Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • ڈسکہ سانحہ سوات: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر کا لواحقین سے اظہارِ تعزیت، شہر کی فضا سوگوار

    ڈسکہ سانحہ سوات: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر کا لواحقین سے اظہارِ تعزیت، شہر کی فضا سوگوار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) تحصیل بابوزئی، ضلع سوات میں پیش آنے والے المناک حادثے کے بعد ڈسکہ میں سوگ کی فضا چھا گئی۔ جی قربان ریسٹورنٹ بائی پاس روڈ کے قریب دریائے سوات میں ڈوبنے والے ایک ہی خاندان کے 10 افراد کی ہلاکت پر ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محترمہ صبا اصغر علی نے متاثرہ خاندان سے ان کے گھر جا کر تعزیت کی اور اس دل دہلا دینے والے سانحہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ”یہ سانحہ پوری قوم کے لیے ایک صدمہ ہے۔ ہم دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔”

    اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اقبال سنگھیڑا اور اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ عثمان غنی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ضلعی انتظامیہ نے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی میتیں گزشتہ شب وصول کیں اور تدفین سمیت تمام تر انتظامی امور کی نگرانی کی۔

    یاد رہے کہ یہ سانحہ اُس وقت پیش آیا جب ڈسکہ سے تعلق رکھنے والا خاندان سیر و تفریح کے لیے سوات گیا ہوا تھا۔ سوات بائی پاس کے مقام پر ایک ہوٹل کے قریب دریا کنارے ناشتہ کرتے ہوئے اچانک دریا میں تیز ریلا آ گیا جس نے فیملی کو دریا کے خشک حصے میں بیٹھے ہوئے اچانک اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو آپریشن کے دوران آٹھ لاشیں نکال لی گئیں جبکہ مزید دو افراد لاپتہ تھے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریائے سوات میں اچانک ریلے کے باعث مختلف مقامات پر 70 افراد پھنس گئے تھے، جن میں سے 55 کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ آج ہونے والی تازہ پیش رفت میں مزید ایک سیاح کی لاش دریا سے نکال لی گئی ہے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہو چکی ہے جبکہ 3 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    آج ڈسکہ میں آٹھ جاں بحق افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں شہر بھر سے لوگوں نے شرکت کی۔ جنازوں کے موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی اور غم کی کیفیت چھائی رہی۔

    شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاحتی مقامات اور دریا کنارے ہوٹلوں پر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے ہولناک سانحات سے بچا جا سکے۔ اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف ایک خاندان کو غم میں مبتلا کیا بلکہ پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔

  • واربرٹن: پولیس کی بڑی کارروائی، ڈکیت گینگ سرغنہ سمیت گرفتار، لاکھوں کی نقدی و موٹرسائیکلیں برآمد

    واربرٹن: پولیس کی بڑی کارروائی، ڈکیت گینگ سرغنہ سمیت گرفتار، لاکھوں کی نقدی و موٹرسائیکلیں برآمد

    واربرٹن (نامہ نگارعبدالغفار چوہدری)پولیس کی بڑی کارروائی، ڈکیت گینگ سرغنہ سمیت گرفتار، لاکھوں کی نقدی و موٹرسائیکلیں برآمد

    تھانہ واربرٹن پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ڈکیت گینگ کے سرغنہ اعجاز عرف ججی اور اس کے ساتھی رضوان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے لاکھوں روپے نقدی، شہریوں سے چھینی گئی چار موٹرسائیکلیں اور ناجائز اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او ننکانہ صاحب سید ندیم عباس کی ہدایت پر واربرٹن پولیس نے انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کی، جس کے دوران ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے خلاف رابری اور موٹرسائیکل چوری سمیت 15 وارداتوں کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کا عمل جاری ہے اور مزید انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔

    ڈی پی او سید ندیم عباس نے پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈکیت گینگ کی گرفتاری پولیس کی پیشہ وارانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سماج دشمن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

  • اوکاڑہ: پولیس کی کارروائی، 11 کلو چرس برآمد، ڈرگ ڈیلر گرفتار

    اوکاڑہ: پولیس کی کارروائی، 11 کلو چرس برآمد، ڈرگ ڈیلر گرفتار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) تھانہ گوگیرہ پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے بدنامِ زمانہ ریکارڈ یافتہ ڈرگ ڈیلر محسن سرفراز کو گرفتار کر لیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق ملزم کے قبضے سے 11 کلوگرام اعلیٰ کوالٹی کی چرس برآمد کی گئی ہے۔

