Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • بیوہ خواتین کی امدادی رقم لوٹنے والا خطرناک گینگ بے نقاب سرغنہ گرفتار

    بیوہ خواتین کی امدادی رقم لوٹنے والا خطرناک گینگ بے نقاب سرغنہ گرفتار

    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ایک بار پھر اپنی برتری ثابت کر دی۔ اے ایس پی سید دانیال حسن کی زیرِ نگرانی اور ایس ایچ او تھانہ گوجرخان مرزا طیب ظہیر بیگ کی قیادت میں پولیس ٹیم نے سرور شہید کالج کے قریب بینظیر انکم سپورٹ آفس کے باہر دن دیہاڑے ہونے والی سنگین ڈکیتی کی واردات کی گھتیاں سلجھا دیں۔ اے ایس آئی ثاقب اور ان کی ٹیم نے جدید سائنٹیفک ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت کا استعمال کرتے ہوئے محض چند روز میں اصل ملزمان کا گھیرا تنگ کیا اور شرقی علاقے کمانیدریال سے حیدر نامی ملزم کو دبوچ لیا۔

    دورانِ تفتیش گرفتار ملزم حیدر نے ہوشربا سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں، جس کے بعد اس کے ہمراہی ساتھیوں اویس اور دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے پولیس نے جال بچھا دیا ہے۔ ایس ایچ او مرزا طیب ظہیر بیگ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ملزم کے انکشافات کی روشنی میں مزید سنسنی خیز گرفتاریاں متوقع ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرفتار ملزم اور اس کے ساتھی ضلعی سطح پر سنگین جرائم میں ریکارڈ یافتہ ہیں اور ضلع راولپنڈی کے متعدد تھانوں میں ان کے خلاف مقدمات درج ہیں۔ بیوہ اور بے سہارا خواتین کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والے اس گروہ کی گرفتاری پر عوامی سماجی حلقوں نے اے ایس پی سید دانیال حسن اور ایس ایچ او مرزا طیب ظہیر بیگ اور ٹیم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان درندہ صفت عناصر کو نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی کو ایسی جسارت کی ہمت نہ ہو سکے۔ ملزم کو شناخت پریڈ کے لیے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ لوٹی گئی رقم کی برآمدگی کے لیے تحرک جاری ہے۔

  • تم کالے ہو،بیوی نے عاشق کے ساتھ ملکر شوہر کی جان لے لی

    تم کالے ہو،بیوی نے عاشق کے ساتھ ملکر شوہر کی جان لے لی

    بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک تاجر کے قتل کا معاملہ ڈرامائی موڑ اختیار کر گیا، جہاں ابتدائی طور پر ڈکیتی قرار دی جانے والی واردات درحقیقت گھریلو سازش نکلی۔ پولیس نے مقتول کی بیوی اور اس کے مبینہ عاشق کو گرفتار کر لیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 28 سالہ دیوکرشن پروہت کو 7 اپریل کی رات ان کے گھر میں تیز دھار ہتھیار سے قتل کیا گیا۔ واقعے کے فوراً بعد مقتول کی اہلیہ پریانکا پروہت نے پولیس کو بیان دیا کہ نامعلوم افراد گھر میں داخل ہوئے، ساڑھے 3 لاکھ روپے کے زیورات لوٹے اور مزاحمت پر اس کے شوہر کو قتل کر دیا،تاہم پولیس کو ابتدائی تفتیش کے دوران ہی بیان میں تضادات محسوس ہوئے۔ گھر کی تلاشی کے دوران وہی زیورات برآمد ہو گئے جنہیں مبینہ طور پر لوٹا گیا تھا، جبکہ موبائل فون کے ریکارڈ نے پریانکا پروہت اور کملیش پروہت کے درمیان قریبی رابطوں کا انکشاف کیا۔پولیس کے مطابق پریانکا اپنے مبینہ عاشق کملیش پروہت کے ساتھ مل کر شوہر کو راستے سے ہٹانا چاہتی تھی۔ اس مقصد کے لیے سریندر بھاٹی نامی شخص کو ایک لاکھ روپے کے عوض قتل کی ذمہ داری سونپی گئی۔

    تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ واردات کی رات گھر کا دروازہ جان بوجھ کر کھلا چھوڑا گیا تاکہ ملزم آسانی سے اندر داخل ہو سکے۔ بعد ازاں کمرے کو الٹ پلٹ کر ڈکیتی کا تاثر دیا گیا جبکہ پریانکا نے خود کو بھی متاثرہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔مسلسل تفتیش کے بعد پریانکا پروہت نے اپنے شوہر کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا۔ پولیس نے پریانکا اور کملیش کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مرکزی ملزم سریندر بھاٹی تاحال مفرور ہے، جس کی تلاش جاری ہے۔دوسری جانب مقتول کے اہلِ خانہ نے انکشاف کیا ہے کہ پریانکا اکثر اپنے شوہر کو رنگت کے حوالے سے تضحیک کا نشانہ بناتی تھی اور اسے نازیبا القابات سے مخاطب کرتی تھی، جو کہ گھریلو تنازعات کی ایک ممکنہ وجہ بھی ہو سکتی ہے۔پولیس حکام کے مطابق مزید تفتیش جاری ہے اور مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • میرپورخاص،طالبہ کی خود کشی،کالج پرنسپل، ان کی اہلیہ سمیت 5 افراد کیخلاف مقدمہ درج

    میرپورخاص،طالبہ کی خود کشی،کالج پرنسپل، ان کی اہلیہ سمیت 5 افراد کیخلاف مقدمہ درج

    میرپورخاص میں میڈیکل طالبہ کی پُراسرار خودکشی کے واقعے میں اہم پیشرفت ہوگئی۔ کالج پرنسپل، ان کی اہلیہ سمیت 5 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    میرپور خاص میں میڈیکل طالبہ کی پراسرار خودکشی کے مقدمے میں کالج پرنسپل تنویر عالم، ان کی اہلیہ پروفیسر فرزانہ سمیت 5 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، جس میں ہراسانی اور خودکشی پر مجبور کرنے کی دفعات شامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں فارمیسی لیکچرر عابد لغاری اور 2 طالب علم بھی نامزد کیے گئے ہیں، مقدمہ متوفیہ طالبہ کے ماموں کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ لیکچرر اور 2 طالب علم طالبہ کو بلیک میل کرتے تھے، معاملے پر کالج پرنسپل اور ان کی پروفیسر اہلیہ سے کئی بار شکایت کی گئی، تاہم انہوں نے کارروائی کے بجائے طالبہ پر شکایت واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالا۔متن کے مطابق پرنسپل اور ان کی پروفیسر اہلیہ نے شکایت واپس نہ لینے پر طالبہ کا داخلہ رد کرنے کی دھمکی دی اور ہراساں کیا۔

  • شالیمار ایکسپریس شہدادپور کے قریب حادثے کا شکار، کوئی جانی نقصان نہیں

    شالیمار ایکسپریس شہدادپور کے قریب حادثے کا شکار، کوئی جانی نقصان نہیں

    ‎کراچی سے لاہور جانے والی شالیمار ایکسپریس کو شہدادپور کے قریب حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ٹرین کی تین بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ اس واقعے نے مسافروں میں خوف و ہراس پھیلا دیا تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
    ‎ریلوے حکام کے مطابق حادثے میں وی وی آئی پی کچن لاؤنج، ایک اے سی بزنس کلاس اور ایک اے سی اسٹینڈرڈ بوگی شامل ہیں جو پٹری سے اتر گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین میں موجود مسافروں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
    ‎حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور صورتحال کو قابو میں لے لیا گیا۔ ریلوے حکام کے مطابق متاثرہ بوگیوں کو ہٹانے اور ریلوے ٹریک کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ ٹرینوں کی آمدورفت جلد بحال کی جا سکے۔
    ‎ابتدائی رپورٹس کے مطابق حادثے کی وجوہات ابھی سامنے نہیں آ سکیں، تاہم ریلوے انتظامیہ نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹریک کی حالت، رفتار یا تکنیکی خرابی جیسے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ لیا جائے گا۔
    ‎حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے جائیں گے۔

