Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • کولکتہ میں قانون کی طالبہ سے مبینہ زیادتی،بنائی گئی ویڈیو،منت سماجت بھی کام نہ آئی

    کولکتہ میں قانون کی طالبہ سے مبینہ زیادتی،بنائی گئی ویڈیو،منت سماجت بھی کام نہ آئی

    کولکتہ: مغربی بنگال میں ایک 24 سالہ قانون کی طالبہ نے کالج کیمپس میں اپنے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا الزام عائد کیا ہے، جس نے ریاست میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ طالبہ نے اپنی شکایت میں بتایا ہے کہ زیادتی سے قبل اسے دل کا دورہ پڑا تھا اور مرکزی ملزم منوجیت مشرا نے اپنے ساتھی ملزم کو اس کے لیے انہیلر لانے کو کہا تھا۔

    متاثرہ طالبہ نے اپنی شکایت میں بتایا کہ 25 جون کو وہ ایک سیاسی میٹنگ کے لیے کیمپس میں موجود تھی۔ جب وہ جانے لگی تو منوجیت نے اسے روک لیا۔ بعد میں، اس نے اسے جنسی تعلقات پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ طالبہ نے اپنی شکایت میں کہا، "میں نے انکار کیا اور لڑتی رہی، اسے کچھ بھی کرنے سے روکا اور اسے پیچھے دھکیلا۔ میں مسلسل روتی رہی اور اسے مجھے جانے دینے کے لیے کہتی رہی۔” اس نے مزید کہا کہ اس نے منوجیت کو بتایا کہ اس کا بوائے فرینڈ ہے اور وہ اس سے محبت کرتی ہے۔طالبہ نے بتایا کہ "لیکن وہ نہیں مانا۔ وہ مجھے مجبور کرتا رہا۔ اور اس کے بعد اس سب کی وجہ سے مجھے گھبراہٹ کا دورہ پڑا اور سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے روبی جنرل ہسپتال لے جاؤ۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ کم از کم میرے لیے انہیلر لے آؤ۔ وہ لے آیا۔” اس نے لکھا، "میں نے اسے لیا اور بہتر محسوس کیا اور میں نے اپنی چیزیں پیک کیں اور فرار ہونے کے لیے باہر گئی اور دیکھا کہ انہوں نے مرکزی گیٹ بند کر دیا ہے اور گارڈ بے بس تھا اور اس نے میری مدد نہیں کی۔”

    متاثرہ نے بتایا کہ ساتھی ملزمان ذیب احمد اور پرمیت مکھرجی نے اسے زبردستی یونین روم میں گھسیٹا۔ اس نے کہا کہ اس نے منوجیت کے پاؤں چھو کر اسے جانے دینے کی بھیک مانگی۔ منوجیت نے ساتھی ملزمان کو اسے گارڈ کے کمرے میں لے جانے اور گارڈ کو باہر بٹھانے کو کہا – یہ حقیقت سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ متاثرہ نے بتایا کہ اس کے بعد منوجیت نے اس کے کپڑے اتارے اور اس کے ساتھ زیادتی کی۔ اس نے لکھا، "جب میں نے مقابلہ کیا تو اس نے مجھے بلیک میل کیا، دھمکیاں دیں جو وہ پہلے سے کر رہا تھا۔ اس نے مجھے دھمکی دی کہ وہ میرے بوائے فرینڈ کو مار ڈالے گا اور میرے والدین کو گرفتار کروا دے گا۔”

