Baaghi TV

Category: کاروبار

  • کراچی سے وسطی ایشیاء کے لیے تجارتی سامان کا پہلا قافلہ روانہ

    کراچی سے وسطی ایشیاء کے لیے تجارتی سامان کا پہلا قافلہ روانہ

    کراچی: نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) اور ڈی پی ورلڈ کی جوائنٹ وینچر کمپنی کے ذریعے متعدد تجارتی سامان سے بھرے کنٹینروں کا پہلا قافلہ کراچی سے وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام دونوں اداروں کے درمیان تاریخی شراکت داری کا نتیجہ ہے اور خطے میں تجارت اور روابط کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔

    کراچی میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور سی ای او، عزت مآب جناب سلطان احمد بن سولیم نے وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے کارگو سروس کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈی پی ورلڈ اور این ایل سی کے سینئر حکام اور معروف کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔جناب سلطان احمد بن سولیم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "دونوں اداروں کے درمیان اس اشتراک سے پورے خطے میں رابطوں اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا، "این ایل سی کی خطے میں موجودہ حیثیت اور ڈی پی ورلڈ کی عالمی سطح پر موجودگی سے بے پناہ کاروباری مواقع پیدا ہوں گے، جس سے اقتصادی سرگرمیوں کو تقویت ملے گی۔”سلطان احمد بن سولیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس پیشرفت سے کاروبار میں آسانی پیدا ہوگی اور ترسیل کی لاگت اور وقت میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔

    ڈائریکٹر جنرل این ایل سی، نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "اس اقدام سے علاقائی تجارت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور خطے کی کاروباری برادری کو بھرپور فائدہ ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا، "ترسیل کا مربوط نظام اور بلا رکاوٹ تجارت پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی میں مددگار ثابت ہوں گے۔”

    یہ سروس دونوں اداروں کے عزم کا عملی اظہار ہے جو علاقائی تجارت کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ این ایل سی اور ڈی پی ورلڈ کی یہ مشترکہ کوشش نہ صرف کاروباری مواقع پیدا کرے گی بلکہ خطے کے اقتصادی منظرنامے کو بھی نئی سمت دے گی۔

    ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کو خواتین اسپورٹس میں شرکت سے روکنے کا بل منظور

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت

  • پاکستان جون تک پانڈا بانڈز جاری کرنے کا خواہاں ہے،وزیر خزانہ

    پاکستان جون تک پانڈا بانڈز جاری کرنے کا خواہاں ہے،وزیر خزانہ

    پاکستان اپنی مارکیٹ کو چینی کیپٹل مارکیٹ کے ساتھ مزید ہم آہنگ کرنے کے لیے جون تک پانڈا بانڈز جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کو دیے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں اس بات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا مقصد چینی سرمایہ کاروں سے 200 سے 250 ملین ڈالر اکٹھا کرنا ہے تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

    وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت مصر کی طرز پر یوآن بانڈز کے اجرا کے لیے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک سے مذاکرات کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد چینی سرمایہ کاروں کو مزید راغب کرنا اور ملک میں سرمایہ کاری کے نئے راستے کھولنا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے بنک گارنٹی حاصل کی جائے گی تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان آنے والے مہینوں میں اپنی کریڈٹ ریٹنگ کو سنگل بی میں بدلنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت کی جانب سے کئی اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک کی معاشی استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔

    سی پیک کے اگلے فیز میں چین سے مزید تعاون

    پاکستان نے سی پیک (چین پاکستان اقتصادی راہداری) کے اگلے فیز میں چین سے مزید تعاون کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس فیز میں سپیشل اکنامک زونز، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید ترقی لانے کے منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چین کے نجی شعبے اور برآمدی صنعتوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔پاکستان کی حکومت نے چین کی بڑی کمپنیوں کو اپنے برآمدی یونٹس پاکستان منتقل کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ پاکستان کو ایک اہم برآمدی مرکز بنایا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک کے اگلے فیز میں برآمدی صنعتوں کی ترجیح سے پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی میں بھی سہولت ہو گی۔

