Baaghi TV

Category: چترال

  • چترال:تریچ جانے والے گاڑی کو حادثہ ایک شخص جاں بحق

    چترال:تریچ جانے والے گاڑی کو حادثہ ایک شخص جاں بحق

    چترال،باغی ٹی وی (گل حمادفاروقی کی رپورٹ) ضلع اپر چترال کے بونی بوزند روڈ استارو دیعیڑی کے مقام پر اج ایک انتہائی افسوس ناک حادثہ پیش آیا ہے عینی شاہدین کے مطابق ٹاون چترال سے تریچ جانے والی گاڑی پر اوپر پہاڑی سے اچانک پہاڑی تودہ اس وقت آگرا جب وہ پہاڑی تودے سے تباہ حال انتہائی دشوار گزار راستے پر صفائی میں مصروف تھی، اس افسوس ناک حادثے کے نتیجے میں تریچ شوچ سے تعلق رکھنے والے محمد اسحاق ولد زار گوڑی پتھروں کی زد میں اگیا اور نیچے گہری کھائی میں جاگرا جس کے نتیجے میں موقع پر جان کی بازی ہار گیا

    مقامی لوگوں نے ہمارے نمائندے سے فون پر بات کرتے ہویے بتایا کہ گزشتہ روز ہی متعلقہ حکام کی توجہ اس دشوار گزار مقام کی سنگین صورتحال کی طرف مبذول کرائی گئی تھی لیکن ان کے مطابق ان کی دہائیاں اورآہ وزاری صدا بصحرا ثابت ہوئیں اور پھر آج ایک اور معصوم جان ان کی عفلت ولاپرواہی اور بے حسی کی نظر ہوگئی۔

    مقامی لوگوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس روڈ کی بحالی نگہداشت اور صفائی سی این ڈبلیو کی فرائض منصبی میں شامل نہیں ؟

    کیا عوام کی بنیادی انسانی حقوق اور جان و مال کا تحفظ انتظامیہ کی ذمہ داری میں شامل نہی ہے۔ وادی تریچ کے لوگوں نے محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے اعلیٰ حکام اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بونی سے بوزند، تریچ سڑک سے فوری طور پر برف اور ملبہ صاف کرکے اسے ٹریفک کیلیے مکمل طور پر کھول دیا جایے تاکہ یہ خونی سڑک کسی اور مسافر کی جان نہ لے۔

    ذرائع نے بتایا کہ محمد اسحاق والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور اس سے پہلے اس کے والدین اور دو بہنیں بھی وفات پاگیے تھے اس کے چھوٹے بچے اور ایک بیوہ بے سہارا رہ گئی ہے کیونکہ یہ اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔اس کی موت کے بعد اس کے بچے اور بیوہ غم سے نہایت نڈھال ہیں کیونکہ ان کو پالنے والا اور کوئی نہیں ہے۔

  • چترال:غریب آدمی کامکان برفانی تودے میں دب گیا ،مدد کی اپیل

    چترال:غریب آدمی کامکان برفانی تودے میں دب گیا ،مدد کی اپیل

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)غریب آدمی کامکان برفانی تودے میں دب گیا ،مدد کی اپیل

    لوئر چترال کے مضافاتی علاقے سینگور محلہ شاہ میراندہ میں محمد ولی نامی شحص نے اونچائی پر نیا مکان بنایا تھا، اسی سال شدید برف باری کے باعث آس پاس اور اس کے مکان کے اوپر پہاڑ پر بہت زیادہ برف جمع ہو گئی تھی ،

    گزشتہ دنوں وہ جمی ہوئی برف گرمی کی وجہ سے پگھل کر اچانک اس کے مکان کے اوپر آگر ی جس کے نتیجے میں محمد ولی کے مکان کی چھت بری طرح متاثر ہوئی۔ ٹین کے نیچے لگائے جانیوالے لکڑی کےشہتیر وغیرہ ٹوٹ گئے۔

    محمد ولی کا کہنا ہے کہ میں غریب آدمی ہوں میرے بیٹے بیرون ملک محنت مزدوری کرتے تھے اور ان کی خون پسینے کی کمائی سے یہ مکان بنایا تھا جو برفانی تودے تلے دب کر جزوی طور پر تباہ ہوا۔

    محمد ولی کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے اہلکار بھِی یہاں آئے تھے انہوں نے اس کا جائزہ لیکر اسے نقصان زدہ فہرست میں درج بھی کیا تھا مگر ابھی تک مجھے کسی قسم کی امداد نہیں ملی جبکہ بعض بااثر لوگوں کو سات سات لاکھ روپے کے چیک بھی دیے گیے۔

    انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ سے بھی درخواست کی ہے کہ اس کی بھی مالی مدد کی جایے اور جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کیا جائے تاکہ وہ اپنا مکان دوبارہ تعمیر کرسکے۔

