Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • دکی :اسسٹنٹ کمشنر آفس کے مال خانے سے 270 کلو منشیات چوری

    دکی :اسسٹنٹ کمشنر آفس کے مال خانے سے 270 کلو منشیات چوری

    بلوچستان کے ضلع دکی میں اسسٹنٹ کمشنر آفس کے مال خانے سے270 کلو منشیات چوری ہو گئی-

    پولیس کے مطابق ملزمان نے صرف اسی کمرے کی کھڑکی توڑی جہاں منشیات رکھی گئی تھیں، جبکہ دیگر کمروں یا سامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا، جس سے واقعے کی نوعیت پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، واقعے کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے اور پولیس و انتظامیہ مشترکہ طور پر تحقیقات کر رہی ہیں تاکہ ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔

    ایس ایچ او دکی فرمان علی کھوسہ نے ڈکیتی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مال خانے سے مجموعی طور پر 270 کلو منشیات چوری ہوئی ہیں، جن میں 233 کلو افیون اور 37 کلو چرس شامل ہے یہ منشیات مختلف مقدمات میں لیویز فورس کی جانب سے برآمد کی گئی تھیں اور ان مقدمات کا فیصلہ تاحال عدالتوں میں زیر التوا ہے۔

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان مچل مارش پاکستان کے سرد موسم پر حیران

    واقعے کے بعد یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ جب مال خانہ لیویز لائن میں موجود ہے تو برآمد شدہ منشیات کو اسسٹنٹ کمشنر آفس میں کیوں رکھا گیا، جسے سیکیورٹی کے حوالے سے ایک سنگین غفلت قرار دیا جا رہا ہے، پولیس کے مطابق تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان مچل مارش پاکستان کے سرد موسم پر حیران

  • قصور:سڑک عبور کرتی 7 سالہ بچی گاڑی تلے کچل کر جاں بحق

    قصور:سڑک عبور کرتی 7 سالہ بچی گاڑی تلے کچل کر جاں بحق

    قصور (باغی ٹی وی،بیوروچیف طارق نوید سندھو) الہ آباد کے نواحی علاقے دیو کھارہ کے قریب تیز رفتاری اور غفلت نے ایک اور گھر کا چراغ گل کر دیا، جہاں سڑک عبور کرتی 7 سالہ معصوم بچی گاڑی کی ٹکر سے جان کی بازی ہار گئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق متوفیہ دعا طارق پیدل سڑک عبور کر رہی تھی کہ اچانک ایک بے قابو تیز رفتار گاڑی اسے کچلتی ہوئی گزر گئی، بچی کو لگنے والی چوٹیں اس قدر شدید تھیں کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو قصور کی ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاش کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کیا، جبکہ معصوم بچی کی اچانک موت کی خبر ملتے ہی گھر میں کہرام مچ گیا اور علاقے کی فضا سوگوار ہو گئی۔

    پولیس تھانہ الہ آباد نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حادثے میں ملوث گاڑی کو قبضے میں لے لیا ہے اور غفلت برتنے والے ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گاڑی کی رفتار بہت زیادہ تھی جس کے باعث ڈرائیور بچی کو سامنے دیکھ کر قابو نہ پا سکا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ مقامی شہریوں نے حادثے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آبادی والے علاقوں میں تیز رفتاری کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: رکشہ پرچی کے نام پر مبینہ بدسلوکی، میونسپل کارپوریشن کے رویّے پر سوالات اٹھ گئے

    ڈیرہ غازی خان: رکشہ پرچی کے نام پر مبینہ بدسلوکی، میونسپل کارپوریشن کے رویّے پر سوالات اٹھ گئے

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی/نیوز رپورٹر شاہد خان)ڈیرہ غازی خان میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے رکشہ پرچی کے نظام کے تحت رکشہ ڈرائیوروں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، غنڈہ گردی اور لڑائی جھگڑا معمول بن گیا ہے، جس کے باعث غریب رکشہ ڈرائیور شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا شکار ہیں۔ ذرائع کے مطابق پرچی عملے کا رویہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ معمولی باتوں پر تلخ کلامی کرتے ہوئے بات ہاتھا پائی تک پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔

    رکشہ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر محنت مزدوری کر کے اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالتے ہیں، تاہم میونسپل کارپوریشن کے عملے کی جانب سے آئے روز ہراساں کیا جانا ان کے لیے باعثِ اذیت بن چکا ہے۔ ڈرائیوروں کے مطابق پرچی کے عملے کا رویہ توہین آمیز ہوتا ہے، سوال کرنے یا وضاحت مانگنے پر بدتمیزی کی جاتی ہے اور بعض اوقات بلاجواز دباؤ بھی ڈالا جاتا ہے۔

    متاثرہ رکشہ ڈرائیوروں نے ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ رکشہ پرچی کے نظام کا فوری نوٹس لیا جائے، اسے شفاف اور منظم بنایا جائے اور عملے کو سختی سے پابند کیا جائے کہ وہ عوام کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو غریب طبقہ مزید مسائل کا شکار ہو جائے گا۔

    عوامی حلقوں نے بھی میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ رکشہ ڈرائیوروں کے ساتھ ناروا سلوک بند کرایا جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال خراب نہ ہو اور محنت کش طبقہ سکھ کا سانس لے سکے۔

  • سیالکوٹ: فائر سیفٹی کے سخت اقدامات، بلند و بالا عمارتوں اور مارکیٹوں کا جامع آڈٹ شروع

    سیالکوٹ: فائر سیفٹی کے سخت اقدامات، بلند و بالا عمارتوں اور مارکیٹوں کا جامع آڈٹ شروع

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی/بیوروچیف مدثر رتو)فائر سیفٹی ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد ہی انسانی جانوں کے تحفظ کی ضامن ہے، یہ بات ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 انجینئر نوید اقبال نے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے محفوظ پنجاب ویژن کے تحت اور سیکرٹری ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر کی خصوصی ہدایات پر ضلع سیالکوٹ میں بلند و بالا عمارتوں، کمرشل پلازوں، بازاروں اور مارکیٹوں کو آگ لگنے کے واقعات سے محفوظ بنانے کے لیے فائر سیفٹی آڈٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کی جانب سے یہ اقدامات ان کی زیر نگرانی کیے جا رہے ہیں، جبکہ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صباء اصغر نے اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کر دی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتی یونٹس کا بھی سیفٹی آڈٹ کیا جائے گا، خصوصاً وہ فیکٹریاں جہاں بوائلر نصب ہیں، ان کا معائنہ ڈی او انڈسٹری اور ریسکیو 1122 مشترکہ طور پر کریں گے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے قبل حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    ریسکیو 1122 نے عوام کی جان و مال کے تحفظ، ایمرجنسی کی صورت میں مؤثر رسپانس، آگ لگنے کی صورت میں محفوظ انخلاء اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانے کے لیے فرضی مشقوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ یہ مشقیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے خصوصی احکامات کی روشنی میں کی جا رہی ہیں، جن کے تحت بڑے شاپنگ مالز، کمرشل مراکز اور مارکیٹوں کا فائر سیفٹی آڈٹ بھی جاری ہے۔

    اس حوالے سے چاروں تحصیلوں کے انچارجز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اپنی تحصیلوں میں موجود تمام کمرشل اور بلند و بالا عمارتوں میں روزانہ کی بنیاد پر فرضی مشقوں کا انعقاد یقینی بنائیں۔ اسی سلسلے میں آج سیالکوٹ کچہری روڈ پر واقع عبداللہ ٹریڈ سینٹر میں فائر سیفٹی کی فرضی مشق کی گئی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال کا کہنا تھا کہ ان فرضی مشقوں کا بنیادی مقصد آگ لگنے کی صورت میں دستیاب آلات، محکمانہ تیاری، مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور فوری ردعمل کا عملی جائزہ لینا ہے، تاکہ حالیہ دنوں کراچی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات جیسے سانحات سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔

  • احمدپور شرقیہ: باراتی بس گرڈ اسٹیشن کے قریب الٹ گئی، 3 خواتین زخمی

    احمدپور شرقیہ: باراتی بس گرڈ اسٹیشن کے قریب الٹ گئی، 3 خواتین زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی/نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے مبارک پور کے قریب گرڈ اسٹیشن کے پاس باراتیوں کی بس حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں تین خواتین زخمی ہو گئیں۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق بارات والی بس چوک بھٹہ احمد پور شرقیہ سے مبارک پور کی جانب جا رہی تھی کہ اچانک ڈرائیور کے مطابق اسٹیئرنگ لاک ہو گیا، جس کے باعث بس بے قابو ہو کر سڑک پر الٹ گئی۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ ریسکیو حکام کے مطابق زخمی ہونے والی خواتین میں زرینہ بی بی زوجہ محمد صادق، عمر 38 سال، شامل ہیں، جنہیں دائیں ٹانگ میں فریکچر کا شبہ ہے۔ انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا گیا۔

    دیگر زخمیوں میں نسیم بی بی زوجہ عبدالرحمن، عمر 50 سال، اور رضیہ بی بی زوجہ محمد یعقوب، عمر 35 سال شامل ہیں، جنہیں معمولی خراشیں اور پٹھوں میں درد کی شکایت تھی۔ دونوں خواتین کو موقع پر ہی فرسٹ ایڈ فراہم کی گئی اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

    ریسکیو عملہ حادثے کے بعد طویل وقت تک جائے وقوعہ پر موجود رہا اور بس کو سڑک سے ہٹا کر ٹریفک کی روانی بحال کروائی۔ خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم واقعے نے باراتیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔

  • اوکاڑہ،رینالہ خورد: پولٹری فارم کی عمارت گرنے سے ایک مزدور جاں بحق، 5 زخمی

    اوکاڑہ،رینالہ خورد: پولٹری فارم کی عمارت گرنے سے ایک مزدور جاں بحق، 5 زخمی

    اوکاڑہ،رینالہ خورد (نامہ نگار+سٹی رپورٹر) اوکاڑہ کے علاقے شیر گڑھ روڈ پر واقع ایک پولٹری فارم کی عمارت مرمتی کام کے دوران اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں ملبے تلے دب کر ایک مزدور جاں بحق جبکہ 5 مزدور شدید زخمی ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق پولٹری فارم کی عمارت پر مرمت کا کام جاری تھا کہ اچانک عمارت زمین بوس ہو گئی، جس کے باعث وہاں کام کرنے والے 6 مزدور ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ظفر اقبال 22 ریسکیو اہلکاروں اور جدید مشینری کے ہمراہ فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ اس دوران اسسٹنٹ کمشنر رینالہ خورد اور پولیس کی نفری بھی موقع پر پہنچ گئی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کی نگرانی میں ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جس کے دوران ملبے تلے دبے تمام مزدوروں کو باہر نکالا گیا۔ حادثے میں 35 سالہ مزدور شاہد موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جبکہ زخمی ہونے والوں میں 28 سالہ شعیب، 42 سالہ عباس، 32 سالہ عرفان، 55 سالہ اکرم اور 30 سالہ رمضان شامل ہیں۔

    ریسکیو ٹیم نے زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی، جس کے بعد ضروری کارروائی مکمل کرتے ہوئے جاں بحق مزدور کی لاش اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر ریسکیو ٹیم بروقت موقع پر نہ پہنچتی تو جانی نقصان مزید بڑھ سکتا تھا۔ شہریوں نے ریسکیو اہلکاروں کی فوری کارروائی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • کندھ کوٹ: امدادی رقوم کی ادائیگی، بینک اسلامی اور ہینڈز این جی او پر سنگین الزامات

    کندھ کوٹ: امدادی رقوم کی ادائیگی، بینک اسلامی اور ہینڈز این جی او پر سنگین الزامات

    کندھ کوٹ (باغی ٹی وی،نامہ نگار)کندھ کوٹ میں واقع بینک اسلامی کی ایک برانچ اور معروف فلاحی ادارے HANDS NGO کے خلاف امدادی رقوم کی ادائیگی کے عمل میں مبینہ رشوت خوری، بدانتظامی اور مستحق افراد کے استحصال سے متعلق نہایت تشویشناک شکایات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد شہری حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امدادی اقساط کے حصول کے لیے بینک آنے والے مستحق خواتین اور مردوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں بینک اسلامی کی متعلقہ برانچ کے باہر موجود مبینہ ایجنٹوں کے ذریعے رقم ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہی ان کی امدادی رقم جاری کی جاتی ہے۔ متاثرین کے مطابق غریب اور نادار افراد صبح سویرے سے شام تک طویل قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں، جہاں انہیں نہ صرف شدید ذہنی اذیت بلکہ توہین آمیز رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ امدادی رقوم کے حصول کے لیے آنے والے مستحق افراد سے مختلف بہانوں کے تحت پیسے طلب کیے جاتے ہیں، جو فلاحی نظام کی روح کے سراسر منافی اور کھلی ناانصافی کے مترادف ہے۔ شکایات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض افراد کو ادائیگی کے بغیر بار بار واپس بھیج دیا جاتا ہے جبکہ رشوت دینے والوں کو فوری سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

    صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ اور سنگین شکل اختیار کر گئی جب اس معاملے پر دونوں اداروں نے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال دی۔ بینک اسلامی کے عملے کا مؤقف ہے کہ بینک کے باہر موجود مبینہ ایجنٹوں کا تعلق HANDS NGO سے ہے اور بینک انتظامیہ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ دوسری جانب HANDS NGO کی انتظامیہ دعویٰ کر رہی ہے کہ یہ افراد بینک انتظامیہ کے مقرر کردہ ہیں اور این جی او کا ان سے کوئی واسطہ نہیں۔

    دونوں اداروں کی جانب سے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے باعث غریب اور مستحق عوام شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف فلاحی اداروں اور بینکاری نظام کی ساکھ پر سنگین سوالیہ نشان ہے بلکہ مستحق افراد کے بنیادی حق پر کھلا ڈاکا بھی ہے۔

    شہریوں اور متاثرہ افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ اعلیٰ حکام اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں، بینک اسلامی اور HANDS NGO کے کردار کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور اگر کسی بھی ادارے یا فرد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو ان کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    عوام کا کہنا ہے کہ امدادی رقوم کا مقصد غریب اور مستحق افراد کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہوتا ہے، نہ کہ انہیں مزید مشکلات، ذلت اور استحصال کا شکار بنانا۔ اگر ایسے اقدامات کو روکا نہ گیا تو فلاحی نظام سے عوام کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔

  • احمدپور شرقیہ: خاتون نے خود کو آگ لگا لی، 88 فیصد جھلسنے کے بعد بہاول وکٹوریہ ہسپتال منتقل

    احمدپور شرقیہ: خاتون نے خود کو آگ لگا لی، 88 فیصد جھلسنے کے بعد بہاول وکٹوریہ ہسپتال منتقل

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان)ضلع بہاولپور کی تحصیل احمدپور شرقیہ کے علاقے مہراب والا میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 54 سالہ خاتون نے مبینہ طور پر خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لی، جس کے نتیجے میں وہ 88 فیصد جھلس گئیں۔

    ریسکیو 1122 ذرائع کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی گورنمنٹسکول مہراب والا کے قریب جائے وقوعہ پر ریسکیو وہیکل BPA-32 روانہ کی گئی۔ ریسکیو عملے نے فوری طور پر متاثرہ خاتون کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور تشویشناک حالت کے پیش نظر انہیں ٹی ایچ کیو ہسپتال احمدپور شرقیہ منتقل کیا۔

    ریسکیو اسٹاف کے مطابق متاثرہ خاتون کے بیٹے نے بیان دیا کہ گھر میں کسی قسم کی لڑائی یا جھگڑا نہیں ہوا تھا، تاہم ان کی والدہ پر نامعلوم افراد کی جانب سے تعویز اور عاملانہ عمل کروایا گیا تھا، جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق اسی ذہنی کیفیت کے تحت خاتون نے خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لی۔

    ٹی ایچ کیو ہسپتال احمدپور شرقیہ میں ابتدائی طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے خاتون کی حالت نازک قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر بہاول وکٹوریہ ہسپتال (BVH) ریفر کر دیا، جہاں وہ برن یونٹ میں زیر علاج ہیں۔

    ریسکیو رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون کے جسم کا تقریباً 88 فیصد حصہ شدید طور پر جھلس چکا ہے، جس میں زیادہ تر جلنے کی نوعیت Superficial (جلد کی سطحی مگر وسیع جلن) بتائی جا رہی ہے۔

    متاثرہ خاتون کی شناخت سکینہ بی بی زوجہ خادم حسین، عمر 54 سال کے طور پر ہوئی ہے، جو بستی رنگ پور، مہراب والا، احمدپور شرقیہ کی رہائشی ہیں۔

    ریسکیو حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات متعلقہ ادارے کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ خاتون کن حالات اور عوامل کے باعث اس انتہائی اقدام تک پہنچیں۔

  • فلپائن میں کشتی ڈوبنے سے 15 افراد ہلاک ، 28 لاپتہ

    فلپائن میں کشتی ڈوبنے سے 15 افراد ہلاک ، 28 لاپتہ

    فلپائن میں کشتی ڈوبنے سے 15 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 28 افراد لاپتہ ہیں۔

    عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی فلپائنی صوبے باسیلان کے قریب حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک مسافر بردار کشتی بندرگاہی شہر زمبوانگا سے جنوبی سولو کے جزیرے جولو جا رہی تھی،فلپائنی کوسٹ گارڈ کے مطابق بحری جہاز 349 افراد سوار تھے جن میں 332 مسافر اور عملے کے 27 ارکان تھے ، کشتی کو حادثہ رات گئے پیش آیا،فلپائنی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ 316 افراد کو بچا لیا گیا ہے جبکہ 28 لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان میں ہیلمٹ پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

    ڈیرہ غازی خان میں ہیلمٹ پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی/نیوز رپورٹر شاہد خان)ڈیرہ غازی خان شہر کے اندر موٹر سائیکل سواروں پر عائد ہیلمٹ پابندی ختم کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ ڈیرہ غازی خان ایک چھوٹا اور محدود رقبے پر مشتمل شہر ہے، جہاں اندرونِ شہر سفر نہایت کم وقت میں مکمل ہو جاتا ہے، اس لیے بڑے شہروں کی طرز پر سخت ہیلمٹ پابندی شہریوں کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔

    شہریوں کے مطابق ڈیرہ غازی خان شہر کا مجموعی رقبہ تقریباً دو سے اڑھائی کلومیٹر پر محیط ہے، جہاں قادریہ چوک سے گھنٹہ گھر، گھنٹہ گھر سے کلمہ چوک، کلمہ چوک سے گولائی کمیٹی، گولائی کمیٹی سے ٹریفک چوک اور ٹریفک چوک سے لاری اڈا جیسے مصروف روٹس پر سفر عموماً دو سے چار منٹ جبکہ زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ میں طے ہو جاتا ہے۔ ایسے مختصر فاصلے اور کم دورانیے کے سفر میں ہیلمٹ پابندی کو شہری غیر عملی قرار دے رہے ہیں۔

    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان کو ملتان یا لاہور جیسے بڑے شہروں کے ساتھ موازنہ کرنا درست نہیں، کیونکہ یہاں کی جغرافیائی ساخت، ٹریفک کا دباؤ اور شہری ضروریات یکسر مختلف ہیں۔ بڑے شہروں میں طویل فاصلے، شدید ٹریفک رش اور حادثات کی شرح زیادہ ہوتی ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان میں اندرونِ شہر ٹریفک کی نوعیت اور فاصلوں کی صورتحال اس کے برعکس ہے۔

    شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیرہ غازی خان شہر کی حدود میں ہیلمٹ پابندی پر نظرثانی کی جائے اور مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ کیا جائے، تاکہ عوام کو روزمرہ کے مختصر سفروں میں سہولت میسر آ سکے اور غیر ضروری جرمانوں اور مشکلات سے نجات حاصل ہو۔