Baaghi TV

Category: کاروبار

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں 2500 روپے کا اضافہ

    سونے کی فی تولہ قیمت میں 2500 روپے کا اضافہ

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، عالمی منڈی میں سونے کے نرخ بڑھنے پر پاکستان میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے باعث پاکستان میں بھی سونے کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ فی تولہ سونے کی نئی قیمت بلند ترین سطح پرپہنچ گئی ہے.ملک میں آج فی تولہ سونے کی قیمت میں 2 ہزار 500 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ فی تولہ سونے کی قیمت بڑھنے کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں نئی قیمت 3 لاکھ 4 ہزار روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی پھر بڑھ گئی ہے۔ 10 گرام سونے کی قیمت میں 2 ہزار 144 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ نئی قیمت 2 لاکھ 60 ہزار631 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔دوسری جانب سٹیٹ بینک نے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی سے 454ارب روپے جمع کرلئے۔

    ایس بی پی کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی کے لئے 350 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا تاہم نیلامی میں 454 ارب روپے حاصل کئے گئے۔ ان بانڈز پر منافع کی شرح میں ایک سے لے کر 25 بیس پوائنٹس تک کی کمی دیکھنے میں آئی جبکہ شرح منافع 11.69 سے لے کر 12.7 فیصد تک رہی۔ سٹیٹ بینک کو مجموعی طورپر 910 ارب روپے کی بولیاں موصول ہو ئی تھیں۔مزید برآں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے غیر بینکاری مائیکروفنانس سیکٹر میں خواتین کی تقویت اور صارفین کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لئے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات میں جامع صارفین کے تحفظ کے اصول، صنفی طور پر تفریق کردہ ڈیٹا کی رپورٹنگ، اور صنفی حساسیت کی تربیت شامل ہیں۔

    شفافیت اور شمولیت کو فروغ دینے کے لئے، کمیشن نے تمام غیر بینکاری مائیکروفنانس کمپنیوں (NBMFCs) کے لئے ESG Sustain پورٹل کے ذریعے صنفی طور پر تفریق کردہ ڈیٹا اور شکایات کی رپورٹنگ کو لازمی قرار دیا ہے۔یہ نیا اقدام خواتین قرض دہندگان کے تجربات کے بارے میں قیمتی بصیرت فراہم کرے گا، جس سے SECP کو رجحانات کی شناخت، اختلافات کو دور کرنے اور ہدفی مداخلتوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ یہ ڈیٹا پر مبنی طریقہ کار مائیکروفنانس منظرنامے کی مزید تفصیلی تفہیم میں تعاون کرے گا اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو آسان بنائے گا۔

    ترک صدرپاکستان کا دورہ مکمل کر کے واپس وطن روانہ

  • زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں کمی

    زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں کمی

    کراچی:زرمبادلہ کے سرکاری ذخائرگزشتہ ہفتے کے دوران 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی کمی سے 11 ارب 16 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے۔

    باغی ٹی وی: اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق ہفتہ وار اعدادوشمار جاری کردیئے، جن کے مطابق 7 فروری کو ختم ہونےو الے ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت 11 ارب 16 کروڑ 66 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس 4 ارب 69 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں، اس طرح 7 فروری کو زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 15 ارب 86 کروڑ 26 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں جمعرات کو بھی اتارچڑھاؤ کے بعد روپے کی نسبت ڈالر تگڑا رہا، ترکیہ کے ساتھ متوقع سرمایہ کاری معاہدوں کی اطلاعات سے انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے کے دوران ڈالر کی قدر ایک موقع پر 13پیسے کی کمی سے 279روپے 12پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی،کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 01پیسے کے اضافے سے 279روپے 26پیسے کی سطح پر بند ہوئی، اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 04پیسے کے اضافے سے 281روپے 10پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

  • ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ

    ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ

    اسلام آباد: حکومت نے ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹی فکیشن کے مطابق سوئی ناردرن کے لیے ایل این جی کی قیمت 12.90 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہےاسی طرح سوئی سدرن کے لیے ایل این جی کی قیمت 12.67 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یومقرر کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ جنوری میں سوئی نادرن کے لیے ایل این جی کی قیمت 12.66 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور سوئی سدرن کےلیے ایل این جی کی قیمت 12.60 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھی، اوگرا کے مطابق ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ سپلائی لاگت میں اضافے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

    رانی پور فاطمہ قتل کیس: والد نے صلح کی تردید کردی

    پاکستان بینکنگ سمٹ 24 فروری کو کراچی میں ہو گی

    پانی کے غیر ضروری استعمال کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کا اعلان

