Baaghi TV

Category: چترال

  • چترال:این اے ون امید وار سینیٹر محمد طلحہ محمود کے مقابلے میں پی ٹی آئی سمیت کئی جماعتوں کی وکٹیں اُڑگئیں

    چترال:این اے ون امید وار سینیٹر محمد طلحہ محمود کے مقابلے میں پی ٹی آئی سمیت کئی جماعتوں کی وکٹیں اُڑگئیں

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)این اے ون امید وار سینیٹر محمد طلحہ محمود کے مقابلے میں پی ٹی آئی سمیت کئی جماعتوں کی وکٹیں اُڑگئیں
    این اے ون چترال سے قومی اسمبلی کیلیے نامزد امیدوار سینیٹر محمد طلحہ محمود کے حق میں پی ٹی آئی سمیت دیگر جماعتوں کے اراکین نے بھی ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    ضلع اپر چترال سے تعلق رکھنے والی پاکستان تحریک انصاف کی نہایت سرگرم خاتون رکن سارا شاہ اور سید لطیفہ شاہ نے بھی سینیٹر طلحہ محمود کے قافلے میں شمولیت کا اعلان کیا۔ سیدہ لطیفہ شاہ پی کے ون کے صوبائی اسمبلی کیلیے بھی امید وار تھی جس نے الیکشن مہم بھی شروع کی تھی

    سیدہ لطیفہ شاہ نے ضلع اپر چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز بونی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سینیٹر محمد طلحہ محمود جو طلحہ فاؤنڈیشن کے چیئرمین بھی ہیں وہ اس سے پہلے کئی بار مصیبت کے گھڑی میں چترال آکر غریب، نادار، متاثرہ اور ضرورت مند لوگوں کے ساتھ مدد کرتا رہتا ہے بلکہ وہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے علاوہ دنیا کے اور بھی کئی ممالک میں فلاحی کام کرتے ہیں اور وہ خود بھی ایک مخیر ہونے کے ناطے ان سے امید ہے کہ وہ کامیاب ہوکر ہمارا حق ضائع نہیں کرے گایہی وجہ ہے کہ سیدہ لطیفہ شاہ جو پی ٹی آئی کی سرگرم کارکن تھی ۔ سیدہ لطیفہ شاہ نے طلحہ محمود کے حق میں ان کے ساتھ صوبائی اسمبلی کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہوئی۔

    اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، مسلم لیک ن اور دیگر جماعتوں سے بھی لوگ جوق درجوق سینیٹر محمد طلحہ محمود کے قافلے میں شامل ہورہے ہیں۔اسی طرح گرم چشمہ، تریچ، تورکہو، ملکہو، عشریت ، زیارت، کیسو، ارندو، ریچ، کھوت، شاہ گرام اور دیگر علاقوں میں بھی لوگ دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتیں چھوڑ کر سینٹر طلحہ محمود کے فلاحی کاموں ، ان کی انسانیت کی خدمت کے جذبے سے متاثر ہوکر جوق درجوق ان کے ساتھ الحاق کررہے ہیں۔

    گرم چشمہ میں صوبیدار ریٹایرڈ امیر اللہ ، قاری نظام الدین، پاکستان تحریک انصاف سے راحت علی شاہ اور کثیر تعداد میں کونسلرز جن کا تعلق مختلف سیاسی پارٹیوں سے تھا انہوں نے اپنے پارٹیوں کو خیر باد کہہ کر سینیٹر محمد طلحہ محمود کی حمایت کا اعلان کیاہے۔

    اس موقع پر گرم چشمہ کے چند عمائدین نے کہا کہ سلیم خان جو پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر دو مرتبہ صوبائی اسمبلی کا رکن بنا اور پانچ سال تک صوبائی وزیر بھی رہا وہ انتخابات سے پہلے نہایت غریب آدمی تھا جس کی چھوٹی سی دکان تھی مگر وزیر بننے کے بعد وہ کروڑ پتی بنا مگر ہمارے علاقے کی سڑکیں اب بھی کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں۔ اسی طرح عبدالاکبر چترالی بھی دو مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہے مگر اس نے بھی کوئی حاطر خواہ نہیں کیا ۔
    سینیٹر طلحہ محمود لوئر چترال میں موری بالا، کجو، موری، برنس اور دیگر علاقوں میں بھی عوامی اجتماع سے اظہار خیال کیا جہاں ان کا بڑا والہانہ استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر سینیٹر محمد طلحہ محمود نے لوگوں سے کہا کہ اگر ان کے جمیعت علمائے اسلام کے بارے میں کچھ خدشات ہیں یا اس جماعت میں شامل نہیں ہونا چاہتا تو میرے ساتھ الحاق کرے۔

    سینیٹر طلحہ محمود فاؤنڈیشن کے دروازے سب کیلئے ہیں اور آپ لوگ انسانیت کی خدمت اور اپنے علاقے کی ترقی کیلئے میرے ساتھ شامل ہوجائیں تاکہ ہم مل کر چترال کی تعمیر نو کا آغاز کرسکیں۔

    طلحہ محمود نے کہا کہ میں ان روایتی سیاست دانوں کی طرح نہیں ہوں جن میں سےکسی نے آپ سے اسلام کے نام پر ووٹ لیا کسی نے کوئی اور سبز باغ دکھایا مگر یہاں تو مسائلستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پچھلے اٹھارہ سالوں سے سینیٹ کا رکن ہوں مگر میں نے سرکار سے کبھی تنخواہ یا دیگر مراعات نہیں لی۔

    انہوں نے کہا کہ میں اپنے جیب سے محمد طلحہ فاونڈیشن کے ذریعے کروڑوں روپے ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کرتا ہوں تو آپ کا حق کیسے کھا سکتا ہوں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ اگرآپ لوگ چترال کے ساتھ مخلص ہیں تو تمام تر ذات پات، پارٹی، سیاست اور قومیت سے بالاتر ہوکر میرا ہاتھ بٹائیے اور میرے ساتھ شامل ہوکر مجھے بھاری اکثریت سے کامیاب کریں تاکہ اسلام آباد سے اپ کا حق لینے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

