میں ایس اینڈ پی گلوبل کی ٹیم سے ملاقات

    وفاقی وزیرِ خزانہ کی واشنگٹن ڈی سی میں ایس اینڈ پی گلوبل کی ٹیم سے ملاقات

    اسلام آباد: وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، محمد اورنگزیب نے آج واشنگٹن ڈی سی میں ایس اینڈ پی گلوبل کی ٹیم سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وزیرِ خزانہ نے پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال، مالیاتی استحکام کے اقدامات اور معیشت کے کلیدی محرکات پر تفصیل سے گفتگو کی۔

    وزیرِ خزانہ نے اس بات کا خیرمقدم کیا کہ ایس اینڈ پی گلوبل کی ٹیم رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کرے گی، جس کے دوران وہ ملک کی اقتصادی صورتحال کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے وفد کو پاکستان کی معیشت کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کرتے ہوئے مالیاتی اصلاحات کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔محمد اورنگزیب نے خاص طور پر فِچ ریٹنگز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری (B-) کا ذکر کیا، جسے حکومت کے ساختی اصلاحاتی ایجنڈے پر عالمی سطح پر اعتماد اور پاکستان کی معیشت میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا واضح مظہر قرار دیا۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ بہتری پاکستان کے معاشی استحکام اور اصلاحات کے اقدامات کی کامیابی کا غماز ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وہ اُمید کرتے ہیں کہ ایس اینڈ پی گلوبل بھی فِچ ریٹنگز کی طرز پر پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری لانے پر غور کرے گا، جس سے ملک کی معیشت کو عالمی سطح پر مزید فائدہ پہنچے گا۔