  • پاکستان بینکنگ سمٹ  24 فروری کو کراچی میں ہو گی

    پاکستان بینکنگ سمٹ 24 فروری کو کراچی میں ہو گی

    پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے پاکستان بینکنگ سمٹ 2025 (پی بی ایس’25) کے آغاز کا باضابطہ اعلان کیا ہے، جو 24 اور 25 فروری، 2025 کو کراچی میں منعقد ہوگی۔

    یہ اعلان پی بی ایس کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین، بینک الفلاح کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، عاطف باجوہ کی قیادت میں پی بی اے کے ہیڈ آفس میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ اس پریس کانفرنس میں پی بی اے کے چیئرمین اوربینک آف پنجاب کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، ظفر مسعود کے علاوہ جے ایس بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، باصر شمسی، پی بی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسراور سیکرٹری جنرل،منیر کمال کے علاوہ بینکنگ انڈسٹری کے دیگر سینئر عہدیدار بھی موجود تھے۔

    پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقد کی جانے والی پاکستان بینکس ایسوسی ایشن 25 کا مقصد ملک میں مالیاتی اور معاشی مکالمے کو فروغ دینا ہے۔ اس کانفرنس میں 12 سے زائد ممتاز بین الاقوامی مقررین، 20 سے زائد مقامی موضوعات کے ماہرین کے علاوہ روایتی، اسلامی، ڈیجیٹل اور مائیکرو فنانس بینکوں کے علاوہ ترقیاتی مالیاتی اداروں سمیت 45 سے زائد دیگر اداروں کے رہنما بھی شریک ہوں گے۔ حکومت، ریگولیٹرز، بینکنگ، فِن ٹیک، اکیڈیمیا، میڈیا اور کارپوریٹ پاکستان کے ایک ہزار سے زائد نمائندگان کا یہ تاریخی بینکنگ سمٹ پاکستان کے مالیاتی شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل کی علامت ہوگا۔

    پاکستان بینکنگ سمٹ25 اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے عاطف باجوہ نے کہا کہ ”پاکستان بینکنگ سمٹ ،بینکنگ انڈسٹری اور اس کے اسٹیک ہولڈرز کو ابھرتے ہوئے رجحانات اور بینکاری اور فنانس کے مواقع سے متعلق اہم گفتگو میں شامل ہونے کے لیے ایک بے مثل پلیٹ فارم مہیا کرے گی۔ اجلاس کا مقصد عالمی اور مقامی اقتصادی ترقی، معاشی ترقی میں بینکاری کے شعبے کے کردار، ترجیحی شعبے کی فنانسنگ، اسلامی بینکاری کے مستقبل اور ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق اہم موضوعات کا احاطہ کرنا بھی ہے۔“

    پی بی اے کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے ظفر مسعود نے کہا کہ ”پی بی ایس’25 پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی جانب سے معاشی ترقی کو فروغ دینے کے مسلسل عزم کا ثبوت ہے، جو نہ صرف مالی اکاؤنٹس بلکہ وسیع تر مالیاتی شمولیت، سسٹین ابیلیٹی اور جامع ترقی کے ذریعے بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اہم اسٹیک ہولڈرز کو اکھٹا کرکے یہ سمٹ بامعنی بات چیت اور تبدیلی لانے والے حل کے لیے محرک کا کام کرے گی جو پاکستان کے مالیاتی شعبے کے مستقبل کو تشکیل دیں گے۔“

  • آئی ایم ایف کا سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کرنے کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کا سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کرنے کا مطالبہ

    پاکستان کی حکومت کو فروری 2025 کے آخر تک آئی ایم ایف کے ساختیاتی معیارات (اسٹرکچرل بینچ مارک کے تقاضے) کی تعمیل کے لیے سول سرونٹس ایکٹ میں ضروری ترامیم کرنی ہوں گی تاکہ اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثے شفاف طریقے سے ظاہر کیے جا سکیں۔ اس کے تحت، گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری عہدیداروں کے اثاثے ڈیجیٹل طور پر فائل کیے جائیں گے اور عوامی سطح پر ان تک رسائی فراہم کی جائے گی، جس کے لیے پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانونی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