  • تارکین وطن کی  ایک اورکشتی ڈوب گئی، 6 پاکستانی لاپتہ

    تارکین وطن کی ایک اورکشتی ڈوب گئی، 6 پاکستانی لاپتہ

    لیبیا سے اٹلی جانے کی کوشش میں تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں صوبہ پنجاب کی تحصیل پھالیہ سے تعلق رکھنے والے 6 نوجوان لاپتہ ہو گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ کشتی 4 اپریل کو لیبیا سے روانہ ہوئی تھی جس میں مجموعی طور پر 105 افراد سوار تھے لاپتہ ہونے والے 6 نوجوانوں میں سے چار کا تعلق ایک ہی گاؤں ٹھٹہ کدھیوالہ سے ہے جن میں طیب عباس گھمن، عرفان ورک، تنویر صادق اور فیضان ساجد شامل ہیں ان کے علاوہ پنڈی لالہ کے رہا ئشی اقبال ارشد اور سعد ظفر بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

    ان نوجوانوں کے والدین اور اہل خانہ اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں اور انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ان کی تلاش اور واپسی کے لیے فوری طور پر سفارتی سطح پر اقدامات کیے جائیں اس حادثے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 30 افراد اپنی جانیں بچا کر اٹلی کے پناہ گزین کیمپ پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں جن میں زیادہ تر افغان باشندے بتائے جاتے ہیں۔

    ان بچ جانے والوں میں پھالیہ کا ایک نوجوان عمران اصغر گھمن بھی شامل ہے جس نے پہلے پاکستان سے قطر کا ویزا لگوایا اور پھر وہاں سے غیر قانونی راستے کے ذریعے اٹلی کے لیے روانہ ہوا ،تاہم 75 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سمندر میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پورے واقعے کے پیچھے مبینہ طور پر ایک انسانی اسمگلر ملوث ہے جس کا نام عمران بتایا جا رہا ہے اور وہ خود بھی پھالیہ کے گاؤں کدھیوالہ کا ہی رہائشی ہےمتاثرہ خاندانوں نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں تاکہ لاپتہ نوجوانوں کے بارے میں درست معلومات حاصل کی جا سکیں۔

  • ٹیوب ویل سے پانی لینے کیلئے جانے والی 6سالہ بچی کے ساتھ زیادتی

    ٹیوب ویل سے پانی لینے کیلئے جانے والی 6سالہ بچی کے ساتھ زیادتی

    لکی مروت میں پانی لینے کے لیے ٹیوب ویل جانے والی 6 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

    پولیس کے مطابق معصوم بچی کے ساتھ ٹیوب ویل آپریٹر کے بیٹے نے زنا بالجبر کیا اور زنا کے بعد ملزم بچی کو خون میں لت پت چھوڑ کر فرار ہوگیا والدین نے بچی کو علاج معالجے کے لیے گورنمنٹ سٹی اسپتال لکی شہر منتقل کیا جہاں طبی معائنے کے دوران لیڈی ڈاکٹر نے معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کی،تھانہ لکی سٹی نے مقدمہ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کر دی

    واضح رہے کہ دو دن پہلے اسی تھانے کی حدود میں تین سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا، دو روز قبل لاپتا ہونے والی بچی کی لاش جھاڑیوں سے ملی، پوسٹ مارٹم میں بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوئی ،پولیس کے مطابق نامعلوم ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔

  • طالبات کو ہراساں کرنے کی کوشش، انکار پر ملزم  آپے سے باہر،فائرنگ

    طالبات کو ہراساں کرنے کی کوشش، انکار پر ملزم آپے سے باہر،فائرنگ

    گوجرخان (قمرشہزاد) گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ڈھونگ کے باہر میٹرک کا امتحان دے کر نکلنے والی طالبات پر فائرنگ کے ہولناک واقعے سے علاقہ مکینوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ زرائع کے مطابق گاؤں کے ایک اوباش نوجوان مزمل حسین عرف جگا نے امتحان سے فارغ ہو کر گھر جانے والی طالبات کا راستہ روک کر انہیں ہراساں کرنے اور بات کرنے کی کوشش کی۔

    طالبات کی جانب سے سخت ردعمل اور ڈانٹ ڈپٹ پر ملزم مشتعل ہو گیا اور 30 بور پستول نکال کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں امتحانی مرکز کے باہر بھگدڑ مچ گئی اور طالبات جان بچانے کے لیے چیخ و پکار کرتی ادھر ادھر بھاگنے لگیں۔ اسی اثنا میں سکول کے ملازم ناصر حسین نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا اور اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مسلح ملزم پر جھپٹ پڑا۔ ملزم نے ناصر حسین پر بھی فائرنگ کی کوشش کی تاہم ناصر حسین نے ہمت نہ ہاری اور جان جوکھوں میں ڈال کر ملزم کو قابو کر کے اس سے اسلحہ چھین لیا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ جاتلی پولیس کی نفری فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور ملزم مزمل حسین ولد محمد اسلم کو اسلحہ سمیت اپنی تحویل میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا۔ خوش قسمتی سے واقعے میں تمام طالبات محفوظ رہیں، تاہم امتحانی مرکز پر ناقص سکیورٹی انتظامات نے والدین اور اہل علاقہ میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ عوامی حلقوں نے ناصر حسین کی جرات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

