Baaghi TV

Category: کاروبار

  • پاکستان کی معیشت میں مزید استحکام اور ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی،ورلڈ بینک

    پاکستان کی معیشت میں مزید استحکام اور ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی،ورلڈ بینک

    ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ناجے بنحیسن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں معاشی استحکام مضبوط ہو رہا ہے۔

    ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معاشی استحکام کی مضبوطی کے باعث ورلڈ بینک کے ساتھ 10 سالہ ترقیاتی منصوبے کے معاہدے پر دستخط کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ناجے بنحیسن نے مزید بتایا کہ یہ منصوبہ نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت 20 ارب ڈالر کے ترقیاتی قرضے پر مشتمل ہوگا۔ اس قرضے کا مقصد پاکستان کی معاشی ترقی کو تیز کرنا اور مختلف شعبوں میں بہتری لانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس فنڈنگ کا استعمال خاص طور پر صاف توانائی، ماحولیاتی بحالی، اور دیگر اہم شعبوں میں کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا آغاز 2026 سے متوقع ہے اور اس سے پاکستان کی توانائی کے شعبے میں جدیدیت آئے گی۔

    ناجے بنحیسن نے یہ بھی کہا کہ ترقی کے لیے طویل المدتی منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں اور یہ منصوبے ورلڈ بینک گروپ کی ترجیحات کے مطابق ہوں گے، جن کا مقصد پاکستان میں پائیدار ترقی اور معیشت کا استحکام ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے پاکستان کی معیشت میں مزید استحکام اور ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔اس معاہدے سے پاکستان کی اقتصادی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا اور ملک کی پائیدار ترقی کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

  • دبئی کا گولڈن ویزا حاصل کرنے کا سب سے بہتر طریقہ سامنے آگیا

    دبئی کا گولڈن ویزا حاصل کرنے کا سب سے بہتر طریقہ سامنے آگیا

    دبئی میں 10 سالہ رہائشی ویزا (گولڈن ویزا) حاصل کرنے کے لیے پراپرٹی سرمایہ کاری سب سے مقبول طریقہ بن گیا ہے، اور 2 ملین درہم یا اس سے زیادہ مالیت کی جائیداد خریدنے والے افراد اس ویزا کے لیے اہل ہو سکتے ہیں۔

    2025 کے پہلے دو ماہ میں، دبئی میں 2 ملین درہم یا اس سے زیادہ مالیت کی آف پلان پراپرٹیز (تعمیر سے پہلے فروخت ہونے والی جائیدادیں) میں سرمایہ کاری کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے، خاص طور پر ان منصوبوں میں جہاں کم ڈاؤن پیمنٹ اور آسان اقساط کی سہولت دی جا رہی ہے۔ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کے مطابق، خریدار زیادہ تر نئے پراپرٹی منصوبوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، بشرطیکہ وہ گولڈن ویزا کے لیے مطلوبہ 2 ملین درہم کی حد کو پورا کریں۔ یہ رجحان 2024 میں اس وقت بڑھا جب حکومت نے ویزا پراسیسنگ کے لیے 50 فیصد ادائیگی کی شرط ختم کر دی۔

    اگرچہ یو اے ای میں مختلف اقسام کے ویزا موجود ہیں، جیسے کہ مخصوص تنخواہ والے پیشہ ور افراد اور کاروباری سرمایہ کاروں کے لیے، مگر پراپرٹی میں سرمایہ کاری کے ذریعے گولڈن ویزا حاصل کرنا سب سے مقبول راستہ ہے۔گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال گولڈن ویزا کے لیے درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دبئی کے ساتھ ساتھ ابوظہبی میں بھی اس ویزا کے لیے دلچسپی بڑھ رہی ہے، اور وہاں کے حکام نے درخواست کے عمل کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ 2025 میں بھی گولڈن ویزا پروگرام پراپرٹی کی فروخت میں نمایاں کردار ادا کرتا رہے گا، کیونکہ یہ نہ صرف نوجوان افراد بلکہ طویل مدتی رہائشیوں کے لیے بھی پرکشش آپشن ہے۔

    پراپرٹی سرمایہ کاروں کے علاوہ، ہنر مند پیشہ ور افراد، ریٹائرڈ افراد، اور اعلیٰ تعلیمی کارکردگی رکھنے والے گریجویٹس بھی اس ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔یونیورسٹی گریجویٹس کے لیے گولڈن ویزا کے لیے اہل ہونے کی شرط میں ایک تسلیم شدہ ادارے کی سفارش، وزارت تعلیم کے مطابق درجہ بندی شدہ A یا B کی یونیورسٹی سے 3.5 یا اس سے زائد جی پی اے، اور کسی منظور شدہ ادارے سے ڈگری کا حصول شامل ہے۔دبئی میں طویل مدتی رہائش کے خواہشمند افراد کے لیے گولڈن ویزا ایک بہترین آپشن بن چکا ہے، اور پراپرٹی کی خریداری اس ویزا کے حصول کا سب سے آسان اور مقبول طریقہ ثابت ہو رہا ہے۔

    ٹرمپ اور یوکرینی صدر کی ملاقات میں جھگڑا؟

    رمضان میں خرچ کرنے کا ثواب.تحریر:نورفاطمہ

    وزیراعظم رمضان پیکج؛ 5 ہزار روپے فی خاندان دینے کا اعلان

    سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی

    قائمہ کمیٹی داخلہ کامصطفیٰ قتل کیس کی ہائی پروفائل انویسٹی گیشن کا مطالبہ

    حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کمی کا اعلان

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی

    سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی

    ماہ فروری کے آخری کاروباری روز ملک میں سونے کی قیمت میں مزید کمی آگئی۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج سونے کی فی تولہ قیمت 2 ہزار 500 روپے کم ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں آج سونے کی فی تولہ قیمت 3 لاکھ 500 روپے ہے۔ ملک میں 10 گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 143 روپے کم ہوکر 2 لاکھ 57 ہزار 639 روپے ہے۔دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کی قیمت 24 ڈالر کم ہوکر 2 ہزار 863 فی اونس ہے۔فروری کے مہینے میں سونے کی فی تولہ قیمت میں مجموعی طور پر 8 ہزار 700 روپے اضافہ ہوا جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 7 ہزار 468 روپے بڑھی، عالمی بازار میں سونے کی فی اونس قیمت 71 ڈالر بڑھی ہے۔

    وزیراعظم رمضان پیکج؛ 5 ہزار روپے فی خاندان دینے کا اعلان

    سوات: سیدو شریف میں فائرنگ، 2 افراد جاں بحق

    جامعہ حقانیہ خود کش حملہ،دہشتگردی کی بزدلانہ کاروائی.تحریر: جان محمد رمضان

    حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کمی کا اعلان

    قائمہ کمیٹی داخلہ کامصطفیٰ قتل کیس کی ہائی پروفائل انویسٹی گیشن کا مطالبہ

    شازیہ مری کی وزراء کی فوج بھرتی کرنے پرحکومت پر تنقید

  • نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں کمی ہو گئی

    نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں کمی ہو گئی

    وفاقی حکومت نے مختلف کرنسیوں میں نیا پاکستان روایتی سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں بڑی کمی کر دی ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت خزانہ کے مطابق پاکستانی کرنسی میں 12 ماہ کی مدت کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 850 بیسز پوائنٹس کی کمی کے بعد21.50 فیصد سے کم کرکے 13 فیصد کر دی گئی ہے۔امریکی ڈالر میں 12 ماہ کی مدت کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 200 بیسز پوائنٹس کی کمی کے بعد 9 فیصد سے کم کرکے 7 فیصد کر دی گئی ہے۔برطانوی پائونڈز میں 12 ماہ مدت کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 75 بیسز پوائنٹس کی کمی کے بعد 8 فیصد سے کم کرکے 7.25 فیصد کر دی گئی ہے۔اسی طرح یورو میں 12 ماہ مدت کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 175 بیسز پوائنٹس کی کمی کے بعد 7 فیصد سے کم کر کے 5.25 فیصد کر دی گئی ہے۔

