Baaghi TV

Category: کاروبار

  • ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔وزیر خزانہ

    ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک بے جا مراعات کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے رائٹ سائزنگ کا مکمل پلان تیار کر لیا ہے۔

    وزیر خزانہ نے ان خیالات کا اظہار ایک اہم ریٹیلرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی معیشت کو درست سمت میں لے جانے کی کوششیں جاری ہیں۔ پالیسی ریٹ میں کمی سے کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کو فائدہ ہو رہا ہے، جبکہ حکومت ملک کی معیشت کے مختلف شعبوں میں بنیادی اصلاحات کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم معاشی استحکام کے لیے پُرعزم ہیں اور تمام اقدامات کی کامیابی کی راہ میں رائٹ سائزنگ کو اہمیت دی جارہی ہے۔ رائٹ سائزنگ کے لیے ایک مکمل پلان تیار کیا گیا ہے، جس میں اداروں کے تمام معاملات کا جائزہ لے کر اصلاحات کی جائیں گی۔ نجکاری کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے معاشی اہداف کا مکمل ادراک رکھتی ہے اور حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وہ پائیدار معاشی استحکام کے حصول کے لیے بھی مسلسل محنت کر رہے ہیں، کیونکہ ملک بے جا مراعات کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔

    بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک کی معیشت میں ریٹیل سیکٹر کا حصہ 19 فیصد ہے، تاہم ٹیکسز میں ریٹیل سیکٹر کا حصہ صرف ایک فیصد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو استعمال کر کے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ 9.4 ٹریلین کیش کی ڈاکیومینٹیشن کرنی ہے اور قومی ائیر لائن کی نجکاری کو دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 30 جون تک تمام اداروں کی رائٹ سائزنگ کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مینو فیکچرنگ، سروسز اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسز کا موجودہ تناسب پائیدار نہیں ہے اور اسے بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں آج پھر  اضافہ

    سونے کی فی تولہ قیمت میں آج پھر اضافہ

    کاروباری ہفتے کے پہلے روز مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ قیمت میں سینکڑوں روپے اضافہ ہوا ہے۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ہزار 700 روپے اضافے کے بعد ملک میں سونےکی فی تولہ قیمت 3 لاکھ 3 ہزار 200 روپے ہوگئی۔یاد رہے گزشتہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 4700 روپے کی کمی ہوئی تھی جس کے بعد فی تولہ سونا 3 لاکھ ایک ہزار 500 روپے کا ہوگیا تھا۔دوسری جانب 10 گرام سونےکی قیمت ایک ہزار 458 روپے اضافے سے 2 لاکھ 59 ہزار 945 روپے ہوگئی ہے۔عالمی مارکیٹس میں سونے کی قیمت 17 ڈالر اضافے سے 2 ہزار 900 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی۔

    چیمپئنز ٹرافی کیلئے پاکستانی ٹیم کی بھرپور تیاریاں

    عمران خان نے شیر افضل مروت کو ملاقات کیلئے بلا لیا

    انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ، اوپن مارکیٹ میں تنزلی

  • انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ، اوپن مارکیٹ میں تنزلی

    انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ، اوپن مارکیٹ میں تنزلی

    آج انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی پرواز جاری رہی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا۔

    باغی ٹی وی کے مطاق بیرونی ادائیگیوں کے دبا، برآمدات میں چیلنجز کی وجہ سے اس کی محدود پیمانے پر نمو اور بڑھتی ہوئی درآمدات کے باعث پیر کو انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی پرواز جاری رہی لیکن اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا جس سے ڈالر کے اوپن ریٹ 281روپے سے نیچے آگئے، اس طرح سے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ایک دوسرے کی مخالف سمت پر گامزن رہی۔عالمی بینک کی پاکستان میں شعبہ جاتی بنیادوں پر شراکت داری کے تحت 40ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پلان، 4ماہ سے کرنٹ اکانٹ سرپلس ہونے جیسے مثبت سینٹیمنٹس کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے بیشتر دورانیے میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا جس سے ایک موقع پر ڈالر کی قدر 15پیسے کی کمی سے 279روپے 05پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی۔