  • بیٹے کی خواہش،سفاک باپ نے جڑواں بیٹیوں کو کنویں میں پھینک کر لی جان

    بیٹے کی خواہش،سفاک باپ نے جڑواں بیٹیوں کو کنویں میں پھینک کر لی جان

    بھارت کی ریاست تلنگانہ کے ضلع کریمنگر کے گاؤں جوبلی نگر میں انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک باپ نے مبینہ طور پر اپنے ہی چار سالہ جڑواں بیٹیوں کو صرف اس لیے قتل کر دیا کہ وہ بیٹے کا خواہاں تھا۔

    پولیس کے مطابق 28 سالہ سری سیلم نے اپنے والد اشوک، والدہ لاوانیا اور چھوٹے بھائی راکیش کے ساتھ مل کر اس دل دہلا دینے والے جرم کی منصوبہ بندی کی۔ اے نرنجن ریڈی، جو کہ رورل سرکل انسپکٹر ہیں، نے بتایا کہ ملزم شروع سے ہی بیٹیوں کو بوجھ سمجھتا تھا اور بیٹے کی خواہش رکھتا تھا۔انہوں نے کہا کہ جب ملزم کی بیوی مونیکا حاملہ تھی اور معلوم ہوا کہ جڑواں بیٹیاں پیدا ہوں گی تو اس نے اسقاط حمل کے لیے دباؤ ڈالا، تاہم بیوی نے انکار کر دیا۔ 2022 میں بیٹیوں کی پیدائش کے بعد بھی ملزم نے نہ صرف انہیں قبول کرنے سے انکار کیا بلکہ ہسپتال میں ان کے قریب تک نہیں گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو خدشہ تھا کہ اس کی تقریباً دو کروڑ روپے مالیت کی جائیداد بیٹیوں کی شادی پر خرچ ہو جائے گی، جس کی وجہ سے اس نے اہل خانہ کے ساتھ مل کر بچوں کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔

    تحقیقات کے مطابق 3 اپریل کو ملزم نے اپنی بیوی کو گھر پر چھوڑا اور بیٹیوں کو کھیتوں میں لے گیا۔ اس نے ایسا وقت چنا جب وہاں کوئی موجود نہ ہو۔ کھیت میں موجود کنویں کے پاس کھیلتی ہوئی بچیوں میں سے ایک، گیتھن وِکا، کو اس نے دھکا دے کر کنویں میں گرا دیا جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔دوسری بچی، گیتھمشی، پانی میں زندگی بچانے کی کوشش کرتی رہی، تاہم ملزم خود کنویں میں اترا اور اسے ہاتھوں سے ڈبو کر قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق یہ انتہائی سفاک اور سوچا سمجھا اقدام تھا۔

    قتل کے بعد ملزم نے واقعے کو حادثہ ظاہر کرنے کے لیے شور مچایا اور جھوٹی مدد کی کوشش کا ڈرامہ کیا۔ جب ماں موقع پر پہنچی تو ایک بچی کی لاش کنویں کے قریب تھی جبکہ دوسری لاپتہ تھی۔ گاؤں والوں نے رسیوں کی مدد سے لاشیں نکالیں۔ابتدائی تفتیش میں ملزم کے بیانات میں تضاد پایا گیا جس پر گاؤں والوں کو شک ہوا اور انہوں نے مبینہ طور پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں ملزم موقع سے فرار ہو گیا اور اپنے اہل خانہ کو اطلاع دی کہ "منصوبہ کامیاب ہو گیا”۔پولیس نے چاروں ملزمان کو گاؤں گوپال پور سے گرفتار کر لیا ہے۔ بعد میں ماہر تیراکوں کی مدد سے دوسری بچی کی لاش کنویں سے نکالی گئی۔

  • شوہر سےجان چھڑانے کیلئےبیوی نے عاشق کے ساتھ ملکر بنائی اپنی ہی "فحش”ویڈیو

    شوہر سےجان چھڑانے کیلئےبیوی نے عاشق کے ساتھ ملکر بنائی اپنی ہی "فحش”ویڈیو

    بھارتی ریاست راجستھان کے ٹیکسٹائل سٹی بھیلواڑہ سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے معاشرتی اور اخلاقی اقدار پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    گاندھی نگر تھانہ کی حدود میں پیش آنے والے اس واقعے نے پورے علاقے میں ہلچل مچا دی ہے،پولیس کے مطابق ایک شادی شدہ خاتون نے اپنے شوہر سے نجات حاصل کرنے کے لیے نہایت خطرناک اور منظم سازش تیار کی۔ خاتون نے مبینہ طور پر اپنے سابق عاشق کے ساتھ مل کر اپنی ایک نازیبا ویڈیو بنائی، جسے بعد ازاں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے وائرل کیا گیا۔ اس ویڈیو کے ذریعے شوہر کو بدنام کرنے اور اسے قانونی مسائل میں الجھانے کی کوشش کی گئی۔متاثرہ شوہر نے گاندھی نگر پولیس اسٹیشن میں درخواست دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 20 مارچ کی رات اچانک اس کی بیوی کی ایک “باتھ روم ویڈیو” سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں خاتون کو نہاتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ تاثر دیا گیا کہ ویڈیو خود شوہر نے ریکارڈ کر کے پھیلائی ہے۔

    متاثرہ شخص کے مطابق، اس کے بعد خاتون اور اس کے مبینہ عاشق نے اسے بلیک میل کرتے ہوئے 10 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ دھمکی دی گئی کہ اگر رقم ادا نہ کی گئی تو اس کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرائے جائیں گے، جس سے اس کی ساکھ اور زندگی تباہ ہو سکتی ہے۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سائبر کرائم ٹیم کو شامل کیا، جس نے ڈیجیٹل فرانزک تحقیقات کے دوران اہم شواہد حاصل کیے۔ ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا کہ خاتون نے اپنے عاشق اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جعلی آئی ڈی بنائی، جس کے ذریعے ویڈیو اپ لوڈ کی گئی۔

    ضلع پولیس سربراہ دھرمیندر سنگھ یادو کی ہدایت پر سائبر سیل نے مزید تحقیقات کیں، جن میں چیٹس، پیغامات اور دیگر ڈیجیٹل ریکارڈز نے اس سازش کی تصدیق کی۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ عاشق نے خاتون کو سم کارڈ فراہم کیا تھا تاکہ جعلی اکاؤنٹ بنایا جا سکے۔مزید برآں، یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس سے قبل سسرالی افراد کی جانب سے شوہر کے خلاف زیورات ہڑپ کرنے کا مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا، جسے اب اسی بڑی سازش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔پولیس نے خاتون، اس کے مبینہ عاشق اور دو دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ انتہائی چالاکی سے تیار کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ابتدائی طور پر کئی لوگ شوہر کو ہی قصوروار سمجھ بیٹھے، تاہم تکنیکی تحقیقات نے حقیقت آشکار کر دی۔پولیس کا کہنا ہے کہ جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے سائبر ٹیم مسلسل کام کر رہی ہے اور جلد مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔

  • ساندہ میں خاتون پر تشدد کا واقعہ، مقدمہ درج، تمام ملزمان گرفتار

    ساندہ میں خاتون پر تشدد کا واقعہ، مقدمہ درج، تمام ملزمان گرفتار

    ساندہ میں خاتون پر تشدد کا واقعہ، مقدمہ درج، تمام ملزمان گرفتار کر لئے گئے

    ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی اقبال ٹاؤن کو فوری کارروائی کا حکم دیا،پولیس نے مرکزی ملزم آصف کے ساتھ اس کے بہنوئی امجد اور احمد کو بھی گرفتار کر لیا،واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو حراست میں لے کر مزید قانونی کارروائی جاری ہے،ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 644/26 درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا، ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کو ہر ممکن قانونی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے،خواتین پر تشدد کے واقعات ہرگز برداشت نہیں، زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا،متاثرہ خاتون کا میڈیکل کروا کر شواہد کی بنیاد پر کیس کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے، عورتوں پر تشدد کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں،