کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں فائرنگ کے ایک واقعے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ایک انسپکٹر کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ مبینہ طور پر ایک سابق پولیس افسر کے بیٹے سے متعلق ہے، جس کے بعد علاقے میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی۔
پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت آغا شہریار کے نام سے ہوئی ہے، جو واقعے کے بعد فرار ہو گیا اور تاحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں نہیں آ سکا۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔
ملزم کے والد اصغر پٹھان، جو خود سابق پولیس افسر رہ چکے ہیں، نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بیٹے کا چند روز قبل چار افراد کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا جس کے دوران مبینہ طور پر اس پر تشدد بھی کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی تنازعے کے پس منظر میں یہ واقعہ پیش آیا ہو سکتا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور تمام ممکنہ شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ زخمی ہونے والے ایف بی آر اہلکار کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی اور اس کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ملزم کے والد نے حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
واقعے نے شہر میں امن و امان کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
Category: جرائم و حادثات
-

کلفٹن میں فائرنگ، ایف بی آر انسپکٹر زخمی
-

13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کرزیادتی، ،ملزمان ویڈیو بھی بناتے رہے
تھانہ چکلالہ کے علاقے میں 13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کر لڑکے نے مبینہ زیادتی کر ڈالی جبکہ لڑکے کے دو ساتھی زیادتی کے دوران نازیبا ویڈیو بھی بناتے تھے۔
تفصیلات کے مطابق ویڈیو بنانے کے بعد تین ملزمان لڑکی کو دھمکیاں دیکر بلیک میل کرکے اغواء کرکے ساتھ بھی لے گئے،نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گاڑی روک کر اتارا تو ایک شخص نے پریشان دیکھ کر انھیں کہا کہ لڑکی کو کیوں پریشان کر رہے ہو جس پر ملزمان فرار ہوگئے،پولیس نے لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔
مدعیہ مقدمہ کے مطابق ڈھوک چوہدریاں اسکیم تھری میں رہائش ہے، بیٹی کو گھر چھوڑ کر خاوند کے ساتھ کام پر چلی گئی تھی، بیٹی گھر میں اکیلی تھی جس کی وجہ سے گھر کو باہر سے تالا لگا کر گئی واپس آئے تو دروازہ کھلا تھا، سامان بکھرا پڑا تھا اور بیٹی گھر میں موجود نہیں تھی، خاوند کے ساتھ تلاش شروع کی تو بیٹی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سفاری ون میں پریشان کھڑی ملی۔
والدہ نے بیٹی سے پوچھا جس پر بتایا کہ گھر میں موجود تھی کہ رومان، ریحان ظہیر اور ریحان شوکت گھر میں گھس آئے شور کرنے پر رومان نے میرے منہ پر کپڑا باندھ کر زبردستی زیادتی کی جبکہ ریحان ظہیر اور ریحان شوکت نازیبا ویڈیو بناتے رہے متاثرہ بچی نے بتایا کہ زیادتی کے بعد رومان نے دھمکیاں دیں کہ ساتھ نہ گئی تو ویڈیو وائرل کر دیں گے، ڈر کر ان کے ساتھ گئی تو گلی میں سفید گاڑی میں ایک ڈرائیور اور دو افراد موجود تھے، مجھے گاڑی میں بٹھایا اور نجی ہاؤسنگ سو سائٹی لے گئے، وہاں گاڑی سے اتارا تو پریشان دیکھ کر ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ لڑکی کو کیوں تنگ کر رہے ہو تو وہ سب بھاگ گئے۔
پولیس کے مطابق لڑکی کا میڈیکل کروا کر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
-

تین بچے قتل کیس،قاتل ماں کی تھی جھنگ کے شہریار سے دوستی
اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، قاتل ماں کی شہریار نامی لڑکے سے دوستی تھی۔
لاہور کی مقامی عدالت نے اچھرہ میں 3 بچوں کو قتل کرنے کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ ردا فاطمہ کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ تفتیشی افسر ملزمہ سے خاتون افسر کی موجودگی میں تفتیش کرے اور 29 اپریل کو ملزمہ سے ہونیوالی تفتیش کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔تین بچوں کے قتل کیس میں سنسنی خیز انکشافات بھی سامنے آگئے۔ قاتل والدہ کی جھنگ کے رہائشی شہریار سے دوستی تھی، وہ اُس سے شادی کرنا چاہتی تھی، بچے شادی میں رکاوٹ تھے،شہریار سے ردا موبائل ایپ کے ذریعے پیسے منگواتی تھی، پولیس شہریار کو گرفتار کرنے کیلئے جھنگ پہنچ گئی ہے۔
-

لاہور، 3 بچے قتل کیس، ماں کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
لاہور کی ماڈل ٹاؤن کچہری نے 3 کمسن بچوں کے مبینہ قتل کے کیس میں گرفتار ماں کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ ارشاد حسین نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی، جس کے بعد عدالت نے ملزمہ کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ پولیس نے ملزمہ کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔
تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کے ڈی این اے، پولی گرافک اور میڈیکل ٹیسٹ کرائے جائیں گے تاکہ کیس کی مزید تحقیقات مکمل کی جا سکیں۔گزشتہ روز لاہور کے علاقے اچھرہ میں ایک گھر سے 3 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں، جس کے بعد شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمہ کو گھر سے باہر جاتے اور بعد میں واپس آ کر اہل علاقہ کے ساتھ 15 پر کال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد تینوں بچوں کی لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں، جنہیں بعد ازاں آبائی علاقے جھنگ منتقل کر دیا گیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں میں 5 سالہ مومنہ بتول، 4 سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ امِ حبیبہ شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا۔تحقیقات میں یہ ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ تینوں بچوں کی مبینہ قاتل ان کی اپنی ماں ہے، جس نے ابتدائی تفتیش کے دوران اعترافِ جرم بھی کر لیا ہے۔
-

راولپنڈی: بس ہوسٹس سے مبینہ زیادتی کرنے والا شخص ساتھی سمیت گرفتار
پیرودھائی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بس ہوسٹس خاتون سے مبینہ زیادتی کے واقعے میں ملوث ملزم کو اس کے ساتھی سمیت گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق زیر حراست شخص نے مبینہ طور پر ہوٹل منیجر کے ساتھ ملی بھگت کر کے متاثرہ خاتون کے لیے ہوٹل میں کمرہ حاصل کیا۔ مدعیہ کے بیان کے مطابق ملزم ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا اور اسے مبینہ طور پر بے ہوش کرنے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا۔ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث متاثرہ بس ہوسٹس ڈیوٹی پر جانے کے لیے گھر سے نکلی اور مجبوری کے تحت پیرودھائی کے علاقے میں ایک ہوٹل میں قیام کیا۔مزید بتایا گیا ہے کہ ملزم نے متاثرہ خاتون کو ترنول سے گاڑی کے ذریعے ہوٹل پہنچایا، جہاں وہ آرام کے لیے کمرے میں موجود تھی۔ کچھ دیر بعد ملزم مبینہ طور پر دوبارہ کمرے میں داخل ہوا اور یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
-

لاہور،اچھرہ میں گھر سے تین بچوں کی لاشیں برآمد
لاہور کے علاقے اچھرہ میں گھر سے 3 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں
پولیس کے مطابق بچوں کی عمر 5 سے 9 سال کے درمیان ہیں جنہیں تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا،پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کے والدین گھر سے باہر گئے ہوئے تھے، مزید تفتیش جاری ہے،اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعہ کا نوٹس لے لیا،ایس ایس پی آپریشنز، ایس پی ماڈل ٹاؤن موقع موجود ہیں،پولیس ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود، علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا،پولیس کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن شروع، مشتبہ افراد کی چیکنگ جاری ہے،واقعہ کی نوعیت جاننے کیلئے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل جاری ہے،ترجمان ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ علاقہ کے سی سی ٹی وی کیمروں کو قبضہ میں لے لیا گیا، ٹریسنگ جاری ہے،فرانزک اور تفتیشی ٹیموں بھی جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کر رہی ہیں، ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا ،ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں، جلد حقائق سامنے لا کر ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی،
-

ڈی ایچ اے میں کار ریسنگ حادثہ، فرار ہونے والے دونوں ملزمان گرفتار
لاہور کے پوش علاقے ڈی ایچ اے میں خطرناک کار ریسنگ کے دوران حادثہ کر کے فرار ہونے والے دونوں ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز نے اے ایس پی ڈیفنس کو ملزمان کی فوری ٹریسنگ اور گرفتاری کا ٹاسک دیا تھا۔پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان مدثر مشتاق اور دانیال امتیاز کاظمی کو حراست میں لے لیا۔ واقعے میں استعمال ہونے والی بلیک ایم جی اور ہونڈا سوک گاڑیاں بھی تحویل میں لے لی گئی ہیں۔ترجمان کے مطابق سیف سٹی اور ڈی ایچ اے کے کیمروں کی مدد سے گاڑیوں کی شناخت کی گئی، جبکہ ایکسائز ریکارڈ اور موبائل ڈیٹا کے ذریعے ملزمان تک رسائی ممکن ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 19 اپریل کی صبح 4 بج کر 37 منٹ پر مین بلیوارڈ ڈی ایچ اے پر پیش آیا، جہاں تیز رفتار گاڑی نے موٹرسائیکل سوار 25 سالہ فیصل رحمان کو ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی شہری کو فوری طور پر جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں ملزمان آپس میں کلاس فیلوز ہیں اور کار ریسنگ میں ملوث تھے۔ ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
-

کرناٹک،امریکی خاتون کی عزت لوٹ لی گئی،مقدمہ درج
بھارت کی ریاست کرناٹک میں امریکی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا۔ پولیس نے شکایت موصول ہونے کے بعد ہوم اسٹے کے مالک اور ایک ملازم کو گرفتار کر لیا ہے۔
خاتون کی شکایت کے مطابق، ملزم وروجیش کمار، جو جھارکھنڈ کا رہائشی ہے اور ہوم اسٹے میں کام کرتا تھا، نے مبینہ طور پر ان کے ساتھ زیادتی کی۔ یہ واقعہ کوڈاگو ضلع کے کُٹّا گاؤں میں پیش آیا۔پولیس کے مطابق، ہوم اسٹے کے مالک پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے کیونکہ اس نے مبینہ طور پر واقعے کو چھپانے کی کوشش کی۔ الزام ہے کہ اس نے تین دن تک وائی فائی سروس بند رکھی، جس کے باعث متاثرہ خاتون کسی سے رابطہ نہ کر سکیں۔بعد ازاں، وائی فائی بحال ہونے پر خاتون نے میسورو جانے کا بہانہ بنا کر وہاں سے روانگی اختیار کی اور امریکی سفارت خانے کو اس واقعے کی اطلاع دی۔ امریکی حکام نے ای میل کے ذریعے میسورو پولیس سے رابطہ کیا، جس کے بعد باضابطہ طور پر مقدمہ درج کیا گیا۔
کوڈاگو کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے مطابق، کُٹّا پولیس اسٹیشن میں غیر ملکی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کا کیس درج کر لیا گیا ہے۔ دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے 3 مئی تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
-

سجاول میں نہر میں ڈوبنے سے دو بہنیں جاں بحق
سجاول کے نواحی علاقے میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا، جہاں کراچی سے شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے آنے والی دو کمسن بہنیں نہر میں ڈوب کر جان کی بازی ہار گئیں۔
تفصیلات کے مطابق یہ دل دہلا دینے والا واقعہ گاؤں صدیق سومرو کے قریب پنیاری نہر میں پیش آیا۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ چند بچیاں نہر میں نہا رہی تھیں کہ اچانک ایک بچی پانی میں ڈوبنے لگی۔ اسے بچانے کی کوشش میں دیگر بچیاں بھی پانی کی لپیٹ میں آ گئیں۔
حادثے کے نتیجے میں تین بچیاں نہر میں ڈوب گئیں، جن میں سے ایک کو بروقت بچا لیا گیا جبکہ دو بہنیں زندگی کی بازی ہار گئیں۔ جاں بحق ہونے والی بچیوں کی شناخت 12 سالہ نمرہ اور 10 سالہ ندا کے نام سے ہوئی ہے، جو کراچی سے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے گاؤں آئی تھیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ مقامی غوطہ خوروں کی مدد سے دونوں بچیوں کی لاشیں نہر سے نکال لی گئیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور ہر طرف غم کی فضا چھا گئی۔
اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ نہر کے کنارے حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث اس قسم کے حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ فوری طور پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔ -

شاہدرہ کے علاقہ میں سکول ٹیچر بیوی کو قتل کرنیوالا سفاک شوہر گرفتار
شاہدرہ کے علاقہ میں سکول ٹیچر بیوی کو قتل کرنیوالا سفاک شوہر گرفتار کر لیا گیا
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے قتل کی اس سنگین واردات کا نوٹس لیا تھا،ایس پی سٹی فرحت عباس کی سربراہی میں پولیس ٹیم کو ملزم کی گرفتاری کا ٹاسک دیا گیا،انچارج انویسٹی گیشن تھانہ شاہدرہ انسپکٹر اختر علی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کارروائی کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا،ایس پی انویسٹی گیشن سٹی فرحت عباس کا کہنا تھا کہ ملزم نے گھریلو ناچاکی پر فائرنگ کر کے اپنی بیوی کو بےدردی سےقتل کر دیا تھا،ملزم قتل کرنے کے بعد موقع سے فرار ہو گیا تھا، ملزم کو پیشہ وارانہ مہارت اور ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے گرفتار کیا گیا، ملزم اب پولیس کی گرفت میں ہیں مضبوط چالان مرتب کروا کر قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی،خواتین کو قتل کرنے والے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،قانون شکن عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں، آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،
دوسری جانب بچی پر تشدد کرنے والا بس کنڈکٹر گرفتارکر لیا گیا،چوہنگ پولیس نے کارروائی کی،ایس پی صدر رانا حسین طاہر نے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے فوری ملزم کی گرفتاری کا حکم دیا، سپیڈو بس کے کنڈیکٹر سجاد علی کو گرفتار کیا گیا،دورانِ سفر لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا،ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے انوسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا