Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • اوکاڑہ: غیر قانونی ایل پی جی شاپس کے خلاف کریک ڈاؤن، 30 دکانیں سیل

    اوکاڑہ: غیر قانونی ایل پی جی شاپس کے خلاف کریک ڈاؤن، 30 دکانیں سیل

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی،نامہ نگارملک ظفر) محکمہ سول ڈیفنس نے ضلع بھر میں غیر قانونی ایل پی جی شاپس کے خلاف اب تک کی ریکارڈ کارروائیاں کرتے ہوئے 30 دکانیں سیل کر دیں اور مالکان کے خلاف مقدمات درج کروا کر گیس بھرائی کا سامان ضبط کر لیا ہے۔

    سول ڈیفنس آفیسر جاوید اختر کھچی کی زیر نگرانی اہلکاروں نے ضلع کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی ایل پی جی ری فلنگ کرنے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا، جس کے دوران حفاظتی انتظامات کے بغیر کام کرنے والی دکانوں کو موقع پر بند کر دیا گیا۔

    اس موقع پر سول ڈیفنس آفیسر جاوید اختر کھچی کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کے ساتھ ہرگز کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی کیونکہ رہائشی علاقوں میں سلنڈر ری فلنگ شاپس کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عوامی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے غیر قانونی ایل پی جی شاپس کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ بلاامتیاز جاری رہے گا اور گیس کی غیر قانونی بھرائی کرنے والے افراد کو عوام کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • 
کورنگی عوامی کالونی میں دن دہاڑے جیولرز مارکیٹ پر ڈکیتی، متعدد دکانیں لٹ گئیں

    
کورنگی عوامی کالونی میں دن دہاڑے جیولرز مارکیٹ پر ڈکیتی، متعدد دکانیں لٹ گئیں

    
کراچی کے علاقے کورنگی عوامی کالونی میں دن دہاڑے مبینہ ڈکیتی کی بڑی واردات سامنے آئی ہے، جہاں آٹھ سے زائد ملزمان جیولرز کی کئی دکانیں لوٹ کر فرار ہو گئے۔
    رپورٹ کے مطابق ملزمان نے جیولرز مارکیٹ کے چوکیدار کو یرغمال بنا کر واردات کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے چار دکانوں کے تالے کاٹ کر وہاں موجود سونا اور نقدی لوٹ لی۔
    ‎واقعے کے بعد پولیس نے دکانوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر لی ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

  • ننکانہ:ناقص دودھ اور ملاوٹی چائے  کی پتی پر گول چکر میں فوڈ اتھارٹی نے معروف ہوٹل سیل کردیا

    ننکانہ:ناقص دودھ اور ملاوٹی چائے کی پتی پر گول چکر میں فوڈ اتھارٹی نے معروف ہوٹل سیل کردیا

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی/نامہ نگار احسان اللہ ایاز)پنجاب فوڈ اتھارٹی ننکانہ صاحب نے گول چکر کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے دودھ اور چائے پتی کے سیمپلز فیل ہونے پر ایک معروف چائے ہوٹل کو سیل کر کے مقدمہ درج کروا دیا۔

    فوڈ اتھارٹی ترجمان کے مطابق موقع سے حاصل کیے گئے دودھ اور چائے پتی کے نمونے لیبارٹری رپورٹ میں فیل قرار پائے۔ چائے کی تیاری میں استعمال ہونے والے دودھ میں پانی کی ملاوٹ اور فیٹ کی کمی پائی گئی، جب کہ چائے پتی کے سیمپل میں ممنوعہ رنگ کی ملاوٹ ثابت ہوئی، جس پر ہوٹل کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ فوڈ فراڈ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں اور عوام کو محفوظ و معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔

  • ترکیہ میں مسافر بس خوفناک حادثے کا شکار،9 افراد ہلاک 26 زخمی

    ترکیہ میں مسافر بس خوفناک حادثے کا شکار،9 افراد ہلاک 26 زخمی

    ترکیہ کے سیاحتی شہر انطالیہ میں ایک مسافر بس خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں 9 افراد موقع پر ہی ہلاک جبکہ 26 افراد زخمی ہو گئے –

    ترک حکام کے مطابق حادثہ شدید بارش کے دوران تیز رفتاری کے باعث پیش آیا مسافر بس توازن برقرار نہ رکھ سکی اور بے قابو ہو کر سڑک سے نیچے گہری کھائی میں جا گری حادثے کے وقت بس میں مجموعی طور پر 34 مسافر سوار تھے۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور امدادی ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے، جنہوں نے ہلاک افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ ابتدائی شواہد کے مطابق بارش کے باعث پھسلن اور تیز رفتاری حادثے کی بنیادی وجہ قرار دی جا رہی ہےحادثے کے بعد علاقے میں کچھ دیر کے لیے ٹریفک معطل رہی، جسے بعد ازاں بحال کر دیا گیا۔ حکام نے ڈرائیوروں کو خراب موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

  • ٹھٹھہ میں باپ کا افسوسناک اقدام، بیوی اور بچوں پر حملہ

    ٹھٹھہ میں باپ کا افسوسناک اقدام، بیوی اور بچوں پر حملہ

    
سندھ کے شہر ٹھٹھہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص نے اپنی بیوی اور چھ بچوں پر تیز دھار آلے سے حملہ کیا اور بعد ازاں خود کو گولی مار لی۔
    پولیس حکام کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والی خاتون اور دو بچے اسپتال پہنچ کر دم توڑ گئے، جبکہ چار بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
    ‎ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم نشے کا عادی تھا اور پیسے نہ ملنے پر طیش میں آ کر اس نے اہلِ خانہ پر حملہ کیا۔ پولیس نے واقعے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • بسنت سے قبل ہی پتنگ بازی،ڈور پھرنے سے دو افراد زخمی

    بسنت سے قبل ہی پتنگ بازی،ڈور پھرنے سے دو افراد زخمی

    لاہور میں بسنت سے قبل ہی پتنگ بازی شروع،لاہور میں گزشتہ روز موٹرسائیکل سواروں پر ڈور پھرنے کے 2 واقعات سامنے آئے،ویلنشیا ٹاؤن میں 10 سالہ بچے کے گلے پر ڈور پھرگئی،فیروزپور روڈ پر گجومتہ کے قریب گلے پر ڈور پھرنے سے نوجوان زخمی ہو گیا ،20سالہ فیصل منظور موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا،متاثرہ نوجوان طبی امداد کیلئے جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا جسے طبی امداد دی گئی ۔خوش قسمتی سے نوجوان کی حالت خطرے سے ہے۔

    ویلنشیاء ٹاؤن،10 سالہ بچے کے گلے پر ڈور پھرنے کا معاملہ،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نےسخت نوٹس لے لیا،مصطفی آفندی کو ویلنشیاء ٹاؤن میں پتنگ ڈور سے کٹ لگا،ڈور پھرنے کا واقعہ گزشہ شام 5 بجے کے قریب پیش آیا، زخمی نوجوان کو فوری ہسپتال منتقل کیا گیا،حالت خطرے سے باہر، طبی امداد کے بعد شام کو ہی ڈسچارج کر دیا گیا،ڈی آئی جی آپریشنز نےسیف سٹی کیمروں کی مدد سے پتنگ بازوں کی نشاندہی کا حکم دے دیا،ڈی آئی جی آپریشنز نےذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا حکم دے دیا، شہر بھر میں غیر قانونی پتنگ بازی کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مقررہ تاریخوں کے علاوہ پتنگ بازی مکمل ممنوع ہے. صرف مقررہ تواریخ میں ہی پتنگ بازی کی اجازت ہو گی.پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی جان لیوا جرم، زیروٹالرنس پالیسی ہے، پابندی پر عملدرآمد نہ کروانے والے افسران بھی جوابدہ ہوں گے،