    ایس ایچ او سعید احمد بھٹی اور انچارج انویسٹی گیشن عظمت علی نے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران جھٹیانہ پل کے قریب چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کیا۔ ملزم کے خلاف امتناعِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ تفتیش جاری ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ محسن سرفراز ماضی میں بھی منشیات کے کئی مقدمات میں ملوث رہ چکا ہے۔ اس کامیاب کارروائی پر عوامی حلقوں نے پولیس کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ منشیات کے خلاف جاری مہم مزید شدت سے جاری رہے گی۔

  • اوکاڑہ: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں کٹوتی، چھاپہ مار ٹیم پر حملہ، مقدمہ درج

    اوکاڑہ: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں کٹوتی، چھاپہ مار ٹیم پر حملہ، مقدمہ درج

    اوکاڑہ (نامہ نگار، ملک ظفر)اوکاڑہ کے نواحی گاؤں چک نمبر 4/1 اے آر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم میں غیر قانونی کٹوتی اور چھاپہ مار ٹیم پر حملے کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر میڈم شرمین ناز کی سربراہی میں ٹیم نے باوثوق اطلاع پر چھاپہ مارا تو مزاحمت، حملہ اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق میڈم شرمین ناز کو اطلاع ملی کہ مذکورہ گاؤں میں خواتین سے دو، دو ہزار روپے کٹوتی کر کے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم تقسیم کی جا رہی ہے۔ اطلاع کی تصدیق کے بعد جب وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچیں تو شکیلہ نامی خاتون، پرویز اور وقار نے چار نامعلوم افراد کے ساتھ مل کر مزاحمت کی۔ حملہ آوروں نے سرکاری ڈرائیور کو گریبان سے پکڑ کر یرغمال بنایا، تشدد کا نشانہ بنایا اور گاڑی پر پتھراؤ بھی کیا۔

    ذرائع کے مطابق موقع پر موجود کئی خواتین کے ویڈیو بیانات بھی ریکارڈ کر لیے گئے ہیں جن میں کٹوتی اور رقم کی تقسیم کی تفصیلات شامل ہیں۔

    پولیس تھانہ صدر رینالہ خورد نے اس واقعے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ نمبر 450/25 درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر میں تین نامزد اور چار نامعلوم افراد کو سنگین دفعات کے تحت شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور جلد ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ غریب خواتین سے رقم کی کٹوتی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

  • بہاولپور: کھیلتے ہوئے کرنٹ لگنے سے دو سالہ بچہ جاں بحق

    بہاولپور: کھیلتے ہوئے کرنٹ لگنے سے دو سالہ بچہ جاں بحق

    بہاولپور(باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) کھیلتے ہوئے کرنٹ لگنے سے دو سالہ بچہ جاں بحق، علاقے میں کہرام

    بہاولپور کے علاقے بندرا پُل، امام بارگاہ والی گلی میں ایک المناک واقعہ پیش آیا جہاں کھیلتے ہوئے دو سالہ معصوم بچہ کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ جاں بحق ہونے والے بچے کی شناخت شہزاد ولد سہیل کے نام سے ہوئی ہے، جو کھیل کے دوران گھر کے باہر رکھے چلتے پیڈسٹل فین سے ٹکرا گیا، اور زوردار جھٹکے سے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    ریسکیو 1122 ذرائع کے مطابق اہل علاقہ نے فوراً اطلاع دی، مگر جب ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچی تو بچہ زندگی کی آخری سانسیں لے چکا تھا۔ ابتدائی معائنے میں تصدیق ہوئی کہ کرنٹ کی شدت سے بچے کی موت واقع ہو چکی ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا پھیل گئی، ہر آنکھ اشکبار اور دل غمزدہ تھا۔ بچے کے لواحقین شدید صدمے کی حالت میں ہیں اور انہوں نے میت کو اسپتال منتقل کرنے سے انکار کر دیا۔ اہلِ علاقہ کے مطابق بچہ گھر کے باہر کھیل رہا تھا جہاں ایک کھلا پنکھا بغیر کسی حفاظتی انتظام کے چل رہا تھا۔ وہی پنکھا معصوم جان کے لیے جان لیوا بن گیا۔

    یہ افسوسناک واقعہ علاقے میں حفاظتی تدابیر کی شدید کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ والدین اور محلے دار ایسے آلات کو کھلے عام رکھنے سے گریز کریں تاکہ بچوں کی قیمتی جانوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

  • ڈسکہ: سانحہ سوات، ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق، 8 کی نمازِ جنازہ ادا

    ڈسکہ: سانحہ سوات، ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق، 8 کی نمازِ جنازہ ادا