    پاکستان کو ٹریلین ڈالر اکانومی بنانا مشکل نہیں، وزیراعلی سندھ

    لاہور: پی ٹی آئی رہنما، اسلم اقبال کے ڈیرے سے لاش برآمد

    پاکستان ریلوے نےسرسید ایکسپریس بند کرنے کا اعلان کر دیا

    سندھ کی جیلوں میں 2ارب سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

    2014 دھرنے، غیرحاضر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری

    سوزوکی نے آلٹو کی قیمت ایک بار پھر بڑھا دی

    وی پی این کو قانونی بنانے کے لیے لائسنس سروس شروع

    فرانس میں روسی قونصل خانے پر حملہ

  • سوزوکی نے آلٹو کی قیمت ایک بار پھر بڑھا دی

    سوزوکی نے آلٹو کی قیمت ایک بار پھر بڑھا دی

    پاک سوزوکی موٹر کمپنی نے اپنے مقبول ماڈلز، سوزوکی آلٹو (تمام ورژنز) اور سوزوکی راوی کی قیمتوں میں حیرت انگیز اضافہ کر دیا۔

    سوزوکی آلٹو کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آلٹو VXR MT کی موجودہ قیمت 2,707,000 روپے ہے، لیکن اب اس کی قیمت 1,20,000 روپے کے اضافے سے 2,827,000 روپے ہوگئی۔الٹو VXR AGS کے اس ماڈل کی قیمت 2,894,000 روپے سے بڑھ کر 2,989,000 روپے ہو چکی ہے، یعنی 95,000 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔الٹو VXL AGS کی قیمت میں ایڈجسٹمنٹ کرتے ہوئے، اس کی قیمت 3,045,000 روپے سے بڑھا کر 3,140,000 روپے کر دی ہے، یعنی 95,000 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔راوی پک کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے؛ موجودہ قیمت 1,856,000 روپے سے بڑھ کر 1,956,000 روپے ہو چکی ہے، یعنی 100,000 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

    سوزوکی نے واضح کیا ہے کہ یہ نئی قیمتیں مصنوعات کے معیار، حفاظت اور آرام دہ خصوصیات کو برقرار رکھنے کی ان کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ ان بہتریوں کے ساتھ، سوزوکی آلٹو نہ صرف بہتر فیچرز فراہم کر رہی ہے بلکہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی کسٹمر بیس کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے affordability کو بھی یقینی بنا رہی ہے۔تجارتی استعمال کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی سوزوکی راوی میں بھی قیمت میں ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے، تاکہ کاروباری مالکان کو مسلسل قابل اعتماد اور موثر کارکردگی فراہم کی جا سکے۔

    وی پی این کو قانونی بنانے کے لیے لائسنس سروس شروع

    فرانس میں روسی قونصل خانے پر حملہ

  • سونے کی  فی تولہ قیمت میں آج بڑی کمی

    سونے کی فی تولہ قیمت میں آج بڑی کمی

    کاروباری ہفتے کے پانچویں روز ملکی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 2ہزار روپے کی کمی ہوگئی ۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرزایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 3 لاکھ 7 ہزار روپے ہوگئی،10گرام سونے کی قیمت میں 1571روپے کی کمی ہوئی جس کے بعد 10گرام سونے کی قیمت 2 لاکھ 41 ہزار 278 روپے ہوگئی۔سونے کی فی تولہ قیمت میں سال 2024 کے دوران 23.9 فیصد اضافہ ہوا، اس دوران مقامی مارکیٹوں میں فی تولہ سونا کی قیمت 52ہزار 600 روپے بڑھ گئی۔سندھ صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 2023 کے خاتمہ پر سونے کی فی تولہ قیمت 2 لاکھ 20ہزار روپے ریکارڈکی گئی تھی تاہم 2024 کے اختتام پر مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 2 لاکھ 72 ہزار 600 روپے فی تولہ رہی ہے۔

    اس طرح گزشتہ سا ل کے دوران مقامی مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 52ہزار 600 روپے یعنی 23.9 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔پاکستان سمیت بین الاقوامی منڈیوں میں سونے کی قیمت میں اضافہ کے بنیادی اسباب میں جغرافیائی و سیاسی تنازعات اور بین الاقوامی اقتصادی غیر یقینی کی صورتحال شامل رہی ہیں۔

    لاہور میں پاکستان کی پہلی انڈرگراؤنڈ بلیولائن میٹرو ٹرین شروع کرنے کا فیصلہ

  • رمضان میں چینی کے اسٹالز لگانے کا فیصلہ،قیمت 130 روپے فی کلو طے

    رمضان میں چینی کے اسٹالز لگانے کا فیصلہ،قیمت 130 روپے فی کلو طے

    اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار، رانا تنویر حسین کی زیر صدارت شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران عوام کو کم قیمتوں پر چینی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے حوالے سے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔رانا تنویر حسین نے اجلاس میں بتایا کہ عوام کو رمضان کے مہینے میں سستی اور معیاری چینی فراہم کرنے کے لیے صوبوں کے تعاون سے مختلف اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو میونسپل سطح پر چینی کے سٹالز لگانے کی ہدایت کی تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

    اعلامیہ کے مطابق، سندھ میں صوبائی حکومتوں کے تعاون سے 230 شوگر اسٹالز لگائے جائیں گے، جبکہ خیبرپختونخوا میں چینی کے سٹالز کے لیے 405 سیلنگ پوائنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پنجاب اور بلوچستان میں بھی چینی کے سٹالز قائم کیے جائیں گے تاکہ عوام کو ان کی ضرورت کے مطابق چینی دستیاب ہو سکے۔اس موقع پر رانا تنویر حسین نے کہا کہ میونسپل سطح پر سٹالز کی سیٹ اپ کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کو سونپی گئی ہے۔ ان سٹالز پر سیکورٹی، صفائی اور ہجوم کے انتظام کے لیے صوبائی حکومتیں اقدامات اٹھائیں گی۔

    وزیر صنعت و پیداوار نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کے آخری ایام میں یعنی 27 رمضان تک ان سٹالز پر چینی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ چینی کی قیمت 130 روپے فی کلو رکھی گئی ہے تاکہ عوام کو سستی چینی فراہم کی جا سکے۔رانا تنویر حسین نے اس بات پر زور دیا کہ میونسپل سطح پر سٹالز قائم کرنے کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا اور ان کی مشکلات کو کم کرنا ہے۔ حکومت کسی بھی ممکنہ مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے گی تاکہ عوام کو چینی کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

  • کئی مخصوص سیکٹرز قومی خزانے میں اپنا حصہ نہیں ڈال رہے،آئی ایم ایف

    کئی مخصوص سیکٹرز قومی خزانے میں اپنا حصہ نہیں ڈال رہے،آئی ایم ایف

    پاکستان میں آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ چیف ماہیر بنجی نے قرضوں کے بوجھ کو پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔

    پاکستان ریٹیل بزنس کونسل کی جانب سے منعقد کی گئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہیر بنجی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو جن سنگین مسائل کا سامنا ہے، ان میں سب سے اہم قرضوں کا بوجھ ہے۔ ان کے مطابق، قرضوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ٹیکس اکٹھا کرنے کی صلاحیت میں کمی اور ملکی آمدنی میں ناکامی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں کا دباؤ زیادہ تر روایتی شعبوں پر ہے، اور یہ بھی کہا کہ رسمی شعبے پر مالی بوجھ کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کئی اہم سیکٹرز قومی خزانے میں اپنے حصے کی ادائیگی نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرضوں کے بوجھ میں اضافے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے تمام شعبے ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں۔

    اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اب مزید بے جا مراعات کا متحمل نہیں ہو سکتا، اور انہوں نے رائٹ سائزنگ کے منصوبے کو مکمل کرنے کی بات کی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں ریٹیل سیکٹر کا حصہ 19 فیصد ہے، لیکن ٹیکسوں میں اس کا حصہ صرف ایک فیصد ہے، جو کہ بہت کم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرکے ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مینو فیکچرنگ، خدمات اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ غیر متناسب ہے اور تمام شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہوگا۔ زراعت، رئیل اسٹیٹ، اور ریٹیل کے شعبوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ حکومت 9400 ارب روپے کی نقد رقم کو دستاویزی شکل دینے پر کام کر رہی ہے، اور قومی ائیر لائن کی نجکاری کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 30 جون تک تمام اداروں کی رائٹ سائزنگ کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔

    آخر میں وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔ اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت اپنے معاشی اہداف کے لیے پُرعزم ہے۔ اس وقت پاکستان کے پاس دو ماہ کی درآمدات کے لیے زرمبادلہ موجود ہے، اور کائیبور (بینکوں کے درمیان سود کی شرح) جو 23 فیصد تک پہنچ چکا تھا، اب 11 فیصد کی سطح پر آ گیا ہے۔

    ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام عمران خان کے نام پر رکھنے پر احتجاج

  • سونے کی قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر  جا پہنچی

    سونے کی قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچی

    عالمی ومقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتیں تاریخ نئی بلند ترین سطح پر آگئیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت درآمدی پالیسیوں سے عالمی سطح پر معیشت سست روی کا شکار ہونے، مختلف ممالک اور گلوبل انویسٹرز کی گولڈ میں انویسٹمنٹ بڑھنے سے سونے کی عالمی ومقامی قیمتوں میں تسلسل سے اضافے کا رحجان برقرار ہے۔اس رجحان کے زیر اثر جمعرات کو بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت مزید 9ڈالر کے اضافے سے 2ہزار 953ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی ہے۔عالمی مارکیٹ میں قیمت بڑھنے کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی جمعرات کو 24قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 1ہزار روپے کے کے اضافے سے 3لاکھ 9ہزار روپے کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی ہے۔

    اس کے علاوہ فی دس گرام سونے کی قیمت 857روپے کے اضافے سے 2لاکھ 64ہزار 917روپے کی بلند ترین سطح پر آگئی ہے۔اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 28روپے کے اضافے سے 3ہزار 468روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت 24روپے کے اضافے سے 2ہزار 973روپے کی سطح پر آگئی ہے۔ماہرین کے مطابق اہم عالمی کرنسیوں کی قدر میں ممکنہ کمی کے خطرات کے پیش نظر امریکا مخالف ممالک کی سونے کی خریداری سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں جسکے سبب عالمی بلین مارکیٹ اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں کے یومیہ بنیادوں پر بلندیوں کے نئے ریکارڈز بن رہے ہیں۔

    کوئٹہ میں دھماکہ،ایک شخص جاں بحق

    ایران کا دارالحکومت تہران سے منتقل کرنے کا فیصلہ

    ویرات کوہلی بڑے اعزاز سےمحروم

    بھارت نے بنگلہ دیش کو 6 وکٹوں سےشکست دیدی

  • ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔وزیر خزانہ

    ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک بے جا مراعات کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے رائٹ سائزنگ کا مکمل پلان تیار کر لیا ہے۔

    وزیر خزانہ نے ان خیالات کا اظہار ایک اہم ریٹیلرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی معیشت کو درست سمت میں لے جانے کی کوششیں جاری ہیں۔ پالیسی ریٹ میں کمی سے کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کو فائدہ ہو رہا ہے، جبکہ حکومت ملک کی معیشت کے مختلف شعبوں میں بنیادی اصلاحات کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم معاشی استحکام کے لیے پُرعزم ہیں اور تمام اقدامات کی کامیابی کی راہ میں رائٹ سائزنگ کو اہمیت دی جارہی ہے۔ رائٹ سائزنگ کے لیے ایک مکمل پلان تیار کیا گیا ہے، جس میں اداروں کے تمام معاملات کا جائزہ لے کر اصلاحات کی جائیں گی۔ نجکاری کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے معاشی اہداف کا مکمل ادراک رکھتی ہے اور حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وہ پائیدار معاشی استحکام کے حصول کے لیے بھی مسلسل محنت کر رہے ہیں، کیونکہ ملک بے جا مراعات کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔

    بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک کی معیشت میں ریٹیل سیکٹر کا حصہ 19 فیصد ہے، تاہم ٹیکسز میں ریٹیل سیکٹر کا حصہ صرف ایک فیصد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو استعمال کر کے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ 9.4 ٹریلین کیش کی ڈاکیومینٹیشن کرنی ہے اور قومی ائیر لائن کی نجکاری کو دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 30 جون تک تمام اداروں کی رائٹ سائزنگ کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مینو فیکچرنگ، سروسز اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسز کا موجودہ تناسب پائیدار نہیں ہے اور اسے بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