Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • ننکانہ: زیڈ بلاک گندے پانی میں ڈوبا، سیوریج بند، میونسپل افسران کی لڑائی سے عوام بے حال

    ننکانہ: زیڈ بلاک گندے پانی میں ڈوبا، سیوریج بند، میونسپل افسران کی لڑائی سے عوام بے حال

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ننکانہ صاحب ہاؤسنگ کالونی زیڈ بلاک کے مکین گزشتہ پانچ روز سے شدید اذیت میں مبتلا ہیں، جہاں بند سیوریج لائنوں نے پورے علاقے کو بدبو، گندگی، تعفن اور مچھروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ گلیاں اور سڑکیں گندے پانی سے بھر چکی ہیں، اسکول جانے والے بچے، بزرگ اور بیمار افراد گھروں میں محصور ہو چکے ہیں۔ بدترین صورتحال کے باوجود میونسپل کمیٹی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی بار شکایات کے باوجود تاحال کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

    زیڈ بلاک، جو شہر کے مہنگے رہائشی علاقوں میں شمار ہوتا ہے، آج گندے پانی کے جوہڑ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مکینوں کے مطابق رات دن بدبو کے بھبکے اٹھتے ہیں، مچھر گھروں کے اندر تک داخل ہو چکے ہیں، اور بیماریاں پھیلنے کا خدشہ شدید ہوتا جا رہا ہے۔

    صورتحال کی سنگینی اس وقت دوگنی ہو گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ قائم مقام چیف آفیسر راؤ انوار اور میونسپل آفیسر سروسز صدام کے درمیان چپقلش اور اختیارات کی جنگ نے پورے بلدیاتی نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ عملہ بے یار و مددگار ہے، صفائی و نکاسی کی مشینری نایاب ہے، سیورمین بانس، رسے، لہو کی تار اور دیگر ضروری سامان کے بغیر ننگے ہاتھوں سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک طرف میونسپل ادارے کو عملے اور وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے، دوسری طرف افسران کی باہمی رنجش عوام کے لیے عذاب بن چکی ہے۔

    ذرائع کے مطابق سسٹم کی اس مکمل ناکامی کے نتیجے میں بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ گندے پانی میں ڈینگی، ٹائیفائیڈ، اور ہیضے جیسے امراض کا امکان بڑھ رہا ہے، لیکن متعلقہ افسران کی لاپرواہی برقرار ہے۔

    علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ اور ایڈمنسٹریٹر شہزاد کھوکھر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے زیڈ بلاک کی بند سیوریج لائن کو کھولا جائے، مستقل بنیادوں پر نئی سیوریج لائن ڈالی جائے، صفائی کے لیے مشینری، بانس، تار، رسہ اور دیگر بنیادی سامان مہیا کیا جائے، اور میونسپل افسران کو ان کے دائرہ اختیار میں رہ کر فرائض انجام دینے کا پابند بنایا جائے۔

    شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار ڈی سی آفس اور میونسپل کمیٹی تک بڑھا دیا جائے گا۔

  • سیالکوٹ: پولیس نے کروڑوں کی چوری کا معمہ چند دنوں میں حل کر لیا، 2 خواتین سمیت 3 ملزمان گرفتار، 2 کروڑ کا مسروقہ مال برآمد

    سیالکوٹ: پولیس نے کروڑوں کی چوری کا معمہ چند دنوں میں حل کر لیا، 2 خواتین سمیت 3 ملزمان گرفتار، 2 کروڑ کا مسروقہ مال برآمد

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت، تکنیکی تفتیش اور تیز رفتاری سے گھر میں ہونے والی کروڑوں روپے کی چوری کا معمہ قلیل وقت میں حل کر کے نہ صرف عوام کا اعتماد بحال کیا بلکہ 2 خواتین سمیت 3 مرکزی ملزمان کو گرفتار کر کے 2 کروڑ روپے مالیت کا مسروقہ سامان بھی اصل مالک کے حوالے کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق 25 جون کو تھانہ حاجی پورہ کی حدود میں واقع مبارک پورہ میں شہری شیخ عبدالجلیل کے گھر سے نامعلوم ملزمان نے بڑی واردات کے دوران 50 لاکھ روپے نقدی، 31 تولے سونا اور 10 مختلف ممالک کی غیر ملکی کرنسی چوری کر لی تھی۔ کرنسی میں 5,900 امریکی ڈالر، 3,910 یورو، 1,360 برطانوی پاؤنڈ، 16,000 جاپانی ین، 20,000 جنوبی کورین وون، 530 سعودی ریال، 1,100 بھارتی روپے، 50 سنگاپور ڈالر اور 240 مصری پاؤنڈ شامل تھے۔

    ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی سٹی اور ایس ایچ او حاجی پورہ کو خصوصی ٹاسک دیا۔ پولیس ٹیم نے جدید سائنسی خطوط، سی سی ٹی وی فوٹیج، ٹیکنیکل ڈیٹا اور خفیہ معلومات کی مدد سے چوری میں ملوث 2 خواتین حضرت، علیزہ اور ایک مرد احمد صابر کو گرفتار کر لیا۔ حیران کن طور پر یہ تینوں ملزمان نہ صرف آپس میں سگے بہن بھائی ہیں بلکہ متاثرہ خاندان کے قریبی عزیز بھی نکلے۔

    پولیس نے گرفتار ملزمان کے قبضے سے تمام مسروقہ مال برآمد کر لیا، جسے قانونی کارروائی کے بعد متاثرہ شخص کے حوالے کر دیا گیا۔ بعد ازاں تینوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا۔

    ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے اس کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے تعریفی اسناد اور نقد انعام دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ:
    "سیالکوٹ پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔”

    یہ کامیابی نہ صرف سیالکوٹ پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے بلکہ پولیس قیادت کی مؤثر نگرانی اور تفتیشی ٹیم کی محنت کا نتیجہ بھی ہے۔

  • کراچی میں 13 کروڑ کی ڈکیتی کرنے والے بہن بھائی ٹک ٹاکر نکلے

    کراچی میں 13 کروڑ کی ڈکیتی کرنے والے بہن بھائی ٹک ٹاکر نکلے

    کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں ایک تاجر کے گھر پر 13 کروڑ روپے کی ڈکیتی کرنے والے بہن بھائی ٹک ٹاکر ثابت ہوئے ہیں۔

    تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزمان کی پاکستانی اور بھارتی فنکاروں کے ساتھ تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔ اس مقدمے میں بہن بھائی سمیت کل 4 ملزمان گرفتار کر لیے گئے ہیں۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے لوٹی گئی رقم اور قیمتی اشیاء کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ واقعے کی 4 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز بھی مل چکی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہری سالک گھر کے باہر اپنی گاڑی پر کپڑا ڈال رہا ہے جب کالے رنگ کی گاڑی میں ملزمان اس کے قریب پہنچتے ہیں۔

    سی سی ٹی وی فوٹیجز میں دو برقعہ پوش خواتین اور دو مرد مسلح حالت میں تاجر سالک کے گھر داخل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک برقعہ پوش خاتون کے ہاتھ میں خالی بیگ بھی دیکھا گیا ہے۔ ملزمان نے اہلِ خانہ کو یرغمال بنا کر لوٹ مار کی اور واپس جاتے وقت بھرا ہوا بیگ بھی لے جاتے دکھائی دیے۔

    پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں اور دیگر ملوث افراد کی تلاش میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    7 مئی کو پاک فضائیہ نے بھارتی جنگی جہاز مار گرائے،بھارتی دفاعی اتاشی کا اعتراف

    کراچی، مختلف واقعات میں 5 افراد جاں بحق، 4 زخمی

    فیلڈ مارشل سے ایرانی آرمی چیف کا ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان کے عوام کا شکریہ

    مولانا فضل الرحمٰن کا دھاندلی، سیاست، فاٹا انضمام اور فلسطین پر دو ٹوک مؤقف

    ’اپنا میٹر اپنی ریڈنگ‘ ایپ،کے الیکٹرک کو تاحال نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا

  • واربرٹن: آندھی سے چھت سے گری سولر پلیٹ، 17 ماہ کا بچہ جاں بحق

    واربرٹن: آندھی سے چھت سے گری سولر پلیٹ، 17 ماہ کا بچہ جاں بحق

    واربرٹن (نامہ نگار عبدالغفار چوہدری) واربرٹن شہر اور گردونواح میں آنے والی تیز آندھی نے ایک معصوم جان لے لی۔

    محلہ عیدگاہ نزد مدرسہ جامعہ امینیہ رضویہ میں آندھی کے دوران ایک ہمسائے کے گھر کی چھت پر نصب سولر پلیٹ اڑ کر نیچے آ گری، جو صحن میں کھیلتے 17 ماہ کے معصوم محمد موسیٰ ولد شاہ زیب انور پر آ گری،جس سے معصوم بچہ شدید زخمی ہوگیا،