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران) سانحہ سوات، ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق، 8 کی نمازِ جنازہ ادا

    تفصیلات کے مطابق ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے افراد کے ساتھ سیر و تفریح کا سفر قیامت بن کر ٹوٹ پڑا، جب دریائے سوات کی بے رحم موجوں نے خوشیوں کو غم میں بدل دیا۔ سوات کے مقام پر پیش آنے والے سانحہ میں خاندان کے 15 میں سے 10 افراد دریا میں ڈوب گئے، جن میں سے آٹھ کی لاشیں نکال لی گئیں۔ ان آٹھ افراد کی نماز جنازہ آج ڈسکہ میں ادا کر دی گئی جس میں شہر کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پورا شہر سوگ میں ڈوبا رہا۔

    سانحہ گزشتہ روز اُس وقت پیش آیا جب سیالکوٹ کے نواحی شہر ڈسکہ سے تعلق رکھنے والا خاندان سیر کے لیے سوات گیا ہوا تھا۔ سوات بائی پاس کے مقام پر خاندان کے افراد ایک ہوٹل کے قریب دریا کے کنارے ناشتہ کر رہے تھے کہ اچانک دریا میں تیز ریلا آ گیا اور دریا کے خشک حصے میں اتری تمام فیملیز کو اپنی لپیٹ میں لے گیا۔ اس واقعے میں ایک ہی خاندان کے دس افراد پانی کی نذر ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کی گئیں، جن کے دوران دریا سے آٹھ لاشیں نکال لی گئیں جبکہ مزید دو افراد کی تلاش جاری تھی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریائے سوات میں ریلے کے باعث مختلف مقامات پر 70 افراد پھنس گئے تھے جن میں سے 55 کو بحفاظت نکال لیا گیا، باقی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

    آج تازہ پیش رفت میں مزید ایک سیاح کی لاش نکال لی گئی ہے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہو چکی ہے جبکہ اب بھی تین افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    خوفناک حادثے نے جہاں سیاحت کے خوشنما خواب کو المیے میں بدلا، وہیں ڈسکہ شہر میں غم و اندوہ کی لہر دوڑا دی۔ جنازوں کے موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل دکھی۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دریا کنارے ہوٹلوں اور تفریحی مقامات پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

  • کراچی میں کار شوروم مالک کے گھر 13 کروڑ کی ڈکیتی

    کراچی میں کار شوروم مالک کے گھر 13 کروڑ کی ڈکیتی

    کراچی کے پوش علاقے پی ای سی ایچ ایس میں کار شوروم کے مالک کے گھر میں ڈکیتی کی بڑی واردات سامنے آئی ہے، جس میں ڈاکوؤں نے 13 کروڑ روپے نقدی، قیمتی موبائل فونز، گھڑیاں، لیپ ٹاپس اور دیگر سامان لوٹ لیا۔

    پولیس کے مطابق یہ واردات فیروزآباد تھانے کی حدود میں واقع بلاک 2 میں ہوئی، جہاں نامعلوم مسلح افراد اور برقعہ پوش خواتین نے ایف آئی اے جیسا یونیفارم پہن کر کار شوروم مالک محمد سالک کے گھر دھاوا بولا۔مدعی محمد سالک کے بیان کے مطابق وہ 25 اور 26 جون کی درمیانی شب ساڑھے 3 بجے گھر پہنچے تو ایک سیاہ گاڑی ان کی گاڑی کے سامنے آ کر رکی، جس میں سے 2 مرد اور 3 برقعہ پوش خواتین باہر نکلیں۔ ایک شخص نے ایف آئی اے کی وردی سے ملتی جلتی شرٹ پہن رکھی تھی جس پر ایف آئی اے کا مونوگرام بھی لگا تھا۔

    ملزمان نے پستول نکال کر سالک کو یرغمال بنایا اور ان کے ساتھ گھر میں داخل ہوگئے۔ گھر کی تلاشی کے دوران 13 کروڑ روپے نقدی، 9 قیمتی موبائل فونز (جن میں آئی فون اور گوگل پکسل بھی شامل)، 20 گھڑیاں، ایک اسمارٹ واچ، 2 لیپ ٹاپس، اور 25 قیمتی پرفیومز لوٹ کر لے گئے۔پولیس نے متاثرہ شخص کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 25/678 فیروزآباد تھانے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا ہے۔ واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واردات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ واردات کا طریقہ واردات ظاہر کرتا ہے کہ یہ منظم اور پیشہ ور گروہ ہے، جس میں خواتین کی شمولیت غیرمعمولی ہے۔

    ٹرمپ کا ایران سے ایٹمی تنصیبات کے معائنے کا مطالبہ، دوبارہ حملوں کا عندیہ

    سندھ میں مون سون بارشوں سے فضائی آپریشن متاثر، پروازوں کے روٹس تبدیل

    حویلیاں ندی میں 3 بچے ڈوب گئے، 2 کی لاشیں مل گئیں

    غیرقانونی تارکین وطن کے بچوں کو پیدائشی شہریت نہیں ملے گی،امریکی سپریم کورٹ

  • اوکاڑہ: کھڑے پانی سے ماں بیٹے کی لاشیں برآمد، حادثہ یا قتل؟

    اوکاڑہ: کھڑے پانی سے ماں بیٹے کی لاشیں برآمد، حادثہ یا قتل؟

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) رینالہ خورد بائی پاس کے قریب واقع کھڑے پانی سے ماں اور بیٹے کی لاشیں ملنے پر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق متوفیہ کی شناخت چک امیر سنگھ، پاکپتن کی رہائشی معافیہ بی بی اور اس کے بیٹے کے طور پر ہوئی ہے، جن کی لاشیں کھڑے پانی سے برآمد کی گئیں۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور سرچ آپریشن کے بعد دونوں لاشیں نکال کر ابتدائی کارروائی مکمل کی۔ نعشیں مقامی پولیس کی موجودگی میں ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دی گئیں۔

    پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور سائنسی بنیادوں پر شواہد جمع کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ یہ حادثہ ہے یا کسی جرم کا نتیجہ۔ حتمی حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔

    علاقہ مکینوں نے واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اصل محرکات جلد از جلد سامنے لائے جائیں اور اگر کسی نے یہ سانحہ جان بوجھ کر کیا ہے تو اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

  • اوچ شریف: گٹکا فروشوں کے خلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی کا  کریک ڈاؤن، دو ہزار ساشے تلف، دکانداروں پر جرمانے

    اوچ شریف: گٹکا فروشوں کے خلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، دو ہزار ساشے تلف، دکانداروں پر جرمانے

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) پنجاب فوڈ اتھارٹی بہاولپور کی فوڈ سیفٹی ٹیم نے اوچ شریف میں مضر صحت اور ممنوعہ گٹکا فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کرتے ہوئے دو ہزار سے زائد ساشے موقع پر ضبط کر کے تلف کر دیے۔ کارروائی کے دوران کئی دکانداروں پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے اور متعدد کو وارننگ نوٹس جاری کیے گئے۔

    ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق گٹکا محض ممنوعہ نہیں بلکہ زہریلا مواد ہے جو نوجوان نسل کو کینسر جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا: "اوچ شریف میں اب کوئی گٹکا فروش محفوظ نہیں، جہاں گٹکا ہوگا وہاں فوڈ اتھارٹی کا چھاپہ ہوگا!”

    کریک ڈاؤن کے دوران صرف گٹکا ہی نہیں بلکہ ناقص صفائی، زائدالمیعاد اشیاء، ملاوٹ شدہ مصالحہ جات اور غیر معیاری خوردنی سامان کی بھی نشاندہی کی گئی، جن پر فوری جرمانے اور انتباہی نوٹس جاری کیے گئے۔

    فوڈ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ گٹکا فروخت اب "سرعام جرم” تصور کیا جائے گا اور ملوث افراد کے خلاف FIR درج کر کے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ترجمان نے کہا کہ یہ پیغام نہ صرف گٹکا فروشوں بلکہ ان کے سہولت کاروں اور ذخیرہ اندوزوں کے لیے بھی ہے کہ اب قانون حرکت میں آ چکا ہے۔

    پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اوچ شریف کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ممنوعہ اشیاء کی فروخت کی اطلاع فوری طور پر ہیلپ لائن 1223 یا فوڈ اتھارٹی کی موبائل ایپ کے ذریعے دیں، تاکہ صحت دشمن عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کی جا سکے۔

  • سوات: دریائے سوات میں سیلابی ریلے سے سیالکوٹ کا خاندان بہہ گیا، 7 جاں بحق، 8 لاپتہ

    سوات: دریائے سوات میں سیلابی ریلے سے سیالکوٹ کا خاندان بہہ گیا، 7 جاں بحق، 8 لاپتہ

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی ،بیوروچیف شاہدریاض)سوات میں سیلابی ریلے سے ایک ہی خاندان کے 18 افراد دریا میں بہہ گئے، 3 زندہ بچا لیے گئے، 7 کی لاشیں برآمد

    سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا ایک ہی خاندان سیر کے لیے سوات گیا جہاں دریائے سوات پر افسوسناک سانحہ پیش آیا۔ دریا کے کنارے ناشتہ کرتے ہوئے اچانک آئے سیلابی ریلے میں خاندان کے 18 افراد بہہ گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 3 افراد کو زندہ بچا لیا جبکہ اب تک 7 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ باقی 8 افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ صبح 8 بجے کے قریب پیش آیا، جب سیاح ناشتہ کر رہے تھے اور کچھ بچے دریا کے قریب تصویریں بنا رہے تھے۔ اسی دوران بارش کے باعث دریا میں اچانک پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا، جس نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو کے پہنچنے میں تاخیر پر متاثرہ خاندان نے افسوس اور غم کا اظہار کیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر سوات کے مطابق دریا کے قریب جانے پر پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے، تاہم سیاحوں کی جانب سے اس پابندی کی خلاف ورزی جاری ہے۔ متاثرہ سیاح کا کہنا ہے کہ بچے سیلفی لے رہے تھے، دریا میں اچانک پانی آیا اور ان کی موجودگی میں بچے ڈوب گئے، ریسکیو ٹیم تاخیر سے پہنچی اور بروقت مدد نہ دے سکی۔

    سیر و تفریح کی غرض سے سوات جانے والا سیالکوٹ کے علاقے ڈسکہ سے تعلق رکھنے والا ایک ہی خاندان دریاۓ سوات کے بے رحم سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا۔ المناک سانحہ اس وقت پیش آیا جب خاندان کے 18 افراد دریا کے کنارے ناشتہ کررہے تھے کہ اچانک دریا میں طغیانی آ گئی اور تمام افراد پانی میں بہہ گئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق واقعہ صبح آٹھ بجے کے قریب پیش آیا، جب اہلِ خانہ بائی پاس کے قریب دریا کے کنارے بیٹھے تھے اور موسم خوشگوار ہونے کے باعث ناشتہ کررہے تھے۔ اس دوران اچانک پانی کے بہاؤ میں غیرمعمولی تیزی آئی جس کے نتیجے میں 18 افراد دریا میں بہہ گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

    اب تک 3 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ 9 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ باقی 6 افراد کی تلاش تاحال جاری ہے۔ ریسکیو ٹیموں کے مطابق پانی کا بہاؤ شدید ہے جس کی وجہ سے تلاش میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    حادثے کا شکار ہونے والے افراد میں ڈسکہ کے رہائشی محسن غوری کی چار کمسن بیٹیاں بھی شامل ہیں۔ میرب (17 سالہ، سیکنڈ ایئر کی طالبہ)، عجوہ (15 سالہ، میٹرک کی طالبہ)، شال (12 سالہ، ساتویں جماعت) اور انفال (7 سالہ، تیسری جماعت)۔ ان میں سے عجوہ اور میرب کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔

    متاثرین میں محسن غوری کی بیوی، سالی توبینہ اسلام، ایک خالہ زاد بہن، ایک ڈاکٹر، اور چھ سالہ بچہ ایان شبباز بھی شامل ہیں جن کی لاشیں بھی شناخت ہو چکی ہیں۔ محسن اپنے سسرالی رشتہ داروں، دوستوں کی فیملیوں اور عزیزوں سمیت ایک ہی کوسٹر میں سیر کے لیے گئے تھے۔ گاڑی میں کل 35 افراد سوار تھے جن میں بیشتر کا تعلق محلہ لالاریاں اور پرانا ڈسکہ سے تھا۔

    واقعہ چشم زدن میں خوشیوں بھرے سفر کو المیے میں تبدیل کر گیا۔ ایک متاثرہ سیاح نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم ناشتہ کرکے چائے پی رہے تھے اور بچے دریا کنارے سیلفی لینے گئے۔ پانی کم تھا، لیکن اچانک ریلہ آیا اور سب کو بہا لے گیا۔ ریسکیو کو فوری اطلاع دی گئی لیکن وہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے بعد پہنچے، ان کی موجودگی میں ہی کئی بچے ڈوبے اور بچائے نہ جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر سوات کے مطابق دریا کے قریب جانے اور نہانے پر دفعہ 144 نافذ ہے، مگر سیاح احتیاط نہیں کرتے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ضابطوں کی پابندی کریں تاکہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

    دوسری جانب ڈسکہ شہر میں واقعے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، پورا شہر سوگوار ہے، ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل افسردہ ہے۔ اہل علاقہ اور سوشل میڈیا صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دریا کنارے سیرگاہوں میں سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور سیاحوں کی حفاظت کے لیے مستقل سیکیورٹی اور نگرانی کا بندوبست کیا جائے۔