    متاثرہ نے اپنی ہولناک کہانی میں مزید لکھا، "میں اب بھی لڑتی رہی اور پھر اس نے مجھے میری برہنہ حالت میں دو ویڈیوز دکھائیں جب اس نے میرے ساتھ زیادتی کی۔ اس نے مجھے دھمکی دی کہ اگر میں تعاون نہیں کروں گی اور جب بھی وہ مجھے بلائے گا میں نہیں آؤں گی تو وہ یہ ویڈیوز سب کو دکھا دے گا۔”ایک موقع پر، اس نے لکھا کہ اس کے سر پر چوٹ لگی، لیکن حملہ جاری رہا۔ "میں اپنی زندگی کے لیے لڑ رہی تھی۔ اس نے مجھے ہاکی اسٹک سے مارنے کی بھی کوشش کی۔ میں نے خود کو ایک مردہ جسم کی طرح چھوڑ دیا۔”حملے کے بعد، اس نے بتایا کہ منوجیت نے اسے خاموش رہنے کی دھمکی دی۔ پھر وہ کالج سے نکلی، اپنے والد کو بلایا اور انہیں اسے لینے کو کہا۔

    متاثرہ کے بیان کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے تصدیق ہوئی ہے جس میں ملزمان اسے جرم کی جگہ تک گھسیٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ مقامی میڈیا نے اس میڈیکل اسٹور کو بھی تلاش کیا ہے جہاں سے ذیب نے انہیلر خریدا تھا۔ اسٹور کے عملے نے تصدیق کی کہ وہ اس وقت انہیلر خریدنے آیا تھا جس کا ذکر متاثرہ نے اپنی شکایت میں کیا ہے۔

    اس ہولناک جرم نے، جو ریاستی سطح پر چلنے والے آر جی کار میڈیکل کالج اور ہسپتال میں ایک ڈاکٹر کے ساتھ ہونے والے سنگین ریپ اور قتل کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد پیش آیا ہے، ترنمول کانگریس حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ خاص طور پر مرکزی ملزم منوجیت مشرا کے حکمران جماعت سے تعلقات کی وجہ سے۔ جہاں ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو ان کے سیاسی روابط سے قطع نظر سخت سزا دی جائے گی، وہیں اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ حکمران جماعت کی حمایت ہے جو منوجیت جیسے لوگوں کو ایسے جرائم کے ارتکاب کے قابل بناتی ہے۔

    دوسری جانب مدھیہ پردیش کے شہر نرسنگھ پور میں 27 جون کو ایک 19 سالہ لڑکی سندھیا چودھری کو سرکاری ضلع اسپتال کے اندر دن دہاڑے سفاکانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا، جس نے عوامی تحفظ اور اسپتالوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لڑکی کو ایک جنونی شخص نے نشانہ بنایا، اور سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اس دوران کوئی بھی مدد کے لیے آگے نہیں آیا۔پیر کو منظر عام پر آنے والی چونکا دینے والی فوٹیج میں ملزم ابھیشیک کوشتی کو سندھیا کا گلا کاٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ آس پاس موجود افراد – جن میں اسپتال کا عملہ بھی شامل تھا – حیرت زدہ اور بے حرکت کھڑے رہے، اور کسی نے بھی مداخلت نہیں کی۔ کچھ لوگ تو لڑکی کے اسپتال کے فرش پر خون بہنے کے دوران وہاں سے گزرتے ہوئے بھی نظر آئے۔جس جگہ کو شفا کا مرکز ہونا چاہیے تھا، وہ ایک قتل گاہ بن گئی۔ موبائل کیمرے کی فوٹیج میں ابھیشیک، کالی شرٹ پہنے، سندھیا کو تھپڑ مارتے، اسے زمین پر گراتے، اس کے سینے پر بیٹھ کر اسے جکڑتے اور پھر چاقو سے اس کا گلا کاٹتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔یہ سب کچھ دن کی روشنی میں، ایمرجنسی ونگ کے اندر، ڈاکٹروں اور محافظوں سے چند میٹر کے فاصلے پر ہوا۔ یہ حملہ تقریباً 10 منٹ تک جاری رہا۔ حملہ آور نے اس کے بعد اپنا گلا کاٹنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہا، اسپتال سے فرار ہوا، باہر کھڑی بائیک سٹارٹ کی اور غائب ہو گیا۔