    طلحہ محمود نے کہا کہ میرے مخالف امیدواروں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں درخواست دی ہے کہ یہ غریبوں میں امدادی سامان اور پیسے تقسیم کرتا ہے جس کی وجہ سے مجھے نوٹس جاری ہوا ہے۔ جونہی آٹھ فروری کو انتحابات مکمل ہوجائیں امدادی سامان سے بھرے ہوئے ٹرکوں کا قافلہ چترال میں داخل ہو گا۔ ہم سب لوگوں کو تو نہیں مگر اکثریت کے ساتھ مدد کریں گے تاکہ ان کی مشکلات میں کسی قدر کمی آسکے۔

    واضح رہے کہ طلحہ محمود این اے ون چترال سے قومی اسمبلی کیلئے انتخابات لڑرہے ہیں اور ضلع اپر اور لویر چترال کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے عوامی اجتماعات سے خطاب کررہا ہے جس کا ہر جگہ گرم جوشی سے استقبال کیا جاتا ہے اور دیگر سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر کثیر تعداد میں لوگ جوق درجوق اس کے قافلے میں شامل ہوکر شمولیت کا اعلان کررہے ہیں۔

    چترال کے عوام پر امید ہیں کہ ان کی کامیابی پر چترال کی نقسمت بدلے گی اور یہاں بھی ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع ہوگا اورگذشتہ کئی دہائیوں کی محرومیوں کا ازالہ بھی ہوسکے گا۔

  • چترال کے لوگ جاگ چکے،تعمیر و ترقی کے لئے ہمارا ساتھ دیں،طلحہ محمود

    چترال کے لوگ جاگ چکے،تعمیر و ترقی کے لئے ہمارا ساتھ دیں،طلحہ محمود

    چترال :جمعیت علماء اسلام کے این اے ون سے امیدوار سینیٹر طلحہ محمود کی این اے ون میں انتخابی مہم جاری ہے

    سینیٹر محمد طلحہ محمود نے ارندو بارڈر پر کارنر میٹنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سازش کے تحت نوجوانوں کو ورغلایا جارہا ہےاوراپنی افواج سے دور کیا جارہا ہے، یہی جوان ہیں جن کی قربانیوں کی بدولت آج ہم سکون سے زندگی بسر کررہے ہیں ہم ان کی قدر کرنی ہوگی اور دشمن کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا۔نفرتوں کو ہمیں ختم کرنا ہے، ہم نے جڑ کر رہنا ہے، یہ وہ جوان ہیں جنہوں نے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر پاکستان کی حفاظت کی ہے،اپنے خون کا نذرانہ دیا ہے اور آج ہم لوگوں کو ایک ایجنڈے کے تحت علیحدہ علیحدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی، یقین سے کہتا ہوں‌کہ چترال سے اٹھنے والا طوفان تمام سازشیں نیست و نابو د کر دے گا، افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کرنے والوں کو ناکامی ہو گی.چترال میں پچھلے دنوں حملہ ہوا تو پاک فوج نے قربانیاں دیں، انکو گلے سے لگائیں، محبت کریں،آج اگر پاک فوج کے جوان نہ ہوتے تو پاکستان کے ساتھ وہی ہوتا جو اس وقت فلسطین میں غزہ کے ساتھ ہو رہا ہے،

    سینیٹر طلحہ محمود کا مزید کہنا تھا کہ عوام کا سمندر مخالفین کو بہا لے جائے گا، اب بیٹھنے کی بجائے کھڑے رہو اور مقابلہ کرو، میرا نہیں عوام کا مقابلہ کرنا ہے جن کو بجلی،پانی، روٹی، روزگار کچھ نہیں دیا گیا،76 سالوں میں کچھ نہیں ملا،ہمیں چترال کے لوگوں کی خدمت کرنے سے روکا جارہا ہے لیکن میں ان کی گیدڑ بھبھکیوں سے نہیں ڈرنے والا،چترال کے لوگ جاگ چکے ہیں، انہیں ہر طرف ترقی ملے گی، ہمارے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چترال کی تعمیر و ترقی کے لئے ہمارا ساتھ دیں،

    انتخابی مہم کے سلسلے میں جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار برائے قومی اسمبلی محمد طلحہ محمود نے لوئر چترال گرم چشمہ کے مقام پر پاؤور شو کیا ہے، محمد طلحہ محمود کا گرم چشمہ کے مقام پر پہچنے پر پرتپاک طریقے سے استقبال کیا گیا۔ طلحہ محمود نے اپنے خطاب میں کہا اگر میں آپ لوگوں کی ووٹوں کی طاقت سے منتخب ہوا تو یہ مرا آپ سے وعدہ ہے انشاء اللہ آپ کو آپ لوگوں کی بنیادی ضروریات سے محروم نہیں رکھوں گا ۔ یہاں ماضی کے منتخب نمائندے چترال کے لئے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ یہاں زندگی کے کوئی سہولیات میسر نہیں ہے۔ سڑکوں کی حالت زار دیکھ کر مجھے بہت زیادہ افسوس ہوگیا۔ اگر چترال نے مجھے منتخب کیا تو انشاء اللہ آپ کی امنگوں کی صحیح ترجمانی کروں گا۔ چترال کی حق کو اپنی ذات کو لئے استعمال نہیں کروں گا۔ اگر چترال نے مجھے منتخب کیا تو اگلے پانچ سالوں میں چترال میں مثبت تبدیلی نظر آئی گی۔محمد طلحہ محمود نے گرم چشمہ میں والہانہ استقبال کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس انداز میں آپ لوگوں نے مجھے عزت دی ہے۔ جس انداز میں چترال کے طول و عرض مجھے استقبال کر رہے ہیں۔ میں آپ سب کی محبتوں اور چاہتوں کا مقروض ہوں۔ انشاء اللہ تعالیٰ چترال کی ترقی کے لئے دن رات محنت کروں گا۔

    ماضی میں چترال کے عوام کو محتلف بہانوں سے دھوکہ دیکر ان سے ووٹ لیا گیا۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود

    سینیٹر طلحہ محمود کی امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات

    طلحہ محمود اور چیئرمین پی اے سی نور عالم خان کے درمیان نوک جھونک

    این اے ون چترال میں سینیٹر طلحہ محمود کی بھر پور انتخابی مہم جاری

  • چترال، این اے ون کے امیدوار طلحہ محمود کا پی ٹی آئی امیدوار کے آبائی حلقے میں پاور شو

    چترال، این اے ون کے امیدوار طلحہ محمود کا پی ٹی آئی امیدوار کے آبائی حلقے میں پاور شو

    جمعیت علمائے اسلام کے نامزد امیدوار برائے قومی اسمبلی محمد طلحہ محمود نے پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایتی امیدوار برائے قومی اسمبلی عبداللطیف کے آبائی حلقے میں پاور شو کیا ہے،

    لوٹ اویر (فتح اللہ) انتخابی مہم کے سلسلے میں جمعیت علمائے اسلام کے نامزد امیدوار برائے قومی اسمبلی محمد طلحہ محمود ، امیدوار برائے صوبائی اسمبلی حاجی شکیل احمد و دیگر عمائدین نے پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایتی امیدوار برائے قومی اسمبلی عبداللطیف کے آبائی حلقے لوٹ اویر کا کامیاب دورہ کیا ۔ جہاں عمائدین کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام کے دونوں نامزد امیدواروں کا پرتپاک طریقے سے استقبال کیا گیا۔ سینیٹر طلحہ محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران مجھے چترال کو قریب سے دیکھنے کا ملا۔ چترال کو بالخصوص لوٹ اویر کی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ آپ لوگوں کو ماضی کے تمام سیاستدانوں نے نظر انداز کیا گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں سے اس علاقے کو لاوارث رکھا گیا ہے۔ جو کہ قابل افسوس ہے۔ مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ آپ لوگ زندگی کے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں ۔ سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ پینے کے لئے پانی ، علاج کے لئے ہسپتال اور تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی ہیں ۔

    انہوں نے مزید کہا اگر میں آپ لوگوں کی ووٹوں کی طاقت سے منتخب ہوا تو یہ میرا آپ سے وعدہ ہے انشاء اللہ آپ کو آپ لوگوں کی بنیادی ضروریات سے محروم نہیں رکھوں گا ۔ یہاں سڑکوں کی حالت زار دیکھ کر مجھے بہت زیادہ افسوس ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں ہے چترال کے طول و عرض میں ترقیاتی منصوبوں کے جال بچھائے جائیں گے ۔اگر چترال نے مجھے منتخب کیا تو انشاء اللہ آپ کی امنگوں کی صحیح ترجمانی کروں گا۔ چترال کی حق کو اپنی ذات کو لئے استعمال نہیں کروں گا۔ اگر چترال نے مجھے منتخب کیا تو اگلے پانچ سالوں میں چترال میں مثبت تبدیلی نظر آئی گی۔

    محمد طلحہ محمود نے لوٹ اویر میں والہانہ استقبال کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس انداز میں آپ لوگوں نے مجھے عزت دی ہے۔ جس انداز میں چترال کے طول و عرض مجھے استقبال کر رہے ہیں۔ میں آپ سب کی محبتوں اور چاہتوں کا مقروض ہوں۔ انشاء اللہ تعالیٰ چترال کی ترقی کے لئے دن رات محنت کروں گا۔

    ماضی میں چترال کے عوام کو محتلف بہانوں سے دھوکہ دیکر ان سے ووٹ لیا گیا۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود

    سینیٹر طلحہ محمود کی امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات

    طلحہ محمود اور چیئرمین پی اے سی نور عالم خان کے درمیان نوک جھونک

    این اے ون چترال میں سینیٹر طلحہ محمود کی بھر پور انتخابی مہم جاری

    علاوہ ازیں سابق جنرل سیکرٹری انصاف وومن ونگ اپر چترال ، انصاف ویلفیئر ونگ مالاکنڈ سارہ شاہ پیرزادہ اور سابق صدر انصاف وومن ونگ اپر چترال فضیلہ بی بی نے الیکشن 2024 میں سینیٹر محمد طلحہ محمود کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا.

  • چترال، پیپلز پارٹی، ن لیگی ،جماعت اسلامی کے کارکنان کی سینیٹر طلحہ محمود کی حمایت

    چترال، پیپلز پارٹی، ن لیگی ،جماعت اسلامی کے کارکنان کی سینیٹر طلحہ محمود کی حمایت

    حلقہ این اے ون چترال میں سینیٹر طلحہ محمود کی بھر پور انتخابی مہم جاری ہے، طلحہ محمود نے خود چترال میں ڈیرے ڈال لئے اور ڈور ٹو ڈور مہم چلا رہے ہیں، اس دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما انکی حمایت کر رہے ہیں.

