Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • دیر پائین میں 19 سالہ یتیم لڑکی کے بہیمانہ قتل پر شدید احتجاج، مرکزی ملزم گرفتار

    دیر پائین میں 19 سالہ یتیم لڑکی کے بہیمانہ قتل پر شدید احتجاج، مرکزی ملزم گرفتار

    ‎دیر پائین کے علاقے رباط کے گاؤں خرکئی میں 19 سالہ یتیم لڑکی کے بہیمانہ قتل کے واقعے نے پورے علاقے کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد مقامی آبادی، سماجی حلقوں اور مختلف سیاسی شخصیات نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک جرم میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔
    ‎مقامی ذرائع کے مطابق مقتولہ کی والدہ پہلے ہی انتقال کر چکی تھیں جبکہ ان کے والد روزگار کے سلسلے میں دبئی میں مقیم ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ لڑکی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق مقتولہ کے چچا نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے بیٹے سے کرنے کی خواہش ظاہر کی، تاہم لڑکی نے اس رشتے سے انکار کر دیا، جس کے بعد معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق انکار پر مشتعل ہو کر چچا اور اس کے بیٹے نے مبینہ طور پر لڑکی پر فائرنگ کر دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی۔ الزام ہے کہ فائرنگ کے بعد بھی تشدد کا سلسلہ نہیں رکا بلکہ زخمی لڑکی کو گھر کی چھت سے نیچے پھینکا گیا، گھسیٹا گیا اور اس پر کلہاڑی سے بھی حملہ کیا گیا، جس کے باعث وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔
    ‎مقامی ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مقتولہ کی تدفین انتہائی عجلت میں کی گئی اور انہیں بغیر کفن، غسل اور نماز جنازہ کے سپرد خاک کر دیا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
    ‎واقعے کی تفصیلات سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد پورے ضلع میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ شہریوں، سماجی تنظیموں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق واقعے کے مرکزی ملزم، جو مقتولہ کا چچا بتایا جا رہا ہے، کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری اور واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد اور بیانات کی روشنی میں مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    ‎آج مقتولہ کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے مقتولہ کے لیے دعائے مغفرت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس المناک واقعے میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور بیٹی کے ساتھ ایسا افسوسناک سانحہ پیش نہ آئے۔

  • 
قیدیوں کے فرار کا مقدمہ درج، 5 پولیس اہلکار بھی نامزد

    
قیدیوں کے فرار کا مقدمہ درج، 5 پولیس اہلکار بھی نامزد

    ‎راولپنڈی: کہوٹہ سے اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے والے قیدیوں کے فلمی انداز میں فرار ہونے کے واقعے کا مقدمہ تھانہ سہالہ میں درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں قیدیوں کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی پر مامور سب انسپکٹر سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق قیدیوں کو لے جانے والی وین میں مجموعی طور پر 34 قیدی سوار تھے۔ راستے میں 14 قیدی مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں لال مرچیں پھینک کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے فوری تعاقب کرتے ہوئے 4 مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا، جبکہ 10 قیدی تاحال مفرور ہیں اور ان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
    ‎ایف آئی آر کے متن کے مطابق اڈیالہ جیل منتقلی کے دوران بعض قیدیوں نے شور شرابا اور جھگڑا شروع کر دیا۔ جب پولیس اہلکار انہیں روکنے کے لیے وین کا دروازہ کھولنے لگے تو ملزمان نے ان کی آنکھوں میں لال مرچیں پھینک دیں اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
    ‎تھانہ سہالہ میں درج مقدمے میں پولیس آرڈر 2002ء کی دفعہ 155-C اور 155-D بھی شامل کی گئی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور مفرور قیدیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق قیدیوں کی حراست اور سیکیورٹی انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

  • کراچی میں راہگیر خاتون سے نازیبا حرکت کرنے والا ملزم گرفتار

    کراچی میں راہگیر خاتون سے نازیبا حرکت کرنے والا ملزم گرفتار

    کراچی: کراچی پولیس نے راہگیر خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر غیراخلاقی اور نازیبا حرکت کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

    ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ملزم کو ایک خاتون راہگیر کے ساتھ نامناسب حرکات کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کا آغاز کیا۔انہوں نے بتایا کہ ویڈیو کی مدد سے ملزم کی شناخت کی گئی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق گرفتار ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں پر مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے یا ان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • 
کہوٹہ میں پولیس وین سے 14 قیدی فرار، 4 دوبارہ گرفتار

    
کہوٹہ میں پولیس وین سے 14 قیدی فرار، 4 دوبارہ گرفتار

    ‎کہوٹہ کے علاقے چکیان پوسٹ کے قریب پولیس وین سے 14 قیدی فرار ہونے کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 4 مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا، جبکہ باقی قیدیوں کی تلاش کے لیے وسیع سرچ آپریشن جاری ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق واقعے کے فوراً بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی تاکہ فرار ہونے والے قیدیوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔
    ‎سرچ آپریشن میں پولیس کی بھاری نفری حصہ لے رہی ہے، جبکہ چکیان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ مختلف مقامات پر چیکنگ کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔
    ‎واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے اور سرچ آپریشن کی خود نگرانی شروع کر دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ باقی مفرور قیدیوں کی گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
    ‎پولیس نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی مشتبہ شخص کے بارے میں معلومات ہوں تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ مفرور قیدیوں کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔

  • دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد،خواتین سمیت 16 ملزمان گرفتار

    دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد،خواتین سمیت 16 ملزمان گرفتار

    انسداد اسمگلنگ آپریشن کے دوران دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد کرکے خواتین سمیت 16 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

    ترجمان اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے تعلیمی اداروں کے اطراف اور ملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 8 کارر وائیوں کے دوران 7 خواتین، جن میں 2 تھائی شہری بھی شامل ہیں، سمیت مجموعی طور پر 16 ملزمان کو گرفتار کر لیا،اس سلسلے میں مختلف علاقوں میں کی گئی کارروائیوں میں 2 کروڑ 7 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 330.192 کلوگرام منشیات برآمد کی گئی۔

    ترجمان کے مطابق تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی روکنے کے لیے اسلام آباد ٹول پلازہ کے قریب ایک مسافر بس میں سوار مرد اور خاتون کے قبضے سے 2 کلوگرام آئس برآمد کی گئی، گرفتار ملزمان نے دورانِ تفتیش تعلیمی اداروں کے طلبہ کو منشیات فروخت کرنے کا اعتراف بھی کیا، اسلام آباد ایئرپورٹ پر ابوظبی جانے والی 2 تھائی خوا تین کے سامان سے 1.878 کلوگرام آئس برآمد کی گئی، جبکہجدہ جانے والے ایک مرد اور خاتون کے سامان میں موجود کپڑوں میں جذب کی گئی 14.314 کلوگرام آئس بھی برآمد کر لی گئی۔

    علاوہ ازیں کراچی کی شاہراہ فیصل پر واقع ایک کوریئر آفس میں آسٹریلیا بھیجے جانے والے پارسل کی 14 مردانہ جیکٹس میں جذب کی گئی 16 کلوگرام آئس برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا، جبکہ فیڈرل بی ایریا کراچی میں واقع کوریئر آفس سے اٹلی بھیجے جانے والے پارسل میں موجود جرابوں کے ڈبے میں چھپائی گئی 7 کلوگرام ہیروئن بھی برآمد کر لی گئی۔

    ملتان کے شیر شاہ ٹول پلازہ کے قریب ماربل سے لدے ایک ٹرک میں چھپائی گئی 226.80 کلوگرام چرس برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کیا، جبکہ شیخوپورہ ٹول پلازہ کے قریب ایک گاڑی سے 61.2 کلوگرام چرس برآمد کر کے 5 ملزمان کو حراست میں لے لیااسی طرح راوی ٹول پلازہ لاہور کے قریب 3 خواتین کے قبضے سے ایک کلوگرام آئس برآمد کی گئی اور ملزمہ کو گرفتار کر لیا گیا۔

    ترجمان اے این ایف کے مطابق تمام کارروائیوں کے بعد انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • ‎چکوال میں ڈیم میں ڈوب کر دو نوجوان جاں بحق

    ‎چکوال میں ڈیم میں ڈوب کر دو نوجوان جاں بحق

    ‎چکوال کے نواحی گاؤں تھنیل فتح میں ایک افسوسناک حادثے کے نتیجے میں دو نوجوان ڈیم میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے، جس سے علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی۔
    ‎ریسکیو 1122 کے مطابق واقعہ ایک نجی فارم ہاؤس کے اندر قائم تقریباً 20 فٹ گہرے ڈیم میں پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق 24 سالہ فہیم رضا فارم ہاؤس کے قریب کام کر رہے تھے کہ اچانک ان کا پاؤں پھسل گیا اور وہ ڈیم میں جا گرے۔ پانی گہرا ہونے کے باعث وہ خود کو سنبھال نہ سکے اور ڈوبنے لگے۔
    ‎اپنے ساتھی کو مشکل میں دیکھ کر 27 سالہ قیصر عباس نے انہیں بچانے کی کوشش کی اور بغیر کسی تاخیر کے ڈیم میں چھلانگ لگا دی۔ تاہم انہیں تیراکی نہیں آتی تھی، جس کے باعث وہ بھی گہرے پانی میں پھنس گئے اور دونوں نوجوان ڈوب گئے۔
    ‎واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ کافی کوششوں کے بعد دونوں نوجوانوں کی لاشیں پانی سے نکال کر قریبی اسپتال منتقل کر دی گئیں، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
    ‎حادثے کی خبر سنتے ہی اہل خانہ اور عزیز و اقارب اسپتال پہنچ گئے، جہاں کہرام مچ گیا۔ علاقے کے رہائشیوں نے بھی اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
    ‎ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ حادثہ پاؤں پھسلنے اور تیراکی نہ جاننے کے باعث پیش آیا۔ متعلقہ حکام نے واقعے کی مزید جانچ شروع کر دی ہے جبکہ شہریوں کو گہرے پانی کے ذخائر کے قریب انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • 
ضلع اسپتال میانوالی کی پرانی عمارت سے قیمتی طبی سامان غائب