    قتل کے وقت ٹراما سینٹر کے باہر دو سیکیورٹی گارڈ تعینات تھے۔ اندر، اسپتال کے متعدد عملے کے ارکان موجود تھے، جن میں ایک ڈاکٹر، نرسیں اور وارڈ بوائے شامل تھے۔ کسی نے بھی حملہ آور کو نہیں روکا۔سیکیورٹی کی مکمل ناکامی نے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو خوفزدہ کر دیا۔ ٹراما وارڈ میں داخل 11 مریضوں میں سے آٹھ نے اسی دن چھٹی لے لی، اور باقی اگلے دن صبح چلے گئے۔سندھیا اس دن تقریباً 2 بجے اپنے گھر سے نکلی تھی، اور اپنے خاندان کو بتایا تھا کہ وہ زچہ و بچہ وارڈ میں ایک دوست کی بھابھی سے ملنے جا رہی ہے۔ ابھیشیک کوشتی مبینہ طور پر دوپہر سے ہی اسپتال کے آس پاس گھوم رہا تھا – غالباً اس کا انتظار کر رہا تھا۔ دونوں نے کمرہ نمبر 22 کے باہر مختصر بات کی اس سے پہلے کہ یہ تصادم جان لیوا ثابت ہو۔قتل تیزی سے ہوا، خون بہنے سے موت واقع ہو گئی۔ سندھیا موقع پر ہی دم توڑ گئی۔لڑکی کے خاندان کو تقریباً 3:30 بجے مطلع کیا گیا۔ جب تک وہ اسپتال پہنچے، اس کی لاش ابھی تک جائے وقوعہ پر پڑی تھی۔غصے میں آ کر اہل خانہ نے اسپتال کے باہر سڑک کو بلاک کر دیا۔ یہ احتجاج رات 10:30 بجے تک پرسکون ہو گیا، لیکن رات 2 بجے تک دوبارہ ماحول کشیدہ رہا، جب حکام نے غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش میں اسپتال سیکیورٹی اور عوامی مقامات پر بڑھتی ہوئی بے حسی کے بارے میں تشویشناک سوالات اٹھا رہا ہے۔

  • خریدار بن کر قیمتی موبائل اور موٹرسائیکلیں ہتھیانے والا گروہ بے نقاب

    خریدار بن کر قیمتی موبائل اور موٹرسائیکلیں ہتھیانے والا گروہ بے نقاب

    لاہور میں شہریوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے دھوکہ دینے والا گروہ آخرکار قانون کی گرفت میں آ گیا۔ پولیس نے گروہ کے سرغنہ شہباز کو گرفتار کر لیا ہے، جو خود کو خریدار ظاہر کرکے لوگوں کو قیمتی اشیاء سے محروم کر دیتا تھا۔

    ملزم شہباز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر قیمتی موبائل فونز، موٹرسائیکلوں اور دیگر اشیاء کے فروخت سے متعلق اشتہارات تلاش کرتا تھا۔ وہ مالک سے رابطہ کرکے خود کو سنجیدہ خریدار ظاہر کرتا، اور چیز چیک کرنے کے بہانے ملاقات طے کرکے موقع سے اشیاء لے کر فرار ہو جاتا تھا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہباز کو سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ٹریس کرکے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے وقت ملزم کے قبضے سے جعلی نمبر پلیٹ والی لگژری گاڑی، چار قیمتی موبائل فونز اور اسلحہ برآمد ہوا۔ابتدائی تفتیش میں ملزم نے لاہور، فیصل آباد اور اسلام آباد میں متعدد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ پولیس کے مطابق وہ اپنی وارداتوں میں جعلی نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کا استعمال کرتا تھا تاکہ شناخت نہ ہو سکے۔