    پاکستان میں درآمدات پر استوار معیشت کی وجہ سے زرمبادلہ کی کمی اور ادائیگیوں میں عدم توازن کا سامنا ہے۔ تاہم، وزیر خزانہ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پاکستان میں سیکیورٹی کے حالات میں بہتری آئی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر اعتماد بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔پاکستان ہانگ کانگ سے کاروباری شراکتوں میں اضافہ کرنے کا خواہاں ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان ہانگ کانگ سٹاک ایکسچینج میں پاکستانی کمپنیوں کی شرکت بڑھانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ اس کے لیے ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی کاچیو سے بات چیت کی گئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔پاکستانی کمپنیوں اور بنکوں کو عالمی سطح پر کیپٹل اکٹھا کرنے کے لیے ہانگ کانگ کی شہرت سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ روایتی طور پر پاکستانی کمپنیوں اور بنکوں نے لندن سٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ کی ہے، لیکن اب ہانگ کانگ میں اس موقع کو فائدے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس طرح پاکستان چینی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنی معیشت کی مزید استحکام کی جانب قدم بڑھا رہا ہے۔

    سوات کی تائیکوانڈو کھلاڑی عائشہ ایاز کا قلعہ بالا حصار میں فرنٹیئر کور ہیڈکوارٹر کا دورہ

    دی ایجوکیٹرز فیصل آباد کا فیملی فیسٹیول 2025

  • حکومتی عیاشیاں ،ایف بی آر کا 1010نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

    حکومتی عیاشیاں ،ایف بی آر کا 1010نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

    ایک طرف پاکستان میں مہنگائی بڑھ رہی، غریب خود کشیاں کر رہے تو وہیں حکمران قومی خزانے پر عیاشیاں کر رہے ہیں،فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 1010 نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی مجموعی لاگت 6 ارب روپے سے زائد ہو گی۔

    ایف بی آر نے گاڑیاں خریدنے کے لیے ایک کمپنی کو لیٹر آف انٹینٹ جاری کیا ہے، جس میں اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے کہ گاڑیوں کی خریداری 2 مراحل میں کی جائے گی۔ایف بی آر کے خط کے مطابق، گاڑیوں کی خریداری کے لیے 3 ارب روپے کی پیشگی ادائیگی کی جائے گی، اور یہ پیشگی ادائیگی 500 گاڑیوں کی مکمل ادائیگی کے طور پر شمار کی جائے گی۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پہلی کھیپ کی ترسیل کے بعد باقی رقم کی ادائیگی کی جائے گی، اور 1010 گاڑیوں کی ڈلیوری جنوری سے مئی 2025 کے دوران مکمل ہو گی۔

    پہلے مرحلے میں جنوری میں 75 گاڑیاں، فروری میں 200 گاڑیاں اور مارچ میں 225 گاڑیاں ڈلیور کی جائیں گی۔ دوسرے مرحلے میں اپریل میں 250 گاڑیاں اور مئی میں 260 گاڑیاں ڈلیور کی جائیں گی۔ایف بی آر کے ترجمان نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کا حصہ ہیں، جس کا مقصد فیلڈ افسران کی استعداد کار کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ گاڑیاں صرف اور صرف فیلڈ افسران کے استعمال کے لیے ہوں گی۔

    تاریخی کوہالہ پُل پر "کشمیر بنے گا پاکستان” کنونشن کا انعقاد

    ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

  • وزیراعظم  سے چیف کلکٹر کسٹمز، کراچی زون جمیل ناصر کی ملاقات

    وزیراعظم سے چیف کلکٹر کسٹمز، کراچی زون جمیل ناصر کی ملاقات

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے چیف کلکٹر کسٹمز کراچی زون، جمیل ناصر نے ملاقات کی، جس میں وزیر اعظم نے فیس لیس کسٹمز اسیسمینٹ سسٹم کی تیاری اور نفاذ کے حوالے سے جمیل ناصر اور ان کی ٹیم کی نمایاں خدمات کو سراہا۔ وزیر اعظم نے اس سسٹم کی کامیاب عمل درآمد پر جمیل ناصر اور ان کی ٹیم کی محنت اور عزم کو اعلیٰ سطح پر تسلیم کیا۔