    لیکن سپلائی میں بہتری آتے ہی بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں اور درآمدات کے لیے طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 06پیسے کے اضافے سے 279روپے 26پیسے کی سطح پر بند ہوئی، اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 08پیسے کی کمی سے 280روپے 98پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں تسلسل سے کمی، عالمی تحقیقی ادارے ٹریس مارک کی فروری میں ڈالر کے انٹربینک ریٹ 280روپے پر آنے کی پیشگوئی مارکیٹ پر اثرانداز رہی جس کی وجہ سے برآمدی شعبوں کی جانب سے اپنی برآمدی آمدنی بھنانے کا عمل متاثر رہا۔تاہم کرنٹ اکانٹ مسلسل سرپلس رہنے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ زرمبادلہ کی سپلائی اطمینان بخش ہے لیکن معیشت میں طلب بڑھنے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے دبا سے ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کمزور ہورہا ہے۔

  • عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی

    سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑی کمی ہو گئی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے باعث پاکستان میں بھی سونے کی قیمت بڑھ گئی تھی۔
    جس کے بعد فی تولہ سونے کی نئی قیمت بلند ترین سطح پرپہنچ گئی ہے۔ لیکن آج فی تولہ سونے کی قیمت میں 4700 روپے اور 10 گرام سونے کی قیمت میں 3 ہزار 694 روپے کی کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔ جس کے باعث مقامی صرافہ بازاروں میں سونے کی نئی قیمت 3 لاکھ ایک ہزار 500 روپے ہوگئی ہے۔اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت کم ہوکر 2 لاکھ 58 ہزار 487 روپے کی سطح پر آگئی ہے۔ یاد رہے عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 50 ڈالر فی اونس کی کمی ہوئی۔

    جس کے بعد سونے کی نئی قیمت 2 ہزار 883 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری جانب مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں کمی کے باوجود 13 اشیاء مہنگی ہو گئیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر ملک میں مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی ریکارڈ ہوئی ہے جب کہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی شرح 0.98 فیصد کی سطح پر آگئی اسی طرح ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.04 فیصد کی کمی ریکارڈ ہوئی۔اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 13 اشیا مہنگی، 15 سستی جب کہ 23 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں کیلے فی درجن 12 روپے 96 پیسے مہنگے ہوئے، اسی طرح چکن فی کلو 15 روپے 45 پیسے مہنگا ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک ہفتے کے دوران انڈے فی درجن 5 روپے 85 پیسے مہنگے ہو گئے جب کہ گزشتہ ہفتے لہسن کی فی کلو قیمت میں 9 روپے 77 پیسے کا اضافہ ریکارڈ ہوا۔ اسی دورانیے میں چینی فی کلو ایک روپے 16 پیسے مزید مہنگی ہوئی۔ ادارہ شماریات کے مطابق مٹن، بیف، دودھ، دہی اور دال ماش بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں۔

    لیفٹیننٹ حسان اشرف شہید کی نماز جنازہ ادا ، وزیر اعظم ، وزیر دفاع کی شرکت

    چمپئینز ٹرافی؛ افتتاحی تقریب کیلئے پاک فضائیہ کے طیاروں کی فضائی مشقیں

  • سونا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگا، قیمت میں پھر بڑا اضافہ

    سونا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگا، قیمت میں پھر بڑا اضافہ

    سونا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگا، ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت آج پھر 2 ہزار 200 روپے کے بڑے اضافے سے 3 لاکھ 6 ہزار 200 روپے کی نئی بُلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ 24 قیراط کے حامل خالص سونے فی تولہ قیمت 2 ہزار 200 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 6 ہزار 2 سو روپے ہو گئی۔اسی طرح 24 قیراط سونے کے 10 گرام کے دام بھی ایک ہزار 886 روپے بڑھ کر 2 لاکھ 60 ہزار 631 روپے تک جا پہنچے جبکہ 10 گرام 22 قیراط سونا 2 لاکھ 38 ہزار 920 روپے میں فروخت ہوا۔ادھر، فی تولہ چاندی کی قیمت 83 روپے اضافے کے بعد 3 ہزار 450 روپے اور 10 گرام چاندی کی قیمت 71 روپے اضافے کے بعد 2 ہزار 957 روپے ہو گئی۔