    حکام کے مطابق، گرفتار ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور توقع ہے کہ جلد باقی ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔پولیس کا کہنا ہے کہ شہری سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کی خرید و فروخت کے دوران احتیاط برتیں اور ذاتی ملاقات میں اشیاء دکھانے یا دینے سے گریز کریں، خاص طور پر تنہائی میں۔ اس قسم کی وارداتوں سے بچنے کے لیے پولیس سے مدد لینے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔

  • احمدپورشرقیہ:امتحان دینے آنیوالی طالبات کی وین میں آگ لگ گئی، ایک طالبہ جاں بحق اور 10 زخمی

    احمدپورشرقیہ:امتحان دینے آنیوالی طالبات کی وین میں آگ لگ گئی، ایک طالبہ جاں بحق اور 10 زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ ٹول پلازہ کے قریب ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں طالبات سے بھری ہائی ایس وین میں ناقص ایل پی جی سلنڈر کے پھٹنے سے خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ حادثے کے نتیجے میں ایک نوجوان طالبہ جاں بحق جبکہ 10 دیگر طالبات بری طرح جھلس گئیں اور زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، ہائی ایس وین میں سوار 19 طالبات لیاقت پور سے احمد پور شرقیہ میں امتحان دے کر واپس جا رہی تھیں۔ جیسے ہی گاڑی ٹول پلازہ کے قریب پہنچی، اچانک زور دار دھماکے سے سلنڈر پھٹ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلوں نے پوری وین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طالبات چیختی چلاتی باہر نکلنے کی کوشش کرتی رہیں، مگر خوفناک آگ نے کئی کو بری طرح جھلسا دیا۔ مقامی افراد نے فوراً امدادی کارروائیاں شروع کیں اور ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔ ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور شدید زخمی طالبات کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا۔

    حادثے میں ایک طالبہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئی جبکہ دیگر 10 طالبات کی حالت بدستور نازک بتائی جا رہی ہے۔ جھلسنے والی طالبات میں ثنا بنت اللہ دتہ، ثنا بنت رمضان، تانیا بنت محمد بخش، ماریا بنت محمد اسلم، مشعل بنت ظفر، امِ حبیبہ بنت طاہر، اجالا بنت سلیم، عائشہ بنت الٰہی بخش، راحت بی بی بنت غلام مرتضیٰ اور منازہ عرف طیبہ عباس شامل ہیں جن کی عمریں 17 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔

    متاثرہ طالبات کو تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اسپتال میں رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے جب والدین اور عزیز و اقارب غم سے نڈھال ہو گئے۔

    علاقہ مکینوں اور سوشل ورکرز نے ناقص سلنڈرز کے استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی اور مؤثر نگرانی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے دلخراش سانحات سے بچا جا سکے۔

  • اوکاڑہ: ٹریکٹر ٹرالی کھائی میں الٹ گئی، 25 سالہ نوجوان جاں بحق

    اوکاڑہ: ٹریکٹر ٹرالی کھائی میں الٹ گئی، 25 سالہ نوجوان جاں بحق

    اوکاڑہ (نامہ نگار، ملک ظفر) اوکاڑہ کے نواحی علاقے 36 جوڑے روڈ پر افسوسناک حادثے میں ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق مٹی سے بھری ٹریکٹر ٹرالی کا ٹائر اچانک برسٹ ہو گیا جس کے باعث وہ بے قابو ہو کر کھائی میں جا گری۔

    حادثہ چک نمبر 6 سے چک 9 فارم والا کے قریب پیش آیا، جہاں ٹرالی پر سوار 25 سالہ نوجوان شاہد ولد اسلم سکنہ چک نمبر 11 فور ایل، ٹرالی کے نیچے دب گیا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور نوجوان کو بیہوشی کی حالت میں ٹرالی کے نیچے سے نکالا۔

    ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر ہی نوجوان کو سی پی آر دینے کی کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ حادثے کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی مکمل کی، جس کے بعد متوفی کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثہ تیز رفتاری اور بوسیدہ ٹائر کے باعث پیش آیا۔ علاقہ مکینوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ پرانی اور خراب ٹرالیوں کی فٹنس کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے جان لیوا حادثات سے بچا جا سکے۔