    شدید زخمی ہونے والےبچے کو المصطفیٰ ویلفیئر ایمبولینس کے ذریعے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ واقعے پر اہلِ علاقہ افسردہ اور سوگوار ہیں۔

  • سیالکوٹ: خواجہ آصف کی سانحۂ سوات متاثرین سے تعزیت، ریسکیو نظام اور حکومتی غفلت پر شدید تنقید

    سیالکوٹ: خواجہ آصف کی سانحۂ سوات متاثرین سے تعزیت، ریسکیو نظام اور حکومتی غفلت پر شدید تنقید

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، شاہد ریاض)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سانحہ سوات کے متاثرین سے تعزیت کے لیے ڈسکہ پہنچے، جہاں انہوں نے سیلابی ریلے میں جاں بحق ہونے والے خاندانوں سے ملاقات کی اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے سانحہ سوات کو ایک ناقابلِ بیان المیہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "بیٹی کے سامنے اس کے بچے پانی میں بہہ گئے، یہ ایسا صدمہ ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔” ان کا کہنا تھا کہ ایک بچہ تاحال لاپتہ ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔

    ریسکیو اداروں کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ یہ مکمل ریسکیو بریک ڈاؤن تھا، ٹیمیں خالی ہاتھ پہنچیں اور کوئی مناسب تیاری نظر نہ آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، لیکن آج تک کوئی مؤثر پالیسی یا حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے، جو قابل افسوس ہے۔

    خواجہ آصف نے مزید کہا کہ متاثرہ خاندان پر تو قیامت ٹوٹ پڑی، مگر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ موجودہ حکومت پر کوئی قیامت ٹوٹی یا نہیں۔ ان کے مطابق متاثرین کا مطالبہ ہے کہ ان افسران کو بحال کیا جائے جن کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، اور وہ خود بھی اس مؤقف سے متفق ہیں کہ متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک نہ چھڑکا جائے۔

    انہوں نے کہا: "اللہ کسی بدترین دشمن پر بھی ایسا وقت نہ لائے، حکمرانوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کو چھوڑ کر عوامی مفادات کو ترجیح دیں۔”

    خواجہ آصف نے آخر میں سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ عوام ہی فیصلہ کریں گے کہ حکمرانی واقعی کانٹوں کی سیج ہے یا نہیں۔

  • محسن، غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں …ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے

    محسن، غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں …ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے

    محسن، غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں… ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہد ریاض کی خصوصی رپورٹ)دریائے سوات کے کنارے آج پھر لہریں خاموش نہیں۔ وہ کسی بین کرتی ماں کی طرح چیخ رہی ہیں۔ آج پھر پانی کا شور نہیں بلکہ معصوم جانوں کی سسکیوں کا ماتم سنائی دے رہا ہے۔ سیالکوٹ، ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کی 12 زندگیاں لمحوں میں بہہ گئیں۔ نہ کوئی جنگ تھی، نہ دہشت گرد حملہ، صرف ریاستی غفلت تھی۔ یہ واقعہ قدرت کا عذاب نہیں بلکہ انسانوں، اور درحقیقت حکومتوں کے پیدا کردہ ظلم کا نتیجہ ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمران اپنے محلوں کے آرام میں مدہوش ہوں اور ریاست کا وجود صرف پروٹوکول تک محدود رہ جائے، تو پھر حادثے نہیں بلکہ سانحے جنم لیتے ہیں — وہ سانحے جو خون رلاتے ہیں۔ دریائے سوات کے کنارے وہ لمحہ تاریخ کے ماتھے پر سیاہ دھبے کی صورت نقش ہو چکا ہے، جب ایک خاندان خوشی خوشی آیا اور واپسی پر لاشوں میں تبدیل ہو چکا تھا۔

    بارہ زندگیاں ، جن میں معصوم بچے، خواتین، والدین، بہن بھائی، اور ایک چار سالہ بچی شامل تھی، جو شاید آخری بار صرف اتنا بولی ہو گی:
    "بابا، مجھے بچا لو!”
    اور اپنے بابا کے کندھوں پر چڑھ گئی۔
    مگر وہ نہ جانتی تھی کہ یہ پاکستان ہے . یہاں عوام کے بچوں کے لیے نہ کندھے محفوظ ہیں اور نہ میسر۔

    کیا یہ اٹھارہ افراد، بشمول اس معصوم بچی کے، غیر ملکی سیاح ہوتے تو ہیلی کاپٹر آ جاتا؟
    کیا وہ کسی وزیر، مشیر یا اشرافیہ کے رشتہ دار ہوتے تو ریسکیو ٹیمیں پلک جھپکتے پہنچ جاتیں؟
    مگر افسوس! وہ صرف "عام پاکستانی” تھے۔
    نہ ہیلی کاپٹر آیا، نہ ریاست جاگی، نہ کوئی بچانے والا پہنچا۔

    یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ سوات انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ خیبر پختونخواہ کی حکومت جو "سیاحت کے فروغ” کے خواب دکھاتی رہی، جو بل بورڈز پر پہاڑ، دریا، اور جنگلات کی خوبصورتی دکھا کر فخریہ دعوے کرتی رہی . وہ حکومت ایک سادہ سا انتباہی بورڈ بھی نہ لگا سکی، نہ کوئی حفاظتی انتظامات کیے، نہ کوئی واچ ٹیم تعینات کی۔

    حضرت عمرؓ کا قول آج بھی تاریخ کی دیواروں پر گونجتا ہے:
    "اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی پیاسا مر جائے تو روزِ قیامت عمرؓ سے اس کی بازپرس ہو گی!”
    لیکن یہاں؟ دریائے سوات کے کنارے بارہ انسان ڈوب گئے اور نہ کوئی پوچھنے والا، نہ کوئی شرمندگی سے سر جھکانے والا۔

    یہ جانیں اگر کسی دہشت گردی یا دشمن کے حملے میں نہ بھی گئیں، تو حکومتی نااہلی اور بےحسی کی وجہ سے ضرور قتل ہوئیں۔
    تاریخ بتاتی ہے کہ بغداد کے زوال سے قبل دریا بہتے تھے، مگر انصاف اور غیرت مر چکے تھے۔
    آج سوات میں بھی دریا بہہ رہا تھا مگر ساتھ ہی ریاستی شعور، انسانی ہمدردی، اور حکومتی ذمہ داری بھی بہہ گئی۔

    خیبر پختونخواہ کی انتظامیہ میٹنگز میں "تصویری سیاحت” کی منصوبہ بندی میں مصروف تھی،
    مگر دریا کی لہروں میں ڈوبتی انسانیت کی آہیں کسی وزیر، مشیر، یا افسر کی سماعت تک نہ پہنچ سکیں۔

    یہ تحریر ایک سوال ہے…
    ایک سوال اُس معصوم بچی کی طرف سے…
    جس نے بس اتنا چاہا تھا کہ:
    "بابا، بچا لیں مجھے”
    مگر ریاستی سستی نے اس کا بابا بھی اس سے چھین لیا۔

    کب تک ہم لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟
    کب تک صرف فاتحہ پڑھ کر آگے بڑھ جائیں گے؟
    کب تک حکمرانوں کے محل روشن اور عوام کی قبریں تاریک رہیں گی؟

    یہ صرف ایک خاندان کی موت نہیں،
    یہ خیبر پختونخواہ کی ناکام حکمرانی کا نوحہ ہے….
    جہاں سیاحت کے نام پر اشتہار تو لگائے گئے، وائرل ویڈیوز تو بنائی گئیں،
    مگر دریا کنارے عوام کے تحفظ کے لیے نہ کوئی سیفٹی پلان، نہ ریگولیشن، نہ تربیت، نہ جان کی قدر کی گئی۔

    یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ذی شعور پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں:
    ریسکیو کہاں تھا؟ سول ڈیفنس کہاں تھا؟ پولیس؟ وارننگ دینے والا کوئی عملہ؟
    اگر پانی کا بہاؤ بڑھ رہا تھا تو پیشگی اطلاع کیوں نہ دی گئی؟
    اگر دریا کنارے ناجائز تجاوزات تھیں تو ان کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟

    خدارا!
    سیاحت صرف خوبصورت وادیوں، پہاڑوں، اور پوسٹروں کا نام نہیں ….
    سیاحت تحفظ مانگتی ہے، سہولتیں مانگتی ہے اور ذمہ داری مانگتی ہے۔

    یہ جاگنے کا وقت ہے۔
    ورنہ ایک دن یہ دریا ہمیں بھی نگل جائیں گے۔

  • گوجرانوالہ: بیٹیوں کے قتل کیس میں والدین ہی قاتل نکلے

    گوجرانوالہ: بیٹیوں کے قتل کیس میں والدین ہی قاتل نکلے

    گوجرانوالہ کے علاقے نوشہرہ ورکاں میں قتل کی جانے والی دو بہنوں کے کیس میں نیا موڑ سامنے آگیا، پولیس نے مقتولہ لڑکیوں کے والدین کو ہی گرفتار کر لیا۔

    ابتدائی طور پر یہ مقدمہ 19 مئی کو نامعلوم افراد کے خلاف ڈکیتی اور قتل کے الزامات کے تحت والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈاکو 9 لاکھ روپے لے گئے اور دو بیٹیوں کو قتل کر دیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران والدین ہی اصل قاتل نکلے۔ قتل کا آلہ اور وہ رقم بھی برآمد کر لی گئی ہے جس کے متعلق والد نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکو لے گئے۔

    عدالت نے والدہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل گوجرانوالہ منتقل کر دیا جبکہ والد کو جسمانی ریمانڈ پر تحقیقاتی ٹیم کے سپرد کیا گیا۔ عدالت نے 26 جون کو دوبارہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے 30 جون تک ریمانڈ منظور کر لیا۔

    تفتیشی افسر کا بیان
    ڈی ایس پی کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ انصر موہل کے مطابق، تفتیش سے اب تک یہ بات سامنے آئی ہے کہ صرف دونوں میاں بیوی اس قتل میں ملوث ہیں، اور کوئی تیسرا شخص اس کیس میں شامل نہیں۔

    📌 مقدمے کی ابتدائی تفصیل
    والد نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 22 سال سے اٹلی میں مقیم تھے اور واقعے سے چند روز قبل پاکستان آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بینک سے 12 لاکھ روپے نکالے جن میں سے 9 لاکھ روپے بڑی بیٹی کے حوالے کیے، اور ڈاکو ان کی آنکھوں کے سامنے بیٹیوں کو قتل کرکے رقم لے گئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران والد کے بیان میں تضادات سامنے آئے، جس پر شک کی بنیاد پر والدین کو گرفتار کیا گیا اور سچائی سامنے آ گئی۔پولیس نے عدالت کو ہدایت دی ہے کہ کیس کا چالان جلد مکمل کر کے پیش کیا جائے تاکہ باقاعدہ ٹرائل شروع ہو سکے۔

    Ask ChatGPT

  • اوچ شریف: سگے بیٹے کا جائیداد کے لیے ماں پر بہیمانہ تشدد، پولیس بےحس تماشائی

    اوچ شریف: سگے بیٹے کا جائیداد کے لیے ماں پر بہیمانہ تشدد، پولیس بےحس تماشائی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)تھانہ اوچ شریف کی حدود بستی پہلوان والی میں انسانیت کو شرما دینے والا واقعہ سامنے آیا، جہاں جائیداد کی لالچ میں ایک بیٹے نے ماں جیسے مقدس رشتے کو داغدار کر دیا۔ مقامی شخص عطا حسین نے اپنی بیوی شہناز اور سالی شاریہ کے ساتھ مل کر اپنی ضعیف ماں پٹھانی مائی پر وحشیانہ تشدد کیا، ان کے سر کے بال نوچ ڈالے اور بہنوں کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ماں کو بدترین بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔

    ذرائع کے مطابق، جب پٹھانی مائی نے اس ظلم کے خلاف مزاحمت کی تو اُسے مزید مارا پیٹا گیا۔ دکھ اور بے بسی کی تصویر بنی ضعیف ماں تھانہ اوچ شریف پہنچی، مگر پولیس نے نہ کوئی کارروائی کی نہ شنوائی کی زحمت گوارا کی۔

    پٹھانی مائی نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے ہاتھ جوڑ کر فریاد کی ہے کہ وہ اس ظلم سے بچائیں۔ روتے ہوئے اس نے کہا، "بی بی جی! میرا بیٹا درندہ بن چکا ہے، اور پولیس بھی اُس کی پشت پر ہے۔ اگر میری داد رسی نہ ہوئی تو میں خودکشی کر لوں گی۔”

    علاقہ مکینوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ مظلوم ماں کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے اور ظالم بیٹے و اس کے ساتھیوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس دلخراش واقعے نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی کو بے نقاب کیا ہے بلکہ معاشرتی اقدار کی پستی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

  • تنگوانی: ایک دن میں پانچ ڈکیتیاں، ڈاکو پولیس کے سامنے دندناتے رہے، عوام بے یار و مددگار