  • چترال: شجر کاری مہم کا آغاز کردیا گیا، 2 لاکھ پودے لوگوں میں مفت تقسیم کیے جائیں گے

    چترال: شجر کاری مہم کا آغاز کردیا گیا، 2 لاکھ پودے لوگوں میں مفت تقسیم کیے جائیں گے

    چترال،باغی ٹی وی(گل حماد فاروقی کی رپورٹ) شجر کاری مہم کا آغاز کردیا گیا، 2 لاکھ پودے لوگوں میں مفت تقسیم کیے جائیں گے

    چترال میں شجرکاری مہم کا آغاز کردیا گیاہے اس سلسلے میں پولیس لائن چترال میں ایک سادہ تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں ڈویژنل فارسٹ آفیسر عبدالمجید، سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر یوسف فرہاد، اسسٹنٹ کمشنر چترال ڈاکٹر عاطف جالب، ڈایریکٹر ایگریکلچر، سوئل اینڈ واٹر کنزرویشن کے ڈسٹرکٹ آفیسر مجیب الرحمان، کمانڈنٹ چترال سکاوٹس کی جانب سے میجر ایڈمن، ڈی پی او اور دیگر محکموں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی۔

    اس موقع پر ڈی ایف او چترال عبد المجید نے پودوں اور درختوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات چترال پولیس کو مفت پودے دے رہا ہے، جسے وہ مختلف تھانوں میں لگائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ان پودوں اور درختوں کی وجہ سے نہ صرف چترال کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ یہ ہمیں ٹنوں کے حساب سے آکسیجن دیتےہیں، ان درختوں پر بہار کے موسم میں رنگ برنگے پرندے آکر بیٹھتے ہیں جن کہ چہچہانے سے انسان کی طبیعت ہشاش بشاش ہوجاتی ہے اور خزاں کے موسم میں ان درختوں کے پتے مختلف رنگوں میں بدل جاتے ہیں جس سے ان کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ان پودوں پر رنگ برنگ پھول لگتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان کی تمام تر بوریت اور تھکاوٹ دور ہوجاتی ہےاوروہ خوش ہوجاتا ہے۔ یہ درخت ہمیں ایندھن کے ساتھ ساتھ پھل بھی دے رہے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چترال چونکہ ٹھنڈا علاقہ ہے یہاں سردی زیادہ پڑتی ہے اور یہاں کے لوگ خود کو سردی سے بچانے کیلیے اور کھانا پکانے کیلیے لکڑی کاٹ کر اسے جلاتے ہیں جس سے جنگلات پر بہت زیادہ بوجھ پڑتا ہے اور اگرصورت حال یہی رہی تو اگلے تیس سالوں میں درخت دوربین میں بھی نظر نہیں آئیں گے، سوائے فارسٹ کے درختوں کے۔

    انہوں نے تجویز پیش کی کہ چترال کے لوگوں کو اگر سستی بجلی یا ایل پی جی گیس فراہم کی جائے تو وہ لکڑی جلانے کی بجائے گیس یا بجلی کا ہیٹر استعمال کریں گے اور اس سے جنگلات پر بوجھ کم پڑے گا۔

    سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر یوسف فرہاد نے کہا کہ یہ درخت ایک قدرتی چیک ڈیم کا کام بھی کرتے ہیں کیونکہ چترال خشک خطہ ہے یہاں جب بارش برستی ہے تو بہت تیزی سے برستی ہے اور پہاڑوں سے ندی نالوں میں تباہ کن سیلاب کی شکل میں رونما ہوتے ہیں جو اکثر جانی اور مالی نقصان کا باعث بھی بنتا ہے، تاہم جن پہاڑوں یا میدان میں پودے اور درخت زیادہ ہوں تو وہ سیلاب کے پانی کی رفتار کو کم کرتا ہے اور اگر سیلاب کا پانی کم رفتار سے بہہ جائے تو اس کا اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا تیز پانی سے ہوتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ان درختوں اور پودوں کی وجہ سے ہم موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بھی بچ سکتے ہیں۔ کیونکہ ابھِی دیکھ رہے ہیں کہ کبھِی طویل عرصے تک بارش یا برف باری نہیں ہوتی مگر کبھِی بغیر موسم کے بھی بارش اور برف باری ہوتی ہے یہ سب کلائمیٹ چینچ کے اثرات ہیں۔

    ہم جتنا زیادہ سے زیادہ پودے اور درخت لگائیں گے اتنا ہی اس کا ہمارے ماحول پر مثبت اثرات پڑا گا اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کی شرح کو کم کیاجاسکے گا۔

    تقریب کے دوران آنے والے مہمانوں نے پودے لگاکر شجر کاری مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا۔ بعد ازاں لوگوں میں مفت پودے بھی تقسیم کیے گیے۔ یہ تقریب دعائیہ کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

