Baaghi TV

Category: کاروبار

  • سونا مہنگا، فی تولہ قیمت 3 لاکھ روپے کے قریب پہنچ گئی

    سونا مہنگا، فی تولہ قیمت 3 لاکھ روپے کے قریب پہنچ گئی

    ملک میں سونے کی قیمت میں آج 5 ہزار 300 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی قیمت تقریبا تین لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی قیمت میں اس بڑے اضافے کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ 99 ہزار 600 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 158 روپے اضافے کے بعد 2 لاکھ 56 ہزار 859 روپے ہوگئی۔دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی وجہ چین اور امریکہ کے درمیان ایک نئی تجارتی جنگ کے خدشات ہیں کیونکہ بیجنگ نے چینی مصنوعات پر نئے امریکی محصولات کے جواب میں امریکی درآمدات پر محصولات عائد کیے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو، کینیڈا اور چین سے آنے والی اشیاء پر وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کرنے کا حکم دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امریکہ میں فینٹینائل کی آمد کو روکیں۔جبکہ کینیڈا اور میکسیکو سے غیرقانونی تارکین وطن کی آمد بھی روکنے کا مطالبہ کیا جس کے نتیجے میں ایک تجارتی جنگ کا آغاز ہوا جو عالمی ترقی کو متاثر کر سکتی ہے اور مہنگائی میں پھر سے اضافہ کرسکتی ہے۔

    خیبرپختونخوا میں میٹرک اور انٹر کے سالانہ امتحانات ملتوی

    آئی سی سی کا چیمپیئنز ٹرافی کیلئے میچ آفیشلز کا اعلان

    موٹروے سے اسلحہ اسمگلنگ کی کوشش ، چار ملزمان گرفتار

    جناح ہسپتال میں زیرعلاج امریکی خاتون ذہنی مریضہ قرار

  • اسٹاک ایکسچینج مندی، سرمایہ کاروں کے 31 ارب ڈوب گئے

    اسٹاک ایکسچینج مندی، سرمایہ کاروں کے 31 ارب ڈوب گئے

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج مسلسل تیسرے دن مندی کا رجحان رہا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے مزید 31 ارب روپے ڈوب گئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق لسٹڈ کمپنیوں کی توقعات کے برعکس مالیاتی نتائج، رول اوور ویک کی وجہ سے بھاری مالیت کی لیوریج پوزیشنز اور فرٹیلائزر سیکٹر میں وسیع پیمانے پر فروخت کے رحجان سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو بھی مندی رہی جس سے انڈیکس کی 1لاکھ 11ہزار پوائنٹس کی سطح بھی گرگئی۔مسلسل تیسرے دن مندی کے سبب 55.13فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جب کہ سرمایہ کاروں کے مزید 31ارب 96کروڑ 47لاکھ 80ہزار 278روپے ڈوب گئے۔ بدھ کے روز کاروباری دورانیے میں پیٹرولیم سیکٹر کی کچھ کمپنیوں میں خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے ایک موقع پر 540پوائنٹس کی تیزی بھی ہوئی لیکن تیزی رونما ہوتے ہی فرٹیلائزر آئی ٹی آٹوموٹیو سیکٹر میں حصص کی دھڑا دھڑ فروخت سے مارکیٹ میں تیزی برقرار نہ رہ سکی اور ایک موقع پر 873 پوائنٹس کی مندی بھی ہوئی۔

    بعد ازاں اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر دوبارہ خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی اور نتیجتا کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 543.00 پوائنٹس کی کمی سے 111487.36پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس 201.46پوائنٹس کی کمی سے 34934.40پوائنٹس، کے ایس ای آل شئیر انڈیکس 160.57 پوائنٹس کی کمی سے 69018.85 پوائنٹس اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 338.44پوائنٹس کی کمی سے 167466.62پوائنٹس پر بند ہوا۔

    بدھ کو مارکیٹ میں کاروباری حجم منگل کی نسبت 13.24فیصد کم رہا جب کہ مجموعی طور پر 44کروڑ 92لاکھ 44ہزار 755 حصص کے سودے ہوئے اور کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 448 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا، جن میں 138 کے بھا میں اضافہ، 247 کے داموں میں کمی اور 63 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، ان میں رفحان میظ کے بھا 100.01روپے بڑھ کر 9400 روپے اور یونی لیور پاکستان فوڈز کے بھا 48.08روپے بڑھ کر 2951.92روپے ہوگئے جب کہ ہوئسٹ پاکستان کے بھا 47.96 روپے گھٹ کر 1850روپے اور اسماعیل انڈسٹریز کے بھا گھٹ گئے۔