  • اوکاڑہ: جبوکہ روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 خطرناک ڈاکو ہلاک، 2 فرار

    اوکاڑہ: جبوکہ روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 خطرناک ڈاکو ہلاک، 2 فرار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ کے علاقے جبوکہ روڈ پر پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان ہونے والے مقابلے میں دو خطرناک ملزمان ہلاک جبکہ ان کے دو ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے دونوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ پولیس کے مطابق یہ ملزمان علاقے میں خوف کی علامت سمجھے جاتے تھے۔

    ڈسٹرکٹ آفیسر کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) مہر محمد یوسف کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت صدی مراثی اور علی شیر وٹو کے ناموں سے ہوئی ہے۔ صدی مراثی پر ڈکیتی، موٹر سائیکل چوری، نقب زنی سمیت 32 سنگین مقدمات درج تھے جبکہ علی شیر وٹو کے خلاف ڈکیتی، گاڑی چوری اور نقب زنی سمیت 72 مقدمات زیرِ تفتیش تھے۔

    واقعے کے بعد سی سی ڈی پر حملہ، مزاحمت، قتل اور اسلحہ برآمدگی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ جائے وقوعہ سے دو پسٹل اور متعدد گولیاں بھی برآمد ہوئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے دونوں ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور وہ جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

    ریجنل آفیسر سی سی ڈی ساہیوال ریجن ساجد کھوکھر اور ڈی او اوکاڑہ مہر محمد یوسف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ اور امن و امان کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے۔ عوام نے خطرناک ڈاکوؤں کی ہلاکت پر سکھ کا سانس لیا ہے۔ پولیس کی جانب سے مزید کارروائیاں جاری ہیں۔

  • دریائے جہلم میں نہاتے ہوئے 2 نوجوان ڈوب گئے، 15 سالہ عبد الرحمان جاں بحق

    دریائے جہلم میں نہاتے ہوئے 2 نوجوان ڈوب گئے، 15 سالہ عبد الرحمان جاں بحق

    دریائے جہلم میں نہاتے ہوئے دو نوجوان ڈوب گئے، جن میں سے ایک جاں بحق جبکہ دوسرے کو بروقت کارروائی کے ذریعے بچا لیا گیا۔

    افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب دو نوجوان دریا میں نہا رہے تھے، اس دوران پانی کی گہرائی کے باعث دونوں لڑکے ڈوبنے لگے۔ امدادی ٹیموں اور مقامی افراد کی مدد سے ایک نوجوان کو زندہ بچا لیا گیا جبکہ دوسرے کی لاش بعد میں نکالی گئی۔جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت 15 سالہ عبد الرحمان کے نام سے ہوئی ہے، جو جہلم کے علاقے عید گاہ کا رہائشی تھا۔ عبد الرحمان کی لاش کو ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔

    دوسرے نوجوان کی شناخت 14 سالہ علی حسن کے طور پر ہوئی ہے، جسے بچانے کے بعد ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

    ایران میں کارروائی امن کے لیے کی، کشیدگی ناگزیر حد تک بڑھ چکی تھی: امریکی ترجمان

    غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری، مزید 85 فلسطینی شہید

    مالی سال 25-2024: سونے کی قیمت میں 1 لاکھ روپے سے زائد کا اضافہ

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا سی ایم ایچ پشاور کا دورہ، زخمی اہلکاروں کی عیادت