  • گھوٹکی بائی پاس ، گنے سے لوڈ کھڑی ٹرالیوں کی وجہ سے بند، شدید ٹریفک جام معمول بن گیا

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی بائی پاس پر گنے سے بھری ٹرالیاں کھڑی کیے جانے کے باعث سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی، جس کے نتیجے میں شدید ٹریفک جام پیدا ہو گیا۔ ٹریفک کی طویل بندش کے باعث متعدد ایمرجنسی مریض بروقت اسپتال نہ پہنچ سکے، جبکہ بعض مریض راستے میں ہی دم توڑ گئے، جس پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق بائی پاس پر ٹرالیاں کھڑی ہونے کے بعد دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، ایمبولینسز بھی ٹریفک میں پھنس کر رہ گئیں، جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور موٹر وے پولیس کی جانب سے بروقت کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

    واضح رہے کہ گھوٹکی بائی پاس ضلع کا سب سے زیادہ مصروف اور حساس ایمرجنسی روٹ تصور کیا جاتا ہے، جہاں لطیف میڈیکل سینٹر، انڈس اسپتال، سٹی میڈیکل سینٹر اور عمران میڈیکل سینٹر سمیت متعدد اہم طبی ادارے قائم ہیں۔ یہ بائی پاس شہر کا مرکزی داخلی راستہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ ہزاروں شہریوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔

    واقعے کے بعد ضلع گھوٹکی کے عوام نے انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے اور بائی پاس کھلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید قیمتی انسانی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ مجبوری کے تحت شہریوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ وقتی طور پر متبادل راستے اختیار کریں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بائی پاس کھلوانا ضلعی انتظامیہ کے دائرہ اختیار سے باہر دکھائی دے رہا ہے، جو ایک سنگین انتظامی ناکامی ہے۔

  • عباسیہ کینال یا موت کی نہر؟ انتظامی غفلت نے چولستانی باسیوں کی زندگی داؤ پر لگا دی

    عباسیہ کینال یا موت کی نہر؟ انتظامی غفلت نے چولستانی باسیوں کی زندگی داؤ پر لگا دی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف سے گزرنے والی عباسیہ کینال اس وقت ریاستی غفلت اور انتظامی نااہلی کی جیتی جاگتی تصویر بن چکی ہے، جہاں صاف پانی کے بجائے سیوریج کا گندہ نالہ بہہ رہا ہے۔ چولستانی علاقوں کے لیے زندگی کی واحد امید سمجھی جانے والی یہ نہر اب انسانی فضلہ، جانوروں کے گوبر اور زہریلے مادّوں کا ڈھیر بن چکی ہے، جو ہزاروں انسانوں کو خاموش موت کی طرف دھکیل رہی ہے۔ مختلف مقامات پر گھروں اور غیر قانونی آبادیوں کے سیوریج پائپ براہِ راست نہر میں ڈال دیے گئے ہیں، جبکہ جانوروں کے باڑوں کی غلاظت بھی بلا روک ٹوک اسی پانی میں شامل ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں نہر کا پانی سیاہ اور تعفن زدہ ہو چکا ہے۔

    عینی شاہدین اور طبی ماہرین کے مطابق اس آلودہ پانی کے استعمال سے علاقے میں ہیضہ، یرقان، ٹائیفائیڈ اور آنکھوں کے انفیکشن جیسی مہلک بیماریاں وبائی صورت اختیار کر چکی ہیں، جن سے سب سے زیادہ معصوم بچے اور خواتین متاثر ہو رہی ہیں۔ انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ اس سنگین انسانی بحران کے باوجود محکمہ صحت، محکمہ آبپاشی اور محکمہ ماحولیات مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر بری الذمہ ہو رہی ہے، جبکہ تاحال نہ تو غیر قانونی پائپ کاٹے گئے اور نہ ہی نہر کی صفائی کا کوئی بندوبست کیا گیا ہے۔

    سماجی و عوامی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال کسی بڑے انسانی سانحے کو جنم دے سکتی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری اور چیف جسٹس ہائی کورٹ سے فوری ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چولستان کے مجبور باسیوں کو صاف پانی کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ شہریوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر سیوریج کے آؤٹ لیٹس بند نہ کیے گئے تو وہ سڑکوں پر نکلنے، دھرنے دینے اور قانونی چارہ جوئی کرنے پر مجبور ہوں گے، کیونکہ اب یہ مسئلہ محض سہولت کا نہیں بلکہ بقا کا سوال بن چکا ہے۔

  • 
ایبٹ آباد: اسکول میں گیس لیکیج، 17 طالبات بے ہوش

    
ایبٹ آباد: اسکول میں گیس لیکیج، 17 طالبات بے ہوش

    
ایبٹ آباد میں پبلک ہیلتھ اسکول میں گیس لیکیج کے باعث 17 طالبات بے ہوش ہو گئیں، جن میں سے 5 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد تمام متاثرہ طالبات کو فوری طور پر ایوب ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
    اسپتال ذرائع کے مطابق ایک طالبہ کو میڈیکل آئی سی یو میں داخل کیا گیا ہے، دو طالبات سی سی یو، ایک میڈیکل وارڈ سی جبکہ دیگر طالبات کو ایمرجنسی آبزرویشن میں رکھا گیا ہے۔
    ‎اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قریبی گلی میں گیس لیکیج ہوئی، جس کے باعث گیس کلاس روم میں بھر گئی اور طالبات کی طبیعت بگڑ گئی۔
    ‎واقعے کے بعد اسکول میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • لاہور مین ہول حادثہ: مریم نواز سخت برہم، غم و غصے کا اظہار

    لاہور مین ہول حادثہ: مریم نواز سخت برہم، غم و غصے کا اظہار

    
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں مین ہول واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتی کہ میرے دل پر کیا گزری۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں انسان کی بھی جان کی قیمت نہیں ہے، جانور کی تو بات ہی چھوڑ دیں، ہر سطح پر مجرمانہ غفلت ہوئی اور میں سمیت سب جوابدہ ہیں۔
    مریم نواز کی زیرصدارت لاہور مین ہول واقعے پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کے کام عوام کی بہتری اور سہولت کے لیے کیے جاتے ہیں، لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کسی کو پرواہ نہیں تھی کہ مین ہول کھلا ہوا ہے، داتا دربار جیسی رش والی جگہ پر یہ غفلت ناقابل قبول ہے۔
    ‎انہوں نے سوال اٹھایا کہ اسسٹنٹ کمشنر کس چیز کے ذمہ دار ہیں اور مین ہول کھلا کیوں رہ گیا۔ کمشنر لاہور اور ایل ڈی اے لاہور دونوں ہی اس میں قصوروار ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ٹریفک پولیس کو بھی معلوم نہیں تھا کہ پارکنگ کے پیسے لیے جا رہے ہیں، اور لوگوں کے لیے جگہ محفوظ نہیں بنائی گئی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی تمام میٹنگوں میں واضح ہدایت ہے کہ کوئی مین ہول کھلا نہ رہے۔ جو لوگ مین ہول کھلا چھوڑتے ہیں، کیا ان کے اپنے گھر میں بچے نہیں؟
    ‎مریم نواز نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لڑکی کی فیملی کو چور بنا کر تھانے میں لے جانا بھی ناقابل قبول ہے۔ سیف سٹی کیمروں اور سی سی ٹی وی کی مدد سے حقیقت دیکھنے میں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے۔
    ‎انہوں نے زور دیا کہ معاملے کا رخ بدلنے کی کوشش کی گئی، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، لیکن میں نے سیف سٹی کے اہلکار کو فون کیا تو اس نے کہا شاید کوئی مین ہول میں گرا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اس واقعے کے تمام ذمہ دار خود بھی جوابدہ ہیں۔