    کراچی آنے والی امریکی خاتون نفسیاتی ، پولیس نے تحویل میں لے لیا

    پاک بحریہ کے جہازپی این ایس یمامہ کا دورہ جدہ،دوطرفہ مشق میں شرکت

    مختلف شہروں میں بارش سےسردی کی شدت بڑھ گئی

    ٹرمپ انتظامیہ حماس کے ہمدردوں کے پیچے پڑ گئی،ویزے منسوخ

    ملک میں گھی اور کوکنگ آئل کی قلت کا خدشہ

  • ملک میں گھی اور کوکنگ آئل کی قلت کا خدشہ

    ملک میں گھی اور کوکنگ آئل کی قلت کا خدشہ

    پورٹ قاسم پر ایڈیبل آئل کی شپمنٹس کی کلئیرنس کا عمل تعطل کا شکار ہونے سے ملک میں گھی اور خوردنی تیل کی قلت پیدا ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے.

    پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چئیرمین شیخ عمر ریحان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے ایڈیبل آئل کے درآمدی کنسائنمنٹس رکی ہوئی ہیں۔ ٹرمینل پر شپمنٹس اتارنے کی جگہ نہیں ہے جبکہ ایڈیبل آئل کے درآمدی کنسائنمنٹس کو ڈسچارج کرانے کے لئے 8 سے 10 بحری جہاز قطاروں میں کھڑے انتظار کررہے ہیں جس میں 70ہزار سے زائد میٹرک ٹن پام آئل لدا ہوا ہے، اس صورتحال کی وجہ سے ملک میں گھی اور خوردنی تیل کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    ایسوسی ایشن کے مطابق بندرگاہ پر پھنسے ہوئے کنسائنمنٹس پر بھاری ڈیمریجز اور دیگر جرمانے لگ رہے ہیں، کسٹم کا سافٹ ویئر پی ایس ڈبلیو کی بندش سے معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، کلیئرنس نہ ہونے سے امپورٹرز کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے، پورٹ سے کلیئرنس رکنے کی وجہ سے خوردنی تیل کی قلت کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔شیخ عمر ریحان نے کہا کہ کسٹم کے سافٹ ویئر پی ایس ڈبلیو کی بندش سے معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، کلیئرنگ نہ ہونے سے امپورٹرز کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔

    دبئی دنیا کا سب سے صاف ترین شہر قرار

    صارم قتل کیس: مجرم اب تک کیوں نہیں پکڑا جاسکا ؟ اب تک کی پیش رفت

    دنیا بدل رہی پاکستان میں مذاکرات کا کھیل ختم نہیں ہورہا۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سندھ ہائیکورٹ کے12 نئے ایڈیشنل ججز نےعہدے کا حلف اٹھا لیا

  • ٖ چینی کمپنی کی پاکستان میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری

    ٖ چینی کمپنی کی پاکستان میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری

    پاکستانی معیشت کے لئے اچھی خبر ،چینی گروپ نے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ اور چارجنگ پلانٹس میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ کے توانائی کے وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت چینی کمپنی کو ہر قسم کی سہولت فراہم کرے گی،اگر چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں بناتی ہے تو سندھ حکومت کراچی میں لگنے والے پلانٹ سے 20 فیصد سے زائد گاڑیاں سندھ حکومت اپنی خریداری کے لے گی۔انہوں نے یہ بات مقامی ہوٹل میں تقریب کے چیئرمین ملک گروپ اورچائنا کی کمپنی اے ڈی این گروپ کے مشترکہ چارجنگ اسٹیشنزکے منصوبے کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں میڈیا سے گفتگو میں کہی۔اس موقع پر ملک گروپ کے چیئرمین ملک خدا بخش اور اے ڈی این گروپ کے سی ای او یاسر بھمبانی نے بھی اظہار خیال کیا جبکہ تقریب میں معروف سرمایہ کار عارف حبیب،ممتاز صنعتکار زبیرطفیل،خالدتواب،حنیف گوہر،عبدالسمیع خان،مظہر علی ناصر،مرزا اشتیاق بیگ،عبدالحسیب خان اوردیگر بھی موجود تھے۔
    ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چارجنگ پلانٹس کے لئے بھی سندھ حکومت جگہ اور ہر قسم کی سہولت دینے کو تیار ہے۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت غیر ملکی کمپنی کو ملک میں سرمایہ کاری کو ہر قسم کی سہولت فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ چینی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں رواں سال کے اخر تک چھوٹی الیکٹرک گاڑیاں ،منی ٹرکس ،ایس یو ویز بنانے شروع کردیں گے، چینی کمپنی اگر مقامی طور پر بننے والی گاڑیوں کو رعایتی طور پر سندھ حکومت کو دے تو وہ سندھ حکومت کی لئے گاڑیوں کی خریداری کا بیس فیصد ان سے لے گی۔

    پاکستان میں چینی گروپ کے پارٹنر ملک خدا بخش نے کہا کہ چین سے 30 چارجنگ پلانٹس مزید دس روز میں پاکستان پہنچ جائیں گے جو پورے ملک میں لگنا شروع ہوجائیں گے ،،امید ہے کہ رواں سال کے اخر تک ہم ملک بھر میں الیکڑک چارجنگ پلانٹس مطلوبہ تعداد میں لگا لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلا چارجنگ اسٹیشن کراچی میں لگا لیا ہے اوردوسرا چارجنگ اسٹیشنز جمعرات کو لاہور میں لگے گا۔

    اے ڈی این گروپ کے سی ای او یاسر بھمبانی نے کہا کہ دوسرا لاہور میں لگنے جارہا ہے ،ان کی کمپنی پاکستان میں 90 ملین یو ایس ڈالر کی سرمایہ کاری سے ملک بھر میں 3 ہزار چارجنگ اسٹیشن لگائے گی ،جبکہ 240 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے گاڑیوں کا مینوفیکچرنگ پلانٹ لگائے گی۔انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس سال کے اخر تک ملک بھر میں ایک ہزار چارجنگ اسٹیشنز لگ جائیں گے جس کے بعد دسمبر تک پاکستان میں الیکڑک گاڑیاں بننا شروع ہوجائیں گی۔چینی کمپنی نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ وہ پاکستان میں سالانہ 72 ہزار الیکڑک گاڑیاں مینوفیکچر کریں گے ،،ساتھ ہی وہ پاکستان سے ان گاڑیوں کو مڈل ایسٹ ،سری لنکا اور بنگلہ دیش بھی ایکسپورٹ کریںگے۔

    جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے روسی صدر کے قتل کی سازش کا انکشاف

  • اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ 281 روپے سے نیچے آگئے

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ 281 روپے سے نیچے آگئے

    انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ اور اوپن مارکیٹ میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق شرح سود میں مرحلہ وار کمی سے معیشت میں میں طلب بڑھنے، ماہوار درآمدات 5ارب ڈالر سے بڑھنے کی پیش گوئی جیسے عوامل کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں منگل کو بھی ڈالر کی پیش قدمی برقرار رہی،اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا جس سے ڈالر کے اوپن ریٹ 281روپے سے نیچے آگئے۔اس طرح سے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ایک دوسرے کی مخالف سمت پر گامزن رہیں۔انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے کے دوران ڈالر کی قدر ایک موقع پر 12پیسے کی کمی سے 278روپے 71پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی۔

    کاروباری دورانیے کے وسط میں بیرونی ادائیگیوں کے دبا اور ذخائر مستحکم رکھنے کی غرض سے متعلقہ ریگولیٹر کی طلب بڑھنے، درآمدی ضروریات کے لیے خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر نے یوٹرن لیا اور پیش قدمی شروع ہوئی جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 09پیسے کے مزید اضافے سے 278روپے 92پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔ اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں سپلائی کے مقابلے میں ڈیمانڈ محدود ہونے سے ڈالر کی قدر 13پیسے کی کمی سے 280روپے 91پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

    کراچی،لڑکی کی نازیبا تصاویر، ملزم کو 6 سال قید کی سزا

    امریکی صدارتی ناشتے میں شرکت ،بلاول اچانک واپس

    میری خالد مقبول سے کوئی لڑائی نہیں، مصطفی کمال کا موقف

    تحریک انصاف اور جے یو آئی(ف) میں رابطے،کمیٹی قائم

    مائیکروسافٹ کا ٹک ٹاک خریدنے میں دلچسپی کا اظہار

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں 2700روپے کمی

    سونے کی فی تولہ قیمت میں 2700روپے کمی

    ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 2700روپے کی کمی ہوگئی ہے۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت2لاکھ86ہزار400روپےہوگئی۔10 گرام سونے کی قیمت میں2ہزار315روپے کی کمی ہوئی جس کے بعد10 گرام سونے کی قیمت2لاکھ45ہزار541 روپے ہوگئی ہے۔دوسری جانب بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 26ڈالر کی کمی سے 2741 ڈالر کی سطح پر آگئی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت 300 روپے کمی سے 2 لاکھ 89 ہزار 100 روپے ہوگئی تھی۔

    سونا خریدنا روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے جس کی قیمت افراط زر، سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے اوقات میں بڑھ جاتی ہے۔

    اسے صدیوں سے کرنسی اور دولت کی شکل کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، جب سرمایہ کار دوسرے اثاثوں کے بارے میں غیر یقینی محسوس کرتے ہیں، تو وہ اکثر سونا خریدتے ہیں۔پاکستان میں گزشتہ برس سونے کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کردی گئی تھی، جس کے تحت سونے کی قیمت انٹرنیشنل مارکیٹ ریٹ سے 20 ڈالر فی اونس زیادہ مقرر کی گئی۔

    ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ نذر عباس بحال ، نوٹیفکیشن جاری

    ٹوکن ٹیکس ادا نہ کرنے والی گاڑیوں کی رجسٹریشن معطل

  • دوہری شہریت کس کس کی؟  ایف بی آر افسران کی تفصیلات طلب

    دوہری شہریت کس کس کی؟ ایف بی آر افسران کی تفصیلات طلب

    پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اپنے افسران کی دوہری شہریت سے متعلق تفصیلات طلب کرنے کے لیے ایک نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    اس نوٹیفکیشن کے ذریعے ایف بی آر کے مختلف ڈی جیز اور چیف کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام دوہری شہریت رکھنے والے افسران کی تفصیلات فراہم کریں، جن میں ان افسران کے اہل خانہ کی معلومات بھی شامل ہوں۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان تفصیلات کو ایک ہفتے کے اندر مکمل کر کے جمع کرایا جائے۔ افسران کی معلومات میں ان کا نام، عہدہ، گریڈ اور ملازمت میں شمولیت کی تاریخ شامل کی جائے گی۔ ایف بی آر کے اس حکم میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر دوہری شہریت پیدائشی نہیں بلکہ بعد میں اختیار کی گئی ہو، تو اس کی تاریخ بھی فراہم کی جائے۔

    یاد رہے کہ ایف بی آر کی جانب سے یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا ہے جب حکومت مختلف محکموں اور اداروں میں دوہری شہریت رکھنے والے افسران کی معلومات اکٹھا کرنے کے حوالے سے سرگرم ہو گئی ہے تاکہ اس سلسلے میں مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔

    حکومت صحت سہولتوں کی فراہمی کئلیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ،وزیراعظم

    محسن نقوی کے ساتھ تصویر کیوں؟عمران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پربرس پڑے

  • اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی کر دی

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی کر دی

    کراچی: اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں مزید ایک فیصد کمی کر دی۔

    باغی ٹی وی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود 13 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کر دی ہے، پاکستان کے معاشی اعشاریے مثبت ہیں، مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ خاطر خواہ کم ہوئے ہیں، مہنگائی مئی 2023 میں 38 فیصد تھی جو کم ہوکر 4.1 فیصد رہی، جنوری میں مہنگائی مزید کم ہوگی، کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں سرپلس رہا، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہنےکے سبب زرمبادلہ ذخائربڑھے۔

    پاکستان کوسٹ گارڈز کی بلوچستان میں کارروائی،1832کلوگوام اعلی کوالٹی کی چرس برآمد

    واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک اس سے قبل 5 جائزوں میں تسلسل کے ساتھ شرح سود میں 9 فیصد کمی لاچکا ہے ۔ قبل ازیں جون 2024 میں شرح سود 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی، آخری بار 17 دسمبر 2024ء کو ہونے والے جائزے میں پالیسی ریٹ 2 فیصد کم کرکے 13 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔

    وزیراعظم کی ریلویز کے پرانے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت

    دوسری جانب وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد کمی کا خیر مقدم کیا ہے،انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ کا 12 فیصد پر آنا ملکی معیشت کے لئے خوش آئند ہے پالیسی ریٹ میں کمی سے پاکستانی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا پالیسی ریٹ میں کمی سے ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا-

    وزیر اعظم نے کہا کہ کم افراط زر کی شرح کی بدولت پالیسی ریٹ میں کمی آئی ہےپر امید ہوں آئندہ مہینوں میں افراط زر میں مزید کمی ہو گی ، معیشت کی بحالی کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششیں لائق تحسین ہیں-