    قومی ٹی20 اسکواڈ کا اعلان رواں ہفتے متوقع، بابر اعظم اور رضوان کی شمولیت مشکوک

  • واربرٹن: خودسوزی کرنے والا شخص دم توڑ گیا، صدمے سے والد بھی انتقال کرگئے

    واربرٹن: خودسوزی کرنے والا شخص دم توڑ گیا، صدمے سے والد بھی انتقال کرگئے

    واربرٹن (باغی ٹی وی، نامہ نگار عبدالغفار چوہدری) واربرٹن کے نواحی گاؤں جسلانی خورد میں دل خراش واقعہ پیش آیا، جہاں گھریلو حالات سے دلبرداشتہ ہو کر خودسوزی کرنے والا سخاوت علی دم توڑ گیا، جبکہ بیٹے کی موت کی خبر سنتے ہی اس کے والد بھی صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے انتقال کر گئے۔

    تفصیلات کے مطابق سخاوت علی، جو کہ 6 بچوں کا باپ تھا، نے چار روز قبل اپنے کھیتوں میں پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگا لی تھی۔ وہ بری طرح جھلس گیا تھا جسے ابتدائی طور پر ڈی ایچ کیو اسپتال ننکانہ منتقل کیا گیا، بعد ازاں تشویشناک حالت کے باعث لاہور اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ تاہم چار روز تک زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد وہ جاں بر نہ ہو سکا۔

    سخاوت علی کی میت جب آبائی گاؤں پہنچی تو اس کے والد بیٹے کی موت کا صدمہ برداشت نہ کر سکے اور دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ دونوں باپ بیٹے کی نماز جنازہ ایک ساتھ ادا کی گئی جس میں اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں انہیں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

    علاقے میں اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور سوگ کی فضا قائم ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: زہریلے آم تلف، کیمیکل پکڑ گیا، 94 ہزار جرمانہ

    ڈیرہ غازی خان: زہریلے آم تلف، کیمیکل پکڑ گیا، 94 ہزار جرمانہ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)آم کو زبردستی پکانے کے لیے ممنوعہ کیمیکل کیلشیم کاربائیڈ کے خلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بھرپور کارروائی، ڈائریکٹر آپریشنز شہزاد مگسی کی سربراہی میں 216 مقامات پر انسپکشن کی گئی، جہاں سے 117 کلو کاربائیڈ اور 95 کلو آم ضبط کر کے موقع پر تلف کر دیے گئے۔

    انسپکشن کے دوران فروٹ منڈیوں، باغات اور پھل بردار گاڑیوں کو چیک کیا گیا۔ زہریلے کیمیکل کے استعمال پر 94 ہزار روپے کے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔

    ترجمان کے مطابق یہ آپریشن ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی محمد عاصم جاوید کی خصوصی ہدایت پر کیا گیا تاکہ عوام تک محفوظ اور صحت بخش خوراک پہنچائی جا سکے۔

    ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ آموں کو کیلشیم کاربائیڈ سے پکانا قانونی اور انسانی صحت کے خلاف جرم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زہریلے آم کینسر، معدے، گردے اور اعصابی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔

    انہوں نے تاجروں اور باغبانوں کو خبردار کیا کہ قدرتی طریقے سے آموں کو پکانے کی روایت کو اپنایا جائے، ورنہ قانونی کارروائی سے گریز ممکن نہیں ہوگا۔

  • اوچ شریف:قیامت ٹل گئی، میپکو کے خستہ حال کھمبے گھروں پر گر گئے،واپڈاکو لاشوں کا انتظار؟

    اوچ شریف:قیامت ٹل گئی، میپکو کے خستہ حال کھمبے گھروں پر گر گئے،واپڈاکو لاشوں کا انتظار؟