    پیپلز پارٹی کے رہنما سرور غازی نے چترال سے سینیٹر طلحہ محمود کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم کئی سالوں سے پیپلز پارٹی میں تھے، ن لیگ بھی یہاں سے جیتی لیکن ہمارے لئے کسی نے کچھ نہ کیا، ہم نے ایک نہر کا مطالبہ تھا جو پورا نہیں ہوا، ہمیں طلحہ محمود سے امید ہے کہ ضرور وہ ہماری خواہش پوری کریں گے، اس موقع پر سینیٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ سرور غازی کا شکر گزار ہوں، انکا پیپلز پارٹی میں اثرو رسوخ رہا ہے، کاموں کے حوالہ سے اپنی پوری کوشش کریں گے، آٹھ فروری کے دن پتہ لگے گا کہ ہماری امیدیں پوری ہوئیں تو چترال میں بہت بہتری آئے گی، حکومتی وسائل کے ساتھ فاؤنڈیشن کو بھی یہاں لائیں گے تا کہ چترال کے شہریوں کی زندگی بدلے

    پی پی پی اپر چترال کے نائب صدر شمس الرحمن لال پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے اور انہوں نے سینیٹر طلحہ محمود کی حمایت کا اعلان کر دیا،

    شاگرام تورکہو اپر چترال: مفتی محمد نصیر الدین نے محمد طلحہ محمود کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ الیکشن کمپیئن میں بھرپور حصہ لینے اور بھاری اکثریت سے جتوانے کیلئے پرعزم ہیں.

    شاگرام تورکہو اپر چترال : ریٹائرڈ آرڈنری کیپٹن عظمت اللہ مسلم لیگ ن سے مستعفی ہو کرجمعیت علماء اسلام میں شامل ہو گئےاور الیکشن میں NA-1 طلحہ محمود کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا اور کہا کہ میرے ن میں آنے سے پہلے بہت کم ووٹ تھے، اسی پچاسی ووٹ ملتے تھے، جب میں نے ن لیگ میں شمولیت اختیار کی تو 460 ووٹ نکلے، اب میں مسلم لیگ ن چھوڑ کر جے یو آئی میں شامل ہو رہا ہوں، آج کے بعد میں ایک معمولی کارکن ہوں اور ہمیشہ ساتھ دوں گا.

    پی ٹی آئی ، جماعت اسلامی کے ارکان مستعفی ہو کر حلقہ این اے ون چترال میں سینیٹر طلحہ محمود کی حمایت کرنے لگے، زنگ لشٹ تورکہو اپر چترال میں وسیع الدین سابق یوتھ کونسلر پی ٹی آئی، موجودہ یوتھ صدر یوسی کھوت، نصیرالدین پی ٹی آئی ابراہیم غازی پی ٹی آئی، سمیع الدین پی ٹی آئی، جنید الرحمٰن، شکیل احمد کسان کونسلر پی ٹی آئی، گلزار غازی پی ٹی آئی، نعیم الرحمٰن پی ٹی آئی ، حاجی حسین پی ٹی آئی، رحمت جلیل جماعت اسلامی، سردار عالم پی ٹی آئی، سمیع الرحمٰن پی ٹی آئی، ضیاء الرحمٰن پی ٹی آئی، معراج پی ٹی آئی کو خیر آباد کہتے ہوئے جے یو آئی میں شامل ہو گئے.

    سینیٹر محمد طلحہ محمود نے انتخابی مہم کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب میں نے چترال کا سفر کیا تو ایسا لگتا تھا کہ یہاں کے لوگ آج بھی پتھر کے دور کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ نہ یہاں بجلی ہے، نہ پینے کا صاف پانی اور نہ ہی اچھی سڑکیں ہیں۔ چترال ایک سیاحتی علاقہ ہے جہاں قدرت نے بہت کچھ تخلیق کیا ہے لیکن بدقسمتی سے ماضی میں یہاں سے منتخب ہونے والے نمائندوں نے اسے نظر انداز کیا ہے،ہم یہاں کی عوام کو سہولیات دیں گے،چترال کے لوگوں سے مجھے محبت ملی، یہ لوگ مہمان نوازی میں مشہور ہیں،کبھی مایوس نہیں کرتے، انکی بڑی روایات ہیں، میں لوگوں کے لئے بلاتفریق انسانیت کی خدمت کرتا رہا ہوں، اگر چترال کے لوگوں نے مجھ پر اعتماد کیا تو چترال کے لوگوں کو پسماندگی سے نکالنے کے لئےبھر پور کوشش کروں گا.

    ماضی میں چترال کے عوام کو محتلف بہانوں سے دھوکہ دیکر ان سے ووٹ لیا گیا۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود

    سینیٹر طلحہ محمود کی امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات

    طلحہ محمود اور چیئرمین پی اے سی نور عالم خان کے درمیان نوک جھونک

  • اقتدار میں آکر چترال کا نقشہ بدل ڈالیں گے۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود

    اقتدار میں آکر چترال کا نقشہ بدل ڈالیں گے۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود

    چترال ،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی)اقتدار میں آکر چترال کا نقشہ بدل ڈالیں گے۔ ماضی میں چترال کے عوام کو محتلف بہانوں سے دھوکہ دیکر ان سے ووٹ لیا گیا۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود
    حکمرانوں اور منتحب نمائندوں کی غفلت کی وجہ سے چترال کے لوگ آج بھی پتھر کے زمانے کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہاں کی سڑکیں انسانوں کی سفر کے قابل نہیں ہیں، لوگ بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ اگر مجھے موقع مل گیا تو چترال کا نقشہ بدل ڈالیں گے۔ ان خیالات کا اظہار این اے ون چترال سے قومی اسمبلی کی نشست کی امید وار سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کی جو جمیعت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر چترال سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔

    تحصیل تورکہو کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے عوامی اجتماعات سے اظہار خیال بھی کیا۔ ویر کوپ، شاہ گرام اور دیگر علاقوں کے لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا، جے یو آئی کے کارکنوں نے شہر سے باہر آکر ان کا استقبال کیا اور انہیں قافلے کی شکل میں جلسہ گاہ تک لے گئیے۔ اس موقع پر ان کے ساتھ صوبائی نشست حلقہ پی کے ون کے امیدوار حاجی شکیل ، سابقہ امیر شیر کریم شاہ اور دیگر کارکن بھی موجود تھے۔

    عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی نشست کیلیے امیدوار سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ جب میں نے چترال کے بالائی علاقوں کا سفر کیا تو یوں لگا کہ یہاں کے لوگ اب بھی پتھر کے زمانے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہاں نہ بجلی ہے ، نہ پینے کاصاف پانی اور نہ بہترین سڑکیں۔ اس سڑک پر چند کلومیٹر کے سفر طے کرنے پرکئی گھنٹے لگتے ہیں اور گاڑی بھی اتنا خراب ہوجاتی ہے کہ اسے پہچاننا مشکل ہوجاتاہے ۔

    انہوں نے کہا کہ چترال ایک سیاحتی علاقہ ہے جہاں قدرت نے بہت کچھ پیدا کیا ہے مگر بد قسمتی سے ماضی میں یہاں سے منتخب نمائندوں کی غفلت کی وجہ سے حکمرانوں نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے نظر انداز کیا۔

    سینٹر طلحہ محمود نے کہا کہ میرا فلاحی ادارہ پہلے سے چترال میں خیر سگالی کے کام کرتا ہے جس میں قدرتی آفات کی صورت میں میں متاثرین کے ساتھ امداد کرنا، مریضوں کا مفت علاج کروانا، فری میڈیکل کیمپ لگانا، غریبوں میں مفت راشن اور ضروری سامان تقسیم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اسی نشست کیلئے دیگر جماعتوں کے امیدواروں نے میرے خلاف الیکشن کمیشن آپ پاکستان کے دفتر میں شکایت کی ہے کہ میں لوگوں کی مدد کرتا ہوں۔ مگر آٹھ فروری کے بعد بھی اگر میں یہ امدادی سرگرمیاں جاری رکھوں تو پھر کہاں درخواست دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر مجھے خدمت کا موقع ملا اور آٹھ فروری کو لوگوں نے مجھے بھاری اکثریت سے کامیاب کیا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کا حق نہیں کھاؤں گا۔

    انہوں نے کہا کہ بعض لوگو مجھ پر تنقید کرتے ہیں کہ میں نے چترال میں اس سے پہلے اسلئے امدادی سامان تقسیم کیا تھا تاکہ میں یہاں سے الیکشن لڑ کر کامیاب ہوجاؤں تو میرا ادارہ افغانستان، فلسطین، سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختون خواہ اور دیگر ممالک میں بھی کام کرتاہے اور مصیبت کےوقت لوگوں کے ساتھ مالی طور پر امداد کرتا ہے وہاں سے میں کونسا الیکشن لڑرہاہوں۔

    سینٹر طلحہ محمود نے کہا کہ حالیہ انتحابات میں کامیابی کے بعد میرا ارادہ ہے کہ یہاں کے خواتین کیلئے دو سو دستکاری مراکز کھولوں اسی طرح یہاں کی سڑکیں، پل اور راستے بناؤں۔ انہوں نے کہا کہ بعض ناقدین لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ کررہے ہیں کہ میں الیکشن میں کامیابی کے بعد غائب ہوجاؤں گا۔ مگر یہاں سے نصرت بھٹو بھی تو کامیاب ہوئی تھی ۔ اب میں چترال سے کہیں نہیں جاؤں گا ،میں نے جغور میں اپنا ذاتی گھر خرید لیا اور یہاں اپنے ویلفیر ٹرسٹ کا دفتر بھی کھول دیا۔

    انہوں نے عوام پر زور دیا کہ آپ لوگ اپنے حقوق کیلئے صحیح اور ایماندار نمائندہ کامیاب کریں تاکہ وہ صرف اسمبلی میں بیٹھ کر تنخواہ نہ لے اور ڈسک بجانے کے علاوہ اور کوئی کام نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آکر چترال کا نقشہ بدل ڈالیں گے۔ طلحہ محمود نے کہا کہ جب میں وزیر حج اور مذہبی امور تھا تو میں نے اربوں روپے حکومتی خزانے سے نکال کر حاجیوں کو واپس کیے جو ان سے زیادہ لیے گئے تھے۔

    اس موقع پر سابق امیر شیر کریم شاہ اور دیگر رہنماؤں نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے ماضی میں منتخب نمائندوں پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ شہزادہ افتحار الدین، مولانا عبدالاکبر چترالی دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتحب ہوئے مگر انہوں نے چترال کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔

    انہوں نے عبد الاکبر چترالی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے پانچ سال اسمبلی میں گزارے اپنی تنخواہ تو لیتا رہا مگر ووٹ لینے کے بعد لوگوں کو اپنا منہ بھی نہیں دکھایا اور اسمبلی ٹوٹنے کے بعد برائے نام افتتاح کرتے ہوئے اپنے نام کے بورڈ لگوائے مگر کام شروع نہ ہونے پر عوام نے ان بورڈوں کو بھی اکھاڑ کر پھینک دیا۔ تاہم جلسہ میں سابقہ ایم پی اے ہدایت الرحمان کو آنے نہیں دیا گیا کیونکہ پانچ سال بطور رکن صوبائی اسمبلی اس کی کارکردگی بھی نہایت مایوس کن تھی اسسلئے اسے جماعت کے اکابرین نے یہاں آنے سے منع کیا۔

    انتحابی مہم کا آخری جلسہ شاہ گرام میں منعقد ہوا جہاں سینیٹر طلحہ محمود نے برملا کہا کہ اگر غریبوں کی مدد کرنا، خواتین کو سلائی کڑہائی مشین دینا، مریضوں کا مفت علاج کرانا، یتیموں کو مفت تعلیم دینا وغیرہ جرم ہے تو میں یہ جرم کرتا رہوں گا اگر کسی میں دم ہے اور مجھے اس کام سے روک سکتے ہیں تو روک لے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دیگر شہروں میں اگر عوام کو تمام بنیادی سہولیات میسر ہیں تو یہاں کیوں نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ لاہور کو بھی چترال کی طرح پسماندہ ہونا چاہیے بلکہ چترال کو بھی لاہور کی طرح ترقی یافتہ ہونا چاہیے جلسہ میں لوگوں نے ان کے حق میں نعرے بھی لگائے اور ان کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اسے ضرور کامیاب کریں گے تاکہ چترال میں بھی ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا جاسکے۔