    تنگوانی: ایک دن میں پانچ ڈکیتیاں، ڈاکو پولیس کے سامنے دندناتے رہے، عوام بے یار و مددگار

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی اور گردونواح میں ڈاکوؤں کا راج برقرار، پولیس رٹ مکمل طور پر کمزور پڑ گئی۔ ایک ہی دن میں پانچ ڈکیتیوں کی وارداتیں رونما ہو گئیں، جن میں بیشتر وارداتیں دن دہاڑے اور بعض پولیس چوکی کے سامنے ہوئیں، مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔

    پہلی واردات میں ڈاکوؤں نے ہیبت خان باجکانی کے قریب گڈو نہر پر ارشاد احمد باجکانی کا دو بھینسوں سے بھرا ہوا ڈاٹسن اس وقت لوٹ لیا جب وہ ڈرائیور سمیت گھر جا رہا تھا۔ ڈاکو ڈرائیور اور مالک کو رسیوں سے باندھ کر گاڑی اور مویشی لے اُڑے۔

    دوسری واردات مانجھی پل کے قریب غلام یاسین لاشاری کے ساتھ پیش آئی، جہاں ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر اس سے موٹر سائیکل، نقدی اور موبائل فون چھین لیا۔

    تیسری واردات انتہائی حیران کن اور خوفناک تھی، جب ڈاکو کرم پور کے قریب پولیس چوکی کے عین سامنے لقمان گولو کی مچھلی سے بھری ہوئی ڈاٹسن لوٹ کر فرار ہو گئے۔ اس واقعے پر مشتعل گولا برادری نے احتجاجاً سڑک بلاک کر دی، جس کے باعث دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، تاہم تاحال پولیس کی جانب سے کوئی ایکشن سامنے نہیں آیا۔

    چوتھی واردات میں سبزل باجکانی کے قریب ایک شہری سے موٹر سائیکل، موبائل اور نقد رقم چھینی گئی، جبکہ پانچویں واردات تھانہ ڈیرہ سرکی کی حدود میں پیش آئی، جہاں ڈاکووں نے دیدہ دلیری سے لوٹ مار کر کے فرار ہو گئے۔

    مسلسل وارداتوں اور پولیس کی مجرمانہ خاموشی سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈاکو سرعام دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ پولیس کی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ عوام نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر ڈاکوؤں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

  • طلاق سے غصہ شخص نے چلتی ٹرین کو آگ لگا دی

    طلاق سے غصہ شخص نے چلتی ٹرین کو آگ لگا دی

    ایک شخص نے طلاق کے فیصلے پر غصے میں آ کر میٹرو ٹرین میں پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جس سے ٹرین میں بھگدڑ مچ گئی اور چھ افراد زخمی ہو گئے۔

    یہ افسوسناک واقعہ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں پیش آیا،67 سالہ ملزم جس کی شناخت ”وون“ کے نام سے ہوئی ہے، اس پر الزام ہے کہ اس نے 31 مئی کو صبح کے اوقات میں چلتی ٹرین میں آگ لگا کر مسافروں کی جان خطرے میں ڈالی، واقعے کی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ سفید ٹوپی پہنے شخص نے مصروف میٹرو کوچ میں اچانک فرش پر پٹرول چھڑک دیا جس سے مسافروں میں کھلبلی مچ گئی۔

    جیسے ہی پٹرول زمین پر پھیلا مسافر گھبرا کر بھاگنے لگے۔ ایک خاتون جلدی میں پھسل کر گر گئیں اور اس کے جوتے وہیں رہ گئے۔ چند لمحوں بعد مذکورہ شخص کو گھٹنے ٹیک کر آگ لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔

    ملزم کو گرفتار کر کے اس پر قتل کی کوشش اور آتشزدگی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے پولیس کے مطابق وون نے تفتیش میں بتایا کہ وہ طلاق کے فیصلے سے شدید دلبرداشتہ تھا اور اس نے کئی ہفتے قبل ہی پٹرول خرید لیا تھاابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اس کی سابقہ بیوی بھی ٹرین میں موجود تھی یا نہیں۔

    استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس فعل کے ذریعے نہ صرف آگ بھڑکائی گئی بلکہ زہریلی گیسوں کے اخراج سے مسافروں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئیں جو ایک دہشت گردی کے مترادف جرم ہے۔ اگر انخلاء میں دیر ہو جاتی تو جانی نقصان بہت زیادہ ہو سکتا تھا،حکام کے مطابق چھ افراد زخمی ہوئے، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کو جلنے کی چوٹیں آئیں یا نہیں۔