    آئی ایم ایف نے اپنے گورننس اور کرپشن ڈائیگنوسٹک اسیسمنٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں کرپشن، سرخ فیتہ (بیوروکریٹک رکاوٹیں) اور کمزور کاروباری ماحول بنیادی مسائل ہیں۔ یہ رپورٹ ایک تکنیکی مشن کی شکل میں آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام سے پیر کے روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ ورچوئل ملاقات میں تیار کی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان میں کرپشن اور گورننس کی بہتری کے لیے مزید اصلاحات کی تجویز پیش کی۔حکومت نے آئی ایم ایف سے اتفاق کیا ہے کہ سول سرونٹس ایکٹ میں ترامیم کی جائیں گی تاکہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے اثاثوں کی فائلنگ اور عوامی رسائی کی بہتر سسٹم بنایا جا سکے۔ ایف بی آر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ان اثاثوں کی معلومات رازداری کے تحفظات کے ساتھ ڈیجیٹل فارم میں رکھی جائیں۔ یہ معلومات سرکاری عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں پر محیط ہوں گی۔مزید برآں، حکومت نے اقوام متحدہ کے کنونشن اگینسٹ کرپشن (UNCAC) کے تحت اپنی تعمیل کی رپورٹ ستمبر 2024 کے آخر تک جاری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر نیب کے اختیارات میں مزید بہتری کے لیے ضروری ترامیم پر غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیب کی آزادانہ کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومت نے ایک جامع حکمت عملی مرتب کی ہے۔ اسی طرح، صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو بدعنوانی کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے اختیارات دیے جائیں گے، تاکہ منی لانڈرنگ اور مالیاتی کرائمز کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

    ایف بی آر کے ذریعے ایک نیا ڈیجیٹل پورٹل ستمبر 2024 کے آخر تک لانچ کیا جائے گا جس کے ذریعے بینکوں کی درخواستوں پر بروقت کارروائی کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ، بینکوں کو اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے اثاثوں تک رسائی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے قوانین پر عمل کر سکیں۔

    پاکستانی حکام نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ ملک میں شفافیت، احتساب اور کرپشن کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔ ان اقدامات کے ذریعے حکومت کی کوشش ہے کہ کاروباری و سرمایہ کاری کے لیے ایک بہتر اور شفاف ماحول فراہم کیا جا سکے، تاکہ اقتصادی ترقی کو مزید تقویت مل سکے۔

    غزہ جنگ بندی معاہدہ ختم کر دیا جائے گا،ٹرمپ کی دھمکی

    2025 کیلئے دنیا کے طاقتورترین ممالک کی فہرست جاری

  • موبائلز فونز کی درآمدات میں کمی، چینی کمپنی پاکستان آ گئی

    موبائلز فونز کی درآمدات میں کمی، چینی کمپنی پاکستان آ گئی

    دسمبر 2024 کے دوران موبائلز فونز کی درآمدات میں 9.10 فیصد کمی ہوئی ہے ۔

    ادارہ برائےشماریات پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق اس دوران درآمدات کا حجم 45.4 ارب روپے تک کم ہوگیا جبکہ دسمبر 2023 میں 49.9ارب روپے مالیت کےموبائلز فونزدرآمد کئے گئے تھے ۔اس طرح دسمبر 2023 کے مقابلہ میں دسمبر 2024 کے دوران موبائلز فونز کی قومی درآمدات میں 4.5 ارب روپے یعنی 9 فیصد سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔

    دوسری جانب صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین کے دورہ چین کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں،اب موبائل فون پنجاب میں تیار ہوںگے۔صوبائی وزیرنے فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی میں نجی موبائل کمپنی کے مینوفیکچرنگ پلانٹ کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا، دو سال تک موبائل کی مینوفیکچرنگ شروع ہو جائیگی۔صوبائی وزیر شافع حسین نے کہا کہ چین کی کمپنی کا پنجاب میں موبائل فون کی اسمبلنگ کے بعد مینوفیکچرنگ میں آنا خوش آئند ہے، موبائل قیمتوں میں کمی آئے گی۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے سرمایہ کاری کا بہترین وقت ہے، چین سمیت دیگر غیر ملکی کمپنیاں پنجاب میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہیں.پنجاب میں جلد اربوں روپے کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری آئیگی، سرمایہ کاروں کو بہترین سہولیات اور مراعات دی جا رہی ہیں، صوبائی وزیر نے موبائل مینوفیکچرنگ پلانٹ کے تعمیراتی عمل کا مشاہدہ کیا۔

    غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم گرفتار، ملکی و غیرملکی کرنسی برآمد