    جلسہ استاد الحدیث فتح الباری کے دعاییہ کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

  • انتخابی مہم،پیسے دینے کی ویڈیو وائرل،سینیٹر طلحہ محمود کی الیکشن کمیشن طلبی

    انتخابی مہم،پیسے دینے کی ویڈیو وائرل،سینیٹر طلحہ محمود کی الیکشن کمیشن طلبی

    الیکشن کمیشن نےچترال کے حلقہ این اے ون سے امیدوار طلحہٰ محمود کو طلب کرلیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے طلحہ محمود کو طلب کیا گیا ہے، طلحہ محمود کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ووٹر کو نہ‌صرف پیسے دے رہے ہیں بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ نتائج خود چیک کریں گے، طلحہ محمود یہ بھی کہتے ہیں کہ اچھا ریزلٹ چاہئے،ہر جگہ میرا پیغام پہنچائیں، راشن کی تقسیم کا کام شروع ہونے والا ہے،میں خود نتائج چیک کروں‌گا،ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طلحہ محمود ایک شخص کو پیسے دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیگ پکاؤ، سب کو کھانا کھلاؤ، باقی بعد میں ساری چیزیں دیکھتے ہیں.

    الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش نہ ہونےکی صورت میں طلحہٰ محمود کو کارروائی سے خبر دار بھی کردیا گیا ہے۔طلحہ محمود این اے ون سے جے یو آئی کے امیدوار ہیں،

    جمیعت علمائے اسلام کے امیدوار برائے قومی اسمبلی این اے ون چترال سینیٹر طلحہ محمود نے جامعہ ریحان کوٹ میں مدرسے کے طالب علموں اور علمائے کرام کی موجودگی میں اعلان کردیا کہ وہ کوہستان میں الیکشن سے دستبردار ہو کر صرف چترال سے الیکشن لڑیں گے۔ سینیٹر طلحہ محمود الیکشن کمیپن کے سلسلے میں ان دنوں چترال میں موجود ہیں اور چترال لوئر میں بھرپور انداز میں الیکشن کمپین چلا رہے ہیں ۔ چترال لوئر میں اپنے نگرانی میں سال دو ہزار چوبیس کے انتخابات کے حوالے سے رابط مہم کا آغاز کردیا ہے اس کے بعد چترال لوئر سے فارغ ہونے کے فوری بعد اپر چترال کے دورے پر جائیں گے۔

    جامعہ اسلامیہ ریحان کوٹ کے بعد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں منعقدہ پروگرام میں بھی بطور مہمان شرکت کی اور وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چترال میں الیکشن لڑانے کے لیے مدعو کیا گیا ہے اور اب کوہستان کے بجائے چترال سے الیکشن میں حصہ لینگے ۔ آج تک میں نے حکومتی خزانے سے ایک پناڈول تک کی گولی نہیں لیا ہے ہمیشہ دیانت داری سے کام لیا ہے ۔چترال سے کامیابی کے بعد چترال کا نقشہ یکسر مختلف ہوگی یہان حکومتی خزانے سے کام کے علاؤہ طلحہ محمود فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سینکڑوں چھوٹے بڑے پراجیکٹ پر کام کریں گے جس سے چترال میں ترقی کے راہ ہموار ہونگے ۔

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    شیر افضل مروت کی پریس کانفرنس سے لاتعلقی کا اظہار

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

     مروت کی گرفتاری کے بعد الیکشن کمیشن کس منہ سے کہتا ہے لیول پلینگ فیلڈ تحریک انصاف کو دی 

     ایسا ریکارڈ نہیں جس سے شیر افضل مروت کے خلاف کوئی کرپشن چارجز ہوں

  • باغی ٹی وی پر خبر شائع ہونے کے بعد وادی رومبور کی ڈسپنسری کو ادویات کی فراہمی

    باغی ٹی وی پر خبر شائع ہونے کے بعد وادی رومبور کی ڈسپنسری کو ادویات کی فراہمی

    ادویات کی فقدان کی خبر رنگ لے آئی لکشن بی بی کی طرف سے سول ڈسپنسری ہسپتال رومبور کو ادویات فراہم کر دی گئیں۔ غریب عوام کی دعائیں

    چترال ( فتح اللہ) ایک ہفتے پہلے باغی ٹی وی پر سابق ویلچ کونسلر رومبور عنایت اللہ شیخ قریشی کا حوالہ دے کر ایک بیان جاری شائع کیا گیا تھا جس میں وادی رومبور کے سول ڈسپینسری ہسپتال میں ادویات کی فقدان اور دیوار کی تعمیر کے حوالے سے عنایت اللہ شیخ نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ادویات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کوٹے سسٹم میں اضافہ کیا جائے تاکہ وادی رومبور جیسے دور افتادہ علاقے کے عوام بنیادی ادویات فری میں حاصل کر سکیں اور دیوار کو از سر نو تعمیر کیا جائے تاکہ باپردہ خواتین اور ہسپتال کے املاک حفاظتی دیوار کی وجہ سے محفوظ ہو ،باغی ٹی وی پر خبر شائع ہونے کے بعد نمائندہ باغی ٹی وی فتح اللہ سے لکشن بی بی نے رابطہ کیا اور بنیادی ادویات کی فراہمی میں مالی معاونت کا اعلان کیا ۔ جس کے بعد لکشن بی بی کی طرف سے پہلے مرحلے میں بنیادی ادویات فتح اللہ اور عنایت شیخ کی نگرانی میں سول ڈسپنسری ہسپتال کے انچارج کو حوالہ کر دیا گیا ہے ۔

    سابق ویلچ کونسلر و سماجی شخصیت عنایت اللہ شیخ قریشی نے کہا کہ لکشن بی بی کی بروقت ادویات کی فراہمی پر پورے علاقے کے لوگوں کی طرف سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ سات سمندر پار مقیم ہونے کے باوجود اپنے علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہیں ۔ مختلف اوقات میں یہاں کے بنیادی مسئلے اور غریبوں کی زاتی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ لکشن بی بی کی طرف سے سٹوڈنٹس کو ، ضرورت مندوں کو بیماروں کو ہمشہ امداد ملتے رہے ہیں ۔ ماضی میں بھی وادی رومبور کے تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کر چکی ہے اور مزید بھی توقع رکھتے ہیں کہ اس طرح علاقے کی فلاح و بہبود کی کوششیں جاری و ساری رہے تاکہ غریب اور پسماندہ علاقے کے لوگوں کو ریلیف مل سکیں ۔

    وادی رومبور کے سول ڈسپنسری ہسپتال میں ادویات کی فقدان 

    ادویات کی فراہمی پر علاقے کے لوگوں نے لکشن بی بی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سرد موسم میں برفباری کے باعث امدورفت میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے اور سردیوں میں بیماریاں بھی بڑھ جاتی ہیں اور سول ڈسپنسری ہسپتال میں ادویات نہ ہونے کی وجہ سے بنیادی علاج سے محروم ہوتے آئے ہیں ۔اس بار لکشن بی بی نے خصوصی طور ہمدردی کیا ۔ جس پر ہم لکشن بی بی کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے دعا گو ہیں کہ وادی رومبور کے عوام کی درد رکھنے والی بیٹی کو اللہ تعالیٰ اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ان کی اس کارخیر پر جان و مال میں برکت عطا فرمائے ۔ آمین

  • چترال،فنڈز کی کمی،مریضوں‌کی منتقلی ،ایمبولینس میں تیل ڈالنے کیلیے چندہ جمع کیا گیا

    چترال،فنڈز کی کمی،مریضوں‌کی منتقلی ،ایمبولینس میں تیل ڈالنے کیلیے چندہ جمع کیا گیا

    ایمرجنسی سروس کے لیے ایمبولینس میں تیل ڈالنے کے لیے فنڈز ندارد ، لوگ چندہ کرکے سرکاری ایمبولینس میں تیل ڈالنے پر مجبور

    چترال ( فتح اللہ ) گولدور چترال میں آتشزدگی کا ایک دلخراش واقعہ رونما ہوا جس میں گیس سلنڈر پھٹنے سے چھ بچوں سمیت تین خواتین جھلس گئیں ، ڈی ایچ کیو ہسپتال میں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دی گئی تاہم مزید علاج کے لیے انھیں پشاور منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس میں تیل ڈالنا بھی ایک الگ معمہ بن گیا ، موقع پر بتایا گیا کہ صحت کارڈ کی سہولت بند ہونے اور ایمبولینس میں تیل ڈالنے کے لئے فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ادارہ مشکلات کا شکار ہے، جس کے باعث ڈپٹی کمشنر اور موقع پر موجود لوگوں کی طرف سے چندہ کرکے ایمبولینس میں تیل ڈالا گیا۔

    زیر نظر تصویر میں ڈپٹی کمشنر چترال محمد عمران تیل کی کوپن پر دستخط کر رہے ہیں ۔
    chitral

  • وادی رومبور کے سول ڈسپنسری ہسپتال میں ادویات کا فقدان

    وادی رومبور کے سول ڈسپنسری ہسپتال میں ادویات کا فقدان

    وادی رومبور کے سول ڈسپنسری ہسپتال میں ادویات کی فقدان شدید اختیار کر گیا ۔ حفاظتی دیوار بھی موجود نہیں ،

    چترال ( فتح اللہ) وادی رومبور کا شمار سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے یہاں مقامی لوگوں سمیت ہزاروں سیاح سیر و تفریح کیلئے آتے ہیں۔ مگر یہاں صحت کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی سہولت موجود نہیں ہے ۔ وادی رومبور میں صحتِ عامہ کا مسئلہ حل طلب ہے بد قسمتی سے ابھی تک یہان کے سول ڈسپینسری ہسپتال میں سہولیات نہ ہونے کا برابر ہے ۔ جس کے باوجود بھی یہاں کے عملے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں ۔

    عنایت اللہ شیخ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سول ڈسپنسری ہسپتال میں اسٹاف کی جانب سے فراہم کردہ خدمات سے مطمئن ہیں جبکہ یہاں پر ادویات کی کمی اسٹاف اور عوام کے درمیان بدنظمی کا ماحول پیدا کر رہا ہے جس کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لوئر چترال کو چاہیے کہ وادی رومبور کے سول ڈسپنسری ہسپتال کو وافر مقدار میں ادویات فراہم کیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو ، یہ وادی چترال سے کافی دور ہے دور افتادہ ہونے کی وجہ سے یہان سے چترال یا آیون جانے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے جبکہ یہان موسم سرما کی شدت سردی کی وجہ سے نزلہ ،زکام ، گلے میں خرش اور بخار جیسے درجنوں بیماریوں میں اضافہ ہورہاہے ۔ جس پر کوئی بھی غریب عوام چالیس سے پچاس کلومیٹر سفر کرکے علاج نہیں کرسکتے ہیں ۔ لہذا ڈسٹرکٹ انتظامیہ خصوصی طور پر اس پر عملدرآمد کرایے تاکہ ہم بھی آسانی سے علاج کرانے میں کامیاب ہو جائے ۔