    
ضلع اسپتال میانوالی کی پرانی عمارت سے قیمتی طبی سامان غائب

    ‎ضلع اسپتال میانوالی کی پرانی عمارت سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے مالیت کا طبی سامان غائب ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردعمل دیکھنے میں آیا۔ ذرائع کے مطابق لاپتا ہونے والے سامان میں 300 سے زائد ایئر کنڈیشنرز اور چلرز، درجنوں کارڈیک مانیٹرز، جدید کمپیوٹرز، جدید لیبارٹری کا سامان اور توشیبا کمپنی کی الٹراساؤنڈ مشین بھی شامل ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ طبی آلات کے علاوہ اسپتال کے کمروں کا فرنیچر، درجنوں پنکھے، 4 ریفریجریٹرز اور مخیر حضرات کی جانب سے عطیہ کی گئی دو درجن سے زائد وہیل چیئرز بھی اپنی جگہ سے غائب ہیں۔ اس معاملے نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور اسپتال کی املاک کی حفاظت سے متعلق کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
    ‎سوشل میڈیا پر اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے 18 جون کو تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی میں میانوالی سے تعلق رکھنے والے متعلقہ افسران اور نمائندگان کو شامل کیا گیا تاکہ واقعے کی مکمل چھان بین کی جا سکے۔
    ‎تحقیقاتی کمیٹی کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے، تاہم مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود رپورٹ اب تک منظر عام پر نہیں لائی گئی۔ اس تاخیر نے عوامی خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
    ‎تاحال ضلعی انتظامیہ یا محکمہ صحت کی جانب سے غائب ہونے والے سامان کی سرکاری تفصیلات یا تحقیقات کے نتائج جاری نہیں کیے گئے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ اسپتال کی قومی املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور اگر کسی قسم کی غفلت یا بدعنوانی ثابت ہو تو اس میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

  • دوست ہی دغا باز نکلے، معمولی رنجش پر نوجوان کو گھر سے بلا کر کھیتوں میں گولیاں مار دی

    دوست ہی دغا باز نکلے، معمولی رنجش پر نوجوان کو گھر سے بلا کر کھیتوں میں گولیاں مار دی

    واٹس ایپ پر بھائی کو آخری کال مجھے بچانے پہنچو، دوست جھگڑا کر رہے ہیں موقع پر پہنچتے ہی فائرنگ
    ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے محمد علی دم توڑ گیا، پولیس نے اقدامِ قتل کے مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کر دیں
    گوجرخان (قمر شہزاد) گوجرخان کے نواحی علاقے نگائل عمر خان میں دوستی کا بھرم خاک میں مل گیا۔ معمولی رنجش اور پرانے جھگڑے پر مبینہ طور پر دوستوں نے ہی اپنے دیرینہ ساتھی کو دھوکے سے گھر سے بلایا اور کھیتوں میں لے جا کر فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مقتول نوجوان بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ پولیس نے اقدامِ قتل کے درج مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ تھانہ گوجرخان میں درج ایف آئی آر مقدمہ نمبر 513/26 کے مطابق، مقتول محمد علی کے بھائی فرخ سرفراز نے پولیس کو بیان دیا کہ 26 جون کی رات تقریباً 11 بجے وہ اپنے گھر میں موجود تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر جا کر دیکھا تو فیضان ولد ممتاز اور علی ساکن ڈھوک چوہان موجود تھے، جنہوں نے محمد علی کو باہر بلانے کا کہا۔ محمد علی اپنے ان دوستوں کی نیت سے بے خبر ان کے ساتھ چلا گیا۔ کافی دیر گزرنے کے باوجود جب محمد علی گھر واپس نہ پہنچا تو اہل خانہ تشویش میں مبتلا ہو گئے۔ اسی دوران مقتول محمد علی نے اپنے بھائی خرم کے واٹس ایپ پر انتہائی مخدوش حالت میں کال کی اور بتایا کہ فیضان اور علی مجھے موہڑہ سیال میں راجہ قیصر کے ڈیرے کے پیچھے کھیتوں میں لے آئے ہیں اور میرے ساتھ جھگڑا کر رہے ہیں، فوری طور پر میری مدد کو پہنچو۔ اطلاع ملتے ہی شکایت کنندہ فرخ اپنے بھائیوں خرم اور عدنان کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچا، جہاں محمد علی اور ملزمان کے درمیان تلخ کلامی جاری تھی۔ بھائیوں کے سامنے ہی ملزم فیضان نے اپنے ساتھی کو للکارا کہ اسے گولی مار دو، جس پر ملزم علی نے 30 بور پستول سے سیدھی گولی چلا دی جو محمد علی کی پشت پر دائیں جانب لگی اور وہ خون میں لت پت ہو کر زمین پر گر گیا، جبکہ دونوں ملزمان رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلحہ لہراتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے۔ زخمی نوجوان کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان پہنچایا گیا، جہاں تشویشناک حالت کے پیشِ نظر اسے بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی ریفر کر دیا گیا۔