  • پاکستان کو اپنے موجودہ وسا ئل  پر توجہ دینی چاہئے، نائب صدر عالمی بینک

    پاکستان کو اپنے موجودہ وسا ئل پر توجہ دینی چاہئے، نائب صدر عالمی بینک

    عالمی بینک کے جنوبی ایشیا کے لیے نائب صدر مارٹن ریزر نے کہا ہے کہ پاکستان 2035 تک ایک ہزار ارب ڈالر کی معیشت بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے-

    باغی ٹی وی : میڈیا سے گفتگو میں عالمی بینک کے جنوبی ایشیا کے لیے نائب صدر مارٹن ریزر نے حکومت کے معاشی بحالی کے 5 سالہ منصوبے کے حوالے سے کہا کہ پاکستان 2035 تک1 ٹریلین ڈالر کی معیشت بن سکتا ہے مگر اس کے لیے معاشی اصلاحات پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا،اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو سالانہ 7 فیصد کی شرح نمو سے ترقی کرنا لازمی ہوگا۔

    پاکستان میں کرنسی کی گردش 9.4 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی

    مارٹن ریزر کا کہنا تھا کہ عالمی بینک نے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت پاکستان کو 10سال میں20 ارب ڈالر کے قرضے یا مالی تعاون کی یقین دہانی کرانے سے قبل حزب اختلاف سمیت سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا ہے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت ورلڈ بینک نے پاکستان کو قرضے یا مالی تعاون کی جو یقین دہانی کرائی ہے وہ ایک تخمینہ ہے مگر پاکستان مختلف پروگرامز کے تحت رعایتی قرضے حاصل کر سکتا ہے۔

    مہنگائی کے باعث پاکستانیوں نے چائے پینا کم کر دی

    پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے کئے گئے سوال کے جواب میں مارٹن ریزر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے موجودہ وسا ئل پر توجہ دینی چاہئے، پاکستان کے پاس بہت سارے ایسے مواقع ہیں جن سے وہ مزید سرمایہ کاری کو راغب کر سکتا ہے۔

    سیالکوٹ: تجاوزات کے خلاف آپریشن، 50 بازاروں کو کلیئر، 9 ریڑھی مارکیٹ قائم

  • مہنگائی کے باعث پاکستانیوں نے چائے پینا کم کر دی

    مہنگائی کے باعث پاکستانیوں نے چائے پینا کم کر دی

    مہنگائی کے باعث پاکستانیوں نے چائے پینا کم کر دی، رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران چائے کی امپورٹ میں نمایاں کمی ہو گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ممکنہ طور پر مہنگائی کے باعث قوت خرید متاثر ہونے سے پاکستانیوں نے اپنی سب سے پسندیدہ مشروب چائے کا استعمال بھی کم کر دیا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران چائے کی امپورٹ میں ساڑھے 6 فیصد سے زائد کی کمی ہوئی، جبکہ دسمبر 2024 میں دسمبر 2023 کے مقابلے میں چائے کی امپورٹ میں 7 فیصد سے زائد کی کمی ہوئی۔چائے کی ملکی امپورٹ میں دسمبر 2024 کے دوران 7.05 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    ادارہ برائے شماریات پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق ماہ دسمبر 2024 میں چائے کا حجم 15.6 ارب روپے تک کم ہوگیا، جبکہ دسمبر 2023 میں چائے کی امپورٹ کی مالیت 16.7 ارب روپے رہی تھی۔اس طرح دسمبر 2023 کے مقابلہ میں دسمبر 2024 کے دوران چائے کی قومی امپورٹ میں 1.1 ارب روپے یعنی 7 فیصد سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جبکہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں چائے کی امپورٹ میں سالانہ 6.67 فیصد کمی کی گئی، گزشتہ سال کے اسی عرصے چائے کی امپورٹ کا حجم 33 کروڑ 64 لاکھ ڈالر تھا۔

    پاکستان میں کرنسی کی گردش 9.4 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی

    سونے کی قیمت میں آج معمولی کمی

    ٹرمپ نے اہم ایجنسیوں کے کئی عہدیداروں کوبرطرف کردیا

    کینیڈین امیگریشن، 2027 تک کینیڈا میں عارضی رہائشیوں کی تعداد میں کمی

    بلوچستان کے 25 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کل ہوں گے