    مزید بتایا کہ یہاں ہسپتال کی حفاظتی دیوار بھی بارش کے باعث گر گیا تھا اور عرصہ دراز سے یہان پر بھی کوئی کام نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے یہان آنے والے باپردہ خواتین بھی پریشان ہیں جس کے علاؤہ یہاں کے املاک بھی غیر محفوظ ہیں ۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سے گزارش کرتے ہیں کہ وادی رومبور کے سول ڈسپینسری ہسپتال کے مسائل پر خصوصی توجہ دے کر فوری طور پر حل کیا جائے ۔

  • بزرگ سیاست چھوڑیں، گھر مدرسہ میں بیٹھ کر ملک کیلئے دعا کریں،بلاول نے ہاتھ جوڑ دیئے

    بزرگ سیاست چھوڑیں، گھر مدرسہ میں بیٹھ کر ملک کیلئے دعا کریں،بلاول نے ہاتھ جوڑ دیئے

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین، سابق وزیر خارجہ بلاول زرداری نے چترال میں ورکر کنونش سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں بے نظیر کے مکمل مشن کو مکمل کرنا چاہتا ہوں،پرانے سیاست دان سیاست چھوڑ دیں، انکے فیصلوں سے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے.

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پرانے سیاستدانوں سے جان چھڑوانی ہے، میں اپنے بزرگوں کا احترام کرتا ہوں، ہم پی ٹی آئی کی طرح نہیں ہیں کہ گالی دینا شروع کر دیں، ہم عزت کا خیال کرتے ہیں، پرانے سیاستدانوں سے یہ اعتراض نہیں کہ وہ بزرگ ہیں ،اعتراض یہ ہے کہ وہ یہ سیاست کر رہے ہیں جس سے ملک تباہ ہوا، ستر سال سے یہی ہو رہا، میاں صاحب تیسری بار وزیراعظم بنے تو یہ کہا تھا کہ وہ پرانی سیاست کو چھوڑیں گے اور نئی سیاست لے کر آئیں گے، جب پی ڈی ایم کو حکومت ملی تو وہی پرانی سیاست، ہمارا بزرگوں سے احترام سے مطالبہ ہے کہ پرانا سیاست چھوڑ دیں، گھر بیٹھیں،مدرسہ میں بیٹھیں، ملک کے لئے دعا کریں، اب کام ہم نے کرنا ہے اور کر کے دکھائیں گے، نواز شریف کو جب وزیراعلیٰ پنجاب بنایا گیا تو عمر کیا تھی؟ مولانا فضل الرحمان نے جب سیاست شروع کی تو عمر کیا تھی، بینظیر جب مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنی تو سب سے نوجوان وزیراعظم بنیں، اور اب پاکستان کا ستر فیصد جوان ہے، انکو نظر آ رہا ہے کہ پرانا سیاستدان، ایک دو الیکشن جنہوں نے لڑنا وہ کتنا کام کر سکتے، فیصلے آج کی سوچ کے ہوتے ہیں کل کے لئے نہیں، ان فیصلوں‌کا بوجھ نوجوانوں کو اٹھانا پڑے گا،عمران خان کی حکومت ٹک ٹاکر کی تھی، نوازشریف کی حکومت اشرافیہ کی ہو گی

    https://twitter.com/NasirKashmiri07/status/1727267827839553887

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو قسمت اپنی ہاتھ میں لینی ہو گی، الیکشن ہونے جا رہے ہیں، ایسی جماعت کو کامیاب کروائیں جس کی تاریخ یہ ہے کہ جب بھی پی پی کی حکومت بنی تو پسماندہ علاقوں کی حکومت بنی،میں چاہتا ہوں اس ملک میں عوامی راج قائم کروں،میں سب کا شکر گزار ہوں کہ وفاداری کی آج چترال میں مثال قائم کی ہے، ہم ایک بار پھر چترا ل کی تین سیٹیں جیتیں گے اور ثابت کریں گے کہ چترال کے لوگ وفادا ر ہیں کل بھی بھٹو شہید کے ساتھ تھے اور آج بھی بھٹو شہید کے ساتھ ہیں، میرا آپ سے وعدہ ہے کہ قائد عوام اور بینظیر کے مکمل مشن کو میں اور آپ ملکر مکمل کریں گے، میرا وعدہ ہے سابق فاٹا کو پاکستان میں ٹیکس فری زون بنائیں گے تا کہ یہاں ترقی ہو اور میں افغانستان کو دکھاؤں کہ ہم فخر کرتے ہیں کہ کس طرح فاٹا کے لوگوں کے لئے کام کیا.میں صرف نعروں، وعدوں پر الیکشن نہیں لڑ رہا،چترال کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہم اسکو ختم کریں گے.یہاں کے لوگوں نے نعرہ مشہور کرایا تھابے نظیر آئے گی روز گار لائے گی،بلاول نے اپنا زمین اپنا مکان پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت میں آئے تو لوگوں کو گھر بنا کر دیں گے، کچی آبادیوں والوں کو مالکانہ حقوق دلواؤں گا.مجھے وفاق میں حکومت کی ضرورت ہے لیکن خیبر پختونخوا میں مجھے جیالا وزیراعلیٰ چاہیے، صوبائی حکومت چاہئے، اسکے لئے ڈبل محنت کرنی ہو گی، بار بار آنا پڑے گا تو آئیں گے، پختونخواہ کا حق ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے مطابق حق ملنے چاہئے.میں یہ حق دلواؤں گا.

    کسی کو چوتھی بار وزیراعظم بنانے کے بجائے ہمیں موقع دیں،بلاول

    کیا شہباز شریف اور انکے ساتھی 16 ماہ کی کارکردگی پر الیکشن لڑ سکتے ہیں؟بلاول

    طعنوں کی سیاست سے پرہیز کرنا چاہئے، احسن اقبال کا بلاول کو مشورہ

    ایک الیکشن میں انکو کچھ تکلیف ہے تو ویلکم ٹو دی کلب

    اگر اس بار الیکشن کی بجائے سلیکشن ہُوا تو عوام نقصان اٹھائیں گے، بلاول