    وزیر اعظم نے فیس لیس کسٹمز اسیسمینٹ سسٹم کی تیاری اور نفاذ کے لئے کام کرنے والی ٹیم کے لیے 1.5 کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس اقدام سے کسٹم آپریشنز میں شفافیت، کارکردگی اور خدمات کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف حکومت کے لئے فائدہ مند نتائج حاصل ہوئے ہیں بلکہ اس سے ملکی معیشت میں بھی بہتری آئی ہے۔

    وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا کہ فیس لیس کسٹمز اسیسمینٹ سسٹم پاکستان کی اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سسٹم ملک میں کاروبار اور سرمایہ کار دوست ماحول کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے اور یہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔وزیر اعظم نے فیس لیس کسٹمز سسٹم کو عالمی معیار اور فول پروف بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسٹم نظام میں مزید جدت لانے کی ضرورت ہے تاکہ اس سسٹم کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ بنایا جا سکے اور منصفانہ، شفاف اور مؤثر کسٹم سسٹم کو یقینی بنایا جا سکے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ کسٹم سسٹم میں جدت لانا ضروری ہے تاکہ اس کی کارکردگی اور شفافیت میں مزید اضافہ ہو اور کاروباری برادری کو عالمی سطح پر بہترین سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسٹم سسٹم کی مزید اصلاحات پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک لازمی اقدام ہے۔وزیر اعظم نے اس موقع پر جمیل ناصر اور ان کی ٹیم کو ان کی کامیابی پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ یہ سسٹم پاکستان کے کسٹمز شعبے میں مزید بہتری لانے کا سبب بنے گا۔

    اڑان پاکستان، عمل کی ضرورت، فقط نعرے سے کچھ نہیں بدلے گا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • ٹیلی کام سیکٹر میں بہتری، پراجیکٹ کیبل 2 افریقا کا آغاز

    ٹیلی کام سیکٹر میں بہتری، پراجیکٹ کیبل 2 افریقا کا آغاز

    پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر ترقی کی جانب گامزن، حکومت پاکستان کی ٹیلی کام اور آئی ٹی سیکٹر میں بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں.

    باغی ٹی وی کے مطابق حالیہ دنوں میں انٹرنیٹ فراہمی میں مسائل کے باعث حکومت پاکستان کی جانب سے Africa 2 Cable Project کا آغاز ہوگیا۔ Africa 2 Cable Project دنیا کا سب سے بڑا زیر سمندر نیٹ ورک ہے، یہ منصوبہ 45000 کلومیٹر طویل زیرِ سمندر کیبل نیٹ ورک پر مشتمل ہے ، یہ منصوبہ 33 ممالک میں 46 لینڈنگ اسٹیشنز کو جوڑتا ہے۔پاکستان میں Africa 2 Cable Project لینڈنگ مقام ہاکس بے، کیماڑی ٹان کراچی میں ہو گی جبکہ اس کا مقامی آپریٹر ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس ہوگا، یہ منصوبہ ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں بہتری لائے گا۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن حکام کی کاوشوں سے پاکستان گلوبل سائبر سیکیورٹی انڈیکس 2024 رینکنگ میں 79 ویں سے 40 ویں نمبر تک پہنچ گیا۔پاکستان دنیا کے ان 37 ممالک میں شامل ہوگیا ہے جنہوں نے WebTrustآڈٹ شدہ نیشنل پبلک انفراسٹرکچر قائم کی، اس اقدام سے ملک میں سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل سرٹیفیکیشن کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔

    ڈی آئی خان میں 5 خوارج جہنم واصل ، وزیر اعظم ، وزیر داخلہ کا خراج تحسین

    7 ممالک سے آج 258 پاکستانی نکالےگئے

    پاکستان کے کاروباری اداروں کے لیے ڈیٹا پروٹیکشن ایک اہم چیلنج

    اسٹیٹ بینک کی ایکسچینج کمپنیز کو وی پی این استعمال کرنے کی اجازت

  • پاکستان کے کاروباری اداروں کے لیے ڈیٹا پروٹیکشن ایک اہم چیلنج

    پاکستان کے کاروباری اداروں کے لیے ڈیٹا پروٹیکشن ایک اہم چیلنج

    کیسپرسکی آئی ٹی سیکیورٹی اکنامکس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، بڑھتی ہوئی آئی ٹی سکیورٹی کی ضروریات اور تقاضوں میں عالمی سطح پر کمپنیوں کی اکثریت پیداواری صلاحیت میں کمی، پیچیدہ ٹیکنالوجی کے ماحول کو محفوظ بنانے، اور ڈیٹا کے تحفظ کو فعال کرنے کے بنیادی چیلنجز سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں ڈیٹا کا تحفظ ایک اہم کاروباری چیلنجہے، جبکہ کاروباری عمل آؤٹ سورسنگ کے مسائل کو بھی کاروباری اداروںکی جانب سے سامنے رکھا گیا ہے۔

    کاسپرسکی آئی ٹی سیکیورٹی اکنامکس رپورٹ ہر سال بجٹ میں تبدیلیوں، مسائل اور آئی ٹی سیکیورٹی کے فیصلہ سازوں کو متاثر کرنے والے کاروباری چیلنجوں کا تجزیہ کرنے کے لیے جاری کی جاتی ہے۔یہ رپورٹ مختلف سائز اور صنعتوں کیے اداروں کے آئی ٹی اور آئی ٹی سیکیورٹی پروفیشنلز کے انٹرویوز سے مرتب کی گئی ہے۔ یہ سروے یورپ کے 27 ممالک، ایشیا پیسیفک ریجن، لاطینی امریکہ، شمالی امریکہ، مشرق وسطیٰ، ترکی اور میٹا ریجن بشمول پاکستان میں کیا گیا۔ڈیٹا کا تحفظ ایک اہم تشویش ہے جس کا اظہار عالمی سطح پر 33 فیصد کمپنیوں اور پاکستان میں 61 فیصد کاروباری اداروں نے کیا۔ جواب دہندگان اس کے بارے میں فکر مند تھے کیونکہ انہیں باقاعدگی سے کارپوریٹ سسٹمز سے ڈیٹا کے اخراج کا سامنا کرنا پڑتا تھا جو بیرونی اور اندرونی دونوں وجوہات کی وجہ سے ہوتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، ڈاؤن ٹائم اور پیداواری صلاحیت میں کمی آئی ٹی کی غیر موثر سیکیورٹی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سب سے زیادہ کاروباری مسائل ہیں، جس کا اظہار عالمی سطح پر 38 فیصد کمپنیوں اور پاکستان میں 20 فیصد نے کیا۔انہیں اس مسئلے کا سامنا بنیادی طور پر خطرات کا پتہ لگانے اور ان کے تدارک کے لیے طویل وقت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مزید برآں، پاکستان میں 19 فیصد ادارے بھی بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ کے مسائل کو اپنی بڑی تشویش کے طور پر ذکر کرتی ہیں۔عالمی سطح پر 33 فیصد اور پاکستان میں 9فیصد جواب دہندگان کے مطابق پیچیدہ ٹیکنالوجی کے ماحول کو محفوظ بنانا اور ڈیٹا کنیکٹیویٹی کو یقینی بنانا بھی خدشات کی فہرست میں شامل تھا۔کیسپرسکی میں انفارمیشن سیکیورٹی ڈائریکٹر الیکسی وووک کے مطابق کاروباری اداروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی آپریشنزکے ہر پہلو کو ممکنہ سائبر حملوںسے محفوظ رکھیں۔ حملہ آور اب مکمل طور پرزیرو ڈے کے معاملے پر بھروسہ نہیں کرتے، کیونکہ کسی نقصان دہ لنک پر ایک سادہ کلک یا بنیادی ڈھانچے میں کمزوری تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔یہ اس خیال کی نشاندہی کرتا ہے کہ معلومات کی حفاظت ایک جامع اور منظم انداز پر مبنی ہونی چاہیے، بجائے اس کے کہ انفرادی طور پر مخصوص اقدامات کے نفاذ تک محدود ہو۔ کیسپرسکی تمام جامع حل جیسے کہ کیسپرسکی نیکسٹ پروڈکٹ لائن کے استعمال کی تجویز کرتا ہے، جو کسی بھی سائز اور صنعت کی کمپنیوں کے لیے حقیقی وقت کا تحفظ، خطرے کی نمائش، جدید تحقیقات اور ردعمل کی صلاحیتیں فراہم کرتے ہیں۔کیسپرسکی یہ بھی تجویز کرتا ہے کہ آپ کے انفارمیشن سکیورٹی پیشہ ور افراد کو آپ کی تنظیم کو نشانہ بنانے والے سائبر خطرات میں گہرائی سے مرئیت فراہم کریں۔ اگر کمپنیوں میں اہل انفارمیشن سکیورٹی پیشہ ور افراد کی کمی ہے، تو ایک منظم سیکیورٹی سروس کو اپنائیں۔

    اسٹیٹ بینک کی ایکسچینج کمپنیز کو وی پی این استعمال کرنے کی اجازت

    مسلسل چوتھے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

  • مسلسل چوتھے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    مسلسل چوتھے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    ملک میں مسلسل چوتھے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔

    آج پاکستان میں فی تولہ سونے مزید 1100روپے بڑھ گیا۔ 4 دن میں ایک تولہ سونا 4 ہزار 400 روپے مہنگا ہوا ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 1100 روپے اضافے سے ملک میں فی تولہ سونے کا بھاؤ 2 لاکھ 79 ہزار 400 روپے ہے۔
    دس گرام سونے کا بھاؤ 943 روپے اضافے سے 2 لاکھ 39 ہزار 540 روپے ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 11 ڈالر اضافے سے 2 ہزار 676 ڈالر فی اونس ہے۔

    ہنجروال کے علاقہ میں غیر ت کے نام پر قتل، باپ سمیت ملزمان گرفتار

    آٹھ گھنٹے گھر پر بیٹھ کر گزاریں گے تو آپ کی بیوی بھاگ جائے گی۔اڈانی

  • سونے کی قیمت میں اضافہ

    سونے کی قیمت میں اضافہ

    کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا ایک ہزار روپے مہنگا ہوگیا جس کے بعد سونا فی تولہ 2 لاکھ 76 ہزار روپے کا ہوگیا اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 857 روپے بڑھ گئی، ملک بھر میں 10گرام سونے کی قیمت 2 لاکھ 36 ہزار 625 روپے ہوگئی ہے فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 3350روپے اور 10گرام چاندی کی قیمت بھی 2872.08 روپے کی سطح پر مستحکم ہے۔

    آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن نے بتایا ہے کہ سونے کی عالمی قیمت 10 ڈالر بڑھ کر2642 ڈالر فی اونس ہوگئی۔

    لاہور میں فضائی آلودگی کے خاتمے کیلئے جدید طریقہ لاگو کرنے کا فیصلہ

    باکس آفس پر ناکام ہونے والی بھارتی فلم آسکرز کی فہرست میں شامل

    پی ایس ایل 10: ڈرافٹ کی تاریخ و مقام تبدیل ہونے کا امکان

  • وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نیوز کانفرنس میں حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات پر تفصیل سے بات کی ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت اب مثبت سمت میں گامزن ہے اور حکومت نے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں جو معیشت کی پائیدار ترقی کو یقینی بنائیں گے۔اڑان پاکستان پروگرام پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی جانب لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں اصلاحات کی جائیں گی تاکہ ملک کی اقتصادی ترقی کو تقویت دی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل بھی آگے بڑھا رہی ہے تاکہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔

    ٹیکنالوجی کی ترقی اور وفاقی اخراجات میں کمی
    وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے اور اس پر عمل درآمد جاری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اخراجات کا حجم کم کر کے مالی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی ہے جس میں حکومت کے ارکان، حزب اختلاف کے رہنما اور نجی شعبے کے افراد شامل ہیں۔ اس کمیٹی کا مقصد وسائل کا صحیح استعمال یقینی بنانا ہے تاکہ معیشت میں پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کا کردار بڑھانا ہوگا۔ حکومت کی پالیسیوں کا مقصد نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اسے ملکی معیشت کی قیادت سنبھالنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت رائٹ سائزنگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس حوالے سے مختلف وزارتوں اور اداروں کے ساتھ طویل عرصے سے کام جاری ہے۔ رائٹ سائزنگ کا مقصد اداروں کی استعداد کار کو بڑھانا اور غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جون 2025 سے پہلے رائٹ سائزنگ کے عمل کو مکمل کر لیا جائے گا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 6 وزارتوں نے وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر اپنے اخراجات کا جائزہ لیا ہے۔ اس عمل میں وزارتوں اور اداروں کے غیر ضروری اخراجات کا پتہ لگایا جا رہا ہے تاکہ صرف ضروری اور اہم اخراجات پر توجہ دی جا سکے۔وفاقی حکومت کے حجم کو مرحلہ وار کم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں وزیر خزانہ نے کہا کہ خالی آسامیوں میں سے 60 فیصد کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بجٹ میں منظور شدہ ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ مختلف وزارتوں اور اداروں کے انضمام کا عمل جاری ہے۔ اس کے تحت وزارت امور کشمیر، سیفران اور آئی ٹی کے اداروں کو ضم کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، کامرس اور ہاؤسنگ کے ذیلی اداروں کا انضمام بھی کیا جا رہا ہے۔وزیر خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت نے جو اقتصادی پلان اور اصلاحاتی اقدامات ترتیب دیے ہیں، ان سے معیشت میں استحکام آئے گا اور سٹرکچرل اصلاحات کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ حکومت نے پبلک فنانس اخراجات میں کمی اور مالی نظم و ضبط کے لیے عملی اقدامات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔محمد اورنگزیب نے آخر میں کہا کہ حکومت پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور نجی شعبے کی حمایت سے ملک کی معیشت کو نئے امکانات فراہم کیے جائیں گے۔

  • سونا فی تولہ 2200 روپے مہنگا

    سونا فی تولہ 2200 روپے مہنگا

    سونے کی فی تولہ قیمت 2200 روپے بڑھ گئی جس کے بعد ایک تولہ سونا 2 لاکھ 76 ہزار900 روپےکا ہوگیا۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 10گرام سونا 1886روپےمہنگا ہو کر2 لاکھ37 ہزار397روپےکا ہوگیا،یاد رہے گزشتہ روز سونے کی قیمت میں 1100 روپے کا اضافہ ہوا تھا۔سال 2024 میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 23.9 فیصد( 52 ہزار 600 روپے) اضافہ ہوا،ایسوسی ایشن کے مطابق سال 2024 میں سونے کی فی تولہ بلند ترین قیمت 2 لاکھ 87 ہزار 900 روپے رہی جب کہ کم ترین قیمت 2 لاکھ 10 ہزار 800 روپے رہی۔عالمی مارکیٹ میں سونے کی بلند ترین قیمت 2784 ڈالر فی اونس رہی جب کہ سونےکی کم ترین قیمت 2010 ڈالر فی اونس رہی۔سونے کی عالمی قیمت سال 2024 میں 552 ڈالر بڑھ کر 2614 ڈالر رہی، سونے کی عالمی قیمت سال 2024 میں 26.7 فیصد بڑھی۔

    چیمپئنز ٹرافی، یو اے ای میں میچز سے بھی بڑی آمدنی متوقع

    ن لیگ اور جے یو آئی میں سیاسی رابطے

    دھند اور خراب موسم، ٹرینیں تاخیر کا شکار

    مودی کا جِل بائیڈن کوسب سے مہنگا تحفہ، تفصیلات جاری