  • چترال بونی شندور روڈ کی زیرتعمیرحفاظتی  دیواریں خود بخود گرنے لگیں،غیر معیاری کام کی وجہ سے عوام پریشان

    چترال بونی شندور روڈ کی زیرتعمیرحفاظتی دیواریں خود بخود گرنے لگیں،غیر معیاری کام کی وجہ سے عوام پریشان

    چترال ،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)چترال بونی شندور شاہراہ پر حفاظتی دیواریں خود بخود گرنے لگے۔غیر معیاری کام کی وجہ سے عوام پریشان۔

    چترال بونی شاہراہ پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر نگرانی تعمیر کا کام کئی سالوں سے جاری ہے۔ اربوں روپے کی لاگت سے بننے والی اس سڑک پر ایک جانب تعمیری کام غیر ضروری تاخیر کا شکار ہوا تو دوسری جانب کام کا معیار بھی اچھا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی اکثر حفاظتی دیواریں تکمیل سے پہلے خود بخود گر رہی ہیں۔

    چترال میں سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کیلئےے آواز اٹھانے والی رضاکار تنظیم سی ڈی ایم چترال ڈیویلپمنٹ مومنٹ کے اراکین نے اس سڑک کا معائنہ کیا۔ ماہرین نے انکشاف کیا کہ سڑک کی تعمیر کا کام عمر جان اینڈ کمپنی کو ٹھیکے پر دیا گیا تھا مگر انہوں نے چھوٹے چھوٹے ٹھیکیداروں میں یہ کام بانٹا ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سڑک کے کنارے حفاظتی دیواریں بغیر کسی بنیاد کے ریتلی زمین کے اوپر بنائی گئی ہیں جس کی تعمیر میں سیمنٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے اور صرف کچرا اندر ڈال کر باہر سے پلستر کیا ہوا ہے دوسرا اس پر پانی سے ترائی بھی نہیں ہوئی یعنی بروقت پانی کا چھڑکاؤ نہیں کیاگیا ہے جس کی وجہ سے یہ سیمنٹ بھی بوسیدہ ہوکر خود بخود گر رہی ہے۔

    سی ڈی ایم کے اراکین کے علاوہ راہگیروں نے بھی سیمنٹ کی بنی ہوئی دیواریں ہاتھوں سے توڑ کر اسے نہایت غیر معیاری اور ناقص قراردیا۔

    معروف قانون دان سید برہان شاہ ایڈوکیٹ، سماجی کارکن عنایت اللہ اسیر، محمد اشرف، طالب علم کامران، سلطان محمود،ذکریا اور راہ چلتے ہوئے دیگر لوگوں نے بھِی اس بات پرنہایت حیرت کا اظہار کیا کہ چترال بونی شاہراہ پر اگر ایسا ناقص کام کھلے عام ہورہا ہو جس پر ہزاروں لوگ روزانہ گزرتے ہیں تو جہاں زیادہ لوگوں کی آمد و رفت نہ ہو وہاں این ایچ اے کے کام کا کیا معیار ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ عام طور پر اگر کوئی اپنے گھر کی دیواریں تعمیر کرتا ہے تو دیوار کیلئےپہلے تین چار فٹ بنیادیں کھودتے ہیں اور پتھروں میں سمینٹ ڈال کر دیوار بنائی جاتی ہے، تعمیر کے بعد اس پر باقاعدگی سے ہفتہ دس دن ترائی کی جاتی ہے تاکہ وہ مضبوط ہو۔ یہاں حفاظتی دیواروں کے اندر چھوٹے پتھر اور کچرا ڈالا گیا ہے جس کے اندر سیمنٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور دیوار کو باہر سے پلستر کیا ہوا ہے جس سے یوں لگتا ہے کہ پوری دیوار میں سیمنٹ استعمال ہوا ہے ،مگر اس پر ترائی نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے جولائی اگست میں سیمنٹ بوسیدہ ہوکر ناکارہ ہوچکی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ دیواریں خود بخود گررہی ہیں۔ جہاں دیواریں گری ہیں وہاں نہ تو سیلاب آیا ہے اور ان پر کوئی بڑا پتھر گرا ہوا ہے بلکہ نیچے بنیاد نہ ہونے کی وجہ سے دیوار سرک گیا ہے اور پوری دیوار دھڑام سے گررہی ہیں۔

    سی ڈی ایم کے اراکین نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ اس کام کی معیار کو چیک کرنے کیلئے نیسپاک یعنی نیشنل انجنیئرنگ سروسز پاکستان کی جانب سے کنسلٹنٹ ریذیڈنٹ انجنیر عرفان الحق نے ایک مرتبہ بھی سائٹ پر جاکر اس کام کے معیار کا معئنہ نہیں کیا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ان کی شکایت این ایچ اے کے پراجیکٹ ڈایریکٹر کو بھی کی گئی تھی مگر ان کا جواب تھا کہ وہ دل کا مریض ہے اور چلنے پھرنے کا قابل نہیں ہے۔