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، نئی قیمت 3 لاکھ 3 ہزار

    اسلام آباد ہائیکورٹ، ججز کی سینیارٹی تبدیلی پر 5 ججز کی درخواستیں مسترد

    پاکستان میں پہلے روزے کی ممکنہ تاریخ سامنے آگئی

  • سونے کی قیمت میں بڑا  اضافہ، نئی قیمت 3 لاکھ 3 ہزار

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، نئی قیمت 3 لاکھ 3 ہزار

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، عالمی منڈی میں سونے کے نرخ بڑھنے پر پاکستان میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے باعث پاکستان میں بھی سونے کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ فی تولہ سونے کی نئی قیمت 3لاکھ روپے کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔ملک میں آج فی تولہ سونے کی قیمت میں 4 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ فی تولہ سونے کی قیمت بڑھنے کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں نئی قیمت 3 لاکھ 3 روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی پھر بڑھ گئی ہے۔ 10 گرام سونے کی قیمت میں 3 ہزار 429 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔نئی قیمت 2 لاکھ 59 ہزار 773 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کی انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پیر کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 17 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 279 روپے 21 پیسے ہو گئی ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں سعودی ریال کی قدر 74 روپے 45 پیسے جبکہ بحرینی دینار کی قدر 740 روپے 70 پیسے رہی۔اسی طرح عمانی ریال کی انٹربینک مارکیٹ میں قدر 725 روپے 21 پیسے رہی، کویتی دینار کی قدر 904 روپے اور قطری ریال کی قدر 76 روپے 58 پیسے ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید 279 روپے 75 پیسے اور قیمت فروخت 281 روپے 25 پیسے ریکارڈ کی گئی۔
    مزید برآں وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں 28 فیصد اضافہ سے 1.86 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، ڈیجیٹل نیشن ایکٹ 2025 پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں تبدیلی کا ایک عہد ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ججز کی سنیارٹی کیخلاف 5 ججز کی ریپریزنٹیشن مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ، ججز کی سینیارٹی تبدیلی پر 5 ججز کی درخواستیں مسترد

    پاکستان میں پہلے روزے کی ممکنہ تاریخ سامنے آگئی

    بلوچستان محتاج نہیں لیکن مسائل کی اصل وجہ پربھی توجہ دینی ہو گی ،فرح عظیم شاہ

  • مالی سال کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی برآمدات میں اضافہ

    مالی سال کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی برآمدات میں اضافہ

    حکومت نے رواں مالی سال 2024 کی پہلی ششماہی جولائی تا دسمبر میں تمام شعبوں کی برآمدات میں قابل ذکر اضافہ حاصل کیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس دوران مختلف شعبوں کی برآمدات میں مجموعی طور پر اضافہ دیکھا گیا، جو ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔

    جولائی تا دسمبر 2024 میں ٹیکسائل اور لیدر کی برآمدات میں 10 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ سالانہ بنیاد پر دیکھا گیا، جو ملکی ٹیکسٹائل سیکٹر کی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹیکسائل کی صنعت پاکستان کی معیشت کا اہم ستون ہے اور اس میں اضافے کا مطلب ہے کہ ملک کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔اسی مدت میں ایگرو اور فوڈ سیکٹر میں بھی برآمدات میں 6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایک مثبت رجحان ہے جو زرعی شعبے کی بہتری کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ پاکستان کا زرعی شعبہ دنیا کے کئی حصوں میں اپنی مصنوعات کی برآمدات میں کامیاب رہا ہے۔

    مالی سال کی پہلی ششماہی میں دیگر مینوفیکچرنگ مصنوعات کی برآمدات میں 11 فیصد، میٹلز اور جیمز کی برآمدات میں 7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، منرلز اور پیٹرولیم کی برآمدات میں 48 فیصد، جبکہ کیمیکلز، فرٹیلائزرز اور فارما کی برآمدات میں 25 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافے ملک کی صنعتی ترقی اور پیداوار کے معیار کی عکاسی کرتے ہیں۔پہلی ششماہی میں ٹیکسائل اور لیدر کی برآمدات کا حجم 9 ارب 62 کروڑ 46 لاکھ ڈالرز تک پہنچا، جب کہ ایگرو اور فوڈ سیکٹر کی برآمدات 4 ارب 13 کروڑ ڈالرز رہیں۔ اس کے علاوہ، دیگر مینوفیکچرنگ مصنوعات کی برآمدات کا حجم ایک ارب 28 کروڑ ڈالر تھا، اور میٹلز اینڈ جیمز کی برآمدات کا حجم 61 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا۔ منرلز اور پیٹرولیم کی برآمدات 61 کروڑ 25 لاکھ ڈالر تک پہنچیں، جب کہ کیمیکلز، فرٹیلائزرز اور فارما سیکٹر کی برآمدات کا حجم 24 کروڑ 22 لاکھ ڈالر رہا۔

    پاکستان کی برآمدات میں یہ اضافہ ملک کی معیشت کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ حکومت کے اقدامات سے نہ صرف ملکی صنعتوں کی بہتری ہو رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو پاکستان کی معیشت میں مزید بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے

    بلوچستان کے ضلع آواران میں پہلا گرلز انٹر کالج فعال

    سپیشل افراد کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی اقدامات

  • سونا ملکی تاریخ میں پہلی بار 3 لاکھ کی حد عبور کرگیا

    سونا ملکی تاریخ میں پہلی بار 3 لاکھ کی حد عبور کرگیا

    کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں 1346 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت 3 لاکھ 346 روپے تک پہنچ گئی ہے۔سونے کی قیمت میں اس اضافے کے بعد 10 گرام سونا بھی 1154 روپے مہنگا ہو گیا ہے اور اس کی قیمت 2 لاکھ 57 ہزار 241 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

    بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جہاں سونے کی قیمت 10 ڈالر اضافے کے بعد 2869 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہے۔

    پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے ہوا ہے، جس سے ملک میں سونے کی خرید و فروخت پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اس بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ، عوام میں سونے کی خریداری میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے، اور سرمایہ کار سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔اس وقت سونے کی قیمت نے ملکی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل عبور کیا ہے، جس کے بعد عوام اور تجارتی حلقوں میں سونے کی قیمتوں کے مزید اضافے کی توقعات بھی بڑھ گئی ہیں۔

  • آئی ایم ایف جائزے میں تاخیر ہوئی تو  پاکستان کی منفی ریٹنگ ہو سکتی،فچ

    آئی ایم ایف جائزے میں تاخیر ہوئی تو پاکستان کی منفی ریٹنگ ہو سکتی،فچ

    معاشی درجہ بندی کے ادارے فچ نے پاکستان کے بارے میں اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک کی معاشی سرگرمیاں مستحکم ہو رہی ہیں اور شرح سود میں کمی سے اس کی اقتصادی حالت میں بہتری آئی ہے۔

    فچ نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کی معاشی استحکام کی بحالی میں ہونے والی پیشرفت کو سراہا ہے اور اس کے قرض پروفائل کے لیے ساختی اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے اپنے معاشی استحکام کی بحالی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، اور اس کے ساختی اصلاحات کے نتائج قرض کے انتظام کے لیے سودمند ثابت ہو رہے ہیں۔ فچ کے مطابق، یہ اصلاحات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جائزوں، دوطرفہ اور کثیر الجہتی فنانسنگ کی توقعات پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔اسٹیٹ بینک کی طرف سے شرح سود میں کمی، جو اب 12 فیصد پر آ گئی ہے، صارف مہنگائی میں کمی کی ایک اہم علامت ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جون تک اوسط مہنگائی 24 فیصد تھی، جبکہ جنوری میں یہ 2 فیصد سے کچھ زائد رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی میں کمی کا رجحان نظر آ رہا ہے، جو معیشت کے استحکام کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔

    فچ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاشی سرگرمیاں مستحکم ہیں اور شرح سود میں کمی سے بہتر ہو رہی ہیں۔ معاشی نمو کے حوالے سے اندازے ہیں کہ یہ 3 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ علاوہ ازیں، پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ کھاتے کا خسارہ کم ہو گیا ہے اور ترسیلات زر، زرعی برآمدات، اور سخت مانیٹری پالیسی کے اثرات کے باعث 1.2 ارب ڈالر کا سرپلس برقرار رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زرمبادلہ ذخائر تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں، تاہم یہ مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔فچ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مالی سال 2025-2026 میں پاکستان کو 22 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہوں گی۔ ان مجموعی ادائیگیوں میں سے 13 ارب ڈالر دوطرفہ ڈپازٹس ہوں گے، جو امکاناً رول اوور ہو جائیں گے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اقتصادی سطح پر کچھ بہتر پیشرفت ہوئی ہے، خاص طور پر مالی سال کی پہلی ششماہی میں ٹیکس آمدنی آئی ایم ایف کے ہدف سے کم رہی، لیکن پرائمری سرپلس آئی ایم ایف کے ہدف سے زیادہ رہا۔ صوبوں نے زرعی انکم ٹیکس کے حوالے سے قانون سازی بھی مکمل کر لی ہے۔آخر میں، فچ نے کہا کہ زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ اور بیرونی فنانسنگ کی ضرورت میں کمی جولائی میں پاکستان کی مثبت ریٹنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم، اگر آئی ایم ایف جائزے میں تاخیر ہوئی تو یہ پاکستان کی منفی ریٹنگ کا سبب بن سکتا ہے۔