    زخمی محمد علی نے ہسپتال میں دیے گئے اپنے ابتدائی بیان میں بھی عمر اور فیضان کو نامزد کیا تھا۔ تاہم، 27 جون کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے محمد علی زندگی کی بازی ہار گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی گوجرخان پولیس افسران انچارج ایچ آئی یو موقع پر پہنچے اور فرانزک ٹیم نے شواہد حاصل کیے، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا پس منظر چند روز قبل ہونے والا معمولی لڑائی جھگڑا اور پرانی رنجش ہے۔ محمد علی کے جاں بحق ہونے کے بعد مقدمے میں دفعہ 302 قتل عمد شامل کر لی گئی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں، جنہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائےگا

  • نوکری کے بہانے بلایا،زیادتی کی، پھر پیزا کھلایا،خاتون نے مقدمہ درج کروا دیا

    نوکری کے بہانے بلایا،زیادتی کی، پھر پیزا کھلایا،خاتون نے مقدمہ درج کروا دیا

    بہاول نگر میں خاتون کے ساتھ زیادتی کا انوکھا واقعہ،نوکری کے بہانے بلا کر زیادتی کی، پھر پیزا کھلایا اور شہر میں چھوڑ دیا،پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی

    بہاولنگر کے تھانہ صدر میں ایک خاتون کی درخواست پر نوکری کا جھانسہ دے کر مبینہ زیادتی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی ملزم سے تقریباً 15 سے 20 روز قبل فون پر بات چیت شروع ہوئی۔ ملزم نے مبینہ طور پر اسے نوکری دلوانے کی پیشکش کی اور 23 جون کو جاز کیش کے ذریعے 5 ہزار روپے بھجوانے کا کہا، جبکہ باقی 20 ہزار روپے بعد میں دینے کی ہدایت کی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اس نے 5 ہزار روپے منتقل کر دیے، جس کا اس کے پاس اسکرین شاٹ بھی موجود ہے۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق 24 جون کو ملزم نے خاتون کو موہل چوک، بہاولنگر بلایا، جہاں سے اسے ایک نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ وہاں ملزم نے اس کی مرضی کے خلاف اس کے ساتھ زیادتی کی۔متاثرہ خاتون نے مزید الزام لگایا کہ بعد ازاں ملزم اسے چشتیاں روڈ پر واقع ایک فوڈ آؤٹ لیٹ لے گیا، جہاں پیزا کھلانے کے بعد شہر میں چھوڑ دیا۔ خاتون نے واقعے سے متعلق اپنے دو گواہوں کو آگاہ کیا اور بعد ازاں پولیس سے رجوع کیا۔

    پولیس نے خاتون کی درخواست پر ملزم غلام محی الدین کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • میرٹھ، 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار

    میرٹھ، 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار

    بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں آٹھ سالہ بچی سے مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں پولیس نے ایک 29 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ 22 جون کو صدر بازار تھانے میں اس وقت درج کیا گیا جب متاثرہ بچی کے والد نے شکایت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی رہائش گاہ کی تیسری منزل پر رہنے والے ملزم سندیپ کشواہا نے ان کی آٹھ سالہ بیٹی کے ساتھ مبینہ طور پر قابلِ اعتراض حرکت کی۔شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے بھارتیہ نیایا سنہتا اور بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون (پوکسو ایکٹ) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش شواہد کی بنیاد پر جمعہ کے روز ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزم کی شناخت 29 سالہ سندیپ کشواہا کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق ضلع گورکھپور سے ہے، تاہم وہ میرٹھ کے علاقے سومناتھ انکلیو میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھا۔

    پولیس کے مطابق ملزم سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچی کو قانونی تقاضوں کے مطابق طبی معائنے اور دیگر ضروری کارروائی کے لیے بھی بھیجا گیا ہے۔پولیس نے کہا ہے کہ مقدمے کی تفتیش میرٹھ پولیس کی نگرانی میں جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں آئندہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