    ہمارے نمائندے نے این ایچ اے اور نیسپاک کے ذمہ داروں سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر رابطہ نہ ہوسکا اور ان کو باقاعدہ ان کے نمبر پر پیغام بھیجا کہ وہ اس بابت اپنا موقف دیں تاکہ دونوں جانب کا موقف سامنے رکھاجائے مگر ابھی تک ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔

    معروف قانون دان سید برہان شاہ ایڈوکیٹ اور سی ڈی ایم کے دیگر اراکین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزیر اور سیکرٹری مواصلات اور این ایچ اے کے چیئرمین سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ناقص کام کی جوڈیشل انکوائری کرکے اسے دوبارہ سپیسیفکیشن یعنی مروجہ معیار کے مطابق بنوایا جائے ،کہیں ایسانہ ہوکہ سڑک مکمل ہونے کے بعد جب بھاری ٹرک اور سواریوں سے بھرے ہوئے کوسٹر جب گزریں گے تو یہ ناقص دیواریں ان کی بوجھ برداشت نہ کرتے ہوئے دریا برد نہ ہوجائیں کیونکہ یہ دیواریں ابھی سے اکثر ایسی جگہوں سے گررہی ہیں جہاں نہ تو اس پر کوئی بھاری ملبہ گرا ہے اور نہ ہی سیلاب کا پانی اس پر گزرا ہے بلکہ نیچے بنیاد نہ ہونے کی وجہ سے خود بخود گررہی ہیں۔

  • چترال:ہرت کریم آباد کی سڑک دس دنوں  کے بعد ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھول دی گئی ہے

    چترال:ہرت کریم آباد کی سڑک دس دنوں کے بعد ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھول دی گئی ہے

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)حالیہ شدید برف باری کے باعث وادی ہرت، کریم آباد، سوسوم وغیرہ کی سڑک دو مارچ کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہو گئی تھی، جس کے باعث وہاں رہنے واہے ہزاروں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔

    ویلیج کونسل کے چیئرمین شیر فراز خان نے راستے کی بندش سے پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں بتایا کہ یہاں دکانداروں کے پاس زیادہ سے زیادہ تین دنوں کا سٹاک جمع ہوتا ہے مگر راستہ دس دن بند رہا جس پر کئی مقامات پر برفانی تودے، مٹی کے تودے اور بڑے پتھر گرے تھے۔

    اس علاقے میں کوئی ہسپتال نہیں ہے تو ہم اپنے مریضوں کو چارپائی پر ڈال کر کندھوں پر اٹھانے پر مجبور تھے۔ چیئرمین شیر فراز خان نے کہا کہ جب لوگوں کی مشکلات حد سے زیادہ بڑھنے لگی تو میں یہاں سے پیدل چترال پہنچا اور ڈپٹی کمشنر لوئر چترال کے نوٹس میں لایا وہ میرے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئےاور انہوں نے محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس یعنی سی اینڈ ڈبلیو کے ایگزیکٹیو انجنیر طارق مرتضے کو ہدایت کی کہ وہاں کا راستہ فوری طور پر کھولاجائے۔

    ایکسین کے کہنے پر ایس ڈی او عدنان نے فوری طور پر ٹھیکیدار تاج رسول کو ہدایت کی اور اس کی مشینری فوری حرکت میں آگئی، اس وادی میں ایک بلڈوزر اور ٹریکٹر لگاکر مختلف مقامات پر پہاڑ سے گرے ہوئے برفانی تودے اور ملبہ ہٹایا اور اس سڑک کو ہر قسم کے ٹریفک کیلیے کھول دیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ اب بھی اس سڑک پر سفر کرتے وقت ڈر لگتا ہے اور لوگوں کو بہت مشکلات ہے کیونکہ ایک تو سڑک نہایت تنگ ہے اور دوسرا اس کے کنارے دریا کی جانب حفاظتی دیواریں نہیں ہے اس سڑے سے ہزاروں فٹ نیچے دریا بہتا ہے اگر خدا نحواستہ گاڑی کی بریک فیل ہوکر نیچے گری تو ہزاروں فٹ نیچے کھائی میں گرنے سے بچ نکلنا بہت مشکل ہے۔

    اس علاقے کے منتخب خاتون کونسلر وسیمہ بی بی نے بتایا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے عملہ نے بہت مشکل سے اس سڑک کو ٹریفک کیلئے کھول دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس پوری وادی میں ہسپتال نہیں ہے اور خواتین کو زچگی کے دوران ہسپتال پہنچاتے وقت اکثر زچہ بچہ راستے میں ہی دم توڑجاتے ہیں۔

    فتح الرحمان بھی اس علاقے کا باشندہ ہے انہوں نے بھی راستے کی بندش کی وجہ سے مشکلات پر روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ ہرت کلسٹر میں چھ سو اسی گھرانے محصور ہوچکے تھے اور کھانے پینے کی چیزوں کی بھی شدید قلت پیش آئی تھی اگر یہ راستہ بروقت نہ کھلتا تو شاید ہم لوگ فاقہ کشی کا شکار ہوسکتے تھے۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحصیل کا باشندہ سلیم خان پانچ سال صوبائی وزیر رہا اور پانچ سال صوبائی اسمبلی کا رکن رہا مگر اس نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا بس اپنا کام نکالا۔

    مرزا ولی اور یہاں کے لوگوں نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایکسین اور ایس ڈی او کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بروقت کاروائی کرتے ہوئےاس سڑک سے برف صاف کرکے اسے ٹریفک کیلئے کھول دیا۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہاں ایک خاتون گردوں کی مریضہ تھی جسے ہر وقت ڈائلیسز کیلئے ہسپتال لے جانا پڑتا تھا مگر حالیہ برف باری کے باعث جب راستہ بند تھا تو اسے بھی بروقت ہسپتال نہیں لے جا سکے اور وہ گھر ہی پر تکلیف برداشت کرتی رہی۔

    محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ترجمان نے کہا کہ حالیہ برف باری کے دوران انہوں نے برینس گول، پرییت وادی، پھستی، موری لشٹ، گولین،کجو بالا، کجو پائین، چترال میں عبدالولی خان بائی پاس روڈ، ہسپتال روڈ، ڈی سی آفس، مغلاندہ، ہون فیض آباد، ڈوم شغور، بکرآباد،دولوموس،لنگلینڈ سکول روڈ،سینگور، دنین اور گہتک کی سڑکیں برف سے صاف کی گئیں۔ جن پر اب معمول کے مطابق ٹریفک رواں دواں ہے۔

    محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ان کے پاس فنڈ کی شدید قلت ہے اور پچھلے سال کی مرمت اور بحال کاری کی فنڈ ابھی تک نہیں ملے۔ اگر حکومت ان کو ان کی ضرورت کے مطابق بجٹ فراہم کرے تو چترال کے لوگوں کو مواصلات کے مد میں کسی بھِی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا۔

  • چترال :وادی آرکاری میں سڑک سے برف  ہٹاتے ایکسکیویٹرالٹ گیا، آپریٹر جاں بحق

    چترال :وادی آرکاری میں سڑک سے برف ہٹاتے ایکسکیویٹرالٹ گیا، آپریٹر جاں بحق

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)وادی آرکاری میں سڑک سے برف ہٹاتے ایکسکیویٹرالٹ گیا، آپریٹر جاں بحق، جاں بحق ہونے والا اپریٹر بوڑھے والدین سمیت پورے خاندان کا واحد کفیل تھا، متاثرہ خاندان نے حکومت سے امداد کی اپیل کی ہے۔

    امیر ولد غلام شاہ جو ایک نجی ایکسکیویٹر کا آپریٹر تھا آرکاری کی سڑک سے برف ہٹانے کی غرض سے سڑک پر جارہا تھا ،دوران کام ایکسکیویٹرکے اچانک پھسل جانے سے بمقام شور آرکاری وہ مشین الٹ گئی،جس کے نیچے آکرآپریٹر امیر موقع پر جاں بحق ہو گیا۔جاں بحق ہونے والا اپریٹر بوڑھے والدین سمیت پورے خاندان کا واحد کفیل تھا، اسکے فوت ہونے کی وجہ سے خاندان شدید متاثر ہو چکا ہے۔

    سابق ناظم یونین کونسل شغور عبدالمجید نے ہمارے نمائندے کو فون پر بتایا کہ اس کی درخواست پر ایم پی اے فاتح الملک علی ناصر نے ڈپٹی کمشنر لوئر چترال سے کہا تھا کہ وادی آرکاری کی سڑک سے برف ہٹائی جائے تاکہ لوگوں کو آنے جانے میں آسانی ہو۔ اس دوران ایکسکیویٹر مشین اچانک الٹ گئی اور نوجوان آپریٹرامیر اس کے نیچے آکر جاں بحق ہوگیا۔

    عبدالمجید کا کہنا ہے کہ امیر کا والد غلام شاہ جو ایک بیمار آدمی ہے اب اس کیلئے دوائی لانے والا بھی کوئی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ طوفانی بارشوں اور شدید برف باری کے باعث وادی آرکاری بری طرح متاثر ہوئی تھی ،وہاں جانے والے تمام راستے بند تھے۔ خواتین، بچوں، بوڑھوں اور طلباء و طالبات کو سکول، کالج جانے یا لوگوں کو ہسپتال جانے میں نہایت مشکلات کا سامنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس وادی میں راستے بند ہونے کی وجہ سے اشیائے خوردنوش کی بھی شدید قلت پیدا ہوئی ہے اور وہاں کے لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں جو حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

    عبدالمجید نے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ مرحوم امیر کے خاندان کے ساتھ مالی مددکریں اور وادی آرکاری کا راستہ جلد سے جلد کھولنے کے ساتھ ساتھ وہاں امدادی سامان بھی پہنچایا جائے تاکہ لوگ فاقہ کشی بچ سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ وادی میں ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے اکثر مریض چترال ہسپتال آنے کی کوشش کرتے ہیں مگر راستے بند ہونے کی وجہ سے یہ لوگ ان برفانی تودوں کے اوپر پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں جوبہت ہی خطرناک ہے.

  • شدید برف باری سے وادی کیلاش بری طرح متاثر ،مواصلاتی نظام درہم برہم

    شدید برف باری سے وادی کیلاش بری طرح متاثر ،مواصلاتی نظام درہم برہم

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)شدید برف باری سے وادی کیلاش بری طرح متاثر ،مواصلاتی نظام درہم برہم،عوام اور سیاحوں کو مشکلات کا سامنا۔

    حالیہ شدید برف باری نے پچھلے کیی دہائیوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ وادی کیلاش کے بمبوریت اور شیخانندہ میں پانچ سے چھ فٹ تک برف باری ہوئی ، جس کے باعث وہاں کا مواصلاتی نظام بری طرح متاثر ہوا ،سڑکیں بند ، بجلی غائب، موبائل فون بھی خاموش اور دکانوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہوئی

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مدد اپ کے تحت سڑک سے برف ہٹائی تاکہ لوگ کم ازکم اپنے لیے کھانے پینے کی چیزیں تو آسانی سے لاسکیں۔

    وادی کیلاش کے عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ ہم مجبور ہوکر خود اپنےگھروں سے بیلچےاور کودال اٹھاکر سڑک سے برف کوصاف کیا۔ یہاں دکانوں میں ضرورت کی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی نار کی سروس جب معطل ہوئی تو ہم نے چندہ اکھٹا کرکے اس کیلئے تیل اوپر پہاڑی میں بھیجا تاکہ کم از کم ہمارا آپس کا رابطہ بحال ہو اور ہم ایک دوسرے کی خیر خیریت سے آگاہ رہیں۔

    زور محمد کیلاش قبیلے کا قاضی کا کہنا ہے کہ جب برف باری ہوئی نہ صرف ہماری سڑکیں بند ہوئیں بلکہ ٹیلی نار سروس بھی معطل ہوگئی تھی۔ بجلی بند تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس سڑک کو کیلاش اور مسلمان دونوں نے رضاکارانہ طور پر بلا معاوضہ صاف کرکے کھول دیا تھا تاہم بعد میں کیلاش ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی ٹریکٹر نےآکر تھوڑی بہت صفائی کرلی۔

    مقامی لوگوں نے معروف معالج اور سماجی کارکن ڈاکٹر محمد عدنان بھٹہ کا شکریہ ادا کیا جو مصیبت کے ہر گھڑی میں ان کی مدد کیلیے تیار رہتا ہے۔ اس دفعہ بھی ان کی کوششوں سے میڈیا ٹیم وادی کیلاش پہنچی اور اس سے پہلے بھی اس نے پیدل جاکر کئی مرتبہ فری میڈیکل کیمپ بھی لگائے جب یہاں پر کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔

    عبدالجبار بھی اس علاقے کا ٹور گائیڈ اور سماجی کارکن ہے انہوں نے کہا کہ 29 فروری کو جو برف باری ہوئی تھی اس سے ہم بری طرح متاثر ہوئے۔ راستہ ہم خود کھول رہے ہیں بیماروں کو خود اٹھاکر ہسپتال پہنچارہے ہیں مگر ابھی تک سرکار کی طرف سے ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ برف باری کے دوران اکثر سیاح مری، سوات اور کالام جاکر برف باری سے لطف اندوز ہوتے ہیں کیونکہ وہاں کی سڑکیں کھلی ہیں مگر یہاں کوئی نہیں آتا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں سڑکیں بند تھی اور ادارےخاموش تھے اگر یہاں بھی مواصلاتی نظام کو بہتر بنایا جائے تو یہاں بھی سیاح آئیں گے اور ہمارے ہوٹلوں میں قیام کریں گے جس سے ہمِیں بھی روزگار ملے گا۔

    کیلاش وادی ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر عبدالخالق کیلاش کا کہنا ہے کہ ہمارا صرف چھ ماہ سیزن ہوتا ہے اور چھ ماہ ہماری ہوٹلیں بند رہتی ہیں کیونکہ برف باری کی وجہ سے اکثر راستے بند ہوتے ہیں مواصلاتی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے تویہاں کوئی آنے کو تیار نہیں ہوتا۔

    وادی کیلاش کے چییرمین خلیل احمد نے کہا کہ بمبوریت کی سڑک نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حوالے ہوئی ہے اور سڑک کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سڑک سے برف اور ملبہ ہٹانا بھی ان کے ٹھیکے میں شامل ہے مگراس دفعہ این ایچ اے نے ہمِیں بہت مایوس کیا نہ صرف انہوں نے سڑ ک پر تعمیر کا کام بند کیا ہوا ہے بلکہ سڑک سے برف بھی نہیں ہٹائی اور خدشہ ہے کہ ٹھیکیدار ادارے کے افسران سے ملی بھگت کرکے اس کا بل بھی پاس کرالے گا۔

    یہاں کے لوگوں نے مطالبہ کیا کہ وادی کیلاش بمبوریت کی مواصلاتی نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ برف باری کے دوران دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی سیاح آیا کریں اور سردی کی موسم میں بھی ونٹر ٹورزم کو ترقی دینے سے یہ پسماندہ علاقہ بھی ترقی کرسکے۔

  • چترال:وادی کیلاش میں آئس ہاکی کھیلتے ہوئے نوجوان کھلاڑی جاں بحق

    چترال:وادی کیلاش میں آئس ہاکی کھیلتے ہوئے نوجوان کھلاڑی جاں بحق

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)وادی کیلاش میں آئس ہاکی کھیلتے ہوئے نوجوان کھلاڑی جاں بحق

    وادی کیلاش میں آئس ہاکی کھیلتے ہوئے ایک نوجوان کھلاڑی چھت سے گر کر جاں بحق ہوگیا ہے،حالیہ شدید برف باری کے بعد وادی کیلاش کے لوگ اپنا قدیمی ثقافتی کھیل آئس ہاکی کھیل رہے تھے۔وادی کیلاش کے برون ٹار گاؤں جو پہلوانندہ کے سامنے پہاڑ کے دامن میں واقع ہے اس کا ایک نوجوان کھلاڑی شیر انجم ولد سلطان روم جس کی عمر پچیس سال بتائی گئی ہے

    وہ دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ آئس ہاکی جسے مقامی زبان میں ہیم غال کہتے ہیں کھیل رہا تھا،اس کھیل میں لکڑی سے بنی ہوئی ایک گیند ہوتی ہے جس پر کالا رنگ لگایا جاتا ہے تاکہ برف میں گم نہ ہوجائے کیونکہ برف کا رنگ بھی سفید ہوتا ہے اسلئے اس گیند پر کالا رنگ لگایا جاتا ہے۔

    کھیل کے دوران یہ گیند زیر تعمیر تھانہ بمبوریت کے چھت پر جا گری۔ شیر انجم نے تھانےکے چھت پر چڑھ کر بال نیچے پھینکی مگر برف زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے اندازہ نہیں ہوا اور چھت سے نیچے فرش پر گر گیا جس کی وجہ سے وہ جاں بحق ہوگیا۔ اس کا والد سلطان روم بھی فوت ہوچکا ہے ایک بھائی ڈرائیور جبکہ دوسرا بھائی دبئی میں ہے۔

    جب نوجوان کھلاڑی نیچے گر گیا تو اس وقت وادی کیلاش کا راستہ شدید برف باری کے باعث ہر قسم کے ٹریفک کیلیے بند تھا جس کی وجہ سے اسے بروقت نہ تو ہسپتال پہنچایا گیا نہ اسے طبعی امداد دی گئی اس طرح وہ نوجوان راستے ہی میں دم توڑ گیا۔

    کیلاش سے تعلق رکھنے والے چند عمائدین نے ہمارے نمائندے سے فون پر باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیلاش ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے نام پر ڈھائی سال پہلے کروڑوں روپے مالیت کی مشنیری آچکی ہے جس میں ایکسکیویٹر، لوڈر، ڈس بین، ٹرالی ٹریکٹر اور دیگر مشینری شامل ہیں مگر یہ ساری مشینری تحصیل میونسپل انتظامیہ کے دفتر میں بے کار کھڑی ہے جسے زنگ لگنے کا خطرہ بھی ہے۔

    وادی کیلاش کے لوگو ں نے مطالبہ کیا ہے کہ کیلاش ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے نام پر جو مشینری اور سامان آیا ہوا ہے اسے بروئے کار لاتے ہوئے وادی کیلاش کے تینیوں دیہات، بمبوریت، رمبور اور بریرکے راستوں کو کھول دیا جائے تاکہ یہاں کے لوگ کم از کم اپنے زحمیوں اور بیماروں کو تو بروقت ہسپتال پہنچا سکیں اور یوں ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے پیارے موت کا لقمہ نہ بنیں۔

    معروف معالج اور سماجی کارکن ڈاکٹر محمد عدنان نے وزیر اعلیٰ خیبر پحتون خواہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بمبوریت میں واحد بنیادی مرکز صحت بی ایچ یو میں فوری طور پر ڈاکٹر تعینات کیا جائے تاکہ یہاں کے ہزاروں باشندوں کو بروقت طبعی امداد تو مل سکے۔

    انہوں نے یہ بھِی مطالبہ کیا کہ کیلاش کے تینوں وادیوں رمبور، بمبوریت اور بریر کے راستے ہر قسم کے ٹریفک کیلیے کھول دئے جائیں تاکہ عوام کو سفر کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

  • چترال:شدید برف باری سے بند سڑکیں محکمہ مواصلات نے ٹریفک کیلئے کھول دیں

    چترال:شدید برف باری سے بند سڑکیں محکمہ مواصلات نے ٹریفک کیلئے کھول دیں

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)شدید برف باری سے بند سڑکیں محکمہ مواصلات نے ٹریفک کیلئے کھول دیں

    حالیہ شدید برف باری کے باعث چترال میں وادی بمبوریت، رمبور، ارسون، شیشی کوہ، جنجیریت کوہ، بیوڑی اور دیگر علاقوں کے راستے ہر قسم کے ٹریفک کیلیے بند ہوگئے تھے۔

    پشاور چترال مین شاہراہ اور بازار کے اندر سڑکوں سے این ایچ اے کے مشینری نے برف صاف کردی ہے جب کہ دیگر وادیوں سے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو یعنی کمیونیکیشن اینڈ ورکس برف صاف کررہی ہے۔

    محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایگزیکٹیو انجنیر طارق مرتضےِ اور ایس ڈی او دروش وقار خان کے ہدایت پر دروش کنسٹرکشن کمپنی کے ٹھیکدار حیدر علی نے وادی بمبوریت کا راستہ انیش تک، رمبور کا سڑک پوندک تک جبکہ شیشی کوہ کا راستہ پتی گال تک کھول دیا۔ تاہم شیشی کوہ سڑک پر مسلسل برفانی اور مٹی کے تودے گرنے کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے پتھر گرنے سے صفائی کے کام میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔

    متعلقہ کمپنی کے اہلکاروں نے دن رات محنت کرکے وادی ارسون، جنجیریت کوہ اور بیوڑی کا راستہ ہر قسم ٹریفک کیلئے کھول دیاہے، مقامی لوگوں کے مطابق وادی کیلاش کی سڑکیں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پاس ہیں مگر ان سڑکوں سے برف محکمہ سی اینڈ ڈبلیو صاف کروارہی ہے۔

    اس وقت گرم چشمہ، وادی کریم آباد، سوسوم ، مڈگلشٹ وغیرہ کی سڑکیں تاحال بند ہیں۔تاہم محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی مشینری مسلسل کام کررہی ہے امید ہے کہ بہت جلد وادی شیشی کوہ کا راستہ مکمل طور پر ہر قسم کے ٹریفک کیلئے کھول دیا جاے گا جس سے عوام کی مشکلات میں کمی آئےگی۔

    محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر انکشاف کیا کہ ان کو پچھلے سال صفائی کی رقم بھی نہیں ملی ہے اور وہ ٹھیکیداروں سے اپنے ذاتی اثر رسوح کے بنیاد پر کام کروارہے ہیں۔

  • چترال:پاک افغان سرحدی علاقہ وادی آرکروی کے عمائدین کااے سی دروش کے دفتر کے سامنے احتجاج

    چترال:پاک افغان سرحدی علاقہ وادی آرکروی کے عمائدین کااے سی دروش کے دفتر کے سامنے احتجاج

    چترال،باغی ٹی وی (نامہ نگارگل حمادفاروقی)پاک افغان سرحدی علاقہ وادی آرکروی کے عمائدین کااے سی دروش کے دفتر کے سامنے احتجاج
    پاک افغان سرحدی علاقہ وادی آرکروی کے عمائدین نے اے سی دروش کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا کہ شہزادہ خالد پرویز نے انہیں جنگلات کی رائیلٹی کے بیس کروڑ روپے سے محروم کیا ہے۔ انہوں منتبہ کیا کہ اگر دو دن کے اندر ان کو جائز حق نہیں ملا تو وہ خواتین اور بچوں سمیت بھوک ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے۔ تفصیل گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

    https://x.com/DrMustafa983/status/1765654462792671349?s=20