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے چناب رسول پور، بستی مقبول آرائیں میں میپکو کی مجرمانہ غفلت اور ایس ڈی او ملک ظفر اقبال کلیار کی بدترین نااہلی کے باعث ایک ہولناک سانحہ پیش آیا۔ خستہ حال بجلی کے تین دیو ہیکل کھمبے اچانک گر کر سیدھے گھروں پر جا گرے۔ یہ اللہ کا خاص کرم تھا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ورنہ یہ علاقہ موت کا کھیل بن چکا ہوتا۔ اس واقعے نے میپکو حکام کی انسانی جانوں کے تئیں سنگین بے حسی اور لاپروائی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے غم و غصے میں بتایا کہ انہوں نے بارہا میپکو کو ان بوسیدہ کھمبوں کی تبدیلی کے لیے تحریری درخواستیں دیں اور زبانی شکایات بھی کیں، مگر ہر بار انہیں محض "نوٹ کر لیا گیا ہے” کا روایتی جواب دے کر ٹال دیا گیا۔ ایس ڈی او اوچ شریف، ملک ظفر اقبال کلیار، کی عدم دستیابی اور لاپروائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انہیں عوام کے تحفظ کی ذرا بھی پرواہ نہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے عوامی تحفظ ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔

    کھمبوں کے گرنے سے پورا علاقہ بجلی سے محروم ہو چکا ہے اور بجلی کی ننگی تاریں گھروں کے صحنوں اور گلیوں میں بکھر گئیں جو کسی بھی وقت ایک نیا حادثہ پیدا کر سکتی تھیں۔ اہل علاقہ خوف و ہراس میں مبتلا ہیں، خصوصاً بچے، خواتین اور بزرگوں کی نقل و حرکت انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔ ایمرجنسی میں واپڈا حکام کو فون کر کے بجلی بند کروائی گئی، جس سے ایک بڑا المیہ ٹل گیا۔

    اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ "کیا میپکو جیسے قومی ادارے صرف بل بھیجنے اور تنخواہیں لینے کے لیے بنائے گئے ہیں؟ جب عوام کی جانیں ہی محفوظ نہ ہوں، تو ان اداروں کا وجود کس مقصد کے لیے ہے؟” انہوں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ایس ڈی او ملک ظفر اقبال کلیار کو فوری طور پر معطل کر کے انکوائری کی جائے، علاقے کے تمام خستہ حال کھمبوں کو فوری تبدیل کیا جائے، اور متاثرہ گھروں کو نقصان کا ازالہ دیا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اب صرف وعدوں سے بات نہیں بنے گی، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومتِ پنجاب، وفاقی وزارتِ توانائی، اور میپکو ہیڈ آفس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس پالیسیاں وضع کریں۔

  • اوکاڑہ: نالے میں نہاتے ہوئے دو معصوم بھائی ڈوب کر جاں بحق، گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی

    اوکاڑہ: نالے میں نہاتے ہوئے دو معصوم بھائی ڈوب کر جاں بحق، گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ کے نواحی علاقے 36 جوڑے روڈ پر واقع بستی غلام آباد میں ایک المناک واقعہ پیش آیا، جہاں دو سگے بھائی نالے میں نہاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 6 اور 8 سال تھیں، جو محنت کش لیاقت علی کے بیٹے تھے۔

    ذرائع کے مطابق چھ سالہ وارث اور آٹھ سالہ احمد گھر کے قریب واقع نالے میں نہانے کے لیے گئے، مگر کافی دیر تک واپس نہ آئے۔ بچوں کی تاخیر پر لواحقین کو تشویش ہوئی اور وہ تلاش کرتے ہوئے نالے پر پہنچے۔ نالے میں اترنے پر دونوں بچوں کو نیم بیہوشی کی حالت میں نکالا گیا اور فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں اور راستے میں بچوں کو سی پی آر دینے کی کوشش کی گئی، مگر دونوں بچے جانبر نہ ہو سکے۔ ریسکیو اہلکاروں نے ضروری کارروائی کے بعد لاشیں لواحقین کے حوالے کر دیں۔

    جاں بحق بچوں کی میتیں جب گھر پہنچیں تو کہرام مچ گیا، ماں باپ غم سے نڈھال، بہن بھائی اور اہلِ محلہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ بستی غلام آباد کی فضا سوگوار ہو گئی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔ علاقے میں گہرے رنج و الم کی کیفیت طاری ہے۔