    ایسوسی ایشن نے رپورٹ کیا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت بڑھ کر 2 ہزار 933 ڈالر ہو گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ تیزی کا سلسلہ جاری ہے، آج بھی فی تولہ نرخ 2 ہزار 500 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 4 ہزار روپے کی نئی بُلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے رپورٹ کیا تھا کہ 24 قیراط کے حامل فی تولہ خالص سونے کا بھاؤ 2 ہزار 500 روپے اضافے سے 3 لاکھ 4 ہزار روپے کا ہو گیا۔اسی طرح 24 قیراط 10 گرام سونے کے دام 2 ہزار 144 روپے بڑھ کر 2 لاکھ 60 ہزار 631 روپے تک جا پہنچے تھے۔

    وسیم اختر رامے کی پی ٹی آئی میں واپسی، عہدہ بھی مل گیا

    کراچی، لاپتہ نوجوان کی جلی ہوئی لاش پولیس کو مل گئی

    سہ ملکی سیریز ،فائنل،پاکستان کا نیوزی لینڈ کو جیت کے لیے 243 رنز کا ہدف

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں 2500 روپے کا اضافہ

    سونے کی فی تولہ قیمت میں 2500 روپے کا اضافہ

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، عالمی منڈی میں سونے کے نرخ بڑھنے پر پاکستان میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے باعث پاکستان میں بھی سونے کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ فی تولہ سونے کی نئی قیمت بلند ترین سطح پرپہنچ گئی ہے.ملک میں آج فی تولہ سونے کی قیمت میں 2 ہزار 500 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ فی تولہ سونے کی قیمت بڑھنے کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں نئی قیمت 3 لاکھ 4 ہزار روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی پھر بڑھ گئی ہے۔ 10 گرام سونے کی قیمت میں 2 ہزار 144 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ نئی قیمت 2 لاکھ 60 ہزار631 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔دوسری جانب سٹیٹ بینک نے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی سے 454ارب روپے جمع کرلئے۔

    ایس بی پی کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی کے لئے 350 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا تاہم نیلامی میں 454 ارب روپے حاصل کئے گئے۔ ان بانڈز پر منافع کی شرح میں ایک سے لے کر 25 بیس پوائنٹس تک کی کمی دیکھنے میں آئی جبکہ شرح منافع 11.69 سے لے کر 12.7 فیصد تک رہی۔ سٹیٹ بینک کو مجموعی طورپر 910 ارب روپے کی بولیاں موصول ہو ئی تھیں۔مزید برآں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے غیر بینکاری مائیکروفنانس سیکٹر میں خواتین کی تقویت اور صارفین کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لئے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات میں جامع صارفین کے تحفظ کے اصول، صنفی طور پر تفریق کردہ ڈیٹا کی رپورٹنگ، اور صنفی حساسیت کی تربیت شامل ہیں۔

    شفافیت اور شمولیت کو فروغ دینے کے لئے، کمیشن نے تمام غیر بینکاری مائیکروفنانس کمپنیوں (NBMFCs) کے لئے ESG Sustain پورٹل کے ذریعے صنفی طور پر تفریق کردہ ڈیٹا اور شکایات کی رپورٹنگ کو لازمی قرار دیا ہے۔یہ نیا اقدام خواتین قرض دہندگان کے تجربات کے بارے میں قیمتی بصیرت فراہم کرے گا، جس سے SECP کو رجحانات کی شناخت، اختلافات کو دور کرنے اور ہدفی مداخلتوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ یہ ڈیٹا پر مبنی طریقہ کار مائیکروفنانس منظرنامے کی مزید تفصیلی تفہیم میں تعاون کرے گا اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو آسان بنائے گا۔

    ترک صدرپاکستان کا دورہ مکمل کر کے واپس وطن روانہ

  • زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں کمی

    زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں کمی

    کراچی:زرمبادلہ کے سرکاری ذخائرگزشتہ ہفتے کے دوران 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی کمی سے 11 ارب 16 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے۔

    باغی ٹی وی: اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق ہفتہ وار اعدادوشمار جاری کردیئے، جن کے مطابق 7 فروری کو ختم ہونےو الے ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت 11 ارب 16 کروڑ 66 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس 4 ارب 69 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں، اس طرح 7 فروری کو زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 15 ارب 86 کروڑ 26 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں جمعرات کو بھی اتارچڑھاؤ کے بعد روپے کی نسبت ڈالر تگڑا رہا، ترکیہ کے ساتھ متوقع سرمایہ کاری معاہدوں کی اطلاعات سے انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے کے دوران ڈالر کی قدر ایک موقع پر 13پیسے کی کمی سے 279روپے 12پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی،کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 01پیسے کے اضافے سے 279روپے 26پیسے کی سطح پر بند ہوئی، اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 04پیسے کے اضافے سے 281روپے 10پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

  • ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ

    ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ

    اسلام آباد: حکومت نے ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹی فکیشن کے مطابق سوئی ناردرن کے لیے ایل این جی کی قیمت 12.90 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہےاسی طرح سوئی سدرن کے لیے ایل این جی کی قیمت 12.67 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یومقرر کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ جنوری میں سوئی نادرن کے لیے ایل این جی کی قیمت 12.66 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور سوئی سدرن کےلیے ایل این جی کی قیمت 12.60 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھی، اوگرا کے مطابق ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ سپلائی لاگت میں اضافے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

    رانی پور فاطمہ قتل کیس: والد نے صلح کی تردید کردی

    پاکستان بینکنگ سمٹ 24 فروری کو کراچی میں ہو گی

    پانی کے غیر ضروری استعمال کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کا اعلان

  • پاکستان بینکنگ سمٹ  24 فروری کو کراچی میں ہو گی

    پاکستان بینکنگ سمٹ 24 فروری کو کراچی میں ہو گی

    پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے پاکستان بینکنگ سمٹ 2025 (پی بی ایس’25) کے آغاز کا باضابطہ اعلان کیا ہے، جو 24 اور 25 فروری، 2025 کو کراچی میں منعقد ہوگی۔

    یہ اعلان پی بی ایس کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین، بینک الفلاح کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، عاطف باجوہ کی قیادت میں پی بی اے کے ہیڈ آفس میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ اس پریس کانفرنس میں پی بی اے کے چیئرمین اوربینک آف پنجاب کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، ظفر مسعود کے علاوہ جے ایس بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، باصر شمسی، پی بی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسراور سیکرٹری جنرل،منیر کمال کے علاوہ بینکنگ انڈسٹری کے دیگر سینئر عہدیدار بھی موجود تھے۔

    پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقد کی جانے والی پاکستان بینکس ایسوسی ایشن 25 کا مقصد ملک میں مالیاتی اور معاشی مکالمے کو فروغ دینا ہے۔ اس کانفرنس میں 12 سے زائد ممتاز بین الاقوامی مقررین، 20 سے زائد مقامی موضوعات کے ماہرین کے علاوہ روایتی، اسلامی، ڈیجیٹل اور مائیکرو فنانس بینکوں کے علاوہ ترقیاتی مالیاتی اداروں سمیت 45 سے زائد دیگر اداروں کے رہنما بھی شریک ہوں گے۔ حکومت، ریگولیٹرز، بینکنگ، فِن ٹیک، اکیڈیمیا، میڈیا اور کارپوریٹ پاکستان کے ایک ہزار سے زائد نمائندگان کا یہ تاریخی بینکنگ سمٹ پاکستان کے مالیاتی شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل کی علامت ہوگا۔

    پاکستان بینکنگ سمٹ25 اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے عاطف باجوہ نے کہا کہ ”پاکستان بینکنگ سمٹ ،بینکنگ انڈسٹری اور اس کے اسٹیک ہولڈرز کو ابھرتے ہوئے رجحانات اور بینکاری اور فنانس کے مواقع سے متعلق اہم گفتگو میں شامل ہونے کے لیے ایک بے مثل پلیٹ فارم مہیا کرے گی۔ اجلاس کا مقصد عالمی اور مقامی اقتصادی ترقی، معاشی ترقی میں بینکاری کے شعبے کے کردار، ترجیحی شعبے کی فنانسنگ، اسلامی بینکاری کے مستقبل اور ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق اہم موضوعات کا احاطہ کرنا بھی ہے۔“

    پی بی اے کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے ظفر مسعود نے کہا کہ ”پی بی ایس’25 پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی جانب سے معاشی ترقی کو فروغ دینے کے مسلسل عزم کا ثبوت ہے، جو نہ صرف مالی اکاؤنٹس بلکہ وسیع تر مالیاتی شمولیت، سسٹین ابیلیٹی اور جامع ترقی کے ذریعے بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اہم اسٹیک ہولڈرز کو اکھٹا کرکے یہ سمٹ بامعنی بات چیت اور تبدیلی لانے والے حل کے لیے محرک کا کام کرے گی جو پاکستان کے مالیاتی شعبے کے مستقبل کو تشکیل دیں گے۔“

  • آئی ایم ایف کا سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کرنے کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کا سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کرنے کا مطالبہ

    پاکستان کی حکومت کو فروری 2025 کے آخر تک آئی ایم ایف کے ساختیاتی معیارات (اسٹرکچرل بینچ مارک کے تقاضے) کی تعمیل کے لیے سول سرونٹس ایکٹ میں ضروری ترامیم کرنی ہوں گی تاکہ اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثے شفاف طریقے سے ظاہر کیے جا سکیں۔ اس کے تحت، گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری عہدیداروں کے اثاثے ڈیجیٹل طور پر فائل کیے جائیں گے اور عوامی سطح پر ان تک رسائی فراہم کی جائے گی، جس کے لیے پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانونی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

    آئی ایم ایف نے اپنے گورننس اور کرپشن ڈائیگنوسٹک اسیسمنٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں کرپشن، سرخ فیتہ (بیوروکریٹک رکاوٹیں) اور کمزور کاروباری ماحول بنیادی مسائل ہیں۔ یہ رپورٹ ایک تکنیکی مشن کی شکل میں آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام سے پیر کے روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ ورچوئل ملاقات میں تیار کی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان میں کرپشن اور گورننس کی بہتری کے لیے مزید اصلاحات کی تجویز پیش کی۔حکومت نے آئی ایم ایف سے اتفاق کیا ہے کہ سول سرونٹس ایکٹ میں ترامیم کی جائیں گی تاکہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے اثاثوں کی فائلنگ اور عوامی رسائی کی بہتر سسٹم بنایا جا سکے۔ ایف بی آر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ان اثاثوں کی معلومات رازداری کے تحفظات کے ساتھ ڈیجیٹل فارم میں رکھی جائیں۔ یہ معلومات سرکاری عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں پر محیط ہوں گی۔مزید برآں، حکومت نے اقوام متحدہ کے کنونشن اگینسٹ کرپشن (UNCAC) کے تحت اپنی تعمیل کی رپورٹ ستمبر 2024 کے آخر تک جاری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر نیب کے اختیارات میں مزید بہتری کے لیے ضروری ترامیم پر غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیب کی آزادانہ کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومت نے ایک جامع حکمت عملی مرتب کی ہے۔ اسی طرح، صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو بدعنوانی کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے اختیارات دیے جائیں گے، تاکہ منی لانڈرنگ اور مالیاتی کرائمز کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

    ایف بی آر کے ذریعے ایک نیا ڈیجیٹل پورٹل ستمبر 2024 کے آخر تک لانچ کیا جائے گا جس کے ذریعے بینکوں کی درخواستوں پر بروقت کارروائی کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ، بینکوں کو اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے اثاثوں تک رسائی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے قوانین پر عمل کر سکیں۔

    پاکستانی حکام نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ ملک میں شفافیت، احتساب اور کرپشن کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔ ان اقدامات کے ذریعے حکومت کی کوشش ہے کہ کاروباری و سرمایہ کاری کے لیے ایک بہتر اور شفاف ماحول فراہم کیا جا سکے، تاکہ اقتصادی ترقی کو مزید تقویت مل سکے۔

    غزہ جنگ بندی معاہدہ ختم کر دیا جائے گا،ٹرمپ کی دھمکی

    2025 کیلئے دنیا کے طاقتورترین ممالک کی فہرست جاری